21 - کتاب البیوع
محمد بن یحییٰ بن حبان نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ملامسہ اور منابذہ کی بیعوں سے منع فرمایا
ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
حفص بن عاصم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
عمرو بن دینار نے عطاء بن میناء سے روایت کی کہ انہوں نے ان ( عطاء ) کو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انہوں نے کہا : دو قسم کی بیعوں ( یعنی ) ملامسہ اور منابذہ سے منع کیا گیا ہے ۔ ملامسہ یہ ہے کہ دونوں ( بیچنے والے اور خریدنے والے ) میں سے ہر ایک بغیر سوچے ( اور غور کیے ) اپنے ساتھی کے کپڑے کو چھوئے ، اور منابذہ یہ ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک اپنا کپڑا دوسرے کی طرف پھینکے اور کسی نے بھی اپنے ساتھی کے کپڑے کو ( جس کے ساتھ اس کے کپڑے کا تبادلہ ہو رہا ہے ) نہ دیکھا ہو ۔ ( اور اسی سے بیع کی تکمیل ہو جائے)
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے بتایا کہ حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں دو قسم کی بیعوں اور دو قسم کے پہناووں سے منع فرمایا : بیع میں آپ نے ملامسہ اور منابذہ سے منع فرمایا ۔ ملامسہ یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے کے کپڑے کو دن میں یا رات میں اپنے ہاتھ سے چھوئے اور اس کے علاوہ اسے الٹ کر بھی نہ دیکھے ۔ اور منابذہ یہ ہے کہ کوئی آدمی دوسرے آدمی کی طرف اپنا کپڑا پھینکے اور دوسرا اس کی طرف اپنا کپڑا پھینکے اور بغیر دیکھے اور ( بغیر حقیقی ) رضامندی کے یہی ان کی بیع ہو
صالح نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر پھینک کر بیع کرنے اور دھوکے والی بیع سے منع فرمایا ہے
لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے حبل الحبلہ کی بیع سے منع فرمایا ہے
عبیداللہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : اہل جاہلیت اونٹ کے گوشت کی حبل الحبلہ تک بیع کرتے تھے ۔ اور حبل الحبلہ یہ ہے کہ اونٹنی ( مادہ ) بچہ جنے ، پھر وہ بچہ جو پیدا ہوا ہے ، حاملہ ہو ( اس کی یا اس کے گوشت کی بیع ) تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس سے منع فرما دیا
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی کسی کی بیع پر بیع نہ کرے
عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " کوئی آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے اور نہ اپنے ( مسلمان ) بھائی کے پیغامِ نکاح پر پیغام بھیجے ، الا یہ کہ وہ اسے اجازت دے
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں علاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عبدالرحمٰن ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی مسلمان کسی مسلمان کے سودے پر سودا بازی نہ کرے
احمد بن ابراہیم دورقی نے مجھے یہی حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عبدالصمد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے علاء اور سہیل سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے اپنے اپنے والد ( عبدالرحمٰن بن یعقوب اور ابوصالح سمان ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ہمیں محمد بن مثنیٰ نے یہی حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبدالصمد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز عبیداللہ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی اپنے ( مسلمان ) بھائی کے کیے گئے سودے پر سودا کرے ، اور دَورقی کی روایت میں ( سوم اخيه کی بجائے ) سيمة اخيه ( چھوٹے سے سودے ) کے الفاظ ہیں
اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیع کے لیے قافلے کے ساتھ راستے میں ( جا کر ) ملاقات نہ کی جائے ، نہ تم میں سے کوئی دوسرے کی بیع پر بیع کرے ، نہ خریدنے کی نیت کے بغیر محض بھاؤ بڑھانے کے لیے قیمت لگاؤ ، نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے اور نہ تم اونٹنی اور بکری کا دودھ روکو ، جس نے انہیں اس کے بعد خرید لیا تو ان کا دودھ دوہنے کے بعد اسے دو باتوں کا اختیار ہے : اگر اسے وہ پسند ہے تو اسے رکھ لے اور اگر اسے ناپسند ہے تو ایک صاع کھجور کے ساتھ اسے واپس کر دے
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی بن ثابت سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوحازم سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( تجارتی ) قافلوں کو آگے جا کر ( ان کے راستوں میں ) ملنے سے ، شہری کو کسی دیہاتی کے لیے بیع کرنے سے ، عورت کو اپنی ( مسلمان ) بہن کی طلاق کا مطالبہ کرنے سے ، محض بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانے سے ، جانور کے تھنوں میں دودھ روکنے سے ، اور اپنے بھائی کے کیے گئے سودے پر سودا کرنے سے منع فرمایا ۔
غندر ، وہب بن جریر اور عبدالصمد بن عبدالوارث سب نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کردہ معاذ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، غندر اور وہب کی حدیث میں ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " منع کیا گیا ہے " اور عبدالصمد کی حدیث میں ( معروف کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خریدنے کے ارادے کے بغیر ) بھاؤ چڑھانے کے لیے قیمت لگانے سے منع فرمایا
ابن ابی زائدہ ، یحییٰ بن سعید اور ( عبداللہ ) ابن نمیر ، ان سب نے عبیداللہ سے ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ بازار میں پہنچنے سے پہلے سامان حاصل کیا جائے ۔ یہ ابن نمیر کے الفاظ ہیں اور دوسرے دونوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سامانِ تجارت لانے والوں کو ) راستے میں جا کر ملنے سے منع فرمایا ۔
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عبیداللہ سے ابن نمیر کی روایت کردہ حدیث کے مانند روایت کی
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر سامان تجارت لینے سے منع فرمایا
ہُشَیم نے ہمیں ہشام سے خبر دی ، انہوں نے ابن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( راستے میں ) جا کر باہر سے لائے جانے والے سامان تجارت کو حاصل کرنے سے منع فرمایا
ابن جریج نے کہا : مجھے ہشام قردوسی نے ابن سیرین سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سامانِ تجارت کو راستے میں جا کر حاصل نہ کرو ۔ جس نے باہر مل کر ان سے سامان خرید لیا ، تو جب اس کا مالک بازار میں آئے گا تو اسے ( بیع کو برقرار رکھنے یا فسخ کرنے کا ) اختیار ہو گا
ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زُہَیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ اس ( سند ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے ، آپ نے فرمایا : "" کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع نہ کرے ۔ "" زہیر نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے
طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ باہر نکل کر قافلے والوں سے ملا جائے اور اس سے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ۔ ( طاوس نے ) کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ کے فرمان : " کوئی شہری دیہاتی کی طرف سے ( بیع نہ کرے ) " کا کیا مفہوم ہے؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اس کا دلال نہ بنے
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور احمد بن یونس نے کہا : ہمیں ابوخثیمہ زہیر نے حدیث سنائی ، کہا : ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع نہ کرے ۔ لوگوں کو چھوڑ دو ، اللہ تعالیٰ ان میں سے بعض کو بعض کے ذریعے سے رزق دیتا ہے ۔ " البتہ یحییٰ کی روایت میں ( مجہول کے صیغے کے ساتھ ) ہے : " رزق دیا جاتا ہے
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابوزہیر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ( 3828 ) یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
یونس نے ابن سیرین سے ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا گیا ہے کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کی طرف سے بیع کرے ، خواہ وہ اس کا بھائی ہو یا والد
ابن عون نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، کہا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں اس بات سے منع کیا گیا کہ کوئی شہری کسی دیہاتی کے لیے بیع کرے
موسیٰ بن یسار نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی گئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو وہ اسے لے کر گھر واپس آئے اور اس کا دودھ نکالے ، اگر وہ اس کے ددھ دینے سے راضی ہو تو اسے رکھ لے ، ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے ایسی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی جس کا دودھ روکا گیا ہے تو اسے تین دن تک اس کے بارے میں اختیار ہے ، اگر چاہے تو رکھ لے اور چاہے تو واپس کر دے اور اس کے ساتھ کھجور کا ایک صاع بھی واپس کرے
قرہ نے ہمیں محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بھیڑ ( یا بکری ) خرید لی تو اسے تین دن تک اختیار ہے ۔ اگر وہ اسے واپس کرے تو اس کے ساتھ غلے کا ایک صاع بھی واپس کرے ، گندم کا نہیں
سفیان نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے دودھ روکی ہوئی بکری خرید لی ، اسے دو باتوں کا اختیار ہے ۔ اگر چاہے تو اسے رکھ لے اور اگر چاہے تو اسے واپس کر دے ، اور کھجور کا ایک صاع بھی واپس کر دے ، گندم کا نہیں
عبدالوہاب نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، لیکن انہوں نے کہا : " جس نے ( دودھ روکی ہوئی ) کوئی بھیڑ یا بکری خریدی اسے اختیار ہے
ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، اس کے بعد انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ تھی : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی دودھ روکی گئی اونٹنی یا بھیڑ ( یا بکری ) خرید لے تو اسے اس کا دودھ نکالنے کے بعد دو باتوں کا اختیار ہے یا تو وہ ( جانور ) لے لے ورنہ کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے
سفیان بن عیینہ اور سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مطابق روایت کی
معمر نے ابن طاوس سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے غلہ خریدا تو وہ اسے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے اپنے قبضے میں لے لےحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ہر چیز کو غلے کی طرح سمجھتا ہوں
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابو کُرَیب اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ اسحاق نے کہا : ہمیں خبر دی اور دیگر نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ وکیع نے سفیان سے ، انہوں نے ابن طاوس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو غلہ خریدے تو اسے آگے فروخت نہ کرے حتی کہ اسے ماپ ( کر قبضے میں لے ) لے
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں مالک نے حدیث سنائی ۔ اور یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو پورا حاصل کرنے سے پہلے اسے فروخت نہ کرے
یحییٰ بن یحییٰ نے سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم غلہ خریدا کرتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم پر ایسے آدمی مقرر فرماتے جو ہمیں حکم دیتے کہ اسے فروخت کرنے سے پہلے اس جگہ سے جہاں ہم نے اسے خریدا تھا ، کسی دوسری جگہ منتقل کریں
معمر نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اگر وہ ( وزن اور ماپ کے بغیر ) اندازے سے ( ڈھیر کی صورت میں ) غلہ خریدتے اور اس کو منتقل کرنے سے پہلے اسی جگہ فروخت کرتے تو اس پر ان کو مار پڑتی تھی
نیز انہوں ( حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : ہم اہل قافلہ سے بغیر ماپ ( اور وزن ) کے غلہ خریدا کرتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں منع فرمایا کہ ہم اسے ، اس کی جگہ سے منتقل کرنے سے پلے ، آگے فروخت کریں
عمر بن محمد نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص غلہ خریدے تو اسے پورا کر لینے اور اپنے قبضے میں لینے سے پہلے فروخت نہ کرے
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
یونس نے مجھے ابن شہاب ( زہری ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے بتایا کہ ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کو دیکھا کہ جب وہ ( ناپ تول کے بغیر ) اندازے سے غلہ خریدتے تو اس بات پر انہیں مار پڑی تھی کہ وہ اس کو گھروں میں منتقل کرنے سے پہلے ، اسی جگہ اسے بیچیں ۔ ابن شہاب نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد اندازے سے غلہ خریدتے ، پھر اسے اپنے گھر اٹھا لاتے
ابوبکر بن ابی شیبہ ، ابن نمیر اور ابو کریب نے کہا : ہمیں زید بن حباب نے ضحاک بن عثمان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بُکَیر بن عبداللہ بن اشج سے ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جو شخص غلہ خریدے تو اسے ناپ کر لے لینے سے پہلے آگے فروخت نہ کرے ۔ "" ابوبکر کی روایت میں ( من الشترى کی بجائے ) من ابتاع کے الفاظ ہیں ( معنی ایک جیسے ہیں)
عبداللہ بن حارث مخزومی نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ضحاک بن عثمان نے بکیر بن عبداللہ بن اشج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے مروان سے کہا : تم نے سودی تجارت حلال کر دی ہے؟ مروان نے جواب دیا : میں نے ایسا کیا کیا ہے؟ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : تم نے ادائیگی کی دستاویزات ( چیکوں ) کی بیع حلال قرار دی ہے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل قبضہ کرنے سے پہلے غلے کو بیچنے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : اس پر مروان نے لوگوں کو خطبہ دیا اور ان ( چیکوں ) کی بیع سے منع کر دیا ۔ سلیمان نے کہا : میں نے محافظوں کو دیکھا وہ انہیں لوگوں کے ہاتھوں سے واپس لے رہے تھے
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے : " جب تم غلہ خریدو تو اسے پوری طرح قبضے میں لینے سے پہلے نہ بیچو
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند ، لیکن انہوں نے حدیث کے آخر میں من التمر کے الفاظ ذکر نہیں کیے
روح بن عبادہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی ، انہوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی ( مذکورہ بالا روایت ) کے مانند ، لیکن انہوں نے حدیث کے آخر میں من التمر کے الفاظ ذکر نہیں کیے
امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں میں سے ہر ایک کو اپنے ساتھی کے خلاف ( بیع فسخ کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں ، الا یہ کہ اختیار والی بیع ہو
عبیداللہ ، ایوب ، یحییٰ بن سعید اور ضحاک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، نافع سے امام مالک کی حدیث کی طرح روایت کی
لیث نے ہمیں نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جب دو آدمی باہم بیع کریں تو دونوں میں سے ہر ایک کو ( سودا ختم کرنے کا ) اختیار ہے جب تک وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں اور اکٹھے ہوں ۔ یا ان دونوں میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے ، اگر ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے اور اسی پر دونوں بیع کر لیں تو بیع لازم ہو گئی ، اور اگر باہم بیع کرنے کے بعد دونوں جدا ہوئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہیں کیا تو بھی بیع لازم ہو گئی
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر دونوں نے سفیان سے روایت کی ۔ زہیر نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ( حدیث ) املا کرائی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جب دو بیع کرنے والے باہم خرید و فروخت کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اپنی بیع ( ختم کرنے ) کا اختیار ہے جب تک وہ باہم جدا نہ ہوں یا ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہو ( انہوں نے اختیار استعمال کر لیا ہو ۔ ) اگر ان کی بیع اختیار سے ہوئی ہے تو لازم ہو گئی ہے ۔ "" ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا کہ نافع نے کہا : جب وہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) کسی آدمی سے بیع کرتے اور چاہتے کہ وہ آدمی ان سے بیع کی واپسی کا مطالبہ ( اقالہ ) نہ کرے تو وہ ( خیارِ مجلس ختم کرنے کے لیے ) اٹھتے ، تھوڑا سا چلتے ، پھر اس کے پاس واپس آ جاتے
عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو بیع کرنے والوں کے درمیان ( اس وقت تک ) بیع ( لازم ) نہیں ہوتی ، یہاں تک کہ وہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں ، الا یہ کہ خیار ( اختیار ) والی بیع ہو ۔ " ( جس میں خیار کی مدت طے کر لی جائے یا اختیار استعمال کر کے بیع کو پکا کر لیا جائے)
ابوخلیل نے عبداللہ بن حارث سے ، انہوں نے حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " بیع کرنے والے دونوں فریقوں کو اختیار ہے جب تک جدا نہ ہوں ۔ اگر وہ دونوں سچ بولیں اور حقیقت کو واضح کریں تو ان کی بیع میں برکت ڈالی جاتی ہے ، اور اگر وہ جھوٹ بولیں اور ( عیب وغیرہ ) چھپائیں تو ان کی بیع سے برکت مٹا دی جاتی ہے
ابوتیاح سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن حارث سے سنا ، وہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ امام مسلم بن حجاج رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے 120 سال زندگی پائی
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اسے بیع میں دھوکا دے دیا جاتا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم جس سے بھی بیع کرو تو کہہ دیا کرو : دھوکا نہیں ہو گا ۔ "" ( بعد ازیں ) وہ جب بھی بیع کرتا تو کہتا : دھوکا نہیں ہو گا
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، لیکن ان دونوں کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں : وہ جب سودا کرتا تو کہتا تھا : دھوکا نہیں ہو گا
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک درختوں پر لگے ہوئے ) پھلوں کی بیع سے منع فرمایا یہاں تک کہ ان کی ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے والے اور خریدنے والے دونوں کو ( ایسی بیع سے ) منع فرمایا
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ سرخ یا زرد ہو جائے اور کِھیل ( سٹہ ) ( کی بیع ) سے حتی کہ وہ ( دانے بھر کر ) سفید اور آفات سے محفوظ ہو جائے ۔ آپ نے بیچنے اور خریدنے والے دونوں کو منع فرمایا
جریر نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پھل مت خریدو حتی کہ ان کی صلاحیت ظاہر ہو جائے اور اس سے آفت ( کا امکان ) ختم ہو جائے ۔ "" ( ابن عمر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : اس کی صلاحیت ( ظاہر ہونے ) سے اس کی سرخی اور زردی مراد ہے
عبدالوہاب نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ " حتیٰ کہ اس کی صلاحیت واضح ہو جائے " تک حدیث بیان کی ، اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا
ابن ابی فُدیک نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ضحاک نے نافع سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عبدالوہاب کی حدیث کی طرح روایت کی
موسیٰ بن عقبہ نے مجھے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک اور عبیداللہ کی حدیث کے مانند روایت بیان کی
اسماعیل بن جعفر نے عبداللہ بن دینار سے روایت کی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم پھل نہ بیچو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
سفیان اور شعبہ دونوں نے عبداللہ بن دینار سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، شعبہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا گیا : اس کی صلاحیت سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : اس سے آفت ( بورگر جانے اور بیماری لگ جانے ) کا وقت ختم ہو جائے
ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا ۔ ۔ یا کہا : ہمیں منع فرمایا ۔ ۔ یہاں تک کہ وہ ٹھیک ہو جائے
عمرو بن دینار نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اس وقت تک ) درخت پر لگے پھل کو بیچنے سے منع فرمایا یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
ابو بختری سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کھجور کی بیع کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجور کی بیع سے منع فرمایا حتی کہ وہ اس سے خود کھا سکے یا وہ کھائے جانے کے قابل ہو جائے ، اور یہاں تک کہ اس کا وزن کیا جا سکے ۔ میں نے کہا : اس کا وزن کیے جانے سے کیا مراد ہے؟ ان کے پاس موجود ایک شخص نے کہا : اس ( کے وزن ) کا اندازہ لگایا جا سکے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ( درختوں پر لگا ہوا ) پھل نہ خریدو یہاں تک کہ اس کی صلاحیت ظاہر ہو جائے
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے زہری سے خبر دی ، نیز ہمیں ابن نمیر اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی دونوں کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے حدیث بیان کی کہ ہمیں زہری نے سالم سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلہے پھل کی بیع سے اور پھل کو خشک کھجور کے عوض بیچنے سے منع فرمایا
ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ہمیں زید بن ثابت نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع عرایا کی اجازت دی ۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : ( اجازت دی ) کہ اسے بیچا ( یا خریدا ) جائے
ابن شہاب سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے حدیث بیان کی کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" پھل ( پکنے ) کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے مت خریدو اور نہ خشک کھجور کے عوض ( درخت پر لگا ) پھل خریدو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمرو نے اپنے والد سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، بالکل اسی کے مانند
ابن شہاب نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ کی بیع سے منع فرمایا ۔ مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر لگے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کیا جائے ، اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کو ( کٹنے سے پہلے ) گندم کے عوض فروخت کیا جائے اور زمین کو گندم کے عوض کرائے پر دیا جائے ۔ ( ابن شہاب نے ) کہا : مجھے سالم بن عبداللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی کہ آپ نے فرمایا : "" صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھل نہ خریدو ، اور نہ ( درخت پر لگے ) پھل کو خشک کھجور کے عوض خریدو ۔ "" سالم نے کہا : مجھے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس ( ممانعت کے عام حکم ) کے بعد عَرِیہ کی بیع میں تروتازہ یا خشک کھجور کے عوض بیع کی رخصت دی ، اور اس کے سوا کسی بیع میں رخصت نہیں دی
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ والے کو اجازت دی کہ وہ اسے ( اس پر موجود پھل کو ) مقدار کا اندازہ کرتے ہوئے خشک کھجور کے عوض بیچ لے
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی کہا : مجھے نافع نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کے بارے میں رخصت دی ( عریہ یہ ہے ) کہ گھر والے ( اپنی طرف سے دیے گئے درخت کے پھل کا ) خشک کھجور کے حوالے سے اندازہ لگا کر اسے لے لیں تاکہ وہ تازہ کھجور کھا سکیں
عبدالوہاب نے ہمیں کہا کہ میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے نافع نے اسی سند سے اسی کے مانند خبر دی
ہشیم نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، البتہ انہوں نے کہا : عریہ سے وہ کھجور کا درخت مراد ہے جو لوگوں کو ( بطور عطیہ ) دیا جاتا ہے ۔ وہ ( درخت پر لگے پھل کو ) اندازے کے بقدر خشک کھجوروں کے عوض فروخت کر دیتے ہیں
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی ۔ یحییٰ نے کہا : عریہ یہ ہے کہ کوئی آدمی اپنے گھر والوں کی خوراک کے لیے کھجور کا تازہ پھل ( اس سے حاصل ہونے والی ) خشک کھجور کے اندازے کے عوض خرید لے ۔ ( یہ تعریف تازہ پھل لینے والے کے نقطہ نظر سے ہے ۔ مفہوم ایک ہی ہے)
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا میں رخصت دی کہ اس ( کے پھل ) کا اندازہ کرتے ہوئے اسے کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض فروخت کر دیا جائے
یحییٰ بن سعید نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ، اور ( فروخت کر دیا جائے کی بجائے ) " حاصل کر لیا جائے " کے الفاظ بیان کیے
ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کی بیع میں اس کے اندازے کی مقدار ( کے حساب سے لین دین ) کی اجازت دی
سلیمان بن بلال نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بُشیر بن یسار سے ، انہوں نے اپنے گھرانے سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض صحابہ سے ، جن میں سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ، روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( درخت پر لگے ) پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنے سے منع فرمایا ۔ اور آپ نے فرمایا : " یہ سود ہے ، یہی ( بیع ) مزابنہ ( کھجور کے درخت پر لگے ہوئے پھل کو خشک کھجور کے عوض فروخت کرنا ) ہے ۔ " ہاں ، البتہ آپ نے عریہ کو بیچنے یا خریدنے کی اجازت دی ( عَرِیہ یہ ہے ) کہ کوئی خاندان ایک دو کھجور کے درخت ( جو بطور عطیہ دے گئے ) ان سے حاصل ہونے والی خشک کھجور کے اندازے کے مطابق لے لیں تاکہ وہ اس کا تازہ پھل کھائیں ( اور جنہیں درخت دیے گئے ہیں ، انہیں خشک کھجور دے دیں)
لیث نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انہوں نے بُشیر بن یسار سے اور انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ( بعض ) صحابہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عریہ کو ( اس سے حاصل ہونے ولی ) خشک کھجور کی مقدار کے اندازے سے فروخت کرنے کی اجازت دی
محمد بن مثنیٰ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ( عبدالوہاب ) ثقفی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا وہ کہہ رہے تھے : مجھے بشیر بن یسار نے اپنے خاندان سے تعلق رکھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض اصحاب سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ آگے یحییٰ سے سلیمان بن بلال کی حدیث ( 3887 ) کے مانند حدیث ذکر کی ۔ لیکن اسحاق اور ابن مثنیٰ نے لفظ ربا کی بجائے لفظ زبن ( مزابنہ ) استعمال کیا ہے ، تاہم ابن ابی عمر نے رِبا ہی کہا
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے بشیر بن یسار سے ، انہوں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ انہی ( سلیمان ، لیث اور ثقفی ) کی حدیث کے ہم معنی
ولید بن کثیر نے کہا : مجھے بنو حارثہ کے مولیٰ بشیر بن یسار نے حدیث بیان کی کہ رافع بن خدیج اور سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ دونوں نے اسے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ، یعنی تازہ کھجور کی خشک کھجور کے عوض بیع سے منع فرمایا ، سوائے عرایا والوں کے کیونکہ انہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی تھی
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک سے پوچھا : کیا آپ کو داود بن حصین نے ابن ابی احمد کے آزاد کردہ غلام ابوسفیان ( وہب ) سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کو پانچ وسق سے کم یا پانچ وسق تک اندازے سے بیچنے کی رخصت دی ہے؟ ۔ ۔ ( امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ) شک داود کو ہے کہ انہوں ( ابوسفیان ) نے پانچ وسق کہا یا پانچ وسق سے کم کہا ۔ ۔ تو انہوں ( امام مالک ) نے جواب دیا : ہاں
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ سے مراد ( کھجور کے تازہ ) پھل کو خشک کھجور کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ( یا تولی ہوئی ) مقدار کے عوض فروخت کرنا ہے
محمد بن بشیر نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے انہیں خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ، اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے تازہ پھل کو خشک کھجور کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور انگور کو منقیٰ کی ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے اور ( خوشیوں میں ) گندم کی کھیتی کو ماپی ہوئی مقدار کے عوض بیچا جائے
ابن ابی زائدہ نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
ابو اسامہ نے ہم سے بیان کیا ، کہا : ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ۔ اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور کے ( تازہ ) پھل کو خشک کھجور کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض اور انگور کو منقیٰ کے ماپ کی مقررہ مقدار کے عوض فروخت کیا جائے اور کسی بھی پھل کو اندازے کی بنیاد پر ( اسی طرح ) فروخت کرنے سے منع فرمایا
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا اور مزابنہ یہ ہے کہ کھجور پر جو پھل لگا ہوا ہے اسے ماپ کی مقررہ مقدار کے ساتھ خشک کھجور کے عوض بیچا جائے کہ اگر بڑھ گیا تو میرا اور اگر کم ہو گیا تو اس کی ذمہ داری بھی مجھ پر ہو گی
حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رُمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا ( مزابنہ یہ ہے ) کہ کوئی آدمی اپنے باغ کا پھل اگر کھجور ہو تو خشک کھجور کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر انگور ہو تو منقیٰ کے مقررہ ماپ کے عوض فروخت کرے اور اگر کھیتی ہو تو غلے کے مقررہ ماپ کے عوض اسے فروخت کرے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب ( سودوں ) سے منع فرمایا ۔ قتیبہ کی روایت میں ( وان كان زرعا "" اور اگر کھیتی ہو "" کے بجائے ) "" یا کھیتی ہو "" کے الفاظ ہیں ۔
یونس ، ضحاک اور موسیٰ بن عقبہ سب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ ان ( عبیداللہ ، ایوب اور لیث ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کھجور کا ایسا درخت فروخت کیا جس پر نر کھجور کا بورڈ ڈالا گیا ہو تو اس کا پھل فروخت کرنے والے کا ہے الا یہ کہ خریدار ( بیع کے دوران میں ) شرط طے کر لے
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کھجور کا جو درخت خریدا گیا اور اس کی تابیر کی گئی تھی تو اس کا پھل اسی کے لیے ہے جس نے تابیر کی ، مگر یہ کہ وہ آدمی جس نے اسے خریدا ( سودے میں اس کی ) شرط طے کر لے
لیث نے ہمیں نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کھجور کی تابیر ( نر کھجور کا بور ڈال کر اس کی پرداخت ) کی پھر اس کے درخت کو بیچ دیا ، تو کھجور کا پھل اسی کا ہے جس نے تابیر کی ، الا یہ کہ خریدنے والا شرط طے کر لے
ایوب نے نافع سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح روایت کی
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے سالم بن عبداللہ بن عمر سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے : " جس نے تابیر کیے جانے کے بعد کھجور کا درخت خریدا ، تو اس کا پھل اسی کا ہے جس نے اسے بیچا ، الا یہ کہ خریدار شرط طے کر لے اور جس نے غلام خریدا تو اسی کا مال اسی کا ہے جس نے اسے فروخت کیا ، الا یہ کہ خریدار شرط طے کر لے
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، کہا : مجھے سالم بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے ۔ ۔ ۔ اسی کے مانند
سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقالہ ، مزابنہ ، مخابرہ اور ( پکنے کی ) صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا اور ( حکم دیا کہ ) عرایا ( کی بیع ) کے سوا ( پھل یا کھیتی کو ) صرف دینار اور درہم کے عوض ہی فروخت کیا جائے
ابوعاصم نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے عطاء اور ابوزبیر سے خبر دی ، ان دونوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ آگے اسی کے مانند بیان کیا
مخلد بن یزید جزری نے ہمیں خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : مجھے عطاء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ، محاقلہ ، مزابنہ اور کھانے کے قابل ہونے سے پہلے پھلوں کی فروخت کرنے سے منع فرمایا اور ( حکم دیا کہ پھلوں اور اجناس کی ) صرف درہم و دینار ہی سے بیع کی جائے ، سوائے عرایا کے ۔ عطاء نے کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے ان الفاظ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا : مخابرہ سے مراد وہ چٹیل زمین ہے جو ایک آدمی دوسرے کے حوالے کرے تو وہ اس میں خرچ کرے ، پھر وہ ( زمین دینے والا ) اس کی پیداوار میں سے حصہ لے ۔ اور ان کا خیال ہے کہ مزابنہ سے مراد کھجور پر لگی ہوئی تازہ کھجور کی خشک کھجور ( کی معینہ مقدار ) کے عوض بیع ہے اور محاقلہ یہ ہے کہ آدمی کھڑی فصل کو ماپے ہوئے غلے کے عوض بیچ دے
زید بن ابی انیسہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہم سے ابوولید مکی نے حدیث بیان کی جبکہ وہ عطاء بن ابی رباح کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، انہوں ( زید ) نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ، مزابنہ ، مخابرہ اور اس بات سے منع فرمایا ہے کہ اِشقاہ سے پہلے ( درخت پر لگا ہوا ) کھجور ( کا پھل ) خریدا جائے ۔ اِشقاہ یہ ہے کہ اس میں سرخی یا زردی پیدا ہو جائے یا اس میں سے کچھ کھایا جا سکے 0سارا پھل بیک وقت نہیں بکتا ، کچھ کھانے کے قابل ہو جائے تو بیع جائز ہے ۔ ) اور محاقلہ یہ ہے کہ کھیتی کی بیع غلے کی متعین مقدار ( صاع ، وسق وغیرہ یا وزن ) کے ساتھ کی جائے اور مزابنہ یہ ہے کہ درخت پر لگی کھجور کی بیع خشک کھجور کی ( ماپ یا تول کے ذریعے سے ) متعین مقدار کے ساتھ کی جائے اور مخابرہ یہ ہے کہ زمین کو ( جواز کی شروط پوری کیے بغیر ) تہائی ، چوتھائی یا اس طرح کے ( کسی متعین ) حصے کے عوض ( بٹائی پر ) دیا جائے ۔ زید نے کہا : میں نے ( ساتھ بیٹھے ) عطاء بن ابی رباح رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا : کیا آپ نے ( بھی ) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں
سلیم بن حیان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سعید بن میناء نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ ، محاقلہ ، مخابرہ اور رنگ تبدیل ہونے ( اشقاح ) سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا ۔ ( سلیم بن حیان نے ) کہا : میں نے سعید سے پوچھا : اشقاح سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے کہا : ان میں سرخی اور زردی پیدا ہو جائے اور اس میں سے کھایا جا سکے
حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ایوب نے ابوزبیر اور سعید بن میناء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ ، مزابنہ ، معاومہ ، مخابرہ ۔ ۔ ان دونوں ( ابوزبیر اور سعید ) میں سے ایک نے کہا : کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے ۔ اور استثاء والی بیر سے منع فرمایا اور عرایا ( کو خشک پھل کے عوض بیچنے ) کی اجازت دی
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ اسی کے مانند ، البتہ انہوں نے یہ ذکر نہیں کیا کہ کئی سالوں کے لیے بیع کرنا ہی معاومہ ہے
رباح بن ابی معروف نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عطاء سے سنا ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ( اس کی اپنی پیداوار کے بدلے کرائے پر دینے ، اس ( کے پھل ) کو کئی سالوں کے لیے بیچنے اور پکنے سے پہلے پھلوں کی بیع سے منع فرمایا
حماد بن زید نے ہمیں مطروراق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا
مہدی بن میمون نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں مطروراق نے عطاء سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس شخص کی زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے خود کاشت کرے ۔ اگر وہ خود کاشت نہ کرے تو اپنے بھائی کو کاشت کاری کے لیے دے دے
اوزاعی نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کے پاس ضرورت سے زائد زمینیں تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس ضرورت سے زائد زمین ہو وہ یا تو اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتا دے دے ۔ اگر وہ نہیں مانتا تو وہ اپنی زمین اپنے پاس رکھ لے ۔ " ( کسی غیر شرعی طریقے سے کرائے پر نہ دے)
بکیر بن اخنس نے عطاء سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ زمین کی اجرت ( کرایہ ) یا ( اس کی ہونے والی پیداوار کا ) متعین ( مقدار میں ) حصہ لیا جائے
عبدالملک نے ہمیں عطاء سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو ، وہ اسے خود کاشت کرے ، اگر وہ اس میں کاشتکاری کی استطاعت نہ پائے اور عاجز ہو تو ( بہتر ہے ) اپنے کسی مسلمان بھائی کو عاریتا دے دے اور اس کے ساتھ زمین کی اجرت کا معاملہ نہ کرے
ہمام نے حدیث بیان کی ، کہا : سلیمان بن موسیٰ نے عطاء سے سوال کیا اور کہا : کیا آپ کو حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو ( تو بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے کرائے پر نہ دے؟ " انہوں نے جواب دیا : ہاں
عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ ( غلط شرطوں کے ساتھ بٹائی پر دینے ) سے منع فرمایا
سعید بن میناء نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس فالتو زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو کاشتکاری کے لیے دے دے اور اسے ( استفادے کے لیے ) فروخت نہ کرو ۔ " میں ( سلیم بن حیان ) نے سعید سے پوچھا : " اسے فروخت نہ کرو " سے کیا مراد ہے؟ کیا آپ کی مراد کرایہ پر دینے سے تھی؟ انہوں نے جواب دیا : ہاں
زہیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابوزبیر نے ہمیں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں زمین بٹائی پر دیتے اور ( باقی ساری پیداوار میں سے حصے کے علاوہ ) گاہے جانے کے بعد خوشوں میں بچ جانے والی گندم اور اس طرح کی چیزیں ( پانی کی گزرگاہوں کے ارد گرد ہونے والی پیداوار ) وصول کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے کسی بھائی کو کاشت کاری کے لیے ( عاریتا ) دے دے ورنہ اسے ( خالی ) پڑا دہنے دے
ہشام بن سعد نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہیں ابوزبیر مکی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں تہائی یا چوتھائی حصے کے عوض ، نالوں ( کے کناروں کی پیداوار ) کے عوض زمین لیتے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس بارے میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے ) وہ اسے کاشت کرے ۔ " اگر وہ خود اسے کاشت نہیں کرتا تو اپنے بھائی کوعاریتا دے دے ، اگر وہ اسے اپنے بھائی کو بھی نہیں دیتا تو اس کو اپنے پاس رکھ لے
ابو عوانہ نے ہمیں سلیمان ( اعمش ) سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوسفیان ( طلحہ بن نافع ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جس کے پاس زمین ہو تو ( بہتر ہے کہ ) وہ اسے ہبہ کرے یا عاریتا دے دے
عمار بن رُزَیق نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : " وہ اسے کاشت کرے یا کسی اور آدمی کو کاشت کاری کے لیے دے
بکیر نے حدیث بیان کی کہ انہیں عبداللہ بن ابی سلمہ نے نعمان بن ابی عیاش سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو ( ممنوعہ طریقے سے ) کرائے پر دینے سے منع فرمایا ۔ بکیر نے کہا : مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم اپنی زمینیں بٹائی پر دیتے تھے ، پھر جب ہم نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی حدیث سنی تو اسے ترک کر دیا
ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خالی زمین کی دو یا تین سالوں کے لیے بیع کرنے سے منع فرمایا
سعید بن منصور ، ابوبکر بن ابی شیبہ ، عمرو ناقد اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حمید اعرج سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سلیمان بن عتیق سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی سالوں کی بیع سے منع فرمایا ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : پھلوں کی کئی سال کے لیے بیع سے ( منع فرمایا)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کی زمین ہو وہ اسے خود کاشت کرے یا اپنے بھائی کو عاریتا دے دے ، اگر وہ نہیں مانتا تو اپنی زمین اپنے پاس رکھے ۔ " ( غلط طریقے سے بٹائی پر نہ دے)
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ مزابنہ اور حُقول سے منع فرما رہے تھے ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : مزابنہ سے مراد ( کھجور پر لگے ) پھل کی خشک کھجور سے بیع ہے اور حقول سے مراد زمین کو ( اس کی پیداوار کے متعین حصے کے عوض ) بٹائی پر دینا ہے
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محاقلہ اور مزابنہ سے منع فرمایا
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزابنہ اور محاقلہ سے منع فرمایا ۔ مزابنہ درخت پر لگی کھجور کو ( خشک کھجور کے عوض ) خریدنا ہے اور محاقلہ سے مراد زمین کو کرائے پر دینا ہے
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ہم مخابرہ میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے حتی کہ وہ پہلا سال آیا جس میں ( یزید کی امارت کے لیے بیعت لی گئی ) تو حضرت رافع رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
سفیان ( بن عیینہ ) ، ایوب اور سفیان ( ثوری ) سب نے عمرو بن دینار سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ابن عیینہ کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : تو ہم نے ان ( رافع رضی اللہ عنہ ) کی وجہ سے ( احتیاطا ) اسے چھوڑ دیا
مجاہد سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : رافع رضی اللہ عنہ نے ہماری زمین کا منافع ہم سے روک دیا
یزید بن زریع نے ہمیں ایوب سے خبر دی اور انہوں نے نافع سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اور حضرت ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہ کے دور امارت میں اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی ایام تک حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمینوں کو بٹائی پر دیتے تھے حتی کہ حضرت معاویہ کی خلافت کے آخری ایام میں انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ اس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت بیان کرتے ہیں ، چنانچہ وہ ان کے پاس گئے ، میں بھی ان کے ساتھ تھا ، انہوں نے ان سے دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمینوں کو بٹائی پر دینے سے منع فرماتے تھے ۔ اس کے بعد ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ بعد ازیں جب حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہتے : رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے
حماد بن زید اور اسماعیل ( ابن علیہ ) دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی اور ابن علیہ کی حدیث میں یہ اضافہ ہے ، کہا : اس کے بعد حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور وہ اسے ( اپنی زمین کو ) کرائے پر نہیں دیتے تھے
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کی طرف گیا یہاں تک وہ ان کے پاس بَلاط کے مقام پر پہنچے تو انہوں نے انہیں ( ابن عمر رضی اللہ عنہ کو ) بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمینوں کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا تھا
حکم نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ حضرت رافع رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ۔ ۔ پھر ( ان کے حوالے سے ) یہی حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہوئے بیان کی
حسین بن حسن بن یسار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن عون نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ زمین کو اجرت پر دیتے تھے ، کہا : انہیں حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے حوالے سے حدیث بتائی گئی ، کہا : وہ میرے ساتھ ان کے ہاں گئے تو انہوں نے اپنے بعض چچاؤں سے بیان کیا ، انہوں نے اس حدیث میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا کہ آپ نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا اور زمین اجرت پر نہ دی
یزید بن ہارون نے کہا : ہمیں ابن عون نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : انہوں نے اپنے بعض چچاؤں کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث بیان کی
سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اپنی زمینیں کرائے پر دیتے تھے حتی کہ انہیں یہ بات پہنچی کہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ زمین کو کرائے پر دینے سے منع کرتے ہیں ، چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ملاقات کی اور کہا : ابن خدیج! آپ زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا بیان کرتے ہیں؟ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا : میں نے اپنے دو چچاؤں سے سنا اور وہ دونوں بدر میں شریک ہوئے تھے ، وہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو بٹائی پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بخوبی جانتا تھا کہ زمین کرائے پر دی جاتی تھی ۔ پھر حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کو خوف ہوا کہ ( ممکن ہے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی نیا حکم جاری کیا ہو جس کا انہیں علم نہ ہوا ہو ، لہذا انہوں نے زمین کو کرائے پر دینا چھوڑ دیا
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے یعلیٰ بن حکیم سے ، انہوں نے سلیمان بن یسار سے اور انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ہم زمین کو اس کی پیداوار کے حصے پر دیتے تھے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور ( اس کے ساتھ ) متعین مقدار میں غلے کے عوض کرائے پر دیتے ، ایک روز ہمارے پاس میرے چچاؤں میں سے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک ایسے کام سے منع کیا ہے جو ہمارے لئے نفع مند تھا لیکن اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے لیے زیادہ نفع بخش ہے ، آپ نے ہمیں منع کیا ہے کہ ہم زمین کو بٹائی پر مدیں اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے اور متعین غلے کے عوض کرائے پر دیں ۔ اور آپ نے زمین کے مالک کو حکم دیا کہ وہ خود اس میں کاشت کرے یا کاشت کے لیے ( اپنے مسلمان بھائی کو ) دے دے اور آپ نے اس کے کرائے پر دینے اور اس کے سوا ( غلے کے ایک متعین حصے پر دینے ) کو ناپسند کیا ہے
حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : یعلیٰ بن حکیم نے میری طرف لکھا ، انہوں نے کہا : میں نے سلیمان بن یسار سے سنا ، وہ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : ہم زمین کو بٹائی پر دیتے اور اسے تہائی اور چوتھائی حصے پر کرائے پر دیتے تھے ۔ ۔ ۔ آگے ابن علیہ کی ( سابقہ ) حدیث کے مانند بیان کیا
ابن ابی عروبہ نے یعلیٰ بن حکیم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی
جریر بن حازم نے یعلیٰ بن حکیم کی اسی سند کے ساتھ روایت کی ، انہوں نے ( سلیمان کے واسطے سے ) رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، انہوں نے ( اپنے چچاؤں میں سے ایک ) کے الفاظ نہیں کہے
ابوعمرو اوزاعی نے مجھے رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابونجاشی سے حدیث بیان کی اور انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے روایت کی ظُہیر بن رافع ان کے چچا تھے ، کہا : ظہیر رضی اللہ عنہ میرے پاس آئے تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ایسے کام سے منع فرمایا ہے جو ہمیں سہولت دینے والا تھا ۔ میں نے پوچھا : وہ کیا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فرمایا وہ برحق ہے ۔ کہا : آپ نے مجھ سے پوچھا : " تم اپنے کھیتوں کا کیا معاملہ کرتے ہو؟ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم انہیں چھوٹی نہر ( کے کناروں کی پیداوار ) پر یا کھجور یا جو کے ( متعینہ ) وسقوں پر اجرت پر دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تو ایسا نہ کرو ، اسے خود کاشت کرو یا کاشت کے لیے کسی کو دے دو یا ویسے ہی اپنے ہاتھ میں رکھو
عکرمہ بن عمار نے ابونجاشی سے ، انہوں نے حضرت رافع رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور انہوں نے اپنے چچا ظہیر رضی اللہ عنہ سے روایت کا تذکرہ نہیں کیا
امام مالک نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حنظلہ بن قیس سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے زمین کو کرائے پر دینے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمین کو کرائے پر دینے سے منع فرمایا ہے ۔ کہا : میں نے پوچھا : کیا سونے اور چاندی کے عوض بھی؟ انہوں نے جواب دیا : البتہ سونے اور چاندی کے عوض دینے میں کوئی حرج نہیں
اوزاعی نے ہمیں ربیعہ بن ابی عبدالرحمٰن سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حنظلہ بن قیس انصاری نے حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سونے اور چاندی ( دینار اور درہم ) کے عوض زمین کو بٹائی پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ۔ ( امر واقع یہ ہے کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں لوگ نہروں کی زمین ، چھوٹے نالوں کے کناروں کی زمین اور ( متعین مقدار میں ) فصل کی کچھ اشیاء کے عوض زمین اجرت پر دیتے تھے ۔ کبھی یہ ( حصہ ) تباہ ہو جاتا اور وہ محفوظ رہتا اور کبھی یہ محفوظ رہتا اور وہ تباہ ہو جاتا ، لوگوں میں بٹائی ( کرائے پر دینے ) کی صرف یہی صورت تھی ، اسی لیے اس سے منع کیا گیا ، البتہ معلوم اور محفوظ چیز جس کی ادایگی کی ضمانت دی جا سکتی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حنظلہ زُرَقی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انصار میں سب سے زیادہ ہمارے کھیت تھے ۔ کہا : ہم زمین کو اس شرط پر کرائے پر دیتے کہ یہ ( حصہ ) ہمارے لیے ہے اور وہ ( حصہ ) ان کے لیے ہے ، بسا اوقات اس حصے میں پیداوار ہوتی اور اس میں نہ ہوتی ، تو آپ نے ہمیں اس سے منع کر دیا ۔ البتہ آپ نے ہمیں چاندی کے عوض دینے سے منع نہیں کیا
حماد اور یزید بن ہارون نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے خبر دی ، نیز ابوبکر بن ابی شیبہ نے کہا : ہمیں علی بن مسہر نے حدیث بیان کی ، ان دونوں ( عبدالواحد اور علی ) نے ( سلیمان ) شیبانی سے اور انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن معقل سے مزارعت ( زمین کی پیداوار کی متعین مقدار پر بٹائی ) کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھے حضرت ثابت بن ضحاک رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا ۔ ابن ابی شیبہ کی روایت میں ہے : آپ نے اس سے منع فرمایا ۔ اور انہوں نے کہا : میں نے ابن معقل سے پوچھا ۔ عبداللہ کا نام نہیں لیا
ابوعوانہ نے ہمیں سلیمان شیبانی سے خبر دی ، انہوں نے عبداللہ بن سائب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم عبداللہ بن معقل کے پاس گئے ، ہم نے ان سے مزارعت کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا : حضرت ثابت رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزارعت سے منع فرمایا اور مؤاجرت ( نقدی کے عوض کرائے پر دینے ) کا حکم دیا ہے اور فرمایا : " اس میں کوئی حرج نہیں
حماد بن زید نے ہمیں عمرو ( بن دینار ) سے خبر دی کہ مجاہد نے طاوس سے کہا : ہمارے ساتھ حضرت رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ کے بیٹے کے پاس چلو اور ان سے ان کے والد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حدیث سنو ، کہا : انہوں ( طاوس ) نے انہیں ڈانٹا اور کہا : اللہ کی قسم : اگر مجھے علم ہوتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے تو میں یہ کام ( کبھی ) نہ کرتا لیکن مجھے اس شخص نے حدیث بیان کی جو اسے ان سب سے زیادہ جاننے والا ہے ، ان کی مراد حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو عاریتا دے ، یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( اس سے اللہ کی رضا بھی حاصل ہو گی اور جھگڑوں سے محفوظ بھی رہے گا)
سفیان نے ہمیں عمرو اور ابن طاوس سے حدیث بیان کی اور انہوں نے طاوس سے روایت کی کہ وہ ( نقدی کے عوض ) بٹائی پر زمین دیتے تھے ۔ عمرو نے کہا : میں نے ان سے کہا : ابو عبدالرحمٰن! اگر آپ مخابرہ چھوڑ دیں ( تو بہتر ہے ) کیونکہ لوگ سمجھتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مخابرہ سے منع فرمایا ہے ۔ انہوں نے کہا : عمرو! مجھے اس مسئلے کو ان سب کی نسبت زیادہ جاننے والے ، یعنی حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع نہیں فرمایا ، آپ نے تو صرف فرمایا تھا : " تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو ( زمین ) عاریتا دے یہ اس کے لیے اس کی نسبت بہتر ہے کہ اس پر متعین پیداوار وصول کرے ۔ " ( بلا عوض دینے سے اسے غیر متعین ، وسیع منفعت حاصل ہو گی)
ایوب ، سفیان ، ابن جریج اور شعبہ سب نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کی طرح بیان کیا
معمر نے ابن طاوس سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم میں سے کوئی اپنی زمین اپنے بھائی کو دے یہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ اس پر اتنا اتنا ، یعنی متعین مقدار میں وصول کرے ۔ "" کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : یہی حقل ہے اور انصار کی زبان میں محاقلہ ہے
عبدالملک بن زید نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس کی زمین ہو ، وہ اگر اسے اپنے بھائی کو عاریتا دے دے تو یہ اس کے لیے بہتر ہے