آل اسلام لائبریری

56 - کتاب التفسیر

1

معمر نے ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے کئی احادیث ذکر کیں ، ان میں سے ( ایک حدیث ) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بنی اسرائیل سے کہا گیا : ( شہر کے ) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے جاؤ اور کہو : حطۃ ( ہمیں بخش دے ) دہم تمھاری خطائیں بخش دیں گے ، انھوں نے ( اس کے ) الٹ کیا ، چنانچہ وہ اپنے چوتڑوں کے بل گھسیٹتے ہوئے دروازے سے داخل ہوئے اور انھوں نے ( حطہ کے بجائے ) " ہمیں بالی میں دانہ چاہیے " کہا ۔

2

ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے پہلے آپ کی وفات تک لگاتار وہی نازل فرمائی اور جس دن آپ کی وفات ہوئی اس دن سب سے زیادہ وحی آئی ۔

3

سفیان نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی کہ یہودیوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : آپ لوگ ( مسلمان ) ایک ایسی آیت پڑھتے ہیں کہ اگر وہ آیت ہمارے ہاں نازل ہوتی تو ہم اس دن کو عید بنا لیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں جانتا ہوں ، وہ آیت کس جگہ اور کس دن نازل ہوئی تھی اور جس وقت وہ نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہاں تھے ۔ یہ آیت عرفہ ( کے مقام ) پر نازل ہوئی تھی اور اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میدان عرفات میں تھے ۔ سفیان نے کہا مجھے شک ہے کہ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بھی کہا تھا ) جمعہ کادن تھا یا نہیں؟ان کی مراد اس آیت سے تھی؛ " آج میں تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کردی ۔

4

عبداللہ بن ادریس نے اپنے والد سے ، انھوں نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، کہا : یہود نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : اگر یہ آیت ہم یہودیوں کی جماعت پر نازل ہوتی؛ " آج میں نے تمہارا لیےتمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کا اتمام کردیا اور تمہارے لیے اسلام کو بطور دین پسند کر لیا ۔ " ہمیں پتہ ہوتا کہ وہ کس دن نازل ہوئی ہےتو ہم اس دن کوعید قرار دیتے ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں وہ دن اور وہ گھڑی جس میں یہ آیت اتر ی تھی ، اور اس کے نزول کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس جگہ تھے ( سب کچھ ) جانتا ہوں ۔ یہ ( آیت ) مزدلفہ کی رات ( آنے والی تھی ، تب ) اتری تھی ، اور ( اس وقت ) ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ عرفات میں تھے ۔

5

ابو عمیس نے قیس بن مسلم سے اور انھوں نے طارق بن شہاب سے روایت کی ، کہا : یہودیوں میں سے ایک شخص حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا : امیر المومنین!آپ کی کتاب میں ایک ایسی آیت ہے ، آپ اسے پڑھتے ہیں ، اگر وہ ہم یہودیوں پر نازل ہوئی ہوتی تو ہم اس دن وعید قرار دیتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : وہ کون سی آیت ہے؟اس نے کہا : " آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت تمام کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : میں دو دن بھی جانتا ہوں جس میں یہ نازل ہوئی وہ جگہ بھی جہاں یہ نازل ہوئی ، یہ ( آیت ) عرفات میں جمعہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی تھی ۔

6

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل نے فرمان : "" اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہیں کر پاؤ گے تو ان عورتوں میں سے ، جو تمھیں اچھی لگیں دو ، دو ، تین ، تین چار ، چار سے نکاح کرلو "" کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے کہا : میرے بھانجے!یہ اس یتیم لڑکی کے بارے میں ہے جو اپنے ولی کی کفالت میں ہوتی ہے اس کے ( موروثی ) مال میں اسکے ساتھ شریک ہوتی ہے تو اس کے ولی ( چچازاد وغیرہ ) کو اس کا مال اور جمال دونوں پسند ہوتے ہیں اور اس کا ولی چاہتا ہے کہ اس کے مہر میں انصاف کیے بغیر اس سے شادی کرلےاور وہ بھی اسے اتنا مہر دے جتنا کوئی دوسرااسے دے گا ، چنانچہ ان ( لوگوں ) کو اس با ت سے روک دیا گیا کہ وہ ان کے ساتھ شادی کریں الا یہ کہ وہ ( مہر میں ) ان سے انصاف کریں اور مہرمیں جو سب سے اونچا طریقہ ( رائج ) ہے اس کی پابندی کریں اور ( اگر وہ ایسا نہیں کرسکتے تو ) انھیں حکم دیا گیا کہ ان ( یتیم لڑکیوں ) سے سوا جو عورتیں انھیں اچھی لگیں ان سے شادی کرلیں ۔ عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا : پھر لوگوں نے اس آیت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( عورتوں کے حوالے سے مزید ) دریافت کیا تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : "" اور یہ آپ سے عورتوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں ۔ کہیے : اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے اور جو کچھ تم پر کتاب میں پڑھاجاتا ہے وہ ان یتیم عورتوں کے بارے میں ہےجنھیں تم وہ نہیں دیتے جو ان کے لیے فرض کیا گیا ہے اور رغبت رکھتے ہو کہ ان سے نکاح کرلو ۔ "" ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جس بات کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کتاب میں تلاوت کی جاتی ہے ، وہ وہی پہلی آیت ہے جس میں اللہ فرماتا ہے : "" اگر تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہیں کرپاؤ گےتو ( دوسری ) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں ان سے نکاح کرو ۔ "" حضر ت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : اور بعد والی آیت میں اللہ تعالیٰ کے فرمان : "" اور تم ان کے نکاح سے رغبت کرتے ہو ۔ "" ( کا مطلب ہے کہ ) جب تم میں سے کسی کی سرپرستی میں رہنے والی لڑکی مال اور جمال میں کم ہوتو اس سے ( شادی کرنے سے ) روگردانی کرنا ، چنانچہ ان سے ( نکاح کی ) رغبت نہ ہونے کی بناء پر ان کو منع کیا گیا کہ وہ جن ( یتیم لڑکیوں ) کے مال اورجمال میں رغبت رکھتے ہیں ان سے بھی شادی نہ کریں الا یہ کہ ( مہر میں ) انصاف سے کام لیں ۔

7

صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ نے بتایاکہ انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ تبارک وتعالیٰ کے فرمان؛ " اور تمھیں خدشہ ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کرپاؤگے " کے بارے میں پوچھا ، پھر زہری سے یونس کی روایت کردہ حدیث کے مطابق بیان کیا اور اس کے آخر میں مزید کہا : " اگر وہ مال اور جمال میں کم ہوتو تمہارے ان سے اعراض کرنے کی بنا پر ۔

8

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان : " اگر تمھیں خدشہ ہوکہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں عدل نہیں کر پاؤگے ۔ " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : یہ ( آیت ) ایسے آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جس کے پاس کوئی یتیم لڑکی ہو وہ اس کا ولی اور وارث ہو ۔ اس لڑکی کا مال ( میں بھی حق ) ہواس ( لڑکی کے مفاد ) کے لیے کو ئی شخص جھگڑا کرنے والا بھی نہ ہوتو وہ آدمی اس لڑکی کے مال کی بناپر اس کی کہیں اور شادی نہ کرےاور اسے نقصان پہنچائے ۔ اور اس سے برا سلوک کرے تو اس ( اللہ ) نے فرمایا : " اگر تمھیں اندیشہ ہے کہ تم یتیم لڑکیوں کے معاملے میں انصاف نہ کرپاؤگے تو ( دوسری ) جو عورتیں تمھیں اچھی لگیں انھیں سے نکاح کرو ۔ " وہ ( اللہ ) فرماتا ہے ۔ ( دوسری عورتوں سے نکاح کرلو ) جو میں نے تمھارےلیے ( نکاح کے طریق پر ) حلال کی ہیں اور اس ( لڑکی ) کو چھوڑدوجس کو تم نقصان پہنچارہے ہو ۔

9

عبدہ بن سلیمان نے ہشام سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اللہ عزوجل کے فرمان : " جو کتاب میں ان یتیم عورتوں کے بارے میں تلاوت کی جاتی ہے جن کو تم دو ( مہر ) نہیں دیتے جوان کے حق میں فرض ہے اوران کے نکاح سے رغبت کرتے ہو ۔ کے بارے میں روایت بیان کی ۔ ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : یہ ایسی یتیم لڑکی کے بارے میں نازل ہوئی جو کسی آدمی کے پاس ہوتی ، اس کے مال میں اس کے ساتھ شریک ہوتی اور وہ اس سے ( شادی کرنے سے ) کنارہ کشی کرتا ہے اور اس بات کو بھی ناپسند کرتا ہے کہ کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کرے اور اس ( شخص ) کو اپنے مال میں شریک کرے تو وہ اسے ویسے ہی بٹھا ئے رکھتا ہے نہ خود اس سے شادی کرتاہے اورنہ کسی اور سے اس کی شادی کرتا ہے ۔

10

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے خبر دی انھوں نے اس عزوجل کے فرمان : " اور یہ لوگ آپ سے عورتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہیے اللہ تمھیں ان کے بارے میں فتویٰ دیتا ہے ۔ " مکمل آیت کے بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : یہ ایسی یتیم لڑکی ( کے بارے میں ) ہے جوکسی آدمی کے پاس ہوتی ہے شاید وہ ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اس کے مال میں حتیٰ کہ کھجور کے درختوں میں بھی اس کے ساتھ شریک ہوتی ہے وہ خود بھی اس سے روگردانی کرتا یعنی اس سے شادی کرنے سے اور کسی اور کے ساتھ اس کی شادی کر کے اس ( شخص ) کو اپنے مال میں شریک کرنے کو بھی پسند نہیں کرتا تو وہ اسے ویسے ہی رہنے دیتا ہے ۔

11

عبد ہ بن سلیمان نے ہشام ( بن عروہ ) سے انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان : " اور جو فقیر ہو وہ دستور کے مطابق کھالے " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ آیت یتیم کے مال کے ایسے متولی کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو اس کی نگہداشت کرتا ہے اور اس کو سنوارتا ( بڑھاتا ) ہے کہ اگر وہ ضرورت مند ہے تو اس میں سے ( خودبھی ) کھاسکتا ہے ۔

12

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس عزوجل کے فرمان : " اور جو شخص غنی ہو وہ اجتناب کرے اور جو شخص ضرورت مند ہو ۔ وہ عرف اور رواج کے مطابق کھالے " کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : یہ ( آیت ) یتیم کے سر پرست کے متعلق نازل ہوئی کہ جب وہ محتاج ہو تو اس کے امل میں سے معروف طریقے سے اتنا لے سکتا ہے جتنا اپنا مال ( استعمال کرتا تھا ۔)

13

ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔

14

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( اللہ ) عزوجل کے فرمان : " جب کافرتم پر چڑھ آئے تمھارے اوپر کی جانب سے اور تمھارے نیچے کی طرف سے اور جب آنکھیں پھر گئیں اور دل منہ کو آنے لگے " کے متعلق روایت کی ، ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ خندق کے روزہوا تھا ۔

15

عبد ہ بن سلیمان نے کہا : ہمیں ہشام ( ابن عروہ ) نے اپنے والدسے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( آیت ) : " اور اگر کوئی عورت اپنے خاوند کی طرف سےبے رغبتی یاروگردانی کا اندیشہ محسوس کرے " مکمل آیت کے بارے میں روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : یہ آیت اس عورت کے متعلق نازل ہوئی تھی ۔ جو کسی مردکے نکاح میں ہو ۔ اس کی صحبت میں لمبا عرصہ بیت کیا ہو وہ اسے طلاق دینا چاہے تو وہ ( عورت ) کہے مجھے طلاق نہ دواپنے پاس رکھو ۔ تم میری طرف سے ( میرے واجبات سے ) بری الذمہ ہو ، چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی ۔

16

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے بیان کیا انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اس ( اللہ ) عزوجل کے فرمان : " اگر کوئی عورت اپنے خاوندکی طرف سے بے رغبتی یاروگردانی کا اندیشہ محسوس کرنے کے متعلق روایت کی ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : " یہ ( آیت ) اس عورت کے متعلق نازل ہو ئی جو ( مدت سے ) کسی مرد کے ہاں ہو ۔ ( اسے اندیشہ ہو ) کہ شاید اب وہ اس سے ( اپنے تعلق کو ) زیادہ نہ کرے گا ۔ اور اس عورت ) کو اس کا ساتھ میسرہو اور اولاد ہو اور یہ نہ چاہے کہ وہ ( مرد ) سے چھوڑدے تو اس سے کہہ دے کہ تم میرے معاملے میں ( حقوق زوجیت سے ) بری الذمہ ہو ۔

17

ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا بھانجے !لوگوں کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے لیے استغفار کریں تو انھوں نےان کو برا کہنا شروع کر دیا ۔

18

ابو اسامہ نے کہا : ہمیں ہشام نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

19

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے مغیرہ بن نعمان سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : کہ اہل کوفہ کا اس آیت کے بارے میں اختلاف ہو گیا " جس شخص نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا اس کی سزا جہنم ہے؟چنانچہ میں سفر کر کے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور ان سےاس ( آیت ) کے متعلق پوچھا تو انھوں نے کہا : یہ آیت آخر میں نازل ہوئی پھر کسی چیز ( قرآن کی کسی دوسر ی آیت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ) نے اس کو منسوخ نہیں کیا ۔

20

محمد بن جعفر اور نضر بن شمیل دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابن جعفر کی روایت میں ہے یہ آیت آخر میں اتر نے والی آیات میں اتری ۔ اور نضر کی روایت میں ہے یہ ( آیت ) یقیناً ان آیتوں میں سے ہے جو آخر میں اتریں ۔

21

منصور نے حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : مجھ سے عبد الرحمٰن بن ایزدی نے کہا : کہ میں ( ان کے لیے ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ان دوآیتوں کے متعلق دریافت کروں : " اور جو شخص جان بوجھ کر کسی مومن کو قتل کر دے ، اس کی سزا جہنم ہے ور اس میں ہمیشہ رہے گا ۔ " میں نے ان سے پوچھا تو انھوں نے کہا : اس کو کسی چیز نے منسوخ نہیں کیا ۔ اور اس آیت کے متعلق ( پوچھا ) اور جو لوگ اللہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہیں کرتے اور نہ حق کے بغیر کسی شخص کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کواللہ نے حرام کیا ہے ۔ " تو انھوں نے کہا : مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔

22

ابو معاویہ شیبان نے منصور بن معتمر سے انھوں نے سعید بن جیبر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : یہ آیت : " جو لوگ اللہ کے ساتھ کسی اور معبود کو نہیں پکارتے " سے لے کر " ذلت کے عالم میں ( ہمیشہ رہے گا ) تک مکہ میں نازل ہوئی ۔ مشرکوں نے کہا : ہمیں اسلام کس بات کا فائدہ دے گا ۔ جبکہ ہم اللہ کے ساتھ ( دوسروں کو ) شریک بھی ٹھہراچکے ہیں اور اللہ کی حرام کردہ جانوں کو قتل بھی کر چکے ہیں اور فواحش کا ارتکاب بھی کر چکے ہیں ؟اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " سوائے اس شخص کے جس نے تو بہ کی ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے " آیت کے آخری حصے تک ۔ انھوں نے ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : لیکن جو شخص اسلام میں داخل ہو گیا اور اس کو سمجھ لیا پھر اس نے ( عمداً کسی مومن کو ) قتل کیا تو اس کے لیے کوئی توبہ نہیں ۔

23

عبد اللہ بن ہاشم اور عبد الرحمٰن بن بشر عبدی نے مجھے حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید قطان نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے قاسم بن ابی بزہ نے سعید بن جبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا جس شخص نے کسی مومن کو عمدا قتل کر دیا اس کے لیے توبہ ( کی گنجائش ) ہے؟انھوں نے کہا : نہیں ( سعید بن جبیرنے ) کہا : پھر میں نے ان کے سامنے سورہ فرقان کی یہ آیت تلاوت کی ۔ " وہ لوگ جو اللہ کے سواکسی اور معبود کو نہیں پکارتے اور کسی جان کو جسے اللہ نے حرام کیا ہے حق کے بغیر قتل نہیں کرتے " آیت کے آخر تک انھوں نے کہا : یہ مکی آیت ہےاس کو اس مدنی آیت نے منسوخ کر دیا : " اور جو کسی مومن کو عمدا قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے وہ اس میں ہمیشہ رہے گا ۔

24

ابو بکر بن ابی شیبہ ہارون بن عبد اللہ اور عبد بن حمید نے ہمیں ھدیث بیان کی ، عبد نے کہا : ہمیں خبر دی اور دوسروں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ، جعفر بن عون نے انھوں نے کہا : ہمیں ابو عمیس نے عبد المجید بن سہیل سے خبردی ۔ انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ عتبہ سے روایت کی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ قرآن مجید کی آخری سورت جو یکبارگی مکمل نازل ہوئی کون سی ہے؟ میں نے کہا : جی ہاں ۔ إِذَا جَاء نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ انھوں نے فرمایا : تم نے سچ کہا ۔ اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے ۔ تم جانتے ہو کہ کون سی سورت ہے اور "" آخری "" ( کالفظ ) نہیں کہا ۔

25

ابو معاویہ نے کہا : ہمیں ابو عمیس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " آخری سورت " اور انھوں نے ( راوی کا نام لیتے ہوئے ) عبدالمجید ( سے مروی ) کہا : اور ابن سہیل ( عبد المجید بن سہیل ) نہیں کہا ۔

26

عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : مسلمانوں میں سے کچھ لوگ ایک شخص کو کو ملے جو بکریوں کے ایک چھوٹے سے ریوڑ میں تھا اس نے ( ان کو دیکھ کر ) کہا : السلام علیکم ۔ تو ( اس کے باوجود ) انھوں نے اس کو پکڑا اسے قتل کیا اور بکریوں کا وہ چھوٹا ساریوڑ لے لیا ۔ تو یہ آیت اتری : "" اور اسے جو تم سے سلام کہے یہ مت کہو کہ تم مومن نہیں ہو ۔ "" اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس ( السلم ) کو السلام پڑھا ۔

27

ابو اسحاق سے روایت ہے کہا : میں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : انصار جب حج کر کے واپس آتے تو گھروں میں ( دروازوں کے بجائے ) ان کے پچھواڑے ہی سے داخل ہوتے انصار میں سے ایک شخص آیا اور اپنے دروازے سے ( گھر کے اندر ) داخل ہوا تو اس کے بارے میں اس پر باتیں کی گئیں تو یہ آیت اتری : " اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں کے اندران کے پچھواڑوں سے آؤ ۔

28

عون بن عبداللہ کے والد سے روایت ہے کہ حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ہمارے اسلام لانے اور ہم پر اس آیت کے ذ ریعے سے اللہ تعالیٰ کے عتاب کے درمیان چار سال سے زیادہ کا وقفہ نہ تھا : " کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی یہ وقت نہیں آیا کہ ان کے دل اللہ کو یادکرتے ہوئے گڑگڑائیں ۔

29

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : ( جاہلی دور میں ) ایک عورت برہنہ ہوکر بیت اللہ کاطواف کرتی تھی اور کہتی تھی : کون مجھے طواف کرنے والا ایک کپڑا دے گا؟کہ وہ اس کو اپنی شرمگاہ پر ڈالے ، اور ( یہ شعر ) کہتی : آج ( بدن کا ) کچھ حصہ یا پورے کا پورا کھل جائےگا اور اس میں سے جو بھی کھل گیا میں اسے ( دیکھنا کسی کے لئے ) حلال نہیں کررہی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی : " ہر نماز کے وقت اپنی زینت لے لو ۔

30

ابو معاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے ابو سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : عبداللہ بن ابی سلول اپنی ایک باندی سے کہتا تھا : جا اور ( بذریعہ بدکاری ) ہمارے لیے کچھ کما کرلا ، تو اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی؛ " اور اپنی لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ ( خصوصاً ) اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں تاکہ تم دنیا کی زندگی کا سازوسامان حاصل کرو اور جو کوئی انھیں مجبور کرے گا تو اللہ تعالیٰ ان کے مجبور کیے جانے کا بعد " ان کے لیے " بڑا بخشنے والا ، بڑا رحم کرنے والا ہے ۔

31

ابو عوانہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ عبداللہ بن ابی ابن سلول کی ایک باندی تھی ، اس کا نام مسیکہ تھا ، اوردوسری ( باندی ) کو امیمہ کہا جاتا تھا ۔ وہ ان دونوں سے ( زبردستی ) زنا کرانا چاہتا تھا ۔ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس بات کی شکایت کی تو اللہ عزوجل نے آیت : " اور اپنی نوجوان لونڈیوں کو بدکاری پر نہ اکساؤ اگر وہ پاکدامن رہنا چاہتی ہوں ۔ " اس ( اللہ ) کے فرمان : " بڑا بخشنے والا ، ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ۔ " تک نازل فرمائی ۔

32

عبداللہ بن ادریس نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم سے ، انھوں نے ابو معمر سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق روایت کی : " وہ لوگ جنھیں یہ ( کافر ) پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں سے کو ن زیادہ نزدیک ہوگا ۔ " ( ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوگئی تھی اور ( اس سے پہلے ) ان کی پوجاکی جاتی تھی ، تو جو ان کی عبادت کیاکرتے تھے ، ان کی عبادت پرقائم رہے جبکہ جنوں کی یہ جماعت خود اسلام لے آئی ۔

33

ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔

34

شعبہ نے سلیمان ( اعمش ) سے اسی سندکے ساتھ یہی روایت کی ۔

35

ابو بشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ انہوں نے کہا کہ سورۃ التوبہ؟ اور کہا کہ بلکہ وہ سورت تو ذلیل کرنے والی ہے اور فضیحت کرنے والی ہے ( کافروں اور منافقوں کی ) ۔ اس سورت میں برابر اترتا رہا کہ ”اور ان میں سے“ ”اور ان میں سے“ یہاں تک کہ منافق لوگ سمجھے کہ کوئی باقی نہ رہے گا جس کا ذکر اس سورت میں نہ کیا جائے گا ۔ میں نے کہا کہ سورۃ الانفال؟ انہوں نے کہا کہ وہ سورت تو بدر کی لڑائی کے بارے میں ہے ( اس میں مال غنیمت کے احکام مذکور ہیں ) ۔ میں نے کہا کہ سورۃ الحشر؟ انہوں نے کہا کہ وہ بنی نضیر ( کے انجام ) کے بارے میں نازل ہوئی ۔

36

علی بن مسہر نے ابو حیان سے ، انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر ( کھڑے ہوکر ) خطبہ دیا ، اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا بیان کی ، پھر کہا : اس کے بعد : سنو !شراب کی حرمت نازل ہوئی ، جس دن وہ نازل ہوئی ( اس وقت ) وہ پانچ چیزوں سے بنتی تھی ۔ گندم ، جو ، خشک کھجور ، انگور اور شہد سے ، خمر وہ ہے جو عقل کو ڈھانپ لے ۔ اورلوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں شدت سے چاہتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں ہمیں اور زیادہ قطعیت سے بتایا ہوتا : دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کے ابواب میں سے چند ابواب ۔

37

ابن ادریس نے کہا : ہمیں ابو حیان نے شعبی سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر فرماتے ہوئے سنا : حمد وثنا کےبعد ، لوگو!شراب کی حرمت نازل ہوئی تو وہ پانچ چیزوں سے بنائی جاتی تھی ، انگور ، کھجور ، شہد ، گندم اور جو سے اور خمر ( شراب ) وہ ہے جو عقل کو ڈھانک دے ۔ لوگو!تین چیزیں ایسی ہیں جن کے متعلق میں چاہتا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اور زیادہ قطیعت سے واضح فرمادیتے : دادا اور کلالہ کی میراث اور سود کی صورتوں میں سے چند صورتیں ۔

38

اسماعیل بن علیہ اور عیسیٰ بن یونس دونوں نے ابوحیان سے اسی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ابن علیہ کی حدیث میں ہے : انگور ، جس طرح ابن ادریس نے کہا ہے ۔ اور عیسیٰ کی روایت میں کشمش ہے ۔ جس طرح ابن مسہر نے کہا ہے ۔

39

ہشیم نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے اور انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر کہتے ہوئے سنا کہ ( آیت ) : " یہ دو جھگڑنے والے ہیں جنھوں نے اپنے رب کے معاملے میں جھگڑا کیا ۔ " ان لوگوں کے متعلق نازل ہوئی جنھوں نے بدر کے دن مبارزت ( رودرودسیدھی لڑائی ) کی : حضرت حمزہ ، علی اور عبیدہ بن حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ( دوسری طرف سے ) ربیعہ کے دو بیٹے : عتبہ اور شیبہ اور عتبہ کا بیٹا ولید ۔

40

سفیان نے ابو ہاشم سے ، انھوں نے ابو مجلز سے ، انھوں نے قیس بن عباد سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو قسم کھا کر یہ کہتے ہوئے سنا : هَذَانِ خَصْمَانِ یہ آیت نازل ہوئی ۔ ( آگے ) ہشیم کی حدیث کے مانند ہے ۔