آل اسلام لائبریری

20 - کتاب العتق

1

عبداللہ ‌بن ‌عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌نے ‌فرمایا ‌جو ‌شخص ‌اپنا ‌حصہ ‌آزاد ‌كرے ‌بردہ ‌میں ‌سے ( ‌یعنی ‌وہ ‌بردہ ‌مشترك ‌ہو ) ‌اور ‌ایك ‌شریك ‌اپنا ‌حصہ ‌آزاد ‌كرے ‌اور ‌پھر ‌آزاد ‌كرنے ‌والے ‌كے ‌پاس ‌اس ‌قدر ‌مال ‌ہو ‌جق ‌بردے ‌كی ‌قیمت ‌كو ‌پہنچ ‌جا‎ئے ‌تو ‌اس ‌بردے ‌كی ‌واجبی ‌قیمت ‌لگا‎‎ئی ‌جائے ‌اور ‌باقی ‌شریكوں ‌كو ‌ان ‌كے ‌حصے ‌كی ‌قیمت ‌اس ‌كے ‌مال ‌میں ‌سے ‌دی ‌جائے ‌گی ‌اور ‌كل ‌بردہ ‌اس ‌كی ‌طرف ‌سے ‌آزاد ‌ہوجائے ‌گا ‌. ‌اور ‌جو ‌وہ ‌مال ‌دار ‌نہ ‌ہو ‌تو ‌جس ‌قدر ‌حصہ ‌اس ‌بردہ ‌كا ‌آزادہوا ‌اتنا ‌ہی ‌آزاد ‌رہے ‌گا ‌. ‌

2

اس حدیث کی دوسری اسناد مذکورہیں ۔

3

حضرت ‌ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌جو ‌بردہ ‌دو ‌آدمیوں ‌میں ‌مشترك ‌ہو ‌پھر ‌ایك ‌شریك ‌اپنا ‌حصہ ‌آزاد ‌كردیوے ‌تو ‌وہ ‌ضامن ‌ہوگا ‌دوسرے ‌شریك ‌كے ‌حصے ‌كا ( ‌اگر ‌مال ‌دار ‌ہو)

4

ابو ‌ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌رویت ‌ہے ‌رسول ‌اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وسلم ‌نے ‌فرمایا ‌جو ‌شخص ‌اپنا ‌حصہ ‌غلام ‌میں ‌آزاد ‌كردے ‌تو ‌اس ‌كا ‌چھڑانا ( ‌یعنی ‌دوسرے ‌حصے ‌كا ‌بھی ‌آزاد ‌كرنا ) ‌بھی ‌اسی ‌كے ‌مال ‌سے ہوگا ‌اگر ‌مال ‌دار ‌ہو ، ‌اگر ‌مال ‌دار ‌نہ ‌ہو ‌تو ‌غلام ‌محنت ‌مزدوری ‌كرے ‌اور ‌اس ‌پر ‌جبر ‌نہ ‌كریں ‌

5

ترجمہ ‌دوسری ‌روایت ‌كا ‌بھی ‌وہی ‌ہے ‌جو ‌اوپر ‌گذرا ‌اس ‌میں ‌اتنا ‌زیادہ ‌ہے ‌كہ ‌اگر ‌وہ ‌آزاد ‌كرنے ‌والا ‌مال ‌دار ‌نہ ‌ہو ‌تو ‌غلام ‌كی ‌واجبی ‌قیمت ‌لگائی ‌جائے ‌اور ‌محنت ‌كرے ‌اپنے ‌باقی ‌حصے ‌كے ‌لیے ‌جو ‌آزاد ‌نہیں ‌ہوا ‌مگر ‌اس ‌پر ‌جبر ‌نہیں ‌ہوگا ۔ ‌

6

قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌نے ‌ابن ‌ابی ‌عروبہ ‌كی ‌حدیث ‌كی ‌مانند ‌روایت ‌كی ‌اور ‌حدیث ‌میں ‌یہ ‌بھی ‌ذكر ‌كیا ‌كہ ‌اس ‌كی ‌واجبی ‌قیمت ‌لگائی جائے ۔

7

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے ایک لونڈی خرید کر اسے آزاد کرنے کا ارادہ کیا ۔ اس کے مالکوں نے کہا : ہم اس شرط پر یہ کنیز آپ کو بیچیں گے کہ اس کا حقِ ولاء ہمارا ہو گا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : "" یہ ( شرط ) تمہیں ( اس کو خرید کر آزاد کرنے سے ) نہ روکے ( اس کنیز کو ضرور آزادی ملنی چاہئے ) بلاشبہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے ( غلام یا کنیز کو ) آزاد کیا

8

لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عروہ سے روایت کی ، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں خبر دی کہ بریرہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی ۔ وہ ان سے اپنی مکاتبت ( قیمت ادا کر کے آزادی کا معامدہ کرنے ) کے سلسلے میں مدد مانگ رہی تھی ، اس نے اپنی مکاتبت کی رقم میں سے کچھ بھی ادا نہیں کیا تھا ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس سے کہا : اپنے مالکوں کے پاس جاؤ ، اگر وہ پسند کریں کہ میں تمہاری مکاتبت کی رقم ادا کروں اور تمہارا حقِ ولاء میرے لیے ہو ، تو میں ( تمہاری قیمت کی ادائیگی ) کر دوں گی ۔ بریرہ رضی اللہ عنہا نے یہ اپنے مالکوں سے کہی تو انہوں نے انکار کر دیا ، اور کہا : اگر وہ تمہارے ساتھ نیکی کرنا چاہتی ہیں تو کریں ، لیکن تمہاری ولاء کا حق ہمارا ہی ہو گا ۔ اس پر انہوں ( عائشہ رضی اللہ عنہا ) نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا : " تم خرید لو اور آزاد کر دو ، کیونکہ ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( منبر پر ) کھڑے ہوئے اور فرمایا : " لوگوں کو کیا ہوا ہے وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب ( کی تعلیمات ) میں نہیں ۔ جس نے ایسی شرط رکھی جو اللہ کی کتاب میں نہیں ہے تو اسے اس کا کوئی حق نہیں چاہے وہ سو مرتبہ شرط رکھ لے ۔ اللہ کی شرط زیادہ حق رکھتی ہے اور وہی زیادہ مضبوط ہے

9

یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ بن زبیر سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی : عائشہ! میں نے اپنے مالکوں سے 9 اوقیہ پر مکاتبت ( قیمت کی ادائیگی پر آزاد ہو جانے کا معاہدہ ) کیا ہے ، ہر سال میں ایک اوقیہ ( 40 درہم ادا کرنا ) ہے ، آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی ہے اور ( اس میں ) یہ اضافہ کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہیں ان کی یہ بات ( بریرہ کو آزاد کرنے سے ) نہ روکے ۔ اسے خریدو اور آزاد کر دو ۔ " اور ( یونس نے ) حدیث میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " امابعد! " ( خطبہ دیا جس میں شرط والی بات ارشاد فرمائی)

10

ابواسامہ نے کہا : ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے میرے والد نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی ، انہوں نے کہا : بریرہ میرے پاس آئی اور کہنے لگی : میرے مالکوں نے میرے ساتھ 9 سالوں میں 9 اوقیہ ( کی ادائیگی ) کے بدلے مکاتبت کی ہے ۔ ہر سال میں ایک اوقیہ ( ادا کرنا ) ہے ۔ میری مدد کریں ۔ میں نے اس سے کہا : اگر تمہارے مالک چاہیں کہ میں انہیں یکمشت گن کر دوں اور تمہیں آزاد کر دوں اور ولاء کا حق میرا ہو ، تو میں ایسا کر لوں گی ۔ اس نے یہ بات اپنے مالکوں سے کی تو انہوں نے ( اسے ماننے سے ) انکار کر دیا الا یہ کہ حقِ ولاء ان کا ہو ۔ اس کے بعد وہ میرے پاس آئی اور یہ بات مجھے بتائی ۔ کہا : تو میں نے اس پر برہمی کا اظہار کیا ، اور کہا : اللہ کی قسم! پھر ایسا نہیں ہو سکتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سنی تو مجھ سے پوچھا ، میں نے آپ کو ( پوری ) بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے خریدو اور آزاد کر دو ، ان کے لیے ولاء کی شرط رکھ لو ، کیونکہ ( اصل میں تو ) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا ۔ " میں نے ایسا ہی کیا ۔ کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شام کے وقت خطبہ دیا ، اللہ کی حمد و ثنا جو اس کے شایانِ شان تھی بیان کی ، پھر فرمایا : " امابعد! لوگوں کو کیا ہوا ہے؟ وہ ایسی شرطیں رکھتے ہیں جو اللہ کی کتاب میں ( جائز ) نہیں ۔ جو بھی شرط اللہ کی کتاب میں ( روا ) نہیں ، وہ باطل ہے ، چاہے وہ سو شرطیں ہوں ، اللہ کی کتاب ہی سب سے سچی اور اللہ کی شرط سب سے مضبوط ہے ۔ تم میں سے بعض لوگوں کو کیا ہوا ہے ، ان میں سے کوئی کہتا ہے : فلاں کو آزاد تم کرو اور حقِ ولاء میرا ہو گا ۔ ( حالانکہ ) ولاء کا حق اسی کا ہے جس نے آزاد کیا

11

ابن نمیر ، وکیع اور جریر سب نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ ابواسامہ کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ، لیکن جریر کی حدیث میں ہے ، کہا : اس ( بریرہ رضی اللہ عنہا ) کا شوہر غلام تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ( شادی برقرار رکھنے یا نہ رکھنے کے بارے میں ) اختیار دیا تو اس نے خود کو ( نکاح کی بندش سے آزاد دیکھنا ) پسند کیا ۔ اگر اس کا شوہر آزاد ہوتا تو آپ اسے یہ اختیار نہ دیتے ، اور ان کی حدیث میں امابعد کے الفاظ نہیں ہیں ۔ ( یہ الفاظ خطبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں)

12

ہشام بن عروہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، کہا : بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین فیصلے ہوئے : اس کے مالکوں نے چاہا کہ اسے بیچ دیں اور اس کے حقِ ولاء کو ( اپنے لیے ) مشروط کر دیں ، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا : " اسے خریدو اور آزاد کر دو ، کیونکہ ولاء اسی کا حق ہے جس نے آزاد کیا ۔ " ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : وہ آزاد ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا ، اس نے اپنی ذات ( کو آزاد رکھنے ) کا انتخاب کیا ۔ ( حضرت عائشہ نے ) کہا : لوگ اس پر صدقہ کرتے تھے اور وہ ( اس میں سے کچھ ) ہمیں ہدیہ کرتی تھی ، میں نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا : " وہ اس پر صدقہ ہے اور تم لوگوں کے لیے ہدیہ ہے ، لہذا اسے کھا لیا کرو

13

سماک نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے ، انہوں نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہ کو انصار کے لوگوں سے خریدا ، انہوں نے ولاء کی شرط لگائی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ولاء ( کا حق ) اسی کے لیے ہے جس نے ( آزادی کی ) نعمت کا اہتمام کیا ۔ " اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اختیار دیا جبکہ اس کا شوہر غلام تھا ۔ اور اس نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گوشت ہدیہ کیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر تم ہمارے لیے اس گوشت سے ( سالن ) تیار کرتیں؟ " حضرت عائشہ نے کہا : یہ ( گوشت ) بریرہ پر صدقہ کیا گیا تھا تو آپ نے فرمایا : " وہ اس کے لیے صدقہ تھا اور ہمارے لیے ہدیہ ہے

14

ہمیں محمد بن جعفر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے قاسم سے سنا ، وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے بریرہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کرنے کے لیے خریدنا چاہا تو ان لوگوں ( مالکوں ) نے اس کی ولاء کی شرط لگا دی ۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بات کا تذکرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا ، تو آپ نے فرمایا : " اسے خریدو اور آزاد کر دو کیونکہ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا ۔ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ( بریرہ رضی اللہ عنہا کی طرف سے ) گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا تو انہوں ( گھر والوں ) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : یہ بریرہ پر صدقہ کیا گیا ہے ، آپ نے فرمایا : " وہ اس کے لیے صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔ " اور اسے اختیار دیا گیا ۔ عبدالرحمٰن نے کہا : اس کا شوہر آزاد تھا ۔ شعبہ نے کہا : میں نے پھر سے اس کے شوہر کے بارے میں ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا ( وہ آزاد تھا یا غلام ۔ شک کے بغیر ، یقین کے ساتھ کی گئی روایت یہی ہے کہ وہ غلام تھا)

15

ابوداؤد نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے اسی سند سے اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی

16

عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بریرہ رضی اللہ عنہا کا شوہر غلام تھا

17

ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن نے قاسم بن محمد سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : بریرہ رضی اللہ عنہا کے معاملے میں تین سنتیں ( متعین ) ہوئیں : جب وہ آزاد ہوئی تو اس کے شوہر کے حوالے سے اسے اختیار دیا گیا ۔ اسے گوشت کا ہدیہ بھیجا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو ہنڈیا چولھے پر تھی ، آپ نے کھانا طلب فرمایا تو آپ کو روٹی اور گھر کے سالنوں میں سے ایک سالن پیش کیا گیا ، آپ نے فرمایا : " کیا میں نے آگ پر چڑھی ہنڈیا نہیں دیکھی جس میں گوشت تھا؟ " گھر والوں نے جواب دیا : کیوں نہیں ، اللہ کے رسول! وہ گوشت بریرہ رضی اللہ عنہا پر صدقہ کیا گیا تھا تو ہمیں اچھا نہ لگا کہ ہم آپ کو اس میں سے کھلائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرایا : " وہ اس پر صدقہ ہے اور اس کی طرف سے ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی ( بریرہ رضی اللہ عنہا ) کے بارے میں فرمایا تھا : " حقِ ولاء اسی کے لیے ہے جس نے آزاد کیا

18

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے چاہا کہ ایک لونڈی خرید کر آزاد کریں تو اس کے مالکوں نے ( اسے بیچنے سے ) انکار کیا ، الا یہ کہ حقِ ولاء ان کا ہو ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا : " یہ شرط تمہیں ( نیکی سے ) نہ روکے ، کیونکہ حق ولاء اسی کا ہے جس نے آزاد کیا

19

سلیمان بن بلال نے ہمیں عبداللہ بن دینار سے خبر دی ، انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ولاء کو بیچنے اور ہبہ کرنے سے منع فرمایا ۔ ابراہیم نے کہا : میں نے مسلم بن حجاج کو یہ کہتے ہوئے سنا : اس حدیث میں تمام لوگ عبداللہ بن دینار ہی پر انحصار کرنے والے ہیں ۔ ( سب سندیں انہیں پر آ کر مل جاتی ہیں)

20

ابن عیینہ ، اسماعیل بن جعفر ، سفیان ثوری ، شعبہ ، عبیداللہ اور ضحاک بن عثمان سب نے عبداللہ بن دینار سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، الا یہ کہ عبیداللہ سے ( عبدالوہاب ) ثقفی کی روایت کردہ حدیث میں صرف خرید و فروخت کا ذکر ہے ، انہوں نے ہبہ کا ذکر نہیں کیا

21

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میثاقِ مدینہ میں ) دیتوں ( عقول ) کی ادائیگی قبیلے کی ہر شاخ پر لازم ٹھہرائی ، پھر آپ نے لکھا : " کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ کسی ( اور ) مسلمان کی اجازت کے بغیر اس کے ( مولیٰ ) غلام کو اپنا مولیٰ ( حقِ ولاء رکھنے والا ) بنا لے ۔ " پھر مجھے خبر دی گئی کہ آپ نے ، اپنے صحیفے میں ، اس شخص پر جو یہ کام کرے ، لعنت بھیجی

22

سہیل نے اپنے والد ( صالح سمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : : جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی ( دوسری ) قوم کی ولاء اختیار کی ، اس پر اللہ کی اور فرشتوں کی لعنت ہے ۔ اور ( قیامت کے روز ) اس سے کوئی سفارش قبول کی جائے گی نہ فدیہ

23

زائدہ نے سلیمان ( اعمش ) سے ، انہوں نے ابوصالح سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس نے اپنے آزاد کرنے والوں کی اجازت کے بغیر کسی ( دوسری ) قوم کی ولاء اختیار کی ، اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، اور قیامت کے دن اس سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا نہ کوئی سفارش

24

ابراہیم تیمی کے والد یزید بن شریک سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا : جس کا گمان ہے کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفے کے سوا ۔ ۔ ۔ کہا : وہ صحیفہ ان کی تلوار کی نیام سے لٹکا ہوا تھا ۔ ۔ کوئی اور چیز ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو وہ جھوٹا ہے ۔ اس میں ( دیت وغیرہ کے ) اونٹوں کی عمریں اور زخموں ( کی دیت ) سے متعلقہ کچھ چیزیں ( لکھی ہوئی ) ہیں ۔ اور اس میں ( یہ لکھا ہوا ہے کہ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جبل عیر سے لے کر جبل ثور تک مدینہ حرم ہے ، جس نے اس میں ( گمراہی پھیلانے کی ) کوئی واردات کی یا واردات کرنے والے کسی شخص کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ بدلہ ۔ تمام مسلمانوں کی پناہ ایک ہے ۔ ان کا ادنی آدمی بھی کسی کو پناہ دے سکتا ہے ۔ جس نے اپنے والد کے سوا کسی کی طرف نسبت کی یا ( کوئی غلام ) اپنے آزاد کرنے والے مالکوں کے سوا کسی اور کا مولیٰ بنا ، اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے ، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس سے کوئی سفارش قبول کرے گا نہ فدیہ

25

اسماعیل بن ابی حکیم نے مجھے سعید بن مرجانہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کسی مومن گردن ( مومن غلام جس کی گردن میں غلامی کا طوق تھا ) کو آزاد کیا ، اللہ تعالیٰ اس ( آزاد کیے جانے والے ) کے ہر عضو کے بدلے اس ( آزاد کرنے والے ) کا وہی عضو آگ سے آزاد فرمائے گا

26

علی بن حسین نے سعید بن مرجانہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جس نے کسی مومن گردن کو آزاد کیا تو اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے اس ( آزاد کرنے والے ) کے اعضاء میں سے وہی عضو آگ سے آزاد فرمائے گا حتی کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو بھی

27

عمر بن ( زین العابدین ) علی بن حسین ( بن علی بن ابی طالب ) نے سعید بن مرجانہ سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جس نے کسی مومن گردن کو آزاد کیا ، اللہ تعالیٰ اس کے ہر عضو کے بدلے ( اس آزاد کرنے والے کا ہی ) عضو آگ سے آزاد کرے گا ، حتی کہ اس کی شرمگاہ کے بدلے اس کی شرمگاہ کو بھی آزاد کر دے گا

28

واقد بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے علی بن حسین ( بن علی بن ابی طالب ) کے ساتھی ( شاگرد ) سعید بن مرجانہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس مسلمان نے کسی مسلمان کو آزاد کیا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے ( آزاد کیے جانے والے ) ہر عضو کے بدلے اس کا وہی عضو آگ سے بچا لے گا ۔ " ( سعید بن مرجانہ نے ) کہا : جب میں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تو میں نکلا اور علی بن حسین کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو انہوں نے اپنا وہ غلام آزاد کر دیا جس ( کو خریدنے ) کے لیے ( عبداللہ ) ابن جعفر نے انہیں دس ہزار درہم یا ایک ہزار دینار دینے کی پیش کش کی تھی

29

ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا : ہمیں جرید نے سہیل سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( ابو صالح سمان ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بیٹا والد کا حق ادا نہیں کر سکتا ، الا یہ کہ اسے غلام پائے ، اسے خریدے اور آزاد کر دے ۔ " ابن ابی شیبہ کی روایت میں : " کوئی بیٹا اپنے والد کا " کے الفاظ ہیں

30

وکیع ، عبداللہ بن نمیر اور ابو احمد زبیری سب نے سفیان سے ، انہوں نے سہیل سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی اور ان سب نے بھی " کوئی بیٹا اپنے والد کا " کے الفاظ کہے