آل اسلام لائبریری

2 - کتاب الطہارت

1

حضرت ابو مالک اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’پاکیزگی نصف ایمان ہے ۔ الحمد لله ترازو کو بھر دیتا ہے ۔ سبحان الله اور الحمد لله آسمانوں سے زمین تک کی وسعت کو بھر دیتے ہیں ۔ نماز نور ہے ۔ صدقہ دلیل ہے ۔ صبر روشنی ہے ۔ قرآن تمہارے حق میں یا تمہارے خلاف حجت ہے ہر انسان دن کا آغاز کرتا ہے تو ( کچھ اعمال کے عوض ) اپنا سودا کرتا ہے ، پھر یا تو خود آزاد کرنےوالا ہوتا ہے خود کو تباہ کرنے والا ۔ ‘ ‘

2

ابو عوانہ نے سماک بن حرب سےانہوں نے مصعب بن سعد سے روایت کی کہ عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ابن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس ان کی عیادت کے لیے گےوہ بیمار تھے ابن عامر نے کہا اے ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کیا آپ میرے لیے اللہ سے دعا کریں گےانہوں نے کہا میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ ﷺ نے فرمایا نماز پاکیزگی کے بغیر قبول نہیں ہوتی اور صدقہ ناجائز طریقے سے حاصل کیے ہوئے مال سے قبول نہیں ہوتااور آپ بصرہ کے حاکم رہ چکے ہیں ( مبادہ کہ آپ کے پاس کوئی ایسا مال آ گیا ہوگا)

3

شعبہ ، زائدہ اور اسرائیل سب نے سماک بن حرب سے اسی اسناد کے ساتھ رسول اللہ ﷺ سے یہی حدیث روایت کی ہے ۔

4

وہب بن منبہ کے بھائی ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے محمدرسول اللہ ﷺ سے ہمیں سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث کا تذکرہ کیا ، ان میں سے یہ بھی تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے جب کوئی بے وضو ہو جائے ، تو اس کی نماز قبول نہیں ہوتی یہاں تک کہ وضو کرے ۔ ‘ ‘

5

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی کہ عطاء بن یزید نے انہیں خبر دی کہ حمران نے ، جوحضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام ہیں ، انہیں بتایا کہ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے وضوکے لیے پانی منگوایا اور وضو کیا تو دونوں ہاتھوں کو تین بار دھویا ، پھر کلی کی اور ( ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار چہرہ دھویا ، پھر تین بار دایاں بازو کہنیوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں دھویا ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر تین بار اپنا دایاں پاؤں ٹخنوں تک دھویا ، پھر اسی طرح بایاں پاؤں دھویا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا تھا کہ آپ نے اسی طرح وضو کیا جس طرح میں نے اب کیا ہے ، پھر رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس شخص نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر اٹھ کر دو رکعتیں ادا کیں ، ان دونوں کے دوران میں اپنے آپ سے باتیں نہ کیں ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘ ابن شہاب نے کہا : ہمارے علماء ( تابعین ) کہا کرتے تھے کہ یہ کامل ترین وضو ہے جو کوئی انسان نماز کے لیے کرتا ہے ۔

6

یعقوب کے والد ابراہیم ( بن سعد ) نے ابن شہاب سے باقی ماندہ سند کے ساتھ حمران سے روایت کی کہ انہوں نے عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو دیکھا ، انہوں نے پانی کا برتن منگوایا ، پھر اپنے ہاتھوں پر تین بار پانی انڈیلا اور ان کو دھویا ، پھر اپنا دایاں ہاتھ برتن میں ڈالا اور کلی کی اور ( ناک میں پانی ڈال کر ) ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور تین بار اپنے دونوں بازو کہنیوں تک دھوئے ، پھر سر کا مسح کیا ، پھر دو رکعتیں پڑھیں جن میں ( وہ ) اپنے آپ سے باتیں نہ کر رہا تھا ، اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘

7

جریر نے ہشام بن عروہ سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انہوں نے حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزادکردہ غلام حمران سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ مسجد کے آنگن میں تھے اور عصر کے وقت ان کے پاس مؤذن آیا تو انہوں نے وضو کے لیے پانی منگایا ، وضوکیا ، پھر فرمایا : اللہ کی قسم! میں تمہیں ایک حدیث سناتا ہوں ، اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں نہ سناتا ، میں نے رسول اللہ ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’ جومسلمان وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جو اس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں گے ۔ ‘ ‘

8

ہشام سے ( جریر کے بجائے ) ابو اسامہ ، وکیع اور سفیان کی سندوں سے بھی یہ روایت بیان کی گئی ۔ ان میں ابو اسامہ کی روایت کے الفاظ اس طرح ہیں : ’’اچھی طرح وضو کرے اور فرض نماز ادا کرے

9

ابن شہاب نے کہا : لیکن عروہ ، حمران کی جانب سے حدیث بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : پھر جب عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے وضو کر لیا تو فرمایا : اللہ کی قسم ! میں تمہیں ایک حدیث ضرورسناؤں گا ، اللہ کی قسم ! اگر کتاب اللہ کی ایک آیت نہ ہوتی تو میں تمہیں وہ حدیث سناتا : میں نے رسول اللہﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’جو آدمی وضو کرے اور وہ اچھی طرح وضو کرے ، پھر نماز پڑھے تو اس کے وہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں جواس نماز اور اگلی نماز کے درمیان ہوں گے ۔ ‘ ‘ عروہ نےکہا : وہ آیت ( جس کی طرف حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے اشارہ کیا ) : ’’بلاشبہ وہ لوگ جوان کھلی نشانیوں اور ہدایت کو چھپاتے ہیں جو ہم نے اتاریں ‘ ‘ سے لے کر ﴿الّٰعِنُوْنَ﴾ تک ہے ۔

10

اسحاق بن سعيد نے عمرو بن سعید بن عاص نے اپنے والد ( سعید بن عمرو ) سے اور انہوں نے اپنے والد ( عمرو بن سعید ) سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس تھا ، انہوں نے وضو کاپانی منگایااور کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’کوئی مسلمان نہیں جس کی فرض نماز کا وقت ہو جائے ، پھر وہ اس کے لیے اچھی طرح وضو کرے ، اچھی طرح خشوع سے اسے ادا کرے اور احسن انداز سے رکوع کرے ، مگر وہ نماز اس کے پچھلے گناہوں کا کفارہ ہو گی جب تک وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرتا اور یہ بات ہمیشہ کے لیے کی ۔ ‘ ‘

11

ابن عبدہ کی روایت میں ہے : میں عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس آیا تو انہوں نے وضو کیا ۔ قتیبہ بن سعید اور احمد بن عبدہ ضبی نے کہا : ہمیں عبد العزیز دراوردی نے زید بن اسلم سےحدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے آزاد کردہ غلام حمران سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس وضو کا پانی لایا تو انہوں نے وضو کیا ، پھر کہا : کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ سے احادیث بیان کرتے ہیں جن کی حقیقت میں نہیں جانتامگر میں نے رسول اللہﷺ کو دیکھا ، آپ نے میرے اس وضو کی طرح وضو کیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طریقے سے وضو کیا اس کے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے اور اس کی نماز اور مسجد کی طرف جانازائد ( ثواب کا باعث ) ہو گا ۔ ‘ ‘

12

قتیبہ بن سعید ، ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ( اس حدیث کے الفاظ قتیبہ اور ابوبکر کےہیں ) ہمیں وکیع نے سفیان کے حوالے سے ابو نضر سے حدیث سنائی ، انہوں نے ابو انس سے روایت کی کہ حضرت عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے المقاعد کے پاس وضو کیا ، کیا کہنے لگے : کیا میں تمہیں رسول اللہ ﷺ کا وضو ( کر کے ) نہ دکھاؤں ؟ پھر ہر عضو کو تین تین بار دھویا ۔ قتیبہ نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : سفیان نے کہا : ابو نضر نے ابوانس سے روایت بیان کرتے ہوئے کہا : ان ( عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کے پاس رسول ا للہ ﷺ کے صحابہ میں سے کئی لوگ موجود تھے ۔

13

مسعر نےابو صخرہ جامع بن شداد سے روایت کی ، انہو ں نے کہا : میں نےحمران بن ابان سے سنا ، انہوں نےکہا : میں عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے غسل اور وضو کے لیے پانی رکھا کرتا تھا اور کوئی دن ایسا نہ آتا کہ وہ تھوڑا سا ( پانی ) اپنے اوپر نہ بہا لیتے ( ہلکا سا غسل نہ کر لیتے ، ایک دن ) عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس نماز سے ( مسعر کا قول ہے : میرا خیال ہے کہ عصر کی نماز مراد ہے ) سلام پھیرنے کے بعد ہم سے گفتگو فرمائی ، آپ نے فرمایا : ’’میں نہیں جانتا کہ ایک بات تم سے کہہ دوں یا خاموش رہوں؟ ‘ ‘ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول!اگر بھلائی کی بات ہے تو ہمیں بتا دیجیے ، اگر کچھ اور ہے تو اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور جو وضو اللہ نے اس کے لیے فرض قرار دیا ہے اس کو مکمل طریقے سے کرتا ہے پھر یہ پانچوں نمازیں ادا کرتا ہے تو یقیناً یہ نمازیں ان گناہوں کا کفارہ بن جائیں گی جو ان نمازوں کے درمیان کے اوقات میں سرزد ہوئے ۔ ‘ ‘

14

عبید اللہ بن معاذ نے اپنےوالد سے اور محمد بن مثنیٰ اورابن بشار نے محمد بن جعفر ( غندر ) سےروایت کی ، ان دونوں ( معاذ بن اور ابن جعفر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے جامع ابن شداد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے حمران بن ابان سے سنا ، وہ بشر کے دور امارات میں اس مسجد میں ابو بردہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو بتا رہے تھے کہ عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جس نے اس طرح وضو کومکمل کیا جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے تو ( اس کی ) فرض نمازیں ان گناہوں کے لیے کفارہ ہوں گی جو ان کے درمیان سرزد ہو ئے ۔ ‘ ‘ یہ ابن معاذ کی روایت ہے ، غندر کی حدیث میں بشر کے دور حکومت اور فرض نمازوں کا ذکر نہیں ہے ۔ [مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘

15

مخرمہ کےوالد بکیر ( بن عبد اللہ ) نے حمران ( مولیٰ عثمان ) سے روایت کی کہ ایک دن حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بہت اچھی طرح وضو کیا ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کودیکھا ، آپ نے بہت اچھی طرح وضوکیا ، پھر فرمایا : ’’جس نے اس طرح وضو کیا ، پھر مسجدکی طرف نکلا ، نماز ہی نے اسے ( جانے کے لیے ) کھڑا کیا تو اس کے گزرے ہوئے گناہ معاف کر دیے جائیں گے ۔ ‘ ‘

16

معاذ بن عبد الرحمن نے عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے مولیٰ حمران سے اور انہوں نے حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ میں نے رسول ا للہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : ’’ جس نے نماز کے لیے وضو کیا اور وضو کی تکمیل کی ، پھر فرض نماز کے لیے چل کرگیا اور لوگوں کے ساتھ یا جماعت کے ساتھ نماز ادا کی یا مسجد میں نماز پڑھی ، اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کر دے گا ۔ ‘ ‘

17

علاء نے اپنے والد عبد الرحمن بن یعقوب سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ پانچوں نمازیں اور ( ہر ) جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کا کفارہ ( ان کو مٹانے والے ) ہیں جب تک کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیاجائے ۔ ‘ ‘

18

محمد ( بن سیرین ) نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہو ں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’ پانچوں نمازیں اور ایک جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک درمیانی مدت کے گناہوں کاکفارہ ہیں ۔ ‘ ‘

19

عمر بن اسحاق کےوالد اسحاق ( بن عبد اللہ ) نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے : ’’جب ( انسان ) کبیرہ گناہوں سے اجتناب کر رہا ہو تو پانچ نمازیں ، ایک جمعہ ( دوسرے ) جمعہ تک اور ایک رمضان دوسرے رمضان تک ، درمیان کے عرصے میں ہونے والے گناہوں کو مٹانے کا سبب ہیں ۔ ‘ ‘

20

عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں معاویہ بن صالح نے ربیعہ بن یزید کے حوالے سے ابو ادریس خولانی سےحدیث بیان کی ، انہوں نےعتبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ۔ اسی طرح ( معاویہ نے ) کہا : مجھے ابو عثمان نے جبیر بن نفیر سے ، انہو ں نے عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث سنائی ، انہو ں نے کہا : ہمارے ذمے اونٹ چرانے کا کام تھا ، میری باری آئی ، تو میں شام کو وقت ان کو چرا کر واپس لایا تو میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا ، آپ کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ ارشاد فرما رہے تھے ، مجھے آپ کی یہ بات ( سننے کو ) ملی : ’’جو بھی مسلمان وضو کرتا ہے اور وہ اچھی طرح وضو کرتا ہے ، پھر کھڑے ہو کر پوری یکسوئی اور توجہ کے ساتھ دو رکعت نماز پڑھتا ہے تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے ۔ ‘ ‘ میں نے کہا : کیا خوب بات ہے یہ ! تو میرے سامنے ایک کہنے والا کہنے لگا : اس سے پہلے والی بات اس سے بھی زیادہ عمدہ ہے ۔ میں نے دیکھا تو وہ عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ تھے ، انہوں نے کہا : میں نے دیکھا ہے تو ابھی آئے ہو ، آپ ﷺ نے ( اس سے پہلے ) فرمایا تھا : ’’ تم میں سے جو شخص بھی وضو کرے اور اپنے وضو کو پورا کرے ( یا خوب اچھی طرح وضو کرے ) پھر یہ کہے : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ، تو اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں ، جس سے چاہے داخل ہوجائے ۔ ‘ ‘

21

زید بن حباب نے معاویہ بن صالح سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عقبہ بن عامر جہنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کے بعد پچھلی ورایت کے الفاظ ہیں ، البتہ انہوں نے ( اس طرح ) کہا : ’’ جس نےوضو کیا اور کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمدﷺ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ ‘ ‘

22

خالد بن عبد اللہ نےعمرو بن یحییٰ بن عمارہ سے ، انہوں نے اپنےوالد ( یحییٰ بن عمارہ ) سے ، انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ( انہیں شرف صحبت حاصل تھا ) ، ( یحییٰ بن عمارہ نے ) کہا : حضرت عبد اللہ بن زید سے کہا گیا : ہمیں رسول اللہ ﷺ کا ( سا ) وضو کر کے دکھائیں ۔ اس پر انہوں نے پانی کا ایک برتن منگوایا ، اسے جھکا کر اس میں سے اپنے دونوں ہاتھوں پر پانی انڈیلا اور انہیں تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور ایک ہی چلو سے کلی کی اور ناک میں پانی کھینچا ، یہ تین بار کیا ، پھر اپنا ہاتھ ، پھر اپناہاتھ ڈال کر پانی نکالا اوراپنا چہرہ تین بار دھویا ، پھر اپنا ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے بازو کہنیوں تک دو دو بار دھوئے ، ( تاکہ امت کو معلوم ہو جائے کہ کسی عضو کو دوبار دھونا بھی جائز ہے ) پھر ہاتھ ڈال کر پانی نکالا اور اپنے سر کا مسح کیا اور ( آپ ) اپنے دونوں ہاتھ ( سرپر ) آگے سے پیچھے کواور پیچھے سے آگے کو لائے ، ( ایک طرف مسح کرنا اور اسی ہاتھ کودوبارہ واپس لانامستحب ہے ( پھر دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے ، پھرکہا : رسو اللہ ﷺ کا وضو اسی طرح تھا ۔)

23

(خالدبن عبداللہ کے بجائے ) سلیمان بن بلا ل نےعمرو بن یحییٰ سے باقی ماندہ پچھلی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی ، اس میں ’’ٹخنوں تک ‘ ‘ کے الفاظ نہیں ہیں ۔

24

مالک بن انس نے عمرو بن یحییٰ کی سند سے یہی روایت بیان کی اور کہا : انہوں نےتین بار کلی کی اور ناک میں جھاڑی ۔ انہوں نے ’’ایک ہی چلو سے ‘ ‘ کےالفاظ ذکر نہیں کیے اور ’’دونوں ہاتھ آگے سے ( پیچھے کو ) لائے اور پیچھےسے ( آگے کو ) لائے ‘ ‘ کے بعد یہ الفاظ بڑھائے : انہوں نے سر کے اگلے حصے سے ( مسح ) شروع کیا اور دونوں ہاتھ گدی تک لائے ، پھر ان کوواپس کر کے اسی جگہ تک لائے جہاں سے شروع کیا تھا اور اپنے دونوں پاؤں دھوئے ۔

25

بہز نے وہیب سے اور اس نے عمرو بن یحییٰ سے سابقہ راویوں کی اسناد کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں کہا : اور انہوں نے کلی کی ، ناک میں پانی ڈالا اور ناک جھاڑی ، تین چلو پانی سے ۔ اور یہ بھی کہا : پھر سر کا مسح کیا اور آگے سے ( پیچھے کو ) اور پیچھے سے ( آگے کو ) مسح کیا ایک بار ۔ بہز نے کہا : وہیب نے یہ حدیث مجھے املا کرائی اوروہیب نے کہا : عمرو بن یحییٰ نے یہ حدیث مجھے دوبار ( دومختلف موقعوں پر ) املا کرائی ۔

26

ہارون بن سعید ایلی اور ابو طاہر نےحدیث بیان کی ، انہوں نےکہا : ہمیں ابن وہب نےحدیث سنائی ، انہوں نےکہا : مجھے عمرو بن حارث نے خبر دی کہ حبان بن واسع نے انہیں حدیث سنائی ( کہا : ) ان کے والد نے ان سے بیان کیا ( کہا : ) انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم مازنی انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ نے وضو کیا تو کلی کی ، پھر ناک جھاڑی ، پھر تین بار اپنا چہرہ دھویا اور اپنا دایاں ہاتھ تین بار اور دوسرا بھی تین بار دھویا اور سرکا مسح اس پانی سے کیا جو ہاتھ میں بچا ہوا نہیں تھا اور اپنے پاؤں دھوئے حتی کہ ان کو اچھی طرح صاف کر دیا ۔ ( اسی سند کے ایک راوی ) ابو طاہر نے حدیث بیان کرتے ہوئے کہا : ہمیں ابن وہب نے عمروبن حارث سے یہ حدیث سنائی ۔

27

اعرج نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے نبی ﷺ کی طرف منسوب کرتے ہوئے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی کسی ٹھوس چیز ( پتھر ، ڈھیلا ، ٹائلٹ پیپر وغیرہ ) سے استنجا کرے تو طاق عدد میں کرے اور جب تم میں سے کوئی وضو کرے توناک میں پانی ڈالے ، پھر ناک جھاڑے ۔ ‘ ‘

28

ہمام بن منبہ سےمنقول ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے ہمیں محمدرسول اللہ ﷺ سے سنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی کہ رسول اللہﷺنے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی وضو کرے تو دونوں نتھنوں سے ناک میں پانی کھینچے پھر ناک جھاڑے ۔ ‘ ‘

29

مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے ، انہو ں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جو وضو کرے وہ ناک جھاڑے اور جو استنجا کرے وہ طاق عدد میں کرے ۔ ‘ ‘

30

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو ادریس خولانی نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اور حضرت ابوسعیدخدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ دونوں سے سنا کہہ رہے تھے : رسول اللہ نے فرمایا...... اسی ( پچھلی حدیث کی ) طرح ۔

31

عیسیٰ بن طلحہ نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو تو تین ناک جھاڑے ، شیطان اس کی ناک کے بانسوں پر رات گزارتا ہے ۔ ‘ ‘

32

ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو سنا ، کہہ رہے تھے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی شخص جب ٹھوس چیز سے استنجا کرے تو طاق عدد میں کرے ۔ ‘ ‘

33

مخرمہ بن بکیر نے اپنےوالد سے ، انہوں نے شداد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جس دن حضرت سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ فوت ہوئے میں رسول اللہ ﷺ کی اہلیہ حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ عبد الرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ان کے ہاں آئے اور ان کے پاس وضو کیا تو انہو ں نےفرمایا : عبدالرحمن ! خوب اچھی طرح وضو کرو کیونکہ میں نے رسو ل اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا تھا : ’’ ( وضوکے پانی سےتر نہ ہونے والی ) ایڑیوں کےلیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘ ‘

34

ایک اور سند سے محمد بن عبدالرحمان نے شداد بن ہاد کے آزادکردہ غلام ابو عبد اللہ ( سالم ) سے روایت بیان کی کہ وہ حضرت عائشہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور پھر ان سے رسو ل ا للہ ﷺ کا مذکورہ بالا فرمان نقل کیا ۔

35

ابوسلمہ بن عبد الرحمن نے بیان کیا کہ مہری کے آزاد کردہ غلام سالم نے مجھے بتایا کہ میں اور عبدالرحمن بن ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے جنازے کے لیے نکلے تو ہم حضرت عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےحجرے کے دروازے سے گزرے ( وہاں ٹھہرے ، وضو کے لیے عبدالرحمان بن ابی بکر اندر گئے .... ) پھر انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کےحوالے سے مذکورہ بالا روایت سنائی ۔

36

نعیم بن عبد اللہ نے شداد بن بن ہاد کے آزاد کردہ غلام سالم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہؓ کے پاس تھا....پھر اس نے حضرت عائشہ ؓ سے نبی ﷺ سے اسی طرح روایت بیان کی ۔

37

جریر نے منصور سے ، انہوں نے ہلال بن یساف سے ، انہوں نے ابو یحییٰ ( مصدع ، الاعرج ) سے اور انہوں نے حضرت عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ مکہ سے مدینہ واپس آئے ۔ راستے میں جب ہم ایک پانی ( والی منزل ) پر پہنچے تو عصر کے وقت کچھ لوگوں نے جلدی کی ، وضو کیا تو جلدی میں تھے ، ہم ان تک پہنچے تو ان کی ایڑیاں اس طر ح نظر آ رہی تھیں کہ انہیں پانی نہیں لگا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے ( آکر ) فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔ وضو اچھی طرح کیا کرو ۔ ‘ ‘

38

منصور کے دوسرے شاگرد سفیان اور شعبہ کے حوالے سے بھی باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ یہی روایت بیان کی گئی جس میں شعبہ نے ’’خوب اچھی طرح وضو کرو ‘ ‘ کے الفاظ بیان نہیں کیے اور اس کی حدیث ( کی سند ) میں ہے : ابو یحییٰ اعرج سےروایت ہے ۔

39

یوسف بن ماہک نے حضرت عبد اللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : ایک سفر کے دوران میں نبی کریم ﷺ ہم سے پیچھے رہ گئے ، آپ ہمارے پاس پہنچے تو عصر کی نماز کا وقت ہو چکا تھا ، ہم ( میں سے کچھ لوگ ) اپنے پاؤں پر ( جلدی میں ) ہاتھ پھیرنے لگے تو آپ نے بلند آواز سے فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے ۔ ‘ ‘

40

ربیع بن مسلم نے محمد بن زیاد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی ﷺ نےایک آدمی کو دیکھا جس نے اپنی ایڑی نہیں دھوئی تھی تو آپ نے فرمایا : ’’ ( ان ) ایڑیوں کے لیے آگ کاعذاب ہے ۔ ‘ ‘

41

شعبہ نےمحمد بن زیاد سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو وضو کے برتن سے وضو کرتے دیکھا تو کہا : وضواچھی طرح کرو میں نے حضرت ابو القاسم ( محمد ) ﷺ سےسنا ، آپ فرما رہے تھے : ’’کونچوں کے لیے آگ کاعذاب ہے ۔ ‘ ‘

42

سہیل کے والد ابو صالح نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے

43

حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے حضرت عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے بتایا کہ ایک شخص نے وضو کیا تو اپنے پاؤں پر ایک ناخن جتنی جگہ چھوڑ دی ، تو نبی ﷺ نے اس کو دیکھ لیا اور فرمایا : ’’واپس جاؤ اور اپنا وضو خوب اچھی طرح کرو- ‘ ‘ وہ واپس گیا ، ( حکم پر عمل کیا ) پھر نماز پڑھی ۔

44

حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب ایک مسلم ( یامومن ) بندہ وضو کرتا ہے اور اپنا چہرہ دھوتا ہے تو پانی ( یاپانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ اس کے چہرے سے وہ سارے گناہ ، جنہیں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کیا تھا ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے ہاتھ دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ سارے گناہ ، جو اس کے ہاتھوں نے پکڑ کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں اور جب وہ اپنے دونوں پاؤں دھوتا ہے تو پانی ( یا پانی کے آخری قطرے ) کے ساتھ وہ تمام گناہ ، جو اس کے پیروں نے چل کر کیے تھے ، خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ وہ گناہون سے پاک ہو کر نکلتا ہے ۔ ‘ ‘

45

حضرت عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جس نے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا ، تو اس کے جسم سے اس کےگناہ خارج ہو جاتے ہیں حتی کہ اس کے ناخنوں کےنیچے سے بھی نکل جاتے ہیں ۔ ‘ ‘

46

عمارہ بن غزیہ انصاری نےنعیم بن عبداللہ مجمر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابوہریرہ ﷺ کو وضو کرتے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا اور اچھی طرح وضو کیا ، پھر اپنا دایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں بازو دھویا حتیٰ کہ اوپر بازو کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنے سر کا مسح کیا ، پھر اپنا دایاں پاؤں دھویا حتی کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر اپنا بایاں پاؤں دھویا حتیٰ کہ اوپر پنڈلی کی ابتداء تک پہنچے ، پھر کہا : رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح وضو کرتے دیکھا ، اور کہا : رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’قیامت کےدن اچھی طرح وضو کرنے کی وجہ سے تم لوگ ہی روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں والے ہو گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنے چہرے اور ہاتھ پاؤں کی روشنی اور سفیدی کو آگے تک بڑھا سکے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘

47

سعید بن ابی ہلال نے نعیم بن عبداللہ سےروایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو وضو کرتے ہوئے دیکھا ، انہوں نے اپنا چہرہ اور بازو دھوئےیہاں تک کہ کندھوں کے قریب پہنچ گئے ، پھر انہوں نے اپنے پاؤں دھوئے ، یہاں تک کہ اوپر پنڈلیوں تک لے گئے ، پھر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ میری امت کے لوگ قیامت کے دن وضو کے اثر سے روشن چہروں اور سفید چمکدار ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے ، لہٰذا تم میں سے جو اپنی روشنی کو آگے تک بڑھا سکتا ہے ، بڑھا لے ۔ ‘ ‘

48

مروان نے ابو مالک اشجعی سعد بن طارق سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میرا حوض عدن سے ایلہ تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے اور ( اس کا پانی ) برف سے زیادہ سفید اور شہد سے ملے دودھ سے زیادہ شیریں ہے اور اس کے برتن ستاروں کی تعداد سے زیادہ ہیں ، ( یہ خالصتاً میری امت کے لیے ہے ، اس لیے ) میں ( امت کے علاوہ دوسرے ) لوگوں کو اس سے روکوں گا ، جیسےآدمی اپنےحوض سے لوگوں کے اونٹوں کو روکتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے پوچھا : اے اللہ کے رسول !کیا اس دن آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک علامت ہو گی جو دوسری کسی امت کی نہیں ہو گی ، تم وضو کے اثر سے چمکتے ہوئے چہرے اور ہاتھ پاؤں کے ساتھ میرے پاس آؤ گے ۔ ‘ ‘

49

(مروان کے بجائے ) ابن فضیل نے ابو مالک اشجعی سے ، انہوں نے ابو حازم سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’میری امت میرے پاس حوض پر آئے گی اور میں اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو اس ( حوض ) سے دور ہٹاؤں گا جیسےایک آدمی دوسرے آدمی کے اونٹوں کو اپنے اونٹوں سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے نبی !کیا آپ ہمیں پہچانیں گے؟ آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تمہاری ایک نشانی ہو گی جو تمہارے سوا کسی اور کی نہیں ہو گی ، تم میرے پا س وضو کےاثرات سے روشن چہرے اور چمکدارہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤ گے ۔ تم میں سےایک گروہ کو زبردستی میرے پاس آنے سےروک دیا جائے گا ، تو وہ مجھ تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔ اس پر میں کہوں گا : اے میرے رب !یہ میرے ساتھیوں میں سے ہیں ۔ ایک فرشتہ مجھے جواب دے گا او رکہے گا : کیا آپ جانتے ہیں انہوں نےآپ کے بعد کیا کیا کام ایجاد کیے تھے؟ ‘ ‘

50

حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’بلاشبہ میرا حوض ایلہ سے عدن تک کے فاصلے سے زیادہ وسیع ہے ، اس ذات کی قسم جس کےہاتھ میں میری جان ہے ! میں اس سے اسی طرح ( دوسرے ) لوگوں کو ہٹاؤں گا ، جس طرح آدمی اجنبی اونٹوں کو اپنے حوض سے ہٹاتا ہے ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اےاللہ کے رسول ! اور کیا آپ ہمیں پہچان لیں گے؟آپ نے فرمایا : ’’ہاں ، تم میرے پاس روشن چہرے اور چمکتے ہوئے سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آؤگے ، یہ علامت تمہارے سوا کسی اور میں نہیں ہو گی ۔ ‘ ‘

51

اسماعیل ( بن جعفر ) نے علاء سے ، انہوں نے اپنے والد سےاور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسو ل اللہﷺقبرستان میں آئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے گھرانے ! تم سب پر سلامتی ہو اور ہم بھی ان شاء اللہ تمہیں ساتھ ملنے والے ہیں ، میری خواہش ہے کہ ہم نے اپنے بھائیوں کو ( بھی ) دیکھا ہوتا ۔ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے بھائی نہیں ؟ آپ نے جواب دیا : ’’تم میرے ساتھی ہو اور ہمارے بھائی وہ لوگ ہیں جو ابھی تک ( دنیا میں ) نہیں آئے ۔ ‘ ‘ اس پر انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! آپ اپنی امت کے ان لوگوں کو ، جو ابھی ( دنیامیں ) نہیں آئے ، کیسے پہچانیں گے؟ تو آپ نے فرمایا : ’’بتاؤ! اگر کالے سیاہ گھوڑوں کے درمیان کسی کے سفید چہرے ( اور ) سفید پاؤں والے گھوڑے ہوں تو کیا وہ اپنے گھوڑوں کو نہیں پہچانے گا؟ ‘ ‘ انہوں نے کہا : کیوں نہیں ، اے اللہ کےرسول! آپ نے فرمایا : ’’وہ وضو کی بناپر روشن چہروں ، سفید ہاتھ پاؤں کے ساتھ آئیں گے اور میں حوض پر ان کا پیشروہوں گا ، خبردار ! کچھ لوگ یقیناً میرے حوض سے پرے ہٹا ئے جائیں گے ، جیسے ( کہیں اور کا ) بھٹکا ہوا اونٹ ( جوگلے کا حصہ نہیں ہوتا ) پرے ہٹا دیا جاتا ہے ، میں ان کی آوازدوں گا ، دیکھو! ادھر آ جاؤ ۔ تو کہاجائے گا ، انہوں نے آپ کے بعد ( اپنے قول و عمل کو ) بدل لیا تھا ۔ تو میں کہوں گا : دور ہو جاؤ ، دور ہو جاؤ ۔ ‘ ‘

52

(اسماعیل کے بجائے ) عبدالعزیز دراوردی اور مالک نے علاء سے ، انہوں نے اپنےوالد عبد الرحمن سے اور انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ قبرستان کی طرف تشریف لے گئے اور فرمایا : ’’اے ایمان والی قوم کے دیار! تم سب پر سلامتی ہو ، ہم بھی اگر اللہ نےچاہا تو تمہارے ساتھ ملنے والے ہیں ۔ ‘ ‘ اس کے بعد اسماعیل بن جعفر کی روایت کی طرح ہے ۔ ہاں مالک کی روایت میں یہ الفاظ ہیں : ’’ تو کچھ لوگوں کو میرے حوض سے ہٹایا جائے گا ۔ ‘ ‘ ( الا ، یعنی خبردار کے بجائے ف ، یعنی ’تو ‘ کا لفظ ہے ۔)

53

ابو حازم سے روایت ہے ، انہوں نےکہا : میں ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پیچھے کھڑا تھا اور وہ نماز کے لیے وضو کر رہے تھے ، وہ اپنا ہاتھ آگے بڑھاتے ، یہاں تک کہ بغل تک پہنچ جاتا ، میں نے ان سے پوچھا : اے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ! یہ کس طرح کا وضو ہے؟ انہوں نے جواب دیا : اے فروخ کی اولاد ( اے بنی فارس ) ! تم یہاں ہو ؟ اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تم لوگ یہاں کھڑے ہو تو میں اس طرح وضو نہ کرتا ۔ میں نے ا پنے خلیل ﷺ کو فرماتے ہوئے سناتھا : ’’ مومن کازیور وہاں پہنچے گا جہاں اس کے وضو کا پانی پہنچے گا ۔ ‘ ‘

54

اسماعیل نے بیان کیا کہ انہیں علاء نے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : ’’کیا میں تمہیں ایسی جیز سے آگاہ نہ کروں جس کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ گناہ مٹا دیتا ہے او ر درجات بلند فرماتا ہے ؟ ‘ ‘ صحابہ نے عرض کی : اے اللہ کےر سول کیوں نہیں ! آپ نے فرمایا : ’’ناگواریوں باوجود اچھی طرح وضوکرنا ، مساجد تک زیادہ قدم چلنا ، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، سو یہی رباط ( شیطان کے خلاف جنگ کی چھاؤنی ( ہے ۔ ‘ ‘)

55

(بجائے اسماعیل کے ) مالک اور شعبہ نے اسی سند کے ساتھ علاء بن عبدالرحمن سے روایت کی ، شعبہ کی حدیث میں ’’رباط ‘ ‘ کا تذکرہ نہیں ہے جبکہ مالک کی حدیث میں دوبارہ ہے : ’’یہی رباط ہے ، یہی رباط ہے ۔ ‘ ‘

56

حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نےفرمایا : ’’اگر مجھے یہ ڈر نہ ہوتا کہ میں مسلمانوں کو ( زہیر کی روایت میں ہے : اپنی امت کو ) مشقت میں ڈال دوں گا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا ۔ ‘ ‘

57

مسعر نے مقدام بن شریح سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا ، میں نے کہا : نبی ﷺ جب گھر تشریف لاتے تو کس بات ( کام ) سے آغاز فرماتے تھے ؟انہوں نے فرمایا : مسواک سے ۔

58

سفیان نے مقدام بن شریح سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حضرت عائشہ ‎ؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓؓسے روایت کی کہ نبی ﷺجب اپنے گھر تشریف لاتے تو مسواک سے آغاز فرماتے ۔

59

حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو مسواک کا ایک کنارا آپ کی زبان پر تھا ۔

60

ہشیم نے حصین سے ، انہوں نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب رسول اللہ ﷺ رات کو تہجد کے لیے کھڑے ہوتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے ۔

61

منصور اور اعمش دونوں نے ابو وائل سے ، انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے ...... آگے سابقہ روایت کی طرح ہے لیکن انہوں نے ’’تہجد کے لیے ‘ ‘ کے الفاظ روایت نہیں کیے ۔

62

سفیان نے منصور کےحوالے سے اور حصین اور اعمش نے ( بھی منصور کی طرح ) ابو وائل سے اور انہوں نے حضرت حذیفہ ﷺ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ جب رات کو اٹھتے تو اپنا دہن مبارک مسواک سے اچھی طرح صاف فرماتے ۔

63

حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ابو متوکل کو بتایا کہ انہوں نے ایک رات اللہ کے نبی ﷺ کے ہاں گزاری ۔ اللہ کے نبی ﷺ رات کے آخری حصے میں اٹھے ، باہر نکلے اور آسمان پر نظر ڈالی پھر سورہ آل عمران کی آیت : ﴿إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ﴾تلاوت کی اور﴿فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾تک پہنچے ۔ پھر گھر لوٹے اور اچھی طرح مسواک کی اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ، پھر لیٹ گئے ، پھر کھڑے ہوئے ، باہر آسمان کی طرف دیکھا ، پھر ( دوبارہ ) یہ آیت پڑھی ، پھر واپس آئے ، مسواک کی اور وضو فرمایا ، پھر کھڑے ہوئے اور نماز پڑھی ۔

64

ابن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’فطرت ( کے خصائل ) پانچ ہیں ( یا پانچ چیزیں فطرت کا حصہ ہیں ) : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، ناخن تراشنا ، بغل کے بال اکھیڑنا اور مونچھ کترنا ۔ ‘ ‘

65

مجھے یونس نے ابن شہاب زہری سے خبر دی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے ، انہوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’ ( خصائل ) فطرت پانچ ہیں : ختنہ کرانا ، زیر ناف بال مونڈنا ، مونچھ کترنا ، ناخن تراشنا اور بغل کے بال اکھیڑنا ۔ ‘ ‘

66

حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمارے لیے مونچھیں کترنے ، ناخن تراشنے ، بغل کے بال اکھیڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لیے وقت مقرر کر دیا گیا کہ ہم ان کو چالیس دن سےزیادہ نہ چھوڑیں ۔

67

عبید اللہ نےنافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبیﷺ سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : ’’مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ

68

ابو بکر بن نافع نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺروایت کی کہ آپ نے مونچھیں اچھی طرح تراشنے اور داڑھی بڑھانے کا حکم دیا ۔

69

عمر بن محمد نے نافع کے حوالے سے حضرت ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’مشرکوں کی مخالفت کرو ، مونچھیں اچھی طرح تراشو اور داڑھیاں بڑھاؤ ۔ ‘ ‘

70

حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول ا للہ ﷺ نے فرمایا : ’’ مونچھیں اچھی طرح کاٹو اور داڑھیاں بڑھاؤ ، مجوس کی مخالفت کرو ۔ ‘ ‘

71

قتیبہ بن سعید ، ابو بکر بن ابی شیبہ او رزہیر بن حرب نے کہا : ہمیں وکیع نے زکریا بن ابی زائدہ سےحدیث بیان کی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے ، انہوں نے طلق بن حبیب سے ، انہوں نے عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’دس چیزیں ( خصائل ) فطرت میں سے ہیں : مونچھیں کترنا ، داڑھی بڑھانا ، مسوک کرنا ، ناک میں پانی کھینچنا ، ناخن تراشنا ، انگلیوں کے جوڑوں کودھونا ، بغل کے بال اکھیڑنا ، زیر ناف بال مونڈنا ، پانی سے استنجا کرنا ۔ ‘ ‘ زکریا نے کہا : مصعب نے بتایا : دسویں چیز میں بھول گیا ہوں لیکن وہ کلی کرنا ہو سکتا ہے ۔ قتیبہ نے یہ اضافہ کیا کہ وکیع نے کہا : انتقاض الماء کے معنی استنجا کرنا ہیں ۔

72

ابو کریب نے بیان کیا ، ہمیں ابو زائدہ کے بیٹے نے اپنے والد ( ابو زائدہ ) سے خبر دی ، انہوں نے مصعب بن شیبہ سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث روایت کی ، البتہ ابن ابی زائدہ نےکہا : ان کے والد نے کہا : میں دسویں بات بھول گیا ہوں

73

اعمش کے دوشاگرد وکیع اور ابو معاویہ كی سندوں سے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ( اور یہ الفاظ ابو معاویہ کےشاگردیحییٰ بن یحییٰ کے ہیں ) کہ ان ( سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے ( طنزاً ) کہا گیا : تمہارے نبی نے تم لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے یہاں تک کہ قضائے حاجت ( کےطریقے ) کی بھی ۔ کہا : انہوں نے جواب دیا : ہاں ( ہمیں سب کچھ سکھایا ہے ، ) آپ نے ہمیں منع فرمایا ہے ہم پاخانے یا پیشاب کے وقت قبلے کی طرف رخ کریں یا دائیں ہاتھ سے استنجا کریں یا استنجے میں تین پتھروں سے کم استعمال کریں یاہم کوپر یا ہڈی سے استنجا کریں ۔

74

اعمش کے ایک اور شاگرد سفیان نے ان سے اور منصور سے ، ان دونوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے عبد الرحمن بن یزید سے ، انہوں نے حضرت سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مشرکوں نے ہم سے کہا : میں دیکھتا ہوں کہ تمہارا ساتھی ( ہر چیز سکھاتا ہے یہاں تک کہ تمہیں قضائے حاجت کا طریقہ بھی سکھاتا ہے ۔ تو سلمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہاں ، انہوں ہمیں منع فرمایا ہے کہ ہم میں کوئی اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے یا قبلے کی طرف منہ کرے اور آپ نے ہمیں گوبر اور ہڈی ( سے استنجاکرنے ) سے روکا ہے اور آپ نے یہ بھی فرمایا ہے : ’’تم میں سے کوئی تین پتھروں سے کم کے ساتھ استنجا نہ کرے ۔ ‘ ‘

75

ابوزبیر نے بیان کیا کہ انہوں نے حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ہڈی یالید کے ذریعے سےاستنجا کرنے سے منع فرمایا ۔

76

زہیر بن حرب اور ابن نمیر دونوں نے کہا ، ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنائی ، نیز یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ( الفاظ انہی کے ہیں ) کہا : میں نے سفیان بن عیینہ سے پوچھا : کیا آپ نے زہری سے سنا کہ انہوں نے عطاء بن یزید لیثی سے ، انہوں نے حضرت ابوایوب سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم قضائے حاجت کی جگہ پر آؤ تو نہ قبلے کی طرف منہ کرو اور نہ اس کی طرف پشت کرو ، پیشاب کرنا ہو یا پاخانہ ، بلکہ مشرق یا مغرب کی طرف منہ کیا کرو ۔ ‘ ‘ ابو ایوب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : ہم شام گئے تو ہم نے بیت الخلا قبلہ رخ بنے ہوئے پائے ، ہم اس سے رخ بدلتے اور اللہ سے معافی طلب کرتے تھے ؟ ( سفیان نے ) کہا : ہاں ۔

77

حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی جگہ پر بیٹھے تو نہ قبلے کی طرف منہ کرے اور نہ ہی اس کی طرف پشت کرے

78

محمد بن یحییٰ بن حبان اپنے چچا واسع بن حبان سے اور وہ حضرت ابن عمر سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نےکہا : میں اپنی بہن ( ام المومنین ) حفصہ ؓ کے گھر ( کی چھت ) پر چڑھا تو میں نے دیکھا کہ رسو ل اللہ ﷺ اپنی قضائے حاجت کےلیے بیٹھے تھے ، شام کی طرف رخ ، قبلے کی جانب پشت کیے ہوئے ۔

79

یحییٰ بن سعید نے محمد بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنے چچا واسع بن حبان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں مسجد میں نماز پڑھ رہاتھا اور عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ اپنی پست قبلے کی طرف لگا کر بیٹھے ہوئے تھے ۔ جب میں نے اپنی نماز پوری کر لی تو اپنا پہلو بدل کر ان کی طرف منہ کر لیا تو عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : کچھ لوگ کہتے ہیں : جب تم قضائے حاجت کے لیے بیٹھو ، جو بھی ہو ، قبلے کی طرف اور بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نہ بیٹھو ۔ عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے فرمایا : حالانکہ میں گھر کی چھت پر چڑھا تو میں نے رسو ل اللہ ﷺ کودیکھا کہ قضائے حاجت کے لیے دو اینٹوں پر بیت المقدس کی طرف رخ کر کے بیٹھے ہوئے تھے ۔

80

ہمام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے والد حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، ابو قتادہ نےکہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’تم میں سے کوئی پیشاب کرتے وقت اپنا عضو خاص دائیں ہاتھ میں نہ پکڑے ، نہ دائیں ہاتھ سے استنجا کرے اور نہ ( پانی پیتے وقت ) برتن میں سانس لے

81

ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہو ں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہوں نے اپنے باپ ( ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی بیت الخلا میں داخل ہو تو اپنا عضو خاص اپنے دائیں ہاتھ سے نہ چھوئے

82

ایوب نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انہوں نے عبد اللہ بن ابی قتادہ سے ، انہو ننے ( اپنے والد ) حضرت ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے منع فرمایاکہ کوئی برتن میں سانس لے یا اپنی شرم گاہ کو اپنا دائیاں ہاتھ لگائے یا اپنے دائیں ہاتھ سے استنجا کرے ۔

83

ابو احوص نے اشعث سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ جب وضو فرماتے تو وضو میں ، جب آپ کنگھی کرتے تو کنگھی کرنے میں اور جب آپ جوتا پہنتے تو جوتا پہننے میں دائیں طرف سے آغاز کرنا پسند فرماتے تھے ۔

84

اشعث کے ایک دوسرے شاگرد شعبہ نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ اپنے تمام معاملات میں ، اپنے جوتے پہننے ، اپنی کنگھی کرنے اور اپنے وضو کرنے میں دائیں طرف سے ابتدا کرنا پسند فرماتے تھے ۔

85

حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : ’’تم دو سخت لعنت والے کاموں سے بچو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !سخت لعنت والے وہ دو کام کون سے ہیں؟ آپ نے فرمایا : ’’جو انسان لوگوں کی گزرگاہ میں یا ان کی سایہ دار جگہ میں ( جہاں وہ آرام کرتے ہیں ) قضائے حاجت کرتا ہے ( لوگ ان دونوں کاموں پر اس کو سخت برا بھلا کہتے ہیں ۔ ) ‘ ‘

86

خالد ( ھذاء ) نے عطاء بن ابی میمونہ سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ ایک احاطے میں داخل ہوئے اور آپ کے پیچھے ایک لڑکا بھی چلا گیا جس کے پاس وضو کا برتن تھا ، وہ ہم میں سب سے چھوٹا تھا ، اس نے اسے ایک بیری کےدرخت کے پاس رکھ دیا ، رسول اللہ ﷺ نے قضائے حاجت کی اور پانی سے استنجا کر کے ہمارے پاس تشریف لائے ۔

87

دو مختلف سندوں سے شعبہ سے روایت ہے ، انہوں نے عطاء بن ابی میمونہ سے اور انہوں نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ کہتے تھے : رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے خالی جگہ جاتے تو میں اور میرے جیسا ایک لڑکا پانی کا برتن اور ایک نیزہ اٹھاتے ( اور دور تک آپ کا ساتھ دیتے ) اور آپ پانی سے استنجا کرتے ۔

88

(شعبہ کے بجائے ) روح بن قاسم کی سند سے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کےلیے کھلی جگہ تشریف لے جاتے تو میں آپ کے لیے پانی لے جاتا ، آپ اس سے استنجا کرتے

89

ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہون نے ہمام سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت جریر ( بن عبد اللہ البجلی ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا تو ان سے کہاگیا : آپ یہ کرتے ہیں ؟ انہوں نےجواب دیا : ہاں ، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ، آپ پیشاب کیا ، پھر وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ اعمش نے کہا : ابراہیم نے بتایا کہ لوگوں ( ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کےشاگردوں ) کو یہ حدیث بہت پسند تھی کیونکہ جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سورہ مائدہ کے نازل ہونے کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔ ( سورہ مائدہ میں آیت وضو نازل ہوئی تھی ۔ اور آپ کا یہ عمل اس کے بعد کا تھا جو آیت سے منسوخ نہیں ہوا تھا)

90

(ابو معاویہ کے بجائے ) اعمش کے دیگر متعدد شاگردوں عیسیٰ بن یونس ، سفیان اور ابن مسہر نے بھی ابو معاویہ سے حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ عیسیٰ اور سفیان کی حدیث میں ہے ، ( ابراہیم نخعی نے ) کہا : عبد اللہ ( بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کے شاگردوں کو یہ حدیث بہت پسندتھی کیونکہ جریر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سورۂ مائدہ کے اترنے کے بعد مسلمان ہوئے تھے ۔

91

اعمش نے شقیق سےاور انہوں نے حضرت حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نےکہا : میں نبی ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ ایک خاندان کو کوڑا پھینکنے کی جگہ پر پہنچے اور کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو میں دور ہٹ گیا ۔ آپ نے فرمایا : ’’ قریب آ جاؤ ۔ ‘ ‘ میں قریب ہو کر ( دوسری طرف رخ کر کے ) آپ کےپیچھے کھڑا ہو گیا ( فراغت کے بعد ) آپ نےوضو کیا اورموزوں پر مسح کیا ۔ ( قریب کھڑا کرنے کامقصد اس کی)

92

منصور نے ابو وائل ( شقیق ) سے روایت کی ، انہوں نےکہاکہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ پیشاب کے بارے میں سختی کرتے تھے اور بوتل میں پیشاب کرتے تھے اور کہتے تھے : بنی اسرائیل کے کسی آدمی کی جلد پر پیشاب لگ جاتا تو وہ کھال کے اتنےحصے کو قینچی سے کاٹ ڈالتا تھا ۔ تو حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےکہا : میرا دل چاہتا ہے کہ تمہارا صاحب ( استاد ) اس قدر سختی نہ کرے ، میں اور رسول اللہ ﷺساتھ ساتھ چل رہے تھے تو آپ دیوار کے پیچھے کوڑا پھینکنے کی جگہ پرآئے ، آپ اس طرح کھڑےہو گئے جس طرح تم میں سے کوئی کھڑا ہوتا ہے ، پھر آپ پیشاب کرنے لگے تو میں آپ سے دور ہو گیا ، آپ نے مجھے اشارہ کیا تو میں آ گیا اور آپ کے پیچھے کھڑا ہو گیا حتی کہ آپ فارغ ہو گئے ۔

93

مغیرہ ‌بن ‌شعبہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌كہ ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌اپنے ‌كام ‌كو ‌نكلے ‌ان ‌كی ‌پیچھے ‌مغیرہ ‌پانی ‌كا ‌ڈول ‌لے ‌كر ‌گۓ ‌اور ‌آپ ‌جب ‌حاجت ‌سے ‌فارغ ‌ہوۓ ‌تو ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ( ‌یعنی ‌وضو ‌كے ‌وقت ‌ ) پھر ‌وضو ‌كیا ‌اور ‌مسح ‌كیا ‌موزوں ‌پر ‌. ‌ابن ‌رمح ‌كی ‌روایت ‌میں ‌یوں ‌ہے ‌پانی ‌ڈالا ‌آپ ‌پر ‌یہاں ‌تك ‌كہ ‌آپ ‌فارغ ‌ہوےء ‌حاجت ‌سے ( ‌یعنی ‌وضو ‌سے ‌)

94

یحییٰ بن سعید کےایک دوسرے شاگرد عبدالوہاب نے اسی سند کے ساتھ مذکورہ بالا روایت بیان کی اور کہا : آپﷺنے اپنا چہرہ اور دونوں ہاتھ دھوئے ، اپنے سر کامسح کیا ، پھر موزوں پر مسح کیا ۔

95

اسود بن ھلال نے حضرت مغیرہ بن شعبہ سے روایت کی ‘ انھو ں نے کہا ایک رات میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا جب آپﷺ ( سواری سے ) اترے اورقضائے حاجت کی آپﷺ واپس آئے تو میں نے اس برتن سے جو میر ے پاس تھا ’’پانی ڈالا ‘ ‘ آپﷺ نے وضو کیا اور آپنے موزوں پر مسح کیا ۔

96

ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( بن صبیح ہمدانی ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی ، انہوں نےکہا : میں ایک سفر میں نبی اکرمﷺکے ساتھ تھا ، آپ نے فرمایا : ’’اے مغیرہ !پانی کا برتن لے لو ۔ ‘ ‘ میں نے برتن لے لیا ، پھر آپ کےساتھ نکلا ۔ رسول اللہ ﷺ چل پڑے یہاں تک کہ مجھ سے اوجھل ہو گئے ، قضائے حاجت کی ، پھر آپ واپس آئے ، آپ نے تنگ آستینوں والا شامی جبہ پہنا ہوا تھا ، آپ اس کی آستین سے اپنا ہاتھ نکالنے کی کوشش کرنے لگے ( مگر ) وہ ( جبہ ) تنگ ( ثابت ) ہوا ۔ آپ نے اپنا ہاتھ نیچے سے نکالا ، پھر میں نے پانی ڈالا تو آپ نے نماز جیسا وضو فرمایا ، پھر آپ نے اپنے موزوں پر مسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھی ۔

97

اعمش سے ( ابو معاویہ کےبجائے ) عیسیٰ بن یونس ) نےباقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ قضائے حاجت کے لیے نکلے ، جب واپس آئے تو میں پانی کا برتن لے کر آپ کو ملا ، میں نے پانی ڈالا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دھوئے ، پھر چہرہ دھویا ، پھر ہاتھ دھونے لگے تو جبہ تنگ نکلا ، آپ نے ہاتھ جبے کے نیچے سے نکال لیے ، ان کو دھویا ، سر کا مسح کیا اور اپنے موزوں پرمسح کیا ، پھر ہمیں نماز پڑھائی ۔

98

زکریا نےعامر ( شعبی ) سے روایت کی ، کہا : مجھے عروہ بن مغیرہ نے اپنے والد حضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےحدیث بیان کی ، کہا : ایک رات میں سفر کےدوران میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھا ، آپ نے پوچھا : ’’کیا تمہارے پاس پانی ہے ؟ ‘ ‘ میں نےکہا : جی ہاں ۔ تو آپ اپنی سواری سے اترے ، پھر پیدل چل دیےیہاں تک کہ رات کی سیاہی میں اوجھل ہو گئے ، پھر ( واپس ) آئے تو میں نے برتن سے آپ ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈالا ، آپ نے اپنا چہرہ دھویا ( اس وقت ) آپ اون کا جبہ پہنے ہوئے تھے ، آپ اس میں سے اپنے ہاتھ نہ نکال سکے حتی کہ دونوں ہاتھوں کو جبے کے نیچے سے نکالا اور کہنیوں تک اپنے ہاتھ دھوئے اور اپنے سر کا مسح کیا ، پھر میں نے آپ کے موزے اتارنے چاہے تو آپ نے فرمایا : ’’ان کو چھوڑو ، میں نے باوضو ہو کر دونوں پاؤں ان میں ڈالے تھے ‘ ‘ اور ان پر مسح فرمایا ۔

99

عامر شعبی کے ایک دوسرے شاگرد عمر بن ابی زائدہ نےعروہ بن مغیرہ کے حوالے سے ان کے والد سے روایت کی کہ انہوں ( مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے نبی اکرم ﷺ کو وضو کرایا ، آپ نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا ۔ مغیرہ نے آپﷺ سے ( اس بارے میں ) بات کی تو آپ نے فرمایا : ’’میں نے انہیں باوضو حالت میں ( موزوں میں ) داخل کیا تھا ۔ ‘ ‘

100

حمید الطویل نے کہا : ہمیں بکر بن عبد اللہ مزنی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ بن مغیرہ بن شعبہ سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نےکہا کہ رسول اللہ ﷺ ( قافلے سے ) پیچھے رہ گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے رہ گیا ، جب آپ نے قضائے حاجت کر لی تو فرمایا : ’’کیاتمہارے ساتھ پانی ہے ؟ ‘ ‘ میں آپ کے پاس وضو کرنے کا برتن لایا ، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اور چہرہ دھویا ، پھر دونوں بازو کھولنے لگے تو جبے کی آستین تنگ پڑ گئی ، آپ نے اپنا ہاتھ جبے کے نیچے سے نکالا اور جبہ کندھوں پر ڈال لیا ، اپنے دونوں بازودھوئے اور اپنے سر کے اگلے حصے ، پگڑی اور موزوں پر مسح کیا ، پھر آپ سوار ہوئے اور میں ( بھی ) سوار ہوا ، ہم لوگوں کے پاس پہنچے تووہ نماز کے لیے کھڑے تھے ، عبد الرحمن بن عوف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ان کو نماز پڑھا رہے تھے اور ایک رکعت پڑھا چکے تھے ۔ جب انہیں نبی اکرمﷺ ( کی تشریف آوری ) کا احساس ہوا تو پیچھے ہٹنے لگے ۔ آپ نے انہیں اشارہ کیا ( کہ نماز پوری کرو ) تو انہوں نے نماز پڑھا دی ، جب انہوں نے سلام پھیرا تو نبی اکرمﷺ کھڑے ہو گئے ، میں بھی کھڑا ہو گیا اور ہم نے وہ رکعت پڑھی جوہم سے پہلے ہو چکی تھی ۔

101

امیہ بن بسطام اور محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، کہا : مجھے بکر بن عبد اللہ نے حضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے کے واسطے سے حضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے حدیث بیان کی کہ نبی اکرمﷺنے موزوں ، اپنے سر کے سامنے کے حصے اور اپنے عمامے پر مسح فرمایا ۔

102

محمد بن عبدالاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر نے اپنے والد سے حدیث سنائی ، انہوں نے بکر سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نےحضرت مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے نبیﷺ سےیہی روایت بیان کی ۔ ( بکر نے عروہ بن مغیرہ سے حسن کے حوالے سے بھی یہ روایت حاصل کی اور براہ راست بھی سنی ۔)

103

یحییٰ بن سعید نے ( سلیمان ) تیمی سے ، انہوں نے بکر بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے مغیرہ بن شعبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے سے ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ( بکر نےکہا : میں نے مغیرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے بیٹے ( بلاواسطہ بھی ) سنا ) کہ نبی کریم ﷺ نے وضو کیا اور اپنے سر کے اگلے حصے پر اور پگڑی پر اور موزوں پر مسح کیا ۔

104

ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔

105

عبد الرزاق نے کہا : ہمیں سفیان ثوری نے عمرو بن قیس ملائی سے حدیث سنای ، انہوں نےحکم بن عتیبہ سے ، انہوں نے قاسم بن مخیمرہ سے ، انہوں نے شریح بن ہانی سےروایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کے پاس موزوں پر مسح کے بارے میں پوچھنے کی غرض سے حاضر ہوا تو انہوں نے کہا : ابن ابی طالب کے پاس جاؤ اور ان سے پوچھو کیونکہ وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ سفر کیا کرتے تھے ۔ ہم نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مسافر کے لیے تین دن اور تین راتیں اور مقیم کے لیے ایک دن اور ایک رات ( کا وقت ) مقرر فرمایا ۔ ( عبدالر زاق نے ) کہا : سفیان ( ثوری ) جب بھی عمرو ( بن قیس ملائی ) کا تذکرہ کرتے تو ان کی تعریف کرتے ۔

106

زید بن ابی انیسہ نے حکم سے مذکورہ سند کے ساتھ اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔

107

اعمش نے حکم کے حوالے سے قاسم بن مغیرہ سے اور انہوں نے شریح بن ہانی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نےحضرت عائشہ ؓ سے موزوں پر مسح کا مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا : علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے پاس جاؤ کیونکہ وہ اس مسئلے کو مجھ سے زیادہ جانتے ہیں ۔ تو میں علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کی خدمت میں حاضر ہوا ، انہوں نے نبی اکرمﷺ سے اسی ( جواوپر مذکورہے ) کے مطابق بیان کیا ۔

108

سلیمان بن بریدہ ( اسلمی ) نے اپنے والد سے روایت کی نبی اکرم ﷺ نے فتح مکہ کے دن کئی نمازیں ایک وضو سے پڑھیں اوراپنے موزوں پر مسح فرمایا ۔ حضرت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے آپ سے پوچھا : آپ نے آج ایسا کام کیا جو آپ نے پہلے کبھی نہیں کیا ۔ آپ نے جواب دیا : ’’عمر!میں نے عمداً ایسا کیا ہے ۔ ‘ ‘

109

عبد اللہ بن شقیق نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی اپنی نیند سے بیدار ہو تو اس وقت تک اپنا ہاتھ برتن میں نہ ڈالے جب تک اسے تین دفعہ دھو نہ لے کیونکہ اسے معلوم نہیں ہے کہ رات کے وقت اس کا ہاتھ کہاں ( کہاں ) رہا ۔ ‘ ‘

110

وکیع اور ابو معاویہ کی سندوں سے اعمش سے روایت ہے ، انہوں نے ابو رزین اور ابو صالح سے اور ان دونوں نے حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت بیان کی ۔ ابو معاویہ کی روایت میں ہے : ( ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ۔ ( جبکہ ) وکیع کی روایت میں ( ہے ) کہا : ( اور ) اسے رسول اللہ ﷺ کی طرف منسوب کیا ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ روایت ) کی طرح ہے ۔

111

ابوسلمہ نے ابن مسیب دونوں نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، انہوں نے نبی ﷺ سے اسی ( مذکورہ بالاروایت ) کے مانند بابیان کیا

112

جابر ( بن عبد اللہ ) ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ انہوں ( ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) نے ان ( جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ) کو بتایا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کوئی شخص نیند سے بیدار ہو تو ( وضو کاپانی نکالنے کے لیے ) اپنے برتن میں ہاتھ ڈالنے سے پہلے تین بار اپنے ہاتھ پر پانی ڈالے ( اور ہاتھ دھوئے ) کیونکہ وہ نہیں جانتا اس کے ہاتھ نے کس ( حالت ) میں رات گزاری ۔ ‘ ‘

113

اعرج ، محمد ، علاء کے والد عبد الرحمان بن یعقوب ، ہمام بن منبہ اور ثابت بن عیاض ( سب ) نےکہا : ہمیں ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےحدیث بیان کی ، سبھی نے اپنی ا پنی روایت میں ( ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ کے واسطے سے ) نبی ﷺ سے یہ حدیث بیان کی ۔ سبھی کہتے ہیں : ’’ حتی کہ اس ( ہاتھ ) کو دھولے ‘ ‘ اور ان میں سے کسی نے بھی ’’تین بار ‘ ‘ کا لفظ نہیں بولا ، سوائے ان روایات کے جو ہم نے اوپر جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ ، ابن مسیب ، ابو سلمہ ، عبد اللہ بن شقیق ، ابوصالح اور ابو زرین سے بیان کی ہیں کیونکہ ان سب کی احادیث میں ’’تین بار ‘ ‘ کا ذکر ہے ۔

114

علی بن مسہر نے حدیث بیان کی کہ ہمیں اعمش نے ابو زرین اور ابو صالح سے خبر دی ، ان دونوں نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’ جب تم میں سے کسی کے برتن میں کتا زبان کے ساتھ پی لے اور وہ اس چیز کو بہا دے ، پھربرتن کو سات دفعہ دھولے ۔ ‘ ‘

115

اسماعیل بن زکریا نے اعمش کےحوالے سے ، باقی ماندہ مذکورہ سند کے ساتھ ، یہی روایت بیان کی لیکن ’’اسے بہادے ‘ ‘ کے الفاظ نہیں کہے ۔

116

اعرج نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت بیان کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب کتا تم میں سے کسی کے برتن میں پی لے تو وہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘

117

محمد بن سیرین نے حضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تمہارے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی طہارت ( پاک ہونا ) یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ، پہلی دفعہ مٹی کے ساتھ دھوئے ۔ ‘ ‘

118

ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں محمد رسو ل اللہ ﷺ سےسنائیں ، پھر انہوں نے کچھ احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ بھی تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’جب تم میں سے کسی کے برتن میں سے کتا پی لے تو اس کی پاکیزگی یہ ہے کہ اسے سات دفعہ دھوئے ۔ ‘ ‘

119

عبید اللہ بن معاذ نے ہمیں اپنےوالد سے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے ، انہیں شعبہ نے ابو التیاح سے روایت کرتے ہوئے حدیث سنائی ۔ اور انہوں نے مطرف بن عبد اللہ سے سنا ، ابن مغفل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے کتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ، پھر فرمایا : ’’ان کا کتوں سے کیا واسطہ ہے ؟ ‘ ‘ پھر ( لوگوں سے ضروریات کی تفصیل سن کر ) شکار اور بکریوں ( کی حفاظت کرنے ) والے کتے ( رکھنے ) کی اجازت دی اور فرمایا : ’’جب کتا برتن میں سے پی لے تو اسے سات مرتبہ دھوؤ اورآٹھویں بار ( زیادہ روایات میں ہے ایک بار ) مٹی سے صاف کرو

120

(خالد ) بن حارث ، یحییٰ بن سعید اور محمد بن جعفر ، سب نے شعبہ سے اسی سند سے اس ( سابقہ حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ یحییٰ بن سعید کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ آپ نے بکریوں کی حفاظت ، شکار اور کھیتی کی رکھوالی کے لیے کتا رکھنے کی ا جازت دی ۔ یحییٰ کے سوا زرع ( کھیتی ) کا ذکر کسی روایت میں نہیں ۔

121

حضرت جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کی کہ آپﷺ نےکھڑے ہوئے پانی میں پیشاب کرنے سے منع فرمایاہے ۔

122

ابن سیرین نے ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے اور انہوں نے نبی ﷺ سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : ’’تم سے کوئی ہرگز ساکن پانی میں پیشاب نہ کرے ، پھر اس میں سے نہائے ۔ ‘ ‘

123

ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ہمیں محمد ﷺ سے بیان کیں ، انہوں نے کچھ احادیث سنائیں ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کھڑے ہوئے پانی میں ، جو چل نہ رہا ہو ، پیشاب نہ کرو کہ پھر تم اس میں نہاؤ ۔ ‘ ‘

124

بکیر بن اشج سے روایت ہے کہ ہشام بن زہرہ کے آزادکردہ غلام ابو سائب نے انہیں حدیث سنائی کہ انہو ں نےحضرت ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسو ل اللہﷺنے فرمایا : ’’ تم میں سے کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں غسل جنابت نہ کرے ۔ ‘ ‘ ( ابو سائب نے ) کہا : اے ابو ہریرہ ! وہ کیا کرے ؟ انہوں نے جواب دیا : وہ ( اس میں سے ) پانی لے لے ۔

125

ثابت نے حضرت انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سےروایت کی کہ ایک بدوی نے مسجد میں پیشاب ( کرنا شروع ) کر دیا ، بعض لوگ اٹھ کر اس کی طرف لپکے تو رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے چھوڑ دو ، اسے ( پیشاب کے ) درمیان میں مت روکو ۔ ‘ ‘ جب وہ فارغ ہو گیا تو آپ نے پانی کا ڈول منگوایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔ ( پانی کے ساتھ وہ پیشاب زمین کےاندر چلا گیا ۔)

126

یحییٰ بن سعید نے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے سنا ، وہ بیان کر رہے تھے کہ ایک بدوی مسجد کے ایک کونے میں کھڑا ہو گیا اور وہاں پیشاب کرنے لگا ، لوگ اس پر چلائے تو رسول اللہ ﷺ فرمایا : ’’اسے چھوڑ دو ۔ ‘ ‘ جب وہ فارغ ہوا تو آپ نے ﷺ ( پانی کا ) ایک بڑا ڈول لانے کا حکم دیا اور وہ ڈول اس ( پیشاب ) پر بہا دیا گیا ۔

127

اسحاق بن ابی طلحہ نے روایت کی ، کہا : مجھ سے حضرت انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نےبیان کیا ، وہ اسحاق کےچچا تھے ، کہا : ہم مسجد میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ اس دوران میں ایک بدوی آیا اور اس نے کھڑے ہو کر مسجد میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو رسول اللہ ﷺ کے ساتھیوں نےکہا : کیا کر رہے ہو ؟ کیاکر رہے ہو ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’اسے ( درمیان میں ) مت روکو ، اسے چھوڑ دو ۔ ‘ ‘ صحابہ کرام نےاسے چھوڑ دیا حتی کہ اس نے پیشاب کر لیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایااور فرمایا : ’’یہ مساجد اس طرح پیشاب یا کسی اور گندگی کے لیے نہیں ہیں ، یہ تو بس اللہ تعالیٰ کے ذکر نماز اور تلاوت قرآن کے لیے ہیں ۔ ‘ ‘ یا جو ( بھی ) الفاظ رسول اللہ ﷺ نے فرمائے ۔ ( انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے ) کہا : پھر آپ نے لوگوں میں سے ایک کو حکم دیا ، وہ پانی کا ڈول لایا اور اسے اس پر بہا دیا ۔

128

عبداللہ بن نمیر نےہشام سے ، انہوں نے اپنے والد ( عروج بن زبیر ) سے اور انہوں نے نبی ﷺ کی زوجہ ( اپنی خالہ ) حضرت عائشہ ؓ سےروایت کی کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس بچوں کو لایا جاتا تھا ، آپ ان کے لیے برکت کی دعا فرماتے اور ان کو گھٹی دیتے ۔ آپ کے پاس ایک بچہ لایا گیا ، اس نے آپ پر پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوایا اور اس کے پیشاب پر بہا دیا اور اسے ( رگڑ کر ) دھویا نہیں ۔

129

جریر نے ہشام سے روایت کی ، انہو نے اپنے والد سے اور انہو ں نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کی ، انہوں نے فرمایا کہ رسول ا للہ ﷺ کی خدمت میں ایک شیر خوار بچہ لایا گیا ، اس نے آپ کی گود میں پیشاب کر دیا تو آپ نے پانی منگوا کر اس پر بہا دیا ۔

130

ہشام کے ایک او رشاگرد عیسیٰ نے ہشام کی اسی سند سے ابن نمیر کی روایت ( : 662 ) کے مطابق روایت بیان

131

لیث نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں عبید اللہ بن عبد اللہ سے ، انہوں نے حضرت ام قیس بنت محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی کہ وہ اپنے بچے کو ، جس نے ابھی کھانا شروع نہ کیا تھا ، لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا تو اس نے پیشاب کر دیا ، آپ نے اس پر پانی چھڑکنے سے زیادہ کچھ نہ کیا ۔

132

سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( مذکورہ بالا ) روایت کی اور کہا : آپ نے پانی منگوایا اور اسے چھڑکا

133

یونس بن یزید نے کہا : مجھے ابن شہاب نے خبر دی ، کہا : مجھے عبید اللہ بن عبد اللہ بن عتبہ بن مسعود نے حضرت ام قیس بنت محصن ؓ سے ( وہ جو سب سے پہلے ہجرت کرنے والی ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور عکاشہ بن محصن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ جو بنواسد بن خزیمہ کے ایک فرد ہیں ، کی بہن تھیں ) روایت کی ، کہا : انہوں نے مجھے بتایا کہ وہ نبی اکرمﷺ کی خدمت میں اپنا بیٹا لے کر حاضر ہوئیں جو ابھی اس عمر کو نہ پہنچا تھا کہ کھانا کھا سکے ۔ ( ابن شہاب کے استاد ) عبیداللہ نے کہا : انہوں ( ام قیسؓ ) نے مجھے بتایا کہ میرے اس بیٹے نے رسو ل ا للہﷺ کی گود میں پیشاب کر دیا تو رسو ل اللہ ﷺ نے پانی منگوایا اور اسے اپنے کپڑے پر بہا دیا اور اسے اچھی طرح دھویا نہیں ۔

134

خالد نے ابومعشر سے ، انہوں نے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے علقمہ اور اسود سے روایت کی کہ ایک آدمی حضرت عائشہ ؓ کے پاس ٹھہرا ، صبح کو وہ اپنا کپڑا دھو رہا تھا توعائشہ ؓ نے فرمایا : تیرے لیے کافی تھا کہ اگر تو نے کچھ دیکھا تھا تو اس کی جگہ کو دھودیتا اور اگر تو نے اسے نہیں دیکھا تو اس کے اردگرد ( تک ) پانی چھڑک دیتا ۔ میں نے اپنے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ میں اسے ( مادہ منویہ کو ) رسول اللہ ﷺ کےکپڑے سے اچھی طرح کھرچتی تھی ، پھر آپ اس کپڑے میں نماز پڑھتے تھے ۔

135

اعمش نے ابراہیم سے ، انہوں نے اسود اور ہمام سے ، انہوں نے حضرت عائشہ ؓ سے مادہ منویہ کے بارے میں روایت کی ، کہا : میں اسے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے کھرچ دیتی تھی ۔

136

(خالد کی بجائے ) ابومعشر کے دوسرے شاگرد ہشام بن حسان اور ابن ابی عروبہ نے خالد کے ہم معنی روایت کی ۔ اسی طرح ابراہیم نخعی کےمتعدد دیگر شاگردوں مغیرہ ، واصل احدب اور منصور نے اپنی اپنی مختلف سندوں سے ابراہیم نخعی سے ، انہوں نے ابو اسود کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کے کپڑے سے منی کھرچنے کی روایت حضرت عائشہ ؓ سے اسی طرح بیان کی جس طرح خالد کی ابو معشر سے روایت ( : 668 ) ہے ۔

137

ابن عیینہ نے منصور سے ، انہوں نے ابراہیم سے ، انہوں نے ہمام سے ، انہوں نے حضرت عائشہ سے مذکورہ بالا روایت بیان کی ۔

138

محمد بن بشر نے عمرو بن میمون سے روایت کی ، انہوں نے کہا کہ میں نے سلیمان بن یسار سے آدمی کے کپڑے کو لگ جانےوالی منی کے بارے میں پوچھا کہ انسان اس جگہ کو دھوئے یا ( پورے ) کپڑے کو دھوئے؟ تو انہوں نے ( سلیمان بن یسار ) نے کہا : مجھے عائشہ ؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ ( کپڑے سے ) منی کو دھوتے ، پھر اسی کپڑے میں نماز کے لیے تشریف لے جاتے اور میں اس میں دھونے کا نشان دیکھ رہی ہوتی ۔

139

عبدالواحد بن زیاد ، ابن مبارک اور ابن ابی زائدہ نے عمرو بن میمون سے سابقہ سندکے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ ابن ابی زائدہ کی حدیث کے الفاظ ابن بشر کی طرح ( یہ ) ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ منی ( خود ) دھوتے تھے جبکہ ابن مبارک اور عبد الواحد کی حدیث میں اس طرح ہے کہ عائشہؓ نے کہا : میں اسے نبی اکرمﷺ کے کپڑے سے دھوتی تھی ۔

140

عبد اللہ بن شہاب خولانی سےر وایت ہے ، کہا : میں حضرت عائشہ ؓ کا مہمان تھا ، مجھے اپنے دونوں کپڑوں میں احتلام ہو گیا تو میں نے وہ دونوں پانی میں ڈبو دیے ، مجھے حضرت عائشہ ؓ کی ایک کنیز نے دیکھ لیا اور انہیں بتا دیا تو انہوں نے میری طرف پیغام بھجوایا اور فرمایا : تو نے اپنے دونوں کپڑوں کے ساتھ ایسا کیوں کیا ؟ میں نے کہا : میں نے نیند میں وہ دیکھا جو سونےوالا اپنی نیند میں دیکھتا ہے ۔ انہوں نے پوچھا : کیا تمہیں ان دونوں ( کپڑوں ) میں کچھ نظر آیا؟ میں نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے فرمایا : اگر تم کچھ دیکھتے تو اسے دھو ڈالتے ۔ میں نے خود کو دیکھا کہ میں رسول اللہﷺ کے کپڑے سے اس کو خشک حالت میں اپنے ناخن سے کھرچ رہی ہوں ۔

141

وکیع نے بیان کیا ، ہمیں ہشام نے حدیث سنائی : اور یحییٰ بن سعید نے ہشام بن عروہ سے روایت کی ، کہا : مجھے فاطمہ ( بنت منذر ) نے حدیث سنائی ، انہوں نے ( اپنی اور ہشام دونوں کی دادی ) حضرت اسماء ؓ سے روایت کی کہ ایک عورت نبی کریم ﷺ کے پاس آئی اور پوچھا : ہم میں سے کسی کو کپڑے کو حیض کا خون لگ جاتا ہے تو وہ اس کے بارے میں کیا کرے ؟ آپ نے فرمایا : ’’اسے کھرچ ڈالے ، پھر پانی ڈال کر اسے رگڑے ، پھر اس پر پانی بہا دے ( دھولے ) ، پھر اس میں نماز پڑھ لے ۔ ‘ ‘

142

یحییٰ بن عبد اللہ بن سالم ، مالک بن انس اور عمرو بن حارث تینوں نے ہشام بن عروہ کی مذکورہ بالا سند کے ساتھ یہی روایت اسی طرح بیان کی جس طرح یحییٰ بن سعید نے بیان کی ۔

143

وکیع نے بیان کیا ، ( کہا : ) ہمیں اعمش نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے مجاہد کو طاؤس سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے حضرت ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ سے روایت کی ، کہا : رسو ل اللہ ﷺ کا گزر دو قبروں پر ہوا تو آپ نے فرمایا : ’’ان دونوں کو عذاب ہو رہا ہے اور کسی بڑی غلطی کی بناپر عذاب نہیں ہو رہا ( جس سے بچنا دشوار ہوتا ۔ ) ان میں ایک تو چغل خوری کرتا تھا اور دوسرا اپنے پیشاب سے بچنے کا اہتمام نہیں کرتا تھا ۔ ‘ ‘ ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نے کہا : پھر آپ نے ایک تازہ کھجور کی چھڑی منگوائی اور اس کو دوحصوں میں چیر دیا ، پھر ایک حصہ اس قبر پر گاڑ دیا اور دوسرا اس ( دوسری قبر ) پر ، پھر آپ نے فرمایا : ’’امید ہے جب تک یہ دو ٹہنیاں سوکھیں گی نہیں ، ان کا عذاب ہلکا رہے گا ۔ ‘ ‘

144

عبدالواحدنے اسی سند سے سلیمان اعمش سے مذکورہ بالا حدیث روایت کی ، سوائے اس کے کہ کہا : اور دوسرا پیشاب ( اپنے کے بغیر ) کی طرف سے ( بچنے کا اہتمام نہیں عبدالواحد کرتا ۔)