3 - کتاب الحیض
ابراہیم نے اسو د سے انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : ہم ( ازواد نبی ﷺ ) میں سے کسی ایک کے خصوصی ایام ہوتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ چادر باندھنے کا حکم دیتے ، وہ چادر باندھ لیتی تو پھر آپ اس کےساتھ لیٹ جاتے ۔
عبد الرحمان بن اسود نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : ہم میں سے کسی کے خصوصی ایام ہوتے توآپﷺ اس کے جوش و کثرت کےدنوں میں اسے تہبند باندھنے کا حکم دیتے ، پھر اس کے ساتھ لیٹ جاتے ۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : تم میں سے کون ہے جو اپنی خواہش پر اس قدر ضبط رکھتا ہو جس قدر رسول اللہ ﷺ اپنی خواہش پر قابو رکھتے تھے ۔
حضرت میمونہؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کے مخصوص ایام میں کپڑے کے اوپر ان کے ساتھ لگ کر لیٹ جاتے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کر دہ غلام ابو کریب نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ حضرت میمونہ ؓ سے سنا ، کہا : جب میرے مخصوص ایام ہوتے تو رسول اللہ ﷺ میرے ساتھ لیٹ جاتے ( اس وقت ) میرے اور آپ کے درمیان کپڑا حائل ہوتا تھا ۔
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ حضرت ام سلمہ ؓ نے انہیں بتایا ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رؤئیں دار چادر میں لیٹی ہوئی تھی ، اس اثنا میں میرے ایام کا آغاز ہو گیا اور میں کھسک گئی اور ان ایام کے کپڑے لے لیے تو رسو ل اللہ ﷺ نے دریافت فرمایا : ’’کیا تمہارے ایام شروع ہو گئے ؟ ‘ ‘ میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ تو آپ نےمجھے پاس بلا لیا اور میں آپ کے ساتھ اوڑھنے کی ایک ہی روئیں دار چادر میں لیٹ گئی ۔ ام سلمہ نے بتایاکہ وہ اور رسول اللہﷺ اکٹھے ایک برتن میں غسل جنابت کر لیتے تھے ۔
مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ ﷺ اعتکاف کرتے تو اپنا سر ( گھر کے دروازے سے ) میرے قریب کر دیتے ، میں اس میں کنگھی کر دیتی اور آپ انسانی ضرورت کے بغیر گھر میں تشریف نہ لاتے تھے ۔
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ اور عمرہ بنت عبد الرحمن سے روایت کی کہ رسول اللہﷺکی زوجہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : ( جب میں اعتکاف میں ہوتی تو ) قضائے حاجت کے لیے گھر میں داخل ہوتی ، اس میں کوئی بیمارہوتا تو میں بس گزرتے گزرتے ہی اس سے ( حال ) پوچھ لیتی اوراگر رسول اللہ ﷺ مسجدسے میرے پاس ( حجرے میں ) سر داخل فرماتے تو میں اس میں کنگھی کر دیتی ، جب آپ اعتکاف میں ہوتے تو گھر میں کسی ( حقیقی ) ضرورت کے بغیر داخل نہ ہوتے ۔ ابن رمح نے ( ’’جب آپ ﷺ معتکف ہوتے ‘ ‘ کے بجائے ) ’’جب سب لوگ اعتکاف میں ہوتے ‘ ‘ کہا ۔
محمدبن عبد الرحمن بن نوفل نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے رسول اللہﷺ کی زوجہ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ حالت اعتکاف میں مسجد سے میری طرف سر نکالتے تو میں ایام خصوصی میں ہوتے ہوئے اس کو دھو دیتی ۔
ہشام نے کہا : عروہ بن ہمیں حضرت عائشہ ؓ سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ( اعتکاف کی حالت میں ) اپنا سر میرے قریب کر دیتے جبکہ میں اپنے حجرے میں ہوتی اور میں حیض کی حالت میں آپ کے سر میں کنگھی کر دیتی تھی ۔
اسود نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں ایام مخصوصہ میں رسول اللہ ﷺ کاسر دھودیتی تھی ۔
اعمش نے ثابت بن عبید سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : رسول ا للہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا : ’’مجھے مسجد میں سے جائے نماز پکڑا دو ۔ ‘ ‘ کہا : میں نے عرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہار ا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘
حجاج اور ابن ابی غنیہ نے ثابت سے ، انہوں نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ میں مسجدسے آپ کو جائے نماز پکڑا دوں ، میں نےعرض کی : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’حیض تمہارےہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘
حضرت ابو ہریرہ ﷺ سے روایت ہے ، انہو ں نے کہا : ایک بار رسول اللہ ﷺ مسجد میں موجود تھے تو آپ نے فرمایا : ’’اے عائشہ ! مجھے ( نماز کا ) کپڑا پکڑا دو ۔ ‘ ‘ تو انہوں نے کہا : میں حائضہ ہوں ۔ آپ نے فرمایا : ’’تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں نہیں ہے ۔ ‘ ‘ چنانچہ انہوں نے آپ کو کپڑا پکڑا دیا ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے مسعر اور سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے مقدام بن شریح سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں ایام مخصوصہ کے دوران میں پانی پی کر نبی اکرمﷺ کو پکڑا دیتی تو آپ اپنا منہ میرے منہ کی جگہ پر رکھ کر پانی پی لیتے ، اور میں دانتوں کےساتھ ہڈی سےگوشت نوچتی جبکہ میرے مخصوص ایام ہوتے ، پھر وہ ( ہڈی ) نبی ﷺ کو دیتی تو آپ میرے منہ والی جگہ پر اپنا منہ رکھتے ( اور بوٹی توڑتے ۔ ) زہیر نے فیشرب ( پانی پینے ) کا لفظ ذکر نہیں کیا ۔
صفیہ بنت شیبہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں حیض کی حالت میں ہوتی تو رسول اللہ ﷺ میری گود کو تکیہ بناتے اور قرآن پڑھتے
حضرت انس رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ یہودی ، جب ان کی کوئی عورت حائضہ ہوتی تو نہ وہ اس کے ساتھ کھانا کھاتے اور نہ اس کے ساتھ گھر ہی میں اکٹھے رہتے ۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ کے صحابہ نے آپ سے اس بارے میں پوچھا ، اس پر اللہ تعالیٰ نےآیت تاری : ’’یہ آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں ، آپ فرما دیجیے ، یہ اذیت ( کاوقت ) ہے ، اس لیے محیض ( مقام حیض ) میں عورتوں ( کے ساتھ مجامعت ) سے دور ہو ‘ ‘ آخر تک ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جماع کے سوا سب کچھ کرو ۔ ‘ ‘ یہودیوں تک یہ بات پہنچی تو کہنے لگے : یہ آدمی ہمارے دین کی ہر بات کی مخالفت ہی کرنا چاہتا ہے ۔ ( یہ سن کر ) اسید بن حضیر اور عباد بن بشر رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور دونوں نے کہا : اے اللہ کے رسول! یہود اس اس طرح کہتے ہیں تو یکا ہم ان ( عورتوں ) سے جماع بھی نہ کر لیا کریں ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ کے چہرے کا رنگ بدل گیا حتی کہ ہم نے سمجھا کہ آپ دونوں سے ناراض ہو گئے ہیں ۔ وہ دونوں نکل گئے ، آگے سے رسول اللہ ﷺ کے لیے دودھ کا ہدیہ آرہا تھا ، آپ نے کسی کو ان کے پیچھے بھیجا اور ان کو ( بلواکر ) دودھ پلایا ، وہ سمجھ گئے کہ آپ ان سے ناراض نہیں ہوئے ۔
وکیع ، ابو معاویہ اور ہشیم نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے منذر بن یعلیٰ سے ( جن کی کنیت ابو یعلیٰ ہے ) انہوں نے ابن حنفیہ سے ، انہوں نے ( اپنے والد ) حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے مذی ( منی سے مختلف رطوبت جو اسی راستے سے خارج ہوتی ہے ) زیادہ آتی تھی اور میں آپ کی بیٹی کے ( ساتھ ) رشتے کی وجہ سے براہ راست نبی کریم ﷺ سے پوچھنے میں شرم محسوس کرتا تھا ۔ میں نے مقداد بن اسود سے کہا ، انہوں نےآپ سے پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’ ( اس میں متبلا آدمی ) اپنا عضو مخصوص دھوئے اور وضو کر لے ۔ ‘ ‘
شعبہ نے سلیمان اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں نے حضرت فاطمہ ؓ ( کے ساتھ رشتے ) کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ سے مذی کےبارے میں پوچھنے میں شرم محسوس کی تو میں نے مقداد کو کہا ، انہوں نے آپ ﷺ سے پوچھا ، آپ نے فرمایا : ’’اس سے وضو ( کرنا پڑتا ) ہے ۔ ‘ ‘
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہم نے مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، انہوں نے آپ سے مذی کے بارے میں پوچھا جو انسان ( کے عضو مخصوص ) سے خارج ہوتی ہے کہ وہ اس کا کیا کرے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’وضو کرو اور شرم گاہ کو دھو لو ۔ ‘ ‘ ( ترتیب میں پہلے دھونا ، پھر وضو کرنا ہے جس طرح حدیث : 695میں ہے ۔)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ رات کو اٹھے ، قضائے حاجت کی ، پھر اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر سو گئے ۔
ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ رسول اللہﷺ جب جنابت کی حالت میں سونا چاہتے توسونے سے پہلے نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے ۔
ابن علیہ ، وکیع اور عندر نے شعبہ سے ، انہوں نے حکم سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی : انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ جب حالت جنابت میں ہوتے او رکھانا یا سونا چاہتے تو نماز کے وضو کی طرح وضو کر لیتے تھے ۔
محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار دونوں نے کہا : ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث سنائی ، اسی طرح عبیداللہ بن معاذ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث سنائی ۔ ان دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ۔ ابن مثنیٰ کی حدیث میں ہے ، حکم نے کہا : میں نے ابراہیم کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ۔ ( آگے وہی حدیث ہے جو اوپر بیان ہو ئی ۔)
عبید اللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سےر وایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کوئی جنابت کی حالت میں ہو تو کیا وہ ( اسی طرح ) سو سکتا ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، جب وضو کر لے ۔ ‘ ‘
ابن جریج سے روایت ہے ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا اور کہا : کیا ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، وضو کر لے پھر ( اس وقت تک کے لیے ) سو جائے جب وہ غسل کرنا چاہے ۔ ‘ ‘
عبداللہ بن دینار سے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ عمر رضی اللہ عنہ نے رسو ل اللہ ﷺ کے سامنے ذکر کیا کہ رات کے وقت وہ جنابت سے دو چار ہو جاتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺنے ان سے کہا : ’’وضو کر اور ( اس سے پہلے ) اپناعضو مخصوص دھولو ، پھر سو جاؤ ۔ ‘ ‘
لیث نے معاویہ بن صالح سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قیس سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں سوال کیا ..... پھر آگے حدیث بیان کی کہ میں نے پوچھا : آپ ﷺ جنابت کی صورت میں کیا کرتے تھے؟ کیا سونے سے پہلے غسل فرماتے تھے یا غسل سے پہلے سوجاتے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا : آپ یہ سب کر لیتے تھے ، بسااوقات نہا کرسوتےاور بسا اوقات وضو کر کے سو جاتے ۔ میں نے کہا : اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ( دین کے ) معاملے میں وسعت رکھی ہے ۔
عبدالرحمن بن مہدی اور ابن وہب دونوں نے معاویہ بن صالح سے سابقہ سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں حفص بن غیاث نے حدیث سنائی ، نیز ابو کریب نے کہا : ہمیں ابن ابی زائدہ نے خبر دی ، نیز عمرو ناقد اور ابن نمیر نے کہا : ہمیں مروان بن معاویہ فزاری نے حدیث سنائی ، ان سب ( حفص ، ابن ابی زائدہ اور مروان ) نے عاصم سے ، انہوں نے ابومتوکل سے اور انہو ں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی نے اپنی بیوی سے مباشرت کر لی ، پھر سے کرنا چاہے تو وہ وضو کر لے ۔ ‘ ‘ ( حفص بن غیاث سے روایت کرنے والے ) ابو بکر نے اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : دونوں بار کے درمیان وضو کر لے ، نیز أن يعود ( پھر سے ) کے بجائےأن يعاود ( دوبارہ ) کے الفاظ استعمال کیے ۔
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ ایک ہی غسل سے اپنی ( ایک سے زیادہ ) بیویوں کے پاس جاتے تھے ۔
اسحاق بن ابی طلحہ نےکہاکہ مجھے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنائی کہ ام سلیم رضی اللہ عنہ جو ( حضرت انس رضی اللہ عنہ کی والدہ اور ) اسحاق کی دادی تھیں ، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ سے کہنے لگیں جبکہ حضرت عائشہ ؓ بھی آپ کے پاس موجود تھیں ، اے اللہ کے رسول ! عورت بھی نیند کے عالم میں اسی طرح خواب دیکھتی ہے جس طرح مرد دیکھتا ہے ، وہ اپنے آپ سے وہی چیز ( نکلتی ہوئی ) دیکھتی ہے جو مرد اپنے حوالے سے دیکھتا ہے ( تو وہ کیا کرے ؟ ) حضرت عائشہ ؓ کہنے لگیں : ام سلیم ! تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ، تیرا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ( ان کا یہ کہا کہ تیرادایاں ہاتھ خاک آلود ہو ، بری نہیں بلکہ اچھی بات تھی ) تو آپﷺ نے عائشہ ؓ سےفرمایا : ’’بلکہ تمہارا دایاں ہاتھ خاک آلود ہو ۔ ہاں ام سلیم!جب وہ یہ دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘
قتادہ سےروایت ہے کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ ام سلیم ؓ نے ( انہیں ) بتایا کہ انہوں نے نبی اکرمﷺ سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جونیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد دیکھتا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب عورت یہ چیز دیکھے تو غسل کرے ۔ ‘ ‘ ام المومنین حضرت ام سلمہ ؓ نے فرمایا : میں اس بات پر شرما گئی ۔ ( پھر ) آپ بولیں : کیا ایسا بھی ہوتا ہے ؟ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : ’’ہاں ، ( ورنہ ) پھر مشابہت کیسے پیدا ہوتی ہے ؟مرد کا پانی گاڑھا سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی پتلا اور زرد ہوتا ہے ، ان دونوں میں سے جس ( کے حصے ) کو غلبہ مل جائے یا ( نئی تشکیل میں ) سبقت لے جائے تو اسی سے ( بچے کی ) مشابہت ہوتی ہے ۔ ‘ ‘
ابو مالک اشجعی نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے اس عورت کےبارے میں پوچھا جو نیند میں وہی چیز دیکھتی ہے جو مرد اپنی نیند میں دیکھتا ہے تو آپ نے فرمایا : ’’ جب اس کو وہ صورت پیش آئے جو مرد کو پیش آتی ہے تو وہ غسل کرے ۔ ‘ ‘
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ سے اور انہوں نے ( اپنی والدہ ) حضرت ام سلمہ ؓسے روایت کی کہ ام سلیم ؓ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کی : اے اللہ کے رسول ! اللہ تعالیٰ حق سے حیا محسوس نہیں کرتا تو کیا عورت کو احتلام ہو جائے تو اس پر غسل ہے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ ہاں ، جب ( منی کا ) پانی دیکھے ۔ ‘ ‘ ام سلمہؓ نے پوچھا : اے اللہ کے رسول! عورت کو بھی احتلام ہوتا ہے ؟آپ نے فرمایا : ’’تیرے دونوں ہاتھ خاک آلود ہوں ، اس کا بچہ اس کے مشابہ کیسے ہو جاتا ہے ! ‘ ‘ ( یعنی نطفے کی تشکیل میں دونوں کے مادے کا حصہ ہوتا ۔)
ہشام کے دو شاگردوں وکیع اور سفیان نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی لیکن انہوں نے یہ اضافہ کیا ہے : ام سلمہ ؓ نے بتایا کہ میں نے کہا : تو نے عورتوں کو رسوا کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ اور حضرت ام سلمہ ؓ دونوں موجود تھیں ، تعجب کی بنا پر دونوں کے منہ سے یہی بات نکلی ۔)
ابن شہاب نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبر دی کہ حضرت عائشہ ؓ نے انہیں بتایا کہ ام سلیم ؓ جو ابو طلحہ کےبیٹوں کی ماں ہیں ، رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں .... آگے ہشام کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ۔ البتہ اس میں یہ ہے کہ انہوں ( عروہ ) نے کہا : حضرت عائشہ ؓ نے کہا : میں نے اس سے کہا : تجھ پر افسوس ! کیا عورت کو بھی ایسا نظر آتا ہے ؟
مسافع بن عبد اللہ نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کی : کیا جب عورت کواحتلام ہو جائے اور وہ پانی دیکھے توغسل کرے ؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے اس عورت سےکہا : تیرے ہاتھ خاک آلود اور زخمی ہوں ۔ انہوں ( عائشہ ؓ ) نے کہا : تو رسول اللہ ﷺ نےفرمایا : ’’اسے کچھ نہ کہو ، کیا ( بچے کی ) مشابہت اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ہوتی ہے ! جب ( نطفے کی تشکیل کے مرحلے میں ) اس کا پانی مرد کے پانی پر غالب آ جاتا ہے تو بچہ اپنے ماموؤں کے مشابہ ہوتا ہے اور جب مرد کاپانی عورت کے پانی پر غالب آتا ہے تو بچہ اپنے چچاؤں کےمشابہ ہوتا ہے ۔ ‘ ‘
ابو توبہ نے ، جو ربیع بن نافع ہیں ، ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : معاویہ بن سلام نے ہمیں اپنےبھائی زید سے حدیث سنائی ، کہا : انہوں نے ابوسلام سے سنا ، کہا : مجھ سے ابو اسماء رحبی نے بیان کیا کہ نبی اکرمﷺ کے آزادکردہ غلام ثوبان رضی اللہ عنہ نے انہیں یہ حدیث سنائی ، کہا : میں رسول ا للہ ﷺ کے پاس کھڑا تھا ایک یہودی عالم ( حبر ) آپ کے پاس آیا اورکہا : اے محمد! آپ پر سلام ہو ، میں نے اس کو اتنے زور سے دھکا دیا کہ وہ گرتے گرتے بچا ۔ اس نے کہا : مجھے دھکا کیوں دیتے ہو؟ میں نے کہا : تم یا رسول اللہ ! نہیں کہہ سکتے ؟ یہودی نے کہا : ہم تو آپ کو اسی نام سے پکارتے ہیں جو آپ کے گھر والوں نے آپ کا رکھا ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یقیناً میرا نام محمد ( ﷺ ) ہے جو میرے گھر والوں نے رکھا ہے ۔ ‘ ‘ یہودی بولا : میں آپ سے پوچھنے آیا ہوں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے فرمایا : ’’اگر میں تمہیں کچھ بتاؤں گا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہو گا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں اپنے دونوں کانو ں سے توجہ سے سنوں گا ۔ تورسول اللہ ﷺ نے ایک چھڑی ، جو آپ کے پاس تھی ، زمین پر آہستہ آہستہ ماری اور فرمایا : ’’پوچھو ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : جس دن زمین دوسری زمین سے بدلے گی اور آسمان ( بھی ) بدلے جائیں گے تو لوگ کہاں ہوں گے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ وہ پل ( صراط ) سے ( ذرا ) پہلے اندھیرے میں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’فقرائے مہاجرین ۔ ‘ ‘ یہودی نے پوچھا : جب وہ جنت میں داخل ہوں گے تو ان کو کیا پیش کیا جائےگا؟ تو آپ نے فرمایا : ’’مچھلی کےجگر کا زائد حصہ ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس کے بعد ان کا کھانا کیا ہوگا؟ آپ نے فرمایا : ’’ان کے لیے جنت میں بیل ذبح کیا جائے گا جو اس کے اطراف میں چرتا پھرتا ہے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اس ( کھانے ) پر ان مشروب کیا ہو گا؟آپ نے فرمایا : ’’اس ( جنت ) کے سلسبیل نامی چشمے سے ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : آپ نے سچ کہا ، پھر کہا : میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں جسے اہل زمین سے محض ایک بنی جانتا ہے یاایک دو اور انسان ۔ آپ نےفرمایا : ’’اگر میں تمہیں بتا دیا تو کیا تمہیں اس سے فائدہ ہوگا؟ ‘ ‘ اس نے کہا : میں کان لگا کر سنوں گا ۔ اس نے کہا : میں آپ سے اولاد کے بارے میں پوچھنے آیا ہوں ۔ آپ نےفرمایا : ’’ مرد کا پانی سفید ہوتا ہے اور عورت کا پانی زرد ، جب دونوں ملتے ہیں اور مرد کا مادہ منویہ عورت کی منی سے غالب آ جاتا ہے تو اللہ کے حکم سے دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوتا ہے اور جب عورت کی منی مرد کی منی پر غالب آ جاتی ہے تو اللہ عزوجل کے حکم سے دونوں کےہاں بیٹی پیدا ہوتی ۔ ‘ ‘ یہودی نے کہا : آپ نے واقعی صحیح فرمایا اور آپ یقیناً نبی ہیں ، پھر وہ پلٹ کر چلا گیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اس نے مجھ سے جس چیز کے بارے میں سوال کیا اس وقت تک مجھے اس میں سے کسی چیز کا کچھ علم نہ تھاحتی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس کا علم عطا کر دیا ۔ ‘ ‘
یحییٰ بن حسان نے ہمیں خبر دی کہ ہمیں معاویہ بن سلام نے اسی اسناد کے ساتھ اسی طرح حدیث سنائی ، سوائے اس کے کہ ( یحییٰ نے ) قائما ( کھڑا تھا ) کے بجائے قاعداً ( بیٹھاتھا ) کہا اور ( زیادۃ کبد النون کے بجائے ) زائدۃ کبدالنون کہا ( معنی ایک ہی ہے ) اور انہوں نے اذکر و آنت ( اس کے ہاں بیٹا اور بیٹی کی ولادت ہوتی ہے ) کے الفاظ کہے ، اور اذکر و آنثا ( ان دونوں کے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہےاور ان دونوں کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے ) کے الفاظ نہیں کہے ۔
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے ر وایت کی کہ جب رسول اللہ ﷺ غسل جنابت فرماتے تو پہلے اپنے ہاتھ دھوتے ، پھر دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈال کر اپنی شرم گاہ دھوتے ، پھر نماز کے وضو کی مانند وضو فرماتے ، پھر پانی لے کر انگلیوں کو بالوں کی جڑوں میں داخل کرتے ، جب آپ سمجھتے کہ آپ نے اچھی طرح جڑوں میں پانی پہنچا دیا ہے ۔ تواپنے سر پر دونوں ہاتھوں سے تین چلو ڈالتے ۔ پھر سارے جسم پر پانی ڈالتے ( اور جسم دھوتے ) پھر ( آخر میں ) اپنے دونوں پاؤں دھو لیتے ۔
جریر ، علی بن مسہر اور ابن نمیر نے ہشام کی اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث روایت کی لیکن ان ( تینوں ) کی حدیث میں پاؤں دھونے کا ذکر نہیں ہے ۔
وکیع نے ہشام کی اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے حدیث بیان کی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے جنابت سےغسل فرمایا ، آغاز کرتے ہوئے تین بار ہتھلیاں دھوئیں ..... پھر ابو معاویہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ، تاہم پاؤں دھونے کا ذکر نہ کیا ۔
زائدہ نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے ( تو ) اس طرح آغاز کرتے کہ برتن میں ہاتھ داخل کرنے سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ دھوتے ، پھر نماز کے لیے اپنے وضو کی طرح وضو فرماتے ۔
عیسیٰ بن یونس نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے اعمش نے حدیث بیان کی ، انہوں نے سالم بن ابی جعد سے ، انہوں نے کریب سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے میری خالہ میمونہ ؓ نے بتایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے غسل جنابت کے لیے آپ کے قریب پانی رکھا ، آپ نے اپنی دونوں ہتھیلیوں کو دو یا تین دفعہ دھویا ، پھر اپنا ( دایاں ) ہاتھ برتن میں داخل کیا اور اس کے ذریعے سے اپنی شرم گاہ پر پانی ڈالا اور اسے اپنے بائیں ہاتھ سے دھویا ، پھر اپنے بائیں ہاتھ کو زمین پر مار کر اچھی طرح رگڑ اور اپنا نماز جیسا وضو فرمایا ، پھر ہتھیلی بھر کر تین لپ پانی اپنے سر پر ڈالا ، پھر اپنے سارے جسم کو دھویا ، پھر اپنی اس جگہ سے دور ہٹ گئے اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ، پھر میں تولیہ آپ کے پاس لائی تو آپ نے اسے واپس کر دیا ۔
وکیع اور ابو معاویہ نے اعمش کی سابقہ سندکے ساتھ یہ روایت بیان کی لیکن ان دونوں کی حدیث میں سر پر تین لپ ڈالنے کا ذکر نہیں ہے ۔ وکیع کی حدیث میں پورے وضو کی کیفیت کا بیان ہے ۔ اس میں ( انہوں نے ) کلی اور ناک میں پانی ڈالنے کا ذکر کیا ، اور ابو معاویہ کی حدیث میں تولیے کا ذکر نہیں ہے ۔
عبد اللہ بن ادریس نے اعمش کی سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے حضرت میمونہ ؓ کی روایت بیان کی کہ نبی اکرمﷺ کے پاس تولیہ لایا گیا توآپ نے اسے ہاتھ نہ لگایا اور پانی کے ساتھ اس طرح کرنے لگے ، یعنی جھاڑنے لگے ۔
قاسم ( بن محمدبن ابی بکر ) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت فرماتے تو تقریباً اتنا بڑا برتن منگواتے جتنا اونٹنی کا دودھ دھونے کا ہوتا ہے ۔ اور چلو سے پانی لیتے اور سر کے دائیں حصے سےآغاز فرماتے ، پھر بائیں طرف ( پانی ڈالتے ) ، پھر دونوں ہاتھوں ( کا لپ بنا کر اس ) سے ( پانی ) لیتے اور ان سے سر پر ( پانی ) ڈالتے ۔
امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نےحضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے ، جو ایک فرق ( تین صاع یا ساڑھےتیرہ لٹر ) کا تھا ، غسل جنابت فرمایا کرتے تھے
قتیبہ بن سعید اور ابن رمح نے لیث سے ، اسی طرح قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اورزہیر بن حرب نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( لیث اور سفیان ) نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک بڑے پیالے سے ، جو ایک فرق کی مقدارجتنا تھا ، غسل فرماتے ۔ میں اور آپ ایک برتن میں ( سے ) غسل کرتے تھے ۔ سفیان کی حدیث میں ( في الإنا ء الواحدکے بجائے ) من إناء واحد ( ایک برتن سے ) ہے ۔ قتیبہ نے کہا ، سفیان نے کہا : فرق تین صاع کا ہوتا ہے ۔
ابو بکر بن حفص نے ابو سلمہ بن عبد الرحمن ( بن عوف جوحضرت عائشہ کے رضاعی بھانجے تھے ) سےر وایت کی ، انہوں نے کہا : میں اور حضرت عائشہ ؓ کا رضاعی بھائی ( عبد اللہ بن یزید ) ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو اس نے ان سے نبی اکرمﷺ کے غسل جنابت کے بارے میں سوال کیا ، چنانچہ انہوں نے ایک صاع کے بقدربرتن منگوایا او راس سے غسل کیا ، ہمارے اور ان کے درمیان ( دیوار وغیرہ کا ) پردہ حائل تھا ، اپنے سر پر تین دفعہ پانی ڈالا ۔ ابو سلمہ نے بتایا کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات اپنے سر ( کے بالوں ) کو کاٹ لیتی تھیں یہاں تک کہ وہ وفرہ ( کانوں کے نچلے حصے کی لمبائی کے بال ) کی طرح ہو جاتے ۔
بکیر بن عبداللہ نے ابو سلمہ بن عبدالرحمن سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : جب رسول اللہ ﷺ غسل فرماتے تودائیں ہاتھ سے آغاز فرماتے ، اس پر پانی ڈال کر اسے دھوتے ، پھر جہاں ناپسندیدہ چیز لگی ہوتی اسے دائیں ہاتھ سے پانی ڈال کر بائیں ہاتھ سے دھوتے ، جب اس سے فارغ ہو جاتے تو سر پر پانی ڈالتے ۔ حضرت عائشہ ؓ نے بتایا کہ میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے نہاتے جب کہ دونوں جنابت کی حالت میں ہوتے ۔
حفصہ بنت عبد الرحمن بن ابی بکر سے ( جو منذر بن زبیر کی اہلیہ تھیں ) روایت ہے کہ حضرت عائشہؓ نے انہیں بتایا کہ وہ ( خود ) اور نبی اکرمﷺ ایک برتن میں غسل کرتے جس میں تین مد ( مد ایک صاع کا چوتھاحصہ ہوتا ہے ) یا اس کے قریب پانی آتا
قاسم بن محمد ( بن ابی بکر ) نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، فرمایا : میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے غسل جنابت کرتے اور ہمارے ہاتھ باری باری اس میں جاتے
(حضرت عائشہ کی شاگرد ) معاذہ بنت عبد اللہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا میں اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن سے ، جو میرے اور آپ کے درمیان ہوتا ، غسل کرتے ۔ آپ میری نسبت جلد پانی لیتے حتی کہ میں کہتی : میرے لیے چھوڑیے ، میرے لیے چھوڑیے ۔ وہ ( معاذہ ) کہتی ہے اوروہ دونوں جنبی ہوتے ۔
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے ابو شعثاء سے ، انہوں نے ابن عباسؓ سے روایت کی ، کہا ، مجھے حضرت میمونہ ؓ نے خبر دی کہ وہ اور نبی اکرمﷺ ایک ( ہی ) برتن میں ( سے ) غسل کرتے تھے ۔
ابن جریج نے عمرو بن دینار سے روایت کی ، کہا : مجھے جتنا زیادہ ( سےزیادہ ) علم ہے اور جو میرے ذہن میں آتا ہے اس کے مطابق مجھے ابو شعثاء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایاکہ رسول اللہ ﷺ میمونہ ؓ کے بچے ہوئے پانی سے نہالیتے تھے ۔
حضرت ام سلمہ ؓ نے بیان کیا کہ وہ اور رسول اللہ ﷺ ایک برتن میں ( سے ) غسل جنابت کرتے تھے ۔
عبید اللہ بن معاذ نے بیان کی کہ ان کے والد نے انہیں حدیث سنائی اور ابن مثنی نے عبد الرحمان ، یعنی ابن مہدی سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبد اللہ بن عبداللہ بن جبر سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسو ل اللہ ﷺ پانچ مکوک سے غسل فرماتے اورایک مکوک سے وضو فرماتے ۔ ( ایک مکوک سوا صاع کے برابر ہوتا ہے ۔ ) ابن مثنی نے مکاییک کی جگہ مکاکی ( تخفیف کے ساتھ وہی ) لفظ بولا ۔ عبید اللہ بن معاذ نے عبد اللہ بن عبد اللہ کہا اور ابن جبر کا ذکر نہیں کیا ۔
مسعر نے ابن جبر سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ ﷺ ایک مد سے وضو فرماتے اور ایک صاع سے پانچ مد تک ( کے پانی ) سے غسل کرتے ۔
بشر نے کہا : ہمیں ابو ریحانہ نے حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ سےحدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل جنابت فرماتے اور ایک مد پانی سے وضو فرما لیتے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اورعلی بن حجر نے اسماعیل بن علیہ سے ، انہوں نے ابو ریحانہ سے ، انہوں نےحضرت سفینہؓ سے ( ابو بکر نےکہا : ) رسول اللہ ﷺ کے صحابی ( حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نےکہا : رسول اللہ ﷺ ایک صاع پانی سے غسل فرماتے اور ایک مد پانی سے وضو فرمالیتے ۔ ( علی ) ابن حجر کی روایت میں ہے کہ یا ( ابو ریحانہ نے ایک مد سے وضو فرما لیتے تھے کے بجائے ) ’’ایک مدپانی سے آپ کا وضو ہو جاتاتھا ‘ ‘ کہا ۔ ابو ریحانہ نے کہا : سفینہ رضی اللہ عنہ عمر رسیدہ ہو گئے تھے ، اس لیے مجھے ان کی حدیث پر اعتماد و وثوق نہیں ہے ۔
ابو احوص نے ابو اسحاق سے ، انہو ں نے سلیمان بن صرد سے ، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : کچھ لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے پاس غسل کےمتعلق ایک دوسرے سے تکرار کی ، چنانچہ بعضوں نے کہا : لیکن میں ، میں تو سر کو اتنا اور اتنا دھو تا ہوں ۔ تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’لیکن میں تو اپنے سر پر تین ہتھلیاں بھر کر ( پانی ) ڈالتاہوں ۔ ‘ ‘
شعبہ نے ابو ا سحاق سے ، انہوں نے سلیمان بن صرد سے ، انہوں نے حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ کے پاس غسل جنابت کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : ’’ لیکن میں ، میں تو اپنے سر پر تین بار پانی بہاتا ہوں ۔ ‘ ‘
یحییٰ بن یحییٰ اور اسماعیل بن سالم نے کہا : ہمیں ہشیم نے خبر دی ، انہوں نے ابو بشر سے ، انہوں نے ابو سفیان سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ ثقیف کے وفد نے بنی ﷺ سے پوچھا ، او رکہا : ہمارا علاقہ ایک ٹھنڈا علاقہ ہے تو غسل کیسے ہو؟ آپ نے فرمایا : ’’لیکن میں ، میں تو اپنے سر پر تین بارپانی بہاتا ہوں ۔ ‘ ‘ ابن سالم نے اپنی روایت میں کہا : ہم سے ہشیم نے بیان کیا ، انہوں ابو بشر نے بتایااور کہا : بلاشبہ ثقیف کے وفد نے ( سوال پوچھتے ہوئے آپﷺ کو مخاطب کر کے ) کہا : اے اللہ کے رسول
امام جعفر کےوالد امام محمد باقر بن علی بن حسین پ رضی اللہ عنہ نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب غسل جنابت کرتے تو سر پر پانی کی تین لپیں ڈالتے ، چنانچہ حسن بن محمد نے ان سے کہا : میرے بال تو زیادہ ہیں ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : تو میں نے اس سے کہا : اے بھتیجے! رسول اللہ ﷺ کے بال تمہارے بالوں سےزیادہ اور عمدہ تھے ۔
سفیان بن عیینہ نے ایوب بن موسیٰ سے ، انہوں نے سعید بن ابی سعید مقبیری سے ، انہوں نے حضرت ام سلمہ ؓ کے مولیٰ عبداللہ بن ابی رافع سے اور انہوں نے حضرت ام سلمہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں کہ کس کر سر کے بالوں کی چوٹی بناتی ہوں تو کیا غسل جنابت کے لیے اس کو کھولوں؟آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، تمہیں بس اتنا ہی کافی ہے کہ اپنے سر پر تین چلو پانی ڈالو ، پھر اپنے آپ پر پانی بہا لو تم پاک ہو جاؤں گی ۔ ‘ ‘
یزید بن ہارون اور عبدالرزاق نے کہا : ہمیں اسی سند کے ساتھ سفیان ثوری نے ایوب بن موسیٰ کے حوالے سے خبر دی ۔ اور عبدالرزاق کی حدیث میں ہے : کیا میں حیض اور جنابت ( کے غسل ) کے لیے اس کو کھولوں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی ( روایت ) بیان کی ۔
ایوب بن موسیٰ سے ( سفیان ثوری کے بجائے ) روح بن قاسم نے اسی ( سابقہ سند ) کے ساتھ روایت کی کہ انہوں ( ام سلمہ ؓ ) نے کہا : کیا میں چوٹی کو کھول کر غسل جنابت کروں؟ ...... انہوں ( روح بن قاسم ) نے حیض کا تذکرہ نہیں کیا ۔
عبید اللہ بن عمیر سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہؓ کو یہ خبر پہنچی کہ عبداللہ بن عمروؓ عورتوں کو حکم دیتے ہیں کہ وہ غسل کرتے وقت سر کے بال کھولا کرین ۔ تو انہوں نے کہا : اس ابن عمرو پر تعجب ہے ، عورتوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ جب غسل کریں تو سر کے بال کھولیں ، وہ انہیں یہ حکم کیوں نہیں دیتا کہ وہ اپنے سر کے بال مونڈ لیں ، میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے اور میں اس سے زائد کچھ نہیں کرتی تھی کہ اپنے سر پر تین بار پانی ڈال لیتی ۔
عمرو بن محمد ناقد اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، عمرو نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے منصور بن صفیہ سے ، انہوں نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انۂں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک عورت نبی ﷺ سے پوچھا : وہ غسل حیض کیسے کرے ؟ کہا : پھر عائشہ ؓ نےبتایا کہ آپ نے اسے غسل کا طریقہ سکھایا ( اور فرمایا ) پھر وہ کستوری سے ( معطر ) کپڑے کا ایک ٹکڑالے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ عورت نے کہا : میں اس سے کیسے پاکیزگی حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’ سبحان اللہ ! اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ اور آپ نے ( حیا سے ) چہرہ چھپا کر دکھایا ۔ صفیہ نےکہا : عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے اس عورت کو اپنی طرف کھینچ لیا اور میں سمجھ گئی تھی کہ رسول اللہ ﷺ کیا ( کہنا ) چاہتے ہیں تو میں نےکہا : اس معطر ٹکڑے سے خون کے نشان صاف کرو ۔ ابن ابی عمرو نے اپنی روایت میں کہا : اس کو مل کر خون کے نشانات پر لگا کر صاف کرو ۔
وہیب نے کہا : ہمیں منصور نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہوئے بیان کیا کہ ایک عورت نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ میں پاکیزگی ( کے حصول ) کے لیے کیسے غسل کروں؟ تو آپ نے فرمایا : ’’کستوری سے معطر کپڑے کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ پھر سفیان کی طرح حدیث بیان کی ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابراہیم بن مہاجر سے حدیث سنائی ، انہوں نےکہا : میں نے صفیہ سے سنا وہ حضرت عائشہؓ سے بیان کرتی تھیں کہ اسما ( بنت کشل انصاریہ ) ؓ نے نبی ﷺ سے غسل حیض کےبارے میں سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : ’’ایک عورت اپنا پانی او ربیری کے پتے لے کر اچھی طرح پاکیزگی حاصل کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اس کو اچھی طرح ملے یہاں تک کہ بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے اوپر پانی ڈالے ، پھر کستوری لگا کپڑے یا روئی کا ٹکڑا لے کر اس سے پاکیزگی حاصل کرے ۔ ‘ ‘ ‘ تو اسماء نے کہا : اس سے پاکیزگی کیسے حاصل کروں؟ آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ ! اسے پاکیزگی حاصل کرو ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہؓ نے کہا : ( جیسے وہ اس بات کو چھپا رہی ہوں ) ’’خون کے نشان پر لگا کر ۔ ‘ ‘ اور اس نے آپ سے غسل جنابت کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( غسل کرنے والی ) پانی لے کر اس سے خوب اچھی طرح وضو کرے ، پھر سر پر پانی ڈال کر اسے ملے حتی کہ سر کے بالوں کی جڑوں تک پہنچ جائے ، پھر اپنے آپ پر پانی ڈالے ۔ ‘ ‘ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : انصار کی عورتیں بہت خوب ہیں ، دین کو اچھی طرح سمجھنے سے شرم ا نہیں نہیں روکتی ۔
شعبہ کے ایک دوسرے شاگرد عبید اللہ کے والد معاذ بن معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی ( مذکورہ ) سند سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا : آپ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ !اس سے پاکیزگی حاصل کرو ‘ ‘ اور آپ نے اپنا چہرہ چھپا لیا ۔
(شعبہ کے استاد ) ابراہیم بن مہاجر سے ( شعبہ کے بجائے ) ابو احوص کی سند سے صفیہ بنت شیبہ کے حوالے سےحضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : اسماءبنت شکل ؓ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : اے اللہ کے رسول! جب ہم میں سے کوئی عورت غسل حیض کرے تو کیسے نہائے؟ اور ( اسی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں غسل جنابت کا ذکر نہیں کیا ۔
وکیع نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : فاطمہ بنت ابی حبیش نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میں ایک ایسی عورت ہوں جسے استحاضہ ہوتا ہے ، اس لیے میں پاک نہیں ہو سکتی تو کیا میں نماز چھوڑ دوں ؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ، یہ تو بس ایک رگ ( کا خون ) ہے حیض نہیں ہے ، لہٰذا جب حیض شروع ہو تو نماز چھوڑ دو اور جب حیض بند ہو جائے تو اپنے ( جسم ) سے خون دھو لیا کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
ہشام نے عروہ کے ( شاگرد وکیع کے بجائے ) دوسرے شاگرد وں ابو معاویہ ، جریر ، نمیر اور حماد بن زید کی سندوں سے بھی جو وکیع کی حدیث کی طرح اسی سندسے مروی ہے ، البتہ قتیبہ سے جریر کی روایت کے الفاظ یوں ہیں : فاطمہ بنت ابی حبیش بن عبدالمطلب بن اسد آئیں جو ہمارے خاندان کی ایک خاتون ہیں ۔ امام مسلم نے کہا : حماد بن زید کی حدیث میں ایک حرف زائد ہے جسے ہم نے ذکر نہیں کیا
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ سے اورانہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : ام حبیبہ بنت جحش ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ پوچھا او رکہا : مجھے استحاضہ ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ۔ تم غسل کرو ، پھر ( حیض کے ایام کے خاتمے پر ) نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ تو وہ ہر نماز کےوقت غسل کرتی تھیں ۔ ( امام ) لیث بن سعد نے کہا : ابن شہاب نے یہ نہیں کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ بنت جحش کو ہر نماز کے لیے غسل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ یہ ایسا کام تھا جو وہ خود کرتی تھیں ۔ لیث کے شاگردوں میں سے ابن رمح نے ابنة جحش کے الفاظ استعمال کیے اور ام احبیبہ نہیں کہا ۔
(لیث کے بجائے ) عمرو بن حارث نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عروہ بن زبیر اورعمرہ بنت عبدالرحمن سے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی زوجہ عائشہ ؓ سے روایت کی کہ ام حبیبہ بنت جحش رسول اللہ ﷺ کی خواہر نسبتی کو ، جو ( ام المومنین زینب بن جحش کی بہن اور ) عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، سات سال تک استحاضہ کا عارضہ لاحق رہا ۔ انہو ں نے ا س کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے فتویٰ دریافت کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’یہ حیض ( کا خون ) نہیں بلکہ یہ ایک رگ ( کا خون ) ہے ، لہٰذا تم غسل کرو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘ عائشہ ؓ نے کہا : وہ اپنی بہن زینب بن جحش ؓ کے حجرے میں ایک بڑے تشت ( ٹب ) میں غسل کرتیں تو پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی ۔ ابن شہاب نے کہا : میں یہ حدیث ابو بکر بن عبدالرحمن بن حارث کوسنائی تو انہوں نے کہا : اللہ تعالیٰ ہند پر رحم فرمائے! کاش وہ بھی یہ فتویٰ سن لیتیں ۔ اللہ کی قسم ! وہ اس بات پر روتی رہتی تھیں کہ استحاضے کی وجہ سے وہ نماز نہیں پڑھ سکتی تھیں ۔
ابراہیم ، یعنی ابن سعد نے ابن شہاب کے حوالے سے خبر دی ، انہوں نے عمرہ بنت عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نےفرمایا : ام حبیبہ بنت جحش ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور وہ سات سال تک استحاضے کے عارضے میں مبتلا رہیں ۔ ابراہیم بن سعد کی باقی حدیث’’پانی پر خون کی سرخی غالب آ جاتی تھی ‘ ‘ تک عمرو بن حارث کی سابقہ روایت کی طرح ہے ، اس کے بعد کا حصہ انہوں نے ذکر نہیں کیا ۔
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ بنت جحش سات سال تک استحاضے میں مبتلا رہیں ( آگے باقی ) دوسرے راویوں کی حدیث کی طرح ۔
یزید بن ابی حبیب نے جعفر سے ، انہوں نے عراک سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی ، کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے خون کے بارے میں سوال کیا ۔ حضرت عائشہؓ نے بتایا : میں نے اس کا ٹب خون سے بھرادیکھا تھا ۔ تو رسول اللہ ﷺنے اس سے فرمایا : ’’تمہیں پہلے جتنا وقت حیض ( نماز سے ) روکتا تھا اتنا عرصہ رکی رہو ، پھر نہالو اور نماز پڑھو ۔ ‘ ‘
اسحاق کے والد بکر بن مضر نے جعفر بن ربیعہ سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ام حبیبہ بنت جحش نے ، جو عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، رسول اللہ ﷺ سے خون ( استحاضہ ) کی شکایت کی تو آپ نے ان سے فرمایا : ’’جتنے دن تمہیں حیض روکتا تھا اتنے دن توقف کرو ، پھر نہالو ۔ ‘ ‘ تو وہ ہر نماز کے لیے نہایا کرتی تھیں ۔
نے یزید رشک سے ، انہوں نے معاذہ سے روایت کی کہ ایک عورت نےحضرت عائشہ ؓ سے پوچھا : کیا ایک عورت ایام حیض کی نمازوں کی قضادے کی ؟ تو عائشہ ؓ نے پوچھا : کیا توحروریہ ( خوارج میں سے ) ہے؟ رسول اللہ ﷺ کے عہد میں جب ہم میں سے کسی کو حیض آتا تھا تو اسے ( نمازوں کی ) قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یزید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے معاذہ سے سنا کہ انہوں نےحضرت عائشہ ؓ سے سوال کیا : کیا حائضہ نماز کی قضادے؟ عائشہ ؓ نے کہا : کیا تو حروریہ ( خوارج میں سے ) ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کی ازواج کو حیض آتا تھا تو کیاآپ نے انہیں ( فوت شدہ نمازوں کے ) بدلے میں ادا کرنے کاحکم دیا؟ محمد بن جعفرنے کہا : ان کا مطلب قضا دینے سے تھا ۔ <عربی> </عربی>
عاصم نے معاذہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عائشہ ؓ سے سوال کیا ، میں نے کہا : حائضہ عورت کا یہ حال کیوں ہے کہ وہ روزوں کی قضا دیتی ہے نماز کی نہیں ؟ انہوں نے فرمایا : کیا تم حروریہ ہو ؟ میں نے عرض کی : میں حروریہ نہیں ، ( صرف ) پوچھنا چاہتی ہوں ۔ انہوں نے فرمایا : ہمیں بھی حیض آتا تھا تو ہمیں روزوں کی قضا دینے کا حکم دیا جاتا تھا ، نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا ۔
ابونضر سے روایت ہے کہ حضرت ام ہانی بنت ابی طالب ؓ کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے خبر دی کہ انہوں نے ام ہانی ؓ سے سنا ، وہ کہتی تھی کہ میں فتح مکہ کے سال رسول اللہ ﷺ کے پاس گئی ، میں نے آپ کو غسل کرتے ہوئے پایا ، آپ کی بیٹی فاطمہ ؓ نے ایک کپڑے کے ذریعے سے آپ ( کے آگے ) پردہ بنایا ہوا تھا ۔
یزید بن ابی حبیب نے سعید بن ابی ہند سے روایت کی کہ عقیل بن ابی طالب کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے ان سے حدیث بیان کی کہ ام ہانی بنت ابی طالبؓ نے انہیں بتایا کہ جس سال مکہ فتح ہوا وہ ےپ کے پاس حاضر ہوئیں ، آپ مکہ کے بالائی حصے میں تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نہانے کےلیے اٹھے تو فاطمہ ؓ نےآپ کے آگے پردہ تان دیا ، پھر ( غسل کے بعد ) آپ نے اپنا کپڑا لے کر اپنے گرد لپیٹا ، پھر آٹھ رکعتیں چاشت کی نفل پڑھیں ۔
سعید بن ابی ہند کے ایک اور شاگرد ولید بن کثیر نے اسی سند سےحدیث بیان کی اور یہ الفاظ کہے : تو آپ کی بیٹی حضرت فاطمہ ؓ نے آپ کے کپڑے کے ذریعے سے آپ کے لیے اوٹ بنا دی ۔ آپ جب غسل کے چکے تو وہی کپڑا لیا ، اسے اپنے گرد لپیٹا ، پھر کھڑے ہو کر آٹھ رکعات نماز ادا کی ، یہ چاشت کا وقت تھا ۔
ابن عباس رضی اللہ عنہ نے حضرت میمونہ ؓ سے روایت کی ، انۂں نے کہا : میں نے نبی اکرمﷺ ( کے غسل ) کے لیے پانی رکھا اور آپ کو پردہ مہیاکیا تو آپ نے غسل فرمایا ۔
زید نےحباب نے ضحاک بن عثمان سے روایت کی ، کہا : مجھے زید بن اسلم نے خبر دی ، انہوں نے عبد الرحمن بن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مرد ، مردکا ستر نہ دیکھے اور عورت ، عورت کا ستر نہ دیکھے ۔ مرد ، مرد کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو اور عورت ، عورت کے ساتھ ایک کپڑے میں نہ ہو ۔ ‘ ‘
مذکورہ روایت کو امام مسلم کو دور اور اساتذہ ہارون بن عبداللہ اور محمد بن رافع دونوں نے ابن ابی فدیک سے اور ابن ابی فدیک نے اسے ضحاک بن عثمان کی مذکورہ سند کے ساتھ بیان کیا ۔ ان دونوں ( ہارون ومحمد ) نے عورۃ کی جگہ عرية الرجل اور عرية المرأة کے الفاظ روایت کیے ۔ ( معنی ایک ہے ۔)
ہمام بن منبہ سے روایت ہے : کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ ﷺ سے ( نقل کرتے ہوئے سنائیں ، انہوں نےمتعدد احادیث بیان کیں ان میں سے ایک یہ ہے : رسول اللہﷺنے فرمایا : ’’نبی اسرائیل بے لباس ہوکر ، اس طرح نہاتے تھے کہ ایک دوسرے کا ستر دیکھ رہے ہوتے اورموسیٰ علیہ السلام اکیلے نہایا کرتے تھے ۔ بنواسرائیل کہنے لگے : اللہ کی قسم !موسیٰ علیہ السلام ہمارے محض اس لیے نہیں نہاتے کہ ان کے خصیتیں پھولے ہوئےہیں ۔ ‘ ‘ آپ نے فرمایا : ’’موسیٰ علیہ السلام ایک دفعہ نہانے کے لیے گئے تو اپنے کپڑے ایک پتھر پر رکھ دیے ، پتھر آپ کے کپڑے لے کر بھاگ کھڑا ہوا ، موسیٰ علیہ السلام اس کے پیچھے یہ کہتے ہوئے سر پٹ دوڑ پڑے : او پتھر !میرے کپڑے ، اوپتھر ! میرے کپڑے ، یہاں تک کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کے ستر کو دیکھ لیا اورکہنے لگے : اللہ کی قسم ! موسیٰ علیہ السلام کو تو کوئی بیماری نہیں ہے ، جب موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ لیا گیا تو پتھر ٹھہر گیا ، موسیٰ علیہ السلام نے اپنے کپڑے پہنے اور پتھر کو مارنے لگے ۔ ‘ ‘ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! پتھر پر چھ یا سات نشان تھے ، یہ پتھر کو موسیٰ علیہ السلام کی مار تھی ۔)
اسحاق بن ابراہیم حنظلی اور محمد بن حاتم نے محمد بن بکر سے روایت کی ، دونوں نےکہا : ہمیں ابن جریج نےخبر دی ، نیز اسحاق بن منصور اور محمد بن رافع نے ( اور یہ الفاظ ان دونوں کے ہیں ) عبد الرزاق کے حوالے سے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں ( ابن جریج ) نے کہا : مجھے عمرو بن دینار نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب کعبہ تعمیر کیا گیا توعبا رضی اللہ عنہ اور نبی ﷺ پتھر ڈھونے لگے ، حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺ سے کہا : پتھروں سے حفاظت کے لیے اپنا تہبند اٹھا کر کندھے پر رکھ لیجیے ۔ آپ نے ایسا کیا تو آپ زمین پر گر گئے اورآنکھیں ( اوپر ہو کر ) آسمان پر ٹک گئیں ، پھر آپ اٹھے اور کہا : ’’میرا تہبند ، میرا تہبند ۔ ‘ ‘ تو آپ کا تہبند آپ کو کس کر باندھ دیا گیا ۔ ابن رافع کی روایت میں على رقبتك ( اپنی گردن پر ) کے الفاظ ہیں ، انہوں علی عاتقک ( اپنے کندھے پر ) نہیں کہا ۔
زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، حدیث بیان کر رہ تھے کہ رسول اللہ ﷺ لوگوں کے ساتھ کعبے کے لیے پتھر ڈھو رہے تھے اور آپ کا تہبند جسم پر تھا ، اس موقع پر آپ کے چچا عباس رضی اللہ عنہ نے آپ سے کہا : اے بھتیجے ! بہتر ہو گا کہ تم اپنا تہبند کھول دور اور اسے اپنے مونڈھے پر پتھروں کے نیچے رکھ لو ۔ جابر نےکہا : آپ نے اسے کھول کر اپنے مونڈھے پر رکھ لیا تو آپ کو غش کھا کر گر گئے ۔ جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اس دن کے بعد آپ کو کبھی برہنہ نہیں دیکھا گیا ۔
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : میں ایک بھاری پتھر اٹھانے ہوئے آیا اور میں نے ایک ہلکا سے تہبند باندھا ہوا تھا ، کہا : تو میرا تہبند کھل گیا اور پتھر میرے پاس تھا ۔ میں اس ( پتھر ) کے نیچے نہ رکھ سکا حتی کہ اسے اس کی جگہ پہنچا دیا ۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’واپس جا کر اپنا کپڑا پہنو اور ننگے نہ چلا کرو ۔ ‘ ‘
شیبان بن فروخ اور عبداللہ بن محمد بن اسماء ضبعی نے کہا : ہمیں مہدی بن میمون نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں محمد بن عبداللہ بن ابی یعقوب نے حسن بن علی کے آزاد کر دہ غلام حسن بن سعد کے حوالےسے حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ، پھر مجھے ایک راز کی بات بتائی جو میں کسی شخص کو نہیں بتاؤں گا ، قضائے حاجت کے لیے آپ کی محبوب ترین اوٹ ٹیلایا کھجور کا جھنڈ تھا ۔ ( حدیث کے ایک راوی محمد ) ابن اسماء نے اپنی حدیث میں کہا : حائش نخل سے مراد حائط نخل ’’کھجور کا باغ یا جھنڈ ‘ ‘ ہے ۔
عبد الرحمن بن ابی سعید خدری نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ میں سوموار کے دن رسول اللہ ﷺ کےساتھ قباء گیا ، جب ہم بنو سالم کے محلے میں پہنچے تو رسول اللہ ﷺ عتبان رضی اللہ عنہ کے دروازے پر رک گئے اور اسے آواز دی تو وہ اپنا تہبند گھسیٹتےہوئے نکلے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ہم نے اس آدمی کو جلدی میں ڈال دیا ۔ ‘ ‘ عتبان رضی اللہ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ کی اس مرد کے بارے میں کیا رائے ہے جو بیوی سے جلدی ہٹا دیا جائے ، حالانکہ اس نے منی خارج نہ کی تو اسے کیا کرنا چاہیے ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پانی ، صرف پانی سے ہے ۔ ‘ ‘
ابو سلمہ بن عبد الرحمان نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’پانی ، بس پانی سے ہے
ابو علاء بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک حدیث دوسری کو منسوخ کر دیتی ہے ، جیسے قرآن کی ایک آیت دوسری آیت کو منسوخ کر دیتی ہے ۔ ( یعنی اس مفہوم کی احادیث ، آپ ہی کے اس فرمان کے ذریعے سے منسوخ ہو چکی ہیں جو بعد میں آئے گا ۔)
ابوبکر بن ابی شیبہ ، محمد بن مثنی اور ابن بشار نےمحمد بن جعفر غندر سے ، انہوں نے شعبہ سے ، انہوں نے حکم کے حوالے سے ذکوان سے اور انہوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک انصاری آدمی کے ( مکان کے ) پاس سے گزرے تو سے بلوایا ، وہ اس حال میں نکلا کہ اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا تو آپ نے فرمایا : ’’ شاید ہم نے تمہیں جلدی میں ڈالا ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : جی ہاں ، اے اللہ کے رسول ! آپ نے فرمایا : ’’ جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تم انزال نہ کر سکو تو تم پر غسل لازم نہیں ہے ، البتہ وضو ضروری ہے ۔ ‘ ‘ ابن بشار نے کہا : جب تمہیں جلدی میں ڈال دیا جائے یا تجھے ( انزال سے ) روک دیا جائے ۔
حماد اور ابو معاویہ نےہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنےوالد سے ، انہوں نے ابو ایوب سے ، انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں رسول اللہ ﷺ سے اس مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی بیوی کے پاس جاتا ہے ، پھر اسے انزال نہیں ہوتا ۔ تو آپ نے فرمایا : ’’ بیوی سے اسے جو کچھ لگ جائے اس کو دھو ڈالے ، پھر وضو کر کے نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘
شعبہ نے ہشام بن عروہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کےساتھ حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سےروایت کی ، انہوں نے رسول اللہ ﷺسے روایت کی کہ آپ نے اس مرد کے بارے میں جواپنی بیوی کے پاس جاتا ہے پھر اسے انزال نہیں ہوتا ، فرمایا : ’’ وہ اپنے عضو کو دھو لے اور وضو کرے ۔ ‘ ‘
ابو سلمہ نے عطاء بن یسار سے خبر دی کہ انہیں حضرت زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ نےبیان کیا کہ انہوں نے حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سےپوچھا : آپ کی کیا رائے ہے ، جب کسی مرد نے اپنی بیوی سے مجامعت کی اور اس نے منی خارج نہ کی ؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ( جواب میں ) کہا : نماز کے وضو کی طرح وضو کرے اور اپنےعضو کو دھولے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی ۔
ابوسلمہ نے عطاء بن یسار کےبجائے عروہ بن زبیر سے اور انہوں نےابو ایوب رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ انہوں نے یہ بات رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی ۔
زہیر بن حرب ، ابو غسان مسمعی ، محمد بن مثنیٰ اور ابن بشار نے کہا : ہم سے معاذ بن ہشام نے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے قتادہ اور مطر نے حسن سے ، انہوں نے ابو رافع سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے نبیﷺ نے فرمایا : ’’ جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا شاخوں کے درمیان بیٹھے ، پھر اس سے مجامعت کرے تو اس پر غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘ مطر کی حدیث میں یہ اضافہ ہے : ’’اگرچہ انزال نہ ہو ۔ ‘ ‘ اور امام مسلم کے اساتذہ میں سے ( صرف ) زہیر نے شعبہا کی جگہ أشعبها کہا ۔ ( دونوں ایک ہی لفظ شعبہ ( شاخ ) کی جمع ہیں ۔
شعبہ نے قتادہ سے باقی ماندہ اسی سند سے روایت کی ۔ فرق یہ ہے کہ شعبہ کی اس روایت میں ثم جهدها کی جگہ ثم اجتهد ( پھر سعی کی ) ہےت اور و إن لم ينزل ( اگرچہ انزال نہ ہو ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔
دو مختلف سندوں کے ساتھ ابو بردہ کے حوالے سے ( ان کے والد ) حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اس مسئلے میں مہاجرین اور انصار کے ایک گروہ نے اختلاف کیا ۔ انصار نے کہا : غسل صرف ( منی کے ) زور سے نکلنے یا پانی ( کے انزال ) سے فرض ہوتا ہے او رمہاجرین نے کہا : بلکہ جب اختلاط ہو تو غسل واجب ہو جاتا ہے ۔ ( ابو بردہ نے ) کہا : حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تمہیں اس مسئلے سے چھٹکارا دلاتا ہوں ، میں اٹھا اور حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضری کی اجازت طلب کی ، مجھے اجازت دے دی گئی تو میں نے کہا : میری ماں ، یا کہا : ام المؤمنین! میں آپ سے ایک چیز کے بارے میں پوچھنا چاہتا ھوں او رمجھے آپ سے شرم ( بھی ) آر ہی ہے ۔ تو انہوں نے کہا : جو بات تم اپنی اس ماں سے جس نے ( اپنے پیٹ سے ) تمہیں جنم دیا ، پوچھ سکتے تھے ، وہ مجھ سے پوچھناے میں شرم نہ کرو کیونکہ میں بھی تمہاری ماں ہوں ۔ میں نے کہا : تو کون سا ( کام ) غسل کو واجب کرتا ہے؟ انہوں نے کہا : تم ( اس مسئلے کے متعلق ) اس سے ملے ہو جو ( اس سے ) اچھی طرح باخبر ہے ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب وہ ( مرد ) اس ( عورت ) کی چا رشاخوں کے درمیان بیٹھا اور ختنے کی جگہ ختنے کی جگہ سے مَس ہوئی تمو غسل واجب ہو گیا ۔ ‘ ‘
ام کلثوم نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ ایک آدمی رسول اللہﷺ سے ایسے مرد کے بارے میں پوچھا جو اپنی اپنی بیوی سے صحبت کرتا ہے ، پھر انزال نہیں ہوتا ، کیا ان ( دونوں ) پر غسل ہے؟ اور ( اندر ) حضرت عائشہؓ بھی بیٹھی ہوئی تھیں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’میں اور یہ ( ہم دونوں میاں بیوی ) یہ کرتے ہیں ، پھر ہم ( دونوں ) نہاتے ہیں ۔ ‘ ‘
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ایسی چیز ( کے کھانے ) س وضو ( لازم ہو جاتا ) ہے جسے آگ نے چھوا ہو ۔ ‘ ‘
۔ عبد اللہ بن ابراہیم بن قارظ نے بتایا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مسجد میں وضو کرتے ہوئے پایا تو ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں تو پنیر کے ٹکڑوں کی بنا پر وضو کر رہا ہوں جنہیں میں نے کھایا ہے کیونکہ میں نے رسول اللہﷺ کو سنا ، آپ فرما رہے تھے : ایسی چیز سے وضو کرو جسے آگ نے چھوا ہو ۔ ‘ ‘
۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے سعید بن خالد بن عمرو بن عثمان نے ، جب میں اسے ( سابقہ سند سے ) یہ حدیث سنا رہا تھا ، بتایا کہ اس نے عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ایسی چیز ( کھانے ) سے وضو کے بارے میں پوچھا جسے آگ نے چھوا ہے ، تو عروہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے نبیﷺ کی اہلیہ حضرت عائشہؓ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ایسی چیز سے وضو کرو جسے آگ نے چھوا ہو
عطاء بن یسار نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے بکری کا شانہ تناول فرمایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
۔ محمد بن عمرو بن عطاء اور علی بن عبد اللہ بن عباس نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے گوشت والی ہڈی یا کچھ گوشت کھایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا یا پانی کو نہیں چھوا
ابراہیم بن سعد نے کہا : ہمیں زہری نے جعفر بن عمرو بن امیہ ضمیری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہﷺ کو ایک شانے سے ( گوشت ) کاٹ کر کھاتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
ابن شہاب زہری کے دوسر شاگرد عمرو بن حارث نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ عمرو بن امیہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہﷺ کو بکری کے ایک شانے سے ( گوشت ) کاٹتے ہوئے دیکھا ، پھر آپ نے اس میں سے کھایا ، پھر آپ کو نماز کی طرف بلایا گیا تو آپ کھڑے ہوئے اور چھری پھینک دی ، آپ نے نماز پڑھی اور وضو نہیں کیا ۔
بکیر بن اشج نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے مولیٰ کریب سے ، انہوں نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے ان کے ہاں شانے کا گوشت کھایا ، پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا ۔
یعقوب بن اشج نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب سے ، انہوں نے نبیﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ سے یہی حدیث بیان کی ہے ۔
حضرت ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ میں رسول اللہﷺ کے لیے بکری کے پیٹ ( کا گوشت ، جگر ، گردے وغیرہ ) بھونتا تھا ( آپ اسے کھاتے ) ، اس کے بعد آپﷺ نماز پڑھتے اور وضو نہ کرتے تھے ۔
۔ عقیل نے زہری سے ، انہوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبیﷺ نے دودھ نوش فرمایا : پھر پانی طلب کیا ، کلی کی اور فرمایا : یقیناً اس میں کچھ چکناہٹ ہے ۔ ‘ ‘
عمرو ، اوزاعی اور یونس سب نے عقیل والی سندکے ساتھ زہری سے اسی طرح روایت بیان کی ۔
محمد بن عمرو بن حلحلہ نے محمد بن عمرو بن عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ نے اپنے کپڑے زیب تن فرمائے ، پھر نماز کے لیے نکلے تو آپ کو روٹی اور گوشت کا تحفہ پیش کیا گیا ، آپ نے تین لقمے تناول فرمائے ، پھر لوگوں کو نماز پڑھائی اور پانی کو نہیں چھوا ۔
امام مسلم نے ایک دوسری سند سے ولید بن کثیر کے واسطے سے محمد بن عمرو بن عطاء سے روایت کی ، کہا : میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا .... اس کے بعد انہوں نے ابن حلحلہ کی روایت کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عباس ؓ موجود تھے اور یہ کہ انہوں نے ( ابن عباس ) نے صلى بالناس ( آپﷺ نے لوگوں کو نماز پڑھائی ) کے بجائے صلى ( آپﷺ نے نماز پڑھی ) کہا ۔
ابو کامل فضیل بن حسین جحدری نے کہا : ہمیں ابو عوانہ نے عثمان بن عبد اللہ بن موہب سے حدیث سنائی ، انہوں نے جعفر بن ابی ثور سے اور انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے رسول اللہﷺ سے پوچھا : کیا میں بکری کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : چاہو تو وضو کر لو اور چاہو تو نہ کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹ کے گوشت سے وضو کروں؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، اونٹ کے گوشت سے وضو کرو ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : کیا بکریوں کے باڑے میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ۔ ‘ ‘ اس نے کہا : اونٹوں کے بٹھانے ک جگہ میں نماز پڑھ لوں؟ آپ نے فرمایا : ’’نہیں ۔ ‘ ‘
سماک ، عثمان بن عبد اللہ بن موہب اور اشعث بن ابی شعثاء سب نے جعفر بن ابی ثور سے ، انہوں نے جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح ابو عوانہ سے ابو کامل نے روایت کی ۔
عمرو ناقد ، زہیر بن حرب اور ابو بکر بن ابی شیبہ نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) اور عباد بن تمیم سے اور انہوں نے ان ( عباد ) کے چچا سے روایت کی کہ نبیﷺ سے ایک آدمی کے حوالے سے شکایت کی گئی کہ اسے یہ خیال آتا رہتا ہے کہ وہ نماز کے دوران میں کوئی چیز محسوس کرتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : ’’ ( وہ نماز سے ) نہ ہٹے یہاں تک کہ کوئی آواز سنے یا کوئی بو محسوس کرے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور زہیر بن حرب نے اپنی روایت میں ( عباد بن تمیم کے چچا کے بارے میں ) بتایا کہ وہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ ہیں ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کو اپنے پیٹ میں کچھ محسوس ہو اور اسے شبہ ہو جائے کہ اس میں سے کچھ نکلا ہے یا نہیں تو ہر گز مسجد سے نہ نکلے یہاں تک کہ آواز سنے یا بو محسوس کر لے ۔ ‘ ‘
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔)
یحییٰ بن یحییٰ ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد او رابن ابی عمر سب نے سفیان بن عیینہ سے ، انہوں نے زہری سے ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : سیدہ میمونہ ؓ کی آزاد کردہ لونڈی کو صدقے میں بکری دی گئی ، وہ مر گئی ، رسول اللہﷺ اس کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس چمڑا کیوں نہ اتارا ، اس کو رنگ لیتے اور اس سے فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘ لوگوں نے بتایا : یہ مردار ہے ۔ آپ نے فرمایا : بس اس کا کھانا حرام ہے ۔ ‘ ‘ ابو بکر اور ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں عن ابن عباس ، عن میمونہ کہا ( سند میں روایت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آگے میمونہؓ کی طرف منسوب کی ۔)
۔ ابن شہاب کے ایک اور شاگرد صالح نے بھی اسی سند سے یونس کی حدیث کے ہم معنیٰ حدیث بیان کی ۔ 809 ۔ سفیان نے عمرو
سفیان نے عمرو سے ، انہوں نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہﷺ ایک مردہ پڑی ہوئی بکری کے پاس سے گزرے جو میمونہؓ کی باندی کو بطور صدقہ دی گئی تھی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’انہوں نے اس کے چمڑے کو کیوں نہ اتارا ، وہ اس کو رنگ لیتے اور فائدہ اٹھا لیتے! ‘ ‘
ابن جریج نے عمرو بن دینار سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت میمونہؓ نے انہیں بتایا کہ ایک بکری ، جو رسول اللہﷺ کی ایک بیوی کی تھی ، مر گئی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم نے اس کا چمڑا اتار کر اس سے فائدہ کیوں نہیں اٹھایا! ‘ ‘
عبد الملک بن ابی سلیمان نے عطاء کے حوالے سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ سیدہ میمونہؓ کی باندی کی ( مردہ ) بکری کے پاس سے گزرے تو آپ نے فرمایا : ’’تم نے اس کے چمڑے سے فائدہ کیوں نہ اٹھایا! ‘ ‘
سلیمان بن بلال نے زید بن اسلم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن وعلہ سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے حوالے سے خبر دی ، کہا : میں نے رسول اللہﷺ سے سنا ، آپ نے فرمایا : ’’جب چمڑے کو رنگ لیا جاتا ہے تو وہ پاک ہو جاتا ہے ۔ ‘ ‘
سفیان بن عیینہ ، عبد العزیز بن محمد اور سفیان ثوری نے مختلف سندوں کے ساتھ زید بن اسلم کی سابقہ سند کے ساتھ نبیﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ، یعنی یحییٰ بن یحییٰ کی حدیث کی طرح ۔
۔ یزید بن ابی حبیب نے ابو خیر سے روایت کی کہ میں نے علی بن وعلہ سبائی کو ایک پوستین ( چمڑے کا کوٹ ) پہنے ہوئے دیکھا ، میں نے اسے چھوا تو اس نے کہا : اسے کیوں چھوتے ہو؟ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا تھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں اور ہمارے ساتھ بربر اور مجوسی ہوتے ہیں ، ہمارے پاس مینڈھا لایا جاتا ہے جسے انہوں نے ذبح کیا ہوتا ہے اور ہم ان کے ذبح کیے ہوئے جانور نہیں کھاتے ، وہ ہمارے پاس مشکیزہ لاتے ہیں جس میں وہ چربی ڈالتے ہیں ۔ تو ابن عباسؓ نے جواب دیا : ہم نے رسول اللہﷺ سے اس کے بارے میں پوچھا تھا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
۔ جعفر بن ربیعہ نے ابو خیر سے روایت کی ، کہا : مجھ سے ابن وعلہ سبائی نے بیان کیا کہ میں نے عبد اللہ بن عباسؓ سے پوچھا : ہم مغرب میں ہوتے ہیں تو مجوسی ہمارے پاس پانی اور چربی کے مشکیزے لاتے ہیں ۔ انہوں نے کہا : پی لیا کرو ۔ میں نے پوچھا : کیا آپ اپنی رائےبتا رہے ہیں؟ ابن عباسؓ نے جواب دیا : میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے ہوئے سناے : ’’ اس کو رنگنا اس کو پاک کر دیتا ہے ۔ ‘ ‘
۔ عبد الرحمان بن قاسم ( بن محمد ) نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہﷺ کے ایک سفر میں آپ کے ساتھ نکلے ، جب ہم بیداء یا ذات الجیش کے مقام پر پہنچے تو میرا ہار ٹوٹ کر گر گیا ، رسول اللہﷺ اس کی تلاش کی خاطر ٹھہر گئے ، صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی آپ کے ساتھ رک گئے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر تھے نہ ان کے پاس پانی ( بچا ہوا ) تھا ۔ لوگ ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا : کیا آپ کو پتہ نہیں ، عائشہؓ نے کیا کیا ہے؟ رسول اللہﷺ اور آپ کے ساتھ ( دوسرے ) لوگوں کو روک رکھا ہے ، نہ وہ پانی ( والی جگہ ) پر ہیں اور نہ لوگوں کے پاس پانی بچا ہے ۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ تشریف لائے ( اس وقت ) رسول اللہﷺ میری ران پر سر رکھ کر سو چکے تھے اور کہا : تم نے رسول اللہﷺ کو اور آپ کے ساتھیوں کو روک رکھا ہے جبکہ نہ وہ پانی والی جگہ پر ہیں اور نہ ان کے پاس پانی ہے ۔ عائشہؓ نے فرمایا : حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مجھے ڈانٹا اور جو کچھ اللہ کو منظور رتھا کہا اور اپنے ہاتھ سے میری کوکھ میں کچوکے لگانے لگے ، مجھے صرف اس بات نے حرکت کرنے سے روکے رکھا کہ رسو ل اللہﷺ کا سر میری ران پر تھا ، رسول اللہﷺ سوئے رہے اور پانی کے بغیر ہی صبح ہو گی ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے تیمم کی آیت اتاری تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہ نے تیمم کیا ۔ اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ، جو نقباء میں سے تھے ، کہا : اے ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خاندان! یہ آپ کی پہلی برکت نہیں ہے ۔ حضرت عائشہؓ نے کہا : ہم نے اس اونٹ کو جس پر میں سوار تھی اٹھایا تو ہمیں اس کے نیچے سے ہار مل گیا ۔
ہشام کے والد عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہؓ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت اسماء ؓ سے عاریتاً ہار لیا ، وہ گم ہو گیا تو رسول اللہﷺ نے اپنے کچھ ساتھیوں کو اس کی تلاش کے لیے بھیجا ۔ ان کی نماز کا وقت آ گیا تو انہوں نے بغیر وضو کے نماز پڑھ لی اور جب نبی اکرمﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ سے اس بات کی شکایت کی ، ( اس پر ) تیمم کی آیت اتری تو اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ نے ( حضرت عائشہؓ سے ) کہا : اللہ آپ کو بہترین جزا دے ، اللہ کی قسم! آپ کو کبھی کوئی مشکل معاملہ پیش نہیں آیا مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اس سے نکلنے کی سبیل پیدا کر دی اور اسی میں مسلمانوں کے لیے برکت رکھ کر دی ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے شقیق سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عبد اللہ ( بن مسعود ) اور ابو موسیٰ ؓ کے بیٹھا ہوا تھا ۔ حضرت ابو موسیٰ نے پوچھا : ابو عبد الرحمن! بتائیےاگر انسان حالت جنابت میں ہو اور ایک ماہ تک اسے پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے؟ اس پر حضرت عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا : وہ تیمم نہ کرے ، چاہے اسے ایک ماہ تک پانی نہ ملے ۔ اس پر ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : تو سورہ مائدہ کی اس آیت کا کیا مطلب ہے : ’’تم پانی نہ پاؤ تو پاک مٹی سے تیمم کرو؟ ‘ ‘ اس پر عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اگر انہیں اس آیت کی بنا پر رخصت دے دی گئی تو خطرہ ہے جب انہیں پانی ٹھنڈا محسوس ہو گا تو وہ مٹی سے تیمم کر لیں گے ۔ ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : کیا آپ نے عمار کی یہ بات نہیں سنی کہ مجھے رسول اللہﷺ نے کسی کام کے لیے بھیجا ، مجھے جنابت ہو گئی اور پانی نہ ملا تو میں چوپائے کی طرح مٹی میں لوٹ پوٹ ہوا ( اور نماز پڑھ لی ) ، پھر میں نبی اکرمﷺ کے پاس آیا اور آپ سے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اپنے دونوں ہاتھوں سے اس طرح کرنا کافی تھا ۔ ‘ ‘ پھر آپﷺ نے اپنے دونوں ہاتھ ایک بار زمین پر مارے ، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں پر اور اپنی دونوں ہتھیلیوں کی پشت پر اور اپنے چہرے پر ملا ۔ تو عبد اللہ ( بن مسعود رضی اللہ عنہ ) نے جواب دیا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ عمار کی بات پر مطمئن نہیں ہوئے تھے ۔ ( تفصیل آگے حدیث : 820 میں ہے ۔)
عبد الواحد نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے حدیث بیان کی ، کہا : ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے پوچھا ... پھر ابو معاویہ کی ( سابقہ ) حدیث پورے واقعے سمیت بیان کی ، مگر یہ کہ انہوں نے کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’ تمہارے لیے اس طرح کر لینا ہی کافی تھا ۔ ‘ ‘ اور اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارے ، ( پھر ) اپنے دونوں ہاتھ جھاڑے اور اپنے چہرے اور ہتھیلیوں پر مسح کیا ۔
۔ یحییٰ بن سعید قطان نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھ سے حکم نے ذر ( بن عبد اللہ بن زرارہ ) سے ، انہوں نے سعید بن عبد الرحمن بن ابزیٰ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ تو انہوں نے جواب دیا : نماز نہ پڑھ ۔ اس پر حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : امیر المؤمنین! کیا آپ کو یاد نہیں ، جب میں اور آپ ایک فوجی دستے میں تھے تو ہم جنبی ہو گئے اور پانی نہ ملا تو آپ نے نماز نہ پڑھی اور میں مٹی میں لوٹ پوٹ ہو گیا اور نماز پڑھ لی تو نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’تمہارے لیے بس اتنا ہی کافی تھا کہ اپنے دونوں ہاتھ زمین پر مارتے ، پھر ان میں پھونک مار کر ان دونوں سے اپنے چہرے اور اپنی ہتھیلیوں کا مسح کر لیتے ۔ ‘ ‘ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اے عمار! اللہ سے ڈرو ۔ ( عمار رضی اللہ عنہ نے ) جواب دیا : اگر آپ چاہتے ہیں تو میں یہ واقعہ بیان نہیں کرتا ۔ حکم نے کہا : یہی روایت مجھے ( ذر کے واسطے کے بغیر ) ابن عبد الرحمن بن ابزیٰ نے اپنے والد سے براہ راست بھی سنائی جو بعینہ ذر کی حدیث کی طرح تھی ۔ کہا : مجھے سلمہ نے ذر کے حوالے سے حکم کی بیان کردہ سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : آپ نے جس چیز ( کی ذمہ داری ) کو اٹھا لیا ہے ہم اسے آپ ہی پر ڈالتے ہیں ( آپ اپنے اعتماد پر یہ روایت بیان کر سکتے ہیں ۔)
نضر بن شمیل نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور پوچھا : میں جنبی ہو گیا ہوں اور مجھے پانی نہیں ملا ۔ اس کے بعد ( مذکورہ بالا ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ عمار رضی اللہ عنہ نے کہا : اے امیر المؤمنین! اگر آپ چاہیں تو آپ کے اس حق کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر رکھا ہے ، میں یہ حدیث کسی کو نہ سناؤں گا ۔ اور ( شعبہ نے یہاں ) مجھے سلمہ نے ذر حدیث بیان کی ( کے الفاظ ) کا ذکر نہیں کیا ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام عمیر بیان کرتے ہیں کہ میں اور عبد الرحمن بن یسار ، جو نبی اکرمﷺ کی زوجہ حضرت میمونہؓ کے آزاد کردہ غلام تھے ، ابو جہم بن حارث بن صمہ انصاری کے پاس پہنچے تو ابو جہم رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہﷺ بئر جمل ( نامی جگہ ) سے تشریف لائے تو آپ کو ایک آدمی ملا ، اس نے آپ کو سلام کہا تو آپ نے اس کے سلام کا جواب نہ دیا حتیٰ کہ آپ ایک دیوار کی طرف بڑھے اور آپ نے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مسح کیا ، پھر اس کے سلام کا جواب دیا ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، ایک آدمی گزرا جبکہ رسول اللہﷺ پیشاب کر رہے تھے ، تو اس نے سلام کہا ، آپ ﷺ نے اسے سلام کا جواب نہ دیا ۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جنابت کی حالت میں تھے کہ رسول اللہﷺ مدینہ کے راستوں میں میں سے کسی راستے پر انہیں ملے تو وہ کھسک گئے اور جا کر غسل کیا ۔ نبیﷺ نے انہیں تلاش کروایا ۔ جب وہ آپ کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا : ’’ابو ہریرہ! تم کہاں تھے؟ ‘ ‘ انہوں نے عرض کی! اے اللہ کے رسولﷺ! جب آپ مجھے ملے تو میں جنابت کی حالت میں تھا ، میں نے غسل کیے بغیر آپ کے پاس بیٹھنا پسند نہ کیا ۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’سبحان اللہ! مومن ناپاک ( نجس ) نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘ ( یعنی اس طرح ناپاک نہیں ہوتا کہ اسے کوئی چھو جائے ، قریب بیٹھے یا اس سے ہاتھ ملائے تو وہ بھی ناپاک ہو جائے ۔)
حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ انہیں ملے جبکہ وہ جنبی تھے تو وہ آپﷺ سے دور ہٹ گئے اور غسل کیا ، پھر آ کر عرض کی کہ میں جنبی تھا ۔ آپﷺ نے فرمایا : ’’مسلمان ناپاک نہیں ہوتا ۔ ‘ ‘
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ اپنے تمام اوقات میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے تھے
۔ حماد نے عمرو بن سے ، انہوں نے سعید بن حویرث سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کہ نبی اکرمﷺ ( ہاتھ دھو کر ) بیت الخلا سے نکلے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، لوگوں نے آپ سے وضو کا تذکرہ کیا تو آپ نے فرمایا : ’’ ( کیا ) میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
سفیان بن عیینہ نے عمرو سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہتے تھے کہ ہم نبی اکرمﷺ کے پاس تھے کہ آپ قضائے حاجت کی جگہ سے ( ہاتھ دھو کر ) آئے تو آپ کے سامنے کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گے؟ آپ نے جواب دیا : کس لیے؟ کیا مجھے نماز پڑھنی ہے کہ وضو کروں؟ ‘ ‘
محمد بن مسلم طائفی نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے آل سائب کے آزاد کردہ غلام سعید بن حویرث سے روایت کی کہ اس نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کو ( یہ ) کہتے ہوئے سنا : اللہ کے رسولﷺ قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے ، جب آپ آئے تو آپ کو کھانا پیش کیا گیا ، آپ سے عرض کی گئی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ وضو نہیں فرمائیں گئے؟ آپ نے جواب دیا : ’’کس لیے؟ کیا نماز کے لیے؟ ‘ ‘
اس نے سعید بن حویرث سے سنا ہے ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے حماد بن زید اور ہشیم سے ، ان دونوں نے عبد العزیز بن صہیب سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ( حماد کی حدیث میں ہے : رسول اللہﷺ جب بیت الخلاء میں داخل ہوتے اور ہشیم کے الفاظ ہیں : جب کسی اوٹ والی جگہ میں داخل ہوتے ) تو فرماتے : ’’اے اللہ! میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے تیری پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
اسماعیل بن علیہ نے اسی مذکورہ بالا سند کے ساتھ عبد العزیز سے روایت بیان کی اور ( دعا کے ) یہ الفاظ بیان کیے : أعوذ بالله من الخبث والخبائث ’’میں نر اور مادہ دونوں قسم کی خبیث مخلوق سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ ‘ ‘
اسماعیل بن علیہ اور عبد الوارث دونوں نے عبد العزیز سے ، انہوں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی اور رسول اللہﷺ ایک آدمی سے بہت قریب ہو کر آہستہ آہستہ بات کر رہے تھے ۔ ( عبد الوارث کی روایت میں ورسول الله ﷺ نجي لرجل کے بجائے ونبی اللہ ﷺ یناجی الرجل آپ ایک آدمی سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہے تھے ہے ۔ مفہوم ایک ہے ) تو آپ نماز کے لیے کھڑے نہیں ہوئے یہاں تک کہ لوگ ( بیٹھےبیٹھے ) سو گئے ۔
شعبہ نے عبد العزیز بن صہیب سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : نماز کے لیے تکبیر کہہ دی گئی جبکہ رسول اللہﷺ ایک آدمی سے شرگوشی فرما رہے تھے ۔ آپ اس سے سرگوشی فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ کے ساتھی ( بیٹھے بیٹھے ) سو گئے ، اس کےبعد آپ آئے اور انہیں نماز پڑھائی ۔
شعبہ نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہﷺ کے صحابہ ( بیٹھے بیٹھے ) سو جاتے تھے ، پھر وضو کیے بغیر نماز پڑھ لیتے ۔ ( شعبہ کہتے ہیں : ) میں نے ( قتادہ سے ) پوچھا : آپ نے یہ حدیث انس رضی اللہ عنہ سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا : ہاں! اللہ کی قسم
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : عشاء کی نماز کے لیے اقامت کہہ دی گئی تو ایک آدمی نے ( رسول اللہ سے ) کہا : میرا ایک کام ہے ، چنانچہ آپﷺ کھڑے ہو کر اس سے سرگوشی کرنے لگے حتیٰ کہ لوگ یا کچھ لوگ ( بیٹھے بیٹھے ) سو گئے ، پھر سب نے نماز پڑھی ۔