آل اسلام لائبریری

14 - کتاب الاعتکاف

1

موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ۔

2

یونس بن یزید نے مجھے خبر دی کہ نافع نے انھیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واسطے سے حدیث بیان کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے تھے ۔ نافع نے کہا : عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھے مسجد میں وہ جگہ بھی دیکھائی جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ا عتکاف کیا کرتے تھے ۔

3

عبدالرحمان بن قاسم نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، انھوں نے فرمایا : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ۔

4

ہشام بن عروہ نے اپنے والد ( عروہ ) سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے ۔

5

زہری نے عروہ کے واسطے سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کےآخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے ، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ( آخری عشرے میں ) اعتکاف کرتی رہیں ۔

6

ابو معاویہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے خبر دی ، انھوں نے عمرہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سےروایت کی ، انھوں نے کہا : ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ کرتے تو صبح کی نماز پڑھ کر اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جاتے ۔ اور ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( مسجد میں ) اپنا خیمہ لگانے کا حکم فرمایا ۔ وہ لگا دیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے عشرہ اخیر میں اعتکاف کا ارادہ کیا تھا تو ام المؤمنین زینب رضی اللہ عنہا نے اپنے لئے خیمہ لگانے کا کہا تو ان کے لئے بھی خیمہ لگا دیا گیا ۔ پھر دوسری امہات المؤمنین نے کہا تو ان کے خیمے بھی لگا دئیے گئے ۔ پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجر کی نماز پڑھ چکے تو سب خیموں کو دیکھا اور فرمایا کہ ان لوگوں نے کیا نیکی کا ارادہ کیا ہے؟ ( اس میں بوئے ریا پائی جاتی ہے ) چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خیمہ کھولنے کا حکم دیا تو اسے کھول دیا گیا اور آپ نے رمضان میں اعتکاف ترک کر دیا یہاں تک کہ پھر شوال کے پہلے عشرہ میں اعتکاف کیا ۔

7

سفیان بن عینیہ ، عمرو بن حارث ، سفیان ثوری ، اوزاعی ، اور محمد بن اسحاق سب نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے عمرہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابو معاویہ کی روایت کے ہم معنی روایت بیا ن کی ۔ ابن عینیہ نے عمرو بن حارث اورابن اسحاق کی روایت میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ، حضرت حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا ذکر ہے کہ انھوں نے اعتکاف کے لیے خیمے لگائے تھے ۔

8

مسروق نے حضرت عائشہ سے روایت کی کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر جاگتے اور گھر والوں کو بھی جگاتے ، ( عبادت میں ) نہایت کوشش کرتے اور کمر ، ہمت باندھ لیتے تھے ۔

9

حسن بن عبیداللہ سے روایت ہے ، کہا : میں نے ابراہیم نخعی سےسنا ، کہہ رہے تھے : میں نے اسود بن یزید سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( رمضان کے ) آخری دس دن ( عبادت ) میں اس قدر محنت کرتے ( اور عام دنوں میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بہت زیادہ محنت کرتے تھے ۔)

10

ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نےابراہیم سے ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ر وایت کی ، ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ذی الحجہ کے دس دنوں میں روزے سے نہیں دیکھا ۔

11

سفیان نے اعمش سے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ( ذوالحجہ کے ) دس دنوں میں روزے نہیں رکھے ۔