15 - کتاب الحج
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ احرام باندھنے والا کیسے کپڑے پہنے؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا : " نہ قمیص پہنو نہ عمامہ ، نہ شلوار ، نہ کوٹ ( ٹوپی جڑا لبادہ ) اور نہ موزے پہنو ، سوائے اس کے جسے جوتے میسر نہ ہوں وہ موزے پہن لے ، اور انھیں ٹخنوں کے نیچے تک کاٹ لے ۔ اور ایسا کپڑا نہ پہنو جسے کچھ بھی زعفران یا ورس ( زرد چولہ ) لگا ہو ۔
حضرت سالم نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا ، احرام باندھنے والا کیسا لباس پہنے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " محرم نہ قمیص پہنے ، نہ عمامہ ، نہ ٹوپی جرا لبادہ ، نہ شلوار ، نہ ایسے کپڑے پہنے جسے ورس یا زعفرا ن لگاہو ، اور نہ موزے پہنے ، مگر جسے جوتے نہ ملیں تو ( وہ موزے پہن لے اور ) انھیں ( اوپر سے ) اتنا کاٹ ے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے ہوجائیں ۔
عبداللہ بن دینار نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھنے والے کو زعفران یا ورس میں رنگے ہوئے کپڑے پہننے سے منع کیا ، نیز فرمایا؛ " جو جوتے نہ پائے تو وہ موزے پہن لے اورانھیں ٹخنوں کےنیچے تک کاٹ لے ۔
حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے ، انھوں نے جابر بن زید سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے سنا ، آپ فرمارہے تھے : " شلوار اس کے لئے ( جائز ) ہے جسے تہبند نہ ملے ، اور موزے اس کے لئے جسے جوتے میسر نہ ہو ، " یعنی احرام باندھنے والے کے لئے ۔
شعبہ نے عمرو بن دینار سے یہ روایت اسی سندکے ساتھ بیان کی کہ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عرفات میں خطبہ دیتے سنا ، پھر یہی حدیث سنائی ۔
ابن عینیہ ، ہشیم ، سفیان ثوری ، ابن جریج اور ایوب ( سختیانی ) ان تمام نے عمرو بن دینار سے مذکورہ سند کےساتھ روایت کی ، ان تمام میں سے اکیلے شعبہ کے علاوہ کسی نے یہ ذکر نہیں کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات میں خطبہ ارشادفرمارہے تھے ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جسے جوتے نہ ملیں وہ موزے پہن لے ، اور جسے تہبند نہ ملے وہ شلوار پہن لے ۔
ہمام نے کہا : ہمیں عطا ابن ابی رباح نے صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد ( یعلیٰ بن امیہ تمیمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص حاضر ہوا ۔ ( اس وقت ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ ( کے مقام ) پر تھے ، اس ( کے بدن ) پر جبہ تھا ، اس پر زعفران ملی خوشبو ( لگی ہوئی ) تھی ۔ یاکہا : زردی کا نشان تھا ۔ اس نے کہا : آپ مجھے میرے عمرے میں کیا کرنے کا حکم دیتے ہیں؟ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( اتنے میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترنے لگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرکپڑا تان دیا گیا ۔ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( اس عالم میں ) دیکھوں جب آپ پروحی اتر رہی ہو ۔ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ) ( عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کہنے لگے : کیاتمھیں پسند ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اتر رہی ہوتو تم انھیں دیکھو؟ ( یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کپڑے کا ایک کنارا اٹھایا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سانس لینے کی بھاری آواز آرہی تھی ۔ صفوان نے کہا : میرا گمان ہے انھوں نے کہا : ۔ ۔ ۔ جس طرح جوان اونٹ کے سانس کی آواز ہوتی ہے ۔ ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ کیفیت دو ر ہوئی ( تو ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عمرے کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ ( پھر اس نے فرمایا : ) تم اپنے ( کپڑوں ) سے زردی ( زعفران ) کا نشان ۔ ۔ ۔ یا فرمایا : خوشبو کا اثر ۔ ۔ دھو ڈالو ، اپنا جبہ اتار دو اور عمرے میں وہی کچھ کرو جو تم اپنے حج میں کرتے ہو ۔
عمرو بن دینار نے عطاء سے انھوں نے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، میں ( یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں موجود تھا ، اس ( کے بدن ) پر ٹکڑیوں والا ( لباس ) ، یعنی جبہ تھا وہ زعفران ملی خوشبوسے لت پت تھا ۔ اس نے کہا میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے ۔ اور میرے جسم پر یہ لباس ہے ۔ اور میں نے خوشبو بھی لگائی ہے ۔ ( کیایہ درست ہے؟ ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " تم اپنے حج میں کیا کرتے؟ " اس نے کہا : میں یہ اپنے کپڑے اتار دیتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا : " جو تم اپنے حج میں کرتے ہو وہی اپنے عمرے میں کرو ۔
۔ ابن جریج نے کہا : مجھے عطاء نے خبر دی کہ صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن امیہ نے انھیں خبر دی کہ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہاکرتے تھے : کاش!میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پروحی نازل ہورہی ہو ۔ ( ایک مرتبہ ) جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک کپڑے سےسایہ کیاگیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین بھی تھے ۔ جن میں عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ۔ اس نے خوشبوسےلت پت جبہ پہنا ہواتھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ( صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شخص کے بارے میں کیا خیا ل ہے ۔ جس نےاچھی طرح خوشبولگاکر جبے میں عمرے کا احرام باندھاہے ۔ ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ دیر اس کی طرف دیکھا ، پھرسکوت اختیار فرمایا تو ( اس اثناء میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہوناشروع ہوگئی ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہاتھ سے یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اشارہ کیا ، ادھرآؤ یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور اپنا سر ( چادر ) میں داخل کردیا ۔ ادھر آؤ ، یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگئے اور پنا سر ( چادر ) میں داخل کردیا ، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہورہاتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر بھاری بھاری سانس لیتے رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے وہ کیفیت دور ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ شخص کہاں ہے جس نے ابھی مجھ سے عمرے کے متعلق سوال کیا تھا؟ " آدمی کو تلاش کرکے حاضر کیا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ خوشبو جو تم نے لگا رکھی ہے ۔ اسے تین مرتبہ دھو لو اور یہ جبہ ( لباس ) ، اسے اتار دو ، پھر اپنے عمرے میں ویسے ہی کرو جیسے تم اپنے حج میں کرتے ہو ۔
قیس ، عطاء سے حدیث بیا ن کرتے ہیں ، وہ صفوان بن یعلیٰ بن امیہ سے ، وہ اپنے والد ( یعلی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ میں تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا ، وہ عمرے کااحرام باندھ کرتلبیہ کہہ چکا تھا ، اس نے اپنا سراور اپنی داڑھی کو زردرنگ سے رنگا ہواتھا ، اور اس ( کے جسم ) پر جبہ تھا ۔ اس نے پوچھا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے اور میں اس حالت میں ہوں جو آپ دیکھ رہے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جبہ اتار دوں ، اپنے آپ سے زرد رنگ کو دھو ڈالو اور جو تم نے اپنے حج میں کرنا تھا وہی عمرے میں کرو ۔
رباح بن ابی معروف نے ہم سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے صفوان بن یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد یعلیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ایک شخص آیا ، اس نے جبہ پہن رکھاتھا جس پر زعفران ملی خوشبو کے نشانات تھے ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے عمرے کا احرام باندھا ہے تو میں کس طر ح کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہےاور اسے کوئی جواب نہ دیا ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی اترتی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے آگے اوٹ کرتے ، آپ پر سایہ کرتے ۔ میں نے حضرت عمر سے کہا : میر ی خواہش ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو ، میں بھی کپڑے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ اپنا سر داخل کروں ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہونے لگی ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کو کپڑے سے چھپا دیا ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کپڑے میں اپنا سر داخل کردیا اور آپ کو ( وحی کے نزول کی حالت میں ) دیکھا ۔ جب آپ کی وہ کیفیت زائل کردی گئی تو فرمایا : " ابھی عمرے کے متعلق سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ " ( اتنے میں ) وہ شخص آپ کے پاس آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنا جبہ اتار دو ، اپنے جسم سے زعفران ملی خوشبو کا نشان دھوڈالو اور عمرے میں وہی کرو جو تم نے حج میں کرنا تھا ۔
عمرو بن دینا ر نے طاوس سے ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والو ں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( چاروں میقات ) ان جگہوں ( پر رہنے والے ) اور وہاں نہ رہنے والے ۔ وہاں تک پہنچنے والے ایسے لوگوں کے لیے ہیں جو حج اور عمرے کا ارادہ کریں اور جوان ( مقامات ) کے اندر ہو وہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے جو اس سے زیادہ حرم کے قریب ہو وہ اسی طرح کرے حتی کہ مکہ والے مکہ ہی سے احرا م باندھیں
وہیب نے کہا : ہمیں عبد اللہ بن طاوس نے اپنے والد سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ شام والوں کے لیے جحفہ نجد والوں کے لیے قرن المنازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو میقات مقرر کیا اور فر ما یا : " یہ ( مقامات ) وہاں کے باشندوں اور ہر آنے والے ایسے شخص کے لیے ( میقات ) ہیں جو دوسرے علاقوں سے وہاں پہنچے اور حج و عمرے کا ارادہ رکھتا ہو ۔ اور جو کو ئی ان ( مقامات ) سے اندر ہو وہ اسی جگہ سے ( احرا م ) باندھ لے ) جہاں سےوہ چلے حتیٰ کہ مکہ والے مکہ ہی سے ( احرام باند ھیں ۔)
نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن المنازل سے ( احرام باند ھ کر ) تلبیہ کہیں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے یہ بات بھی پہنچی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" یمن والے یلملم سے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہں ۔
سالم بن عبد اللہ بن عمر بن خطا ب نے اپنے والد سے روایت کی ۔ کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فر ما رہے تھے : "" اہل مدینہ کا مقام تلبیہ ( وہ جگہ جہاں سے بآواز بلند لبيك اللهم لبيك کہنے کا آغاز ہو تا ہے یعنی میقات مراد ہے ) ذوالحلیفہ ہے اہل شام کا مقام تلبیہ مهيعه وہی جحفه ہے اور اہل نجد کا قرن ( المنازل ) عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( مجھے بتا نے والے ) ان لوگوں کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔ ۔ ۔ میں نے آپ سے خود نہیں سنا ۔ ۔ ۔ فر ما یا "" اور اہل یمن کا مقام تلبیہ یلملم ہے ۔
عبد اللہ بن دینا ر سے روایت ہے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کو حکم دیا کہ وہ ذولحلیفہ سے شام والوں کو حکم دیا کہ وہ جحفہ سے اور نجد والوں کو حکم دیا کہ وہ قرن ( منا زل ) سے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کا آغا ز کریں ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے خبردی گئی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" یمن والے یلملم سے احرا م باند ھیں ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
روح بن عبادہ نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے مقام تلبیہ کے بارے میں پو چھا جا رہا تھا تو انھوں نے کہا : میں نے سنا پھر رک گئے اور ( کچھ وقفے کے بعد ) کہا : ان ( جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی ( کہ جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے سنا)
سفیا ن نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" مدینہ والے ذوالحلیفہ سے شام والے جحفہ سے اور نجد والے قرن منا زل سے احرا م باندھیں ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے بتا یا گیا ۔ ۔ ۔ میں نے خود نہیں سنا ۔ ۔ ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا یمن والے یلملم سے احرام باندھیں ۔
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا میں نے مالک کے سامنے ( اس حدیث کی ) قراءت کی انھوں نے نافع سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ یہ ہوا کرتا تھا ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَ میں بار بار حاضر ہوں اے اللہ ! تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضر ہوں یقیناً تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ۔ ( کسی بھی چیز میں ) تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ اور ( نافع نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ( مذکورہ تلبیہ ) میں یہ اضا فہ فر ما یا کرتے تھے ۔ "" لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" میں تیر ے سامنے حاجر ہوں حاضر ہوں تیری اطا عت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دونوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری ہی رضا کے لیے ہیں)
موسیٰ بن عقبہ نے سالم بن عبد اللہ بن عمر اور حضرت عبد اللہ کے مولیٰ نافع اور حمزہ بن عبد اللہ کے واسطے سے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری جب آپ کو لے کر مسجد ذوالحلیفہ کے پاس سیدھی کھڑی ہو جا تی تو آپ تلبیہ پکا رتے اور کہتے : "" میں بار بار حاضر ہوں ۔ اے اللہ ! میں تیرے حضور حاضر ہوں میں حاضرہوں یقیناً تمام تعریفیں اور ساری نعمتیں تیری ہیں اور ساری بادشاہت بھی تیری ہے ( کسی بھی چیز میں تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ ( سالم نا فع اور حمزہ نے ) کہا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ یہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تلبیہ ہے ۔ نافع نے کہا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان ( مذکورہ بالا ) کلما ت کے ساتھ ان الفاظ کاا ضافہ کرتے : "" میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری اطاعت کی ایک کے بعد دوسری سعادت ( حاصل کرنے کے لیے ہر وقت تیار ہوں ) اور ہر قسم کی خیر تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ( ہر دم ) تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور تمام عمل ( تیری رضا کے لیے ہیں)
عبید اللہ ( بن عمربن حفص العدوی المدنی ) نے کہا مجھے نا فع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے سنتے ہی تلبیہ یا د کر لیا پھر سالم نافع اور حمزہ کی حدیث کی طرح روایت بیا ن کی ۔
ابن شہاب نے کہا : بلا شبہ سالم بن عبد اللہ بن عمر نے مجھے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں تلبیہ پکا رتے سنا کہ آپ کے بال جڑے ( گوندیا خطمی بو ٹی وغیرہ کے ذریعے سے باہم چپکے ) ہو ئے تھے آپ کہہ رہے تھے ۔ لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ ، إِنَّ الْحَمْدَ ، وَالنِّعْمَةَ ، لَكَ وَالْمُلْكَ ، لاَ شَرِيكَ لَكَان کلما ت پر اضا فہ نہیں فر ما تے تھے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما یا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز ادا کرتے پھر جب آپ کی اونٹنی مسجد ذوالحلیفہ کے پاس آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ان کلما ت سے تلبیہ پکا رتے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے کہ عمر بن خطا ب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کلما ت کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا تلبیہ پکا رتے تھے اور ( ساتھ یہ ) کہتے : : لبيك اللهم لبيك لبيك لبيك وسعديك ، والخير بيديك ، والرغباء إليك والعمل "" : "" میں با ر بار حاضر ہوں ، اے اللہ !میں تیرے سامنے حاضر ہوں حاضر ہوں تیری طرف سے سعادتوں کا طلب گا ر ہوں ہر قسم کی بھلا ئی تیرے دو نوں ہاتھوں میں ہے اے اللہ !میں تیرے حضور حاضر ہوں ۔ ہر دم تجھی سے مانگنے کی رغبت ہے اور ہر عمل تیری رضا کے لیے ہے ۔
حضرت عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا مشر کین کہا کرتے تھے ہم حاضر ہیں ۔ تیرا کو ئی شریک نہیں ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے : " تمھا ری بر بادی ! بس کرو بس کرو ( یہیں پر رک جا ؤ ) مگر وہ آگے کہتے : مگر ایک ہے شریک جو تمھا را ہے تم اس کے مالک ہو ، وہ مالک نہیں وہ لو گ بیت اللہ کا طواف کرتے ہو ئے یہی کہتے تھے ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا میں نے مالک کے سامنے قراءت کی انھوں نے موسیٰ بن عقبہ سے اور انھوں نے سالم بن عبد اللہ سے روایت کی کہ انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا انھوں نے فر ما یا : یہ تمھا را چٹیل میدا ن بيداءوہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں غلط بیا نی کرتے ہو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں مگر مسجد کے قریب ( یعنی ذوالحلیفہ ) ہی سے احرا م باندھا تھا ۔
حاتم یعنی ابن اسماعیل نے مو سیٰ بن عقبہ سے انھوں نے سالم سے حدیث بیان کی کہا : جب ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ کہا جا تا کہ احرا م بیدا ء سے ( باند ھا جا تا ) ہے تو وہ کہتے پیداء وہ مقام ہے جس کے حوالے سے تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر غلط بیا نی کرتے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اور جگہ سے نہیں درخت کے پاس ہی سے احرا م باندھا تھا ۔ جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو گئی تھی ۔
سعید بن ابی سعید مقبری نے عبید بن جریج سے روایت کی کہ انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا اے ابو عبد الرحمٰن !میں نے آپ کو چا ر ( ایسے ) کام کرتے دیکھا ہے جو آپ کے کسی اور ساتھی کو کرتے نہیں دیکھا ۔ ابن عمر نے کہا : ابن جریج !وہ کو ن سے ( چار کام ) ہیں ؟ ابن جریج نے کہا : میں نے آپ کو دیکھا ہے کہ آپ ( بیت اللہ کے ) دو یما نی رکنوں ( کونوں ) کے سوا اور کسی رکن کو ہاتھ نہیں لگا تے ، میں نے آپ کو دیکھا ہے سبتی ( رنگے ہو ئے صاف چمڑے کے ) جو تے پہنتے ہیں ۔ ( نیز آپ کو دیکھا کہ زرد رنگ سے ( کپڑوں کو ) رنگتے یں اور آپ کو دیکھا ہے کہ جب آپ مکہ میں ہو تے ہیں تو لو گ ( ذوالحجہ کی ) پہلی کا چا ند دیکھتے ہی لبیک پکار نا شروع کر دیتے ہیں لیکن آپ آٹھویں کا دن آنے تک تلبیہ نہیں پکا رتے ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : جہا ں تک ارکان ( بیت اللہ کے کونوں ) کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمنی رکنوں کے سوا ( کسی اور رکن کو ) ہاتھ لگا تے نہیں دیکھا ۔ رہے سبتی جو تے تو بلا شبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جو تے پہنے دیکھا کہ جن پر بال نہ ہو تے تھے آپ انھیں پہن کر وضو فر ما تے ( لہٰذا ) مجھے پسند ہے کہ میں یہی ( سبتی جو تے ) پہنوں ۔ رہا زرد رنگ تو بلا شبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ یہ ( رنگ ) استعمال کرتے تھے ۔ اس لیے میں پسند کرتا ہوں کہ میں بھی اس رنگ کو استعمال کروں ۔ اور رہی بات تلبیہ ( لبیک کہتے نہیں سنا جب تک آپ کی سواری آپ کو لے کر کھڑی نہ ہو جا تی ۔)
ابن قسیط نے عبید بن جریج سے روایت کی کہا : میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بارہ دفعہ حج اور عمرے کیے ۔ میں نے کہا : اے عبد الرحمٰن !میں نے آپ میں چار چیزیں دیکھی ہیں اور اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی مگر ( تلبیہ بلند کرنے کے ) قصے میں مقبری کی روایت مخالفت کی ، ان الفاظ کے بغیر روایت بالمعنی کی ۔
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب رکا ب میں پاؤں رکھ لیتے اور آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہو جا تی تو آپ ذوالحلیفہ سے ( اس وقت ) بلند آواز میں لبیک پکا ر نا شروع فر ما تے ۔
صالح بن کیسان نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ بتا یا کرتے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تلبیہ پکارا جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی ۔
سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آل ذوالحلیفہ میں اپنی سواری پر سوار ہو ئے ۔ پھر سواری آپ کو لے کر سیدھی کھڑی ہو گئی تو آپ تلبیہ پکا ر نے لگے ۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ( سفر کے ) شروع میں ذوالحلیفہ میں رات گزاری اور وہاں کی مسجد میں نماز ادا کی ۔
عروہ نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے فر ما یا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرا م باندھا تو میں نے احرا م کے لیے اور آپ کے طواف بیت اللہ سے پہلے اھرا م کھولنے کے لیے آپ کو خوشبو لگائی ۔
افلح بن حمید نے قاسم بن محمد کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا تو احرام کے لیے اور طواف بیت اللہ سے پہلے جب آپ نے احرا م کھو لا تو آپ کے احرا م کھولنے کے لیے میں نے آپ کو اپنے ہا تھ سے خوشبو لگا ئی ۔
ہم سے یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی کہ عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد ( قاسم بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھنے سے پہلے آپ کے احرا م کے لیے اور طواف ( افاضہ ) کرنے سے پہلے احرام کھو لنے کے لیے خوشبو لگا تی تھی ۔
عبید اللہ بن عمر نے حدیث سنا ئی کہا : میں نے قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کھو لنے اور احرا م باند ھنے کے لیے خوشبو لگائی ۔
عمر بن عبد اللہ بن عروہ نے خبر دی کہ انھوں نے عروہ اور قاسم کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دیتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا حجۃ الودع کے موقع پر میں نے اپنے ہا تھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کھو لنے اور احرا م باند ھنے کے لیے ذریرہ ( نامی ) خوشبو لگا ئی ۔
سفیان نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں عثمان بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سوال کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھتے وقت کو ن سی خوشبو لگا ئی تھی ؟انھوں نے فر ما یا سب سے اچھی خوشبو ۔
ہشا م سے روایت ہے انھوں نے عثمان بن عروہ سے روایت کی کہا : میں عروہ کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باند ھنے سے پہلے جو سب سے عمد ہ خوشبو لگا سکتی تھی لگا تی پھر آپ احرا م باندھتےتھے ۔
ابو الرجال ( محمد بن عبد الر حمان بن حارثہ انصاری ) نے اپنی والد ہ ( عمرہ بنت عبد الرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہا بن سعد زرارہ انصار یہ ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باند ھتے وقت جب آپ احرا م کا ارادہ فرماتے اور طواف افاضہ کرنے سے پہلے احرا م کھو لتے وقت جو سب سے عمدہ خوشبو پا ئی وہ لگا ئی ۔
منصور نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ احرا م باند ھ چکے ہیں ۔ خلف نے "" جبکہ آپ احرا م باند ھ چکے ہیں "" کے الفا ظ نہیں کہے ۔ لیکن انھوں نے یہ کہا وہ آپ کے احرا م کی خوشبو تھی ( جو آپ نے احرا م باند ھنے سے پہلے اپنے جسم کو لگوائی تھی)
اعمش نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے ایسے لگتا ہے کہ میں ( اب بھی ) آپ کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بلند آواز سے لبیک پکا ر رہے ہیں ۔
ابو الضحی نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ایسے لگتا ہے جیسے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ تلبیہ پکار رہے ہیں ۔
مسلم نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا لگتا ہے کہ میں دیکھ رہی ہوں ( آگے ) وکیع کی حدیث کے مانند ہے ۔
حکم نے کہا : میں نے ابرا ہیم کو اسود سے حدیث بیان کرتے سنا انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں ( مانگ ) میں کوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے احرا م باندھا ہوا ہے ۔
مالک بن مغول نے عبد الرحمٰن بن اسود سے انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے فر ما یا : بلا شبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے بالوں کو جدا کرنے والی لکیروں میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرا م کی حالت میں ہیں ۔
ابو اسحاق نے ( عبد الرحمٰن ) بن اسود کو اپنے والد ( اسود بن یزید ) سے روایت کرتے ہو ئے سنا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م باندھنے کا ارادہ فر ما تے تو ( اس وقت ) جو بہترین خوشبو آپ کو میسر ہو تی اسے لگا تے اس کے بعد میں ( آپ کے احرا م باندھنے کے بعد ) آپ کے سراور داڑھی میں ( خوشبو کے ) تیل کی چمک دیکھتی
حسن بن عبد اللہ سے روایت ہے کہا ہمیں ابرا ہیم نے اسود سے حدیث بیان کی کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : ایسا لگتا ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں کستوری کی چمک دیکھ رہی ہوں اور آپ احرا م باند ھے ہو ئے ہیں ۔
سفیان نے حسن بن عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باندھنے سے پہلے اور قربانی کے دن بیت اللہ کا طواف کرنے سے پہلے ایسی خوشبو لگاتی جس میں کستوری ملی ہو تی تھی ۔
ابو عوانہ نے ابرا ہیم بن محمد بن منتشر سے انھوں نے اپنے والدسے روایت کی کہا میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شکس کے بارے میں سوال کیا جو خوشبو لگا تا ہے پھر احرا م بندھ لیتا ہے انھوں نے جواب دیا مجھے یہ پسند نہیں کہ میں احرا م بندھوں ( اور ) مجھسے خوشبو پھوٹ رہی ہو یہ بات مجھے ایسا کرنے سے زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کو ل مل لوں ۔ پھر میں حجرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں ھاضر ہوا اور انھیں بتا یا کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو کہا ہے مجھے یہ پسند نہیں کہ میں محرم ہوں اور مجھ ( میرے جسم ) سے خوشبو پھوٹ رہی ہو ایسا کرنے سے زیادہ مجھے یہ زیادہ پسند ہے کہ میں اپنے اوپر تار کو ل مل لوں ۔ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انھیں بتا یا کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو کہا ہے مجھے یہ پسند نہیں کہ میں محرم ہوں اور مجھ ( میرے جسم ) سے خوشبو پھوٹ رہی ہو ایسا کرنے سے زیادہ مجھے یہ پسند ہے کہ میں اپنے جسم پر تار کو ل مل لوں تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م باند ھتے وقت خوشبو لگا ئی تھی پھر آپ نے اپنی تمام بیویوں کے ہاں چکر لگا یا پھر آپ نے احرا م کی نیت کر لی ( احرا م کا آغاز کر لیا یعنی خوشبو لگا نے سے تھوڑی دیر بعد احرا م باند ھ لیا)
شعبہ نے ابرا ہیم بن محمد بن منتشر سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں نے اپنے والد کو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کرتے سنا انھوں نے فر ما یا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگا تی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشریف لے جا تے بعد ازیں آپ احرا م باندھ لیتے ( اور ) آپ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو تی تھی ۔
سفیان نے ابرا ہیم بن محمد بن منتشر سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا انھوں نے کہا یہ بات کہ میں تار کو ل مل لوں ۔ مجھے اس کی نسبت زیادہ پسند ہے کہ میں احرا م باندھوں اور مجھ سے خوشبو پھوٹ رہی ہو ۔ ( محمد نے کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوااور آپ کو ان ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی بات بتا ئی ۔ انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو لگا ئی پھر آپ اپنی تمام بیویوں کے ہاں تشر یف لے گئے پھر آپ محرم ہو گئے ( احرا م کی نیت کر لی ۔ ) باب : 8 ۔ جس نے حج و عمرے کا الگ الگ یا اکٹھا احرا م باندھا ہوا ہواس کے لیے کسی کھا ئے جا نے والے جا نور کا شکار جو خشک زمین پر رہتا ہو یا بنیادی طور پر خشکی سے تعلق رکھتا ہو حرا م ہے
مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عبید اللہ بن عبد اللہ سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے صعب بن جثامہ لیثی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے آپ کو ایک زیبراہدیتاً پیش کیا آپ ابو اء یاودان مقام پر تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے واپس کر دیا ( انھوں نے ) کہا : جب رسول اللہ نے میرے چہرے کی کیفیت دیکھی تو فر ما یا : بلا شبہ ہم نے تمھا را ہدیہ رد نہیں کیا لیکن ہم حالت احرا م میں ہیں ( اس لیے اسے نہیں کھا سکتے ۔)
لیث بن سعد معمر اور ابو صالح ان سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ( کہ حضرت صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) میں نےآپ کو ایک زیبرا ہدایتاً پیش کیا جس طرح مالک کے الفاظ ہیں اور لیث اور صالح کی روایت میں ( یوں ) ہے کہ صعب بن جثامہ نے انھیں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ) خبر دی ۔
سفیان بن عیینہ نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : میں نے آپ کو زیبرے کا گو شت ہدیتاً پیش کیا ۔
اعمش نے حبیب بن ابی ثابت سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیتاً زبیراپیش کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م میں تھے سو آپ نے اسے لو ٹا دیا اور فر ما یا : اگر ہم احرا م کی حالت میں نہ ہو تے تو ہم اسے تمھا ری طرف سے ( ضرور ) قبول کرتے ۔
منصور نے حکم سے اسی طرح شعبہ نے حکم کے واسطے سے اور واسطے کے بغیر ( براہ راست ) بھی حبیب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ حکم سے منصور کی روایت کے الفاظ ہیں کہ صعب بن جثامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبے کی ران ہدیتاً پیش کی ۔ حکم سے شعبہ کی روایت کے الفاظ ہیں زیبرے کا پچھلا دھڑپیش کیا جس سے خون ٹپک رہا تھا ۔ اور حبیب سے شعبہ کی روایت میں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو زیبرے کا ( ایک جانب کا ) آدھا حصہ ہدیہ کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا ۔
طاوس نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : ( ایک بار ) زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لا ئے تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں یاد کراتے ہو ئے کہا : آپ نے مجھے اس شکار کے گو شت کے متعلق کس طرح بتا یا تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرا م کی حالت میں ہدیتاً پیش کیا گیا تھا ؟ ( طاوس نے ) کہا ( زید بن ارقم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) بتا یا ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو شکار کے گو شت کا ایک ٹکڑا پیش کیا گیا تو آپ نے اسے واپس کر دیا اور فر ما یا : ہم اسے نہیں کھا سکتے ( کیونکہ ) ہم احرا م میں ہیں ۔
صالح بن کیسان نے کہا : میں نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ ابو محمد سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے کہ میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے حتی کہ جب ہم ( مدینہ سے تین منزل دو ر وادی ) قاحہ میں تھے تو ہم میں سے بعض احرا م کی حا لت میں تھے اور کوئی بغیر احرام کے تھا ۔ اچا نک میری نگا ہ اپنے ساتھیوں پر پڑی تو وہ ایک دوسرے کو کچھ دکھا رہے تھے میں نے دیکھا تو ایک زیبرا تھا میں نے ( فوراً ) اپنے گھوڑے پر زین کسی اپنا نیز ہ تھا مااور سوار ہو گیا ۔ ( جلدی میں ) مجھ سے میرا کو ڑا گر گیا میں نے اپنے ساتھیوں سے جو احرا م باند ھے ہو ئے تھے کہا : مجھے کو ڑا پکڑا دو انھوں نے کہا : اللہ کی قسم !ہم اس ( شکار ) میں تمھاری کوئی مدد نہیں کریں گے ۔ بالآخر میں اترا اسے پکڑا ۔ پھر سوار ہوا اور زیبرے کو اس کے پیچھے سے جا لیا اور وہ ایک ٹیلے کے پیچھے تھا ۔ میں نے اسے اپنے نیزے کا نشانہ بنا یا اور اسے گرا لیا ۔ پھر میں اسے ساتھیوں کے پاس لے آیا ۔ ان میں سے کچھ نے کہا : اسے کھا لو اور کچھ نے کہا : اسے مت کھانا نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( کچھ فاصلے پر ) ہم سے آگے تھے ۔ میں نے اپنے گھوڑے کو حرکت دی اور آپ کے پاس پہنچ گیا ( اور اس کے بارے میں پوچھا ) آپ نے فر ما یا : "" وہ حلال ہے اسے کھا لو ۔
ابو نضر نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مولیٰ نافع سے انھوں نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ ( عمرہ حدیبیہ میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے حتی کہ جب وہ مکہ کے راستے کے ایک حصے میں تھے ، وہ اپنے چند احرا م والے ساتھیوں کی معیت میں پیچھے رہ گئے وہ خود احرا م کے بغیر تھے ۔ تو ( اچا نک ) انھوں نے زبیرا دیکھا وہ اپنے گھوڑے کی پشت پر سیدھے ہو ئے اور اپنے ساتھیوں سے اپنا کو ڑا پکڑا نے کو کہا انھوں نے انکا ر کر دیا پھر ان سے اپنا نیزہ مانگا ( کہ ان کو ہاتھ میں تھما دیں ) انھوں نے ( اس سے بھی ) انکا ر کر دیقا ۔ انھوں نے خود ہی نیزہ اٹھا یا پھر زیبرے پر حملہ کر کے اسے مار لیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض ساتھیوں نے اس میں سے کھا یا اور بعض نے ( کھانے سے ) انکا ر کر دیا ۔ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پا س پہنچے تو آپ سے اس ( شکار ) کے بارے میں پو چھا : آپ نے فر ما یا : " یہ کھا نا ہی ہے جو اللہ تعا لیٰ نے تمھیں کھلا یا ہے ۔
زید بن اسلم نے عطا ء بن یسار سے انھوں نے سے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابو نضر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی البتہ زید بن اسلم کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا تمھا رے پاس اس کے گو شت میں سے کچھ باقی ہے؟
(یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے انھوں نے کہا : ) مجھ سے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : میرے والد حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو ئے ان کے ساتھیوں نے ( عمرے ) کا احرام باندھا لیکن انھوں نے نہ باندھا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتا یا گیا کہ غیقہ مقام پر دشمن ( گھا ت میں ) ہے ( مگر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے ۔ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ہمرا ہ تھا وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر ہنس رہے تھے ۔ اتنے میں میں نے دیکھا تو میری نظر زیبرے پر پڑی میں نے اس پر حملہ کر دیا اور اسے نیزہ مار کر بے حرکت کر دیا پھر میں نے ان سے مدد چا ہی تو انھوں نے میری مدد کرنے سے انکا ر کر دیا ۔ پھر ہم نے اس کا گو شت تناول کیا ۔ اور ہمیں اندیشہ ہوا کہ ہم ( آپ سے ) کاٹ ( کر الگ کر ) دیے جا ئیں گے ۔ تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلا ش میں روانہ ہوا کبھی میں گھوڑے کو بہت تیز تیز دوڑاتا تو کبھی ( آرام سے ) چلا تا آدھی را ت کے وقت مجھے بنو غفار کا ایک شخص ملا میں نے اس سے پو چھا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا ں ملے تھے؟ اس نے کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعهن کے مقام پر چھورا ہے آپ فر ما رہے تھے سُقیا ( پہنچو ) چنانچہ میں آپ سے جا ملا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کے صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین آپ کو سلام عرض کرتے ہیں اور انھیں ڈر ہے کہ انھیں آپ سے کا ٹ ( کر الگ کر ) دیا جا ئے گا ۔ آپ ان کا انتظار فر ما لیجیے ۔ تو آپ نے ( وہاں ) انکا انتظار فر ما یا ۔ پھر میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے شکار کیا تھا اور اس کا بچا ہوا کچھ ( حصہ ) میرے پاس باقی ہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فر ما یا ۔ " کھا لو " جبکہ وہ سب احرا م کی حا لت میں تھے ۔
عثمان بن عبد اللہ بن مو ہب نے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حج کے لیے نکلے ۔ ہم بھی آپ کے ساتھ نکلے ، کہا آپ نے اپنے صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کچھ لوگوں کو جن میں ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے ہٹا ( کر ایک سمت بھیج دیا اور فر ما یا "" ساحل سمندر لے لے کے چلو حتی کہ مجھ سے آملو ۔ "" کہا : انھوں نے ساھل سمندر کا را ستہ اختیار کیا ۔ جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا تو ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ سب نے احرا م باندھ لیا ( بس ) انھوں نے احرا م نہیں باندھا تھا ۔ اسی اثنا میں جب وہ چل رہے تھے انھوں نے زبیرے دیکھے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہزیبرا کوگرا لیا ۔ وہ ( لو گ ) اترے اور اس کا گو شت تناول کیا ۔ کہا وہ ( صحا بہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کہنے لگے ۔ ہم نے ( تو شکار کا گو شت کھا لیا جبکہ ہم احرا م کی حا لت میں ہیں ۔ ( راوی نے ) کہا : انھوں نے مادہ زیبرے کا بچا ہوا گو شت اٹھا لیا ( اور چل پڑے ) جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے کہنے لگے ۔ ہم سب نے احرا م باند ھ لیا تھا جبکہ ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان پر حملہ کر دیا اور ان میں سے ایک مادہ زیبرا مار لیا ۔ پس ہم اترے اور اس کا گو شت کھایا ۔ بعد میں ہم نے کہا : ہم احرا م باندھے ہو ئے ہیں اور شکار کا گو شت کھا رہے ہیں ! پھر ہم نے اس کا باقی گو شت اٹھا یا ( اور آگئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کیا تم میں سے کسی نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( شکار کرنے کو ) کہا تھا ۔ ؟یا کسی چیز سے اس ( شکار ) کی طرف اشارہ کیا تھا ؟انھوں نے کہا نہیں آپ نے فر ما یا : "" اس کا باقی گو شت بھی تم کھا لو ۔
شعبہ اور شیبان دو نوں نے عثمان بن عبد اللہ بن مو ہب سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔ شیبان کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کیا تم میں سے کسی نے ان سے کہا تھا کہ وہ اس پر حملہ کریں یا اس کی طرف اشارہ کیا تھا ؟ شعبہ کی روایت میں ہے کہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فر ما یا : کیا تم لوگوں نے اشارہ کیا یا مدد کی شکار کرا یا ؟ شعبہ نے کہا : میں نہیں جا نتا کہ آپ نے کہا : تم لوگوں نے مدد کی "" یا کہا : "" تم لو گوں نے شکار کرا یا ۔
یحییٰ ( بن ابی کثیر ) نے خبر دی کہا : مجھے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ ان کے والدنے اللہ ان سے را ضی ہو ۔ انھیں خبر دی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ حدیبیہ میں شر کت کی ، کہا : میرے علاوہ سب نے عمرے کا ( احرا م باند ھ لیا اور ) تلبیہ شروع کر دیا ۔ کہا : میں نے ایک زیبرا شکار کیا اور اپنے ساتھیوں کو کھلا یا جبکہ وہ سب احرا م کی حالت میں تھے ۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا انھیں بتا یا کہ ہما رے پاس اس ( شکار ) کا کچھ گو شت بچا ہوا ہے ۔ آپ نے ( ساتھیوں سے رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر ما یا : " اسے کھا ؤ " حالا نکہ وہ سب احرا م میں تھے ،)
ہمیں ابو حا زم نے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے اپنے والد ( ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے حدیث سنا ئی کہ وہ لو گ ( مدینہ سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے وہ احرام میں تھے اور ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بغیر احرا م کے تھے ۔ اور ( مذکورہبا لا ) حدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : کیا تمھا رے پاس اس میں سے کچھ ( بچا ہوا ) ہے ؟انھوں نے عرض کی ، اس کی ایک ران ہمارے پاس موجو د ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ لے لی اور اسے تنا ول فر ما یا ۔
عبد العزیز بن رفیع نے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ صحا بہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین کی نفری میں تھے انھوں نے احرا م باندھا ہوا تھا اور وہ خود احرا م کے بغیر تھے اورحدیث بیان کی اور اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کیا تم میں سے کسی انسا ن نے اس ( شکار ) کی طرف اشارہ کیا تھا یا انھیں ( ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ) کچھ کرنے کو کہا تھا ؟ انھوں نے کہا : نہیں اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ نے فر ما یا : " تو پھر تم اسے کھا ؤ ۔
معاذ بن عبد الرحمٰن بن عثمان تیمی نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا ہم احرام کی حا لت میں طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ ایک ( شکار شدہ ) پرندہ بطور ہدیہ ان کے لیے لا یا گیا ۔ طلحہ ( اس وقت ) سورہے تھے ۔ ہم میں سے بعض نے ( اس کا گو شت ) کھا یا اور بعض نے احتیاط برتی ۔ جب حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیدار ہو ئے تو آپ نے ان کی تا ئید کی جنھوں اسے کھا یا تھا اور کہا ہم نے اسے ( شکار کے گو شت کو حا لت احرا م میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھا یا تھا ۔
قاسم بن محمد کہتے ہیں میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : "" چار جانور ہیں سبھی ایذا دینے والے ہیں ۔ وہ حدود حرم سے باہر اورحرم میں ( جہاںپائے جا ئیں ) قتل کر دیے جا ئیں ، چیل کوا چوہا اور کا ٹنے والا کتا ( عبید اللہ بن مقسم نے ) کہا : میں نے قاسم سے کہا آپ کا سانپ کے بارے میں کہا خیال ہے ؟انھوں نے جواب دیا : اسے اس کے چھوٹے پن ( گھٹیا رویے ) کی بنا پر قتل کیا جا ئے گا ( جو اس میں ہے)
سعید بن مسیب نے حضڑت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" پانچ موذی ( جا ندار ) ہیں ۔ حل وحرم میں ( جہاں بھی مل جا ئیں ) مار دیے جا ئیں سانپ ، کوا ، جس کے سر پر سفید نشان ہو تا ہے چوہا ، کٹنا کتا اور چیل ۔
حماد بن یزید نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روا یت کی انھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پانچ ( جاندار ) موذی ہیں ۔ حرم میں بھی قتل کر دیے جا ئیں ۔ بچھو ، چو ہا ، چیل ، دھبوں والا کوا اور کا ٹنے والا کتا ۔ ( چار یا پانچ کہنے کا مقصد تحدید نہیں تھا ۔ آگے جتنے نام لیے گئے ان کا بیان تھا)
ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے مذکورہ بالا سند سے بھی حدیث بیان کی ۔
یزید بن زریع نے حدیث بیا ن کی ، ( کہا ) ہمیں معمر نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پانچ ( جا ندار موذی ہیں حرم میں بھی مار ڈا لے جا ئیں ۔ چو ہا ، بچھو ، کوا چیل اور کا ٹنے والا کتا ۔)
ہمیں عبد الرزاق نے خبر دی ( کہا ) ہمیں معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حل و حر م میں پانچ موذی ( جانوروں ) کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ پھر ( عبد الرزاق ) نے یزید بن زریع کے مانند حدیث بیان کی ۔
یو نس نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ( انھوں نے ) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پانچ جا نور ہیں سب کہ سب مو ذی ہیں انھیں حرم میں بھی مار دیا جا ئے ۔ کوا ، چیل ، کا ٹنے والا کتا ، بچھو ، اور چوہا ۔
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے انھوں نے زہری سے انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" پانچ ( موذی جا نور ) ہیں جو انھیں حرم میں اور احرا م کی حالت میں مار دے اس پر کو ئی گناہ نہیں ۔ چو ہا ، بچھو ، کوا چیل اور کا ٹنے والا کتا ۔ ابن ابی عمر نے اپنی روایت میں کہا : حرمت والے مقامات میں اور احرا م کی حا لت میں ۔
یو نس نے ابن شہاب کے واسطے سے خبر دی کہا : مجھے سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ؒ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جانوروں میں سے پانچ ہیں جو سب کے سب مو ذی ہیں انھیں قتل کرنے والے پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ بچھو ، کوا ، چیل چو ہا اور کا ٹنے والا کتا ۔
ہم سے زہیر نے بیان کیا ( کہا ) ہمیں زید بن جبیر نے حدیث سنا ئی کہ ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : احرا م والا کس جانور کو مار سکتا ہے ؟ انھوں نے فر ما یا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے خبر دی کہ آپ نے حکم دیا یا آپ کو ( اللہ کی طرف سے ) حکم دیا گیا کہ چو ہا ، بچھو ، چیل ، کا ٹنے والا کتا اور کوا قتل کر دیے جا ئیں ۔
ابو عوانہ نے زید بن جبیر سے حدیث سنا ئی کہا ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : ایک آدمی احرا م کی حا لت میں کو ن سے جا نور کو قتل کر سکتا ہے ؟انھوں نے کہا : مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک اہلیہ نے بتا یا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( احرا م کی ھا لت میں ) باولے کتے ، چوہے ، بچھو ، چیل ، کوے اور سانپ کو مارنے کا حکم دیتے تھے ۔ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) فر ما یا : اور نماز میں بھی ۔
مالک نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " پانچ ( موذی جا نور ایسے ) ہیں کہ احرا م باندھنے والے پر انھیں قتل کر دینے میں کو ئی گنا ہ نہیں ہے کہ کوا ، چیل ، چوہا اور کاٹنے والا کتا ۔
ابن جریج نے کہا : میں نے نافع سے پو چھا : آپ نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا سنا وہ احرا م والے شخص کے لیے کن جا نوروں کو مارنا حلال قرار دیتے تھے؟نافع نے مجھ سے کہا : حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے سنا : " پانچ ( موذی ) جا نور ہیں انھیں مارنے میں ان کے مارنے والے پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ کوا ، چیل بچھو ، چوہا اور کا ٹنے والا کتا
لیث بن سعد اور جریر یعنی ابن حا زم نے نا فع سے اسی طرح عبید اللہ ایوب اور یحییٰ بن سعید ان تینوں نے بھی نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح مالک اور ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ان میں سے کسی ایک نے بھی نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کے الفا ظ نہیں کہے ۔ سوائے اکیلےابن جریج کے ( البتہ ) ابن اسھاق نے ان الفا ظ میں ابن جریج کی متا بعت کی ہے ۔
محمد بن اسحا ق نے نافع اور عبید اللہ بن عبد اللہ سے خبر دی انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں ان میں سے جو بھی حرم میں قتل کر دیا جا ئے اس کے قتل پر کو ئی گنا ہ نہیں ۔ پھر مذکورہ بالا حدیث بیان کی ۔
یحییٰ بن یحییٰ ، یحییٰ بن ایو ب قتیبہ اور ابن حجر نے اسما عیل بن جعفر سے حدیث بیان کی کہا : عبد اللہ بن دینا ر سے روایت ہے کہ انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" پانچ ( موذی جا نور ) ہیں جو انھیں احرا م کی حالت میں مار دے اس پر کو ئی گناہ نہیں ۔ چو ہا ، بچھو ، کوا چیل اور کا ٹنے والا کتا ۔ الفاظ یحییٰ بن یحییٰ کے ہیں
مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری اور ابو ربیع نے حدیث بیان کی ( دونوں نے کہا ) ہمیں حما د بن زید نے حدیث سنائی ( حماد بن زید نے کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث بیا ن کی ، کہا : میں نے مجا ہد سے سنا ، وہ عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حدیبیہ کے د نوں میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشر یف لا ئے میں ۔ ۔ ۔ قواریری کے بقول اپنی ہنڈیا کے نیچے اور ابو ربیع کے بقول ۔ ۔ ۔ اپنی پتھر کی دیگ کے نیچے آگ جلا رہا تھا اور ( میرے سر کی ) جو ئیں میرے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا : " کیا تمھا رے سر کی مخلوق ( جوئیں رضی اللہ تعالیٰ عنہ تمھا رے لیے با عث اذیت ہیں؟کہا : میں نے جواب دیا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوادو ( اور فدیے کے طور پر ) تین دن کے روزےرکھو ۔ یا چھ مسکینوں کو کھا نا کھلا ؤ یا ( ایک ) قربا نی دے دو ۔ ایو ب نے کہا : مجھے علم نہیں ان ( فدیے کی صورتوں میں ) سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس چیز کا پہلے ذکر کیا ۔
ابن علیہ نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
ابن عون نے مجا ہد سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : یہ آیت میرے بارے میں نا زل ہوئی : پھر اگر تم میں سے کو ئی شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوالے ) تو فدیے میں روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔ کہا میں آپ کی خدمت میں حا ضر ہوا آپ نے فر ما یا : "" ذرا قریب آؤ ۔ میں آپ کے ( کچھ ) قیریب ہو گیا آپ نے فر ما یا : "" اور قریب آؤ ۔ تو میں آپ کے اور قریب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں ایذا دیتی ہیں ؟ ابن عون نے کہا : میرا خیال ہے کہ انھوں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا جی ہاں ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو آپ نے مجھے حکم دیا کے روزے صدقے یا قر بانی میں سے جو آسان ہو بطور فدیہ دوں ۔
سیف ( بن سلیمان ) نے کہا : میں نے مجا ہد سے سنا وہ کہہ رہے تھے کہ مجھے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حدیث سنا ئی کہا مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے اوپر ( کی طرف ) کھڑے ہو ئے اور ان کےسر سے جو ئیں گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا " کیا تمھا ری جو ئیں تمھیں اذیت دیتی ہیں ؟ میں نے کہا جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوا لو ۔ ( کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میرے بارے میں یہ آیت نازل ہو ئی پھر اگر کو ئی شخص بیما رہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ( اور وہ سر منڈوا لے ) تو فدیے میں رو زے رکھے یا صدقہ دے یا قر بانی کرے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فر ما یا : " تین دن کے روزے رکھویا ( کسی بھی جنس کا ) ایک فرق ( تین صاع ) چھ مسکینوں میں صدقہ کر و یا قر بانی میسر ہو کرو ۔
(ابن ابی نجیح ایوب حمید اور عبد الکریم نے مجا ہد سے انھوں نے ابن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دا خل ہو نے سے پہلے جب حدیبیہ میں تھے ان کے پاس سے گزرے جبکہ وہ کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) احرا م کی حالت میں تھے اور ایک ہنڈیا کے نیچے آگ جلا نے میں لگے ہو ئے تھے جو ئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں آپ نے فر ما یا : " کیا تمھا ری سر کی جوئیں تمھیں اذیت دے رہی ہیں؟ انھوں نے عرض کی جی ہاں ، آپ نے فر ما یا : " تو اپنا سر منڈوالو اور ایک فرق کھا نا چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔ ۔ ۔ ایک فرق تین صاع کا ہو تا ہے ۔ ۔ ۔ یا تین دن کے روزے رکھو یا قربانی کے ایک جا نور کی قر با نی کر دو ۔ ۔
ابو قلا بہ نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے انھوں نے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیبیہ کے دنو میں ان کے پاس گزرے اور ان سے پو چھا تمھا رے سر کی جوؤں نے تمھیں اذیت دی ہے ؟انھوں نے کہا : جی ہاں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " سر منڈوادو ۔ پھر ایک بکری بطور قر بانی ذبح کرو یا تین دن کے روزے رکھو یا کھجوروں کے تین صاع چھ مسکینوں کو کھلا دو ۔
شعبہ نے عبد الرحمٰن بن اصبہانی سے حدیث بیان کی انھوں نے عبد اللہ بن معقل سے انھوں نے کہا : میں کعب ( بن عجرہ ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جا بیٹھا وہ اس وقت ( کو فہ کی ایک ) مسجد میں تشریف فر ما تھے میں نے ان سے اس آیت کے متعلق سوال کیا : فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ " تو روزوں یا صدقہ یا قر بانی سے فدیہ دے ۔ حضرت کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ یہ آیت میرے بارے میں نازل ہو ئی تھی ۔ میرے سر میں تکلیف تھی مجھے اس حال میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے جا یا گیا کہ جو ئیں میرے چہرے پر پڑرہی تھیں تو آپ نے فر ما یا : " میرا خیال نہیں تھا کہ تمھا ری تکلیف اس حد تک پہنچ گئی ہے جیسے میں دیکھ رہا ہوں ۔ کیا تمھارے پاس کو ئی بکری ہے ؟میں نے عرض کی نہیں اس پر یہ آیت نازل ہو ئی ۔ فَفِدْيَةٌ مِّن صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ ۚ " ( نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فر ما یا : " ( تمھا رے ذمے ) تین دنوں کے روزے ہیں یا چھ مسکینوں کا کھا نا ہر مسکین کے لیے آدھا صاع کھا نا ۔ ( پھر کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : یہ آیت خصوصی طور پر میرے لیے اتری اور عمومی طور پر یہ تمھا رے لیے بھی ہے ۔
زکریا بن ابی زائد ہ سے روایت ہے کہا : ہمیں عبدالرحٰمن بن اصبہانی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا مجھے عبد اللہ بن معقل نے انھوں نے کہا : مجھے کعب بن عجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنا ئیکہ وہ احرا م باندھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ان کے سر اور داڑھی میں ( کثرت سے ) جو ئیں پڑ گئیں ۔ اس ( بات ) کی خبر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچی تو آپ نے انھیں بلا بھیجا اور ھجا م کو بلا کر ان کا سر مونڈ دیا پھر ان سے پو چھا : " کیا تمھا رے پاس کو ئی قربانی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : ( اے اللہ کے رسول ) میں اس کی استطاعت نہیں رکھتا آپ نے انھیں حکم دیا : تین دن کے روزے عکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھا نا مہیا کر دو مسکینو ں کے لیے ایک صاعہو اللہ عزوجل نے خاص ان کے بارے میں یہ آیت نازل فر ما ئی : " جو شخص تم میں سے مریض ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو ، اس کے بعد یہ ( اجازت ) عمومی طور پر تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روا یت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام کی حا لت میں سینگی لگوائی ۔
حضرت ابن بحسینہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ کے را ستے ہیں احرا م کی حالت میں اپنے سر کے در میان کے حصے پر سینگی لگوائی ۔
سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ایوب بن مو سیٰ نے نبیہ بن وہب سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا ہم ابان بن عثمان کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے جب ہم ملل کے مقام پر پہنچے تو عمر بن عبید اللہ کی انکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی ، جب ہم رَرحا ء میں تھے تو ان کی تکلیف شدت اختیار کر گئی انھوں نے مسئلہ پو چھنے کے لیے ابان بن عثمان کی طرف قاصد بھیجا ، انھوں نے ان کی طرف جواب بھیجا کہ دو نوں ( آنکھوں ) پر ایلوے کا لیپ کرو ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے واسطے سے اس شخص کے متعلق حدیث بیان کی تھی جو احرا م کی حا لت میں تھا جب اس کی آنکھوں میں تکلیف شروع ہو گئی تو آپ نے ( اس کی آنکھوں پر ) ایلوے کا لیپ کرا یا تھا ۔
ہمیں عبد الصمد بن عبد الوارث نے خبر دی کہا : مجھ سے میرے والد نے حدیث بیان کی کہا : ہم سے ایوب بن موسیٰ نے حدیث بیان کی کہا : مجھ سے نبیہ بن وہب نے حدیث بیان کی کہ ( ایک بار احرا م کی حالت میں ) عمر بن عبید اللہ بن معمر کی آنکھیں دکھنے لگیں انھوں نے ان میں سر مہ لگا نے کا ارادہ فر ما یا تو ابان بن عثمان نے انھیں روکا اور کہا کہ اس پر ایلوے کا پیپ کر لیں ۔ اور عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کی کہ آپ نے ایسا ہی کیا تھا ۔
سفیان بن عیینہ اور مالک بن انس نے زید بن اسلم سے انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن حنین سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن حنین ) سے انھوں نے عبد اللہ بن عباس اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ابو اء کے مقام پر ان دونوں کے در میان اختلا ف ہوا ۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم شخص اپنا سر دھو سکتا ہے اور مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : محرم اپنا سر نہیں دھو سکتا ۔ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے ( عبد اللہ بن حنین کو ) ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف بھیجا کہ میں ان سے ( اس کے بارے میں ) مسئلہ پوچھوں ( جب میں ان کے پاس پہنچا تو ) انھیں ایک کپڑے سے پردہ کر کے کنویں کی دو لکڑیوں کے در میان ( جو کنویں سے فاصلے پر لگا ئی جا تی تھیں اور ان پر لگی ہو ئی چرخی پر سے اونٹ وغیرہ کے ذریعے ڈول کا رسہ کھینچا جا تا تھا ) غسل کرتے ہو ئے پایا ۔ ( عبد اللہ بن حنین نے ) کہا : میں نے انھیں سلام کہا : وہ بو لے : یہ کون ( آیا ) ہے؟میں نے عرض کی : میں عبد اللہ بن حنین ہوں مجھے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ کی طرف بھیجا ہے کہ میں اپ سے پو چھوں : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم احرا م کی حا لت میں اپنا سر کیسے دھو یا کرتے تھے ؟ ( میری بات سن کر ) حضرت ابو اءایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنا ہاتھ کپڑے پر رکھ کر اسے نیچے کیا حتی کہ مجھے ان کا سر نظر آنے لگا پھر اس شخص سے جو آپ پر پانی انڈیل رہا تھا کہا : پانی ڈا لو ۔ اس نے آپ کے سر پر پا نی انڈیلا پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو خوب حرکت دی اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے لے آئے اور پیچھے لے گئے ۔ پھر کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح کرتے ہو ئے دیکھا تھا ۔
ہم سے ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا مجھے زید بن اسلم نے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور کہا کہ ابواء ایوب نے اپنے دو نوں ہاتھوں کو اپنے پورے سر پر پھیر اانھیں آگے اور پیچھے لے گئے اس کے بعد حضرت مسور رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میں آپ سے کبھی بحث نہیں کیا کروں گا ۔
سفیان بن عیینہ نے عمرو ( بن دینا ر ) سے ( انھوں نے ) سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ ایک شخص اپنے اونٹ سے گر گیا ۔ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فو ت ہو گیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے دونوں کپڑوں ( احرا م کی دو نوں چادروں ) میں اسے کفن دو اس کا سر نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اللہ تعا لیٰ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھا ئے گا کہ وہ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ہمیں عیسیٰ بن یو نس نے خبر دی کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے عمرو بن دینا ر نے سعید بن جبیر سے خبر دی انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، فر ما یا : ایک شکص احرا م کی حا لت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا وہ اپنے اونٹ سے گر گیا ( اس سے ) اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو ۔ اس کے اپنے ( احرام کے ) دو کپڑے پہنا ؤ اس کا سر نہ ڈھانپو بلا شبہ وہ قیامت کے روز آئے گا ۔ تلبیہ پکار رہا ہو گا ۔
محمد بن بکر برسانی نے کہا : ہمیں ابن جریج نے عمرو بن دینار سے خبر دی کہ انھیں سعید بن جبیر نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے خبر دی ۔ کہا : ایک شخص احرا م کی حا لت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آیا ۔ ( آگے اسی کے مانند ہے مگر ( محمد بن بکر نے ) کہا بلا شبہ اسے قیامت کے روز تلبیہ کہتا ہوا اٹھا یا جا ئے گا ۔ اس میں یہ اضافہ کیا کہ سعید بن جبیر نے گرنے کی جگہ کا نام نہیں لیا ۔
سفیان ثوری نے عمرو بن دینار سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کی سواری نے گرا کر مار دیا وہ احرا م کی حا لت میں تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسی کے ( احرا م کے ) دو کپڑوں میں کفنا دو اس کاسر اور چہرہ نہ ڈھانپو ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے دن تلبیہ پکار تا ہوا اٹھا یا جا ئے گا ۔
ہمیں ابو بشر نے حدیث سنائی کہا : ہمیں سعید بن جبیر نے حدیث بیان کی انھوں نے حضر ت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص احرا م کی حا لت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن تو ڑدی اور وہ فوت ہو گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دو اسے اس کے دو کپڑوں ( احرا م کی دو چادروں ) میں کفن دو نہ اسے خوشبو لگا ؤ نہ اس کا سر ڈھانپو بلا شبہ یہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھا یا جا ئے گا کہ اس کے بال چپکے ہو ئے ہوں گے ۔ ( جس طرح موت کے وقت احرام کی حا لت میں تھے)
ابو عوانہ نے ابو بشر سے حدیث سنائی انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص کو اس کے اونٹ نے ( گرا کر ) اس ( کی گردن ) کا منکا توڑ دیا جبکہ وہ ( شخص ) احرا م کی حا لت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر حج میں شر یک ) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے متعلق حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیا جا ئے خوشبو نہ لگا ئی جا ئے نہ ہی اس کا سر ڈھانپا جا ئے ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے روز ( احرا م کی حا لت میں ) چپکے ہو ئے بالوں کے ساتھ اٹھا یا جا ئے گا ۔
شعبہ نے کہا : میں نے ابو بشر سے سنا وہ سعید بن جبیر سے حدیث بیان کر رہے تھے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہو ئے سنا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حا ضر ہوا جبکہ وہ احرا م کی حا لت میں تھا ( اسی دورا ن میں ) وہ اپنی اونٹنی سے گر گیا تو اس نے اسی وقت اسے مار دیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے پانی اور بیر ی کے پتوں سے غسل دیا جا ئے اور اسے دو کپڑوں میں کفن دیا جا ئے خوشبو نہ لگا ئی جا ئے اور اس کا سر ( کفن سے ) با ہر نکلا ہوا ہو ۔ شعبہ نے کہا مجھے بعد میں انھوں نے یہی حدیث ( اس طرح ) بیان کیا کہ اس کا سر اور چہرہ باہر ہو ۔ بلا شبہ اسے قیامت کے دن ( احرا م میں ) چپکے بالوں کے ساتھ اٹھا یا جا ئےگا ۔
ابو زبیر نے کہا میں نے سعید بن جبیر کو کہتے ہو ئے سنا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ایک شخص کی اس کی سواری نے گرا کر گردن توڑ دی وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے غسل دیں اس کا چہرہ ۔ ۔ ۔ اور میرا خیال ہے کہا ۔ ۔ ۔ اور سر برہنہ رکھیں ۔ بلا شبہ قیامت کے دن اسے اس طرح اٹھا یا جا ئے گا کہ وہ بلند آواز سے تلبیہ پکا ر رہا ہو گا ۔
منصور نے سعید بن جبیر سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک شخص ( سفر حج میں شریک ) تھا اسے اس کی اونٹنی نے گرا کر اس کی گردن تو ڑ دی اور وہ فوت ہو گیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اسے غسل دو اور خوشبو اس کے قریب نہ لاؤ نہ ہی اس کا سر ڈھانپو ۔ بلا شبہ وہ قیامت کے دن اس طرح اٹھا یا جا ئے گا کہ وہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا ۔
ابو اسامہ نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے انھوں نے حضر عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے فر ما یا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( بن عبد المطلب ) کے ہاں تشریف لے گئے اور دریافت کیا : " تم حج کا ارادہ رکھتی ہو ۔ ؟ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم میں خود کو بیماری کی حا لت میں پا تی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فر ما یا : " حج ( کی نیت ) کرو اور شر ط کرلو اور یوں کہو : اللهم مَحِلِّي حيث حبستني " " اے اللہ !میں وہاں احرا م کھول دوں گی جہاں تو مجھے روک دے گا ۔ وہ حضرت مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اہلیہ تھیں ۔
زہری نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں حج کرنا چا ہتی ہوں جبکہ میں بیما ر ( بھی ) ہوں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم حج کے لیے نکل پڑو اور یہ شر ط کر لو کہ ( اے اللہ ! ) میں اسی جگہ احرا م کھول دوں گی جہا ں تو مجھے رو ک دے گا ۔
معمر نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اسی ( گزشتہ حدیث ) کے مطابق حدیث روایت کی ۔
ابو زبیر نے طاوس کو اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عکرمہ کو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہو ئے سنا کہ ضباعہ بنت زبیر بن اعبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ۔ اور کہا میں ( بیماری کی وجہ سے ) خود کو مشکل سے اٹھا پاتی ہوں اور حج بھی کرنا چا ہتی ہوں ۔ آپ نے فر ما یا " حج کا احرا م باندھ لو اور شرط لگا کو کہ ( اے اللہ ! ) جہاں تو مجھے روک دے گا وہی میرے احرام کھول دینے کا مقام ہو گا ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : کہ ضباعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) حج کر لیا ۔
عمرو بن ہرم نے سعید بن جبیر اور عکرمہ سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ضباعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حج کرنا چا ہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ شرط لگا لیں انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر ایسا ہی کیا ۔
ہمیں اسحاق بن ابرا ہیم ابو ایوب غیلا نی اور احمد بن خراش نے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ اسھاق نے کہا : ہم کو خبر دی اور دوسروں نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ ابو عامر نے جو عبد الملک بن عمر و ہیں انھوں نے کہا ہمیں رباح نے جو ابن ابی معروف ہیں عطا ء سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ضبا عہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فر نما یا حج ( کی نیت ) کرو اور ( احرا م بند ھتے ہو ئے ) شرط کرلو کہ ( اے اللہ ! ) تو نے جہاں مجھے روک دیا وہیں میرا احرا م ختم ہو جا ئے گا ۔ اور اسحاق کی روایت کے الفا ظ ہیں ( آپ نے ضبا عہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حکم دیا ۔)
(حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے انھوں نے بیان کیا کہ ذوالحلیفہ کے مقام پر واقع ) درخت کے قریب ( قیام کے دورا ن میں ) حضرت اسماءبنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو محمد بن ابی بکر کی ( پیدائش کی ) وجہ سے نفاس کا خون آنا شروع ہو گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ ان ( اپنی اہلیہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے کہیں کہ وہ غسل کر لیں اور احرا م باندھ لیں ۔
جعفر ( صادق ) نے اپنے والد محمد ( باقر بن علی زین العابدین بن حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے انھوں نے حضرت جا بر عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسماء بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ( کے بارے ) میں روایت کی کہ جب انھیں ذوالحلیفہ میں نفا س آگیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے ان ( اسماءبنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے کہا کہ وہ غسل کر لیں اور احرا م باندھ لیں ۔
مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم حجۃالوداع کے سال ( اس کی ادائیگی کے لیے ) اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہو ئے اور ہم ( میں سے کچھ ) نے عمرے کے لیے ( احرام باندھ کر ) تلبیہ کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر ما یا : " قربانی کا جا نور جس کے ساتھ ہو وہ عمرے کے ساتھ ہی حج کا بھی تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرام نہ کھولے جب تک دونوں ( کے لیے عائد کردہ احرا م کی پابندیوں ) سے آزاد نہ ہو جا ئے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا جب میں مکہ پہنچی تو ایا م مخصوصہ میں تھی میں نے حج کا طواف کیا اور نہ صفا مروہ کے درمیان سعی کی میں نے اس ( صورت حال ) کا شکوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھولو اور کنگھی کرو ( پھر ) حج کا تلبیہ پکارنا شروع کردو اور عمرے کو چھوڑدو ۔ انھوں نے کہا : میں نے ایسا ہی کیا پھر جب ہم نے حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا میں نے ( وہاں سے احرا م باندھ کر ) عمرہ کیا ۔ آپ نے فر ما یا : " یہ ( عمرہ ) تمھا رے ( اس رہ جا نے والے ) عمرے کی جگہ ہے ۔ جن لوگوں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ انھوں نے بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا اور پھر احرام کھول دیے ۔ پھر جب وہ لو گ ( حج کے دورا ن میں ) منیٰ سے لوٹے تو انھوں نے اپنے حج کے لیے دوسری بار طواف کیا البتہ وہ لوگ جنھوں نے حج اور عمرے کو جمع کیا تھا ( حج قران کیا تھا ) تو انھوں نے ( صفامروہ کا ) ایک ہی طواف کیا ۔
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حجۃالوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا اور بعض نے ( صرف ) حج کے لیے حتیٰ کہ ہم مکہ پہنچ گئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" جس نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا وہ قربانی نہیں لا یا ۔ وہ احرا م کھو ل دے ۔ اور جس نے عمرے کا احرا م باندھا تھا اور ساتھ قربانی بھی لا یا ہے وہ جب تک قربانی ذبح نہ کر لے احرا م ختم نہ کرے ۔ اور جس نے صرف حج کے لیے تلبیہ کہا تھا وہ اپنا حج مکمل کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا مجھے ( راستے میں ) ایام شروع ہو گئے ۔ میں عرفہ کے دن تک ایام ہی میں رہی اور میں نے صرف عمرے کے لیے تلبیہ پکا را تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے سر کے بال کھولوں لنگھی کروں اور حج کے لیے تلبیہ پکاروں اور عمرے ( کے اعمال ) چھوڑدوں تو میں نے یہی کیا ۔ جب میں نے اپنا حج ادا کر لیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا اور مجھے حکم دیا کہ میں اس عمرے کی جگہ عمرہ کرلوں جسے حج کا دن آجا نے کی بنا پر مکمل کر کے میں اس کاا حرا م نہ کھول پا ئی تھی ۔
معمر نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا حجۃ الوداع کے سال ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے سفر کے لیے ) نکلے ۔ میں نے عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا لیکن ( اپنے ) ساتھ قر بانی نہیں لا ئی تھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہوں وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رے اور اس وقت تک احرا م نہ کھو لے جب تک ان دونوں سے فارغ نہ ہو جا ئے ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : مجھے ایا م شروع ہو گئے جب عرفہ کی رات آگئی میں نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نے تو عمرے کے لیے تلبیہ پکارا تھا ۔ اب میں اپنے حج کا کیا کروں ؟آپ نے فر ما یا : " اپنے سر کے بال کھو لو کنگھی کرو اور عمرے سے رک جا ؤ حج کے لیے تلبیہ پکا رو ۔ انھوں نے کہا : جب میں نے اپنا حج مکمل کر لیا ( تو آپ نے میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھا یا اور مقام تنعیم سے اس عمرے کی جگہ جس سے میں رک گئی تھی ( دوسرا ) عمرہ کروا دیا ۔
سفیان نے زہری سے انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر حج کے لیے ) نکلے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو اکٹھے عمرے اور حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکا رے ۔ جو ( صرف ) حج کے لیے تلبیہ پکارنا چا ہے پکارے اور جو ( صرف ) عمرے کے لیے پکا رنا چاہے وہ ایسا کر لے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے لیے تلبیہ پکارا اور آپ کے ساتھ کئی لوگوں نے ( اکیلے حج کے لیے ) تلبیہ کہا کئی لوگوں نے عمرے اور حج ( دونوں ) کے لیے تلبیہ کہا اور کئی لوگوں نے صرف عمرے کے لیے کہا اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔
عبدہ بن سلمیان نے ہشام سے انھوں نے اپنے والد ( عرو ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم حجۃ الوداع کے موقع پر ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" تم میں سے جو صرف عمرے کے لیے تلبیہ کہنا چا ہے کہے ۔ اگر یہ بات نہ ہو تی کہ میں قر بانی ساتھ لا یا ہوں تو میں بھی عمرے کا تلبیہ کہتا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : لوگوں میں کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا اور کچھ ایسے تھے جنھوں نے صرف حج کا تلبیہ کہا اور میں ان لوگوں میں سے تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ کہا ۔ ہم نکل پڑے حتی کہ مکہ آگئے میرے لیے عرفہ کا دن اس طرح آیا کہ میں ایا م میں تھی اور میں نے ( ابھی ) عمرے ( کی تکمیل کر کے اس ) کا احرا م کھو لا نہیں تھا میں نے اس ( بات ) کا شکوہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اپنا عمرہ چھوڑدو اپنے سرکی مینڈھیاں کھول دو کنگھی کر لو اور حج کا تلبیہ کہنا شروع کر دو ۔ انھوں نے کہا : میں نے یہی کیا جب حصبہ کی رات آگئی اور اللہ تعا لیٰ نے ہمارا حج مکمل فر ما دیا تھا تو ( آپ نے ) میرے ساتھ ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا انھوں نے نجھے ساتھ بٹھا یا اور مجھے لے کر تنعیم کی طرف نکل پڑے وہاں سے میں نے عمرے کا تلبیہ کہا ۔ اس طرح اللہ نے ہمارا حج پورا کرادیا اور عمرہ بھی ۔ ( ہشام نے کہا : اس ( الگ عمرے ) کے لیے نہ قر بانی کا کو ئی جا نور ( ساتھ لا یا گیا ) تھا نہ صدقہ تھا اور نہ روزہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ان میں سے کو ئی کا م کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئی ۔)
ابن نمیر نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ روایت کی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ذوالحجہ کا چاند نکلنے کے قریب قریب ( حج کے لیے ) نکلے اور ہمارے پیش نظر صرف حج ہی تھا ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم میں سے جو عمرے کا تلبیہ پکارنا چاہے وہ ( اکیلے ) عمرے کا تلبیہ پکا رے ۔ پھر عبد ہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔
وکیع نے ہشام سے سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم ذوالحجہ کا چا ند نکلنے کے قریب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے مدینہ سے ) نکلے ہم میں سے بعض نے عمرے کا تلبیہ پکارا بعض نے حج کا ۔ اور میں ان لوگوں میں شامل تھی جنھوں نے صرف عمرے کا تلبیہ پکارا تھا ۔ اور ( وکیع نے ) آگے ان دونوں ( عبدہ اور ابن نمیر ) کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور اس میں یہ کہا عروہ نے اس کے بارے میں کہا : بلا شبہ اللہ نے ان ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ) اس طرح عمرہ کرنے میں نہ کو ئی قر بانی تھی نہ روزہ اور نہ صدقہ ۔
محمد بن عبد الرحمٰن بن نوفل نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حجۃ الودع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ہممیں سے کچھ ایسے تھے جنھوں نے ( صرف ) عمرےکا تلبیہ کہا بعض نے حج اور عمرے دونوں کا اور بعض نے صرف حج کا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکارا ۔ جس نے عمرے کا تلبیہ کہا تھا وہ تو ( عمرے کی تکمیل کے بعد ) حلال ہو گیا اور جنھوں نے صرف حج کا یا حج اور عمرے فونوں کا تلبیہ کہا تھا اور قربانی کے جا نور ساتھ لا ئے تھے وہ لوگ قربانی کا دن آنے تک احرا م کی پابندیوں سے آزاد نہیں ہو ئے ۔
قاسم نے اپنے والد ( محمد بن ابی بکر ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہمارے پیش نظر حج کے سوا اور کچھ نہ تھا ۔ جب ہم مقام سرف یاس کے قریب پہنچے تو مجھے ایام شروع ہو گئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اور مجھے روتا ہوا پا یا ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیا تمھا رے ایام شروع ہو گئے ہیں ؟ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" بلا شبہ یہ چیز اللہ تعا لیٰ نے آدم کی بیٹیوں کے لیے لکھ ( کر مقدر کر ) دی ہے تم ( سارے ) کا م ویسے ہی سر انجا م دو جیسے حاجی کرتے ہیں سوائے یہ کہ جب تک غسل نہ کر لو بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا ( اس حج میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قربانی کی ۔
عبد الرحمٰن ابن سلمہ ماجثون نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور حج ہی کا ذکر کر رہے تھے ۔ جب ہم سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے ایام شروع ہو گئے ۔ ( اس اثنا میں ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ( حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : تمھیں کیا رلا رہا ہے ؟میں نے جواب دیا اللہ کی قسم ! کاش میں اس سال حج کے لیے نہ نکلتی ۔ آپ نے پو چھا : تمھا رے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ کہیں تمھیں ایام تو شروع نہیں ہو گئے ؟ میں نے کہا : جی ہاں آپ نے فر ما یا : "" یہ چیز تو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں کے لیے مقدر کر دی ہے ۔ تم تمام کا م ویسے کرتی جاؤ جیسے ( تمام ) حا جی کریں مگر جب تک پاک نہ ہو جاؤ بیت اللہ کا طواف نہ کرو ۔ انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : جب میں مکہ پہنچی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے فر ما یا : "" تم اسے ( حج کی نیت کو بدل کر ) عمرہ کر لو ۔ جن کے پاس قربانیا ں تھیں ان کے علاوہ تمام صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اسی کے مطا بق عمرے کا ) تلبیہ پکارنا شروع کر دیا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا اور قربانیاں ( صرف ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور ( بعض ) اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ( ہی ) کے پاس تھیں ۔ جب وہ چلے تو انھوں نے ( حج ) کا تلبیہ پکارا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب قر بانی کا دن آیا تو میں پاک ہو گئی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا تو میں نے طواف ( افاضہ ) کر لیا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ہمارے پاس گا ئے کا گو شت لا یا گیا میں نے پو چھا : یہ کیا ہے ؟ انھوں ( لا نے والوں ) نے جواب دیا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کی طرف سے گا ئے کی قر بانی دی ہے ۔ جب ( مدینہ کے راستے منیٰ کے فوراً بعد کی منزل ) محصب کی رات آئی تو میں نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ حج اور عمرہ ( دونوں ) کر کے لو ٹیں اور میں ( اکیلا ) حج کر کے لوٹوں ؟ کہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( میرے بھا ئی ) عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا انھوں نے مجھے اپنے اونٹ پر ساتھ بٹھا یا ۔ انھوں نے ) کہا : مجھے یا د پڑ تا ہے کہ میں ( اس وقت نو عمر لرکی تھی ( راستے میں ) میں اونگھ رہی تھی اور میرا منہ ( بار بار ) کجا وے کی پچھلی لکڑی سے ٹکراتا تھا حتیٰ کہ ہم تنعیم پہنچ گئے ۔ پھر میں نے وہاں سے اس عمرے کے بدلے جو لوگوں نے کیا تھا ( اور میں اس سے محروم رہ گئی تھی ) عمرے کا ( احرا م باند ھ کر ) تلبیہ پکا را
حماد ( بن سلمہ ) نے عبد الرحمٰن سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم نے حج کا تلبیہ پکا را جب ہم سرف مقام پر تھے میرے ایام شروع ہو گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( میرے حجرے میں ) داخل ہو ئے تو میں رورہی تھی ( حماد نے ) اس سے آگے ماجثون کی حدیث کی طرح بیان کیا مگر حماد کی حدیث میں یہ ( الفا ظ ) نہیں : قربانی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر و عمر اور اصحاب ثروت رضوان اللہ عنھم اجمعین ہی کے پاس تھی ۔ پھر جب وہ چلے تو انھوں نے تلبیہ پکارا ۔ اور نہ یہ قول ( ان کی حدیث میں ہے ) کہ میں نو عمر لڑکی تھی مجھے اونگھ آتی تو میرا سر ( بار بار ) پالان کی پچھلی لکڑی کو لگتا تھا ۔
مالک نے عبد الرحمٰن بن قاسم سے انھوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلا حج ( افراد ) کیا تھا ۔
افلح بن حمید نے قاسم سے انھوں نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے حج کے مہینوں میں حج کی حرمتوں ( پابندیوں ) میں اور حج کے ایام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں روانہ ہو ئے حتی کہ سرف کے مقا م پر اترے ۔ ( وہاں پہنچ کر ) آپ اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے پاس تشریف لے گئے اور فر ما یا : "" تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ہے ۔ اور وہ اپنے حج کو عمرے میں بدلنا چاہتا ہے توا یسا کر لے اور جس کے ساتھ قربانی کے جا نور ہیں وہ ( ایسا ) نہ کرے ۔ ان میں سے کچھ نے جن کے پاس قربانی نہیں تھی اس ( عمرے ) کو اختیار کر لیا اور کچھ لوگوں نے رہنے دیا ۔ البتہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور آپ کے ساتھ بعض صاحب استطاعت صحابہ کے ساتھ قربانیاں تھیں ۔ پھر آپ میرے پاس تشریف لا ئے تو میں رو رہی تھی ۔ آپ نے فر ما یا : "" کیوں روتی ہو؟ میں نے جواب دیا میں نے آپ کی آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ گفتگو سنی ہے اور عمرے کے متعلق بھی سن لیا ہے میں عمرے سے روک دی گئی ہوں ۔ آپ نے پو چھا : ( کیوں ) تمھیں کیا ہے ؟میں نے جواب دیا : میں نماز ادا نہیں کر سکتی ۔ آپ نے فر ما یا : "" یہ ( ایام عمرے حج میں ) تمھارے لیے نقصان دہ نہیں تم اپنے حج میں ( لگی ) رہو امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ تمھیں یہ ( عمرے کا ) اجر بھی دے گا تم آدم ؑکی بیٹیوں میں سے ہو ۔ اللہ تعا لیٰ نے تمھارے لیے بھی وہی کچھ لکھ دیا ہے جو ان کی قسمت میں لکھا ہے کہا ( پھر ) میں احرا م ہی کی حا لت میں ) اپنے حج کے سفر میں نکلی حتیٰ کہ ہم منیٰ میں جا اترے اور ( تب ) میں ایام سے پاک ہو گئی پھر ہم سب نے بیت اللہ کا طواف ( افاضہ ) کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وادی محصب میں پڑاؤ ڈالا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( میرے بھا ئی ) کو بلا یا اور ان سے ) فر ما یا : "" اپنی بہن کو حرم سے باہر ( تنعیم ) لے جاؤ تا کہ یہ ( احرام باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ کہے اور ( عمرے کے لیے بیت اللہ ( اور صفامروہ ) کا طواف کر لے ۔ میں ( تمھا ری واپسی تک ) تم دونوں کا یہیں انتظار کروں گا ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : ہم نکل پڑے میں نے ( احرا م باندھ کر ) بیت اللہ اور صفامروہ کا طواف کیا ۔ ہم لوٹ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات کے وقت اپنی منزل ہی پر تھے ۔ آپ نے ( مجھ سے ) پو چھا : "" کیا تم ( عمرے سے ) فارغ ہو گئی ہو؟ میں نے کہا جی ہاں پھر آپ نے اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں کو چ کے اعلان کا حکم دیا ۔ آپ ( وہاں سے ) نکلے بیت اللہ کے پاس سے گزرے اور فجر کی نماز سے پہلے اس کا طواف ( وداع ) کیا پھر مدینہ کی طرف روانہ ہو گئے ۔
عبید اللہ بن عمرنے قاسم بن محمد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فر ما یا ( جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کے لیے نکلے تھے تو ) ہم میں سے بعض نے اکیلے حج ( افراد ) کا تلبیہ کہا بعض نے ایک ساتھ دونوں ( قرن ) اور بعض نے حج تمتع کا ارادہ کیا ۔
قاسم بن محمد سے روایت ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( صرف ) حج کےلئے آئیں تھیں
یحییٰ بن سعید نے عمرہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا ، وہ فرما رہی تھیں : ذوالعقدہ کے پانچ دن باقی تھے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لیے ) نکلے ، ہمارے پیش نظر صرف حج تھا ۔ جب ہم مکہ کہ قریب پہنچے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فر مایا : "" "" جس کے ہمراہ قربانی نہیں ہے وہ جب بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کر لے تو احرا م کھول دے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : عید کے دن ہمارے پاس گا ئے گو شت لا یا گیا ۔ میں نے پوچھا : یہ کیا ہے؟بتا یا گیا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ( یہ گا ئے ) ذبح کی ہے یحییٰ نے کہا : میں نے یہ حدیث قاسم بن محمد بن قاسم کے سامنے پیش کی تو ( انھوں نے ) فر ما یا : اللہ کی قسم اس ( عمرہ ) نے تمھیں یہ حدیث بالکل صحیح صورت میں پہنچا ئی ہے ۔
عبد الوہاب اور سفیان بن عیینہ نے یحییٰ سے اسی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی ،
(ابرا ہیم نے اسود اور قاسم سے ان دونوں نے ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ ) حج اور عمرہ دودو مناسک ادا کر کے ( اپنے گھروں کو ) لو ٹیں گے اور میں صرف ایک منسک ( حج ) کر کے لو ٹوں گی؟آپ نے فرمایا : " تم ذرا انتظار کرو!جب تم پاک ہو جاؤ تو تنعیم ( کی طرف ) چلی جا نا اور وہاں سے ( احرا م باندھ کر عمرے کا ) تلبیہ پکا رنا پھر فلاں مقام پر ہم سے آملنا ۔ ۔ ۔ ابرا ہیم نے ) کہا : میرا خیال ہے آپ نے فرمایاتھا : کل ۔ ۔ ۔ اور ( فرمایا : ) لیکن وہ ( تمھا رے عمرے کا اجر ) ۔ ۔ ۔ تمھا ری مشقت یا فرمایا : خرچ ہی کے مطا بق ہو گا ۔
ابن ابی عدی نے ابن عون سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم اور ابرا ہیم سے روایت کی ( ابن عون نے ) کہا : میں ان میں سے ایک کی حدیث دوسرے کی حدیث سے الگ نہیں کر سکتا ۔ ام المومنین ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے عرض کی : اے اللہ کے رسول !لوگ دومنسک ( حج اور عمرہ ) کر کے لو ٹیں ۔ اور آگے ( اسی طرح ) حدیث بیان کی ۔
منصور نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اسود سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے اور ہم اس کو حج ہی سمجھتے تھے ۔ جب ہم مکہ پہنچے اور بیت اللہ کا طواف کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا : جو اپنے ساتھ قربانی نہیں لا یا وہ احرا م کھو ل دے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جتنے لو گ بھی قربانی ساتھ نہیں لا ئے تھے ۔ انھوں نے احرا م ختم کر دیا ۔ آپ کی ازواج بھی اپنے ساتھ قربانیا ں نہیں لا ئیں تھیں تو وہ بھی احرا م سے باہر آگئیں ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( لیکن ) میرے ایام شروع ہو گئے تھے اور میں بیت اللہ کا طواف نہ کر سکی جب حصبہ کی رات آئی ، کہا : تو میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !لوگ حج اور عمرہ کر کے لو ٹیں اور میں صرف حج کر کے لو ٹو ں گی؟آپ نے فرمایا : "" جن راتوں ( تاریخوں ) میں ہم مکہ آئے تھے کیا تم نے طواف نہیں کیا تھا؟ میں نے کہا ۔ جی نہیں آپ نے فر ما یا : "" تو پھر اپنے بھا ئی ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے ساتھ مقام تنعیم تک چلی جا ؤ اور وہاں سے ( عمرے کا حرا م باندھ کر ) عمرے کا تلبیہ پکارو ( اور عمرہ کر لو ) پھر تم فلاں مقام پر آملنا ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کہنے لگیں : میں اپنے بارے میں سمجھتی ہوں کہ میں ( بھی ) آپ کو روکنے والی ہوں گی ۔ آپ نے فرمایا : "" ( اپنی قوم کی زبان میں عقریٰ حلقٰی ( بے اولاد ، بے بال ، یہود حائضہ عورت کے لیے یہی لفظ بو لتے تھے ) کیا تم نے عید کے دن طواف نہیں کیا تھا ؟کہا : کیوں نہیں ( کیا تھا! ) آپ نے فر ما یا : "" ( تو پھر ) کو ئی بات نہیں ، اب چل پڑو ۔ "" حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : دوسری صبح ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے ( اس وقت ) ملے جب آپ مکہ سے چڑھا ئی پر آرہے تھے اور میں مکہ کی سمت اتر رہی تھی ۔ ۔ ۔ یا میں چڑھا ئی پر جا رہی تھی اور آپ اس سے اتر رہے تھے ( واپس آرہے تھے ) ۔ ۔ ۔ اور اسحاق نے متهبطه ( اترنےوالی ) اور متهبط ( اترنے والے ) کے الفاظ کہے ۔ ( مفہوم وہی ہے)
اعمش نے ابرا ہیم سے ، انھوں نے اس3ود کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تلبیہ کہتے ہو ئے نکلے ہم حج یا عمرے کا ذکر نہیں رہے تھے ۔ اور آگے ( اعمش نے ) منصور کے ہم معنی ہی حدیث بیان کی ،
محمد بن جعفر ( غندر ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ( زین العابدین ) علی بن حسین سے ، انھوں نے ذاکون مولیٰ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فر مایا : ذوالحجہ کے چار یا پانچ دن گزر چکے تھے کہ آپ میرے پاس ( خیمے میں تشریف لا ئے ، آپ غصے کی حالت میں تھے ، میں نے دریافت کیا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ کو کس نے غصہ دلایا؟ اللہ اسے آگ میں دا خل کرے ۔ آپ نے جواب دیا : "" کیا تم نہیں جا نتیں !میں نے لوگوں کو ایک حکم دیا ( کہ جو قر بانی ساتھ نہیں لا ئے ، وہ عمرے کے بعد احرا م کھول دیں ) مگر اس پر عمل کرنے میں پس و پیش کررہے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ حکم نے کہا : میرا خیال ہے ( کہ میرے استا علی بن حسین نے ) "" ایسا لگتا ہے وہ پس و پیش کررہے ہیں ۔ "" کہا ۔ ۔ ۔ اگر اپنے اس معاملے میں وہ بات پہلے میرے سامنے آجا تی جو بعد میں آئی تو میں اپنے ساتھ قربانی نہ لا تا حتیٰ کہ میں اسے ( یہاں آکر ) خریدتا پھر میں ویسے احرام سے باہر آجا تا جیسے یہ سب ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین عمرے کے بعد ) آگئے ہیں ۔
عبید اللہ بن معاذ نے کہا : مجھے میرے والد نے شعبہ سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ذوالحجہ کی چار یا پانچ راتیں گزرنے کے بعد مکہ تشریف لا ئے آگے ( عبید اللہ بن معاذ نے ) غندر کی روایت کے مانند ہی حدیث بیان کی انھوں نے پس و پیش کرنے کے حوالےسے حکم کا شک ذکر نہیں کیا ۔
طاوس نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے عمرے کا تلبیہ پکارا تھا مکہ پہنچیں ، ابھی بیت اللہ کا طواف نہیں کیا تھا کہ ایا م شروع ہو گئے ، انھوں نے حج کا تلبیہ کہا اور تمام مناسک ( حج ) ادا کیے ۔ واپسی کے دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ( مخاطب ہو کر ) فر مایا : " تمھا را طواف تمھارے حج اور عمرے ( دونوں ) کے لیے کا فی ہے ۔ ( اب تمھیں مزید عمرے کی ضرورت نہیں ) " مگر وہ نہ مانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ( ان کے بھا ئی ) عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا اور انھوں نے حج کے بعد ( ایک اور ) عمرہ ادا کیا ۔
مجا ہد نے حضرت عا ئشہ سے روایت کی کہ انھیں مقام سرف سے ایام شروع ہو ئے پھر وہ عرفہ میں جا کر پاک ہو ئیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا : "" تمھا ری طرف سے تمھارا صفا مروہ کا طواف تمھا رے حج اور عمرے ( دونوں ) کے لیے کا فی ہے ۔
صفیہ بنت شیبہ نے بیان کیا ، کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لو گ تو وہ ( عملوںکا ) ثواب لے کر لو ٹیں گے اور میں ( صرف ) ایک ( عمل کا ) ثواب لے کر لوٹوں ؟ تو ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بات سن کر ) آپ نے عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا کہ وہ انھیں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ) تنعیم تک لے جائے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : چنانچہ عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے اونٹ پر مجھے اپنے پیچھے سوار کر لیا ( راستے میں ) اپنی اوڑھنی کو اپنی گردن سے سر کا نے کے لیے ( بار بار ) اسے اوپر اٹھا تی تو ( عبد الرحمٰن رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سواری کو مارنے کے بہانے میرے پاؤں پر مارتے ( کہااوڑھنی کیوں اٹھا رہی ہیں؟ ) میں ان سے کہتی : آپ یہاں کسی ( اجنبی ) کو دیکھ رہے ہیں ؟ ( جو مجھے ایسا کرتا ہوا دیکھ لے گا ) فرماتی ہیں : میں نے ( وہاں سے ) عمرے کا احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکارا ( اور عمرہ کیا ) پھر ہم ( واپس آئے حتی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچ گئے ۔ آپ ( اس وقت ) مقام حصبہ پر تھے ۔
عمرو بن اوس نے خبر دی کہ عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا تھا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ساتھ لے لیں اور انھیں مقام تنعیم سے عمرہ کروائیں ۔
قتیبہ نے کہا : ہم سے لیث نے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اکیلے حج ( افرا د ) کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے آئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صرف عمرے کی نیت سے آئیں ۔ جب ہم مقام سرف پہنچے تو حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ایام شروع ہو گئے حتی کہ جب ہم مکہ آئے تو ہم نے کعبہ اور صفا مروہ کا طواف کر لیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم میں سے جس کسی کے ہمرا ہ قر با نی نہیں ، وہ ( احرا م چھوڑ کر ) حلت ( عدم احرا م کی حالت ) اختیا ر کرلے ۔ ہم نے پو چھا : کو ن سی حلت ؟آپ نے فرمایا : مکمل حلت ( احرا م کی تمام پابندیوں سے آزادی ۔ ) " تو پھر ہم اپنی عورتوں کے پاس گئے خوشبو لگا ئی اور معمول کے ) کپڑے پہن لیے ۔ ( اور اس وقت ) ہمارے اور عرفہ ( کو روانگی ) کے درمیان چار راتیں باقی تھیں ۔ پھر ہم نے ترویہ والے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ) تلبیہ پکارا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خیمے میں دا خل ہو ئے تو انھیں روتا ہوا پا یا ۔ پوچھا : " تمھا را کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے جواب دیا : میرا معاملہ یہ ہے کہ مجھے ایام شروع ہو گئے ہیں ۔ لو گ حلال ( احرا م سے فارغ ) ہو چکے ہیں اور میں ابھی نہیں ہو ئی اور نہ میں نے ابھی بیت اللہ کا طواف کیا ہے لو گ اب حج کے لیے روانہ ہو رہے ہیں آپ نے فر ما یا : " ( پریشان مت ہو ) یہ ( حیض ) ایسا معاملہ ہے جو اللہ نے آدم ؑ کی بیٹیوں کی قسم میں لکھ دیا ہے تم غسل کر لو اور حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکارو ۔ " انھوں نے ایسا ہی کیا اور وقوف کے ہر مقام پر وقوف کیا ( حاضری دی دعائیں کیں ) اور جب پا ک ہو گئیں تو عرفہ کے دن ) بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کیا ۔ پھر آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ) فر ما یا : " تم اپنے حج اور عمرے دونوں ( مکمل کر کے ان کے احرا م کی پابندیوں ) سے آزاد ہو چکی ہو ۔ انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میرے دل میں ( ہمیشہ ) یہ کھٹکا رہے گا کہ میں حج کرنے تک بیت اللہ کا طواف نہیں کر سکی ۔ آپ نے فرمایا : " اے عبد الرحمٰن! انھیں 0لے جاؤ اور ) تنعیم سے عمرہ کرا لاؤ ۔ اور یہ ( منیٰ سے واپسی پر ) حصبہ ( میں قیام والی رات کا واقعہ ہے ۔)
ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی ، انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے سنا ، کہہ رہے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خیمے میں دا خل ہو ئے تو وہ رو رہی تھیں ۔ پھر ( آخر تک ) لیث کی روایت کردہ حدیث کے مانند روایت بیان کی ، لیکن لیث کی حدیث میں اس سے پہلے کا جو حصہ ہے وہ بیان نہیں کیا ۔
مطر نے ابو زبیر سے ، انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج ( حجۃ الوداع ) کے موقع پر حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عمرے کا ( احرام باندھ کر ) تلبیہ پکارا تھا ۔ مطر نے آگے لیث کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، ( البتہ اپنی ) حدیث میں یہ اضا فہ کیا کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بہت نرم خوتھے ۔ وہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) جب بھی کو ئی خواہش کرتیں ، آپ اس میں ان کی بات مان لیتے ۔ لہٰذا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں عبد الرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بھیجا اور انھوں نے تنعیم سے عمرے کا تلبیہ پکا را ( اور عمرہ ادا کیا ۔ ) مطرؒ نے کہا : ابو زبیر نے بیان کیا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم وفات کے بعد ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب بھی حج فر ما تیں تو وہی کرتیں جو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں کیا تھا ۔
شعبہ نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ ابو نضرہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع کا حکم دیا کر تے تھے اور ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے تھے ۔ ( ابو نضرہ نے ) کہا : میں نے اس چیز کا ذکر جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کیا ، انھوں نے فرمایا : " میرے ہی ذریعے سے ( حج کی ) یہ حدیث پھیلی ہے ۔ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( جاکر ) حج تمتع کیا تھا ۔ جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خلیفہ بن کر ) کھڑے ہوئے ( بحیثیت خلیفہ خطبہ دیا ) توا نھوں نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے جو چیز جس ذریعے سے چاہتا حلال کردیتاتھا اور بلا شبہ قرآن نے جہاں جہاں ( جس جس معاملے میں ) اترناتھا ، اتر چکا ، لہذا تم اللہ کے لئے حج کو اور عمرے کو مکمل کرو ، جس طرح ( الگ الگ نام لے کر ) اللہ تعالیٰ نے تمھیں حکم دیا ہے ۔ اوران عورتوں سے حتمی طور پرنکاح کیا کرو ( جز وقتی نہیں ) ، اگر میرے پاس کوئی ایسا شخص لایاگیا جس نے کسی عورت سے کسی خاص مدت تک کے لئے نکاح کیا ہوگا تو میں اسے پتھروں سے رجم کروں گا ۔
ہمیں ہمام نے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے اسی ( مذکورہ بالا ) سندسے حدیث بیا ن کی ، اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : اپنے حج کو اپنے عمرے سے الگ ( ادا کیا ) کرو ۔ بلا شبہ یہ تمھارے حج کو اور تمھارے عمرے کو زیادہ مکمل کرنے والا ہے ۔
مجاہد نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیا ن کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے لئے ) آئے اور ہم کہہ رہے تھے : اے اللہ! میں حج کرنے کے لئے حاضر ہوں ( ہماری نیت حج کی تھی راستے میں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا ۔ کہ ہم اسے عمر ہ بنا لیں ۔ اور لبيك عمرةکہیں ۔
عمر بن حفص بن غیاث نے بیان کیا : مجھے میرے والد ( حفص بن غیاث ) نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں جعفر بن محمد نے بیان کیا ، ( کہا : ) مجھے میرے والد نے حدیث بیا ن کی کہ میں جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا ۔ اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے متعلق سوال کیا ، آگے حاتم بن اسماعیل کی طرح حدیث بیان کی ، البتہ ( اس ) حدیث میں یہ اضافہ کیا : ( اسلام سے قبل ) عرب کو ابو سیارہ نامی شخص اپنے بے پالان گدھے پر لے کر چلتا تھا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( منیٰ سے آتے ہوئے ) مزدلفہ میں مشعر حرام کوعبور کیا قریش کو یقین تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی پر رک جائیں گے ( مزید آگے نہیں بڑھیں گے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قیام گاہ یہیں ہوگی ، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے گزر گئے اور اس کی طرف رخ نہ کیا حتیٰ کہ عرفات تشریف لے آئے اور وہاں پڑاؤ فرمایا ۔
ہم سے حاتم بن اسماعیل مدنی نے جعفر ( الصادق ) بن محمد ( الباقرؒ ) سے ، انھوں نےاپنے والد سے ر وایت کی ، کہا : ہم جابر بن عبداللہ کے ہاں آئے ، انھوں نے سب کے متعلق پوچھنا شروع کیا ، حتیٰ کہ مجھ پر آکر رک گئے ، میں نے بتایا : میں محمد بن علی بن حسین ہوں ، انھوں نے ( ازراہ شفقت ) اپنا ہاتھ بڑھا کر میرے سر پر رکھا ، پھر میرا اوپر ، پھر نیچے کا بٹن کھولا اور ( انتہائی شفقت اورمحبت سے ) اپنی ہتھیلی میرے سینے کے درمیان رکھ دی ، ان دنوں میں بالکل نوجوان تھا ، فرمانے لگے : میرے بھتیجے تمھیں خوش آمدید!تم جوچاہوپوچھ سکتے ہو ، میں نے ان سے سوال کیا ، وہ ان دنوں نابینا ہوچکے تھے ۔ ( اس وقت ) نماز کا وقت ہوگیا تھا ، اور موٹی بُنائی کا ایک کپڑا اوڑھنے والا لپیٹ کر ( نماز کےلیے ) کھڑے ہوگئے ۔ وہ جب بھی اس ( کے ایک پلو ) کو ( دوسری جانب ) کندھے پر ڈالتے تو چھوٹا ہونے کی بناء پر اس کے دونوں پلوواپس آجاتے جبکہ ا ن کی ( بڑی ) چادر ان کے پہلو میں ایک کھونٹی پرلٹکی ہوئی تھی ۔ انھوں نے ہمیں نماز پڑھائی ، ( نماز سے فارغ ہوکر ) میں نے عرض کی : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے بارے میں بتائیے ۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا اور نو گرہ بنائی ، اور کہنے لگے : بلاشبہ نو سال ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے توقف فرمایا ، حج نہیں کیا ، اس کےبعد دسویں سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں اعلان کروایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم حج کررہے ہیں ۔ ( یہ اعلان سنتے ہی ) بہت زیادہ لوگ مدینہ میں آگئے ۔ وہ سب اس بات کے خواہشمند تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کریں ۔ اور جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کریں اس پر عمل کریں ۔ ( پس ) ہم سب آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ذوالحلیفہ پہنچ گئے ، ( وہاں ) حضرت اسماء بن عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے محمد بن ابی بکر کو جنم دیا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھی بھیجا کہ ( زچگی کی اس حالت میں اب ) میں کیا کروں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غسل کرو ، کپڑے کالنگوٹ کسو ، اور حج کا احرام باندھ لو ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ذوالحلیفہ کی ) مسجد میں نماز ادا کی ۔ اور اپنی اونٹنی پر سوار ہوگئے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوئی ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ، تاحد نگاہ پیادے اورسوار ہی دیکھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے بھی یہی حال تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان ( موجود ) تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پرقرآن نازل ہوتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس کی ( حقیقی ) تفسیر جانتے تھے ۔ جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے ہم بھی اس پر عمل کرتے تھے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اللہ کی ) توحید کا تلبیہ پکارا " لبيك اللهم لبيك .. لبيك لا شريك لك لبيك .. إن الحمد والنعمة لك والملك .. لا شريك لك " ان لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا ۔ " اور لوگوں نے وہی تلبیہ پکارا جو ( بعض الفاظ کے اضافے کے ساتھ ) وہ آج پکارتے ہیں ۔ آپ نے ان کے تلبیہ میں کسی بات کو مسترد نہیں کیا ۔ اور اپنا وہی تلبیہ ( جو پکاررہے تھے ) پکارتے رہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہماری نیت حج کےعلاوہ کوئی ( اور ) نہ تھی ، ( حج کے مہینوں میں ) عمرے کو ہم جانتے ( تک ) نہ تھے ۔ حتیٰ کہ جب ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود کااستلام ( ہاتھ یا ہونٹوں سے چھونا ) کیا ، پھر ( طواف شروع کیا ) ، تین چکروں میں چھوٹے قدم اٹھاتے ، کندھوں کوحرکت دیتے ہوئے ، تیز چلے ، اور چار چکروں میں ( آرام سے ) چلے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیمؑ کی طرف بڑھے اوریہ آیت تلاوت فرمائی ( وَاتَّخِذُوا مِن مَّقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى ) " اور مقام ابراہیم ( جہاں آپ کھڑے ہوئے تھے ) کو نماز کی جگہ بناؤ " ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقام ابراہیمؑ کواپنے اور بیت اللہ کے درمیان رکھا ۔ میرے والد ( محمد الباقرؒ ) کہا کر تے تھے ۔ اور مجھے معلوم نہیں کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےعلاوہ کسی اور ( کے حوالے ) سے یہ کہا ہو ۔ کہ آپ دو رکعتوں میں ( قُلْ هُوَ اللَّـهُ أَحَدٌ ) اور ( قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ ) پڑھا کرتے تھے ۔ پھر آپ حجر اسود کے پاس تشریف لائے ، اس کا استلام کیا اور باب ( صفا ) سے صفا ( پہاڑی ) کی جانب نکلے ۔ جب آپ ( کوہ ) صفا کے قریب پہنچے تو یہ آیت تلاوت فرمائی : ( إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِاللَّـهِ ۖ ) " صفا اور مروہ اللہ کے شعائر ( مقرر کردہ علامتوں ) میں سے ہیں ۔ " میں ( بھی سعی کا ) وہیں سے آغاز کررہا ہوں جس ( کےذکر ) سے اللہ تعالیٰ نے آغاز فرمایا ۔ " اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفاسے ( سعی کا ) آغاز فرمایا ۔ اس پر چڑھتے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کودیکھ لیا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رخ ہوئے ، اللہ کی وحدانیت اورکبریائی بیان فرمائی ۔ اور کہا : " اللہ کے سوا کوئی عبادت کےلائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، ساری بادشاہت اسی کی ہے اورساری تعریف اسی کے لئے ہے ۔ اکیلے اللہ کےسوا کوئی عبادت کےلائق نہیں ، اس نےاپنا وعدہ خوب پورا کیا ، اپنے بندے کی نصرت فرمائی ، تنہا ( اسی نے ) ساری جماعتوں ( فوجوں ) کو شکست دی ۔ " ان ( کلمات ) کے مابین دعا فرمائی ۔ آپ نے یہ کلمات تین مرتبہ ارشادفرمائے تھے ۔ پھر مروہ کی طرف اترے ۔ حتیٰ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک وادی کی ترائی میں پڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سعی فرمائی ، ( تیز قدم چلے ) جب وہ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کےقدم مباک مروہ کی ) چڑھائی چڑھنے لگے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( معمول کی رفتار سے ) چلنے لگے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروہ کی طرف پہنچ گئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مروہ پر اسی طرح کیا جس طرح صفا پر کیا تھا ۔ جب مروہ پر آخری چکر تھا تو فرمایا : " اگر پہلے میرے سامنے وہ بات ہوتی جو بعد میں آئی تو میں قربانی ساتھ نہ لاتا ، اور اس ( منسک ) کو عمرے میں بدل دیتا ، لہذا تم میں سے جس کے ہمرا ہ قربانی نہیں ، وہ حلال ہوجائے اور اس ( منسک ) کو عمرہ قرار دے لے ۔ " ( اتنے میں ) سراقہ بن مالک جعشم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کھڑے ہوئے عرض کی : اے اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ) ہمارے اسی سال کے لئے ( خاص ) ہے یا ہمیشہ کے لئے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ( دونوں ہاتھوں کی ) انگلیاں ایک دوسرے میں داخل کیں ، اور فرمایا : " عمرہ ، حج میں داخل ہوگیا ۔ " دو مرتبہ ( ایسا کیا اورساتھ ہی فرمایا : ) " صرف اسی سال کے لئے نہیں بلکہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ۔ " حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قربانی کی اونٹنیاں لے کرآئے ، انھوں نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دیکھا کہ وہ ان لوگوں میں سے تھیں جو احرام سے فارغ ہوچکے تھے ۔ ، رنگین کپڑے پہن لیے تھے اورسرمہ لگایا ہوا ہے ۔ اسےا نھوں ( حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ان کے لئے نادرست قرار دیا ۔ انھوں نے جواب دیا : میرے والدگرامی ( محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے مجھے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ( جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ عراق میں کہا کرتے تھے : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس ، اس کام کی وجہ سے جو فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کیاتھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے خلاف ابھارنے کے لئے گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کے متعلق پوچھنے کے لئے جو انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہی تھی ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ( یہ بھی ) بتایا کہ میں نے ان کے اس کام ( احرام کھولنے ) پر اعتراض کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سچ کہا ہے ، اس نے بالکل سچ کہا ہے ۔ اورتم نے جب حج کی نیت کی تھی تو کیا کہا تھا؟ " میں نے جواب دیا میں نے کہا تھا : اے اللہ ! میں بھی اسی ( منسک ) کے لئے تلبیہ پکارتاہوں ۔ جس کے لئے تیرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تلبیہ پکارا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے ساتھ قربانی ہے ۔ ( میں عمرے کے بعدحلال نہیں ہوسکتا اور تمھاری بھی نیت میری نیت جیسی ہے ، لہذا ) تم بھی عمرے سے فارغ ہونے کے بعد احرام مت کھولنا ۔ ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جانوروں کی مجموعی تعداد جو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ یمن سے لائےتھے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساتھ لے کرآئے تھے ۔ ایک سوتھی ۔ پھر ( عمرے کےبعد ) تمام لوگوں نے ( جن کے پاس قربانیاں نہیں تھیں ) احرام کھول لیا اور بال کتروالیے مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جن کے ہمراہ قربانیاں تھیں ( انھوں نے احرام نہیں کھولا ) ، جب ترویہ ( آٹھ ذوالحجہ ) کا دن آیا تو لوگ منیٰ کی طرف روانہ ہوئے ، حج ( کا احرام باندھ کر اس ) کا تلبیہ پکارا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوگئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں ( منیٰ میں ) ظہر ، عصر ، مغرب ، عشاء اورفجر کی نمازیں ادا فرمائیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کچھ دیر ٹھہرے رہے حتیٰ کہ سورج طلو ع ہوگیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ بالوں سے بنا ہوا یک خیمہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے نمرہ میں لگا دیاجائے ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے ، قریش کو اس بارے میں کوئی شک نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مشعر حرام کے پاس جا کر ٹھر جائیں گے ۔ جیسا کہ قریش جاہلیت میں کیا کرتے تھے ۔ ( لیکن ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( وہاں سے آگے ) گزر گئے یہاں تک کہ عرفات میں پہنچ گئے ۔ وہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وادی نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہواملا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں فروکش ہوگئے ۔ جب سورج ڈھلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اپنی اونٹنی ) قصواء کو لانے کا حکم دیا ، اس پر آ پ کے لئے پالان کس دیا گیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم و ادی ( عرفہ ) کے درمیان تشریف لے آئے ، اور لوگوں کو خطبہ دیا : تمہارے خون اور اموال ایک دوسرے پر ( ایسے ) حرام ہیں جیسے آج کے دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے اور زمانہ جاہلیت کی ہر چیز میرے دونوں پیروں کے نیچے رکھ دی گئی ( یعنی ان چیزوں کا اعتبار نہ رہا ) اور جاہلیت کے خون بے اعتبار ہو گئے اور پہلا خون جو میں اپنے خونوں میں سے معاف کرتا ہوں وہ ابن ربیعہ کا خون ہے کہ وہ بنی سعد میں دودھ پیتا تھا اور اس کو ہذیل نے قتل کر ڈالا ( غرض میں اس کا بدلہ نہیں لیتا ) اور اسی طرح زمانہ جاہلیت کا سود سب چھوڑ دیا گیا ( یعنی اس وقت کا چڑھا سود کوئی نہ لے ) اور پہلے جو سود ہم اپنے یہاں کے سود میں سے چھوڑتے ہیں ( اور طلب نہیں کرتے ) وہ عباس رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب کا سود ہے اس لئے کہ وہ سب چھوڑ دیا گیا اور تم لوگ عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اس لئے کہ ان کو تم نے اللہ تعالیٰ کی امان سے لیا ہے اور تم نے ان کے ستر کو اللہ تعالیٰ کے کلمہ ( نکاح ) سے حلال کیا ہے ۔ اور تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ تمہارے بچھونے پر کسی ایسے شخص کو نہ آنے دیں ( یعنی تمہارے گھر میں ) جس کا آنا تمہیں ناگوار ہو پھر اگر وہ ایسا کریں تو ان کو ایسا مارو کہ ان کو سخت چوٹ نہ لگے ( یعنی ہڈی وغیرہ نہ ٹوٹے ، کوئی عضو ضائع نہ ہو ، حسن صورت میں فرق نہ آئے کہ تمہاری کھیتی اجڑ جائے ) اور ان کا تم پر یہ حق ہے کہ ان کی روٹی اور ان کا کپڑا دستور کے موافق تمہارے ذمہ ہے اور میں تمہارے درمیان ایسی چیز چھوڑے جاتا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط پکڑے رہو تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ( وہ ہے ) اللہ تعالیٰ کی کتاب ۔ اور تم سے ( قیامت میں ) میرے بارے میں سوال ہو گا تو پھر تم کیا کہو گے؟ ان سب نے عرض کیا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور رسالت کا حق ادا کیا اور امت کی خیرخواہی کی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی انگشت شہادت ( شہادت کی انگلی ) آسمان کی طرف اٹھاتے تھے اور لوگوں کی طرف جھکاتے تھے اور فرماتے تھے کہ اے اللہ! گواہ رہنا ، اے اللہ! گواہ رہنا ، اے اللہ! گواہ رہنا ۔ تین بار ( یہی فرمایا اور یونہی اشارہ کیا ) پھر اذان اور تکبیر ہوئی تو ظہر کی نماز پڑھائی اور پھر اقامت کہی اور عصر پڑھائی اور ان دونوں کے درمیان میں کچھ نہیں پڑھا ( یعنی سنت و نفل وغیرہ ) پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار کر موقف میں آئے اونٹنی کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور پگڈنڈی کو اپنے آگے کر لیا اور قبلہ کی طرف منہ کیا اور غروب آفتاب تک وہیں ٹھہرے رہے ۔ زردی تھوڑی تھوڑی جاتی رہی اور سورج کی ٹکیا ڈوب گئی تب ( سوار ہوئے ) سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کو پیچھے بٹھا لیا اور واپس ( مزدلفہ کی طرف ) لوٹے اور قصواء کی مہار اس قدر کھینچی ہوئی تھی کہ اس کا سر کجاوہ کے ( اگلے حصے ) مورک سے لگ گیا تھا ( مورک وہ جگہ ہے جہاں سوار بعض وقت تھک کر اپنا پیر جو لٹکا ہوا ہوتا ہے اس جگہ رکھتا ہے ) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہاتھ سے اشارہ کرتے تھے کہ اے لوگو! آہستہ آہستہ آرام سے چلو اور جب کسی ریت کی ڈھیری پر آ جاتے ( جہاں بھیڑ کم پاتے ) تو ذرا مہار ڈھیلی کر دیتے یہاں تک کہ اونٹنی چڑھ جاتی ( آخر مزدلفہ پہنچ گئے اور وہاں مغرب اور عشاء ایک اذان اور دو تکبیروں سے پھڑیں اور ان دونوں فرضوں کے بیچ میں نفل کچھ نہیں پڑھے ( یعنی سنت وغیرہ نہیں پڑھی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ رہے ۔ ( سبحان اللہ کیسے کیسے خادم ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کہ دن رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سونے بیٹھنے ، اٹھنے جاگنے ، کھانے پینے پر نظر ہے اور ہر فعل مبارک کی یادداشت و حفاظت ہے اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کرے ) یہاں تک کہ صبح ہوئی جب فجر ظاہر ہو گئی تو اذان اور تکبیر کے ساتھ نماز فجر پڑھی پھر قصواء اونٹنی پر سوار ہوئے یہاں تک کہ مشعر الحرام میں آئے اور وہاں قبلہ کی طرف منہ کیا اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور اللہ اکبر کہا اور لا الٰہ الا اللہ کہا اور اس کی توحید پکاری اور وہاں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ بخوبی روشنی ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے طلوع آفتاب سے قبل لوٹے اور سیدنا فضل بن عباس رضی اللہ عنہ کو اپنے پیچھے بٹھا لیا اور فضل رضی اللہ عنہ ایک نوجوان اچھے بالوں والا گورا چٹا خوبصورت جوان تھا ۔ پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم چلے تو عورتوں کا ایک ایسا گروہ چلا جاتا تھا کہ ایک اونٹ پر ایک عورت سوار تھی اور سب چلی جاتی تھیں اور سیدنا فضل صان کی طرف دیکھنے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فضل کے چہرے پر ہاتھ رکھ دیا ( اور زبان سے کچھ نہ فرمایا ۔ سبحان اللہ یہ اخلاق کی بات تھی اور نہی عن المنکر کس خوبی سے ادا کیا ) اور فضل رضی اللہ عنہ نے اپنا منہ دوسری طرف پھیر لیا اور دیکھنے لگے ( یہ ان کے کمال اطمینان کی وجہ تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق پر ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اپنا ہاتھ ادھر پھیر کر ان کے منہ پر رکھ دیا تو فضل دوسری طرف منہ پھیر کر پھر دیکھنے لگے یہاں تک کہ بطن محسر میں پہنچے تب اونٹنی کو ذرا تیز چلایا اور بیچ کی راہ لی جو جمرہ کبریٰ پر جا نکلتی ہے ، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے ( اور اسی کو جمرہ عقبہ کہتے ہیں ) اور سات کنکریاں اس کو ماریں ۔ ہر کنکری پر اللہ اکبر کہتے ، ایسی کنکریاں جو چٹکی سے ماری جاتی ہیں ( اور دانہ باقلا کے برابر ہوں ) اور وادی کے بیچ میں کھڑے ہو کر ماریں ( کہ منیٰ ، عرفات اور مزدلفہ داہنی طرف اور مکہ بائیں طرف رہا ) پھر نحر کی جگہ آئے اور تریسٹھ اونٹ اپنے دست مبارک سے نحر ( یعنی قربان ) کئے ، باقی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دئیے کہ انہوں نے نحر کئے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی قربانی میں شریک کیا اور پھر ہر اونٹ سے گوشت ایک ٹکڑا لینے کا حکم فرمایا ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق لے کر ) ایک ہانڈی میں ڈالا اور پکایا گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ دونوں نے اس میں سے گوشت کھایا اور اس کا شوربا پیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف آئے اور طواف افاضہ کیا اور ظہر مکہ میں پڑھی ۔ پھر بنی عبدالمطلب کے پاس آئے کہ وہ لوگ زمزم پر پانی پلا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پانی بھرو اے عبدالمطلب کی اولاد! اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ لوگ بھیڑ کر کے تمہیں پانی نہ بھرنے دیں گے تو میں بھی تمہارا شریک ہو کر پانی بھرتا ( یعنی جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھرتے تو سنت ہو جاتا تو پھر ساری امت بھرنے لگتی اور ان کی سقایت جاتی رہتی ) پھر ان لوگوں نے ایک ڈول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے پیا ۔
حضرت جعفر ؒ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے میرے والد نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کردہ اپنی اس حدیث میں یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے یہاں قربانی کی ہے ۔ ( لیکن ) پورا منیٰ قربان گاہ ہے ، اس لئے تم اپنے اپنے پڑاؤ ہی پر قربانی کرو ، میں نے اسی جگہ وقوف کیا ہے ( لیکن ) پورا عرفہ ہے مقام وقوف ہے اور میں نے ( مزدلفہ میں ) یہاں وقوف کیا ہے ( ٹھہرا ہوں ۔ ) اور پورا مزدلفہ موقف ہے ( اس میں کہیں بھی پڑاؤ کیا جاسکتاہے ۔)
سفیان ( ثوری ) نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے سابقہ سند کے ساتھ جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے ، اسے بوسہ دیا ، پھر ( طواف کے لئے ) اپنی دائیں جانب روانہ ہوئے ۔ ( تین چکروں میں ) چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے ہوئے تیزی سے اور ( باقی ) چار میں عام رفتار سے چلے ۔
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ قریش اور وہ لوگ جو قریش کے دین پر تھے ، مزدلفہ میں وقوف کرتے تھے اور اپنے کو حمس کہتے تھے ( ابوالہیثم نے کہا ہے کہ یہ نام قریش کا ہے اور ان کی اولاد کا اور کنانہ اور جدیلہ قیس کا اس لئے کہ وہ اپنے دین میں حمس رکھتے تھے یعنی تشدد اور سختی کرتے تھے ) اور باقی عرب کے لوگ عرفہ میں وقوف کرتے تھے ۔ پھر جب اسلام آیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم فرمایا کہ عرفات میں آئیں اور وہاں وقوف فرمائیں اور وہیں سے لوٹیں ۔ اور یہی مطلب ہے اس آیت کا کہ ”وہیں سے لوٹو جہاں سے سب لوگ لوٹتے ہیں“ ۔
ابو اسامہ نے کہا ، ہمیں ہشام نے اپنے والد سے بیان کیا ، کہا : حمس ( کہلانے والے قبائل ) کے علاوہ عرب ( کےتمام قبائل ) عریاں ہوکر بیت اللہ کا طواف کرتے تھے ۔ حمس ( سے مراد ) قریش اور ان ( کی باہر بیاہی ہوئی خواتین ) کے ہاں جنم لینے والے ہیں ۔ عام لوگ برہنہ ہی طواف کرتے تھے ، سوائے ان کے جنھیں اہل حمس کپڑے دے دیتے ( دستور یہ تھا کہ ) مرد مردوں کو ( طواف کے لئے ) لباس دیتے اورعورتین عورتوں کو ۔ ( اسی طرح ) حمس ( دوران حج ) مزدلفہ سے آگے نہیں بڑھتے تھے اور باقی سب لوگو عرفات تک پہنچتے تھے ۔ ہشام نے کہا : مجھے میرے والد ( عروہ ) نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نےفرمایا : یہ حمس ہی تھے جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : "" پھر تم وہیں سے ( طواف کے لئے ) چلو جہاں سے ( دوسرے ) لوگ چلیں ۔ "" انھوں نےفرمایا : لوگ ( حج میں ) عرفات سے لوٹتے تھے اور اہل حمس مزدلفہ سےچلتے تھے اور کہتے تھے : ہم حرم کے سوا کہیں اور سے نہیں چلیں گے جب آیت "" پھر تم وہیں سے چلو جہاں سے دوسرے لوگ چلیں "" نازل ہوئی تو یہ عرفات کی طرف لوٹ آئے ۔
حمد بن جبیر بن معطم نے اپنے والد حضرت جبیر بن معطم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے اپنا ایک اونٹ کھو دیا ، میں عرفہ کے دن اسے تلاش کرنے کے لیے نکلا تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے ساتھ عرفات میں کھڑے دیکھا ، میں نے کہا : اللہ کی قسم!یہ ( محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) تو اہل حمس میں سے ہیں ، آپ کا یہاں ( عرفات میں ) کیا کام؟ ( کیونکہ ) قریش حمس میں شمار ہوتے تھے ( اورآپ قریشی ہی تھے ۔)
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی کنکریلی زمین میں اونٹ بٹھائے ہوئے تھے ( یعنی وہاں منزل کی ہوئی تھی ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ تم نے کس نیت سے احرام باندھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ جس نیت سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احرام باندھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو ۔ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا ( یہ ان کی محرم تھی ) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا ۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا ۔ ( یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے ، پھر یوم الترویہ 8 ۔ ذوالحج کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن ) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا ، اس نے کہا کہ ( تو تو احرام کھولنے کا فتویٰ دیتا ہے ) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا ۔ ( یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہئے ) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہئے ۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا ، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے : ( ( وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّـهِ ۚ ) ) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو ( یعنی احرام نہ کھولو ) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی ۔ ( آپ عمرہ اورحج کے درمیان حلال نہیں ہوئے)
معاذ بن معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سندسے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
سفیان ثوری نے قیس ( بن مسلم ) سے ، انھوں نے طارق بن شہاب سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( مکہ سے باہروادی ) بطحاء میں سواریاں بٹھائے ہوئے ( پڑاؤڈالے ہوئے ) تھےتو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ " تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ ( حج کا ، عمرے کا ، یا دونوں کا؟ ) " میں نے عرض کی : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو ۔ پس میں نے بیت اللہ کا طواف اور صفا مروہ کی سعی کی ، پھر میں اپنی قوم کی ایک عورت کے پاس آیا ( یہ ان کی محرم تھی ) تو اس نے میرے سر میں کنگھی کی اور میرا سر دھو دیا ۔ پھر میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت میں لوگوں کو یہی فتویٰ دینے لگا ۔ ( یعنی جو بغیر قربانی کے حج پر آئے تو وہ عمرہ کرنے کے بعد احرام کھول دے ، پھر یوم الترویہ 8 ۔ ذوالحج کو دوبارہ حج کا احرام باندھے لیکن ) ایک مرتبہ میں حج کے مقام پر کھڑا تھا کہ اچانک ایک شخص آیا ، اس نے کہا کہ ( تو تو احرام کھولنے کا فتویٰ دیتا ہے ) آپ جانتے ہیں کہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے قربانی کے متعلق نیا کام شروع کر دیا ۔ ( یعنی عمر رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا کہ عمرہ کر کے احرام کو کھولنا نہیں چاہئے ) تو میں نے کہا اے لوگو! ہم نے جس کو اس مسئلے کا فتویٰ دیا ہے اس کو رک جانا چاہئے ۔ کیونکہ امیرالمؤمنین سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آنے والے ہیں لہٰذا ان کی پیروی کرو ۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا ، امیرالمؤمنین آپ نے قربانی کے متعلق یہ کیا نیا مسئلہ بتایا ہے؟ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر آپ اللہ کی کتاب قرآن پر عمل کریں تو قرآن کہتا ہے : ( ( وَأَتِمُّوا الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ لِلَّـهِ ۚ ) ) یعنی حج اور عمرہ کو اللہ کے لئے پورا کرو ( یعنی احرام نہ کھولو ) اور اگر آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کریں تو ان کا اپنا طریقہ یہ تھا کہ انہوں نے احرام اس وقت تک نہ کھولا جب تک قربانی نہ کر لی ۔
ابو عمیس نے ہمیں قیس بن مسلم سے خبر دی ، انھوں نے طارق بن شہاب سے ، انھوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن بھیجاتھا ، پھر میری آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس سال ملاقات ہوئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج ادا فرمایا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے دریافت کیا : " ابو موسیٰ! " تم نے کون سا تلبیہ پکارا ہے؟ ( حج کا ، عمرے کا ، یا دونوں کا؟ ) " میں نے عرض کی : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم والا تلبیہ پکارا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا کہ تم قربانی ساتھ لائے ہو؟ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کر کے احرام کھول ڈالو ۔ آگے ( ابو عمیس نے ) شعبہ اور سفیان ہی کی طرح حدیث بیان کی ۔
ابراہیم بن ابی موسیٰ نے حضرت موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ حج تمتع ( کرنے ) کافتویٰ دیاکرتے تھے ، ایک شخص نے ان سے کہا : اپنےبعض فتووں میں زرا رک جاؤ ، تم نہیں جانتے کہ اب امیر المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مناسک ( حج ) کے متعلق کیا نیا فرمان جاری کیا ہے ۔ بعد میں ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی تو ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے دریافت کیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ( حکم صادر ) کیا ، اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( اس پرعمل ) کیا ، لیکن مجھے یہ بات ناگوارمعلوم ہوئی کہ لوگ عرفات کے پاس وادی عرفہ کے قریب اراک مقام میں ( یا پیلو کے درختوں کی اوٹ میں ) اپنی عورتوں کےساتھ لطف اندوز ہوتے رہیں ۔ پھر جب وہ ( آٹھ ذوالحجہ یوم الترویہ کی ) صبح حج کے لئے چلیں تو ( غسل جنابت کریں اور ) ان کے سروں سے پانی ٹپک رہا ہو
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : عبداللہ بن شقیق نے بیان کیا : عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع سے منع فرمایا کرتے تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کا حکم دیتے تھے ۔ ( ایک مرتبہ ) حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس بارے میں کوئی بات کہی ۔ اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج تمتع کیا تھا ۔ ( حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : جی بالکل ( کیا تھا ) لیکن اس وقت ہم خوفزدہ تھے ۔
خالد ، یعنی ابن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی ، ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی ( مذکورہ بالا حدیث ) کے مانند حدیث بیان کی ۔
عمرو بن مرہ نے سعید بن مسیب سے روایت کی ، کہا : ( ایک مرتبہ ) مقام عسفان پر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ اکھٹے ہوئے ۔ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حج تمتع سے یا ( حج کے مہینوں میں ) عمرہ کرنے سے منع فرماتے تھے ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پوچھا : آپ اس معاملے میں کیا کرنا چاہتے ہیں جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرماتے ہیں؟حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : آپ اپنی ر ائے کی بجائے ہمیں ہماری رائے پر چھوڑ دیں ۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( آپ ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کےخلاف حکم دے رہے ہیں ) میں آپ کو نہیں چھوڑ سکتا ۔ جب حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ ( اصرار ) دیکھا توحج وعمرہ دونوں کا تلبیہ پکارنا شروع کردیا ( تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق تمتع بھی رائج رہے ۔)
اعمش نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک ) سے ، انھوں نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : حج میں تمتع ( حج کا احرام باندھنا پھرعمرہ کرکے احرام کھول دینا ) صرف محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے لئے خاص تھا ۔
عیاش عامری نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک ) سے ، انھوں نے ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : یہ رخصت صرف ہمارے ہی لئے تھی ، یعنی حج میں تمتع کی ۔
زبید نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : دو متعے ہمارے علاوہ کسی کے لئے صحیح نہیں ( ہوئے ) یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنا اور حج میں تمتع ( حج کا احرام باندھ کرآنا ، پھر اس سے عمرہ کرکے حج سے پہلےاحرام کھول دینا ، درمیان کے دنوں میں بیویوں اور خوشبو وغیرہ سے متمتع ہونا اورآخر میں روانگی کے وقت حج کا احرام باندھنا ۔)
ہمیں قتیبہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں جریر نے بیان سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی شعشاء سے روایت کی ، کہا : میں ابراہیم نخعی اورابراہیم تیمی کے پاس آیا اور ان سے کہا : میں چاہتا ہوں کہ اس سال حج اور عمرے د ونوں کواکھٹا ادا کروں ۔ ابراہیم نخعی نے ( میری بات سن کر ) کہا : تمھارے والد ( ابو شعثاء ) تو کبھی ایسا ارادہ بھی نہ کرتے ۔ قتیبہ نے کہا : ہمیں جریر نے بیان سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے ابراہیم تیمی سے انھوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک ) سے روایت کی کہ ایک مرتبہ ان کا گزر ربذہ کے مقام پر حضرت ابو زر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس سےہوا ، انھوں نے اس سے ، ( حج میں تمتع ) کا ذکر کیا ۔ حضرت ابوزر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : یہ تم لوگوں کو چھوڑ کر خاص ہمارے لئے تھا ۔
مروان بن معاویہ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے غنیم بن قیس سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حج تمتع کے بارے استفسارکیا ۔ انھوں نے کہا ہم نے حج تمتع کیا تھا ۔ اور یہ ( معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان دنوں سائبانوں ( والے گھروں ) میں خود کوڈھانپے ہوئے ( مقیم ) تھے ، یعنی مکہ کے گھروں میں ۔ ( معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرح حج افرادپر اصرار کرتے تھے ۔)
یحییٰ بن سعید نے سلیمان تیمی سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی روایت میں کہا : ان کی مرادحضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی ۔
سفیان اورشعبہ دونوں نے سلیمان تیمی سے اسی سندکے ساتھ ان دونوں ( مروان اور یحییٰ ) کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ہے ۔ ( البتہ ) سفیان کی حدیث میں ہے : حج میں تمتع ( کے بارے میں دریافت کیا ۔)
ہمیں اسماعیل بن ابراہیم نے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں جریری نے حدیث سنائی ، انھوں نے ابو العلاء سے ، انھوں نے مطرف سے روایت کی ، ( مطرف نے ) کہا : عمران بن حصین نے مجھ سے کہا : میں تمھیں آج ایک ایسی حدیث بیان کرنے لگاہوں جس سے اللہ تعالیٰ آج کے بعد تمھیں نفع دے گا ۔ جان لو! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں میں سے کچھ کو ذوالحجہ میں عمرہ کروایا ، پھر نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ہوئی جس نے اسے ( حج کے مہینوںمیں عمرے کو ) منسوخ قرار دیا ہو ، اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے روکا ، حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی منزل کی طرف تشریف لے گئے ۔ بعد میں ہر شخص نے جورائے قائم کرنا چاہی کرلی ۔
اسحاق بن ابراہیم اور محمد بن حاتم دونوں نے وکیع سے یہ حدیث بیا ن کی ( کہا : ) ہمیں سفیان نے جریری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی ، ( البتہ ) ابن حاتم نے اپنی ر وایت میں کہا : بعد میں ایک آدمی نے اپنی رائے سے جو چاہا نظریہ بنالیا ، ان کی مراد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے تھی ۔
ہمیں معاذ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے حمید بن ہلال سے ، انھوں نے مطرف سے رویت کی ، انھوں نے کہا : عمران بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : میں تمھیں ایک حدیث بیان کرتاہوں ۔ وہ دن دور نہیں جب اللہ تعالیٰ تمھیں اس سے فائدہ دےگا ۔ بلاشبہ!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اورعمرہ کو ( حج کے مہینوں میں ) اکھٹاکیا ، پھر آپ نے وفات تک اس سے منع نہیں فرمایا ، اورنہ اس کے بارے میں قرآن ہی میں کچھ نازل ہوا جو اسے حرام قرار دے اور یہ بھی ( بتایا ) کہ مجھے ( فرشتوں کی طرف سے ) سلام کیا جاتا تھا ۔ یہاں تک کہ ( بواسیر کی بناء پر ) میں نے اپنے آپ کو دغوایا تو مجھے ( سلام کہنا ) چھوڑ دیا گیا ، پھر میں نے دغواناچھوڑ دیا تو ( فرشتوں کا سلام ) دوبارہ شروع ہوگیا ۔
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، انھوں نے حمید بن ہلال سے روایت کی ، کہا میں نے مطرف سے سنا ، انھوں نے کہا عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا ۔ آگے معاذ کی حدیث کے مانند ہے ۔
قتادہ نے مطرف سے روایت کی ، کہا : جس مرض میں عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفا ت ہو ئی ، اس دورا ن میں انھوں نے مجھے بلا بھیجا اور کہا میں تمھیں چند احادیث بیان کرا نا چا ہتا ہوں ۔ امید ہے کہ اللہ تعا لیٰ میرے بعد تمھیں ان سے فائدہ پہنچائے گا ، اگر میں ( شفا یا ب ہو کر ) زندہ رہا تو ان باتوں کو میری طرف سے پو شیدہ رکھنا اگر فو ت ہو گیا تو چاہو تو بیان کر دینا مجھ پر ( فرشتوں کی جا نب سے ) سلام کہا جا تا تھا ( تفصیل سابقہ حدیث میں ہے ) اور یا د رکھو !اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو اکٹھا کر دیا ، اس کے بعد نہ تو اس بارے میں اللہ کی کتاب نازل ہو ئی اور نہ ( آخر تک ) اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ۔ ایک شخص نے اس بارے میں اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔
ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے انھوں نے عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : جا ن لو!اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج اور عمرے کو اکٹھا کیا تھا ۔ اس کے بعد نہ تو اس معاملے میں اللہ کی کتاب ( میں کو ئی بات ) نازل ہو ئی ۔ اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ان دونوں سے منع فرمایا : پھر ایک شخص نے اس کے بارے میں اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہاJ ہمیں عمرا ن بن مسلم نے ابو رجاء سے روایت کی ، کہ عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : متعہ یعنی حج میں تمتع کی آیت قرآن مجید میں نازل ہو ئی ۔ اور اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمیں اس کا حکم دیا ، بعد ازیں نہ تو کو ئی آیت نازل ہو ئی جس نے حج میں تمتع کی آیت کو منسوخ کیا ہو اور نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فر ما یا حتی کہ آپ فوت ہو گئے بعد میں ایک شخص نے اپنی را ئے سے جو چا ہا کہا ۔)
یحییٰ بن سعید نے ہمیں عمرا ن قصیر سے حدیث سنا ئی ( انھوں نے کہا : ) ہمیں ابو رجاء نے عمرا ن بن حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند ( مذکورہ بالاروایت ) کے مانند حدیث بیان کی ۔ البتہ اس میں یہ کہا کہ ہم نے یہ ( حج میں تمتع ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ( یحییٰ بن سعید نے ) یہ نہیں کہا : آپ نے ہمیں اس کا حکم دیا ۔
سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تک عمرے سے تمتع فرمایا اور ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا آپ ذوالحلیفہ سے قربانی کے جا نور اپنے ساتھ چلا کر لا ئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آغا ز فرمایا تو ( پہلے ) عمرے کا تلبیہ پکا را پھر حج کا تلبیہ پکا را اور لوگوں نے بھی آپ کے ساتھ حج تک عمرے سے تمتع کیا ۔ لوگوں میں کچھ ایسے تھے انھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا اور قربانی کے جانور چلا کر ساتھ لا ئے تھے اور کچھ ایسے تھے جو قربانیاں لے کر نہیں چلے تھے ۔ جب آپ مکہ تشریف لے آئے تو آپ نے لوگوں سے فرمایا : "" تم میں سے جو قربانی لے چلا وہ ان چیزوں سے جنھیں اس نے ( احرا م بندھ کر ) حرام کیا اس وقت تک حلال نہیں ہو گا جب تک کہ حج پو را نہ کرے ۔ اور جو شخص قربا نی نہیں لا یا وہ بیت اللہ اور صفا مروہ کا طواف کرے اور بال کتروا کر حلال ہو جا ئے ( اور آٹھ ذوالحجہ کو ) پھر حج کا ( احرا م باندھ کر ) تلبیہ پکا رے ( اور رمی کے بعد ) قر بانی کرے ۔ اور جسے قربانی میسر نہ ہو وہ تین دن حج کے دورا ن میں اور سات دن گھر لو ٹ کر روزے رکھے ۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ پہنچے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف فر ما یا ۔ سب سے پہلے حجرا سود کا استلام کیا ۔ پھر تین چکروں میں تیز چلے اور چار چکر معمول کی رفتار سے چل کر لگا ئے ۔ جب آپ نے بیت اللہ کا طواف مکمل کر لیا تو مقام ابرا ہیم کے پاس دو رکعتیں ادا فرمائیں ۔ پھر سلام پھیر ااور رخ بد لیا ۔ صفا پر تشریف لا ئے اور صفا مروہ کے ( درمیا ن ) ساتھ چکر لگا ئے ۔ پھر جب تک آپ نے اپنا حج مکمل نہ کیا آپ نے ایسی کسی چیز کو ( اپنے لیے ) حلال نہ کیا جسے آپ نے حرا م کیا تھا قربانی کے دن آپ نے اپنے قربانی کے اونٹ نحر کیے اور ( طواف ) افاضہ فر ما یا ۔ پھر آپ نے ہر وہ چیز ( اپنے لیے ) حلال کر لی جو احرام کی وجہ سے ) حرام ٹھہرائی تھی ۔ اور لوگوں میں سے جنھوں نے ہدیہ قربانی کا اہتمام کیا تھا اور لوگو ں کے ساتھ قربانی کے جا نور ہانک کر لے آئے تھے ۔ انھوں نے بھی ویسا ہی کیا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔
ابن شہاب نے عروہ بن زبیر سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں ( عروہ کو ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں آپ کے حج کے ساتھ عمرے کے تمتع کے متعلق اور جو آپ کے ساتھ تھے ۔ ان کے تمتع کے متعلق اسی طرح خبر دی ۔ جس طرح سالم بن عبد اللہ نے مجھے عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی تھی ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے پڑھا ، انھوں نے نافع سے روایت کی ، انھوں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! لوگوں کا معاملہ کیا ہے؟ انھوں نے ( عمرے کے بعد ) احرا م کھول دیا ہے ۔ اور آپ نے اپنے عمرے ( آتے ہی طواف وسعی جو عمرے کے منسک کے برابر ہے ) کے بعد احرا م نہیں کھولا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنے سر ( کے بالوں ) کو گوند یا خطمی بوٹی سے ) چپکالیا اور اپنی قربانیوں کو ہار ڈا ل دیے ۔ اس لیے میں جب تک قربانی نہ کر لوں ۔ احرا م نہیں کھول سکتا ۔
خالد بن مخلد نے مالک سے ، انھوں نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے کہ آپ نے احرا م نہیں کھولا ؟ ( آگے ) مذکورہ بالا حدیث کے مانند ہے ۔
عبید اللہ نے کہا : مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی : لوگوں کا کیا معاملہ ہے؟ انھوں نے احرا م کھول دیا ہے اور آپ نے ( مناسک ) ادا ہو جا نے کے باوجود ) ابھی تک عمرے کا احرا م نہیں کھولا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے اپنی قربانی کے اونٹوں کو ہار پہنائے اور اپنے سر ( کے بالوں ) کو گوند ( جیلی ) سے چپکا یا میں جب تک حج سے فارغ نہ ہو جاؤں ۔ احرام سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ( اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) سے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( آگے ) مالک کی ھدیث کے مانند ہے ( البتہ الفاظ یوں ہیں ) : " میں جب تک قربانی نہ کر لوں ۔ احرا م سے فارغ نہیں ہو سکتا ۔
ابن جریج نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حدیث بیان فرمائی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو حجۃ الوداع کے سال حکم دیا تھا کہ وہ ( عمرہ کرنے کے بعد ) احرا م کھول دیں ۔ حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے عرض کی : آپ کو احرا م کھو لنے سے کیا چیز مانع ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں اپنے سر ( کے بالوں کو ) چپکا چکا ہو ں ۔ اور اپنی قربانی کے اونٹ نحر نہ کر لوں ۔ احرام نہیں کھو ل سکتا ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے ( حدیث کی ) قراءت کی ، انھوں نے نافع سے روایت کی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتنے کے ایام میں عمرے کے لیے نکلے اور کہا : اگر مجھے بیت اللہ جا نے سے روک دیا گیا تو ہم ویسے ہی کریں گے جیسے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کیا تھا ۔ وہ ( مدینہ سے ) نکلے اور ( میقات سے ) عمرے کا تلبیہ پکا را ، اور چل پرے جب مقا م بیداء ( کی بلندی ) پر نمودار ہو ئے تو اپنے ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : "" دونوں ( حج وعمرہ ) کا معاملہ ایک ہی جیسا ہے ۔ میں تمھیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے عمرے کے ساتھ حج کی نیت بھی کر لی ہے ۔ پھر آپ نکل پڑے حتی کہ بیت اللہ پہنچے تو اس کے ( گرد ) سات چکر لگا ئے ۔ اور صفامروہ کے مابین بھی سات چکر پو رے کیے ، ان پر کوئی اضافہ نہیں کیا ۔ ان کی را ئے تھی کہ یہی ( ایک طواف اور ایک سعی ) ان کی طرف سے کا فی ہے اور ( بعدازاں ) انھوں نے ( حج قران ہو نے کی بنا پر ) قربانی کی ۔
عبید اللہ سے روایت ہے کہا : مجھے نافع نے حدیث بیان کی کہ جس سال حجاج بن یوسف نے حضرت ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے لرا ئی کرنے کے لیے مکہ میں پراؤ کیا تو عبد اللہ بن عبد اللہ اور سالم بن عبد اللہ نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گفتگو کی کہ اگر آپ اس سال حج نہ فرمائیں تو کو ئی حرج نہیں ہمیں اندیشہ ہے کہ لوگوں ( حجاج بنیوسف اور عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی فوجوں ) کے درمیان جنگ ہو گی اور آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان رکاوٹ حائل ہو جا ئے گی ( آپ بیت اللہ تک پہنچ نہیں پائیں گے ) انھوں نے فر ما یا : "" اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کو ئی رکاوٹ آگئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ( اسموقع پر ) میں بھی آپ کے ساتھ ( شریک سفر ) تھا جب قریش مکہ آپ کے اور بیت اللہ کے درمیان حا ئل ہو گئے تھے میں تمھیں گواہ بنا تا ہوں کہ میں نے عمرے کی نیت کر لی ہے ۔ ( پھر حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نکلے جب ذوالحلیفہ پہنچے تو عمرے کا تلبیہ پکارا پھر فرمایا : "" اگر میرا راستہ خالی رہا تو میں اپنا عمرہ مکمل کروں گا اور اگر میرے اور بیت اللہ کے درمیان کو ئی رکاوٹ پیدا ہو گئی تو میں وہی کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا جب میں بھی آپ کے ساتھ تھا ۔ پھر ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) یہ آیت تلاوت فرمائی ۔ "" لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّـهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ "" یقیناً تمھا رے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے عمل ) میں بہترین نمونہ ہے ۔ "" پھر ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) چل پڑے جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فر ما یا : "" ان دونوں ( حج و عمرہ ) کا حکم ایک جیسا ہے ۔ اگر میرے اور عمرے کے درمیان کو ئی رکاوٹ حائل ہو گئی تو ( وہی رکا وٹ ) میرے اور میرے حج کے درمیان حائل ہو گی ۔ میں تمھیں گواہ ٹھہراتا ہوں کہ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی لا زم ٹھہرا لیا ہے آپ چلتے رہے حتی کہ مقام قدید آپ نے قربانی کے اونٹ خریدے پھر آپ نے ان دونوں ( حج اور عمرے ) کے لیے بیت اللہ اور احرا م باندھا تھا اسے نہ کھولا یہاں تک کہ قربانی کے دن حج ( مکمل ) کر کے دونوں کے احرا م سے فارغ ہو ئے ۔
ابن نمیر نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں میرے والد ( عبداللہ ) نے عبیداللہ سے ، انھوں نے نافع سے روایت کی ، کہا : حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اس موقع پر حجاج بن یوسف ، ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مقابلے میں اترا ، حج کااردہ کیا ۔ ( ابن نمیر نے پوری ) حدیث ( یحییٰ قطان کے ) اس قصے کی طرح بیان کی ۔ البتہ حدیث کے آخر میں کہا کہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) یہ کہا کرتے تھے : جو شخص حج وعمرہ اکھٹا ( حج قران کی صورت میں ) ادا کرے تو اسے ایک ہی طواف کافی ہے ۔ اور وہ اس وقت ک احرام سے فارغ نہیں ہوگا جب تک دونوں سے فارغ نہ ہوجائے ۔
محمد بن رمح اورقتیبہ نے لیث سے ، انھوں نے نافع سے روایت کی کہ جس سال حجاج بن یوسف ، ابن سال حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کا قصد فرمایا ، ان سے کہا گیا : لوگوں کے مابین تو لڑائی ہونے والی ہے ، ہمیں خدشہ ہے کہ وہ آپ کو ( بیت اللہ سے پہلے ہی ) روک دیں گے ۔ انھوں نے فرمایا : بلا شبہ تمھارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں بہترین نمونہ ہے ۔ میں اس طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےکیا تھا ۔ میں تمھیں گواہ ٹھراتا ہوں کہ میں نے ( خود پر ) عمرہ واجب کرلیا ہے ۔ پھرروانہ ہوئے ، جب مقام بیداء کی بلندی پر پہنچے تو فرمایا : ( کسی رکاوٹ کے باعث بیت اللہ تک نہ پہنچ سکنے کے لحاظ سے ) حج وعمرے کا معاملہ یکساں ہی ہے ۔ ( لوگو! ) تم گواہ رہو ۔ ابن رمح کی روایت ہے : میں تمھیں گواہ بناتا ہوں ۔ میں نے اپنے عمرے کے ساتھ حج بھی خود پرواجب کرلیا ہے ۔ اور وہ قربانی جو مقام قدید سے خریدی تھی اسے ساتھ لیا ۔ اور حج اور عمرہ دونوں کاتلبیہ پکارتے ہوئے آگے بڑھے ، حتیٰ کہ مکہ آپہنچے ، وہاں آپ نے بیت اللہ کا اورصفا مروہ کا طواف کیا ۔ اس سے زیادہ ( کوئی اور طواف ) نہیں کیا ، نہ قربانی کی نہ بال منڈوائے ، نہ کتروائے اور نہ کسی ایسی ہی چیز کو اپنےلئے حلال قرار دیا جو ( احرام کی وجہ سے آپ پر ) حرام تھی ۔ یہاں تک کہ جب نحر کادن ( دس ذوالحجہ ) آیاتو آپ نے قربانی کی اور سرمنڈایا ۔ ان ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی رائے یہی تھی کہ انھوں نے اپنے طواف کے ذریعے سے حج وعمرے ( دونوں ) کاطواف مکمل کرلیا ہے ۔ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ( ایک طواف کے ساتھ سعی کی)
ایوب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی قصہ روایت کیا ہے ، البتہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر صرف حدیث کی ابتداء میں کیا کہ جب ان سے کہا گیا کہ وہ آپ کو بیت اللہ ( تک پہنچنے ) سے روک دیں گے ، انھوں نے کہا : میں اسی طرح کروں گا جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا ۔ اورحدیث کے آخر میں یہ نہیں کہا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا جیسا کہ لیث نے کہا ہے ۔
یحییٰ بن ایوب اور عبداللہ بن عون ہلالی نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عباد بن عباد مہلبی نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) عبیداللہ بن عمر نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ہے ۔ یحییٰ کی روایت میں ہے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف حج کاتلبیہ پکارا ۔ اور ابن عون کی روایت میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کا تلبیہ پکارا ۔
حمید نے بکر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حج وعمرے کا اکٹھا تلبیہ پکارتے ہوئے سنا ۔ بکر نے کہا : میں نے ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ) یہ بات حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بتائی تو انھوں نے فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے حج ہی کا تلبیہ پکارا تھا ۔ ( بکر نے کہا : ) پھر میری ملاقات حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوئی تو میں نے انھیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کاقول سنایا ، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ( اس وقت کے لحاظ سے ) تم ہمیں بچے ہی سمجھتے ہو؟ ( حالانکہ ایسانہ تھا ) میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا "" لبيك عمرة وحجا "" اےاللہ میں حج اور عمرے کے لئے حاضر ہوں ۔
حبیب بن شہید نے بکر بن عبداللہ سے روایت کی ، ( کہا : ) ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا ن کی کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے ان دونوں کو ملایاتھا ، حج اور عمرے کو ۔ ( بکر نے ) کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا : ہم نے ( صرف ) حج کا تلبیہ کہا تھا ۔ ( بکر نے کہا : ) پھر میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رجوع کیا اور انھیں ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بات بتائی ۔ انھوں نے جواب دیا : جیسے ہم تو اس وقت بچے تھے؟
اسماعیل بن ابی خالد نے وبرہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک شخص آیا ، اس نے پوچھا : کیا عرفات پہنچنے سے پہلے میں بیت اللہ کا طواف کرسکتا ہوں؟انھوں نے جواب دیا ، ہاں ( کرسکتے ہو ) اس نے کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے تو کہا ہے کہ عرفہ پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف نہ کرنا ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے جواب دیا : ( سنو! ) اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب حج فرمایا تو آپ نے میدان عرفات پہنچنے سے قبل بیت اللہ کا طواف کیاتھا ۔ ( اب سوچو ) کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ا پناؤ یہ زیادہ حق ہے؟یا یہ کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول؟اگر تم ( ان کے بارے میں ) سچ کہہ رہے ہو ۔
بیان نے وبرہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : میں نےحج کا احرام باندھا ہے ، تو کیا میں بیت اللہ کاطواف کرلوں؟انھوں نے فرمایا : ( ہاں ) تمھیں کیا مانع ہے؟اس نے کہا : میں نے ابن فلاں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کو دیکھا ہے کہ وہ اسے ناپسندکرتے ہیں اور آپ ہمیں ان سے زیادہ محبوب ہیں ہم نے دیکھا ہے کہ دنیا نے انھیں فتنے میں ڈال دیا ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم میں سے کون یاتم میں سے کون ۔ جسے دنیا نے فتنے میں نہیں ڈالا؟ ( تم ان پر دنیا داری کا اعتراض نہ کرو ، ) پھر فرمایا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے حج کااحرام باندھا ، بیت اللہ کاطواف کیا اور صفا مروہ کی سعی فرمائی ، ( اب سوچو ) اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کی پیروی کا زیادہ حق ہے ۔ یافلاں کے راستے کا کہ اس کی اتباع کی جائے؟اگر تم سچ کہہ رہے ہو ۔
سفیان بن عینیہ نے عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، کہا : ہم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے متعلق پوچھا جو عمرے کی غرض سے آیا ، اس نے بیت اللہ کاطواف کرلیا ( لیکن ابھی ) صفا مروہ کی سعی نہیں کی ، کیا وہ اپنی بیوی سے صحبت کرسکتا ہے؟انھوں نے فرمایا : ( جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے تو آپ نے بیت اللہ کا سات بار طواف کیا ، مقام ابراہیم کے پیچھے دو رکعتیں ادا فرمائیں ، اور ( پھر ) صفا مروہ کے درمیان سات بار چکر لگائے ۔ اور ( یاد رکھو ) تمھارے لئے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ( کے طریقے ) میں بہترین نمونہ ہے ۔
حماد بن زید اور ابن جریج دونوں نے عمرو بن دینار کے واسطے سے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن عینیہ کی ( گزشتہ ) حدیث کے مانند روایت بیان کی ۔
محمد بن عبدالرحمان سے روایت ہے کہ ایک عراقی شخص نے ان سے کہا : میری طرف سے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس شخص کے بارے میں سوال کیجئے جو حج کا تلبیہ پکارتا ہے ، جب وہ بیت اللہ کاطواف کرلےتو کیا احرام سے آزاد ہوجائےگا یانہیں؟اگر وہ تمھیں جواب دیں کہ وہ آزاد نہیں ہوگا تو ان سے کہناکہ ایک شخص ہے جو یہ کہتاہے ( محمد بن عبدالرحمان نے ) کہا : میں نے عروہ سے اس کی بابت سوال کیا توا نھوں نےکہا : جو شخص حج کا احرام باندھے ، وہ حج کیے بغیر احرام سے فارغ نہیں ہوگا ۔ میں ( محمد بن عبدالرحمان ) نے عرض کی کہ ایک شخص ہے جو یہی بات کہتا ہے انھوں نے فرمایا : کتنی بری بات ہے جو اس نے کہی ہے ۔ پھر میرا ٹکراؤ ( اس عراقی ) شخص سے ہوا تو اس نے مجھ سے ( اپنے سوال کے متعلق ) پوچھا ۔ میں نے اسے بتادیا ۔ اس ( عراقی ) نے کہا : ان ( عروہ ) سے کہو ، بلاشبہ ایک شخص خبر دے رہاتھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا حکم کیا تھا ( حکم دیا تھا ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا کیا معاملہ تھا؟انھوں نے ( بھی تو ) ایسا کیا تھا ۔ ( محمد بن عبدالرحمان نے ) کہا : میں ان عروہ کے پاس آیا اور ان کو یہ بات سنائی ۔ انھوں نے پوچھا : یہ ( سائل ) کون ہے؟میں نے عرض کی : میں نہیں جانتا ۔ انھوں نے کہا : اسے کیا ہے؟وہ خود میرے پاس آکرمجھ سے سوال کیوں نہیں کرتا؟میرا خیال ہے ، وہ کوئی عراقی ہوگا ۔ میں نے کہا : میں نہیں جانتا ۔ ( عروہ نے ) کہا : بلاشبہ اس نے جھوٹ بولاہے ۔ مجھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نےخبر دی کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا ، مکہ آکر آپ نے جو کام سب سے پہلے کیا ، یہ تھا کہ آپ نے وضوفرمایا اور پھر بیت اللہ کاطواف کیا ۔ پھر ان کے بعدحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی حج کیا ، انھوں نے بھی ، سب سے پہلے جو کیا ، یہی تھا کہ بیت اللہ کا طواف کیا اور اس کےسوا کوئی کام نہ کیا ( نہ بال کٹوائے نہ احرام کھولا ) ، پھرحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہی ایسا ہی کیا ۔ پھرحضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حج کیا ۔ میں نےانھیں دیکھا ، انھوں نے بھی سب سے پہلا کام جس سے آغاز کیا ، بیت اللہ کاطواف تھا ، پھر اس کےپھر اس کے علاوہ کوئی کام نہ ہوا ۔ پھرمعاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورعبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( نے بھی ایسا ہی کیا ) پھر میں نے اپنے والد زبیر بن عوام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حج کیا ، انھوں نے بھی سب سے پہلے جس سے آغاز کیا بیت اللہ کاطواف تھا اور اس کے علاوہ کوئی نہ تھا ، پھر میں نے مہاجرین وانصار ( کی جماعت ) کو بھی ایسا ہی کرتے دیکھا ۔ اس کے بعد ( بال کٹوانا احرام کھولنا ) کوئی کام نہ ہوا ۔ پھر سب سے آخر میں جسے میں نے یہ کرتے دیکھا وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہیں ۔ انہوں نے بھی عمرے کے ذریعے سے اپنے حج کو فسخ نہیں کیا ، اور یہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ لوگوں کے پاس موجود ہیں ۔ یہ انھی سے کیوں نہیں پوچھ لیتے؟اور نہ گزرے ہوئے لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) میں سے کسی نے ( یہ کام ) کیا ۔ وہ ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) جب بھی بیت اللہ میں قدم رکھتے تو طواف سے پہلے اور کسی چیز سے ابتداء نہ کرتے تھے ( طوا ف کرنے کے بعد ) احرام نہیں کھولتے تھے ۔ میں نے اپنی والدہ اور خالہ کو بھی دیکھا ، وہ جب بھی مکہ آتیں طواف سے پہلے کسی اور کام سے آغاز نہ کرتیں ، اس کا طواف کرتیں ، پھر احرام نہ کھولتیں ( حتیٰ کہ حج پورا کرلیتیں ) میری والدہ نے مجھے بتایا کہ وہ ، ان کی ہمشیرہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) ، حضرت زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فلاں فلاں لوگ کسی وقت عمرہ کے لئے آئے تھے ، جب انھوں نے حجر اسود کا استلام کرلیا ( اور عمرہ مکمل ہوگیا ) تو ( اس کے بعد ) انھوں نے احرام کھولا ۔ اس شخص نے اس کے بارے میں جس بات کا ذکر کیا ہے ، اس میں جھوٹ بولا ہے ۔
ابن جریج نے کہا : مجھے منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ صفیہ بنت شیبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ۔ انھوں نے کہا : ہم ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ) احرام باندھے ہوئے روانہ ہوئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس کے ساتھ قربانی ہے وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے ساتھ قربانی نہیں ہے ( وہ عمرے کےبعد ) احرام کھول دے ۔ "" میرے ساتھ قربانی نہیں تھی میں نے احرام کھول دیا اور ( میرے شوہر ) زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ قربانی تھی ، انھوں نے نہیں کھولا ۔ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( عمرے کے بعد ) میں نے ( دوسرے ) کپڑے پہن لئے اور زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آبیٹھی ، وہ کہنے لگے : میرے پاس سے اٹھ جاؤ ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
وہیب نے کہا : ہمیں منصور بن عبدالرحمان نے اپنی والدہ ( صفیہ بنت شیبہ ) سے ، انھوں نے حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ہم حج کا تلبیہ کہتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے ، پھر آگے ابن جریج کی طرح ہی حدیث بیان کی ، البتہ ( اپنی حدیث میں یہ اضافہ ) ذکر کیا : ( زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھ سے دور رہو ، مجھ سے دور رہو ، میں نے کہا : آپ کو خدشہ ہے کہ میں آپ پر جھپٹ پڑوں گی ۔
ہمیں ہارون بن سعید ایلی اور احمد بن عیسیٰ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن وہب نے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) مجھے عمرو نے ابن اسود سےخبر دی کہ اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مولیٰ عبداللہ ( بن کیسان ) نے انھیں حدیث بیان کی کہ حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب بھی مقام حجون سے گزرتیں تو وہ انھیں یہ کہتے ہوئے سنتے : "" اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر رحمتیں فرمائے! "" ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس مقام پر پڑاؤ کیا تھا ۔ ان دنوں ہمارے سفر کےتھیلے ہلکے ، سواریاں کم اور زاد راہ بھی تھوڑا ہوتا تھا ۔ میں ، میری بہن عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور فلاں فلاں شخص نے عمرہ کیاتھا ، پھر جب ہم ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا باقی سب ) نے بیت اللہ ( اور صفا مروہ ) کا طواف کرلیا تو ہم ( میں سے جنھوں نے عمرہ کرنا تھاانھوں نے ) احرام کھول دیے ، پھر ( ترویہ کے دن ) زوال کے بعد ہم نے ( احرام باندھ کر ) حج کا تلبیہ پکارا ۔ ہارون نے اپنی روایت میں کہا : حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام نے ( کہا ) ، انھوں نے ان کا نام ، عبداللہ نہیں لیا ۔
شعبہ نے مسلم قری سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حج تمتع کے بارے میں سوا ل کیا ۔ انھوں نے اس کی اجازت دی ، جبکہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس سے منع فرمایا کرتے تھے ۔ انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : یہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ ہیں ۔ وہ حدیث بیان کرتی ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی اجازت دی ، ان کے پاس جاؤ ۔ اور ان سے پوچھو ( قری نے ) کہا : ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے وہ ( اس وقت ) بھاری جسم کی نابینا خاتون تھی ، ( ہمارے استفسار کے جواب میں ) انھوں نےفرمایا : یقیناً اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( حج تمتع ) کی اجازت عطا فرمائی تھی ۔
عبدالرحمان اور محمد بن جعفر دونوں نے اسی سند کے ساتھ شعبہ سے روایت کی ، ان میں سے عبدالرحمان کی حدیث میں صرف لفظ تمتع ہے ، انھوں نے حج تمتع کے الفاظ روایت نہیں کیے ۔ جبکہ ابن جعفر نے کہا : شعبہ کا قول ہے کہ مسلم ( قری ) نے کہا : میں نہیں جانتا کہ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے حج تمتع کا ذکر کیا یا کہ عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کی بات کی ۔
معاذ ( بن معاذ ) نے ہمیں شعبہ سے حدیث سنائی ، ( کہا : ) مسلم قریؒ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : ( حجۃ الوداع کے موقع پر اولاً ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( حج کے ساتھ ملاکر ) عمرہ کرنے کا تلبیہ پکاراتھا ، اور آپ کے ( بعض ) صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے حج کا تلبیہ پکارا تھا ، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وہ صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین جو قربانیاں ساتھ لائے تھے ، انھوں نے ( جب تک حج مکمل نہ کرلیا ) احرام نہ کھولا ، باقی صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے ( جن کےہمراہ قربانیاں نہ تھیں ) احرام کھول دیا ۔ حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی انھی لوگوں میں سے تھے جو قربانیاں ساتھ لائے تھے ، لہذا انھوں نے احرام نہ کھولا ۔
محمد ، یعنی ابن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، البتہ انھوں نے کہا : جن کے پاس قربانیاں نہ تھیں ان میں طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ایک دوسرے صاحب تھے ، لہذا ان دونوں نے ( عمرے کے بعد ) احرام کھول دیا ۔
عبداللہ بن طاوس نے اپنے والد طاوس بن کیسان سے ، انھوں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : ( جاہلیت میں ) لوگوں کا خیال تھا کہ حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا ، زمین میں سب سے براکام ہے ۔ اور وہ لوگ محرم کے مہینے کو صفر بنا لیا کرتے تھے ، اور کہا کرتے تھے : جب ( اونٹوں کا ) پیٹھ کا زخم مندمل ہوجائے ، ( مسافروں کا ) نشان ( قدم ) مٹ جائے اورصفر ( اصل میں محر م ) گزر جائے تو عمرہ والے کے لئے عمرہ کرناجائز ہے ۔ ( حالانکہ ) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ا اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ چار ذوالحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ پکارتے ہوئے مکہ پہنچے ، اور ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ اپنے حج ( کی نیت ) کو عمرے میں بدل دیں ، یہ بات ان ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) پر بڑی گراں تھی ، سب نے بیک زبان کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !یہ کیسی حلت ( احرام کا خاتمہ ) ہوگی؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مکمل حلت ۔
نصر بن علی جحضمی نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) میرے والد نے ہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) شعبہ نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ایوب سے ، انھوں نے ابو عالیہ براء سے روایت کی ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کاتلبیہ پکارا اور چار ذوالحجہ کو تشریف لائے اور فجر کی نماز ادا کی ، جب نماز فجر ادا کرچکے تو فرمایا : " جو ( اپنے حج کو ) عمرہ بنانا چاہے ، وہ اسے عمرہ بنا لے ۔
یہی حدیث روح ، ابو شہاب اور یحییٰ بن کثیر ان تمام نے شعبہ سے اسی سند سے روایت کی ، روح اور یحییٰ بن کثیر دونوں نے ویسے ہی کہا جیسا کہ نصر ( بن علی جہضمی نے کہا کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کا تلبیہ پکا را البتہ ابو شہاب کی روایت میں ہے : ہم تمام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ پکا رتے ہو ئے نکلے ۔ ( آگے ) ان سب کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطحا ء میں فجر کی نماز ادا کی ، سوائے جہضمی کے کہ انھوں نے یہ بات نہیں کی
ہمیں وہیب نے حدیث سنا ئی ، ( کہا ) ہمیں ایو ب نے حدیث سنا ئی انھوں نے ابو عالیہ برا ء سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحا بہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سمیت عشرہ ذوالحجہ کی چار راتیں گزارنے کے بعد ( مکہ ) تشریف لا ئے ۔ وہ ( صحابہ کرا م رضوان اللہ عنھم اجمعین ) حج کا تلبیہ پکاررہے تھے ( وہاں پہنچ کر ) آپ نے انھیں حکم دیا کہ اس ( نسک جس کے لیے وہ تلبیہ پکار رہے تھے ) کو عمر ے میں بدل دیں ۔
معمر نے ہمیں ہمیں خبردی انھوں نے ایوب سے انھوں نے ابو عالیہ سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز ذی طوی میں ادا فر ما ئی اور ذوالحجہ کی چا ر راتیں گزری تھیں کہ تشریف لا ئے اور اپنے صحا بہ کرام حکم فرمایا کہ جس کے پاس قربانی ہے ان کے علاوہ باقی سب لو گ اپنے ( حج کے ) احرام کوعمرے میں بدل دیں ۔
محمد بن جعفر نے اور عبید اللہ بن معاذ نے اپنے والد کے واسطے سے حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ لفظ عبید اللہ کے ہیں ۔ ۔ ۔ کہا شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حکم سے ، انھوں نے مجا ہد سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " یہ عمرہ ( اداہوا ) ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھا لیا ہے ( اب ) جس کے پاس قربانی کا جا نور نہ ہو وہ مکمل طور پر حلال ہو جا ئے ۔ ( احرا م کھول دے ) یقیناً ( اب ) قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے ( دونوں ایک ساتھ ادا کیے جا سکتے ہیں)
ابو حمزہ ضبعی نے کہا : میں نے حج تمتع ( کا ارادہ ) کیا تو ( متعدد ) لوگوں نے مجھے اس سے روکا ، میں ( اسی شش و پنج میں ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور اس معاملے میں استفسارکیا تو انھوں نے مجھے اس ( حج تمتع ) کا حکم دیا ۔ کہا پھر میں اپنے گھر لوٹا اور آکر سو گیا ، نیند میں دورا ن خواب میرے پاس ایک شخص آیا ۔ اور کہا ( تمھا را ) عمرہ قبول اور ( تمھا را ) حج مبرو ( ہر عیب سےپاک ) ہے ۔ انھوں نے کہا میں ( دوباراہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حا ضر ہوا اور جو دیکھا تھا ۔ کہہ سنا یا ۔ وہ ( خوشی سے ) کہہ اٹھے ( عربی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ) یہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ( تمھا را خواب اسی کی بشارت ہے)
شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے ابو حسان سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی فر ما یا : آپ نے ذوالحلیفہ میں ظہر کی نماز ادا فرمائی ۔ پھر اپنی اونٹنی منگوائی اور اس کی کو ہا ن کی دا ئیں جا نب ( ہلکے سے ) زخم کا نشان لگا یا اور خون پونچھ دیا اور دو جوتے اس کے گلے میں لتکا ئے ۔ پھر اپنی سواری پر سوار ہو ئے ۔ ( اور چل دیے ) جب وہ آپ کو لے کر بیداء کے اوپر پہنچی تو آپ نے حج کا تلبیہ پکا را ۔
معاذ بن ہشام نے کہا : مجھے میرے والد ( ہشام بن ابی عبد اللہ صاحب الدستوائی ) نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ شعبہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ، البتہ انھوں نے یہ الفا ظ کہے : " اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ذوالحلیفہ آئے " یہ نہیں کہا : " انھوں نے وہاں ( ذوالحلیفہ میں ) ظہر کی نماز ادا فرمائی ۔
شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو حسان اعرج سے سنا ، انھوں نے کہا بنو حجیم کے ایک شخص نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا یہ کیا فتوی ہے ۔ جس نے لوگوں کو الجھا رکھا ہے یا پریشان کر رکھا ہے؟ کہ جو شخص بیت اللہ کا طواف کرے ( عمرہ کر لے ) وہ احرا م سے باہر آجا تا ہے ۔ انھوں نے فر ما یا : یہی تمھارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چا ہے تمھا ری مرضی نہ ہو ۔
ہمام بن یحییٰ نے قتادہ سے ، انھوں ے ابو حسان سے حدیث بیان کی ، کہا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا کہ اس معاملے ( فتوے ) نے لوگوں کو تفرقے میں ڈال دیا ہے کہ جو بیت اللہ کا طوف ( عمرہ ) کر کے وہ احرا م سے باہر آجا تا ہے اور یہ کہ طواف مستقل عمرہ ہے فر ما یا : ( ہاں ) یہی تمھا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چا ہے تمھیں نہ چا ہتے ہو ئے قبول کرنی پڑے ۔
ابن جریج نے کہا : مجھے عطا ء نے خبر دی کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فر مایا کرتے تھے : ( احرا م کی حا لت میں ) جو شخص بھی بیت اللہ کا طواف کرے وہ حاجی ہو یا غیر حاجی ( صرف عمرہ کرنے والا ) وہ طواف کے بعد احرا م سے آزاد ہو جا ئے گا ابن جریج نے کہا : میں نے عطا ء سے دریافت کیا ، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات کہاں سے لیتے ہیں؟ ( ان کے پاس کیا دلیل ہے؟ فرمایا اللہ تعا لیٰ کے اس فر مان سے ( دلیل لیتے ہوئے ) " پھر ان کے حلال ( ذبح ) ہو نے کی جگہ " البیت العتیق " ( بیت اللہ ) کے پاس ہے ۔ " ابن جریج نے کہا : میں نے ( عطاء سے ) کہا : اس آیت کا تعلق تو وقوف عرفات کے بعد سے ہے انھوں نے جواب دیا : ( مگر ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے تھے : اس آیت کا تعلق وقوف عرفات سے قبل اور بعد دونوں سے ہے ۔ اور انھوں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم سے اخذ کی جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حجۃ الوداع کے موقع پر ( طواف وسعی کے بعد ) احرا م کھول دینے کے بارے میں دیا تھا ۔
ہشام بن حجیر نے طاوس سے روایت کی ، کہا : حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ذکر کیا کہ مجھے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں نے مروہ کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال قینچی سے کا ٹے تھے؟میں نے کہا : میں یہ تو نہیں جانتا مگر ( یہ جا نتا ہوں کہ ) آپ کی یہ بات آپ ہی کے خلا ف دلیل ہے ۔
حسن بن مسلم نے طاوس سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت معاویہ ابی سفیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہا : میں نے قینچی سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بال تر اشے جبکہ آپ مروہ پر ( سعی سے فارغ ہو ئے ) تھے ۔ یا کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ کے بال قینچی سے ترا شے جا رہے تھے ، اور آپ مروہ پرتھے ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
وہیب بن خا لد نے داود سے انھوں نے ابو نضرہ سے انھوں نے جابر اور ابو خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ پہنچے اور ہم بہت بلند آواز سے حج کا تلبیہ پکا ر رہے تھے ۔
ابو نضر ہ سے روایت ہے کہا : میں جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں موجود تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا : ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دونوں متعوں ( حج تمتع اور عورتوں سے متعہ ) کے بارے میں ایک دوسرے سے اختلاف کیا ہے ۔ حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فر ما یا : ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں یہ دونوں متعے کیے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں ان دونوں سے روک دیا تو دوبار ہ ہم نے دونوں نہیں کیے ۔
(عبد الرحمٰن ) بن مہدی نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) مجھے سلیم بن حیا ن نے مروان اصغر سے حدیث سنا ئی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) یمن سے مکہ پہنچے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " تم نے کیا تلبیہ پکا را ؟انھوں نے جواب دیا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے تلبیے کے مطا بق تلبیہ پکا را ۔ آپ نے فرمایا : " اگر میرے پاس قربانی نہ ہو تی تو میں ضرور احلال ( احرا م سے فراغت ) اختیا ر کر لیتا ۔
عبد الصمد اور بہزدونوں نے کہا : ہمیں سلیم بن حیان نے اسی سند کے ساتھ اسی کی طرح حدیث بیان کی ، البتہ بہز کی روایت میں " حلال ہو جا تا " ( احرا م کھو ل دیتا ) کے الفا ظ ہیں ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے زہری نے حنظلہ اسلمی کے واسطے سے حدیث بیان کی کہا : میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہے تھے ( کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : " اس ذات اقدس کی قسم جس کے ہا تھ میں میری جا ن ہے ۔ !ابن مریمؑ ( زمین پر دوبارہ آنے کے بعد ) فج روھاء ( کے مقام ) سے حج کا یا عمرے کا یا دونوں کا نام لیتے ہو ئے تلبیہ پکا ریں گے ۔
لیث نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ، ( اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم جا ن ہے
یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے حنظلہ بن علی اسلمی سے روایت کی کہ انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ذات کی قسم جس کے ہا تھ میں میری جان ہے! " ( آگے سفیان اور لیث بن سعد ) دونوں کی حدیث کے مانند ہے ۔
ہذاب بن خالد نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا ) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا ) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی کہ حجرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) چار عمرے کیے ، اور اپنے حج والے عمرے کے سوا تمام عمرے ذوالقعدہ ہی میں کیے ۔ ایک عمرہ حدیبیہ سے یا حدیبیہ کے زمانے کا ذوالقعد ہ میں ( جو عملاً نہ ہو سکا لیکن حکماً ہو گیا ) اور دوسرا عمرہ ( اس کی ادائیگی کے لیے ) اگلے سال ذوالقعدہ میں ادا فرمایا ( تیسرا ) عمرہ جعرانہ مقام سے ( آکر ) کیا جہا ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کے اموال غنیمت تقسیم فرما ئے ۔ ( یہ بھی ) ذوالقعدہ میں کیا اور ( چوتھا ) عمرہ آپ نے اپنے حج کے ساتھ ذوالحجہ میں ) ادا کیا ۔
محمد بن مثنیٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عبد الصمد نے حدیث سنا ئی ( کہا ) ہمیں ہمام نے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے حج کیے ؟ انھوں نے کہا : حج ایک ہی کیا ( البتہ ) عمرے چار کیے ، پھر آگے ہذاب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
ابو اسحاق سے روایت ہے کہا : میں نے زید بن را قم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر کتنی جنگیں لریں؟کہا : سترہ ۔ ( ابو اسحا ق نے ) کہا : مجھے زید بن را قم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) انیس غزوے کیے ۔ آپ نے ہجرت کے بعد ایک ہی حج حجۃ الوداع ادا کیا ۔ ابو اسحاق نے کہا : آپ نے مکہ میں ( رہتے ہو ئے ) اور حج ( بھی ) کیے ۔
عطاء نے خبردی کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے خبردی کہا : میں اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے کے ساتھ ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے اور ان کی ( دانتوں پر ) مسواک رگڑنے کی آواز سن رہے تھے ۔ عروہ نے کہا : میں نے پو چھا : ابو عبد الرحمٰن ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کنیت ! ) کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےر جب میں بھی عمرہ کیا تھا ؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ میں نے ( وہیں بیٹھے بیٹھے ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو پکا را ۔ میری ماں !کیا آپ ابو عبد الرحمٰن کی بات نہیں سن رہیں وہ کیا کہہ رہے ہیں ؟ انھوں نے کہا ( بتا ؤ ) وہ کیا کہتے ہیں ؟ میں نے عرض کی وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں ( بھی ) عمرہ کیا تھا ۔ انھوں نے جواب دیا : اللہ تعا لیٰ ابو عبد الرحمٰن کو معاف فر ما ئے مجھے اپنی زندگی کی قسم !آپ نے رجب میں کو ئی عمرہ نہیں کیا ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی عمرہ نہیں کیامگر یہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) بھی آپ کے ساتھ ہو تے تھے ۔ ( عروہنے ) کہا : ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی گفتگو ) سن رہے تھے ) انھوں نے ہاں یا ناں کچھ نہیں کہا ، خاموش رہے ۔
مجا ہد سے روایت ہے کہا : میں اور عروہ بن زبیر مسجد میں داخل ہو ئے دیکھا تو عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ مسجد میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجرے ( کی دیوار ) سے ٹیک لگا ئے بیٹھے تھے اور لو گ مسجد میں چاشت کی نماز پڑھنے میں مصروف تھے ۔ ہم نے ان سے لوگوں کی ( اس ) نماز کے بارے میں سوال کیا ، انھوں نے فرمایا کہ بدعت ہے ۔ عروہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے پو چھا : ابو عبد الرحمٰن !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کل ) کتنے عمرے کیے ؟انھوں نے جواب دیا : چار عمرے اور ان میں سے ایک رجب کے مہینے میں کیا ۔ ( ان کی یہ بات سن کر ) ہم نے انھیں جھٹلا نا اور ن کا رد کرنا منا سب نہ سمجھا ، ( اسی دورا ن میں ) ہم نے حجرے میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے مسواک کرنے کی آواز سنی ۔ عروہ نے کہا : المومنین !ابو عبد الرحمٰن کو کہہ رہے ہیں آپ نہیں سن رہیں؟ انھوں نے کہا وہ کیا کہتے ہیں؟ ( عروہنے ) کہا : وہ کہتے ہیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار عمرے کیے اور ان میں سے ایک عمرہ رجب میں کیا ہے انھوں نے فرمایا : اللہ تعا لیٰ ابو عبد الرحمٰن پر رحم فر ما ئے !رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جتنے بھی عمرے کیے یہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان کے ساتھ تھے ( یہ بھول گئے ہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجب میں کبھی عمرہ نہیں کیا ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
محمد بن عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنا ئی ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) شجرہ کے راستے سے نکلتے اور معرس کے راستے سے داخل ہو تے تھے ۔ اور جب مکہ میں داخل ہو تے تو ثنیہ علیا سے داخل ہو تے اور ثنیہ سفلیٰ سے باہر نکلتے تھے ۔
زہیر بن حرب اور محمد بن مثنیٰ نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید قطا ن نے عبید اللہ سے اسی مذکورہ بالا سند سے روایت کی ، اور زہیر کی روایت میں ہے : وہ بالائی ( گھاٹی ) جو بطحا ء کے قریب ہے ۔
سفیان بن عیینہ نے ہشام بن عروہ سے انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ) انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مکہ آئے تو اس کی بالائی جا نب سے اس میں دا خل ہوئے اور زیریں جا نب سے آپ ( مکہ سے ) باہر نکلے ۔
ابو اسامہ نے ہشام سے مذکورہ سند کے ساتھ روایت کی کہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال کداء سے مکہ کی با لا ئی جا نب سے مکہ میں دا خل ہوئے تھے ۔ ہشا م نے کہا : میرے والد دونوں ( بالائی اور زیریں ) جانبوں سے مکہ میں داخل ہو تے تھے لیکن اکثر اوقات وہ کداء ہی سے داخل ہو تے ۔
زہیر بن حرب اور عبید اللہ بن سعید نے مجھے حدیث سنا ئی ۔ دونوں نے کہا : ہمیں یحییٰ القطان نے حدیث بیان کی انھوں نے عبید اللہ سے روایت کی ، ( کہا ) مجھے نافع ذی طویٰ مقام پر رات گزاری کہ صبح کر لی ۔ پھر مکہ میں دا خل ہوئے ۔ ( نافع نے ) کہا : حضرت عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ) ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔ ابن سعید کی روایت میں ہے حتی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی نماز ادا کر لی ۔ یحییٰ نے کہا : یا ( عبید اللہ نے ) کہا تھا : حتی کہ صبح کر لی ۔
حماد نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب بھی مکہ آتے تو ذی طویٰ ( کے مقام ) ہی میں رات گزارتے حتی کہ صبح ہو جا تی غسل فر ماتے پھر دن کے وقت مکہ میں داخل ہو تے ۔ وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔
انس یعنی ابن عیاض نے موسیٰ بن عقبہ سے انھوں نے نافع سے روایت کی کہ عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ تشریف لا تے تو پہلے ذی طویٰ میں پڑاؤ فر ما تے ۔ وہاں رات بسر کرتے یہاں تک کہ صبح کی نماز ادا کرتے ( پھر مکہ میں داخل ہو تے ) اور للہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز پڑھنے کی جگہ چھوٹے مضبوط ٹیلے پر تھی اس مسجد میں نہیں جو وہاں بنا ئی گئی ۔ ہے بلکہ اس سے نیچے مضبوط ٹیلے پر ۔
موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انھوں نے نافع سے روایت کی کہ عبد اللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں بتا یا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کے رخ پر اس پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کو سامنے رکھا جو آپ کے اور لمبے پہاڑ کے در میان تھا آپ اس مسجد کو جو وہاں بنا دی گئی ہے ٹیلے کے کنا رے والی مسجد کے بائیں ہاتھ رکھتے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز پڑھنے کی جگہ اس مسجد سے نیچے کا لے ٹیلے پر تھی ٹیلے سے تقریباً دس ہا تھ ( جگہ ) چھوڑتے پھر آپ لمبے پہاڑ کی دونوں گھاٹیوں کی جا نب رخ کر کے نماز پڑھتے وہ پہاڑ جو تمھا رے اور کعبہ کے درمیان پڑتا ہے ۔
عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ کا پہلا طواف کرتے تو تین چکر چھوٹے چھوٹے قدموں سے کندھے ہلا ہلا کر تیز چلتے ہو ئے لگاتے اورچا ر چکر چل کر لگا تے اور جب صفا مروہ کے چکر لگا تے تو وادی کی ترا ئی میں دوڑتے ۔ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم آنے ( قدوم ) کے بعد سب سے پہلے حج و عمرے کا جو طواف کرتے اس میں آپ بیت اللہ کے تین چکر وں میں تیز رفتا ری سے چلتے پھر ( باقی ) چا ر میں ( عام رفتا ر سے ) چلتے ، پھر اس کے بعد دو رکعتیں ادا کرتے اور اس کے بعد صفا مروہ کے درمیان طواف کرتے ۔
سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ جب مکہ آتے طواف فرماتے اس کے سات چکروں میں سے پہلے تین میں چھوٹے قدم اٹھا تے ہو ئے تیز چلتے
ہمیں ابن مبارک نے حدیث بیا ن کی ، ہمیں عبیداللہ نے نافع سےخبر دی ( کہا : ) انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجر اسود سے حجر اسود تک تین چکروں میں رمل کیا ، اور ( باقی ) چار میں چلے ۔
سلیم بن اخضر نے عبیداللہ بن عمر سے مذکورہ بالا سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ، اوربتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی جبکہ یحییٰ نے کہا اور الفاظ انھی کے ہیں : میں نے مالک کے سامنے قراءت کی ( کہ ) جعفر بن محمد نے اپنے والد سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےفرمایا : میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ نے حجر اسود سے دوبارہ وہاں تک پہنچنے تک ، تین چکروں میں رمل کیا ۔
عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے مالک اورابن جریج نے خبر دی ، انھوں نے جعفر بن محمد سے ، انھوں نے ا پنے والد ( محمد باقر ) سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین چکروں میں حجر اسود سے حجر اسود تک رمل کیا ۔
عبدالواحد بن زیاد نےہمیں حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں جریری نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : آپ کی کیا رائے ہے بیت اللہ کاطواف کرتے ہوئے تین چکروں میں رمل اور چار چکروں میں چلنا ، کیا یہ سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم یہ سمجھتی ہے کہ یہ سنت ہے ۔ کہا : ( انھوں نے ) فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اورغلط بھی ۔ میں نے کہا : آپ کے اس جملے کا کہ انھوں نے درست بھی کہا اورغلط بھی ، کیامطلب ہے؟انھوں نے فرمایا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مکہ تشریف لائے تو مشرکوں نے کہا : محمد اوران کے ساتھی ( مدینے کی ناموافق آب وہوا ، بخار اور ) کمزوری کے باعث بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتے ۔ کفار آپ سے حسد کرتے تھے ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : ( ان کی با ت سن کر ) آپ نے انھیں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ) حکم دیا کہ تین چکروں میں رمل کرو اورچار چکروں میں ( عام رفتار سے ) چلو ۔ ( ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں نے ان ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے عرض کی : مجھے سوار ہوکرصفا مروہ کی سعی کرنے کے متعلق بھی بتائیے ، کیاوہ سنت ہے؟کیونکہ آپ کی قوم کے لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ سنت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اور غلط بھی ، میں نے کہا : اس بات کا کیا مطلب ہے کہ انھوں نےصحیح بھی کہا اورغلط بھی؟انھوں نےفرمایا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم پرلوگوں کا جمگھٹا ہوگیا ، وہ سب ( آپ کو دیکھنے کے خواہش مندتھے اور ایک دوسرے سے ) کہہ رہے تھے ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ۔ یہ ہیں محمد صلی اللہ علیہ وسلم حتیٰ کہ نوجوان عورتیں بھی گھروں سے نکلی ۔ ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے ( ہٹانے کےلئے ) لوگوں کو مارانہیں جاتا تھا ، جب آپ ( کے راستے ) پر لوگوں کا ٹھٹھہ لگ گیا تو آپ سوار ہوگئے ۔ ( کچھ حصے میں ) چلنا اور ( کچھ میں ) سعی کرنا ( تیز چلنا ہی ) افضل ہے ۔ ( کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اصل میں یہی کرنا چاہتے تھے ۔)
یزید ( بن زریع تمیمی ) نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں جریری نے اسی سند سے خبر دی ، البتہ اس نے یہ کہا کہ اہل مکہ حاسد لوگ تھے ، یہ نہیں کہا ہ وہ آ پ سے حسد کرتے تھے ۔
ابن ابی حسین نے ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : آپ کی قوم کا خیال ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ ( کے طواف میں ) اورصفا مروہ کے درمیان میں رمل کیا تھا ، اور یہ سنت ہے ۔ انھوں نے فرمایا : انھوں نے صحیح بھی کہا اورغلط بھی ۔
عبدالملک بن سعید بن ابجر نے ابوطفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : میرا خیال ہے کہ میں نے ( حجۃ الوداع کے موقع پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھاتھا ۔ ( انھوں نے ) کہا : ان کی صفت ( تمھیں کس طرح نظر آئی ) بیان کرو ۔ میں نے عرض کی : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مروہ کے پاس اونٹنی پر ( سوار ) دیکھا تھا ، اور آپ ( کو دیکھنے کےلئے ) لوگوں کا بہت ہجوم تھا ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : ( ہاں ) وہی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے ۔ لوگوں کوآپ سے ( دورہٹانے کےلئے ) دھکے دیئے جاتے تھے نہ انھیں ڈانٹا جاتاتھا ۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ( عمرہ قضا کےلیے ) مکہ آئے تو انھیں یثرب ( مدینہ ) کے بخار نے کمزور کردیا تھا ۔ مشرکین نے کہا : کل تمھارے ہاں ایسے لوگ آرہے ہیں جنھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ اورانھیں اس سے بڑی تکلیف پہنچی ہے ۔ اور وہ لوگ حطیم کے ساتھ ( لگ کر ) بیٹھ گئے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( اپنے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو حکم دیا کہ بیت اللہ کے تین چکروں میں چھوٹے قدموں کی تیز ، مضبوط چال چلیں ، اور دونوں ( یمانی ) کونوں کےدرمیان عام چال چلیں تاکہ مشرکوں کوان کی مضبوطی نظرآجائے ۔ ( مسلمانوں کی مضبوط چال دیکھ کر ) مشرکوں نے کہا : یہی لوگ ہیں جن کے بارے میں تمھارا خیال تھا کہ انھیں بخار نے کمزور کردیا ہے ۔ یہ تو فلاں فلاں سے بھی زیادہ مضبوط ہیں ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انھیں پورے چکروں میں رمل نہ کرنے کاحکم دینے سے ، آپ کو محض اس شفقت نے روکا جو آپ ان پر فرماتے تھے ۔
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی اور بیت اللہ کے طواف میں رمل صرف مشرکین کواپنی ( قوم کی ) طاقت اور قوت دکھانے کے لیے کیا تھا ۔
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم بن عبداللہ سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو یمانی کونوں کے علاوہ بیت اللہ ( کے کسی حصے ) کوچھوتے نہیں دیکھا ۔
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نےسالم سے ، انھوں نےاپنے والد سے روایت کی ، فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رکن اسود ( حجر اسود والے کونے ) اور اس کے ساتھ والے کونے کے علاوہ ، جو کہ بنو جمح کے گھروں کی جانب ہے ، بیت اللہ کے کسی اور کونے کو نہیں چھوتے تھے ۔
خالد بن حارث نے عبیداللہ سے ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ۔ انھوں نےبتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حجر اسود اوررکن یمانی کے علاوہ کسی اور کونے کااستلام نہیں کرتے تھے ۔
ہمیں یحییٰ نے عبیداللہ سے روایت بیا ن کی ، ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، فرمایا : میں نے مشکل ہویا آسانی ، اس وقت سے ان دونوں رکنوں ، رکن یمانی اورحجر اسود کا استلام نہیں چھوڑا ، جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان دونوں کااستلام کرتے ( ہاتھ یا ہونٹوں سے چھوتے ) ہوئےدیکھا ۔
عبیداللہ نے نافع سےروایت کی کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا کہ وہ حجر اسود کو اپنے ہاتھوں سے چھوتے پھر اپنا ہاتھ کوچوم لیتے ۔ انھوں نے کہا : میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسا کرتے دیکھا ، اس وقت اسے ترک نہیں کیا ۔
ابوطفیل بکری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ فرمارہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ دو یمانی کناروں ( رکن یمانی اورحجر اسود ) کے علاوہ کسی اور کنارے کو چھوتے ہوں ۔
مجھے حرملہ بن یحییٰ نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے یونس اورعمرو نے خبر دی ، اسی طرح مجھے ہارون بن سعید ایلی نے حدیث بیان کی ، کہا : ابن وہب نے عمروسےخبر دی ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سالم سے روایت کی کہ ان کے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے انھیں حدیث بیان کی ، کہا : ( ایک مرتبہ ) حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا : ہاں ، اللہ کی قسم!میں اچھی طرح جانتاہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھا ہوتا کہ وہ تمھیں بوسہ دیتے تھے تو میں تمھیں ( کبھی ) بوسہ نہ دیتا ۔ ہارون نے اپنی روایت میں ( کچھ ) اضافہ کیا ، عمرو نے کہا : مجھے زید بن اسلم نے اپنے والد اسلم سے اسی کے مانند روایت کی تھی ۔
نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حجر اسود کو بوسہ دیا اورکہا : میں تجھے بوسہ دیتاہوں اور میں یہ بھی جانتاہوں کہ توایک پتھر ہے لیکن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھا وہ تجھے بوسہ دیتے تھے ۔ ( اس لئے میں بھی بوسہ دیتاہوں)
ہمیں خلف بن ہشام ، مقدمی ، ابوکامل ، اورقتیبہ بن سعید سب نے حماد سے حدیث بیان کی ، خلف نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے عاصم احول سے حدیث بیان کی ، انھوں نےعبداللہ بن سرجس سے روایت کی ، کہا : میں نے سرکےاگلے حصے سے اڑے ہوئے بالوں والے ، یعنی عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا ، وہ حجر اسود کو بوسہ دیتے تھے اور کہتے تھے : اللہ کی قسم!میں تجھے بوسہ دےرہاہوں ، اور بے شک میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے ، تو نقصان پہنچاسکتا ہے نہ نفع ، اگر ایسا نہ ہوتا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیے دیکھاتھا ، تومیں تجھے بوسہ نہ دیتا ۔ مقدمی اور ابو کامل کی روایت میں ( اڑے ہوئے بالوں والے کی بجائے ) "" آگے سے چھوٹی سی گنج والے "" کودیکھا کے الفاظ ہیں ۔
عابس بن ربیعہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حجر اسود کو بوسہ دیتے ہوئے دیکھا ، وہ فرمارہے تھے بلاشبہ میں نے تجھے بوسہ دیا ہے اور میں جانتا ہوں کہ توایک پتھر ہی ہے ۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے نہ دیکھا ہوتا تو تمھیں کبھی بوسہ نہ دیتا ۔
سوید بن غفلہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کودیکھا کہ انھوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اوراس سے چمٹ گئے ، اورفرمایا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے ۔
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور کہا : لیکن میں نے ابو القاسم کو دیکھا وہ تم سے بہت قریب ہوتے تھے ۔ انھوں نے " وہ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) اس سے چمٹ گئے " کے الفاظ نہیں کہے ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اونٹ پر طواف فرمایا ، اور آپ اپنی ایک سرے سے مڑی ہوئی چھڑی سے حجر اسود کااستلام فرماتے تھے ۔
علی بن مسہر نے ہمیں حدیث سنائی ، انھوں نے ابن جریج سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنی سواری پربیت اللہ کا طواف فرمایا ، آپ اپنی چھڑی سے حجر اسود کا استلام فرماتے تھے ۔ ( سواری پر طواف اس لئے کیا ) تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں ، اورآپ لوگوں کو اوپر سے دیکھیں ، لوگ آپ سے سوال کرلیں کیونکہ لوگوں نے آپ کے ارد گرد ہجوم کرلیا تھا ۔
علی بن خشرم نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عیسیٰ بن یونس نے ابن جریج سے خبر دی ، نیز ہمیں عبد بن حمید نے حدیث بیا ن کی ( کہا : ) ہمیں محمد ، یعنی ابن بکر نے حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے ابوزبیر سے خبر دی کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکہتے ہوئےسنا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیت اللہ اورصفا مروہ کا طواف اپنی سواری پر کیا ، تاکہ لوگ آپ کو دیکھ سکیں اور آپ اوپر لوگوں کو دیکھ سکیں اور لوگ آپ سے سوال کرسکیں کیونکہ لوگوں نے ( ہرطرف سے اذدحام کرکے ) آپ کو چھپا لیاتھا ۔ ابن خشرم نے " تاکہ وہ آپ سے سوالات پوچھ سکیں " ( کے الفاظ ) روایت نہیں کیے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع میں اپنے اونٹ پر کعبہ کے اردگرد طواف فرمایا ، آپ ( اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے ) حجر اسود کا استلام فرماتے تھے ، اس لیے کہ آپ کو یہ بات ناپسند تھی کہ آپ سے لوگوں کو مارکرہٹایا جائے ۔
ابو طفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ بیت اللہ کاطواف فرمارہے تھے ، آپ اپنی مڑے ہوئے سرے والی چھڑی سے حجر اسود کا استلام کرتے تھے اوراس چھڑی کو بوسہ دیتے تھے ۔
حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شکوہ کیا کہ میں بیمار ہوں تو آپ نے فرمایا : " سوار ہوکر لوگوں کے پیچھے سے طواف کرلو ۔ " انھوں نے کہا : جب میں نے طواف کیا تو اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ کی ایک جانب نماز ادا فرمارہے تھے ، اور ( نماز میں ) ( وَالطُّورِ﴿<http : //tanzil.net/>﴾ وَكِتَابٍ مَّسْطُورٍ ) کی تلاوت فرمارہے تھے ۔
ہمیں ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد ( عروہ بن زبیر ) سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی : میرا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہ کرے تو اسے کوئی نقصان نہیں ( اس کا حج وعمرہ درست ہوگا ۔ ) انھوں نے پوچھا : وہ کیوں؟میں نے عرض کی : کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتاہے : "" بے شک صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سےہیں ، "" آخرتک ، "" ( پھر کوئی حج کرے یا عمرہ تو اس کو گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کاطواف کرے اور جس نے شوق سے کوئی نیکی کی تو اللہ قدردان ہے سب جانتا ہے ۔ ) "" انھوں نےجواب دیا : وہ شخص صفا مروہ کے مابین سعی نہیں کرتا ، اللہ تعالیٰ اس کا حج اور عمرہ مکمل نہیں فرماتا ۔ اگر بات اسی طرح ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہوتو ( اللہ کافرمان ) یوں ہوتا : "" اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جواب دونوں کاطواف نہ کرے ۔ "" کیا تم جانتے ہوکہ یہ آیت کس بارے میں ( نازل ہوئی ) ہوئی تھی؟بلاشبہ جاہلیت میں انصار ان دو بتوں کے لئے احرام باندھتے تھے جو سمندر کے کنارے پر تھے ، جنھیں اساف اور نائلہ کہاجاتا تھا ، پھر وہ آتے اور صفا مروہ کی سعی کرتے ، پھر سر منڈا کر ( احرام کھو ل دیتے ) ، جب اسلام آیا تو لوگوں نے جاہلیت میں جو کچھ کر تے تھے ، اس کی وجہ سے ان دونوں ( صفا مروہ ) کا طواف کرنا بُرا جانا ، کیونکہ وہ جاہلیت میں ان کا طواف کیاکرتے تھے ۔ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی : "" بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ "" آخر آیت تک ۔ فرمایا : تو لوگوں نے ( پھر سے ان کا ) طواف شروع کردیا ۔
ابو اسامہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشام بن عروہ نے حدیث بیان کی کہ مجھے میرے والد ( عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) خبر دی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے عرض کی ، میں اس بات میں اپنے اوپر کوئی گناہ نہیں سمجھتا کہ میں ( حج وعمرہ کے دوان میں ) صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کروں ۔ انھوں نے فرمایا : کیوں؟میں نے عرض کی : اس لئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ : " بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ ( پھر جو کوئی بیت اللہ کاحج کرے یا عمرہ اس پر گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کاطواف کرے ۔ ) " انھوں نے فرمایا اگر ( قرآن کی آیت کا ) وہ مفہوم ہوتا جو تم کہتے ہو ، تو یہ حصہ اس طرح ہوتا : " اس شخص پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کاطواف نہ کرے ۔ " اصل میں یہ آیت انصار کے بعض لوگوں کے متعلق نازل ہوئی ۔ وہ جاہلیت میں جب تلبیہ پکارتے تو مناۃ ( بت ) کا تلبیہ پکارتے تھے ۔ اور ( اس وقت کے عقیدے کے مطابق ) ان کے لئے صفا مروہ کا طواف حلال نہ تھا ، جب وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج پرآئے ۔ تو آپ سے اپنے اسی پرانے عمل کا ذکر کیا اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی ۔ مجھے اپنی زندگی ( دینے والے ) کی قسم! اللہ تعالیٰ اس شخص کا حج پورا نہیں فرماتا جو صفا مروہ کا طواف نہیں کرتا ۔
سفیان نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے زہری سے سنا ، وہ عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کررہے تھے ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : میں نہیں سمجھتا کہ کوئی شخص جس نے ( حج وعمرہ میں ) صفا مروہ کا طواف نہیں کیا اس پر کوئی گناہ ہوگا ۔ اور مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں کہ میں صفا مروہ کا طواف ( کروں یا ) نہ کروں ۔ انھوں نے جواب دیا : بھانجے تم نے جو کہا ، وہ کتنا غلط ہے!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ طواف کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی کیا ۔ یہی ( حج وعمرے کا ) طریقہ قرار پایا ۔ اصل میں جو لوگ مناۃ طاغیہ ( بت ) کے لئے جو کہ مثلل میں تھا ، احرام باندھتے تھے وہ صفا مروہ کے مابین طواف نہیں کرتے تھے ۔ جب اسلام آیا تو ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سوال کیا تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی؛ "" بلا شبہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ، پس جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔ "" اگر وہ بات ہوتی جس طرح تم کہہ رہے ہوتو ( آیت کےالفاظ ) اس طرح ہوتے : "" تو اس پر کوئی گناہ نہیں جو ان دونوں کا طواف نہ کرے ۔ "" زہری نے کہا : میں نےاس بات کاذکر ( جو عروہ سے سنی تھی ) ابو بکر بن عبدالرحمان بن حارث بن ہشام سے کیا ، انھیں یہ بات بہت اچھی لگی ، انھوں نےفرمایا : بلا شبہ یہی تو علم ہے ۔ میں نے بھی کئی اہل علم سے سنا ، وہ کہتےتھے : عربوں میں سے جو لوگ صفا مروہ کے درمیان طواف نہ کرتے تھے وہ کہتے تھے : ان دو پتھروں کے درمیان طواف کرنا تو جاہلیت کے معاملات میں سے تھا ، اور انصار میں سے کچھ اور لوگوں نے کہا : ہمیں توصرف بیت اللہ کے طواف کاحکم دیا گیا ہے ۔ صفا مروہ کے مابین ( طواف ) کاتوحکم نہیں دیاگیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمادی "" بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ ابو بکر بن عبدالرحمان نے کہا : مجھے لگتاہے یہ آیت ان دونوں طرح کےلوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔
عقیل نے ابن شہاب سے روایت کی انھوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے پو چھا : اور ( آگے ) اسی ( سفیان کی ابن شہاب سے ) روایت کے مانند حدیث بیان کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اس عمل کے متعلق سوال کیا تو کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم تو صفامروہ کا طواف کرنے میں حرج محسوس کیا کرتے تھے تو اللہ تعا لیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : "" بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کوئی بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر کو ئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فر ما یا : ان دونوں کے مابین طواف کا طریقہ تو اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر فرمایا : کسی کو اس بات کا حق نہیں کہ ان دونوں کے درمیان طواف کو ترک کر دے ۔
یو نس نے ابن شہاب سے انھوں نے عروہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انھیں بتا یا کہ انصار اور بنو غسان اسلام لا نے سے قبل مناۃ کا تلبیہ پکا را کرتے تھے اور اس بات میں سخت حرج محسوس کرتے تھے کہ وہ صفا مروہ کے مابین طواف کریں ۔ ( درحقیقت ) یہ طریقہ ان کے آباء واجداد میں رائج تھا کہ جو بھی مناۃ کے لیے احرا م باندھے وہ صفا مروہ کا طواف نہیں کرے گا ۔ ان لوگوں نے جب یہ اسلام لا ئے تو اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے استفسار کیا ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے اس کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی : " بلاشبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو شکس بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے اس پر کو ئی حرج نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے اور جو کو ئی شوق سے نیکی کرے تو اللہ قدر دان ہے سب جا ننے والاہے ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : انصار صفا مروہ کے در میان طواف کرنا نا پسند کرتے تھے یہاں تک کہ ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " بلا شبہ صفا مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں تو جو کو ئی بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے تو اس پر کو ئی گناہ نہیں کہ وہ ان دونوں کا طواف کرے ۔
ہمیں یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ فر ما رہے تھے : نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحا بہ نے صفا مروہ کے ایک ( بار کے ) طواف ( سعی ) کے سوا کو ئی اور طواف نہیں کیا
ہمیں محمد بن بکر نے خبر دی ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی ، اور کہا : سوائے ایک ( بار کے ) طواف ( یعنی ) پہلے طواف کے ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
عطاء نے خبر دی ( کہا : ) مجھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ سے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار کیا ۔ ( پھر ) کہا : مجھے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے ر ہے ۔
ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلا م ابو معبد نے ( عبد اللہ ) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار تھے آپ نے عرفہ کی شام اور مزدلفہ کی صبح لوگوں کے چلنے کے وقت انھیں تلقین کی : سکون سے ( چلو ) "" اور آپ اپنی اونٹنی کو ( تیز چلنے سے ) روکے ہو ئے تھے حتیٰ کہ آپ وادی محسر میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ وہ منیٰ ہی کا حصہ ہے ۔ ۔ ۔ آپ نے فرما یا : "" تم ( دو انگلیوں کے درمیان رکھ کر ) ماری جا نے والی کنکریاں ضرور لے لو جن سے جمرہ عقبہ کورمی کی جا ئے گی ۔ "" ( فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکا رتے رہے ۔
ابن جریج سے روایت ہے : ( کہا : ) مجھے ابو زبیر نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارنے تک مسلسل تلبیہ پکارتے رہے البتہ اپنی حدیث میں یہ اضافہ کیا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہاتھ سے ( اس طرح ) اشارہ کر رہے تھے جیسے انسان ( اپنی انگلیوں سے ) کنکرپھینکتا ہے ۔
ابو حوص نے حصین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کثیر بن مدرک سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے جب ہم مزدلفہ میں تھے ۔ کہا : میں نے اس ہستی سے سنا جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ، وہ اس مقام پر لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
زیادبگا ئی نے حصین سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کثیر بن مدرک اشجعی سے انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید اور اسود بن یزید سے روایت کی ، دونوں نے کہا : ہم نے حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ مزدلفہ میں فر ما رہے تھے ۔ میں نے اس ہستی سے سنا ، جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔ آپ اسی جگہ لبيك اللهم لبيك کہہ رہے تھے ۔ ( یہ کہہ کر ) انھوں ( عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے تلبیہ پکا را اور ہم نے بھی ان کے ساتھ تلبیہ پکارا ۔
ہم سے یحییٰ بن سعید نے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبد اللہ بن ابی سلمہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم صبح کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ منیٰ سے عرفا ت گئے تو ہم میں سے کوئی تلبیہ پکارنے والا تھا اور کو ئی تکبیر کہنے والا ۔
عمر بن حسین نے عبد اللہ بن ابی سلمہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : عرفہ کی صبح ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ہم میں سے کو ئی تکبیر یں کہنے والا تھا اور کوئی لا اله الا الله کہنے والا تھا ۔ البتہ ہم تکبیر یں کہہ رہے تھے ۔ ( عبد اللہ بن ابی سلمہ نے ) کہا : میں نے کہا : اللہ کی قسم! تم پر تعجب ہے تم نے ان سے یہ کیوں نہ پو چھا کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا کرتے ہو ئے دیکھا تھا ؟ ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنا ئی کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ محمد بن ابی بکر ثقفی سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب وہ دونوں صبح کے وقت منیٰ سے عرفہ جا رہے تھے دریافت کیا : آپ اس ( عرفہ کے ) دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیسے ( ذکر و عبادت کر رہے تھے ؟انھوں نے کہا : ہم میں سے تہلیل کہنے والا لا اله الا الله كہتا تو اس پر کو ئی اعترا ض نہیں کیا جا تا تھا ۔ اور تکبیریں کہنے والاکہتا تو اس پر بھی کو ئی تکبیر نہ کی جا تی تھی ۔)
موسیٰ بن عقبہ نے کہا : مجھے محمد بن ابی بکر نے حدیث بیان کی کہا : میں نے عرفہ کی صبح حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے عرض کی : آپ اس دن میں تلبیہ پکارنے کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟انھوں نے کہا : میں کیا کہتے ہیں ؟انھوں نے کہا : میں نے یہ سفر نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی معیت میں کیا ، تو ہم میں سے کچھ تکبیریں کہنےوالے تھے اور کچھ لا اله الا الله کہنے والے ۔ اور ہم میں سے کو ئی بھی اپنے ساتھی ( کےعمل ) پر عیب نہیں لگا تا تھا ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ موسیٰ بن عقبہ سے روایت ہے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب سے اور انھوں نے حضرت اسامہبن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں ( کریب ) نے ان ( حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ روانہ ہو ئے ۔ یہاں تک کہ جب گھاٹی کے پاس پہنچے تو ( سواری سے ) نیچے اترے پیشاب سے فارغ ہوئے پھر وضوکیا اور زیادہ تکمیل کے ساتھ وضونہیں کیا ۔ میں نے آپ سے عرض کی : نماز ؟فرمایا : " نماز ( پڑھنے کا مقام ) تمھا رے آگے ( مزدلفہ میں ) ہے اس کے بعد آپ ( پھر ) سوار ہو گئے جب مزدلفہ آئے تو آپ ( سواری سے ) نیچے اترے وضو کیا اور خوب اچھی طرح وضو کیا پھر نماز کے لیے اقامت کہی گئی آپ نے مغرب کی نماز ادا کی پھر ہر شخص نے اپنے اونٹ کو اپنے پڑاؤ کی جگہ میں بٹھا یا ، پھر عشاء کی اقامت کہی گئی تو آپ نے وہ پڑھی ۔ اور ان دونوں نمازوں کے درمیا ن کو ئی ( نفل ) نماز نہیں پڑھی ۔
یحییٰ بن سعید نے زبیر کے مولیٰ موسیٰ بن عقبہ سے اسی سند سے روایت کی کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : عرفہ سے واپسی کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے ان گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی کی طرف چلے گئے ( پھر ) اس کے بعد میں نے ( وضو کے لیے ) آپ ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈا لا اور عرض کی ، آپ نماز پڑھیں گے؟فرمایا : " نماز ( پڑھنے کا مقام ) تمھا رے آگے ( مزدلفہ میں ) ہے ۔
عبد اللہ بن مبا رک نے ابراہیم بن عقبہ سے انھوں نے کریب مولیٰ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفات سے لو ٹے جب گھا ٹی کے پاس پہنچے تو اترے اور پیشاب کیا ۔ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( کنایتہً ) کہ نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہا یا ۔ ۔ ۔ کہا : آپ نے پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا سا وضو تھا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !نماز؟ فرمایا : " نماز ( پڑھنے کا مقام ) تمھا رے آگے ( مزدلفہ میں ) ہے کہا : پھر آپ چلے حتی ٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے اور مغر ب اور عشاء کی نمازیں ( اکٹھی ) ادا کیں ۔
ابو خیثمہ زہیر نے ہم سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابراہیم بن عقبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے کریب نے خبر دی ہے کہ انھوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا : عرفہ کی شام جب تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر آپ کے پیچھے سوار ہوئے تو تم نے کیا کیا؟کہا : ہم اس گھاٹی کے پاس آئے جہاں لوگ مغرب ( کی نماز ) کے لئے ( اپنی سواریاں ) بٹھاتے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور پیشاب سےفارغ ہوئے ۔ اور انھوں نے ( کنایہ کرتے ہوئے یوں ) نہیں کہا کہ آپ نے پانی بہایا ۔ پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا جو کہ ہلکا ساتھا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !نماز؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز ( پڑھنے کا مقام ) تمھارے آگے ( مزدلفہ میں ) ہے ۔ " اس کے بعد آپ سوار ہوئے حتیٰ کہ ہم مزدلفہ آئے تو آپ نے مغرب کی اقامت کہلوائی ۔ پھر سب لوگوں نے ( اپنی سواریاں ) اپنے پڑاؤ کی جگہوں میں بٹھا دیں اور انھوں نے ابھی ( پالان ) نہیں کھولے تھے کہ آپ نے عشاء کی اقامت کہلوادی ، پھر انھوں نے ( پالان ) کھولے ۔ میں نے کہا : جب تم نے صبح کی تو تم نے کیا کیا؟انھوں نے کہا : فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیچھے سوار ہوگئے اور میں قریش کے آگے جانے والے لوگوں کے ساتھ پیدل گیا ۔
محمد بن عقبہ نے کریب سےاور انھوں نے اسامہ بن زید سے روایت کی کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس درے پرتشریف لائے جہاں امراء ( حکمران ) اترتے ہیں ۔ آپ ( سواری سے ) اترے اورپیشاب سے فارغ ہوئے ۔ اورانھوں نے پانی بہایا کا لفظ نہیں کہا ( بلکہ یوں کہا : ) پھر آپ نے وضو کا پانی منگوایا اور ہلکا وضو کیا ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! نماز؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نماز ( پڑھنے کامقام ) تمھارے آگے ( مزدلفہ میں ) ہے ۔
عطاء مولیٰ بن سبا ع نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ۔ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو وہ آپ کے ( ساتھ اونٹنی پر ) پیچھے سوار تھے ، جب آپ گھاٹی پر پہنچے ، آپ نے اپنی اونٹنی کو بٹھایا ، پھر قضائے حاجت کے لئے چلے گئے ، جب لوٹے تو میں نے ایک برتن سے آپ ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈالا ، آپ نے وضو کیا ، پھر آپ مزدلفہ آئے تو وہاں مغرب اورعشاء اکھٹی ادا کیں ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ سے لوٹے اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ ( اونٹنی پر ) سوار تھے ۔ حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ اسی حالت میں مسلسل چلتے رہے حتیٰ کہ مزدلفہ پہنچ گئے ۔
ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا گیااور میں موجود تھا ۔ یا کہا : میں نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے ( واپسی پر ) انھیں اپنے ساتھ پیچھے سوار کیا تھا ۔ میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ سے لوٹے تو آپ کیسے چل رہے تھے؟کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم درمیانے درجے کی تیز رفتاری سے چلتے تھے ، جب کشادہ جگہ پاتے تو ( سواری کو ) تیز دوڑاتے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں یہ حدیث سنائی ( کہا : ) ہمیں عبدہ بن سلیمان ، عبداللہ بن نمیر اور حمید بن عبدالرحمان نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور حمید کی حدیث میں یہ اضافہ کیا : " ہشام نے کہا : نص ( تیز رفتاری میں ) عنق سے اوپر کادرجہ ہے ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
سالم بن عبداللہ نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں اکھٹی ادا کیں ۔
عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ ان کے والد نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں جمع کیں ، ان دونوں کے درمیان کوئی ( نفل ) نماز نہ تھی ۔ آپ نے مغرب کی تین رکعتیں ادا کیں اور عشاء کی دو رکعتیں ادا کیں ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مزدلفہ میں اسی طرح نماز پڑھتے رہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ سے جا ملے ۔
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم اور سلمہ بن کہیل سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ انھوں نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ہی اقامت سے اداکیں ، پھر انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے اسی طرح نماز ادا کی تھی ، اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرح کیا تھا ۔
وکیع نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور کہا : آپ نے وہ دونوں نمازیں ایک ہی اقامت سے ادا کی تھیں ۔
۔ ( سفیان ) ثوری نے سلمہ بن کہیل سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مزدلفہ میں مغرب اورعشاء کی نمازیں جمع کیں ، آپ نے ایک ہی اقامت سے مغرب کی تین اور عشاء کی دو رکعتیں اداکیں ۔
ابو اسحاق سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : سعید بن جبیر نے کہا : ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ( عرفہ سے ) روانہ ہوئے یہاں تک کہ ہم مزدلفہ آئے تو انھوں نے ہمیں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت سےپڑھائی ، پھر ( پیچھے کی طرف ) رخ موڑا اور کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس مقام پر اسی طرح ( جمع وقصر پر عمل کرتے ہوئے ) نماز پڑھائی تھی ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے خبر دی ، انھوں نے عمارہ سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی نماز اس کے وقت کے بغیر ادا کرتے نہیں دیکھا ، سوائے دو نمازوں کے ، مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازیں ( جمع کیں ) اور اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز اس کے ( معمول کے ) وقت سے پہلے ادا کی ۔
جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ، اور کہا : ( فجر کی نماز ) اس کے ( معمول کے ) وقت سے پہلے اندھیرے میں ( اداکی ۔)
فلح ، یعنی ابن حمید نے قاسم سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مزدلفہ کی رات حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، اور لوگوں کا اذدھام ہونے سے پہلے پہلے ( منیٰ ) چلی جائیں ۔ اور وہ تیزی سے حرکت نہ کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ قاسم نے کہا : ثبطه بھاری جسم والی عورت کو کہتے ہیں ۔ کہا ، ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ) آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔ وہ آپ کی روانگی سے پہلے ہی نکل پڑیں اور ہمیں آپ نے روکے رکھا یہاں تک کہ ہم نے ( وہیں ) صبح کی ، اور آپ کی روانگی کے ساتھ ہی ہم روانہ ہوئیں ۔ اگر میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجاز ت لے لیتی ، جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ۔ اور یہ کہ ( ہمیشہ ) آ پ کی اجازت سے ( جلد ) روانہ ہوتی تو یہ میرے لئے ہر خوش کرنے والی چیز سے زیادہ پسندیدہ ہوتا ۔
ایوب نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے قاسم سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بڑی ( اور ) بھاری جسم والی خاتون تھیں ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت چاہی کہ وہ رات ہی کو مزدلفہ سے روانہ ہوجایئں ، تو آپ نے انھیں اجازت دے دی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : کاش جیسے سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ۔ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رحلت کے بعد ) حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( صبح کو باقی لوگوں کی طرح ) امیر ( حج ) کے ساتھ ہی واپس لوٹا کرتی تھیں ۔
عبیداللہ بن عمر نے عبدالرحمان بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے قاسم سے ، اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میری آرزو تھی کہ جیسے حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی ، میں نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی ہوتی ، میں بھی صبح کی نماز منیٰ میں ادا کیاکرتی اور لوگوں کے منیٰ آنے سے پہلے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں مارلیتی ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا گیا : ( کیا ) حضرت سودہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اجازت لی تھی؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ وہ بھاری کم حرکت کرسکنے والی خاتون تھیں ۔ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اجازت دے دی ۔
سفیان ( ثوری ) نے عبدالرحمان بن قاسم سےاسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی روایت بیان کی ۔
یحییٰ قطا ن نے ہمیں ابن جریج سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) اسما رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے آزاد کردہ غلام عبد اللہ نے مجھ سے حدیث بیان کی کہا : حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے جب وہ مزدلفہ کے ( اندر بنے ہو ئے مشہور ) گھر کے پاس ٹھہری ہو ئی تھیں ، مجھ سے پوچھا : کیا چا ند غروب ہو گیا؟ میں نے عرض کی : نہیں ، انھوں نے گھڑی بھر نماز پڑھی ، پھر کہا : بیٹے !کیا چاندغروب ہو گیا ہے؟ میں نے عرض کی ، جی ہاں ۔ انھوں نے کہا : مجھے لے چلو ۔ تو ہم روانہ ہو ئے حتی کہ انھوں نے جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں پھر ( فجر کی ) نماز اپنی منزل میں ادا کی ۔ تو میں نے ان سے عرض کی : محترمہ !ہم را ت کے آخری پہر میں ( ہی ) روانہ ہو گئے ۔ انھوں نے کہا : بالکل نہیں ، میرے بیٹے !نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں کو ( پہلے روانہ ہو نے کی ) اجا زت دی تھی ۔
عیسیٰ بن یو نس نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی اور ان کی روایت میں ہے انھوں ( اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : نہیں میرے بیٹے ! نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی عورتوں ( اور بچوں ) کو اجا زت ی تھی ۔
ابن جریج سے روایت ہے ( کہا : ) مجھے عطاء نے خبر دی کہ انھیں ابن شوال نے خبردی کہ وہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پا س حا ضر ہو ئے انھوں نے ان کو بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے انھیں مزدلفہ سے رات ہی کو روانہ کر دیا تھا ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور عمرو ناقد نے سفیان بن عیینہ کے حوالے سے عمرو بن دینار سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے سالم بن شوال سے اور انھوں نے حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم ( خواتین ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے عہد مبا رک میں یہی کرتی تھیں ( کہ ) ہم رات کے آخری پہر میں جمع ( مزدلفہ ) سے منیٰ کی طرف روانہ ہو جا تی تھیں ۔
حماد بن زید نے ہمیں عبید اللہ بن ابی یزید سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے مزدلفہ سے ( اونٹوں پر لد ے ) بو جھ ۔ ۔ ۔ یا کہا : کمزور افرا د ۔ ۔ ۔ کے ساتھ را ت ہی روانہ کر دیا تھا ۔
ہم سے سفیان بن عیینہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ بن ابی یزید نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں ان لوگوں میں سے تھا جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں ( شامل کرتے ہو ئے ) پہلے روانہ کر دیا تھا ۔
عطاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ان لوگوں میں سے تھا جنھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے گھر کے کمزور افراد میں ( شامل کرتے ہو ئے ) پہلے روانہ کر دیا تھا ۔
ہمیں ابن جریج نے خبر دی کہا : مجھے عطا ء نے بتا یا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے سحر کے وقت مزدلفہ سے اونٹوں پر لدے بوجھ کے ساتھ ( جس میں کمزور افراد بھی شامل ہو تے ہیں ) روانہ کر دیا ( ابن جریج نے کہا : ) میں نے عطاء سے ) کہا : کیا آپ کو یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : آپ مجھے لمبی رات ( کے وقت ) روانہ کر دیا تھا؟انھوں نے کہا : نہیں صرف یہی ( کہا : ) کہ سحر کے وقت روانہ کیا ۔ میں نے ان سے کہا : ( کیا ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ( یہ بھی ) کہا : ہم نے فجر سے پہلے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں؟ اور انھوں نے فجر کی نماز کہاں ادا کی تھی؟ انھوں نے کہا : مہیں ( مجھ سے ) صرف یہی الفا ظ کہے ۔
(سالم بن عبد اللہ نے خبر دی کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے گھر کے کمزور افراد کو پہلے روانہ کر دیتے تھے ۔ وہ لوگ رات کو مزدلفہ میں مشعر حرام کے پاس ہی وقوف کرتے ، اور جتنا میسر ہو تا اللہ کا ذکر کرتے ، اس کے بعد وہ امام کے مشعر حرام کے سامنے وقوف اور اس کی روانگی سے پہلے ہی روانہ ہو جا تے ۔ ان میں سے کچھ فجر کی نماز اداکرنے ) کے لیے منیٰ آجا تے اور کچھ اس کے بعد آتے ۔ پھر جب وہ ( سب لو گ منیٰ آجا تے تو جمرہ عقبہ کو کنکریاں مارتے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ان ( کمزور لوگوں ) کو رخصت دی ہے ۔
ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابرا ہیم سے انھوں نے عبد الرحمان بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جمرہ عقبہ کو وادی کے اندر سے سات کنکریوں کے ساتھ رمی کی وہ ہر کنکری کے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے ۔ ( عبد الرحمان نے ) کہا : ان سے کہا گیا : کچھ لوگ اسے ( جمرہ کو ) اس کی بالا ئی طرف سے کنکریاں مارتے ہیں تو عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !یہی اس ہستی کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہنازل کی گئی ۔
ابن مسہر نے مجھے اعمش سے خبر دی ( انھوں نے ) کہا : میں نے حجا ج بن یو سف سے سنا وہ منبر پر خطبہ دیتے ہو ئے کہہ رہا تھا : قرآن کی وہی ترتیب رکھو جو جبریلؑ نے رکھی ( نیز سورہ بقرہ کہنے کے بجا ئے کہو ) وہ سورت جس میں بقر ہ کا ذکر کیا گیا ہے وہ سورت جس میں نساء کا تذکرہ ہے وہ سورت جس میں آل عمران کا تذکرہ ہے ۔ ( اعمش نے ) کہا اس کے بعد میں ابر اہیم سے ملا ، میں نے انھیں اس کی بات سنائی تو انھوں نے اس پر سب وشتم کیا اور کہا : مجھ سے عبد الرحمٰن بن یزید نے حدیث بیان کی کہ وہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھے ۔ ۔ وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے وادی کے اندر کھڑے ہو ئے اس ( جمرہ ) کو چوڑا ئی کے رخ اپنے سامنے رکھا اس کے بعد وادی کے اندر سے اس کو سات کنکریاں ماریں وہ ہر کنکریکے ساتھ اللہ اکبر کہتے تھے کہا : میں نے عرض کی : ابو عبد الرحمٰن کچھ لو گ اس کے اوپر ( کی طرف ) سے اسے کنکریاں مارتے ہیں انھوں نے کہا اس ذات کی قسم!جس کے سوا کو ئی معبود نہیں !یہی اس ہستی کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جس پر سورہ بقرہ نازل ہو ئی ۔
ابن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حجاج سے سنا ، کہہ رہا تھا : " سورہ بقرہ نہ کہو ۔ ۔ ۔ ۔ اور ان دونوں نے ابن مسہر کی حدیث کی طرح حدیث بیا ن کی ،
ہمیں محمد بن جعفر غندرنے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے حکم سے حدیث بیان کی انھوں نے ابرا ہیم سے اور انھوں نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی کہ انھون نے حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) کی معیت میں حج کیا کہا : انھوں نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف اور منیٰ کو دائیں طرف رکھا اور کہا یہی ان کے کھڑے ہو نے کی جگہ ہے جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔
ہمیں معاذ عنبری نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، البتہ انھوں نے کہا : جب وہ جمرہ عقبہ کے پاس آئے ۔
سلمہ بن کہیل نے عبد الرحمٰن بن یزید سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا : کچھ لو گ جمرہ عقبہ کو گھا ٹی کے اوپر سے کنکریاں مارتے ہیں ۔ کہا : تو حضرت عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وادی کے اندر سے اسے کنکریاں ماریں ۔ پھر کہا : یہیں سے اس ذات کی قسم جس کے سوا کو ئی حقیقی معبود نہیں ! اس ہستی نے کنکریاں ماریں جن پر سورہ بقرہ نازل کی گئی ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا آپ قربانی کے دن اپنی سواری پر ( سوار ہو کر ) کنکریاں مار رہے تھے اور فرما رہے تھے : تمھیں چا ہیے کہ تم اپنے حج کے طریقے سیکھ لو ، میں نہیں جا نتا شاید اس حج کے بعد میں ( دوبارہ ) حج نہ کر سکوں ۔
معقل نے زید بن ابی انیسہ سے حدیث بیان کی انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ( یحییٰ بن حصین نے ) کہا : میں نے ان سے سنا کہہ رہی تھیں حجۃالوداع کے موقع پر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی معیت میں حج کیا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو اس وقت دیکھا جب آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اور واپس پلٹے آپ اپنی سواری پر تھے اور بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے ساتھ تھے ان میں سے ایک آگے سے ( مہار پکڑ کر ) آپ کی سواری کو ہانک رہا تھا اور دوسرا دھوپ سے ( بچاؤ کے لیے ) اپنا کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے سر مبارک پر تا نے ہو ئے تھا ۔ کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ( اس موقع پر ) بہت سی باتیں ارشاد فر ما ئیں ۔ پھر میں نے آپ سے سنا آپ فر ما رہے تھے : اگر کو ئی کٹے ہو ئے اعضا ء والا ۔ ۔ ۔ میرا خیال ہے انھوں ( ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا : ۔ ۔ ۔ کا لا غلا م بھی تمھا را میرا بنا دیا جا ئے جو اللہ کی کتاب کے مطابق تمھا ری قیادت کرے تو تم اس کی بات سننا اور اطاعت کرنا ۔
ابو عبد الرحیم نے زید بن ابی انیسہ سے انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ الوداعی حج کیا تو میں نے اسامہ اور بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا ان میں سے ایک نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی اونٹنی کی نکیل تھا مے ہو ئے تھا اور دوسرا کپڑے کو اٹھا ئے گرمی سے اوٹ کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں ۔ امام مسلم نے کہا : ابو عبد الرحیم کا نام خالد بن ابی یزید ہے اور وہ محمد بن سلمہ کے ماموں ہیں ان سے وکیع اور حجاج اعور نے ( حدیث ) روایت کی ،
ابو زبیرنے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ سے سنا ، وہ بیان کررہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ نے جمرہ عقبہ کو اتنی بڑی کنکریاں ماریں جتنی چٹکی ( دو انگلیوں ) سے ماری جانے والی کنکریاں ہوتی ہیں ۔
ابو خالد احمر اورابن ادریس نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوزبیر سے اورانھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے دن چاشت کے وقت جمرہ ( عقبہ ) کو کنکریاں ماریں اور اس کے بعد ( کے دنوں میں تمام جمروں کو ) اس وقت جب سورج ڈھل گیا ۔
ہمیں عیسیٰ بن یونس نے خبردی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ابو زبیرنے بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے اسی کے مانند ہے ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " استنجا طاق ڈھیلوں سے ہوتاہے ، جمرات کی رمی طاق ہوتی ہے ، صفا مروہ کے درمیان سعی طاق ہوتی ہے ، بیت اللہ کا طواف طاق ہوتاہے ۔ اور تم میں سے جب کوئی استنجا کرے تو طاق ڈھیلوں سے کرے ۔
لیث نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بن مسعود ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت نے سر منڈایا ، اور ان میں سے کچھ نے بال کٹوائے ۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" اللہ سر منڈانے والوں پر رحم فرمائے ۔ "" ایک یادو مرتبہ ( دعا کی ) پھر فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پر بھی "" ( ان کے لئے صرف ایک بار دعا کی ۔)
یحییٰ بن یحییٰ نے امام مالک ؒکے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے ، اور انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ !سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ " لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فرمایا : " اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پھر عرض کی : اور بال کٹوانے والوں پر ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا : " اور بال کٹوانے والوں پر ( بھی رحم فرما ۔)
ہمیں عبداللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ بن عمر نے نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" : "" اے اللہ !سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ "" لوگوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے کہا : اور بال کٹوانے والوں پر اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !فرمایا : "" اے اللہ ! سر منڈانے والوں پر رحم فرما ۔ "" صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے پھر عرض کی : اور بال کٹوانے والوں پر ، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پربھی ۔ حدیث نمبر ۔ 3147 ۔ ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب چوتھی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
ہمیں عبدالوہاب نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ نے اسی سند کے ساتھ یہی حدیث بیان کی اور انھوں نے ( اپنی ) حدیث میں کہا : جب چوتھی باری آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اور بال کٹوانے والوں پر بھی ۔
ابوزرعہ نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اے اللہ !سر منڈانےوالوں کوبخش دے ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اے اللہ !سر منڈانےوالوں کوبخش دے ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کو؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " اے اللہ !سر منڈانےوالوں کوبخش دے ۔ " صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اور بال کٹوانے والوں کو؟فرمایا : " اور بال کٹوانے والوں کو بھی ۔
علاء نے اپنے والد ( عبدالرحمان بن یعقوب ) سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ ۔ آگے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابو زرعہ کی ( روایت کردہ ) حدیث کے ہم معنی ہے ۔
وکیع اورابو داود طیالسی نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن حصین سے اور انھوں نے اپنی دادی ( ام حصین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے روایت کی کہ انھوں نے حجۃ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےسر منڈانے والوں کے لئے تین بار اور بال کٹوانے والوں کے لئے ایک باردعا کی ۔ اور وکیع نے " حجۃ الوداع کے موقع پر " کا جملہ نہیں کہا ۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کےموقع پر اپنے سر مبارک کے بال منڈائے ۔
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے خبر دی انھوں نے محمد بن سیرین سے اور انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ تشر یف لا ئے پھر جمرہ عقبہ کے پاس آئے اور اسے کنکریاں ماریں پھر منیٰ میں اپنے پڑاؤ پر آئے اور قر با نی کی ، پھر بال مونڈنے والے سے فر ما یا : " پکڑو ۔ " اور آپ نے اپنے ( سر کی ) دائیں طرف اشاراہ کیا پھر بائیں طرف پھر آپ ( اپنے موئے مبارک ) لوگوں کو دینے لگے ۔
نمبرابو بکر بن ابی شیبہ ابن نمیر اور ابو کریب سب نے کہا ہمیں حفص بن غیاث نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی لیکن ابو بکر نے اپنی روایت میں یہ الفاظ کہے آپ نے حجا م سے کہا : "" یہ لو "" اور اپنے ہا تھ سے اس طرح اپنی دائیں جا نب اشارہ کیا ( کہ پہلے دائیں طرف سے شروع کرو ) اوراپنے بال مبارک اپنے قریب کھڑے ہو ئے لوگوں میں تقسم فر ما دیے پھر حجا مکو اپنی بائیں جا نب کی طرف اشارہ کیا ( کہ اب بائیں جا نب سے حجا مت بنا ؤ ) حجا م نے آپ کا سر مو نڈدیا تو آپ نے ( اپنے وہ موئے مبارک ) ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو عطا فر ما دیے ۔ اور ابو کریب کی روایت میں ہے کہا : ( حجا م نے ) دائیں جا نب سے شروع کیا تو آپ نے ایک ایک دو دو بال کر کے لوگوں میں تقسیم فر ما دیے ، پھر آپ نے اپنی بائیں جا نب ( حجا مت بنا نے کا ) اشارہ فر ما یا ۔ حجا م نے اس طرف بھی وہی کیا ( بال مونڈدیے ) پھر آپ نے فر ما یا : "" کہا یہا ابو طلحہ ہیں ؟ پھر آپ نے اپنے موئے مبا رک ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حوالے فر ما دیے ۔
ہمیں عبد الاعلیٰ نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام ( بن حسان ) نے محمد ( بن سیرین ) سے حدیث بیان کی انھوں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہعقبہ کو کنکریاں ماریں پھر قربانی کے اونٹوں کی طرف تشریف لے گئے اور انھیں نحر کیا اور حجام ( آپ کے لیے ) بیٹھا ہوا تھا آپ نے ( اسے ) اپنے ہاتھ کے ساتھ اپنے سر سے ( بالاتارنے کا ) اشارہ کیا تو اس نے آپ ( کے سر ) کی دائیں طرف کے بال اتاردیے ۔ آپ نے وہ بال ان لو گوں میں بانٹ دیے جو آُ کے قریب موجود تھے ۔ پھر فر ما یا : " دوسری طرف کے بال ( بھی ) اتار دو ۔ اس کے بعد آپ نے فر ما یا : " ابو طلحہ کہاں ہیں ؟اور آپ نے وہ ( موئے مبارک ) انھیں دے دیے ۔
ہم سے سفیان نے حدیث بیان کی ( کہا ) میں نے ہشام بن حسان سے سنا وہ ابن سیرین سے خبر دے رہے تھے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں اپنی قربانی ( کے اونٹوں ) کو نحر کیا اور پھر سر منڈوانے لگے تو آپ نے اپنے سر کی دائیں جا نب مونڈنے والے کی طرف کی تو اس نے اس طرف کے بال اتار دیے آپ نے طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا یا اور وہ ( بال ) ان کے حوالے کر دیے ۔ پھر آپ نے ( سر کی ) بائیں جا نب اس کی طرف کی اور فر ما یا ۔ ( اس کے ) بالاتاردو ۔ اس نے وہ بال اتاردیے تو آپ نے وہ بھی ابو طلحہ کو دے دیے اور فر ما یا ان ( بائیں طرف والے بالوں ) کولوگوں میں تقسیم کر دو
امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ بن عبید اللہ سے انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا حجتہ الوداع کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منیٰ میں لوگوں کے لیے ٹھہرے رہے وہ آپ سے مسائل پوچھ رہے تھے ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں سمجھ نہ سکا ( کہ پہلے کیا ہے ) اور میں نے قر با نی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا ہے ؟ آپ نے فر ما یا ؛ ( اب ) قر با نی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ پھر ایک اور آدمی آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے پتہ نہ چلا اور میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی چیز کے متعلق جس میں تقدیم یا تا خیر کی گئی نہیں پو چھا گیا مگر آپ نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
یو نس نے ابن شہاب سے باقی ماند ہ اسی سند کے ساتھ خبر دی کہ عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( منیٰ میں ) اپنی سواری پر ٹھہر گئے اور لوگوں نے آپ سے سوالات شروع کر دیے ان میں سے ایک کہنے والا کہہ رہا تھا ۔ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے معلوم نہ تھا کہ رمی ( کا عمل ) قربانی سے پہلے ہے میں نے رمی سے پہلے قربا نی کر لی ؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تو ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کو ئی اور شخص کہتا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے معلوم نہ تھا کہ قر با نی سر منڈوانے سے پہلے ہے میں نے قر بانی کر نے سے پہلے سر منڈوا لیا ہے ؟تو آپ فر ما تے ( اب ) قر بانی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا میں نے آپ سے نہیں سنا کہ اس دن آپ سے ان اعمال کے بارے میں جن میں آدمی بھول سکتا ہے یا لا علم رہ سکتا ہے ان میں سے بعض امور کی تقدیم ( وتاخیر ) یا ان سے ملتی جلتی باتوں کے بارے میں نہیں پو چھا گیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہی ) فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ۔ ۔ ۔ ( اس کے بعد ) حدیث کے آخر تک زہری سے یو نس کی روایت کر دہ حدیث کے مانند ہے ۔
عیسیٰ نے ہمیں ابن جریج سے خبر دی کہا میں نے ابن شہاب سے سنا کہہ رہے تھے عیسیٰ بن طلحہ نے مجھے حدیث بیان کی ، کہا مجھے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن راص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اس دورا ن میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم قر بانی کے دن خطبہ دے رہے تھے کو ئی آدمی آپ کی طرف ( رخ کر کے ) کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میں نہیں سمجھتا تھا کہ فلا ں کا فلاں سے پہلے ہے پھر کو ئی اور آدمی آیا اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !میرا خیال تھا کہ فلا ں کا م فلا ں فلاں سے پہلے ہو گا ( انھوں نے ) ان تین کا موں ( سر منڈوانے رمی اور قر بانی کے بارے میں پو چھا تو ) آپ نے یہی فر ما یا : " ( اب ) کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
محمد بن بکر اور سعید بن یحییٰ اموی نے اپنے والد ( یحییٰ اموی ) کے واسطے سے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، ابن بکر کی روایت عیسیٰ کی گزشتہ روایت کی طرح ہے سوائے ان کے اس قول کے " ان تین چیزوں کے بارے میں " اور ہے یحییٰ اموی تو ان کی روایت میں ہے میں نے قر بانی کرنے سے پہلے سر منڈوالیا میں نے رمی کرنے سے پہلے قر با نی کر لی اور اسی سے ملتی جلتی باتیں
ہمیں ( سفیان ) بن عیینہ نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کو ئی آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا : میں نے قر با نی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا ( اب ) قربانی کرلو رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ( کسی اور نے ) کہا : میں رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے تو آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کوئی حرج نہیں ۔
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت کی ( عبد اللہ بن عمروبن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ( آپ ) منیٰ میں اونٹنی پر ( سوار ) تھے تو آپ کے پا س ایک آدمی آیا ۔ ۔ ۔ آگے ابن عیینہ کی حدیث کے ہم معنی حدیث ہے ۔
محمد بن ابی حفصہ نے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے عیسیٰ بن طلحہ سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا جب آپ کے پاس قر بانی کے دن ایک آدمی آیا آپ جمرہ عقبہ کے پاس رکے ہو ئے تھے ۔ اس نے عرض کی اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے رمی کر نے سے پہلے سر منڈوالیا ہے آپ نے فر ما یا : " ( اب رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ ایک اور آدمی آیا ۔ وہ کہنے لگا : میں نے رمی سے پہلے قر با نی کر لی ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں پھر آپ کے پاس ایک اور آدمی آیا اور کہا میں نے رمی سے پہلے طواف افاضہ کر لیا ؟ ہے ؟فر ما یا : " ( اب ) رمی کر لو کو ئی حرج نہیں ۔ کہا : میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ اس دن آپ سے کسی بھی چیز ( کی تقدیمو تا خیر ) کے بارے میں سوال کیا گیا ہو مگر آپ نے یہی فر ما یا : " کر لو کو ئی حرج نہیں ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے قر با نی کرنے سر منڈوانے رمی کرنے اور ( کا موں کی ) تقدیم و تا خیر کے بارے میں پو چھا گیا تو آپ نے فر ما یا : " کو ئی حرج نہیں ۔
نا فع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے دن طواف افاضہ کیا ۔ پھر واپس آکر ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کی ۔ نافع نے کہا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قربانی کے دن طواف افاضہ کرتے پھر واپس آتے ظہر کی نماز منیٰ میں ادا کرتے اور بیان کیا کرتے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا ۔
عبد العزیز بن رفیع سے روایت ہے انھوں نے کہا میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کیا میں نے کہا : مجھے ایسی چیز بتا یئے جو آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھی ہو ( اور یاد رکھی ہو ) آپ نے تر ویہ کے دن ( آٹھ ذوالحجہ کو ظہر کی نماز کہاں ادا کی تھی ؟ انھوں نے بتا یا منیٰ میں ۔ میں نے پو چھا : آپ نے ( منیٰ سے ) واپسی کے دن عصر کی نماز کہاں ادا کی ؟انھوں نے کہا اَبطح میں ۔ پھر کہا ( لیکن تم ) اسی طرح کرو جیسے تمھا رے امراء کرتے ہیں ۔
ایوب نے نا فع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ابو بکر اور عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح میں پڑاؤ کیا کرتے تھے ( واپسی کے وقت مدینہ کے راستے میں منیٰ کے باہر وہیں پڑاؤ کیا جا سکتا تھا)
صخر بن جو یریہ نے نافع سے حدیث بیان کی کہ حضر ت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ محصب میں پڑاؤ کرنے کو سنت سمجھتے تھے اور وہ روانگی کے دن ظہر کی نماز حصبہ ( محصب ) میں ادا کرتے تھے ۔ نافع نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفاء نے وادی محصب میں قیام کیا ۔
عبد اللہ بن نمیر نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ہشام نے اپنے والد ( عروہ ) سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ابطح میں ٹھہر نا ( اعمال حج کی سنتوں میں سے کو ئی ) سنت نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ ( مکہ سے ) روانہ ہو تے وقت وہاں سے نکلنا آسان تھا ۔
حفص بن غیاث حماد بن زید اور حبیب المعلم سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
زہری نے سالم سے روایت کی کہ ابو بکر عمر اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ابطح پڑاؤکیا کرتے تھے ۔ زہر ی نے کہا مجھے عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے خبر دی کہ وہ ایسا نہیں کرتی تھیں اور ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اترے تھے کیونکہ پڑاؤ کی وہ جگہ آپ کے ( مکہ سے ) نکلنے کے لیے زیادہ آسان تھی ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا تحصب ( محصب میں ٹھہرنا ) کو ئی چیز نہیں وہ تو پڑاؤ کی ایک جگہ ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا تھا ۔
قتیبہ بن سعید ابو بکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حر ب ان سب نے ابن عیینہ سے حدیث بیان کی انھوں نے صالح بن کیسان سے اور انھوں نے سلیمان بن یسارسے روایت کی انھوں کہا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب آپ نے منیٰ سے نکلے مجھے یہ حکم نہیں دیا تھا کہ میں ابطح میں قیام کروں لیکن میں ( خود ) وہاں آیا اور آپ کا خیمہ لگا یا اس کے بعد آپ تشریف لا ئے اور قیام کیا ۔ ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے صالح سے ( بیان کردہ ) روایت میں کہا انھوں ( صالح ) نے کہا میں نے سلیمان بن یسار سے سنا اور قتیبہ کی روایت میں ہے ۔ ( سلیمان نے ) کہا ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان ( کی حفاظت اور نقل و حمل ) پر مامور تھے ۔
یو نس نے ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن بن عوف سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : " کل ہم ان شاء اللہ خیف بنی کنانہ ( وادی محصب ) میں قیام کریں گے جہاں انھوں ( قریش ) نے باہم کفر پر ( قائم رہنے کی ) قسم کھا ئی تھی ۔
اوزاعی نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے زہری نے حدیث سنا ئی ہے ( کہا ) مجھ سے ابو سلمہ نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم منیٰ میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فر ما یا کل ہم خیف بنو کنا نہ میں قیام کر یں گے جہا ں انھوں ( قر یش ) نے آپس میں مل کر کفر پر ( ڈٹے رہنے کی ) قسم کھا ئی تھی ۔ واقعہ یہ تھا کہ قریش اور بنو کنا نہ نے بنو ہاشم اور بنو مطلب کے خلاف ایک دوسرے کے ساتھ معاہدہ کیا تھا کہ وہ نہ ان سے شادی بیاہ کریں گے نہ ان سے لین دین کریں گے ۔ یہاں تک کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے حوالے کردیں ۔ اس ( خیف بنی کنانہ ) سے آپ کی مراد وادی محصب تھی ۔
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ان شاء اللہ جب اللہ نے فتح دی تو ہمارا قیام خیف ( محصب ) میں ہو گا ۔ جہاں انھوں ( قریش ) نے باہم مل کر کفر پر ( قائم رہنے کی قسم کھا ئی تھی ۔)
۔ ( محمد بن عبد اللہ ) بن نمیر اور ابو اسامہ دو نوں نے کہا ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی اور ابن نمیر نے ۔ ۔ ۔ الفا ظ انھی کے ہیں ۔ ۔ ۔ اپنے والد کے واسطے سے بھی عبید اللہ سے روایت کی کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت مانگی کہ وہ ( زمزم پر حاجیوں کو ) پا نی پلانے کے لیے منیٰ کی را تیں مکہ میں گزار لیں؟ تو آپ نے انھیں اجا زت دے دی
عیسیٰ بن یو نس اور ابن جریج دونوں نے عبید اللہ بن عمر ( بن حفص ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
بکر بن عبد اللہ مزنی نے کہا : میں کعبہ کے پاس حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہو اتھا کہ ان کے پا س ایک دیہاتی آیا اور کہنے لگا : کہا وجہ ہے میں دیکھتا ہوں کہ تمھا رے چچا زاد ( حاجیوں کو ) دودھ اور شہد پلا تے ہیں اور تم نبیذ پلا تے ہو ؟ یہ تمھیں لا حق حاجت مندی کی وجہ سے ہے یا بخیلی کی وجہ سے ؟ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا الحمد اللہ نہ ہمیں حاجت مندی لا حق ہے اور نہ بخیلی ( اصل بات یہ ہے کہ ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر ( سوار ہو کر ) تشریف لا ئے اور آپ کے پیچھے اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار تھے آپ نے پانی طلب فر ما یا تو ہم نے آپ کو نبیذ کا ایک برتن پیش کیا آپ نے خود پیا اور باقی ماندہ اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پلا یا اور فر ما یا : " تم لوگوں نے اچھا کیا اور بہت خوب کیا اسی طرح کرتے رہنا ۔ لہٰذا ہم نہیں چا ہتے کہ جس کا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہم اسے بدل دیں ۔
(ابو خثیمہ نے ہمیں عبد الکریم سے خبر دی انھوں نے مجاہدسے انھوں نے عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے قر با نی کے اونٹوں کی نگرا نی کروں اور یہ کہ ان گو کا گو شت کھا لیں اور جھولیں صدقہ کروں نیز ان میں سے قصاب کو بطور اجرتکچھ بھی ) نہ دو ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہم اس کو اپنے پاس سے ( اجرت ) دیں گے ۔
ابن عیینہ نے عبد الکریم جزری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
سفیان اور ہشام دونوں نے ابن ابی نجيحسے انھوں نے مجاہد سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ان دونوں کی حدیث میں قصاب کی اجرت کا ذکر نہیں ۔
حسن بن مسلم نے خبر دی کہ انھیں مجا ہد نے خبر دی انھیں عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے خبردی انھیں علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبردی کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا کہ وہ آپ کی قر بانی کے اونٹوں کی نگرانی کریں اور انھیں حکم دیا کہ آپ کی پو ری قر با نیوں کو ( یعنی ) ان کے گو شت کھالوں اور ( ان کی پشت پر ڈالی ہو ئی ) جھولوں کو مسکینوں میں تقسیم کر دیں اور ان میں سے کچھ بھی ذبح کی اجرت کے طور پر نہ دیں ۔
عبد الکریم بن ما لک جزری نے مجا ہد سے ( باقی ماندہ ) اسی سابقہ سند کے ساتھ خبردی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں حکم دیا ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
امام ما لک نے ابو زبیر سے اور انھوں نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا حدیبیہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ہم نے ساتھ افراد کی طرف سے ایک اونٹ ساتھ کی طرف سے ایک گا ئے کی قربانیاں دیں ۔
ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کا تلبیہ کہتے ہو ئے نکلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اونٹ اور گا ئے میں شریک ہو جا ئیں ہم میں سے ساتھ آدمی ایک قر با نی میں شر یک ہوں ۔
ہمیں عزرہ بن ثابت نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کیا ہم نے ساتھ آدمیوں کی طرف سے ایک اونٹ نحر کیا اور سات آدمیوں کی طرف سے ایک گا ئے ( ذبح کی)
یحییٰ بن سعید نے ابن جریج سے حدیث بیان کی ( کہا ) مجھے ابو زبیر نے خبرد ی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا انھوں نے کہا ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج و عمرے میں سات آدمی ایک قربانی میں شر یک ہو ئے تو ایک آدمی نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا کیا احرام کے وقت سے ساتھ لا ئے گئے قر با نی کے جانوروں میں بھی اس طرح شراکت کی جا سکتی ہے جیسے بعد میں خریدے گئے جا نوروں میں شراکت ہو سکتی ہے ؟ انھوں نے جواب دیا : وہ بھی ساتھ لا ئے گئے قربانی کے جانوروں ہی کی طرح ہیں ۔ اور جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدیبیہ کے موقع پر موجود تھے انھوں نے کہا ہم نے اس دن ستر اونٹ نحر کیے ہم سات سات آدمی ( قربانی کے ایک ) اونٹمیں شر یک ہو ئے تھے ۔
ہمیں محمد بن بکر نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ابن جریج نے خبردی ( کہا ) ہمیں ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کا حال سنا رہے تھے انھوں نے اس حدیث میں کہا : ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) ہمیں حکم دیا کہ جب ہم احرا م کھولیں تو قر بانی کریں اور ہم میں سے چند ( سات ) آدمی ایک قر بانی میں شر یک ہو جا ئیں اور یہ ( حکم اس وقت دیا ) جب آپ نے ہمیں اپنے حج کے احرا م کھولنے کا حکم دیا ، یہ بات بھی اس حدیث میں ہے ۔
عطاء نے جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( حج کے مہینوں میں ) عمرہ کرنے کا فائدہ اٹھا تے ( حج تمتع کرتے ) تو ہم ( یو م النحر اور بقیہ ایام تشر یق میں ) سات افراد کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کرتے اس ( ایک ) میں شریک ہو جا تے ۔
ہمیں یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ نے ابن جریج سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : قر بانی کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( اور دیگر امہارت المومنین ) کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی ۔
محمد بن بکر اور یحییٰ بن سعید نے کہا ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا ہمیں ابو زبیر نے خبردی کہ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کی طرف سے اور ابن بکر کی حدیث میں ہے اپنے حج میں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف سے ایک گا ئے ذبح کی ۔
زیاد بن جبیر سے روایت ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک آدمی کے پاس آئے اور وہ اپنی قر بانی کے اونٹ کو بٹھا کر نحر کر رہا تھا انھوں نے فر ما یا : " اسے اٹھا کر کھڑی حالت میں گھٹنا باند ھ کر ( نحر کرو یہی ) تمھا رے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے ۔
ہمیں لیث نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ بن زبیر اور عمر ہ بنت عبد الرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ سے قر بانی کے جا نوروں کا ہدیہ بھیجا کرتے تھے اور میں آپ کے ہدیے ( کے جانوروں ) کے لیے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتناب نہ کرتے جس سے ایک احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے ۔
یو نس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اس کے مانند حدیث بیان کی ۔
ہمیں سفیان نے زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے عروہ سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی نیز ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا جیسے میں خود کو دیکھتی رہی ہوں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانی کے ہار بٹ رہی ہوں ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی طرح ہے ۔
عبد الرحمٰن بن قاسم نے اپنے والد سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ فر ما رہی تھیں : میں اپنے ان دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے بھیجے جا نے والے جانوروں کے ہا ر بٹتی تھی پھر آپ نہ ( ایسی ) کسی چیز سے الگ ہو تے اور نہ ( ایسی کوئی چیز ) ترک کرتے تھے ( جو احرام کے بغیر آپ کیا کرتے تھے)
افلح نے ہمیں قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بینوں کے ہار بٹے پھر آپ نے ان کا اشعار کیا ( کوہان پر چیر لگا ئے ) اور ہا ر پہنائے پھر انھیں بیت اللہ کی طرف بھیج دیا اور ( خود ) مدینہ میں مقیم رہے اور آپ پر ( انکی وجہ سے ) کو ئی چیز جو ( پہلے ) آپ کے لیے حلال تھی حرا م نہ ہو ئی ۔
ایوب نے قاسم اور ابو قلابہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( بیت اللہ کی طرف ) ہدی بھیجتے تھے میں اپنے دونوں ہاتھوں سے ان کے ہار بٹتی تھی پھر آپ کسی بھی ایسی چیز سے اجتنا ب نہ کرتے تھے جس سے کو ئی بھی غیر محرم ( بغیر احرام والا شخص ) اجتناب نہیں کرتا ۔
ہمیں ابن عون نے قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے ام المومنین ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے یہ ہار اس اون سے بٹے جو ہمارے پا س تھی اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم میں غیر محرم ہی رہے آپ ( اپنی ازواج کے پاس ) آتے جیسے غیر محرم اپنی بیوی کے پاس آتا ہے یا آپ آتے جیسے ایک ( عام آدمی اپنی بیوی کے پا س آتا ہے ۔)
منصور نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے خود دیکھا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ( قر بانی ) کے لیے بکریوں کے ہار بٹ رہی ہوں اس کے بعد آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے پھر ہمارے درمیان احرا م کے بغیر ہی رہتے ۔
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور بو کریب میں یحییٰ نے کہا : ابو معاویہ نے ہمیں خبردی اور دوسرے دونوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے اعمش سے انھوں نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں کہا : ایسا ہوا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدی ( قربانی کے لیے بیت اللہ بھیجے جا نے والے جا نور ) کے لیے ہار تیار کرتی آپ وہ ( ہار ) ان جانوروں کو ڈالتے پھر انھیں ( مکہ ) بھیجتے پھر آپ ( مدینہ ہی میں ) ٹھہرتے آپ ان میں سے کسی چیز سے اجتناب نہ فر ما تے جن سے احرام باندھنے والا شخص اجتناب کرتا ہے ۔
یحییٰ بن یحییٰ ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار بیت اللہ کی طرف ہدی ( قر بانی ) کی بکریاں بھیجیں تو آپ نے انھیں ہار ڈالے ۔
حکم نے ابرا ہیم سے انھوں نے اسود سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا ہم بکریوں کو ہار پہناتے پھر انھیں ( بیت اللہ کی طرف ) بھیجتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غیر محرم رہتے اس سے کوئی چیز ( جو پہلے آپ پر حلا ل تھی ) حرام نہ ہو تی تھی ۔
عمرہ بنت عبد الرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے خبردی کہ ابن زیاد نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لکھا کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے جس نے ہدی ( بیت اللہ کے لیے قربانی ) بھیجی اس پر وہ سب کچھ حرا م ہو جا ئے گا جو حج کرنے والے کے لیے حرا م ہو تا ہے یہاں تک کہ ہدی کو ذبح کر دیا جا ئے ۔ اور میں نے اپنی ہدی بھیجی ہے تو مجھے ( اس بارے میں ) اپنا حکم لکھ بھیجیے عمرہ نے کہا حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : ( بات ) اس طرح نہیں جیسے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا ہے میں نے خود اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر بانیوں کے ہار بٹے پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے وہ ( ہار ) انھیں پہنائے پھر انھیں میرے والد کے ساتھ ( مکہ ) بھیجا اس کے بعد ہدی نحر ( قر بان ) ہو نے تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ( ایسی ) کو ئی چیز حرا م نہ ہو ئی جو اللہ نے آپ کے لیے حلا ل کی تھی ۔
اسما عیل بن ابی خالد نے ہمیں خبردی انھوں نے شعبی سے اور انھوں نے مسروق سے روایت کی ، انھوں نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے سنا وہ پردے کی اوٹ سے ہاتھ پر ہا تھ مار رہی تھیں اور کہہ رہی تھیں میں اپنے ہاتھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قر با نیوں کے ہار بٹا کرتی تھی ، پھر آپ انھیں ( مکہ ) بھیجتے اور ہدی کو ذبح کرنے ( کے وقت ) تک آپ ان میں سے کسی چیز سے بھی اجتناب نہ فر ما تے جس سے احرام والا شخص اجتناب کرتا ہے
داوداور زکریا دونوں نے شعبی سے حدیث بیان کی انھوں نے مسروق سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے اسی سند ( حدیث ) کے مطا بق نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔
امام مالک نے ابو زناد سے انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا وہ قربانی کا اونٹ ہانک رہا ہے تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت !اس پر سوار ہو جاؤ ۔ دوسری یا تیسری مرتبہ ( یہ الفاظ کہے)
مغیرہ بن عبد الرحمٰن حزامی نے ابو زناد سے اور انھوں نے اعرج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا اس اثنا میں کہ ایک آدمی ہار ڈالے گئے اونٹ کو ہانک رہاتھا ۔
ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : یہ احا دیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہر یرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انھوں نے چند احادیث ذکر کیں ان میں سے ایک یہ ہے اور کہا اس اثنا میں کہ ایک شخص ہار والے قربانی کے اونٹ کو ہانک رہاتھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فر ما یا : " تمھا ری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ نے فر ما یا : " تمھاری ہلاکت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔ تمھاری ہلا کت ! اس پر سوار ہو جاؤ ۔
ثابت بنا نی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو قربانی کا اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا تو آپ نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جاؤ ۔ اس نے جواب دیا یہ قر بانی کا اونٹ ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اس پر سوار ہو جا ؤ ۔ دویا تین مرتبہ ( فر ما یا)
ہمیں وکیع نے مسعر سے حدیث بیان کی انھوں نے بکیر بن اخنس سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : میں نے ان ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے سنا کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کے ایک اونٹ یا ( حرم کے لیے ) ہدیہ کیے جا نے والے ایک جا نور کا گزر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اس پر سوار ہو جا ؤ اس نے کہا : یہ قر بانی کا اونٹ یا ہدی کا جا نور ہے آپ نے فر ما یا : " چا ہے ( ایسا ہی ہے)
ہمیں ابن بشر نے مسعر سے حدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے بکیر بن اخنس نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے قر با نی کا ایک اونٹ گزارا گیا آگے اسی کے مانند بیان کیا ۔
ابن جریج سے روایت ہے ( انھوں نے کہا ) مجھے زبیر نے خبر دی کہا میں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ان سے ہدی پر سواری کرنے کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا فر ما رہے تھے " جب اس ( پر سوار ہو نے ) کی ضرورت ہو تو اور سواری ملنے تک معروف ( قابل قبول ) طریقے سے اس پر سواری کرو ۔
ہمیں معقل نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہدی ( بیت اللہ کی طرف بھیجے گئے ہدیہ قر بانی ) پر سواری کے بارے میں پو چھا تو انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فر ما تے ہو ئے سنا : " دوسری سواری ملنے تک اس پر معروف طریقے سے سوار ہو جاؤ
ہمیں عبد الوارث بن سعید نے ابو تیاح ضبعی سے خبر دی ( کہا ) مجھ سے موسیٰ بن سلمہ ہذلی نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا میں اور سنان بن سلمہ عمرہ ادا کرنے کے لیے نکلے اور سنان اپنے ساتھ قر بانی کا اونٹ لے کر چلے وہ اسے ہانک رہے تھے تو راستے ہی میں تھک کر رک گیا وہ اس کی حالت کے سبب سے ( یہ سمجھنے سے ) عاجز آگئے کہ اگر وہ بالکل ہی رہ گیا تو اسے مکہ ) کیسے لا ئیں ۔ انھوں نے کہا : اگر میں بلد ( امین مکہ ) پہنچ گیا تو میں ہر صورت اس کے بارے میں اچھی طرح پو چھوں گا ۔ ( موسیٰ نے ) کہا تو مجھے دن چڑھ گیا جب ہم نے بطحاء میں قیام کیا تو انھوں نے کہا بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس چلیں تا کہ ہم ان سے بات کریں ۔ کہا انھوں نے ان کو اپنی قر بانی کے جانور کا حال بتا یا تو انھوں نے کہا تم جاننے والے کے پاس آپہنچے ہو ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کے ساتھ بیت اللہ کے پا س قر بانی کے لیے سولہ اونٹ روانہ کیے اور اسے ان کا نگران بنا یا ۔ کہا وہ تھوڑی دور ) گیا پھر واپس آیا اور کہنے لگا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اس کے ساتھ میں کیا کروں ؟آپ نے فر مایا : " اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں ڈالے گئے ) دونوں جوتے اس کے خون سے رنگ دینا پھر انھیں ( بطور نشانی ) اس کے پہلو پر رکھ دینا ۔ اور ( احرام کی حالت میں ) تم اور تمھا رے ساتھ جا نے والوں میں سے کو ئی اس ( کے گو شت میں ) سے کچھ نہ کھا ئے ۔
اسماعیل بن علیہ نے ابو تیاح سے حدیث بیان کی انھوں نے موسیٰ بن سلمہ سے اور انھوں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قر بانی کے اٹھارہ اونٹ ایک آدمی کے ساتھ روانہ کیے ۔ ۔ ۔ پھر عبد الوارث کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، اور انھوں نے حدیث کا ابتدا ئی حصہ بیان نہیں کیا ۔
ابو قبیصہ ذؤیب نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ قر بانی کے اونٹ بھیجتے پھر فر ما تے اگر ان میں سے کو ئی تھک کر رک جا ئے اور تمھیں اس کے مر جا نے کا خدشہ ہو تو اسے نحر کر دینا پھر اس کے ( گلے میں لٹکا ئے گئے ) جوتے کو اس کے خون میں ڈبونا پھر اسے اس کے پہلو پر ڈال دینا پھر تم اس میں سے ( کچھ ) کھا نا نہ تمھا رے ساتھیوں میں سے کو ئی ( اس میں کھا ئے ۔)
سعید بن منصور اور زہیر بن حرب نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں سفیان نے سلیما ن احول سے حدیث بیان کی انھوں نے طا ؤس سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگ ( حج کے بعد ) ہر سمت میں نکل ( کر چلے ) جا تے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی بھی شخص ہر گز روانہ ہو یہاں تک کہ اس کی آخری حاضری ( بطور طواف ) بیت اللہ کی ہو زہیر نے کہا : ہر سمت " اور " ( ہر سمت ) میں نہیں کہا ۔
طاؤس کے بیٹے ( عبد اللہ ) نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگوں کو حکم دیا گیا کہ ان کی آخری حاضر ی بیت اللہ کی ہو مگر اس میں حائضہ عورت کے لیے تخفیف کی گئی ہے ( وہآخری طواف سے مستثنیٰ ہے)
حسن بن مسلم نے طاؤس سے خبر دی انھوں نے کہا : میں حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ تھا کہ زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : آپ فتویٰ دیتے ہیں کہ حائضہ عورت آخری وقت میں بیت اللہ کی حاضری ( طواف ) سے پہلے ( اس کے بغیر ) لو ٹ سکتی ہے ؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کہا : اگر ( آپ کو یقین ) نہیں تو فلاں انصار یہ سے پو چھ لیں کیا رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس بات کا حکم دیا تھا ؟ کہا : اس کے بعد زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ واپس آئے وہ ہنس رہے تھے اور کہہ رہے تھے میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے سچ ہی کہا ہے ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
امام مالک نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بلال اور عثمان بن طلحہ حجبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں ( عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ( آپ کے لیے ) اس کا دروازہ بند کر دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر ٹھہر ے رہے ۔ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( اندر ) کیا کیا ؟ انھوں نے کہا آپ نے دو ستون اپنی بائیں طرف ایک ستون دائیں طرف اور تین ستون اپنے پیچھے کی طرف رکھے ۔ ان دنوں بیت اللہ ( کی عمارت ) چھ ستونوں پر ( قائم ) تھی پھر آپ نے نماز پڑھی ۔
ہمیں حماد نے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی انھوں نے کہا فتح مکہ کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے آ پ بیت اللہ کے صحن میں اترے اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف پیغام بھیجا وہ چا بی لے کر حاضر ہو ئے اور دروازہ کھو لا کہا : پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلال اسامہ بن زید اور عچمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اندر دا خل ہو ئے آپ نے دروازے کے بارے میں حکم دیا تو اسے بند کر دیا گیا وہ سب خاصی دیر وہاں ٹھہرے پھر انھوں نے ( عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دروازہ کھو لا عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے سب لوگوں سے سبقت کی اور باہر نکلتے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ کے پیچھے پیچھے تھے تو میں نے بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا فر ما ئی ہے ؟ انھوں نے کہا : ہاں میں نے پوچھا کہاں ؟ انھوں نے کہا : دو ستونوں کے در میان جو آپ کے سامنے تھے ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں ان سے یہ پو چھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ۔
سفیان نے ہمیں ایوب سختیانی سے حدیث بیان کی انھون نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اونٹنی پر ( سوار ہو کر ) تشر یف لا ئے یہاں تک کہ آپ نے اسے کعبہ کے صحن میں لا بٹھا یا پھر عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلوایا اور کہا : مجھے ( بیت اللہ کی ) چابی دو وہ اپنی والدہ کے پاس گئے تو اس نے انھیں چا بی دینے سے انکا ر کر دیا انھوں نے کہا یا تو تم یہ چا بی مجھے دوگی یا پھر یہ تلوار میری پیٹھ سے پار نکل جا ئے گی ، کہا تو اس نے وہ چابی انھیں دے دی وہ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چا بی انھی کو دے دی تو انھوں ( ہی ) نے دروازہ کھو لا پھر حماد بن زید کی حدیث کے مانند بیان کی ۔
عبید اللہ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں دا خل ہو ئے آپ کے ساتھ اسامہ بلا ل اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے انھوں نے اپنے پیچھے خاصی دیر دروازہ بند کیے رکھا پھر ( دروازہ ) کھو لا گیا تو میں پہلا شخص تھا جو ( دروازے سے ) داخل ہوا میں بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور پو چھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادا کی ؟انھوں نے کہا : آگے کے دو ستونوں کے در میان جو آپ کے سامنے تھے ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں ان سے یہ پو چھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں ادا کی
عبد اللہ عون نے ہمیں نا فع سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ وہ کعبہ کے پاس پہنچے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بلال اور اسامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس میں دا خل ہو چکے تھے عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے پیچھے دروازہ بند کیا ۔ کہا وہ اس میں کا فی دیر ٹھہرے پھر دروازہ کھو لا گیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لا ئے میں سیڑھی چڑھا اور بیت اللہ میں دا خل ہوا میں نے پو چھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا ں نما زپڑھی ؟ انھوں نے کہا اس جگہ کہا میں ان سے یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ نے کتنی رکعتیں پڑھیں ۔
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیت اللہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بن زید بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں نے اپنے پیچھے دروازہ بند کر لیا جب انھوں نے دروازہ کھو لا تو میں سب سے پہلا شخص تھا جو ( کعبہ میں ) داخل ہوا میں بلا ل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور ان سے پو چھا : کیارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں نماز ادا کی ؟ انھوںنے جواب دیا : ہاں آپ نے دو یمنی ستونوں کے در میان نماز ادا کی ۔
یو نس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ( کہا ) مجھے سالم بن عبد اللہ نے اپنے والد ( عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے خبر دی انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں دا خل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسامہ بن زید بلال اور عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ اور کو ئی دا خل نہیں ہوا پھر ان کے پیچھے دروازہ بند کر دیا گیا ۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا مجھے بلال یا عثمان بن طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے اندر دو یمنی ستونوں کے در میان نماز ادا کی ۔
ابن جریج نے ہمیں خبر دی کہا : میں نے عطا ء سے پو چھا : کیا آپ نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا ہے کہ تمھیں طواف کا حکم دیا گیا ہے اس ( بیت اللہ ) میں دا خل ہو نے کا حکم نہیں دیا گیا انھوں نے جواب دیا وہ اس میں دا خل ہو نے سے منع نہیں کرتے تھے لیکن میں نے ان سے سنا کہہ رہے تھے مجھے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتا یا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب بیت اللہ میں داخل ہو ئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے تمام اطراف میں دعا کی اور اس میں نماز ادا نہیں کی ۔ یہاںتک کہ باہر آگئے جب آپ تشر یف لا ئے تو قبلہ کے سامنے کی طرف دورکعتیں ادا کیں اور فر ما یا : " یہ قبلہ ہے میں نے ان سے پو چھا : اس کے اطراف سے کیا مرا د ہے ؟کیا اس کے کو نوں میں؟ انھوں نے کہا : بلکہ بیت اللہ کی ہر جہت میں ۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کعبہ میں دا خل ہو ئے اور اس میں چھ ستون تھے آپ نے ایک ستون کے پاس کھڑے ہو کر دعا مانگی اور ( وہاں ) نماز ادا نہیں کی ۔
ہمیں اسماعیل بن ابی خالد نے خبر دی کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے عمرے کے دوران میں بیت اللہ میں داخل ہو ئے تھے ؟انھوں نے جواب دیا نہیں ۔
ابو معاویہ نے ہمیں ہشام بن عروہ سے خبر دی انھوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے انھوں نے حجرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فر ما یا : " اگر تمھا ری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہو تا تو میں ضرور کعبہ کو گرا تا اور اسے حضرت ابراہیم ؑکی اساس پر استوار کرتا قریش نے جب بیت اللہ کو تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا تھا میں ( اصل تعمیر کے مطا بق ) اس کا پچھلا دروازہ بھی بناتا ۔
ابن نمیر نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
سالم بن عبد اللہ سے روایت ہے کہ عبد اللہ بن محمد بن ابی بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہو ئے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" کیا تم نے نہیں دیکھا تمھا ری قوم نے جب کعبہ تعمیر کیا تو اسے حضرت ابرا ہیم ؑ کی بنیا دوں سے کم کر دیا ۔ کہا میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا آپ اسے دوبارہ ابرا ہیمؑ کی بنیا دوں پر نہیں لو ٹا ئیں گے ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اگر تمھا ری قوم کا زمانہ کفر قریب کا نہ ہو تا تو میں ( ضرورایسا ) کرتا ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر یہ بات حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی تو میں نہیں سمجھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حطیم کے قریبی دونوں ارکان کا استلام اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے ترک کیا ( ہواصل وجہ یہ تھی ) کہ بیت اللہ ابرا ہیم ؑ کی بنیا دوں پر پورا 0تعمیر ) نہیں کیا گیا تھا ۔
ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام نافع کہتے ہیں میں نے عبد اللہ بن ابی بکر ابی قحانہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حدیث سنارہے تھے انھوں ( عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ نے فر ما یا : " اگر تمھا ری قوم جاہلیت ۔ ۔ ۔ یا فر ما یا زمانہ کفر ۔ ۔ ۔ سے ابھی ابھی نہ نکلی ہو تی تو میں ضرورکعبہ کے خزانے اللہ کی را ہ میں خرچ کر دیتا اس کا دروازہ زمین کے برابر کر دیتا اور حجر ( حطیم ) کو کعبہ میں شامل کر دیتا ۔
سعید یعنی ابن بیناء سے روایت ہے کہا میں نے عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے ۔ مجھ سے میری خالہ یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " عائشہ! رضی اللہ تعالیٰ عنہا اگر تمھاری قوم کا شرک کا زمانہ قریب کا نہ ہو تا تو میں ضرور کعبہ کو گرا تا اس ( کے دروازے ) کو زمین کے ساتھ لگا دیتا اور میں اس کے دو دروازے شرقی دروازہ اور دوسرا غربی دروازہ بنا تا اور حجر ( حطیم ) اسے چھ ہاتھ ( کا حصہ ) اس میں شامل کر دیتا ۔ بلا شبہ قریش نے جب کعبہ تعمیر کیا تھا تو اسے چھوٹا کر دیا
عطا ء سے روایت ہے انھوں نے کہا یزید بن معاویہ کے دور میں جب اہل شام نے ( مکہ پر ) حملہ کیا اور کعبہ جل گیا تو اس کی جو حالت تھی سو تھی ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے ( اسی حالت پر ) رہنے دیا حتیٰ کہ حج کے مو سم میں لو گ ( مکہ ) آنے لگے وہ چا ہتے تھے کہ انھیں ہمت دلا ئیں ۔ ۔ یا اہل شام کے خلاف جنگ پر ابھا ریں ۔ ۔ ۔ جب لو گ آئے تو انھوں نے کہا اے لوگو! مجھے کعبہ کے بارے میں مشورہ دو میں اسے گرا کر ( از سر نو ) اس کی عمارت بنا دوں یا اس کا جو حصہ بو سیدہ ہو چکا ہے صرف اس کی مرمت کرا دوں ؟ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میرے سامنے ایک رائے واضح ہو ئی ہے میری را ئے یہ ہے کہ اس کا بڑا حصہ کمزور ہو گیا ہے آپ اس می مرمت کرا دیں اور بیت اللہ کو ( اسی طرح باقی ) رہنے دیں جس پر لو گ اسلا م لا ئے اور ان پتھروں کو ( باقی چھوڑ دیں ) جن پر لوگ اسلام لائے اور جن پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہو ئی ، اس پر ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اگر تم میں سے کسی کا اپنا گھر جل جا ئے تو وہ اس وقت تک راضی نہیں ہو تا جب تک کہ اسے نیا ( نہ ) بنا لے تو تمھا رے رب کے گھر کا کیا ہو؟ میں تین دن اپنے رب سے استخارہ کروں گا پھر اپنے کام کا پختہ عزم کروں گا ۔ جب تین دن گزر گئے تو انھوں نے اپنی را ئے پختہ کر لی کہ اسے گرا دیں تو لو گ ( اس ڈرسے ) اس سے بچنے لگے کہ جو شخص اس ( عمارت ) پر سب سے پہلے چڑھے گا اس پر آسمان سے کو ئی آفت نازل ہو جا ئے گی یہاں تک کہ ایک آدمی اس پر چڑھا اور اس سے ایک پتھر گرادیا جب لوگوں نے دیکھا کہ اسے کچھ نہیں ہوا تو لوگ ایک دوسرے کے پیچھے ( گرا نے لگے ) حتیٰ کہ اسے زمین تک پہنچا دیا ۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے چند ( عارضی ) ستون بنا ئے اور پردے ان پر لٹکا دیے یہاں تک کہ اس کی عمارت بلند ہو گئی ۔ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو یہ کہتے سنا بلا شبہ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اگر لوگوں کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہوتا اور میرے پاس اتنا مال بھی نہیں جو اس کی تعمیر ( مکمل کرنے ) میں میرا معاون ہو تو میں حطیم سے پانچ ہاتھ ( زمین ) اس میں ضرور شامل کرتا اور اس کا ایک ( ایسا ) دروازہ بنا تا جس سے لوگ اندر داخل ہو تے اور ایک دروازہ ( ایسا بنا تا ) جس سے باہر نکلتے ۔ ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا آج میرے پاس اتنا مال ہے جو خرچ کرسکتا ہوں اور مجھے لوگوں کا خوف بھی نہیں ( عطاء نے ) کہا تو انھوں نے حطیم سے پانچ ہاتھ اس میں شامل کیے ( کھدا ئی کی ) حتیٰ کہ انھوں نے ابرا ہیمی ) بنیا د کو ظاہر کر دیا لوگوں نے بھی اسے دیکھا اس کے بعد انھوں نے اس پر عمارت بنا ئی کعبہ کا طول ( اونچا ئی ) اٹھا رہ ہاتھ تھی ( یہ اس طرح ہو ئی کہ ) جب انھوں نے ( حطیم کی طرف سے ) اس میں اضافہ کر دیا تو ( پھر ) انھیں ( پہلی اونچا ئی ) کم محسوس ہو ئی چنانچہ انھوں نے اس کی اونچا ئی میں دس ہاتھ کا اضافہ کر دیا اور اس کے دروازے بنائے ایک میں سے اندر دا خلہ ہو تا تھا اور دوسرے سے باہر نکلا جا تا تھا جب ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل کر دیے گئے تو حجاج نے عبد الملک بن مروان کو اطلا ع دیتے ہو ئے خط لکھا اور اسے خبر دی کہ ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی تعمیر اس ( ابرا ہیمی ) بنیا دوں پر استورکی جسے اہل مکہ کے معتبر ( عدول ) لوگوں نے ( خود ) دیکھا عبد الملک نے اسے لکھا ۔ ہمارا ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ردو بدل سے کو ئی تعلق نہیں البتہ انھوں نے اس کی اونچائی میں جو اضافہ کیا ہے اسے بر قرار رہنے دو اور جو انھوں نے حطیم کی طرف سے اس میں اضافہ کیا ہے اسے ( ختم کر کے ) اس کی سابقہ بنیا د پر لوٹا دو اور اس دروازے کو بند کر دو جو انھوں نے کھو لا ہے چنانچہ اس نے اسے گرادیا اس کی ( پچھلی ) بنیاد پر لو ٹا دیا ۔
محمد بن بکر نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے عبد اللہ بن عبید بن عمیر اور ولید بن عطاء سے سنا وہ دونوں حارث بن عبداللہ بن ابی عبد اللہ بن ابی ربیعہ سے حدیث بیان کر رہے تھے عبد اللہ بن عبید نے کہا حارث بن عبد اللہ ۔ عبد الملک بن مروان کی خلا فت کے دوران میں اس کے پاس آئے عبد الملک نے کہا : میرا خیال نہیں کہ ابو خبیب یعنی ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جو سننے کا دعویٰ کرتے تھے وہ ان سے سنا ہو ۔ حارث نے کہا : کیوں نہیں ! میں نے خود ان ( ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے سنا ہے اس نے کہا : تم نے اس سے سنا وہ کیا کہتی تھیں ؟ کہا : انھوں ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) نے کہا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما ا : "" بلا شبہ تمھاریقوم نے ( اللہ کے گھر کی عمارت میں کمی کر دی اور اگر ان کا زمانہ شر ک قریب کا نہ ہو تا تو جو انھوں نے چھوڑ اتھا میں اسے دوبارہ بنا تا اور تمھا ری قوم کا اگر میرے بعد اسے دوبارہ بنا نے کا خیال ہو تو آؤ میں تمھیں دکھا ؤں انھوں نے اس میں سے کیا چھوڑ اتھا پھر آپ نے انھیں ساتھ ہاتھ کے قریب جگہ دکھا ئی ۔ یہ عبد اللہ بن عبید کی حدیث ہے ولید بن عطا ء نے اس میں یہ اضافہ کیا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اور میں زمین سے لگے ہو ئے اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بنا تا ۔ اور کیا تو جا نتی ہو تمھا ری قوم نے اس کے دروازے کو اونچا کیوں کیا ؟ "" ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا میں نے عرض کی نہیں آپ نے فر ما یا : "" خود کو اونچا دکھا نے کے لیے تا کہ اس ( گھر ) میں صرف وہی داخل ہو جسے وہ چا ہیں جب کو ئی آدمی خود اس میں دا خل ہو نا چا ہتا تو وہ اسے ( سیڑھیاں ) چڑھنے دیتے حتیٰ کہ جب وہ داخل ہو نے لگتا تو وہ اسے دھکا دے دیتے اور وہ گر جا تا ۔ عبد الملک نے حارث سے کہا : تم نے خود انھیں یہ کہتے ہو ئے سنا ؟انھوں نے کہا : ہاں !کہا : تو اس نے گھڑی بھر اپنی چھڑی سے زمین کو کریدا ، پھر کہا : کا ش!میں انھیں ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ) اور جس کا م کی ذمہ داری انھوں نے اٹھا ئی اسے چھوڑ دیتا ۔
ابو عاصم اور عبد الرزاق دونوں نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ ( محمد ) بن بکر کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔
ابو قزعہ سے روایت ہے کہ عبد الملک بن مروان جب بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا تو اس نے کہا : اللہ ابن زبیر کو ہلا ک کرے کہ وہ ام المومنین پر جھوٹ بو لتا ہے وہ کہتا ہے میں نے انھیں یہ کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا "" اے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا !تمھا ری قوم کے کفر کا زمانہ قریب کا نہ ہو تا تو میں بیت اللہ کو گرا تا حتیٰ کہ اس میں حطیم میں سے ( کچھ حصہ ) بڑھا دیتا بلا شبہ تمھا ری قوم نے اس کی عمارت کو کم کر دیا ہے ۔ اس پر حارث بن عبد اللہ بن ابی ربیعہ نے کہا : امیر المومنین ایسا نہ کہیے ۔ میں نے خود امیر المو منین سے سنا ہے وہ یہ حدیث بیا ن کر رہی تھیں ۔ ( عبد الملک نے ) کہا اگر میں نے یہ بات اسے گرا نے سے پہلے سن لی ہو تی تو میں اسے اسی طرح چھوڑ دیتا جس طرح ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بنا یا تھا ۔
ابو حوص نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں اشعت بن ابو شعثاء نے اسود بن یزید سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حطیم کی ) دیوار کے بارے میں دریا فت کیا کیا وہ بیت اللہ میں سے ہے ؟آپ ننے فرما یا ہاں ۔ " میں نے عرض کی : تو انھوں نے اسے بیت اللہ میں شامل کیوں نہیں کیا ؟ آپ نے فر ما یا : " تمھا ری قوم کے پاس خرچ کم پڑگیا تھا ۔ میں نے عرض کی اس کا دروازہ کیوں اونچا ہے ؟ آپ نے فر ما یا : " یہ کا م تمھا ری قوم نے کیا تا کہ جسے چا ہیں اندر دا خل ہو نے دیں اور جسے چاہیں منع کر دیں اگر تمھا ری قوم کا زمانہ جاہلیت کے قریب کا نہ ہو تا اس وجہ سے میں ڈرتا ہوں کہ ان کے دل اسے ناپسند کریں گے تو میں اس پر غور کرتا کہ ( حطیم کی ) دیوار کو بیت اللہ میں شامل کردوں اور اس کے دروازے کو زمین کے ساتھ ملا دوں
شیبان نے ہمیں اشعت بن ابو شعثاء سے حدیث بیان کی انھوں نے اسود بن یزید سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی انھوں نے کہا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حطیم کے بارے میں سوال کیا ۔ آگے ابو حوص کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور اس میں کہا : میں نے عرض کی : اس کا دروازہ کسی وجہ سے اونچا ہے اس پر سیڑھی کے بغیر چڑھا نہیں جا سکتا ۔ اور ( شیبان نے یہ بھی ) کہا : اس ڈر سے کہ ان کے دل اسے نا پسند کریں گے ۔
امام مالکؒ نے ابن شہاب سے انھوں نے سلیمان بن یسار سے اور انھوں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر پیچھے سوار تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قبیلہ خشعم کی ایک خاتون آئی وہ آپ سے فتویٰ پو چھنے لگی فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس کی طرف اور وہ ان کی طرف دیکھنے لگی ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چہرہ دوسری جا نب پھیرنے لگے ۔ اس نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !بلا شبہ اللہ کا اپنے بندوں پر فرض کیا ہوا حج میرے کمزور اور بو ڑھے والد پر بھی آگیا ہے وہ سواری پر جم کر بیٹھ نہیں سکتے تو کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟آپ نے فر ما یا : " ہاں ۔ اور یہ حجۃ الوداع میں ہوا
ابن جریج نے سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے فضل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ قبیلہ خشعم کی ایک عورت نے عرض کی ۔ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے والد عمررسیدہ ہیں اور اللہ کا فریضہ حج ان کے ذمے ہے اور اونٹ کی پشت پر ٹھیک طرح بیٹھ نہیں سکتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " تم ان کی طرف سے حج کر لو ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ نے کہا : سفیان بن عیینہ نے ہمیں ابرا ہیم بن عقبہ سے حدیث بیان کی انھوں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مو لیٰ کریب سے انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ روھا ء کے مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ملا قات ایک قافلے سے ہو ئی آپ نے پو چھا : کو ن لو گ ہیں ؟ انھوں نے کہا : مسلمان ہیں پھر انھوں نے پو چھا : آپ کو ن ہیں ؟ آپ نے فر ما یا : " میں اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہوں اسی دورا ن میں ایک عورت نے آپ کے سامنے ایک اجر ہو گا ۔ بچے کو بلند کیا اور کہا کیا اس کا حج ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہا ں اور تمھا رے لیے اجر ہے
ابو اسامہ نے سفیان سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : ایک عورت نے آپ کے سامنے ایک بچے کو بلند کیا اور کہا کیا اس کا حج ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہاں اور تمھارے لیے اجر ہے
عبد الرحمٰن نے سفیان سے انھوں نے ابرا ہیم بن عقبہ سے اور انھوں نے کریب سے روایت کی کہ : ایک عورت نے ایک بچے کو بلند کیا اور کہااے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کا حج ہو گا ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہاں اور تمھا رے لیے اجر ہے ۔
ہم سے محمد بن مثنیٰ نے روایت کی کہا ہمیں عبد الرحمٰن نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے مانند روایت بیان کی ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فر ما یا : " لوگو!تم پر حج فرض کیا گیا ہے لہٰذا حج کرو ۔ ایک آدمی نے کہا : کیا ہر سال ؟ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ خاموش رہے حتیٰ کہ اس نے یہ کملہ تین بار دہرا یا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اگر میں کہہ دیتا : ہاں تو واجب ہو جا تا اور تم ( اس کی ) استطاعت نہ رکھتے ۔ پھر آپ نے فر ما یا : " تم مجھے اسی ( بات ) پر رہنے دیا کرو جس پر میں تمھیں چھوڑدوں تم سے پہلے لو گ کثرت سوال اور اپنے انبیاءؑ سے زیادہ اختلا ف کی بنا پر ہلا ک ہو ئے ۔ جب میں تمھیں کسی چیز کا حکم دوں تو بقدر استطاعت اسے کرو اور جب کسی چیز سے منع کروں تو اسے چھوڑ دو ۔
یحییٰ قطان نے ہمیں عبید اللہ سے حدیث بیان کی ( کہا ) مجھے نا فع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کو ئی عورت تین ( دن رات ) کا سفر نہ کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہم سے عبد اللہ ابن نمیر اور ابو اسامہ نے حدیث بیان کی نیز ابن نمیر نے ہمیں ھدیث بیان کی کہا ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ان سب نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔ ابو بکر کی روایت میں ہے کہ تین دن سے زیادہ اور ابن نمیر نے اپنے والد سے بیان کر دہ روایت میں کہا : تین دن مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ محرم ہو ۔
ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے كہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حلال نہیں كسی عورت كو جو ایمان ركھتی ہو اللہ پر اور پچھلے دن پر كہ سفر كرے تین رات كا مگر اس كے ساتھ كوئی محرم ہو
سہم بن منجاب نے قزعہ سے انھوں نے ابو سعیدخدری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ’’کوئی عورت تین دن کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم ساتھ ہو ۔ ‘ ‘
معاذ عنبری نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے قزعہ اور انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : ’’کو ئی عورت تین راتوں سے زیادہ کا سفر نہ کرے مگر یہ کہ محرم کے ساتھ ہو ۔ ‘ ‘
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
قزعہ نے كہا میں نے ابو سعید سے ایك حدیث سنی جو مجھے بہت پسند آئی اور میں نے ان سے كہا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے ؟ انہوں نے كہا كہ جو میں نے ان سے نہ سنی ہوتی تو میں كیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم كی طرف نسبت كرتا جو آپ سے نہیں سنی اب سنو كہ جناب رسول اللہ نے فرمایا نہ باندھو تم كجاووں كو ( یعنی سفر نہ كرو ) مگر تین مسجدوں كی طرف ایك میری یہ مسجد اور دوسری مسجدالحرام اور تیسری مسجد اقصی اور سنا میں نے آپ سے كہ فرماتے تحے كہ كوئی عورت سفر نہ كرے دو دن كا زمانہ میں سے مگر اس كے ساتھ ذو محرم ہو یا اس كا شوہر ہو ۔
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : تین ( دن ) سے زیادہ کا سفر مگر یہ کہ محرم کے ساتھ ہو ۔
لیث نے ہمیں سعید بن ابی سعید سے حدیث بیان کی انھوں نے اپنے والد سے روایت کی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی مسلما ن عورت کے لیے حلال نہیں وہ ایک رات کی مسافت طے کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ ایسا آدمی ہو جو اس کا محرم ہو ۔
ابن ابی ذئب سے روایت ہے ( کہا ) ہمیں سعید ابن ابی سعید نے اپنے والد سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فر ما یا : کسی عورت کے لیے جو اللہ اور یو م آخرت پر ایما ن رکھتی ہے حلال نہیں کہ وہ ایک دن کی مسا فت طے کرے مگر یہ کہ محرم کے ساتھ ہو ۔
امام مالک نے سعید بن ابی سعید مقبری سے انھوں نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو عورت اللہ اور آخرت کے دن پر ایما ن رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ ایک دن اور رات کا سفر کرے مگر اس طرح کہ اس کا محرم اس کے ساتھ ہو ۔
ابو صالح نے اپنے والد سے انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ تین دن سفر کرے مگر اس طرح کہ اس کے ساتھ اس کا کو ئی محرم ہو ۔
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے حدیث بیان کی انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو عورت اللہ اور یو م آخرت پر ایمان رکھتی ہے اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ تین دن یا اس سے زائد کا سفر کرے الایہ کہ اس کے ساتھ اس کا والد یا اس کا بیٹا یا اس کا خاوند یااس کا بھا ئی یا اس کا کو ئی محرم ہو ،
وکیع نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
سفیان بن عیینہ نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں عمرو بن دینا ر نے ابو معبد سے حدیث بیان کی ( کہا ) میں نے ابن عبا س رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ خطبہ دیتے ہوئے فر ما رہے تھے " کو ئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہر گز تنہا نہ ہو مگر یہ کہ اس کے ساتھ کو ئی محرم ہو ۔ اور کو ئی عورت سفر نہ کرے مگر یہ محرم کے ساتھ ہو ۔ ایک آدمی اٹھااور کہنے لگا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری بیوی حج کے لیے نکلی ہے اور میرا نام فلاں فلاں غزوے میں لکھا جا چکا ہے آپ نے فر ما یا : " جاؤ اور اپنی بیوی کے ساتھ حج کرو ۔
حماد نے ہمیں عمرو ( بن دینا ر ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
ابن جریج نے ( عمر و بن دینار سے ) اسی سند کے ساتھ اسی کے معنی روایت بیان کی اور یہ ( جملہ ) ذکر نہیں کیا : " کو ئی مرد کسی عورت کے ساتھ ہر گز تنہا نہ ہو مگر یہ کہ اس کے ساتھ کو ئی محر م ہو ۔
{سیدنا علی ازدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے انہیں سکھایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہیں سفر میں جانے کے لئے اپنے اونٹ پر سوار ہوتے تو تین بار اللہ اکبر فرماتے ، پھر یہ دعا پڑھتے : سبْحانَ الذي سخَّرَ لَنَا هذا وما كنَّا له مُقرنينَ ، وَإِنَّا إِلى ربِّنَا لمُنقَلِبُونَ . اللَّهُمَّ إِنَّا نَسْأَلُكَ في سَفَرِنَا هذا البرَّ والتَّقوى ، ومِنَ العَمَلِ ما تَرْضى . اللَّهُمَّ هَوِّنْ علَيْنا سفَرَنَا هذا وَاطْوِ عنَّا بُعْدَهُ ، اللَّهُمَّ أَنتَ الصَّاحِبُ في السَّفَرِ ، وَالخَلِيفَةُ في الأهْلِ. اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ وعْثَاءِ السَّفَرِ ، وكآبةِ المنظَرِ ، وَسُوءِ المنْقلَبِ في المالِ والأهلِ " پاک ہے وہ ذات جس نے اس جانور کو ہمارے تابع کر دیا اور ہم اس کو دبا نہ سکتے تھے اور ہم اپنے پروردگار کے پاس لوٹ جانے والے ہیں } الزخرف : 14,13 { اے اللہ! ہم تجھ سے اپنے اس سفر میں نیکی اور پرہیزگاری مانگتے ہیں اور ایسے کام کا سوال کرتے ہیں جسے تو پسند کرے ۔ اے اللہ! ہم پر اس سفر کو آسان کر دے اور اس کی مسافت کو ہم پر تھوڑا کر دے ۔ اے اللہ تو ہی سفر میں رفیق سفر اور گھر میں نگران ہے ۔ اے اللہ! میں تجھ سے سفر کی تکلیفوں اور رنج و غم سے اور اپنے مال اور گھر والوں میں برے حال میں لوٹ کر آنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔ ( یہ تو جاتے وقت پڑھتے ) اور جب لوٹ کر آتے تو بھی یہی دعا پڑھتے مگر اس میں اتنا زیادہ کرتے کہآيبون تائبون عائدون عابدون لربنا حامدون ”ہم لوٹنے والے ہیں ، توبہ کرنے والے ، خاص اپنے رب کی عبادت کرنے والے اور اسی کی تعریف کرنے والے ہیں“ ۔
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں عاصم احول سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبداللہ بن سرجس سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفرکرتے توسفر کی مشقت ، واپسی میں اکتاہٹ ، اکھٹا ہونے کے بعد بکھر جانے ، مظلوم کی بدعا سے اور اہل ومال میں سے کسی برے منظر سے پناہ مانگتے ۔
ابومعاویہ ( محمد بن خازم ) اور عبدالواحد دونوں نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت بیان کی ، مگر عبدالواحد کی حدیث میں " مال اوراہل میں " کے الفاظ ہیں اور محمد بن خازم کی روایت میں ہے ، کہا : " جب آپ واپس آتے تواہل ( کی سلامتی کی دعا ) سے ابتدا کرتے " اور ( یہ ) دونوں کی روایت میں ہے؛ " اے اللہ ! میں سفر کی تکان سے تیری پناہ مانگتا ہوں ۔
عبیداللہ نے نافع سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب بڑے لشکروں یا چھوٹے دستوں ( کی مہموں ) سے یاحج یا عمرے سے لوٹتے تو جب آپ کسی گھاٹی یا اونچی جگہ پر چڑھتے ، تین مرتبہ اللہ اکبرکہتے ، پھر فرماتے : لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير آيبون تائبون عابدون ساجدون لربنا حامدون صدق الله وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده, "" اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں ، وہ اکیلا ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ، سارااختیاراسی کا ہے ۔ حمد اسی کے لئے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ حمد اسی کےلئے ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے ۔ ہم لوٹنے و الے ، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، سجدہ کرنے والے ، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں ، اللہ نے اپنا وعدہ سچا کیا ، اپنے بندے کی مدد کی اور تنہا اسی نے تمام جماعتوں کو شکست دی ۔
ایوب ، مالک اورضحاک سب نے نافع سے ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ، سوائے ایوب کی حدیث کے ، اس میں تکبیر دو مرتبہ ہے ۔
اسماعیل بن علیہ نے ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کیا : حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں اور ابو طلحہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں ( سفر سے ) و اپس آئے اورحضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا آپ کی اونٹنی پر آپ کے پیچھے ( سوار ) تھیں ۔ جب ہم مدینہ کے بالائی حصے میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہم لوٹنے و الے ، توبہ کرنے والے ، عبادت کرنے والے ، اپنے رب کی تعریف کرنے والے ہیں ، " آپ مسلسل یہی بات کہتے رہے یہاں تک کہ ہم مدینہ آگئے ۔
بشر بن مفضل نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن ابی اسحاق نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانندروایت کی ۔
امام مالک ؒ نے نافع سے ، انھوں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارانی پانی کی سنگریزوں اور ریت والی گزرگاہ ( بطحاء ) میں جو ذوالحلیفہ میں ہے ، اونٹنی کو بٹھایا اوروہاں نماز ادا کی ۔ ( نافع نے ) کہا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی طرح کیا کرتے تھے ۔
لیث نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نےکہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس ر یتلی پتھریلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے اور نماز ادا کرتے ۔
انس ( بن عیاض ) ، یعنی ابوضمرہ نے موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے روایت کی کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حج یا عمرے سے لوٹتے تواس پتھریلی ریتلی وادی میں اونٹ کو بٹھاتے جو ذوالحلیفہ میں ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اونٹنی کو بٹھاتے تھے ۔
حاتم ، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں موسیٰ بن عقبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ ذوالحلیفہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کی استراحت کی جگہ پر ( ایک آنے والے کو ) بھیجا گیا ، اور آپ سے کہا گیا کہ آپ ایک مبارک وادی میں ہیں ۔
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں موسیٰ عقبہ نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی ، ( کسی آنے والے کو ) بھیجا گیا ، اور آپ سے کہا گیا : آپ مبارک وادی میں ہیں ۔ موسیٰ ( بن عقبہ ) نے کہا : سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بٹھایا کرتے تھے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے ، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی ، جو وادی کے درمیان میں تھی ، اس ( مسجد ) کے اور قبلے کے درمیان ، اس کے وسط میں ۔ اسماعیل بن جعفر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں موسیٰ عقبہ نے سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ، جب آپ ذوالحلیفہ میں اپنی آرام گاہ میں جو وادی کے درمیان تھی ، ( کسی آنے والے کو ) بھیجا گیا ، اور آپ سے کہا گیا : آپ مبارک وادی میں ہیں ۔ موسیٰ ( بن عقبہ ) نے کہا : سالم نے ہمارے ساتھ مسجد کے قریب اسی جگہ اونٹ بٹھائے جہاں حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بٹھایا کرتے تھے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رات کے پچھلے پہر کی استراحت کی جگہ تلاش کرتے تھے ، اور وہ جگہ اسی مسجد سے نیچے تھی ، جو وادی کے درمیان میں تھی ، اس ( مسجد ) کے اور قبلے کے درمیان ، اس کے وسط میں ۔
عمرو ( بن حارث ) نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حمید بن عبدالرحمان ( بن عوف ) سے خبردی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز بونس ( بن یزید ایلی ) نے ابن شہاب سے اسی سندکے ساتھ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے اس حج میں جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع سے پہلے انھیں امیر بنایا تھا ، ایک چھوٹی جماعت کے ساتھ روانہ کیا کہ وہ لوگ قربانی کے دن لوگوں میں ( یہ ) اعلان کریں کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا اور نہ کوئی برہنہ شخص بیت اللہ کا طواف کرے گا ۔ ابن شہاب نے کہا : حمید بن عبدالرحمان ( بن عوف ) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی بنا پر کہاکرتے تھے : قربانی کا دن ہی حج اکبر کا دن ہے ۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : بلاشبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی دن نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے بڑھ کر بندوں کو آگ سے آزاد فرماتا ہو ، وہ ( اپنے بندوں کے ) قریب ہوتا ہے ۔ اور فرشتوں کے سامنے ان لوگوں کی بناء پر فخر کرتا ہے اور پوچھتا ہے : یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟
امام مالک نےابو بکر بن عبدالرحمان کے آزاد کردہ غلام سمی سے ، انھوں نےابو صالح اور سمان سے اور ا نھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک عمرہ دوسرے عمرے تک ( کےگناہوں ) کا کفارہ ہے اور حج مبرور ، اس کا بدلہ جنت کے سوا اور کوئی نہیں ۔
سفیان بن عینیہ ، سہیل ، عبیداللہ ، وکیع اورسفیان ( ثوری ) سب نے سمی سے ، انھوں نے ابوصالح سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک بن انس کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
جریر نے منصور سے ، انھوں نے ابو حازم سے اور انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص ( اللہ ) کے اس گھر میں آیا ، نہ کوئی فحش گوئی کی اور نہ گناہ کیاتو وہ ( گناہوں سے پاک ہوکر ) اس طرح لوٹے گا جس طرح اسے اس کی ماں نےجنم دیاتھا ۔
ابو عوانہ ، ابو احوص ، مسعر ، سفیان اورشعبہ سب نے منصور سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیا ن کی اور ان سب کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : " جس نے حج کیا اور اس نے نہ فحش گوئی کی اور نہ کوئی گناہ کیا ۔
سیار نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اورانھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، اسی کے مانند ۔
یو نس بن یزید نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی کہ علی بن حسین نے انھیں خبر دی کہ عمرو بن عثمان بن عفان نے انھیں اسامہ بن یزید بن حا رثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے پو چھا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مکہ میں اپنے ( آبائی ) گھر میں قیام فر ما ئیں گے؟آپ نے فر ما یا : "" کیا عقیل نے ہمارے لیے احا طوں یا گھروں میں سے کو ئی چیز چھوڑی ہے ۔ اور طالب ابو طا لب کے وارث بنے تھے اور جعفر اور علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان سے کو ئی چیز وراثت میں حا صل نہ کی ، کیونکہ وہ دونوں مسلمان تھے ، جبکہ عقیل اور طالب کا فر تھے ۔
معمر نے زہری سے انھوں نے علی بن حسین سے انھوں نے عمرو بن عثمان سے اور انھوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( انھوں نے کہا ) میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کل کہاں قیام کریں گے ؟یہ بات آپ کے حج کے دورا ن میں ہو ئی جب ہم مکہ کے قریب پہنچ چکے تھےتو آپ نے فرمایا : " کیا عقیل نے ہمارے لیے کو ئی گھر چھوڑا ہے
محمد بن ابی حفصہ اور زمعہ بن صالح دونوں نے کہا ابن شہاب نے ہمیں حدیث بیان کی انھوں نے علی بن حسین سے ، انھوں نے عمرو بن عثمان سے انھوں نے اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کل ان شاء اللہ آپ کہاں ٹھہریں گے؟ یہ فتح مکہ کا زمانہ تھا آپ نے فر ما یا : " کیا عقیل نے ہمارے لیے کو ئی گھر چھوڑا ہے
سلیمان بن بلال نے ہمیں عبد الرحمٰن بن حمید ( بن عبد الرحمٰن بن عوف ) سے حدیث بیان کی کہ انھوں نے عمر بن عبد العز یز کو سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھتے ہو ئے سنا کہہ رہے تھے : کیا آپ نے مکہ میں قیام کرنے کے بارے میں ( رسول اللہ کا ) کو ئی فرما ن سنا ہے؟ سائب نے جواب دیا : میں نے علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا : کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : ( مکہ سے ) ہجرت کر جا نے والے کے لیے ( منیٰ سے ) لوٹنے کے بعد مکہ میں تین دن قیام کرنا جا ئز ہے ۔ گو یا آپ یہ فر ما رہے تھے ۔ کہ اس سے زیادہ نہ ٹھہرے ۔
سفیان بن عیینہ نے ہمیں عبد الرحمٰن بن حمید سے خبر دی انھوں نے کہا : میں نے عمر بن عبد لعزیز سے سنا ، وہ اپنے نشینوں سے کہہ رہے تھے : تم ( حج کے بعد مکہ میں ٹھہرنے کے بارے میں کیا سنا ، ؟سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں علاء ۔ ۔ ۔ یا کہا : علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ۔ ۔ ۔ ۔ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " ہجرت کر جا نے والا اپنی عبادت ( حج یا عمرہ ) مکمل کرنے کے بعد مکہ میں تین دن ٹھہر سکتا ہے ۔
صالح نے عبد الرحمٰن بن حمید سے روایت کی کہ انھوں نے عمر بن عبد العزیز سے سنا ، وہ سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سوال کر رہے تھے تو سائب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا : میں نے علاء بن حضری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے ۔ مہاجر ( منیٰ سے ) لو ٹنے کے بعد تین را تیں مکہ میں ٹھہرسکتا ۔
اسماعیل بن محمد بن سعد نے مجھے خبر دی کہ حمید بن عبد الرحمٰن بن عوف نے انھیں بتا یا کہ سائب بن یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ علاء بن حضرمی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " مہا جر کا اپنی عبادت مکمل کرنے کے بعد مکہ میں قیام تین دن تک کا ہے ۔
ضحا ک بن مخلد نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔
جریر نے ہمیں منصور سے خبر دی انھوں نے مجا ہد سے انھوں نے طاوس سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دن فر ما یا : " اب ہجرت نہیں ہے البتہ جہاد اور نیت باقی ہے اور جب تمھیں نفیر عام ( جہاد میں حا ضری ) کے لیے کہا جا ئے تو نکل پڑو ۔ اور آپ نے فتح مکہ کے دن فر ما یا : بلا شبہ یہ شہر ( ایسا ) ہے جسے اللہ نے ( اس وقت سے ) حرمت عطا کی ہے جب سے اس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ۔ یہ اللہ کی ( عطا کردہ ) حرمت ( کی وجہ ) سے قیامت تک کے لیے محترم ہے اور مجھ سے پہلے کسی ایک کے لیے اس میں لڑا ئی کو حلال قرار نہیں دیا کیا اور میرے لیے بھی دن میں سے ایک گھڑی کے لیے ہی اسے حلال کیا گیا ہے ( اب ) یہ اللہ کی ( عطا کردہ ) حرمت کی وجہ سے قیامت کے دن تک حرا م ہے اس کے کا ٹنے نہ کا ٹے جا ئیں اس کے شکار کو ڈرا کر نہ بھگا یا جا ئے کو ئی شخص اس میں گری ہو ئی چیز کو نہ اٹھا ئے سوائے اس کے جو اس کا اعلا ن کرے ، نیز اس کی گھا س بھی نہ کا ٹی جا ئے ۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !سوائے اذخر ( خوشبو دار گھا س ) کے وہ ان کے لوہا روں اور گھروں کے لیے ( ضروری ) ہے تو آپ نے فر ما یا : " سوائے اذخر کے ۔
مفضل نے ہمیں منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، انھوں نے " جس دن سے اللہ تعا لیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا " کے الفا ظ ذکر نہیں کیے ۔ " قتال " ( لڑائی ) کے بجا ئے " قتل " کا لفظ کہا اور کہا " یہاں کی گری پڑی چیز اس شخص کے سوا جو اس کا اعلا ن کرے ، کو ئی نہ اٹھا ئے ۔
ابو شریح عدوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے عمرو بن سعید سے جب وہ ( ابن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے خلا ف ) مکہ کی طرف لشکر بھیج رہا تھا کہا : اے امیر ! مجھے اجا زت دیں ۔ میں آپ کو ایک ایسا فرمان بیان کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے دوسرے دن ارشاد فر ما یا تھا ۔ اسے میرے دونوں کا نوں نے سنا ، میرے دل نے یا د رکھا اور جب آپ نے اس کے الفا ظ بو لے تو میرے دونوں آنکھوں نے آپ کو دیکھا ۔ آپ نے اللہ تعا لیٰ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " بلا شبہ مکہ کو اللہ نے حرمت عطا کی ہے لوگوں نے نہیں ۔ ۔ کسی آدمی کے لیے جو اللہ اور یو آخرت پر ایما ن رکھتا ہو حلال نہیں کہ وہ اس میں خون بہا ئے اور نہ ( یہ حلال ہے کہ ) کسی درخت کو کا ٹے ۔ اگر کو ئی شخص اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لڑا ئی کی بنا پر رخصت نکا لے تو اسے کہہ دینا : بلا شبہ اللہ نے اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اجا زت دی تھی تمھیں اس کی اجا زت نہیں دی تھی اور آج ہی اس کی حرمت اسی طرح واپس آگئی ہے جیسے کل اس کی حرمت موجود تھی اور جو حا ضر ہے ( یہ بات ) اس تک پہنچا دے جو حا ضر نہیں ۔ اس پر ابو شریح رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا گیا : ( جواب میں ) عمرو نے تم سے کیا گہا ؟ ( کہا : ) اس نے جواب دیا : اے ابو شریح !میں یہ بات تم سے زیادہ جا نتا ہوں جرم کسی نافر مان ( باغی ) کو خون کر کے بھا گ آنے والے کو اور چوری کر کے فرار ہو نے والے کو پناہ نہیں دیتا ۔
ولید بن مسلم نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں اوزاعی نے حدیث سنا ئی ۔ ( کہا : ) مجھے یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث سنا ئی ۔ ( کہا : ) مجھے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے اور ( انھوں نے کہا ) مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیا نکی ، انھو نےکہا : جب اللہ عزوجل نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ پر فتح عطا کی تو آپ لوگوں میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہو ئے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی ، پھر فر ما یا : "" بلا شبہ اللہ نے ہا تھی کو مکہ سے رو ک دیا ۔ اور اپنے رسول اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا ، مجھ سے پہلے یہ ہر گز کسی کے لیے حلال نہ تھا میرے لیے دن کی ایک گھڑی کے لیے حلال کیا گیا ۔ اور میرے بعد یہ ہر گز کسی کے لیے حلال نہ ہو گا ۔ اس لیے نہ اس کے شکار کو ڈرا کر بھگا یا جا ئے اور نہ اس کے کا نٹے ( دار درخت ) کا ٹے جا ئیں ۔ اور اس میں گری پڑی کو ئی چیز اٹھا نا اعلان کرنے والے کے سواکسی کے لیے حلال نہیں ۔ اور جس کا کو ئی قریبی ( عزیز ) قتل کر دیا جا ئے اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو ( اس کی نظر میں ) بہتر ہو : یا اس کی دیت دی جا ئے یا ( قاتل ) قتل کیا جا ئے ۔ اس پر حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !اذخر کے سوا ہم اسے اپنی قبروں ( کی سلوں کی درزوں ) اور گھروں ( کی چھتوں ) میں استعمال کرتے ہیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" اذخر کے سوا ۔ اس پر اہل یمن میں سے ایک آدمی ابو شاہ کھڑے ہو ئے اور کہا : اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ( یہ سب ) میرے لیے لکھوادیجیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : "" ابو شاہ کے لیے لکھ دو ۔ ولید نے کہا : میں نے اوزاعی سے پو چھا : اس ( یمنی ) کا یہ کہنا "" اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے لکھوا دیں ۔ ( اس سے مراد ) کیا تھا؟ انھوں نے کہا : یہ خطبہ ( مراد تھا ) جو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ۔
شیبان نے یحییٰ سے روایت کی ، ( کہا : ) مجھے ابو سلمہ نے خبر دی ، انھوں نے حجرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : فتح مکہ کے سال خزاعہ نے بنو لیث کا ایک آدمی اپنے ایک مقتول کے بدلے میں جسے انھوں نے ( بنولیث ) نے قتل کیا تھا قتل کر دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کی خبر دی گئی تو آپ اپنی سواری پر بیٹھے اور خطبہ ارشاد فر ما یا : " بلا شبہ اللہ عزوجل نے ہا تھی کو مکہ ( پر حملے ) سے روک دیا جبکہ اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مومنوں کو اس پر تسلط عطا کیا ۔ مجھ سے پہلے یہ کسی کے لیے حلال نہیں تھا اور میرے بعد بھی ہر گز کسی کے لیے حلال نہ ہو گا ۔ سن لو!یہ میرے لیے دن کی ایک گھڑی بھر حلال کیا گیا تھا اور ( اب ) یہ میری اس موجودہ گھڑی میں بھی حرمت والا ہے نہ ڈنڈے کے ذریعے سے اس کے کانٹے جھا ڑے جا ئیں نہ اس کے درخت کا ٹے جائیں اور نہ ہی اعلان کرنے والے کے سوا اس میں گری ہو ئی چیز اٹھا ئے اور جس کا کو ئی قریبی قتل کر دیا گیا اس کے لیے دو صورتوں میں سے وہ ہے جو ( اس کی نظر میں ) بہتر ہو : ہا سے عطا کر دیا جا ئے ۔ یعنی خون بہا ۔ ۔ ۔ یا مقتول کے گھر والوں کو اس سے بدلہ لینے دیا جا ئے ۔ کہا : تو اہل یمن میں سے ایک آدمی آیا جسے ابو شاہ کہا جا تا تھا اس نے کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے لکھوا دیں آپ نے فر ما یا : " ابو شاہ کو لکھ دو ۔ قریش کے ایک آدمی نے عرض کی : اذخر کے سوا ، ( کیونکہ ) ہم اسے اپنے گھروں اور اپنی قبروں میں استعمال کرتے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اذخر کے سوا ۔
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : " تم میں سے کسی کے لیے مکہ میں اسلحہ اٹھا نا حلال نہیں ۔
عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی یحییٰ بن یحییٰ اور قتیبہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، قعنبی نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی قتیبہ نے کہا : ہم سے امام مالک نے حدیث بیان کی اور یحییٰ نے کہا ۔ ۔ ۔ الفا ظ انھی کے ہیں میں نے امام مالک سے پو چھا : کیا بن شہاب نے آپ کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فتح کے سال مکہ میں دا خل ہو ئے اور آپ کے سر مبارک پر خود تھا جب آپ نے اسے اتارا تو آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے آپ نے فر ما یا : " اے قتل کر دو ؟تو امام مالک نے جوا ب دیا ۔ : ہا ں
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی اور قتیبہ بن سعید چقفی نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں معاویہ بن عمار دہنی نے ابو زبیر سے خبر دی اور قتیبہ نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ ۔ انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں دا خل ہوئے ۔ ۔ ۔ قتیبہ نے کہا : فتح مکہ کے دن ۔ ۔ ۔ بغیر احرا م کے داخل ہو ئے اور آپ ( کے سر مبا رک ) پر سیا ہ عمامہ تھا ۔ قتیبہ کی روایت میں ہے ( معاویہ بن عمار نے ) کہا : ہمیں ابو زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ۔
شریک نے ہمیں عمار دہنی سے خبر دی انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن دا خل ہو ئے تو آپ ( کے سرمبارک ) پر سیا ہ رنگ کا عمامہ تھا ۔
وکیع نے ہمیں مساوروراق سے خبردی ، انھوں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے انھوں نے اپنے والد ( عمرہ بن حریث بن عمرو مخزومی رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا جبکہ آپ ( کے سر مبارک ) پر سیاہ عمامہ تھا ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور حسن حلوانی نے ہمیں حدیث بیان کی دونوں نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے مساور وراق سے حدیث بیان کی ۔ کہا : مجھے حدیث بیان کی ( جعفر بن عمرو نے ) اور حلوانی کی روایت میں ہے کہا : میں نے جعفر بن عمرو بن حریث سے سنا ۔ ۔ ۔ انھوں نے اپنے والد ( عمرہ بن حریث رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : جیسے میں ( اب بھی ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منبر پر دیکھ رہا ہوں ، آپ ( کے سر مبارک ) پر سیاہ عمامہ ہے آپ نے اس کے دونوں کناروں کو اپنے دونوں کندھوں کے درمیا ن لٹکا یا ہوا ہے ابو بکر ( بن ابی شیبہ ) نے " منبرپر " کے الفاظ نہیں کہے ۔
عبد العزیز یعنی محمد دراوردی کے بیٹے نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے حدیث بیان کی انھوں نے عباد بن تمیم سے انھوں نے اپنے چچا عبد اللہ بن زید عاصم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بلا شبہ ابرا ہیم ؑنے مکہ کو حرم قرار دیا اور اس کے رہنے والوں کے لیے دعا کی اور میں نے مدینہ کو حرم قرار دیا جیسے ابرا ہیم ؑ نے مکہ کو حرم قراردیا تھا اور میں نے اس کے صاع اور مد میں سے دگنی ( بر کت ) کی دعا کی جتنی ابرا ہیم ؑنے اہل مکہ کے لیے کی تھی ۔
عبدالعزیز یعنی ابن مختار سلیمان بن بلال اور وہیب ( بن خالد باہلی ) سب نے عمرو بن یحییٰ مازنی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی وہیب کی حدیث درااوردی کی حدیث کی طرح ہے : " اس سے دگنی ( بر کت ) کی جتنی بر کت کی برا ہیمؑ نے دعا کی تھی " جبکہ سلیمان بن بلال اور عبد العزیز بن مختار دونوں کی روایت میں ہے " جتنی ( برکت کی ) ابرا ہیمؑ نے دعا کی تھی ۔
عبد اللہ بن عمرو بن عثمان نے رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بلا شبہ حضرت ابرا ہیم ؑ نے مکہ کو حرم ٹھہرا یا اور میں اس ( شہر ) کی دونوں سیاہ پتھر زمینوں کے درمیان میں واقع حصے کو حرم قرار دیتا ہوں ۔ ۔ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ تھا ۔ ۔ ۔
نافع بن جبیر سے روایت ہے کہ مروان بن حکم نے لوگون کو خطا ب کیا ، اس نے مکہ کے باشبدوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا اور مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہ کیاتو رافع بن خدیج رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بلند آواز سے اس کو مخا طب کیا اور کہا : کیا ہوا ہے ؟ میں سن رہا ہوں کہ تم نے مکہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ کیا لیکن مدینہ اس کے باشندوں اور اس کی حرمت کا تذکرہ نہیں کیا ، حالانکہرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے دونوں سیاہ پتھروں والی زمینوں کے درمیان میں واقع علا قے کو حرم قرار دیا ہے اور ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ) وہ فر ما ن خولانی چمڑے میں ہمارے پاس محفوظ ہے ۔ اگر تم چاہو تو اسے میں تمھیں پڑھا دوں ۔ اس پر مروان خاموش ہوا پھر کہنے لگا : اس کا کچھ حصہ میں نے بھی سنا ہے
حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " بلا شبہ ابرا ہیم ؑ نے مکہ کو حرم قرار دیا اور میں مدینہ کو جو ان دو سیاہ پتھر یلی زمینوں کے درمیان ہے حرم قرار دیتا ہوں ، نہ اس کے کا نٹے دار درخت کا ٹے جا ئیں اور نہ اس کے شکار کے جا نوروں کا شکار کیا جا ئے ۔
عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عثمان بن حکیم نے حدیث بیان کی ( کہا ) ۔ مجھ سے عامر بن سعد نے اپنے والد ( سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میں مدینہ کی دو سیاہ پتھریلی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرا م ٹھہرا تا ہوں کہ اس کے کا نٹے دار درخت کاٹے جا ئیں یا اس میں شکار کو مارا جا ئے ۔ اور آپ نے فر ما یا : " اگر یہ لو گ جا ن لیں تو مدینہ ان کے لیے سب سے بہتر جگہ ہے ۔ کو ئی بھی آدمی اس سے بے رغبتی کرتے ہو ئے اسے چھوڑ کر نہیں جا تا مگر اس کے بدلے میں اللہ تعا لیٰ ایسا شخص اس میں لے آتا ہے جو اس ( جا نے والے ) سے بہتر ہو تا ہے اور کو ئی شخص اس کی تنگدستی اور مشقت پر ثابت قدم نہیں رہتا مگر میں قیامت کے دن اس کے لیے سفارشی یاگواہ ہوں گا ۔
مروان بن معاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں عثمان بن حکیم انصاری نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عامر بن سعد بن ابی وقاص نے اپنے والد سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا ۔ ۔ ۔ پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث میں ان الفاظ کا اضافہ کیا : " اور کو ئی شخص نہیں جو اہل مدینہ کے ساتھ برا ئیکا ارادہ کرے گا مگر اللہ تعا لیٰ اسے آگ میں سیسے کے پگھلنے یاپانی میں نمک کے پگھلنے کی طرح پگھلا دے گا ۔
اسماعیل بن محمد نے عا مر بن سعد سے روایت کی کہ حضرت سعد ( بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ( مدینہ کے قریب ) عقیق میں اپنے محل کی طرف روانہ ہو ئے انھوں نے ایک غلام کو دیکھا وہ درخت کا ٹ رہا تھا یا اس کے پتے چھاڑ رہا تھا انھوں نے اس سے ( اس لباس اور سازو سامان ) سلب کر لیا ۔ جب حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( مدینہ ) لو ٹے تو غلام کے مالک ان کے پاس حا ضر ہو ئے اور ان سے گفتگو کی کہ انھوں نے جو ان کے غلام کو ۔ ۔ ۔ یا انھیں ۔ ۔ ۔ واپس کردیں ۔ انھوں نے کہا : اللہ کی پناہ کہ میں کو ئی ایسی چیز واپس کروں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بطور غنیمت دی ہے اور انھوں نے وہ ( سامان ) انھیں واپس کرنے سے انکا ر کر دیا ۔
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں ھدیث بیان کی ، ( کہا ) مجھے مطلب بن عبد اللہ بن خطا ب کے مولیٰ عمرو بن ابی عمرو نے خبر دی کہ انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : " میرے لیے اپنے ( انصار کے ) لڑکوں میں سے ایک لڑکا ڈھونڈو جو میری خدمت کیا کرے ۔ ابو طلحہ مجھے سواری پر پیچھے بٹھا ئے ہو ئے لے کر نکلے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاں بھی قیام فر ماتے ، میں آپ کی خدمت کرتا ۔ اور ( اس ) حدیث میں کہا : پھر آپ ( لو ٹکر ) آئے حتی کہ جب کو ہ اُحد آپ کے سامنے نما یاں ہوا تو آپ نے فرمایا : " یہ پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں " پھر جب بلندی سے مدینہ پر نگا ہ ڈا لی تو فرمایا : " اے اللہ !میں اس دونوں پہاڑوں کے درمیان کے علاقے کو حرم قرار دیتا ہوں جس طرح ابرا ہیم ؑ نے مکہ کو حرا م قرار دیا تھا ۔ اے اللہ !ان ( اہل مدینہ ) کے لیے ان کے مداور صاع میں برکت عطا فر ما ۔
یعقوب بن عبد الرحمٰن القاری نے ہمیں عمرو بن ابی عمرو سے حدیث بیان کی انھوں نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ ۔ ۔ مگر انھوں نے کہا : " میں اس کی دونوں کالے سنگریزوں والی زمینوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیتا ہوں ۔
عاصم نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا تھا؟ انھوں نے کہا : ہاں ، فلاں مقام فلاں مقام تک ( کا علاقہ ) جس نے اس میں کو ئی بدعت نکا لی ، پھر انھوں نے مجھ سے کہا : یہ سخت وعید ہے : " جس نے اس میں بدعت کا ارتکاب کیا اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور تمام انسانوں کی لعنت ہو گی ، قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس کی طرف سے نہ کو ئی عذر وحیلہ قبو ل فر مائے گا نہ کو ئی بدلہ ۔ کہا : ابن انس نے کہا : یا ( جس نے ) کسی بدعت کا ارتکاب کرنے والے کو پناہ دی ۔
ہمیں عاصم احول نے خبر دی کہا ، میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کو حرم قرار دیا ہے؟ انھوں نے کہا : ہاں ، یہ حرم ہے اس کی گھاس نہ کا ٹی جا ئے جس نے ایسا کیا اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی ، اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی ۔
اسحاق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " اےاللہ !ان ( اہل مدینہ ) کے لیے ان کے ناپنے کے پیمانے میں بر کت عطا فر ما ، ان کے صاع میں بر کت عطا فر ما ۔ اور ان کے مد میں بر کت فر ما ۔
زہری نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : اے اللہ !مدینہ میں اس سے دگنی برکت رکھ جتنی مکہ میں ہے ۔
ہمیں ابو بکر بن ابی شیبہ زہیر بن حرب اور ابو کریب سب نے ابو معاویہ سے حدیث بیان کی ( کہا ) ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خطبہ دیا اور کہا : جس نے یہ گمان کیا کہ ہمارے پاس کتاب اللہ اور اس صحیفہ ۔ ۔ ۔ ( راوی نے ) کہا : اور وہ صحیفہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا ۔ ۔ ۔ کے علاوہ کچھ ہے جسے ہم پڑھتے ہیں تو اس نے جھوٹ بولا اس میں ( دیت کے ) کچھ احکام ہیں ۔ اور اس میں یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" عیر سے ثور تک کے درمیان ( سارا ) مدینہ حرم ہے : جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا بدعت کے کسی مرتکب کو پناہ دی تو اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی ۔ قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس سے کو ئی عذر قبول کرے گا نہ کو ئی بدلہ اور سب مسلمانوں کی ذمہ داری ( امان ) ایک ( جیسی ) ہے ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کرسکتا ہے ( امان دے سکتا ہے ) جس شخص نے اپنے والد کے سواکسی اور کا ( بیٹا ) ہو نے کا دعویٰ کیا یا جس ( غلام ) نے اپنے موالی ( آزاد کرنے والوں ) کے سوا کسی اور کی طرف نسبت اختیار کی اس پر اللہ کی ، فرشتوں کی ا اور سب لوگوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اللہ تعا لیٰ اس سے کو ئی عذر قبول فرمائے گا نہ بدلہ ابو بکر اور زہیر کی حدیث آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان "" ان کا ادنیٰ شخص بھی ایسا کر سکتا ہے "" پر ختم ہو گئی اور ان دونوں نے وہ حصہ ذکر نہیں کیا جو اس کے بعد ہے اور نہ ان کی حدیث میں یہ الفاظ ہیں : "" وہ ان کی تلوار کے تھیلے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا ۔
علی بن مسہر اور وکیع دونوں نے اعمش سے سی سند کے ساتھ اسی طرح حدیث بیان کی جس طرح آخر تک ابو معاویہ سے ابو کریب کی روایت کردہ حدیث ہے اور ( اسمیں ) یہ اجافہ کیا : " لہٰذا جس نے کسی مسلمان کی امان تو ڑی اس پر اللہ تعا لیٰ کی ( تمام ) فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے قیامت کے دن اس سے کو ئی عذرقبول کیا جا جا ئے گا نہ بدلہ ۔ ان دونوں کی حدیث میں یہ الفا ظ نہیں ہیں " جس نے اپنے والد کے سوا کسی اور کی نسبت اختیار کی " اور نہ وکیع کی روایت میں قیامت کے دن کا تذکرہ ہے ۔
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ابن مسہر اور وکیع کی حدیث کی طرح بیان کی مگر اس میں " جس نے اپنے موالی ( آزاد کرنے والوں ) کے علاوہ کسی کی طرف نسبت اختیار کی " اور اس پر لعنت کا ذکر نہیں ہے ۔
زائد ہ نے سلیمان سے انھوں نے ابو صالح سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " مدینہ حرم ہے جس نے اس میں کسی بدعت کا ارتکاب کیا یا کسی بدعت کے مرتکب کو پنا ہ دی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اس سے کو ئی عذر قبول کیا جا ئے گا نہ کو ئی بدلہ ۔
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، اور انھوں نے " قیامت کے دن " کے الفاظ نہیں کہے اور یہ اضافہ کیا : " اور تمام مسلمانوں کا ذمہ ایک ( جیسا ) ہے ان کا ادنیٰآدمی بھی پناہ کی پیش کش کر سکتا ہے جس نے کسی مسلمان کی امان توڑی اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب انسانوں کی لعنت ہے ۔ قیامت کے دن اس سے کو ئی بدلہ قبول کیا جا ئے گا نہ کو ئی عذر ۔
ہمیں یحییٰ بن یحییٰ نے حدیث سنا ئی کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ ابن شہاب سے روایت ہے ۔ انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ کہا کرتے تھے : اگر میں مدینہ میں ہرنیاں چرتی ہو ئی دیکھوں ، تو میں انھیں ہراساں نہیں کروگا ( کیونکہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کے دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان کا علاقہ حرم ہے ۔
معمر نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے دو سیاہ پتھروں والے میدانوں کے درمیانی حصے کو حرم قرار دیا ہے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اگر میں ان دو سیاہ پتھریلے میدانوں کے درمیان ہرنیوں کو پاؤں تو میں انھیں ہراساں نہیں کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے اردگرد بارہ میل کا علاقہ محفوظ چراگاہ قراردیا ہے ۔
امام مالک بن انس کے سامنے جن احادیث کی قراءت کی گئی ان میں سے سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی انھوں نے کہا : لوگ جب ( کسی موسم کا ) پہلا پھل دیکھتے تو اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اسے پکڑ تے تو فرماتے اے اللہ !ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما ۔ ہمارے لیے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ہمارے لیے ہمارے صاع میں بر کت عطا فر ما اور ہمارے مد میں بر کت عطا فر ما ۔ اےاللہ !بلا شبہ ابرا ہیم ؑتیرے بندے تیرے خلیل اور تیرے نبی تھے میں تیرا بندہ اور نبی ہوں انھوں نے تجھ سے مکہ کے لیے دعا کی ، میں تجھ سے مدینہ کے لیے اتنی ( برکت ) کی دعا کرتا ہوں جو انھوں نے مکہ کے لیے کی اور اس کے ساتھ اتنی ہی مزید برکت کی بھی ۔ ( با ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر آپ اپنے بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو بلا تے اور وہ پھل اسے دے دیتے ۔
عبد العزیز بن محمد مدنی نے ہمیں سہیل بن ابی صالح سے خبر دی انھوں نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جب ( کسی موسم کا ) پہلا پھل پیش کیا جا تا تو آپ فر ما تے : " اے اللہ !ہمارے لیے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں ہمارے پھلوں میں ہمارے مد میں اور ہمارے صاع میں برکت پر بر کت فر ما " پھر آپ وہ پھل اپنے پاس موجود بچوں میں سب سے چھوٹے بچے کو دے دیتے ۔
حماد بن اسماعیل بن علیہ نے ہمیں ہمیں حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں میرے والد نے وہیب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے یحییٰ بن ابی اسحاق سے روایت کی کہ انھوں نےمہری کےمولیٰ ابو سعید سے حدیث بیان کی کہ انھیں مدینہ میں بدحالی اورسختی نےآلیا ، وہ ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا : میں کثیر العیال ہوں اورہمیں تنگدستی نے آلیا ہے ، میرا ارادہ ہے کہ میں ا پنے افراد خانہ کو کسی سر سبز وشاداب علاقے کی طرف منتقل کردوں ۔ تو ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : ایسا مت کرنا ، مدینہ میں ہی ٹھہرے رہو ، کیونکہ ہم اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر پر ) نکلے ۔ میرا خیال ہے انھوں نےکہا ۔ حتیٰ کہ ہم عسفان پہنچے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں چند راتیں قیام فرمایا ، تو لوگوں نے کہا : ہم یہاں کسی خاص مقصد کے تحت نہیں ٹھہر ے ہوئے ، اور ہمارے افراد خانہ پیچھے ( اکیلے ) ہیں ہم انھیں محفوظ نہیں سمجھتے ، ان کی یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ کیا بات ہے جو تمھاری طرف سے مجھے پہنچی ہے؟ " ۔ میں نہیں جانتا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکس طرح فرمایا ۔ " اس ذات کی قسم جس کی میں قسم کھاتا ہوں ۔ " یا ( فرمایا ) " اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!میں نےارادہ کیایا ( فرمایا ) اگرتم چاہو ۔ میں نہیں جانتا کہ آپ نے ان دونوں میں سے کون سا جملہ ارشاد فرمایا : میں اپنی اونٹنی پر پالان رکھنے کا حکم د وں ، پھر اس کی ایک گرہ بھی نہ کھولوں یہاں تک کہ مدینہ پہنچ جاؤں ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اے اللہ!بلاشبہ ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کی حرمت کا اعلان کیا ، اور اسے حرم بنایا ، اور میں نے مدینہ کو اس کے دونوں پہاڑوں کے درمیان کو حرمت والا قرار دیا کہ اس میں خون نہ بہایا جائے ، اس میں لڑائی کے لئے اسلحہ نہ اٹھایا جائے اور اس میں چارے کے سوا ( کسی اورغرض سے ) اس کے درختوں کے پتے نہ جھاڑے جائیں ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے صاع میں برکت عطا فرما ، اے اللہ!ہمارے لیے ہمارے مد میں برکت عطا فرما ، اے اللہ !ہمارے لئے ہمارے شہر ( مدینہ ) میں برکت عطا فرما ۔ اور اس برکت کے ساتھ دو برکتیں ( مزید عطا ) کردے ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!مدینہ کی کوئی گھاٹی اور درہ نہیں مگر اس پر دوفرشتے ہیں جو اس کی حفاظت کریں گے یہاں تکہ کہ تم اس میں واپس آجاؤ ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا " کوچ کرو ۔ " تو ہم نے کوچ کیا اور مدینہ آگئے ۔ اس ذات کی قسم جس کی ہم قسم کھاتے ہیں! یا جس کی قسم کھائی جاتی ہے ۔ یہ شک حماد کی طرف سےہے ۔ مدینہ میں داخل ہوکر ہم نے اپنی سواریوں کے پالان بھی نہیں اتارے تھے کہ بنو عبداللہ بن غطفان نے ہم پر حملہ کردیا اور اس سے پہلے کوئی چیز انھیں مشتعل نہیں کررہی تھی ۔
علی بن مبارک سے روایت ہے ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں مہری کے مولیٰ ابوسعید نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! نے فرمایا : " اللہ ہمارے مد اور صاع میں برکت عطا فرما اورایک برکت کے ساتھ دو برکتیں ( مزید ) عطافرما ۔
شیبان اورحرب ، یعنی ابن شداد دونوں نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سندکے ساتھ ، اسی کے مانند حدیث بیان کی ،
سعید بن ابوسعید نے مہری کے آزاد کردہ غلام ، ابو سعید سے روایت کی وہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس حرہ کی راتوں میں آئے ( یعنی جن دنوں مدینہ طیبہ میں ایک فتنہ مشہور ہوا تھا اور ظالموں نے مدینہ کو لوٹا تھا ) اور ان سے مشورہ کیا کہ مدینہ سے کہیں اور چلے جائیں اور ان سے وہاں کی گرانی نرخ ( مہنگائی ) اور کثرت عیال کی شکایت کی اور خبر دی کہ مجھے مدینہ کی محنت اور بھوک پر صبر نہیں آ سکتا تو سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تیری خرابی ہو میں تجھے اس کا مشورہ نہیں دوں گا ( کیونکہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ فرماتے تھے کہ کوئی شخص یہاں کی تکلیفوں پر صبر نہیں کرتا اور پھر مر جاتا ہے ، مگر یہ کہ میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا گواہ ہوں گا اگر وہ مسلمان ہو ۔
سعید بن عبدالرحمان بن ابی سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان نے انھیں اپنےوالد ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " میں مدینہ کی دوسیاہ پتھروں والی زمین کے درمیانی حصے کوحرم قرار دیتا ہوں ، جیسے ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کوحرم قرار دیا تھا ۔ " کہا : پھر ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہم میں سے کسی کو پکڑ لیتے ، اور ابو بکر نے کہا : ہم میں سے کسی کو دیکھتے کہ اس کے ہاتھ میں پرندہ ہے ۔ تو اسے اس کے ہاتھ سے چھڑاتے ، پھر اسے آزاد کردیتے ۔
سہل بن حنیف رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے مدینہ کی طرف اشارہ کیا اورفرمایا : " بلاشبہ یہ حرم ہے ، امن والاہے ۔
عبدہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والدسے اورانھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ جب ہم مدینہ میں ( ہجرت کر کے ) آئے تو وہاں وبائی بخار پھیلا ہوا تھا ۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا بلال رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کی بیماری دیکھی تو دعا کی کہ اے اللہ! ہمارے مدینہ کو ہمارے لئے دوست کر دے جیسے تو نے مکہ کو دوست کیا تھا یا اس سے بھی زیادہ اور اس کو صحت کی جگہ بنا دے اور ہمیں اس کے ”صاع“ اور ”مد“ میں برکت دے اور اس کے بخار کو جحفہ کی طرف پھیر دے ۔
ابو اسامہ اور ابن نمیر دونوں نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کےساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
نافع نے ہمیں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے : " جس نے اس ( مدینہ ) کی تنگ دستی پر صبر کیا ، میں قیامت کے دن اس کے لئے سفارشی ہوں گایا گواہ ۔
امام مالک نے قطن بن وہب بن عویمر بن اجدع سےروایت کی ، انھوں نے حضرت زبیر کے آزاد کردہ غلام یحس سے روایت کی ، انھوں نے انھیں ( قطن کو ) خبردی کہ وہ فتنہ ( واقعہ حرہ ) کے دوران میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، ان کے پاس ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی سلام کرنے پر حاضر ہوئی اور عرض کی : ابو عبدالرحمان ! ہمارےلیے گزرا اوقات مشکل ہوگئی ہے لہذا میں مدینہ سے نقل مکانی کرنا چاہتی ہوں ۔ اس پر حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس سے کہا : ( یہیں مدینہ میں ) بیٹھی رہو ، نادان عورت! بلاشبہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا : " کوئی بھی اس تنگدستی اور سختی پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کےدن میں اس کے لئے گواہ ہوں گا یاسفارشی ۔
ضحاک نے ہمیں قطن خزاعی سے خبر دی ، انھوں نے مصعب کے مولیٰ یحس سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " جس نے اس ( شہر ) کی تنگدستی اورسختی پر صبر کیا ، میں قیامت کے دن اس کا گواہ ہوں گایا سفارشی ۔ " ان کی مراد مدینہ سے تھی ۔
علاء بن عبدالرحمان ( بن یعقوب ) نے اپنے والدسے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : " میری امت میں سے کوئی شخص مدینہ کی تنگدستی اور مشقت پر صبر نہیں کرتا مگر قیامت کےدن ، میں اس کا سفارشی یاگواہ ہوں گا ۔
ابو عبداللہ قر اظ کہتے ہیں : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
صالح بن ابو صالح نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی بھی مدینہ کی مشقتوں پرصبر نہیں ۔ کرتا " ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
نعیم بن عبداللہ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مدینہ میں داخل ہونے کے راستوں پر فرشتے مقرر ہیں ، اس میں طاعون اور دجال داخل نہیں ہوسکے گا ۔
اسماعیل بن جعفر سے روایت ہے ۔ ( کہا : ) علاء نے ا پنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مشرق کی جانب سے مسیح دجال آئےگا ، اس کا ارادہ مدینہ ( میں داخلے کا ) ہوگا یہاں تک کہ وہ احد پہاڑ کے پیچھے اترے گا ، پھر فرشتے اس کا رخ شام کی طرف پھیر دیں گے اور وہیں وہ ہلاک ہوجائے گا ۔
۔ ہمیں عبدالعزیز یعنی دراوردی نے حدیث بیان کی ، انھوں نےعلاء سے انھوں نے ا پنے والد سے اور انھوں نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک وقت لوگوں پر ایسا آئے گا کہ آدمی اپنے بھتیجے اور اپنے قرابت والے کو پکارے گا کہ خوشحالی کے ملک میں خوشحالی کے ملک میں چلو ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا کاش کہ وہ جانتے ہوتے ۔ اور قسم ہے اس پروردگار کی کہ میری جان اس کے ہاتھ میں ہے کہ کوئی شخص مدینہ سے بیزار ہو کر نہیں نکلتا مگر اللہ تعالیٰ اس سے بہتر دوسرا شخص مدینہ میں بھیج دیتا ہے ۔ آگاہ رہو کہ مدینہ لوہار کی بھٹی کی مانند ہے کہ وہ میل کو نکال دیتا ہے اور قیامت قائم نہ ہو گی جب تک کہ مدینہ اپنے شریر لوگوں کو نکال نہ دے گا جیسے کہ بھٹی لوہے کی میل کو نکال دیتی ہے ۔
امام مالک بن انس نے یحییٰ بن سعید سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، میں نے ابو حباب سعید بن یسار سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے ایک بستی ( کی طرف ہجرت کرنے جانے ) کا حکم دیا گیا جو تمام بستیوں کو کھا جائے گی ( سب پر غالب آجائےگی ) لوگ اسے یثرب کہتے ہیں ، وہ مدینہ ہے ، وہ ( شریر ) لوگوں کو نکال دے گی جیسے بھٹی لوہےکے میل کو باہر نکال دیتی ہے ۔
سفیان اورعبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور دونوں نے کہا : " جیسے بھٹی میل کو نکال دیتی ہے " ان دونوں نے لوہے کا ذکر نہیں کیا ۔
حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک بدو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی ۔ اس کے بعد اس بدو کے مدینے میں بخار نے آلیا ، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، اور کہنے لگا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم !مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرمادیا ۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہنے لگا ۔ مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ انکار کردیا ، پھر وہ ( تیسری بار ) آیا ، اور کہا : اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے میری بیعت واپس کردیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) انکار فرمایا ۔ اس کے بعد اعرابی نکل گیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مدینہ بھٹی کی طرح ہے ، وہ اپنے میل ( برے لوگوں ) کو باہر نکال دیتاہے اور یہاں کا پاکیزہ ( خالص ایمان والا ) نکھر جاتا ہے ۔
حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلا شبہ یہ طیبہ ( پاک ) ہے ، ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی ۔ یہ میل کچیل کو اس طرح دور کردیتا ہے جیسےآگ چاندی کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے ۔
حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا ، " بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے مدینہ کا نام " طابہ " رکھا ہے ۔
عبداللہ بن عبدالرحمان بن یحس نےمجھے ابو عبداللہ قراظ سے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں گواہ دیتا ہوں کہ انھوں نےکہا : کہ ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو اس شہر ( یعنی مدینہ ) والوں کی برائی کا ارادہ کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کو ایسا گھلا دیتا ہے جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے ۔
محمد بن حاتم اور ابراہیم بن دینار نے مجھے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا ، ہم سے حجاج نے حدیث بیا ن کی ، نیز محمد بن رافع نے مجھے حدیث بیا ن کی ، ( کہا : ) ہمیں عبدالرزاق نے حدیث سنائی ، انھوں ( حجاج اورعبدالرزاق ) نے ابن جریج سے روایت کی ، انھوں نے کہا : مجھے عمرو بن یحییٰ بن عمارہ نے خبر دی کہ انھوں نے ( ابو عبداللہ ) قراظ سے سنا اور وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں ( شاگردوں ) میں سے تھے ، وہ یقین سے کہتے تھے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد مدینہ سے تھی ۔ برائی کا ارادہ کیا ۔ اللہ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔ "" ابن حاتم نے ابن یحس کی حدیث میں سوء ( برائی ) کی جگہ شر ( نقصان ) کا لفظ بیان کیا ۔
ابو ہارون موسیٰ بن ابی عیسیٰ اورمحمد بن عمرو دونوں نے ابو عبداللہ قراظ سے سنا ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کرتے ہوئے سنا ۔
حاتم ، یعنی ابن اسماعیل نے ہمیں عمر بن نبیہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے دینار قراظ نے خبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اہل مدینہ کے ساتھ برائی کاارادہ کیا اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح نمک پانی میں پگھل جاتا ہے ۔
اسماعیل بن جعفر نے ہمیں عمر بن نبیہ کعبی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو عبداللہ قراظ سے روایت کی کہ انھوں نے سعد بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ( آگے ) اسی کے مانند ہے ، البتہ انھوں نے کہا : " بڑی مصیبت یا برائی ( میں مبتلا کرنے ) کا ارادہ کیا ۔
اسامہ بن زید نے ہمیں ابو عبداللہ قراظ سے حدیث بیان کی ، ( اسامہ نے ) کہا : میں نے ان سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ دونوں کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ ! اہل مدینہ کے لیے ان کے مد میں برکت عطا فرما ۔ " آگے ( اسی طرح ) حدیث بیان کی اور اس میں ہے : " جس نے اس کے باشندوں کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا ، اللہ تعالیٰ اسے اس طرح پگھلا دے گا جس طرح پانی میں نمک پگھل جاتا ہے ۔
وکیع نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شام فتح کرلیا جائے گا تو کچھ لوگ انتہائی تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لیے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ۔ پھر یمن فتح ہوگا تو کچھ لوگ تیز رفتاری سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے ، حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ، پھر عراق فتح ہوگا تو کچھ تیزی سے اونٹ ہانکتے ہوئے اپنے اہل وعیال سمیت مدینہ سے نکل جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہوگا اگر وہ جانتے ہوں ۔
ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ہشام بن عروہ نے اپنے والد سے خبر دی ، انھوں نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : سیدنا سفیان بن ابی زہیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ یمن فتح ہو گا تو کچھ لوگ مدینہ سے اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ نکلیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ہوتے ۔ پھر شام فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ ، اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی اور مدینہ ان کے لئے بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ۔ پھر عراق فتح ہو گا اور مدینہ کی ایک قوم اپنے گھر والوں اور خدام کے ساتھ اپنے اونٹوں کو ہانکتے ہوئے نکلے گی حالانکہ مدینہ ان کے حق میں بہتر ہو گا ، کاش وہ جانتے ۔
ابو صفوان اور ابن وہب نے یونس بن یزید سے ، انھوں نے ابن شہاب سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے بارے میں فرمایا : "" اس کے رہنے والے اس کے بہترین حالت میں ہونے کے باوجود ، اسے اس حالت میں چھوڑ دیں گے کہ وہ خوراک کے متلاشیوں کے قدموں کے نیچے روندا جارہا ہوگا ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد درندوں اور پرندوں سے تھی ۔ امام مسلمؒ نے کہا : یہ ابو صفوان ، عبداللہ بن عبدالملک ہے ، دس سال تک ابن جریج کا ( پروردہ ) یتیم ، جو ان کی گود میں تھا ۔
عقیل بن خالد نے مجھے ابن شہاب سے حدیث سنائی ، انھوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے خبر دی کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ لوگ مدینہ کو اس کے خیر ہونے کے باوجود چھوڑ دیں گے اور اس میں کوئی نہ رہے گا سوائے درندوں اور پرندوں کے ۔ پھر قبیلہ مزینہ سے دو چرواہے اپنی بکریوں کو پکارتے ہوئے مدینہ ( جانے ) کا ارادہ کرتے ہوئے نکلیں گے اور وہ مدینہ کو ویران پائیں گے یہاں تک کہ جب ثنیۃ الوداع تک پہنچیں گے تو اپنے منہ کے بل گر پڑیں گے ۔
عبد اللہ بن ابوبکر نے عباد بن تمیم سے انھوں نے عبد اللہ بن زید ( بن عاصم ) مازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " جو ( جگہ ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے ، وہ جنت کے باغوں میں ایک سے باغ ہے ۔
ابو بکر نے ے عباد تمیم سے انھوں نے عبد اللہ بن زید انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جو ( جگہ ) میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ہے ، وہ جنت کے باغوں میں سےایک باغ ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان ( کی جگہ ) جنت کے باغوں میں سےایک باغ ہے ۔ اور میرا منبر حوض پر ہے ۔ فائدہ : منبر کا اصل مقام حوض پر ہے اور قیامت کے دن اسی پر ہو گا ۔ یا اب بھی اسی کے اوپر ہی ہے لیکن فا صلے سمیت اس جہت کا ابھی ہمیں ادراک نہیں ہو سکتا ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : غزوہ تبوک کے موقع پر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔ ۔ ۔ اور ( آگے ) حدیث بیان کی اس میں ہے پھر ہم ( سفر سے واپس ) آئے حتیٰ کہ ہم وادی میں پہنچے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : " میں اپنی رفتا ر تیز کرنے والاہوں تم میں سے جو چا ہے وہ میرے ساتھ تیزی سے آجا ئے اور جو چا ہے وہ ٹھہر کر آجا ئے ۔ پھر ہم نکلے حتی کہ جب بلندی سے ہماری نگا ہ مدینہ پر پڑی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " یہ طابہ ( پاک کرنے والا شہر ) ہے اوریہ احد ہے اور یہ پہاڑ ( ایسا ) ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔
عبید اللہ بن معاذ نے ہم سے حدیث بیان کی ( کہا : ) میرے والد نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا : ) ہمیں قرہ بن خالد نے قتادہ سے حدیث بیان کی ( کہا : ) ہمیں انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بے شک احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں ۔
حرم بن عمارہ نے مجھے سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی کہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی طرف دیکھا اور فرمایا : " بے شک احد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں
سفیان بن عیینہ نے ہمیں زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، وہ اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا تے تھے آپ نے فر ما یا : " میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری مسجدوں میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے سوائے مسجد حرام کے ۔
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی انھوں نے سعید بن مسیب سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میریاس مسجد میں ایک نماز کسی بھی اور مسجد کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد حرا م ( کی نماز ) کے ۔
ابو سلمہ بن عبدالرحمٰن اور جہینہ والوں کے آزاد کردہ غلام ابو عبداللہ اغر سے روایت ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھیوں ( شاگردوں ) میں سے تھے ۔ ۔ ۔ ان دونوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجدمیں ایک نماز مسجد حرا م کوچھوڑ کر دوسری مساجد میں ایک ہزار نمازوں سے افضل ہے ۔ بلا شبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاءؑمیں سے آخری ہیں ، اور آپ کی مسجد ( بھی کسی نبی کی تعمیر کردہ ) آخری مسجد ہے ۔ ابو سلمہ اور ابو عبد اللہ نے کہا : ہمیں اس بارے میں شک نہ تھا کہ ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بیان کر رہے ہیں چنانچہ اسی بات نے ہمیں رو کے رکھا کہ ہم ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس حدیث کے بارے میں ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کا ) اثبات کرائیں حتی کہ جب ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فوت ہو گئے تو ہم نے آپس میں اس بات کا تذکرہ کیا اور ایک دوسرے کو ملا مت کی کہ ہم نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس بارے میں گفتگو کیوں نہیں کی ، تا کہ اگر انھوں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی تو اس کی نسبت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کردیتے ۔ ہم اسی کیفیت میں تھے کہ عبد اللہ بن ابراہیم بن قارظ ہمارے ساتھ مجلس میں آبیٹھے تو ہم نے اس حدیث کا اور جس بات کے بارے میں ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صراحت کرانے میں ہم نے کو تا ہی کی تھی کا تذکرہ کیا تو عبد اللہ بن ابرا ہیم بن قارظ نے ہمیں کہا : میں گو اہی دیتا ہوں کہ میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " بلا شبہ میں تمام انبیاءؑمیں سے آخری نبی ہوں ۔ اور میری مسجد آخری مسجد ہے ( جسے کسی نبی نے تعمیر کیا)
عبد الوہاب نے ہمیں حدیث بیان کی کہا ، میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہو ئے سنا کہ میں نے ابو صا لح سے پوچھا : کیا آپ نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھنے کی فضیلت بیان کرتے ہو ئے سنا ہے؟ انھوں نے کہا : نہیں البتہ مجھے عبد اللہ بن ابرا ہیم بن قارظ نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : میری اس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا ( دوسری ) مسجدوں کی ایک ہزار نمازوں سے بہتر ۔ ۔ ۔ یا فر ما یا : ایک ہزار نمازوں کی طرح ہے ۔ ۔ ۔ الایہ کہ وہ مسجد حرا م ہو
یحییٰ قطان نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ۔
یحییٰ قطان نے ہمیں عبید اللہ ( بن عمر ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " میریاس مسجد میں ایک نماز اس کے سوا ( دوسری مسجدوں میں ) ایک ہزار نمازیں ادا کرنے سے افضل ہے سوائےمسجد حرام کے ۔
ابو اسامہ عبد اللہ بن نمیر اور عبد الوہاب سب نے عبید اللہ سے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث بیان کی ۔
موسیٰ جہنی نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی کے مانند ہے ۔
ایوب نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
لیث نے نافع سے روایت کی ، انھوں نے ابرا ہیم بن عبد اللہ بن معبد ( بن عباس ) سے روایت کی ، ( کہا : ) حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : ایک عورت بیمار ہو گئ اس نے کہا : اگر اللہ نے مجھے شفا دی تو میں بیت المقدس میں جا کر ضرور نماز ادا کروں گی ۔ وہ صحت یا ب ہو گئی ، پھر سفر کے ارادے سے تیاری کی ( سفر سے پہلے ) وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں سلام کہنے کے لیے حا ضر ہوئی اور انھیں یہ سب بتا یا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اس سے کہا : بیٹھ جاؤ اور جو ( زادراہ ) تم نے تیار کیا ہے وہ کھا لو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں نماز پڑھ لو ۔ بلا شبہ !میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فر ما رہے تھے : اس ( مسجد ) میں ایک نماز پڑھنا اس کے سوا ( باقی ) تمام مساجد میں ایک ہزار نمازیں ادا کر نے سے افضل ہے سوائے مسجد کعبہ کے ۔
سفیان نے زہری سے انھوں نے سعید ( بن مسیب ) سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی وہ اس ( سلسلہ روایت ) کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچاتے تھے کہ ( عبادت کے لیے ) تین مسجدوں کے سوا رخت سفر نہ باندھا جائے : میری یہ مسجد ، مسجد حرا م اور مسجد اقصیٰ ۔
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، البتہ انھوں نے کہا : " ( عبادت کے لیے ) تین مسجدوں کی طرف رخت سفر باندھا جا سکتا ہے ۔
سلمان اغر نے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ بتا رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا صرف تین مسجدوں کی طرف ہی ( عبادت کے لیے ) سفر کیا جا سکتا ہے ۔ کعبہ کی مسجد میری مسجد اور ایلیاءکی مسجد ( مسجد اقصیٰ)
حمید خراط سے روایت ہے کہا : میں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے سنا انھوں نے کہا : عبد الرحمٰن بن ابی سعید خدری میرے ہاں سے گزرے تو میں نے ان سے کہا : آپ نے اپنے والد کو اس مسجد کے بارے میں جس کی بنیا د تقویٰ پر رکھی گئی ، کس طرح ذکر کرتے ہو ئے سنا؟ انھوں نے کہا : میرے والد نے کہا : می رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کی ایک اہلیہ محترمہ کے گھر میں حا ضر ہوا اور عرض کی : اے اللہ کے رسول !دونوں مسجدوں میں سے کو ن سی ( مسجد ) ہے جس کی بنیا د تقوی پر رکھی گئی ہے؟ کہا : آپ نے مٹھی بھر کنکریاںلیں اور انھیں زمین پر مارا پھر فرما یا : " وہ تمھا ری یہی مسجد ہے ۔ مدینہ کی مسجد کے بارے میں ( ابو سلمہ نے ) کہا : تو میں نے کہا : میں گو اہی دیتا ہوں کہ میں نے بھی تمھا رے والد سے سنا ، وہ اسی طرح بیان کر رہے تھے ۔
حمید ( طویل ) نے ابو سلمہ سے انھوں نے ابو سعید خدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی مانند روایت کی ۔ ۔ ۔ اور انھوں نے سند میں عبد الرحمٰن بن ابو سعید کا ذکر نہیں کیا ( برا ہ راست حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی)
ایوب نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور ( کبھی ) پیدل قباء کی زیارت فرماتے تھے ۔
ابو بکر ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا ) ہمیں عبد اللہ بن نمیر اور ابو اسامہ نے عبید اللہ سے حدیث سنا ئی ۔ اسی طرح محمد بن نمیر نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا : ) میرے والد نے ہمیں حدیث سنا ئی ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ نے نافع سے انھوں نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور ( پیدل دونوں طرح سے ) قباء تشریف لاتے اور وہاں دو رکعتیں ادا فر ما تے ۔ ابو بکر نے اپنی روایت میں کہا : ( یہ ابو اسامہ نے نہیں بلکہ ) ابن نمیرنے کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں دو رکعتیں نماز ادا کرتے ۔
ہمیں یحییٰ نےحدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے نافع نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قباء تشریف لا یا کرتے تھے ۔
خالد بن حارث نے ہمیں ابن عجلا ن سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یحییٰ قطان کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر اور پیدل قباء تشریف لا یا کرتے تھے ۔
ہمیں اسماعیل بن جعفر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عبد اللہ بن دینار نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا : رسول صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کراور پیدل قباء تشریف لا یا کرتے تھے ۔
مجھے زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی کہا : ہمیں سفیان بن عیینہ نے حدیث سنا ئی ۔ انھوں نے عبد اللہ بن دینارسے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر ہفتے کے روز قباء آتے تھے وہ کہا کرتے تھے : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا آپ ہر ہفتے کے روز یہاں تشریف لا تے تھے ۔
ابن ابی عمر نے سفیان سے باقی ماندہ اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر ہفتے کے روز قباء آتے آپ وہاں سوار ہو کر اور ( کبھی ) پیدل تشریف لا تے تھے ابن دینار نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( بھی ) ایسا ہی کرتے تھے ۔
سفیان ثوری نے ابن دینار سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، مگر ہر ہفتے کے روز کا ذکر نہیں کیا ۔