آل اسلام لائبریری

40 - کتاب الالفاظ من الادب

1

ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے بتا یا کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے ہو ئے سنا : " اللہ تعالیٰ فر ما تا ہے ۔ ۔ ابن آدم دہر ( وقت ، زمانے ) کو برا کہتا ہے جبکہ ( رب ) دہر میں ہی ہوں ۔ رات اور دن ( جنھیں انسان وقت کہتا ہے ) میرے ہاتھ میں ہیں ۔

2

سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ تعا لیٰ فر ما تا ہے ۔ ابن آدم مجھے ایذادیتا ہے ( نارا ض کرتا ہے ) وہ زمانے کو برا کہتا ہے جبکہ میں ہی ( رب ) دہرہوں ، را ت اور دن کو پلٹتا ہوں ۔

3

معمرنے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے ابن مسیب سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، : کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اللہ عزوجل نے ارشاد فر ما یا : ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ کہتا ہے ۔ " ہائے زمانے ( وقت ) کی نامرادی ! " تم میں سے کو ئی " ہائے زمانے کی نامرادی! " ( جیسا جملہ ) نہ کہے ، کیونکہ دہر ( کا مالک ) میں ہوں ۔ رات اور دن کو پلٹتا ہوں اور میں جب چا ہوں گا ان کی بساط لپیٹ دو گا ۔

4

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے کہ " ہائے زمانے کی نامرادی! " کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانے ( کا مالک ) ہے ۔

5

ابن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " زمانے کو برا مت کہو کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانہ ( کا مالک ) ہے ۔

6

ایوب نے ابن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کوئی شخص زمانے کو برا نہ کہے ، کیونکہ اللہ تعا لیٰ ہی زمانے ( کا مالک ) ہے اور تم میں سے کو ئی شخص عنب ( انگور اور اس کی بیل ) کو کرم نہ کہے ، کیونکہ کرم ( اصل ) میں مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔

7

سعید نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہو ، کیونکہ ( حقیقت میں ) کرم مو من کا دل ہو تا ہے ۔

8

ہشا م نے ابن سیرین سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ نے فر مایا : " ( ا انگور اور اس کی بیل ) کو کرم نہ کہو ، کیونکہ کرم ( اصل میں ) مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔

9

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہے کیونکہ کرم تو مو من کا دل ہے ۔

10

ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احا دیث ہیں جو ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ئیں ۔ انھوں نے کئی احادیث بیان کیں ان میں یہ بھی تھی : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : تم میں سے کو ئی شخص انگور اور اس کی بیل کو کرم نہ کہے ، کیونکہ کرم تو مسلمان آدمی ہو تا ہے ۔

11

عیسیٰ بن یو نس نے شعبہ سے ، انھوں نے سماک بن حرب سے ، انھوں نے علقمہ بن وائل سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " ( انگور اور اس کی بیل کو ) کرم نہ کہا کرو ۔ لیکن حبلہ کہہ لو ۔ " آپ کی مراد انگور سے تھی ۔

12

عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے علمقہ بن وائل سے سنا ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " کرم نہ کہو عنب اور حبلہ ( انگور کی بیل ) کہہ لو ۔

13

لا ء کے والد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا بندہ اور میری بندی نہ کہے ، تم سب اللہ کے بندے ہواور تمھا ری تمام عورتیں اللہ کی بندیاں ہیں ۔ البتہ یو ں کہہ سکتا ہے ۔ میرا لڑکا میری لڑکی ، میرا جوان ، خادم ، مری خادمہ

14

جریر اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے کو ئی شخص ( کسی غلام کو ) میرا بندہ نہ کہے ، پس تم سب اللہ کے بندےہو ، البتہ یہ کہہ سکتا ہے ۔ میرا جوان اور نہ غلام یہ کہے : میرارب ( پالنے والا ) البتہ میرا سید ( آقا کہہ سکتا ہے ۔ "" حدیث نمبر5876 ۔ ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ "" غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ "" ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ "" کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔)

15

ابو معاویہ اور وکیع دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ان دونوں کی حدیث میں ہے ۔ " غلا م اپنے آقا کو میرا مو لا نہ کہے ۔ " ابومعاویہ کی حدیث میں مزید یہ الفا ظ ہیں ۔ " " کیونکہ تمھا را مولیٰ اللہ عزوجل ہے ۔

16

ہمام منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں ( ایک یہ ) ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( اپنے غلام یا کنیز سے ) یہ نہ کہے : اپنے رب ( پالنہار ) کو پلا ؤ ، اپنےرب کو کھلاؤ اپنے رب کو وضو کراؤ ۔ " اور فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص ( کسی کو ) میرا رب نہ کہے البتہ میرا آقا اور میرا مولیٰ کہے ۔ اور تم میں سے کو ئی یوں نہ کہے ۔ میرا بند ہ میری بندی ، البتہ یو ں کہے ، میرا خادم ، جوان میری خادمہ ، میرا لڑکا ۔

17

ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ۔ ابو کریب محمد بن علاء نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ۔ ان دونوں ( سفیان اور ابو اسامہ ) نے ہشام سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے : " میراجی ( نفس ، اپنا آپ ) گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے : میری طبیعت بوجھل ہو گئی ہے ۔ " یہ ابو کریب کی حدیث کے الفا ظ ہیں ۔ ابو بکر ( ابن ابی شیبہ ) نے کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے اور " لیکن " کا لفظ نہیں کہا ۔

18

ابو کریب نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔

19

ابو امامہ بن سہل حنیف نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : : " تم میں سے کو ئی شخص یہ نہ کہے ۔ میراجی گندا ہو گیا ہے ، بلکہ یہ کہے ، کہ میراجی بوجھل ہو گیا ہے ۔ ( یا میری طبیعت خراب ہو گئی ہے ۔)

20

ابو اسامہ نے شعبہ سے روایت کی ، کہا : مجھے خُلید بن جعفرنے ابو نضر ہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : بنی اسرا ئیل میں ایک پستہ قامت عورت دولمبے قد کی عورتوں کے ساتھ چلا کرتی تھی ۔ اس نے لکڑی کی دو ٹانگیں ( ایسے جوتے یا موزے جن کے تلووں والا حصہ بہت اونچا تھا ) بنوائیں اور سونے کی ایک بند ، ڈھکنے والی انگوٹھی بنوائی ، پھر اسے کستوری سے بھر دیا اور وہ خوشبوؤں میں سب سےاچھی خوشبو ہے وہ پھر وہ ان دونوں ( لمبی عورتوں ) کے درمیان میں ہو کر چلی تو لوگ اسے نہ پہچان سکے ، اس پر اس نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا ۔ " اور شعبہ نے ( شاگردوں کو دکھا نے کے لیے ) اپنا ہاتھ جھٹکا ۔

21

یزید بن ہارون نے شعبہ سے ، انھوں نے خلید بن جعفر اور مستمر سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم نے ابو نضر ہ کو سنا ، وہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی اسرا ئیل کی ایک عورت کا ذکر کیا ، اس نے اپنی انگوٹھی میں کستوری بھرلی تھی اور کستوری سب سے اچھی خوشبوہے ۔

22

عبد الرحمٰن اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس شخص کو ریحان ( خوشبو دار پھول یا ٹہنی ) دی جائے تو وہ اسے مسترد نہ کرے کیونکہ وہ اٹھا نے میں ہلکی اور خوشبو میں عمدہ ہے

23

نافع نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب خوشبو کا دھواں لیتے تو عودکا دھواں لیتے ، اس میں کسی اور چیز کی آمیزش نہ ہو تی اور کافور کا دھواں لیتے ۔ اس میں کچھ عود ملا لیتے ، پھر بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح خوشبو کا دھواں لیتے ( اور کپڑوں میں بساتے ) تھے ۔