آل اسلام لائبریری

46 - کتاب القدر

1

عبداللہ بن نمیر ہمدانی ، ابومعاویہ اور وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں اعمش نے زید بن وہب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ ( بن مسعود ) رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ سچ بتاتے ہیں اور انہیں ( وحی کے ذریعے سے ) سچ بتایا جاتا ہے نے فرمایا : " تم میں سے ہر ایک شخص کا مادہ تخلیق چالیس دن تک اس کی ماں کے پیٹ میں اکٹھا کیا جاتا ہے ، پھر وہ اتنی مدت ( چالیس دن ) کے لیے علقہ ( جونک کی طرح رحم کی دیوار کے ساتھ چپکا ہوا ) رہتا ہے ، پھر اتنی ہی مدت کے لیے مُضغہ کی شکل میں رہتا ہے ( جس میں ریڑھ کی ہڈی کے نشانات دانت سے چبائے جانے کے نشانات سے مشابہ ہوتے ہیں ۔ ) پھر اللہ تعالیٰ فرشتے کو بھیجتا ہے جو ( پانچویں مہینے نیوروسیل ، یعنی دماغ کی تخلیق ہو جانے کے بعد ) اس میں روح پھونکتا ہے ۔ اور اسے چار باتوں کا حکم دیا جاتا ہے کہ اس کا رزق ، اس کی عمر ، اس کا عمل اور یہ کہ وہ خوش نصیب ہو گا یا بدنصیب ، لکھ لیا جائے ۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں! تم میں سے کوئی ایک شخص اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، یہاں تک کہ جب اس کے اور جنت کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو ( اللہ کے علم کے مطابق ) لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے تو وہ اہل جہنم کا عمل کر لیتا ہے اور اس ( جہنم ) میں داخل ہو جاتا ہے ۔ اور تم میں سے ایک شخص اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے حتی کہ اس کے اور جہنم کے درمیان ایک بالشت کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو ( اللہ کے علم کے مطابق ) لکھا ہوا اس پر غالب آ جاتا ہے اور وہ اہل جنت کا عمل کر لیتا ہے اور اس ( جنت ) میں داخل ہو جاتا ہے ۔

2

عثمان بن ابی شیبہ اور اسحٰق بن ابراہیم نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے جریر بن عبدالحمید سے روایت کی ، نیز ہمیں اسحق بن ابراہیم نے عیسیٰ بن یونس سے خبر دی ۔ اور ابوسعید اشج نے مجھے بیان کیا ، کہا : ہمیں وکیع نے حدیث بیان کی کہ عبیداللہ بن معاذ نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ بن حجاج نے حدیث بیان کی ، ان سب ( جریر ، عیسیٰ ، وکیع اور شعبہ ) نے اعمش سے ، اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔ وکیع کی حدیث میں کہا : " تم میں سے ایک انسان کا مادہ تخلیق چالیس راتوں تک اپنی ماں کے پیٹ میں اکٹھا ( ہونے کے مرحلے میں ) ہوتا ہے ۔ " اور شعبہ سے معاذ کی حدیث میں " چالیس راتیں یا چالیس دن " اور جریر اور عیسیٰ کی حدیث میں " چالیس دن " ہے ۔

3

عمرو بن دینار نے ابوطفیل ( عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ) سے ، انہوں نے حذیفہ بن اسید رضی اللہ عنہ سے روایت کی جو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچائی ( مرفوع بیان کی ) ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب نطفہ ( چالیس چالیس دنوں کے دو مرحلوں کے بعد تیسرے مرحلے میں ) چالیس یا پینتالیس راتیں رحم میں ٹھہرا رہتا ہے تو ( اللہ کا مقرر کیا ہوا ) فرشتہ اس کے پاس جاتا ہے اور کہتا ہے : اے رب! یہ خوش نصیب ہو گا یا بدنصیب ہو گا؟ تو دونوں ( باتوں میں سے اللہ کو بتائے اس ) کو لکھ لیا جاتا ہے ، پھر کہتا ہے : اے رب! یہ مرد ہے یا عورت؟ پھر دونوں ( میں سے جو اللہ بتائے اس ) کو لکھ لیا جاتا ہے ، پھر اس کا عمل ، اس کے قدموں کے نشانات ، اس کی مدت عمر اور اس کا رزق لکھ لیا جاتا ہے ، پھر ( اندراج کے ) صحیفے لپیٹ دیے جاتے ہیں ، پھر ان میں کوئی چیز بڑھائی جاتی ہے ، نہ کم کی جاتی ہے ۔

4

عمرو بن حارث نے ابوزبیر علی سے روایت کی کہ حضرت عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : بدبخت وہ ہے جو اپنی ماں کے پیٹ میں ( تھا تو اللہ کے علم کے مطابق ) بدبخت تھا اور سعادت مند وہ ہے جو اپنے علاوہ دوسرے سے نصیحت حاصل کرے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص آئے جنہیں حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، انہوں ( عامر بن واثلہ رضی اللہ عنہ ) نے ان کو حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ میں یہ حدیث سنائی اور ( ان سے پوچھنے کے لیے ) کہا : وہ شخص کوئی عمل کیے بغیر بدبخت کیسے ہو جاتا ہے؟ تو اس ( عامر ) کو آدمی ( حذیفہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا : کیا آپ اس پر تعجب کرتے ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : " جب نطفے پر ( تیسرے مرحلے کی ) بیالیس راتیں گذر جاتی ہیں تو اللہ تعالیٰ اس کے پاس ایک فرشتہ بھیجتا ہے ، وہ اس کی صورت بناتا ہے ، اس کے کان ، آنکھیں ، کھال ، گوشت اور اس کی ہڈیاں بناتا ہے ، پھر کہتا ہے : اے میرے رب! یہ مرد ہو گا کہ عورت؟ پھر تمہارا رب جو چاہتا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : اے میرے رب! اس کی مدت حیات ( کتنی ہو گی؟ ) پھر تمہارا رب جو اس کی مچیت ہوتی ہے ، بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے ، پھر وہ ( فرشتہ ) کہتا ہے : اے میرے رب! اس کا رزق ( کتنا ہو گا؟ ) تو تمہارا رب جو چاہتا ہوتا ہے وہ فیصلہ بتاتا ہے اور فرشتہ لکھ لیتا ہے ، پھر فرشتہ اپنے ہاتھ میں صحیفہ لے کر نکل جاتا ہے ، چنانچہ وہ شخص کسی معاملے میں نہ اس سے بڑھتا ہے ، نہ کم ہوتا ہے ۔

5

ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے اور عمرو بن حارث کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔

6

یحییٰ بن ابوبکیر نے کہا : ہمیں ابوخیثمہ زہیر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے عبداللہ بن عطاء نے حدیث بیان کی ، انہیں عکرمہ بن خالد نے حدیث بیان کی ، انہیں ابوطفیل رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں ابو سریحہ حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا تو انہوں نے کہا : میں نے اپنے ان دونوں کانوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : " نطفہ ( اصل میں تین مرحلوں میں چالیس ) چالیس راتیں رحم مادر میں رہتا ہے ، پھر فرشتہ اس کی صورت بناتا ہے ۔ " زہیر نے کہا : میرا گمان ہے کہ انہوں نے کہا : ( فرشتہ ) اسے بتایا ہے : " تو وہ کہتا ہے : اے میرے رب! عورت ہو گی یا مرد ہو گا؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کے مذکر یا مؤنث ہونے کا فیصلہ بتا دیتا ہے ، وہ ( فرشتہ ) پھر کہتا ہے : اے میرے رب! مکمل ( پورے اعضاء والا ہے ) یا غیر مکمل؟ پھر اللہ تعالیٰ مکمل یا غیر مکمل ہونے کے بارے میں اپنا فیصلہ بتا دیتا ہے ، پھر وہ کہتا ہے : اے میرے پروردگار! اس کا رزق کتنا ہو گا؟ اس کی مدت حیات کتنی ہو گی؟ اس کا اخلاق کیسا ہو گا؟ پھر اللہ تعالیٰ اس کے بدبخت یا خوش بخت ہونے کے بارے میں بھی ( جو طے ہو چکا ) بتا دیتا ہے ۔

7

کلثوم نے ابوطفیل رضی اللہ عنہ سے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعا روایت کی : " تخلیق کے دوران میں رحم پر ایک فرشتہ مقرر ہوتا ہے ، جب اللہ تعالیٰ اپنے اذن سے کوئی چیز پیدا کرنا چاہتا ہے تو چالیس اور کچھ اوپر راتیں گزارنے کے بعد " پھر ان سب کی روایت کردہ حدیث کے مطابق بیان کیا ۔

8

عبیداللہ بن ابی بکر نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے یہ حدیث مرفوعا بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل رحم پر ایک فرشتہ مقرر کر دیتا ہے ، وہ کہتا ہے : اے میرے رب! ( اب ) یہ نطفہ ہے ، اے میرے رب! ( اب ) یہ عقلہ ہے ، اے میرے رب! ( اب یہ مضغہ ہے ، پھر جب اللہ تعالیٰ اس کی ( انسان کی صورت میں ) تخلیق کا فیصلہ کرتا ہے تو انہوں نے کہا : فرشتہ کہتا ہے : اے میرے رب! مرد ہو یا عورت؟ بدبخت ہو یا خوش نصیب؟ رزق کتنا ہو گا؟ مدت عمر کتنی ہو گی؟ وہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے اور اسی طرح ( سب کچھ ) لکھ لیا جاتا ہے ۔

9

جریر نے ہمیں منصور سے حدیث بیان کی ۔ انہون نے سعید بن عبیدہ سے ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم ایک جنازے کے ساتھ بقیع غرقد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور بیٹھ گئے ، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اردگرد بیٹھ گئے ۔ آپ نے اپنا سر مبارک جھکا لیا اور اپنی چھڑی سے زمین کریدنے لگے ( جس طرح کہ فکر مندی کے عالم میں ہوں ۔ ) پھر فرمایا : " تم میں سے کوئی ایک بھی نہیں ، کوئی سانس لینے والا جاندار شخص نہیں ، مگر اللہ تعالیٰ نے ( اپنے ازلی ابدی حتمی علم کے مطابق ) جنت یا جہنم میں اس کا ٹھکانا لکھ دیا ہے اور ( کوئی نہیں ) مگر ( یہ بھی ) لکھ دیا گیا ہے کہ وہ بدبخت ہے یا خوش بخت ۔ " کہا : تو کسی آدمی نے کہا : اللہ کے رسول! کیا ہم اپنے لکھے پر ہی نہ رہ جائیں اور عمل چھوڑ دیں؟ تو آپ نے فرمایا : " جو خوش بختوں میں سے ہو گا تو وہ خوش بختوں کے عمل کی طرف چل پڑے گا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : " عمل کرو ، ہر ایک کا راستہ آسان کر دیا گیا ہے ۔ جو خوش بخت ہیں ان کے لیے خوش بختوں کے اعمال کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے اور جو بدبخت ہیں ان کے لیے بدبختوں کے عملوں کا راستہ آسان کر دیا جاتا ہے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کیا : " پس وہ شخص جس نے ( اللہ کی راہ میں ) دیا اور تقویٰ اختیار کیا اور اچھی بات کی تصدیق کر دی تو ہم اسے آسانی کی زندگی ( تک پہنچنے ) کے لیے سہولت عطا کریں گے اور وہ جس نے بخل کیا اور بے پروائی اختیار کی اور اچھی بات کی تکذیب کی تو ہم اسے مشکل زندگی ( تک جانے ) کے لیے سہولت دیں گے ۔

10

ابوبکر بن ابی شیبہ اور ہناد بن سری نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں ابو احوص نے منصور سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی اور کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لکڑی پکڑی اور چھڑی نہیں کہا ۔ اور ابن ابی شیبہ نے ابو احوص سے بیان کردہ اپنی حدیث میں ( " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے " کی جگہ ) کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تلاوت کیا ۔

11

وکیع ، عبداللہ بن نمیر اور ابومعاویہ نے کہا : ہمیں اعمش نے سعد بن عبیدہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن سلمی سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیٹھے ہوئے تھے ، اور آپ کے ہاتھ میں ایک چھڑی تھی جس سے آپ زمین کرید رہے تھے ، پھر آپ نے اپنا سر اقدس اٹھا کر فرمایا : " تم میں سے کوئی ذی روح نہیں مگر جنت اور دوزخ میں اس کا مقام ( پہلے سے ) معلوم ہے ۔ " انہوں ( صحابہ ) نے عرض کی : اللہ کے رسول! پھر ہم کس لیے عمل کریں؟ ہم اسی ( لکھے ہوئے ) پر تکیہ نہ کریں؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ، تم عمل کرو ، ہر شخص کے لیے اسی کی سہولت میسر ہے جس ( کو خود اپنے عمل کے ذریعے حاصل کرنے ) کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے : " تو وہ شخص جس نے ( اللہ کی راہ میں ) دیا اور اچھی بات کی تصدیق کی " سے لے کر " تو ہم اسے مشکل زندگی ( تک جانے ) کے لیے سہولت دیں گے " تک پڑھا ۔

12

ہمیں شعبہ نے منصور اور اعمش سے حدیث بیان کی ، ان دونوں نے سعد بن عبیدہ سے سنا ، وہ ابوعبدالرحمٰن سلمی سے ، وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کر رہے تھے ۔

13

ابوخیثمہ زہیر ( بن حرب ) نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت سراقہ بن مالک بن جعشم رضی اللہ عنہ آئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! آپ ہمارے لیے دین کو اس طرح بیان کیجئے ، گویا ہم ابھی پیدا کیے گئے ہیں ، آج کا عمل ( جو ہم کر رہے ہیں ) کس نوع میں آتا ہے؟ کیا اس میں جسے ( لکھنے والی ) قلمیں ( لکھ کر ) خشک ہو چکیں اور جو پیمارنے مقرر کیے گئے ہیں ان کا سلسلہ جاری ہو چکا ہے ( ہم بس انہی کے مطابق عمل کیے جا رہے ہیں؟ ) یا اس میں جو ہم از سر نو کر رہے ہیں ( پہلے سے ان کے بارے میں کچھ طے نہیں؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، بلکہ جسے لکھنے والی قلمیں ( لکھ کر ) خشک ہو چکیں اور جن کے مقرر شدہ پیمانوں کے مطابق عمل شروع ہو چکا ۔ "" انہوں نے کہا : تو پھر عمل کس لیے ( کیا جائے؟ ) زہیر نے کہا : پھر اس کے بعد ابوزبیر نے کوئی بات کی جو میں نہیں سمجھ سکا ، تو میں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟ انہوں نے کہا : ( آپ نے فرمایا : ) "" تم عمل کرو ، ہر ایک کو سہولت میسر کی گئی ہے ۔

14

عمرو بن حارث نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی معنی میں روایت کی اور اس میں یہ الفاظ ہیں : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر عمل کرنے والا اپنے عمل کے لیے آسانی پاتا ہے ۔

15

حماد بن زید نے یزید ضبعی سے روایت کی ، کہا : ہمیں مطرف نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی : اللہ کے رسول! کیا یہ معلوم ہے کہ جہنم والوں سے ( الگ ) جنت والے کون ہیں؟ کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " کہا : عرض کی گئی : تو پھر عمل کرنے والے کس لیے عمل کریں؟ آپ نے فرمایا : " ہر ایک کو اسی ( منزل کی طرف جانے ) کی سہولت میسر کر دی جاتی ہے جس ( تک اپنے اعمال کے ذریعے پہنچنے ) کے لیے اسے پیدا کیا گیا تھا ۔

16

عبدالوارث ، ابن علیہ ، جعفر بن سلیمان اور شعبہ سب نے یزید رشک سے اسی سند کے ساتھ حماد کی حدیث کے ہم معنی روایت کی اور عبدالوارث کی حدیث میں ( عرض کی گئی کے بجائے ) اس طرح ہے : ( عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ) کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول

17

یحییٰ بن یعمر نے ابو اسود دیلی سے روایت کی ، کہا : حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا : تمہارا کیا خیال ہے کہ جو عمل لوگ آج کر رہے ہیں اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں ، کیا یہ ایسی چیز ہے جس کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اور پہلے ہی سے مقدر ہے جو ان میں جاری ہو چکا ہے یا وہ نئے سرے سے ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، جس طرح اسے ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس لائے ہیں اور ان پر حجت قائم ہوئی ہے؟ میں نے جواب دیا : بلکہ جس طرح ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا ہے اور اس کا سلسلہ ان میں جاری ہے ۔ ( دیلی نے ) کہا : تو ( عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو کیا یہ ظلم نہیں؟ ( دیلی نے ) کہا : تو اس بات پر میں سخت خوفزدہ اور پریشان ہو کیا اور میں نے کہا : ہر چیز اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے اور اس کی ملکیت ہے ۔ جو بھی وہ کرے اس سے پوچھا نہیں جا سکتا اور وہ ( اس کے مملوک بندے ) جو کریں ان سے پوچھا جا سکتا ہے ۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا : اللہ تم پر رحم کرے! میں نے جو تم سے پوچھا صرف اسی لیے پوچھا تھا تاکہ تمہاری عقل کا امتحان لوں ۔ مزینہ کے دو آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کس طرح دیکھتے ہیں ، لوگ جو عمل آج کر رہے اور اس میں مشقت اٹھا رہے ہیں کوئی ایسی چیز ہے جا کا ان کے بارے میں فیصلہ ہو چکا اور پہلے سے مقدر ہے جو ان میں جاری ہو چکی ہے یا وہ اب ان کے سامنے پیش کی جا رہی ہے ، جس طرح اسے ان کے رسول ان کے پاس لائے ہیں اور ان پر حجت تمام ہوئی ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ، بلکہ بلکہ ایسی چیز ہے جو ان کے بارے میں طے ہو گئی ہے اور ان میں جاری ہو چکی ، اور اس کی تصدیق اللہ عزوجل کی کتاب میں ہے : " اور نفس انسانی اور اس ذات کی قسم جس نے اس کو ٹھیک بنایا! پھر اس کو اس کی بدی بھی الہام کر دی اور نیکی بھی ۔

18

علاء کے والد ( عبدالرحمٰن ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ انسان ایک لمبی مدت تک اہل جنت کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس کے لیے اس کے عمل کا خاتمہ اہل جہنم کے سے عمل پر ہوتا ہے اور بلاشبہ ایک آدمی لمبا زمانہ اہل جہنم کے سے عمل کرتا رہتا ہے ، پھر اس کے لیے اس کے عمل کا خاتمہ اہل جنت کے سے عمل پر ہوتا ہے ۔

19

حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک شخص ، جس طرح وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے ، اہل جنت کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے ، لیکن ( آخر کار ) وہ اہل جہنم میں سے ہوتا ہے اور ایک آدمی ، جس طرح سے وہ لوگوں کو نظر آ رہا ہوتا ہے اہل جہنم کے سے عمل کر رہا ہوتا ہے لیکن ( انجام کار ) وہ اہل جنت میں سے ہوتا ہے ۔

20

محمد بن حاتم ، ابراہیم بن دینار ، ابن ابی عمر مکی اور احمد بن عبدہ ضبی نے ہمیں ابن عیینہ سے حدیث بیان کی ، الفاظ ابن حاتم اور ابن دینار کے ہیں ۔ ۔ ان دونوں نے کہا : ہمیں سفیان بن عمرو ( بن دینار ) سے حدیث بیان کی ، انہوں نے طاوس سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے ( ایک دوسرے کو ) اپنی اپنی دلیلیں دیں ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آدم! آپ ہمارے والد ہیں ، آپ نے ہمیں ناکام کر دیا اور ہمیں جنت سے باہر نکال لائے ۔ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم موسیٰ ہو ، تمہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی ہم کلامی کے لیے منتخب فرمایا اور اپنے ہاتھ سے تمہارے لیے ( اپنے احکام کو ) لکھا ، کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں مجھے پیدا کرنے سے بھی چالیس سال پہلے مقدر کر دیا تھا؟ "" نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو حضرت آدم علیہ السلام ( دلیل میں ) حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ، حضرت آدم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ۔ "" ابن ابی عمر اور ابن عبدہ کی حدیث میں ہے کہ ایک نے کہا : "" لکھا "" اور دوسرے نے کہا : "" تمہارے لیے اپنے ہاتھ سے تورات لکھی ۔

21

ابوزناد نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے ایک دوسرے کو دلائل دیے اور آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل دے ہرا دیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا : آپ وہی آدم ہیں جنہوں نے ( خود غلطی کر کے اپنی اولاد کے ) لوگوں کو غلطیاں کرنے کا راستہ دکھایا اور انہیں جنت سے نکلوا دیا؟ تو آدم علیہ السلام نے فرمایا : تمہی ہو جسے اللہ نے ہر چیز کا علم دیا اور جسے لوگوں میں سے اپنی رسالت کے لیے منتخب فرمایا؟ انہوں نے کہا : ہاں ، ( تو آدم علیہ السلام نے ) فرمایا : تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو جو مجھے پیدا کیے جانے سے بھی پہلے میرے مقدر کر دی گئی تھی؟

22

حارث بن ابی ذباب نے یزید بن ہرمز اور عبدالرحمٰن اعرج سے روایت کی ، ان دونوں نے کہا : ہم نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے اپنے رب کے سامنے ایک دوسرے کو دلیلیں دیں اور حضرت آدم علیہ السلام دلیل میں حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آ گئے ، حضرت موسیٰ نے کہا : آپ وہ آدم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا ، اور آپ میں اپنی روح کو پھونکا اور آپ کو فرشتوں سے سجدہ کرایا اور آپ کو اپنی جنت میں رکھا ، پھر آپ نے اپنی غلطی سے لوگوں کو جنت سے نکلوا کر زمین میں اتروا دیا؟ حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا : تم وہ موسیٰ ہو جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور اپنی ہم کلامی کے ذریعے سے فضیلت بخشی اور تمہیں ( تورات کی ) وہ تختیاں عطا کیں جن میں ہر چیز کی وضاحت ہے اور تمہیں سرگوشی کے لیے جانے والا بنا کر اپنا قرب عطا فرمایا ۔ ( تم یہ بتاؤ ) تمہارے علم کے مطابق اللہ نے میری پیدائش سے کتنی مدت پہلے تورات کو ( اس صورت میں ) لکھا ( جس طرح وہ تم پر نازل ہوئی؟ ) موسیٰ علیہ السلام نے کہا : چالیس سال سے ( قبل ۔ ) حضرت آدم علیہ السلام نے کہا : کیا تم نے اس میں یہ ( لکھا ہوا ) پایا : " آدم نے اپنے پروردگار ( کے حکم ) سے سرتابی کی اور راہ سے ہٹ گیا " ؟ ( حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ) کہا : ہاں ، تو انہوں نے کہا : کیا تم مجھے اس بات پر ملامت کر رہے ہو کہ میں نے وہ کام کیا جو اللہ نے میری پیدائش سے چالیس سال پہلے مجھ پر لکھ دیا تھا کہ میں وہ کام کروں گا؟ " رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس طرح آدم علیہ السلام نے دلیل سے موسیٰ علیہ السلام کو لاجواب کر دیا ۔

23

حمید بن عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہم السلام نے دلائل کا تبادلہ کیا ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا : آپ آدم ہیں جن کی خطا نے انہیں جنت سے باہر نکالا؟ تو حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے کہا : کیا تم موسیٰ ہو جسے اللہ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی سے دوسروں پر فضیلت دی ، پھر تم مجھے اس معاملے میں ملامت کر رہے ہو جو میری پیدائش سے پہلے میرے لیے مقدر کر دیا گیا تھا؟ اس طرح آدم علیہ السلام نے موسیٰ علیہ السلام کو دلیل سے خاموش کر دیا ۔

24

ابوسلمہ اور ہمام بن منبہ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان ( گزشتہ راویوں ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔

25

محمد بن سیرین نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ۔

26

ابن وہب نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوہانی خولانی نے ابو عبدالرحمٰن حبلی سے خبر دی ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنے سے پچاس ہزار سال پہلے مخلوقات کی تقدیریں تحریر فرما دیں تھی ۔ فرمایا : اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔

27

حیوہ اور نافع بن یزید نے ابوہانی سے اسی سند کے ساتھ اسی حدیث کے مانند حدیث بیان کی مگر ان دونوں نے یہ نہیں کہا : " اور اس کا عرش پانی پر تھا ۔

28

حیوہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے ابوہانی نے بتایا ، انہوں نے ابوعبدالرحمٰن حبلی سے سنا ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا ، کہا : انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " بنی آدم کے سارے دل ایک دل کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی انگلیوں میں سے دو انگلیوں کے درمیان ہیں ، وہ جس طرح چاہتا ہے اسے ( ان سب کو ) گھماتا ہے ۔ " اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہوئے ) فرمایا : " اے اللہ! اے دلوں کو پھیرنے والے! ہمارے دلوں کو اپنی اطاعت پر پھیر دے ۔

29

عمرو بن مسلم نے طاوس سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعدد صحابہ کو پایا وہ سب کے سب یہ کہتے تھے کہ ہر چیز ( اللہ کی مقرر کردہ ) مقدار سے ہے اور میں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر چیز ( اللہ کی مقرر کردہ ) مقدار سے ہے یہاں تک کہ ( کسی کام کو ) نہ کر سکنا اور کر سکنا بھی ، یا کہا : ( کسی کام کو ) کر سکنا اور نہ کر سکنا ( بھی اسی مقدار سے ہے ۔)

30

محمد بن عباد بن جعفر مخزومی نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : مشرکین قریش تقدیر کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کرنے کے لیے آئے ، اس وقت ( یہ آیت ) نازل ہوئی : " جس دن وہ جہنم میں اوندھے منہ گھسیٹے جائیں گے ، ( کہا جائے گا : ) دوزخ کا عذاب چکھو ، بےشک ہم نے ہر چیز کو ( طے شدہ ) مقدار کے مطابق بنایا ہے ۔

31

اسحٰق بن ابراہیم اور عبد بن حمید نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ اسحٰق کے ہیں ۔ ۔ دونوں نے کہا : ہمیں عبدالرزاق نے خبر دی ، انہوں نے کہا؛ ہمیں معمر نے ابن طاوس سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ، میں نے اس سے بڑھ کر ( قرآن کے لفظ ) "" اللمم "" سے مشابہ کوئی اور چیز نہیں دیکھی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کے حصے کا زنا لکھ دیا ہے ، وہ لامحالہ اپنا حصہ لے گا ۔ آنکھ کا زنا ( جس کا دیکھنا حرام ہے اس کو ) دیکھنا ہے ۔ زبان کا زنا ( حرام بات ) کہنا ہے ، دل تمنا رکھتا ہے ، خواہش کرتا ہے ، پھر شرم گاہ اس کی تصدیق کرتی ہے ( اور وہ زنا کا ارتکاب کر لیتاہے ) یا تکذیب کرنی ہے ( اور وہ اس کا ارتکاب نہیں کرتا ۔ ) "" عبد نے اپنی روایت میں کہا : ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی ( کہا : ) میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، ( اس سند میں سماع کی صراحت ہے ۔)

32

ابوصالح نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ابن آدم کے متعلق زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا گیا ہے ۔ وہ لا محالہ اس کو حاصل کرنے والا ہے ، پس دونوں آنکھیں ، ان کا زنا دیکھنا ہے اور دونوں کان ، ان کا زنا سننا ہے اور زبان ، اس کا زنا بات کرنا ہے اور ہاتھ ، اس کا زنا پکڑنا ہے اور پاؤں ، اس کا زنا چل کر جانا ہے اور دل تمنا رکھتا ہے اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ ان تمام باتوں کی تصدیق کرتی ہے ( اسے عملا سچ کر دکھاتی ہے اور حرام کا ارتکاب ہو جاتا ہے ) یا اس کی تکذیب کرتی ہے ( حقیقی زنا سے بچاؤ ہو جاتا ہے ۔)

33

زُبیدی نے زہری سے روایت کی ، انہوں نے کہا : مجھے سعید بن مسیب نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ وہ کہا کرتے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر پیدا ہونے والا بچہ فطرت ( اللہ پر ایمان اور اچھائی کی محبت ) پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے ماں باپ اس کو یہودی ، نصرانی اور مجوسی بنا دیتے ہیں ، جیسے ایک جانور ( ماں ) کامل الاعضاء جانور ( بچے ) کو جنم دیتی ہے ، کیا تمہیں ان میں کوئی عضو کٹا ہوا جانور نظر آتا ہے؟ " پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے تھے : تم چاہو تو یہ آیت پڑھ لو : " یہی اللہ کی ( عطا کردہ ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق فرمائی ، اللہ کی تخلیق میں ردوبدل نہیں ہوتا ۔

34

معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " جس طرح ایک ( مادہ ) جانور بچے کو جنم دیتی ہے ۔ " انہوں نے " کامل الاعضاء " ذکر نہیں کیا ۔

35

یونس بن یزید نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہیں ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی پیدا ہونے والا بچہ نہیں مگر اس کی ولادت فطرت پر ہوتی ہے ۔ " پھر ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) کہتے : یہ آیت پڑھ لو : " یہی اللہ کی ( عطا کردہ ) فطرت ہے جس پر اس نے لوگوں کی تخلیق کی ، اللہ کی تخلیق میں تبدیلی نہیں ہو گی ، یہی سیدھا مستحکم دین ہے ( جس کی انسانی فطرت امانت دار ہے ۔)

36

جریر نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی ولادت پانے والا نہیں مگر وہ فطرت ہی پر پیدا ہوا ہے ، پھر اس کے والدین اسے یہودی ، نصرانی اور مشرک بنا دیتے ہیں ۔ " ایک آدمی نے کہا : اللہ کے رسول! اگر وہ اس سے پہلے مر جائے؟ آپ نے فرمایا : " اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے کہ ( بڑے ہو کر ) وہ بچے کیا عمل کرنے والے تھے ۔

37

ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابوکریب نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابومعاویہ نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں ابن نمیر نے بھی ( یہی ) حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، ( ابومعاویہ اور ابن نمیر کے والد ) دونوں نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ابن نمیر کی حدیث میں ہے : "" کوئی بچہ پیدا ہونے والا بچہ نہیں مگر وہ ملت پر ہوتا ہے ۔ "" اور ابومعاویہ سے ابوبکر نے جو روایت کی اس میں ہے : "" مگر وہ اس ملت ( ملت اسلامی ) پر ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اس ( کے کفر یا ایمان ) کو بیان کر دیتی ہے ۔ "" اور ابومعاویہ سے ابوکریب کی روایت میں ہے : "" کوئی ولادت پانے والا نومولود نہیں مگر وہ اسی فطرت پر ہوتا ہے یہاں تک کہ اس کی زبان اس کے ( ماحول سے اخذ کردہ ) خیالات کی ترجمانی کرتی ہے ۔

38

معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنائیں ، پھر انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک حدیث یہ ہے : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو ( بچہ ) پیدا ہوتا ہے ، وہ اسی فطرت پر پیدا ہوتا ہے ، پھر اس کے والدین اس کو یہودی اور نصرانی بنا دیتے ہیں جس طرح تم اونٹوں کے بچوں کو جنم دلواتے ہو ۔ کیا تم ان میں سے کسی کو کان کٹا ہوا پاتے ہو؟ یہاں تک کہ تم خود اس کا کان کاٹ دو " لوگوں نے کہا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے دیکھا کہ اگر وہ چھوٹا ہی فوت ہو جائے؟ فرمایا : " اللہ ہی زیادہ جاننے والا ہے وہ ( چھوٹی عمر میں فوت ہونے والے بچے ) کیا عمل کرنے والے تھے ۔

39

علاء کے والد عبدالرحمٰن نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر انسان کو اس کی ماں فطرت پر جنم دیتی ہے اور اس کے ماں باپ بعد میں اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں ۔ اگر وہ دونوں ( صحیح ) مسلمان ہوں تو وہ مسلمان رہتا ہے اور ہر انسان کو جب اس کی ماں جنم دیتی ہے تو شیطان اس کے دونوں پہلوؤں میں ہاتھ سے مارتا ہے سوائے حضرت مریم علیہ السلام اور ان کے بیٹے کے ( انہیں اللہ نے اس سے محفوظ رکھا ۔)

40

ابن ابی ذئب اور یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے عطاء بن یزید سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کی اولاد کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " اللہ ہی زیادہ جانتا ہے کہ ( بڑے ہو کر ) وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔

41

معمر ، شعیب اور معقل بن عبیداللہ نے زہری سے یونس اور ابن ابی ذئب کی سند کے ساتھ ان دونوں کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی ، مگر شعیب اور معقل کی حدیث میں ( مشرکین کی اولاد کی بجائے ) " مشرکین کے چھوٹے بچوں " کے الفاظ ہیں ۔

42

اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے بارے میں سوال کیا گیا ، ان میں سے جو چھوٹی عمر میں فوت ہو جائیں ( تو ان کا انجام کیا ہو گا؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ زیادہ جانتا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔

43

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشرکین کے بچوں کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے جب ان کو پیدا کیا تو وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ وہ کیا عمل کرنے والے تھے ۔

44

سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس لڑکے کو حضرت خضر علیہ السلام نے قتل کیا تھا وہ طبعا کافر بنایا گیا تھا ، اگر وہ زندہ رہتا تو زبردستی اپنے ماں باپ کو سرکشی اور کفر کی طرف لے جاتا ۔

45

فضیل بن عمرو نے عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ایک بچہ فوت ہوا تو میں نے کہا : اس کے لیے خوش خبری ہو ، وہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نہیں جانتی کہ اللہ تعالیٰ نے جنت کو پیدا کیا اور دوزخ کو پیدا کیا اور اس کے لیے بھی اس میں جانے والے بنائے اور اُس کے لیے بھی اس میں رہنے والے بنائے؟

46

وکیع نے طلحہ بن یحییٰ سے ، انہوں نے اپنی پھوپھی عائشہ بنت طلحہ سے اور انہوں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو انصار کے ایک بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا ، میں نے کہا : اللہ کے رسول! اس کے لیے خوش خبری ہو یہ جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے ، اس نے کوئی گناہ کیا ، نہ گناہ کرنے کی عمر پائی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یا اس کے علاوہ کچھ اور؟ عائشہ! اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے والے لوگ پیدا فرمائے ، انہیں اس وقت جنت کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے اور دوزخ کے لیے بھی رہنے والے بنائے ، انہیں اس وقت دوزخ کے لیے تخلیق کیا جب وہ اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے ۔

47

اسماعیل بن زکریا اور سفیان ثوری نے طلحہ بن یحییٰ سے وکیع کی حدیث کے مانند اسی کی سند کے ساتھ روایت کی ۔

48

وکیع نے ہمیں معمر سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علقمہ بن مرثد سے ، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے ، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے یہ دعا کی : اے اللہ! مجھے اپنے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے والد حضرت ابوسفیان رضی اللہ عنہ اور اپنے بھائی حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ( کی زندگیوں ) سے مستفید فرما! ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ) کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم نے عمروں کی ایسی مدتوں کا ، جو مقرر کر دی گئی ہیں اور ان دنوں کا جو گنے جا چکے ہیں اور ایسے رزقوں کا جو بانٹے جا چکے ہیں ، سوال کیا ہے ۔ اگر تم اللہ سے یہ مانگتی کہ تمہیں آگ میں دیے جانے والے یا قبر میں دیے جانے والے عذاب سے پناہ عطا فرما دے تو یہ زیادہ اچھا اور زیادہ افضل ہوتا ۔ "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ کے سامنے بندروں کے بارے میں بات چیت ہوئی ، مسعر نے کہا : میرا خیال ہے کہ انہوں ( حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ ) نے کہا : خنزیروں کا بھی ( ذکر کیا گیا کہ وہ ) مسخ ہو کر بنے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے مسخ ہونے والوں کی نہ نسل بنائی ہے نہ اولاد ، بندر اور خنزیر اس ( مسخ ہونے کے واقعے ) سے پہلے بھی ہوتے تھے ( جو موجودہ ہیں وہ انہی کی نسلیں ہیں ۔)

49

ابن بشر نے مسعر سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، مگر ابن بشر اور وکیع دونوں سے ان کی ( روایت کردہ ) حدیث میں یہ الفاظ منقول ہیں : " آگ میں دیے جانے والے اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے ( پناہ مانگتی تو بہتر تھا ۔ ) " ( " یا " کی بجائے " اور " ہے ۔)

50

عبدالرزاق نے کہا : ہمیں ثوری نے علقمہ بن مرثد سے خبر دی ، انہوں نے مغیرہ بن عبداللہ یشکری سے ، انہوں نے معرور بن سوید سے اور انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے ( دعا کرتے ہوئے ) کہا : اے اللہ! مجھے میرے خاوند رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، میرے والد ابوسفیان اور میرے بھائی ( کی درازی عمر ) سے مستفید فرما! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" تم نے اللہ تعالیٰ سے ان مدتوں کا سوال کیا ہے جو مقرر کی جا چکیں اور قدموں کے ان نشانوں کا جن پر قدم رکھے جا چکے اور ایسے رزقوں کو جو تقسیم کیے جا چکے ۔ نہ ان میں سے کوئی چیز اپنا وقت آنے سے پہلے آ سکتی ہے اور نہ آنے کے بعد مؤخر ہو سکتی ہے ۔ اگر تم اللہ تعالیٰ سے یہ مانگتی کہ وہ تمہیں جہنم میں دیے جانے والے عذاب اور قبر میں دیے جانے والے عذاب سے بچا لے تو تمہارے لیے بہتر ہوتا ۔ "" ( عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ) کہا : ایک آدمی نے پوچھا : اللہ کے رسول! یہ بندر اور خنزیر کیا انہی میں سے ہیں جو مسخ ہو کر بنے تھے؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ تعالیٰ نے کسی قوم کو ہلاک نہیں کیا یا ( فرمایا : ) کسی قوم کو عذاب نہیں دیا کہ پھر ان ( لوگوں ) کی نسل بنائے ( ان کے بچے پیدا کر کے انہیں آگے چلائے ۔ ) اور بلاشبہ بندر اور خنزیر پہلے بھی موجود تھے ۔ "" ( آگے انہی کی نسلیں چلی ہیں ۔)

51

ابوداود سلیمان بن معبد نے کہا : ہمیں حسین بن حفص نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں سفیان نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، مگر انہوں نے کہا : "" اور قدموں کے ایسے نشان جن تک قدم پہنچ چکے ہیں ۔ "" ابن معبد نے کہا : ان ( اساتذہ ) میں سے بعض نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ) : "" اس کے حل ہونے سے پہلے ۔ "" یعنی اس کے اترنے سے پہلے ( وضاحتی الفاظ کے ساتھ ) روایت کی ۔

52

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " طاقت ور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن کی نسبت بہتر اور زیادہ محبوب ہے ، جبکہ خیر دونوں میں ( موجود ) ہے ۔ جس چیز سے تمہیں ( حقیقی ) نفع پہنچے اس میں حرص کرو اور اللہ سے مدد مانگو اور کمزور نہ پڑو ( مایوس ہو کر نہ بیٹھ ) جاؤ ، اگر تمہیں کوئی ( نقصان ) پہنچے تو یہ نہ کہو : کاش! میں ( اس طرح ) کرتا تو ایسا ایسا ہوتا ، بلکہ یہ کہو : ( یہ ) اللہ کی تقدیر ہے ، وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے ، اس لیے کہ ( حشرت کرتے ہوئے ) کاش ( کہنا ) شیطان کے عمل ( کے دروازے ) کو کھول دیتا ہے ۔