9 - کتاب صلاۃ الاستسقاء
امام مالکؒ نے عبداللہ بن ابی بکر سے روایت کی ، انھوں نے عباد بن تمیم سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت عبداللہ بن زید مازنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) باہر نکل کرعیدگاہ گئے ، بارش مانگی اور جب آپ قبلہ رخ ہوئے تواپنی چادر کو پلٹا ۔
سفیان بن عینیہ نے عبداللہ بن ابی بکر سے ، انھوں نے عباد بن تمیم سے اور انھوں نے اپنے چچا ( عبداللہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( مدینہ سے ) نکل کر عیدگاہ تشریف لے گئے اور بارش کی دعاکی ، آپ نے قبلے کی طرف رخ کیا ، اپنی چادرپلٹی اوردو رکعت نماز پڑھی ۔
ابو بکربن محمد بن عمرو نے بتایا کہ ان کو عبادبن تمیم نے خبر دی ، ان کوحضرت عبداللہ بن زیدانصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعاکرنے کےلئے عید گاہ گئے اور جب آپ نے دعا کرنے کا ارادہ فرمایا تو قبلہ کی طرف رخ کرلیا اور اپنی چادر کو پلٹ دیا ۔
ابن شہاب نے کہا : مجھےعباد بن تمیم مازنی نے خبر دی ، انھوں نے اپنے چچاسے سنا اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے تھے وہ کہہ رہے تھے : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کی دعا مانگنےکے لئے نکلے ، اللہ سے دعاکرتے ہوئے اپنی پشت لوگوں کی طرف کی ، منہ قبلہ کی طرف کیا اوراپنی چادر پلٹی ، پھر دو رکعت نمازادا کی ۔
شعبہ نے ثابت سے اورانھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، آپ دعا کے لئے دونوں ہاتھ اٹھاتے حتیٰ کہ آپ کی بغلوں کی سفیدی نظر آتی تھی ۔
حمادبن سلمہ نے ثابت سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش مانگنے کے لیے دعا فرمائی تو اپنے ہاتھوں کی پشت کے ساتھ آسمان کی طرف اشارہ کیا ۔
ابن ابی عدی اور عبدالاعلیٰ نے سعید ( بن ابی عروبہ ) سے ، انھوں نے قتادہ سے اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم استسقاء کے سوا کسی اور دعا کے لئے اپنے ہاتھ ( اتنے زیادہ ) بلند نہیں کرتےتھے ۔ یہاں تک کہ اس سے آپ کی بغلوں کی سفیدی دیکھائی دینے لگتی ، البتہ عبدالاعلیٰ نے ( شک کے ساتھ ) کہا " يري بياض ابطه اوبياض ابطيه " ( آپ کی بغل کی سفیدی یا دونوں بغلوں کی سفیدی دیکھائی دینے لگتی ۔)
یحییٰ بن سعید نے ( سعید ) بن ابی عروبہ سے اور انھوں نے قتادہ سے روایت کی کہ ان کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
شریک بن ابی نمر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جمعے کے روز ایک آدمی اس دروازے سے مسجد میں داخل ہوا جو دارالقضاء کی طرف تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ، اس نے کھڑے کھڑے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کیا ، پھر کہا : اےاللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !مال مویشی ہلاک ہوگئے اور راستے منقطع ہوچکے ، اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہمیں بارش عطا کرے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھا دیئے ، پھر کہا : "" اے اللہ!ہمیں بارش عنایت فرما ، اے اللہ!ہمیں بارش عنایت فرما ، اے اللہ!ہمیں بارش سے نوازدے ۔ "" حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!ہم آسمان میں نہ کوئی گھٹا دیکھ رہے تھے اور نہ بادل کا کوئی ٹکڑا ۔ ہمارے اور سلع پہاڑ کے درمیان کوئی گھر تھا نہ محلہ ۔ پھر اس کے پیچھے سے ڈھال جیسی چھوٹی سی بدلی اٹھی ، جب وہ آسمان کے وسط میں پہنچی تو پھیل گئی ، پھر وہ برسی ، اللہ کی قسم!ہم نے ہفتہ بھر سورج نہ دیکھا ۔ پھر اگلے جمعے اسی دروازے سے ایک آدمی داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے خطبہ ارشاد فرمارہے تھے ، اس نے کھڑے کھڑے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف رخ کرکے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! ( بارش کی کثرت سے ) مال مویشی ہلاک ہوگئے اور راستے بند ہوگئے ، اس لئے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیں کہ وہ ہم سے بارش روک لے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ اٹھادیے ، پھر فرمایا : "" اے اللہ!ہمارے ارد گرد ( بارش برسا ) ہم پر نہیں ، اے اللہ!پہاڑیوں پر ، ٹیلوں پر ، وادیوں کے اندر ( ندیوں میں ) اور درخت اگنے کے مقامات پر ( برسا ۔ ) "" کہا : "" ( فوراً ) بادل چھٹ گئے اور ہم ( مسجد سے ) نکلے تو دھوپ میں چل رہے تھے ۔ شریک نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : کیا وہ پہلے آدمی تھا؟انھوں نے جواب دیا : میں نہیں جانتا ۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں لوگوں کوخشک سالی نے آلیا ۔ اسی اثنا میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن منبر پر لوگوں کے سامنے خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک ایک بدوی کھڑا ہوا اور کہا : اے اللہ کے رسول : مال مویشی ہلاک ہوگئے ، بال بچے بھوکے مرنے لگے ۔ ۔ ۔ ( آگے ) اسی ( سابقہ حدیث ) کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔ اور اس میں ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ا ے اللہ!ہمارے ارد گرد ( برسا ) ہمارے اوپر نہیں ۔ " کہا : اور آپ اپنے ہاتھ سے جس طرف بھی اشارہ کرتے تھے اسی طرف سے بادل چھٹ جاتے تھےحتیٰ کہ میں نے مدینہ منورہ کو ( زمین کے ) خالی ٹکڑے کے مانند دیکھا اور وادی قناۃ ایک ماہ تک بہتی رہی اور کسی طرف سے بھی کوئی شخص نہیں آیا مگر اس نے موسلادھار بارش کی خبر دی ۔
عبدالاعلیٰ بن حماد اور محمد بن ابی بکر مقدمی نے کہا : ہمیں معتمر نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : ہمیں عبیداللہ نے ثابت بنانی سے اور انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعے کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ لوگ آپ کے سامنے کھڑے ہوگئے ، ( بات شروع کرنے والے بدو کے ساتھ دوسرے بھی شامل ہوگئے ) وہ فریاد کرنے لگے اور کہنے لگے : اےاللہ کے نبی !بارش بندہوگئی ، درختوں ( کے پتے سوکھ کر ) سرخ ہوگئے اور مویشی ہلاک ہوگئے ۔ ۔ ۔ اور ( آگے مذکورہ بالا حدیث کے مانند ) حدیث بیان کی ۔ اس میں عبدالاعلیٰ کی روایت سے یہ ( الفاظ ) ہیں : مدینہ سے بادل چھٹ گئے اور اس کے ارد گرد بارش برسانے لگے جبکہ مدینہ میں ایک قطرہ بھی نہیں برس رہاتھا میں نے مدینہ کو دیکھا وہ ایک طرح کے تاج کے اندر ( بارش سے محفوظ ) تھا ۔
سلمان بن مغیرۃ نے ثابت اور انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے ہم معنی روایت کی اور یہ اضافہ کیا : اللہ تعالیٰ نے بادلوں کو جوڑ دیا اور ہم اسی ( حالت ) میں رہے حتیٰ کہ میں نے دیکھا ایک قوی اور مضبوط آدمی کو بھی اس کا دل ( بارش کی کثرت کی بناء پر ) اس فکر میں مبتلا کردیتاتھا کہ وہ ا پنے اہل وعیال کے پاس پہنچے ۔
حفص بن عبیداللہ بن انس بن مالک نے بیان کیاکہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : جمعے کے دن ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جبکہ آپ منبر پر تھے ۔ ۔ ۔ ( آگے مذکورہ بالاحدیث کے مانند ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں نے بادل کو دیکھاوہ اس طرح چھٹ رہا تھا جیسے وہ ایک بڑی چادر ہوجب اسے لپیٹا جارہا ہو ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ ہم پر بارش برسنے لگی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا ( سر اور کندھے کا کپڑا ) کھول دیا حتیٰ کہ بارش آپ پر آنے لگی ۔ ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !آپ نے ایسا کیوں کیا؟آپ نے فرمایا : " کیونکہ وہ نئی نئی ( سیدھی ) اپنے رب عزوجل کی طرف سے آرہی ہے ۔
جعفر بن محمد نے عطاء بن ابی ر باح سے روایت کی انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھیں کہ جب آندھی یا بادل کا دن ہوتا تو آپ کے چہرہ مبارک پر اس کا اثر پہچانا جاسکتا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( اضطراب کے عالم میں ) کبھی آگے جاتے اور کبھی پیچھے ہٹتے ، پھر جب بارش برسناشروع ہوجاتی تو آپ اس سے خوش ہوجاتے اور وہ ( پہلی کیفیت ) آ پ سے دور ہوجاتی ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں نے ( ایک بار ) آپ سے ( اس کا سبب ) پوچھا تو آپ نے فرمایا : " میں ڈر گیا کہ یہ عذاب نہ ہو جو میری امت پر مسلط کردیا گیا ہو " اور بارش کو دیکھ لیتے تو فرماتے " رحمت ہے ۔
ابن جریج عطاء بن ابی رباح سے حدیث بیان کرتے ہیں ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روای کی کہ انھوں نے کہا : جب تیز ہوا چلتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے : " اے اللہ!میں تجھ سے اس کی خیر اور بھلائی کا سوا ل کرتا ہوں ۔ اور جو اس میں ہے اس کی اور جو کچھ اس کے زریعے بھیجا گیا ہے اس کی خیر ( کا طلبگار ہوں ) اور اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اور جو اس میں بھیجا گیا ہے ا س کے شر سے تیری پناہ چاہتاہوں " ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : جب آسمان پر بادل گھر آتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا رنگ بدل جاتا اور آ پ ( اضطراب کے عالم میں ) کبھی باہر نکلتے اور کبھی اندر آتے ، کبھی آگے بڑھتے اور کبھی پیچھے ہٹتے ، اس کے بعد جب بارش برسنے لگتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ( یہ کیفیت ) دورہوجاتی ، مجھے اس کیفیت کا پتہ چل گیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : تومیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ!ہوسکتاہے ( یہ اسی طرح ہو ) جیسے قوم عاد نے ( بادلوں کو دیکھ کر ) کہا تھا : " جب انھوں نے اس ( عذاب ) کو بادل کی طرح اپنی بستیوں کی طرف آتے دیکھا تو انھوں نے کہا : یہ بادل ہے جو ہم پربرسے گا ۔
سلمان بن یسار نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی پوری طرح ایسا ایسےہنستا ہوانہیں دیکھاکہ میں آپ کے حلق مبارک کے اندر کا ابھرا ہواحصہ دیکھ لوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف مسکرایا کرتے تھے ، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بادل یا آندھی دیکھتے تو اس کا اثرآپ کے چہرہ انور پرعیاں ہوجاتا تو ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ جب بادل دیکھتے ہیں تو اس اُمید پر خوش ہوجاتے ہیں کہ اس میں بارش ہوگی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتی ہوں کہ جب آپ اس ( بادل ) دیکھتے ہیں تو میں آپ کے چہرے پر ناپسندیدگی محسوس کرتی ہوں؟حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عائشہ!مجھے اس بات سے کیا چیز امن دلا سکتی ہے کہ کہیں ان میں عذاب ( نہ ) ہو ، ایک قوم آندھی کے عذاب کا شکار ہوئی تھی اور ایک قوم نے عذاب کو ( دور ) سے دیکھا تو کہا : " یہ بادل ہے جو ہم پر بارش برسائے گا ۔
مجاہد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بادصبا ( مشرقی سمت سے چلنے والی ہوا ) سے میری مدد کی گئی ہے اور باددبور ( مغربی سمت سے چلنے والی ہوا ) سے قوم عاد کو ہلاک کیا گیا ۔
سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی مانند روایت کی ۔