41 - کتاب الشعر
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
معتمر بن سلیمان اور عبد الرحمٰن بن مہدی دونوں نے عبد اللہ بن عبد الرحمٰن طائفی سے ، انھوں نے عمروبن شریدسے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے شعر سنانے کے لیے فرما یا ، ابرا ہیم بن میسرہ کی روایت کے مانند اور مزید یوں کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا " قریب تھا کہ وہ مسلمان ہو جاتا ۔ " اور ابن مہدی کی حدیث میں ہے : " وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہو نے کے قریب تھا ۔ " ( اس نے تقریباً وہی باتیں کیں جو ایک مسلمان کہہ سکتا ہے ۔)
شریک نے عبد الملک بن عمیر سے انھوں نے ابو سلمہ سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " عربوں نے شعر میں جو سب سے عمدہ بات کہی وہ بات لبید کا یہ جملہ ہے : " سن رکھو !اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " ( دوسرا مصرع ہے : وكلُّ نعيمٍ لا مَحالة َ زائِلُ " اور ہر نعمت لا زمی طور پر زائل ہو نے والی ہے)
سفیان نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : ہمیں ابوسلمہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز ( جس کی عبادت کی جا تی ہے ) باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہوجاتا ۔
زائد ہ نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کسی بھی شاعرکا کہا ہوا سب سے سچا شعر وہ ہے جو لبید نے کہا ہے ۔ " سنو اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " اور قریب تھا کہ امیہ بن ابی صلت مسلمان ہو جا تا ۔
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ سے انھو ں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فرما یا : " شاعروں کے کلا م میں سب سے سچا شعر لبید کا ہے ۔ " سن رکھو! اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔
اسرائیل نے عبد الملک بن عمیر سے ، انھوں نے ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن سےروایت کی ، ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " سب سے سچی بات جو کسی شاعر نے کہی لبید کی بات ہے ۔ " سن رکھو!اللہ کے سوا ہر چیز باطل ہے ۔ " انھوں ( اسرائیل ) نے اس پر کو ئی اضافہ نہیں کیا ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا ہمیں حفص اور ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( ابو معاویہ اور حفص ) نے اعمش سے روایت کی ، ابو سعید اشج نے کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں اعمش نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی انسا ن کے پیٹ میں پیپ بھر جا نا جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے ، شعر کے ساتھ بھر جا نے کی نسبت بہتر ہے ۔ " ابو بکر نے کہا : مگر حفص نے " يَريهِ " ( جو اس کے پیٹ کو تباہ کردے ) کے الفا ظ روایت نہیں کیے ۔
حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جا ئے وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جا ئے ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : ایک بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ " عرج " کے علاقے میں جا رہے تھے کہ ایک شاعر شعر پڑھتا ہوا سامنے سے گزرا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " شیطان کو پکڑو ، یا ( فرما یا ) شیطان کوروکو ، انسان کے پیٹ کا پیپ سے بھر جا نا اس سے بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے ۔
سلیمان کے والد حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس شخص نے چوسر کھیلی تو گویا اس نے اپنے ہاتھ کو خنزیر کے خون اور گو شت سے رنگ لیا ۔