36 - کتاب الاشربۃ
حجاج بن محمد نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابن شہاب نے علی بن حسین بن علی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طا لب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بدر کے مال غنیمت میں سے ایک ( جوان اونٹنی حاصل ہو ئی ۔ ایک اور جوان اونٹنی ( خمس میں سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے عطا فرما ئی ۔ ایک دن میں نے ان دونوں اونٹنیوں کو ایک انصاری کے دروازے پر بٹھا یا اور میں ان دو نوں پر بیچنے کے لیے اذخر ( کی خوشبو دار گھاس ) لا دکر لا نا چاہتا تھا ۔ ۔ ۔ بنو قینقاع کا سنار بھی میرے ساتھ تھا ۔ ۔ ۔ اور اس ( کی قیمت ) سے میں حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ( کے ساتھ اپنی شادی ) کے ولیمے میں مدد لینا چا ہتا تھا ۔ حمزہ بن عبد المطلب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس گھر میں ( بیٹھے ) شراب پی رہے تھے ، ان کے قریب ایک گا نے والی عورت گا رہی تھی پھر وہ یہ اشعار گا نے لگی ۔ سنیں حمزہ ! ( اٹھ کر ) فربہ اونٹنیوں کی طرف بڑھیں ( دوسرا مصرع ہے ۔ وَهُنَّ مُعَقَّلَاتٌ بِالْفِنَاءِ "" اور گھر کے آگے کھلی جگہ میں بندھی ہو ئی ہیں ۔ ) "" حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ تلوار سمیت لپک کر ان کی طرف بڑھے ان کے کوہانوں کو جڑسے کاٹ لیا ان کے پہلو چیردیے پھر ان کے کلیجے نکا ل لیے ۔ میں نے ابن شہاب سے کہا : اور کو ہان بھی ؟ انھوں نے کہا : وہ ( حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) ان دونوں کے کو ہان جڑ سے کا ٹ کر لے گئے ۔ ابن شہاب نے کہا : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے ایک ایسا منظر دیکھا جس نے مجھے دہلا کر رکھ دیا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ کے پاس مو جو د تھے ۔ آپ زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمرا ہ نکل پڑے ۔ میں بھی آپ کے ساتھ چلنے لگا ۔ آپ حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے اور غصے کا اظہار فر ما یا ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آنکھ اٹھا ئی اور کہنے لگے : تم میرے آبا واجداد کے غلاموں سے برھ کر کیا ہو ! ( وہ دونوں جناب عبد المطلب کے پو تے تھے اور رشتے کے حوالے سے خدمت گزاری کے مقام پر تھے ۔ حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ رشتے میں ان سے ایک پشت اوپر تھے ۔ انھوں نے شراب کی لہر میں اسی بات کو مبا لغہ آمیز فخر و مباہات کے رنگ میں کہہ دیا ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں واپس ہو ئے اور ان کی محفل سے نکل آئے ۔
عبد الرزاق نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
۔ عبد اللہ بن وہب نے کہا : مجھے یو نس بن یزید نے ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے علی بن حسین بن علی نے بتا یا کہ حسین بن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں خبر دی کہ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے بدر کے دن مال غنیمت میں ایک اونٹنی ملی اور اسی دن ایک اونٹنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خمس میں سے اور دی ۔ پھر جب میں نے چاہا کہ فاطمۃالزہراء رضی اللہ عنہا سے شادی کروں جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی تھیں تو میں نے بنی قینقاع کے ایک سنار سے وعدہ کیا کہ وہ میرے ساتھ چلے اور ہم دونوں مل کر اذخر لائیں اور سناروں کے ہاتھ بیچیں اور اس سے میں اپنی شادی کا ولیمہ کروں ۔ میں اپنی دونوں اونٹنیوں کا سامان پالان ، رکابیں اور رسیاں وغیرہ اکٹھا کر رہا تھا اور وہ دونوں اونٹنیاں ایک انصاری کی کوٹھری کے بازو میں بیٹھی تھیں ۔ جس وقت میں یہ سامان جو اکٹھا کر رہا تھا اکٹھا کر کے لوٹا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دونوں اونٹنیوں کے کوہان کٹے ہوئے ہیں ، ان کی کوکھیں پھٹی ہوئی ہیں اور ان کے جگر نکال لئے گئے ۔ مجھ سے یہ دیکھ کر نہ رہا گیا اور میری آنکھیں تھم نہ سکیں ( یعنی میں رونے لگا یہ رونا دنیا کے طمع سے نہ تھا بلکہ سیدہ فاطمۃالزہراء اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں جو تقصیر ہوئی ، اس خیال سے تھا ) میں نے پوچھا کہ یہ کس نے کیا؟ لوگوں نے کہا کہ حمزہ رضی اللہ عنہ بن عبدالمطلب نے اور وہ اس گھر میں انصار کی ایک جماعت کے ساتھ ہیں جو شراب پی رہے ہیں ، ان کے سامنے اور ان کے ساتھیوں کے سامنے ایک گانے والی نے گانا گایا تو گانے میں یہ کہا کہ اے حمزہ اٹھ ان موٹی اونٹنیوں کو اسی وقت لے ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر اٹھے اور ان کے کوہان کاٹ لئے اور کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور جگر ( کلیجہ ) نکال لیا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سن کر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، وہاں زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ بیٹھے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی میرے چہرے سے رنج و مصیبت کو پہچان لیا اور فرمایا کہ تجھ کو کیا ہوا؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اللہ کی قسم! آج کا سا دن میں نے کبھی نہیں دیکھا ۔ حمزہ رضی اللہ عنہ نے میری دونوں اونٹنیوں پر ظلم کیا ، ان کے کوہان کاٹ لئے ، کوکھیں پھاڑ ڈالیں اور وہ اس گھر میں چند شرابیوں کے ساتھ ہیں ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوا کر اوڑھی اور پھر پیدل چلے ، میں اور زید بن حارثہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس دروازے پر آئے جہاں حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور اندر آنے کی اجازت مانگی ۔ لوگوں نے اجازت دی ۔ دیکھا تو وہ شراب پئے ہوئے تھے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو اس کام پر ملامت شروع کی اور سیدنا حمزہ کی آنکھیں ( نشے کی وجہ سے ) سرخ تھیں انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ، پھر آپ رضی اللہ عنہ کے گھٹنوں کو دیکھا ، پھر نگاہ بلند کی تو ناف کو دیکھا ۔ پھر نگاہ بلند کی تو منہ کو دیکھا اور ( نشے میں دھت ہونے کی وجہ سے ) کہا کہ تم تو میرے باپ دادوں کے غلام ہو ۔ تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہچانا کہ وہ نشہ میں مست ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم الٹے پاؤں پھرے اور باہر نکلے ۔ ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ۔
عبد اللہ بن مبارک نے یو نس سے انھوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن شرا ب حرام کی گئی ، میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے گھر ( لو گوں کو ) شراب پلا رہا تھا ۔ ان کی شرا ب ادھ پکی اور خشک کھجوروں سے تیار شدہ شرا ب کے سوا اور کو ئی نہ تھی ، اتنے میں ایک اعلا ن کرنے والا پکا رنے لگا ۔ انھوں نے کہا : میں جاؤں اور دیکھوں تو ( دیکھا کہ وہاں ) ایک منا دی اعلا ن کر رہا تھا : ( لوگو ) سنو! شراب حرام کر دی گئی ۔ کہا : پھر مدینہ کی گلیوں میں شراب بہنے لگی ۔ ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے کہا : نکلو اور اسے بہا دو! میں نے وہ ( سب ) بہادی ۔ تو لو گوں نے کہا ۔ ۔ ۔ یا ان میں سے کچھ نے کہا ۔ ۔ ۔ فلا ں شہید ہوا تھا اور فلا ں شہید ہوا تھا تو یہ ( شراب ) ان کے پیٹ میں مو جو د تھی ۔ ۔ ۔ ( ایک راوی نے ) کہا : مجھے معلوم نہیں یہ ( بھی ) حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں سے ہے ( یا نہیں ) ۔ ۔ ۔ اس پر اللہ تعا لیٰ نے ( لَيْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ جُنَاحٌ فِيمَا طَعِمُوٓا إِذَا مَا ٱتَّقَوا وَّءَامَنُوا وَعَمِلُوا ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ ) نازل فرمائی : " جو لو گ ایمان لا ئے اور نیک کا م کیے جب انھوں نے تقوی اختیار کیا ایمان لا ئے اور نیک عمل کیے ( تو ) ان پر اس چیز کے سبب کوئی گناہ نہیں جس کو انھوں نے ( حرمت سے پہلے ) کھا یا پیا ( تھا ۔)
عبد العز یز بن صہیب نے کہا : لوگوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فضیخ ( ملی جلی کچی اور پکی ہو ئی کھجوروں کا رس جس میں خمیراٹھ جا ئے ) کے متعلق سوال کیا ۔ انھوں نے کہا : تمھا رے اس فضیخ کے علاوہ ہماری کو ئی شراب تھی ہی نہیں یہی شراب تھی جس کو تم فضیخ کہتے ہو ، میں اپنے گھر میں کھڑے ہو کر یہی شراب حضرت ابو طلحہ حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دیگر ساتھیوں کو پلا رہا تھا کہ ایک شخص آیا اور کہنے لگا : تمھیں خبر پہنچی ؟ ہم نے کہا : نہیں ۔ اس نے کہا : شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ تو ( ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : انس ! ( شراب کے ) یہ سارے مٹکے بہا دو ۔ اس آدمی کے خبر دینے کے بعد ان لوگوں نے نہ کبھی شراب پی اور نہ اس کے بارے میں ( کبھی ) کچھ پوچھا ۔
ابن علیہ نے کہا : ہمیں سلیمان تیمی نے بتا یا کہا : ہمیں حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں اپنے قبیلے والوں اپنے چچاؤں کو ان کی ( شراب ) فضیخ پلا رہا تھا اور میں ہی ان میں سب سے کم سن تھا ، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا : "" شراب حرام کر دی گئی ہے ۔ تو ( ان ) لوگوں نے کہا : انس ! اس کو بہا دو ۔ میں نے وہ سب بہا دی ۔ ( سلیمان تیمی نے ) کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پو چھا : وہ کیا تھا ( جس سے شراب بنا ئی گئی تھی ؟ ) انھوں نے کہا : وہ کچی اور پکی کھجور یں تھیں ( تیمی نے ) کہا : ابو بکر بن انس نے کہا : ان دنوں یہی ان کی شراب تھی ۔ سلیمان نے کہا : مجھے ایک شخص نے حجرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی کہ خود انھوں نے ( انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بھی یہی کہا تھا ۔
محمد بن عبد الاعلیٰ نے کہا : ہمیں معتمر ( بن سلیمان تیمی ) نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں کھڑا ہوا قبیلے ( کے لوگوں ) کو شراب پلا رہا تھا ، ابن علیہ کی روایت کے مانند البتہ انھوں نے ( معتمر ) نے کہا : ابو بکر بن انس نے بتا یا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی اور اس وقت حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ( خود بھی ) مو جو د تھے اور انھوں نے اس کا انکا ر نہیں کیا ۔ ( سلیمان نے کہا : ) اور جو لوگ میرے ساتھ تھے ان میں سے ایک شخص نے کہا : اس نے ( خود ) انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا ان دنوں ان کی شراب یہی تھی ۔
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں انصاری کی ایک جمیعت میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شراب پلا رہاتھا ، اس وقت ایک آنے والا شخص آیا اور کہا : شراب کی حُرمت نازل ہوگئی ہے ، ( یہ سنتے ہی ) ہم نے اسی دن اسے ( شراب کو ) بہادیا ، وہ نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب تھی ۔ قتادہ نے بتایا کہ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : شراب حرام کردی گئی اور ان دنوں عام طور پر ان کی شراب ملی جلی ، نیم پختہ اور خشک کھجور کی ( بنی ہوئی ) ہوتی تھی ۔
معاذ کے والد ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابو طلحہ ، حضرت ابو دجانہ اور حضرت سہیل بن بیضاء رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ایک مشکیزے سے شراب پلارہاتھا ، ملی جلی نیم پختہ اورخشک کھجوروں کی شراب تھی ، جس طرح سعید ( بن ابی عروبہ ) کی حدیث ہے ۔
عمرو بن حارث نے کہا کہ قتادہ بن دعامہ نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کچی اور نیم پختہ کھجوروں کا خلیط ( پانی ملارس ) بنایاجائے ، پھر ( اس میں خمیر اٹھنے کے بعد ) اسے پیا جائے اور جس دن شراب حرام ہوئی اس زمانے میں ان کی عام شراب یہی ہوا کرتی تھی ۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : میں حضرت ابو عبیدہ بن جراح ، حضرت ابو طلحہ اورحضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو نیم پختہ اور خشک کھجوروں کی ( بنی ہوئی ) شراب پلارہاتھا ، اس وقت ان کے پاس آنے والا ایک شخص آیا اور کہا : شراب حرام کردی گئی ہے ۔ حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : انس!جاکر اس گھڑے کو توڑدو ، میں نے اپنا پیسنے والا پتھر ( ہاون دستہ ) اٹھایا اور اس کے نچلے حصے کو اس گھڑے پر مارا حتیٰ کہ وہ ٹوٹ گیا ۔
عبدالحمید بن جعفر نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے میرے والد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : جب اللہ تعالیٰ نے وہ آیت نازل فرمائی جس میں اس نے شراب کو حرام کیا تو اس وقت مدینہ میں کھجور کے علاوہ اور ( کسی چیز کی بنی ہوئی ) شراب نہیں پی جاتی تھی ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب کو سرکہ بنانے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا : " نہیں ۔
حضرت طارق بن سوید جعفی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شراب ( بنانے ) کےمتعلق سوا ل کیا ، آپ نے اس سے منع فرمایا یا اس کے بنانے کو نا پسند فرمایا ، انھوں نےکہا : میں اس کو دوا کے لئے بناتا ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ دوا نہیں ہے ، بلکہ خود بیماری ہے ۔
یحییٰ بن ابی کثیر نے کہا کہ ابو کثیر نے انھیں حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " شراب ان دو درختوں ( کے پھلوں ) سے بنائی جاتی ہے ۔ : کھجور اورانگورسے ۔
عبداللہ بن نمیر نےکہا : اوزاعی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو کثیر نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوکہتے ہوئے سنا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا : آپ فرمارہے تھے : " شراب ان دودرختوں ( کے پھلوں ) سے تیار ہوتی ہے : کھجور سے اورانگور سے ۔
زہیر بن حرب اور ابوکریب نے کہا : ہمیں وکیع نےاوزاعی ، عکرمہ بن عمار اورعقبہ بن توام سے حدیث بیان کی ، انھوں نےابوکثیر سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شراب ان دودرختوں سے بنائی جاتی ہے : انگور کی بیل اورکھجور کے درخت ( کے پھل ) سے ۔ ابو کریب کی روایت میں ( الْكَرْمَةِ وَالنَّخْلَةِ کی بجائے ) " الكرم والنخل " ہے ۔ ( مفہوم ایک ہی ہے)
جریر بن حازم نے کہا : میں نے عطاء ابن ابی رباح سے سنا ، کہا : ہمیں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں اور کشمش اور کچی کھجوروں اورپختہ کھجوروں کو ملا کر مشروب بنانے سے منع فرمایا ۔ ( کیونکہ تھوڑی ہی دیر میں اس کا خمیر اٹھ جاتاہے اور یہ شراب میں تبدیل ہوجاتاہے ۔)
لیث نے عطاء ابن ابی رباح سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےروایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےکھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا اورتازہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
ابن جریج نے کہا : عطاء نے مجھ سے کہا کہ میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تازوہ کھجوروں اور کچی کھجوروں کو اور کشمش اور خشک کھجوروں کو نبیذ بنانے کے لئے ایک دوسرے کے ساتھ نہ ملاؤ ۔
حکیم بن حزام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کشمش اور پختہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنایا جائے اورکچی اور تازہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ بنایا جائے ۔
تیمی نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذ بناتے ہوئے ) خشک کھجوروں اورکشمش کو ملانے سے اورپختہ کھجوروں اورکچی کھجوروں کو ملانے سے منع فرمایا ۔
سعید بن یزید ابو مسلمہ نے ابونضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ ہم ( نبیذ بنانے کے لئے ) کشمش اور خش کھجوروں کو ایک دوسرے سے ملا دیں اور کچی اور خشک کھجوروں کو باہم یکجا کرلیں ۔
بشر بن مفضل نے ابومسلمہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانندروایت کی ۔
وکیع نے اسماعیل بن مسلم عبدی سے ، انھوں نے ابو متوکل ناجی سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سےجو شخص نبیذ پیے وہ صرف کشمش کا نبیذ پیے یا صرف خشک کھجوروں کو نبیذ پیے یا صرف کچی کھجوروں کا نبیذ پیے ۔
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں اسماعیل بن مسلم عبدی نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( نبیذ میں ) کچی کھجوروں کو خشک کھجوروں کے ساتھ ملانے ، یا کشمش کوخشک کھجور کے ساتھ یا کشمش کو نیم پختہ کھجوروں کے سات ملانے سے منع کیا اور یہ فرمایا : " تم میں سے جوشخص اسے پیے ۔ ۔ ۔ " آگے وکیع کی حدیث ( 5152 ) کے مانند بیان کیا ۔
ہشام دستوائی نے یحییٰ بن ابی کثیر سے ، انھوں نے عبداللہ بن ابی قتادہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ادھ پکی کھجوروں اور پکی کھجوروں کو ملاکر نبیذ نہ بناؤ اور کشمش اور خشک کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بناؤ اور دونوں میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
حجاج بن ابی عثمان نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
علی بن مبار ک نے یحییٰ ( بن ابی کثیر ) سے انھوں نے ابو سلمہ سے انھوں نے حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" نیم پختہ اور پختہ کھجوروں کو ملا کر نبیذ نہ بنا ؤ اور تا زہ کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ نہ بنا ؤ البتہ ہر جنس کی الگ الگ نبیذ بنا ؤ ۔ "" یحییٰ نے یہ بھی بتا یا کہ ان کی عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا قات ہو ئی تو انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
حسین معلم نے کہا : یحییٰ بن ابی کثیر نے ہمیں انھی دونوں سندوں سے حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے کہا : " تازہ کھجور اور رنگ بدلتی کھجور خشک کھجور اور کشمش کی ( نبیذنہ بنا ؤ)
۔ ابان عطار نے کہا : ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر نے حدیث بیان کی کہا : مجھے عبد اللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذبنا نے کے لیے ) خشک بدلتی اور تازہ کھجوروں کو اور رنگ بدلتی اور تازہ کھجوروں کو ملا نے سے منع کیا اور فر ما یا : " ہر جنس کی الگ الگ نبیذ بناؤ ۔
ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن نے ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی سند کے مانند حدیث بیان کی ۔
وکیع نے عکرمہ بن عمار سے انھوں نے ابو کثیر حنفی سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کشمش اور کھجوروں کچی اور خشک کھجوروں ( کو ملا کر نبیذ بنا نے ) سے منع کیا اور فر ما یا : " ان دونوں میں سے ہر ایک کی الگ الگ نبیذ بنا ئی جا ئے ۔
ہا شم بن قاسم نے کہا : ہمیں عکرمہ بن عمار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں یزید بن عبد الرحمٰن بن اذینہ نے اور وہ ابو کثیر عنبری ہیں ۔ حدیث بیان کی کہا : مجھے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا اسی کے مانند ۔
علی بن مسہر نے ہمیں شیبانی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حبیب سے انھوں نے سعید بن جبیر سے انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( نبیذ بنا نے کے لیے ) خشک کھجوروں اور کشمش کو باہم ملا نے اور کچی اور خشک کھجوروں کو باہم ملا نے سے منع فرما یا اور آپ نے اہل جرش کی طرف لکھا اور اس بات سے منع کیا کہ وہ خشک کھجوروں اورکشمش کو ملا کر مشروب بنائیں ۔
خالد طلحان نے شیبانی سے اسی سند کے ساتھ خشک کھجوروں اور کشمش کے متعلق روایت بیان کی اور انھوں نے کچی کھجوروں اور خشک کھجوروں کا ذکر نہیں کیا ۔
عبد الرزاق نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبردی کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے بتا یا انھوں نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ وہ کہاکرتے تھے : کچی اور تازہ کھجوروں کو ملا کر اور خشک کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنا نے سے منع کر دیا گیا ۔
روح نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے موسیٰ بن عقبہ نے نا فع سے خبر دی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : کچی اور تازہ کھجوروں کو اور ( اسی طرح ) خشک کھجوروں اور کشمش کو ملا کر نبیذ بنانے سے منع کیا گیا ہے ۔
لیث نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو ( کے بنے ہوئے ) اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو ( کے بنے ہوئے ) اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
۔ ( گزشتہ سند سے روایت کرتے ہوئے سفیان بن عینیہ نے ) کہا : انھیں ابو سلمہ نے بتایا کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن میں نبیذ نہ بناؤ اور نہ روغن زفت ملے ہوئے برتن میں ۔ " پھر حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ کہتے تھے : سبز گھڑوں سے اجتناب کرو ۔
سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ، سبز گھڑوں اور کھوکھلی ( کی ہوئی ) لکڑی کے برتنوں سے منع فرمایا ۔ ( ابو صالح نے ) کہا : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہاگیا کہ حنتم کیا ہے؟انھوں نے بتایا : سبز ( رنگ کے کپڑے ) گھڑے ۔
محمد نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالقیس کے وفدسےفرمایا : " میں تم کو کدو کے ( بنے ہوئے ) برتنوں ، حنتم ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں ، روغن قارملے ہوئے برتنوں سےمنع کرتا ہوں ۔ حنتم وہ مشکیزے ہیں جن کے منہ کٹے ہوئے ہوں ۔ لیکن اپنے مشکیزوں سے پیو اور ان کا منہ باندھ دیاکرو ۔
عبشر ، جریر اور شعبہ سب نے اعمش سے ، انھوں نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے حارث بن سوید سے اور انھوں نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔ یہ جریر کی روایت ہے ۔ عبثر اور شعبہ کی حدیث کے الفاظ یہ ہی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن اور روغن زفت ملے برتن سے منع فرمایا ہے ۔
منصور نے ابراہیم سے روایت کی ، کہا : میں نے اسود سے کہا : کیا تم نے ام المومنین ( عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) سے ان بر تنوں کے بارے میں پوچھا تھا جن میں نبیذ بنانا مکروہ ہے؟انھوں نے کہا : ہاں ، میں نے عرض کی تھی : ام المومنین! مجھے بتائیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کن برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایاتھا؟ ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ) فرمایا : آپ نے ہم اہل بیت کو کدو کے بنے ہوئے اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایاتھا ۔ ( ابراہیم نے ) کہا : میں نے ( اسود سے ) پوچھا : انھوں نے حنتم اور گھڑوں کا ذکر نہیں کیا؟انھوں نےکہا : میں تم کو وہی حدیث بیان کرتاہوں جو میں نے سنی ہے ۔ کیا میں تمھیں وہ بات بیان کروں جو میں نے نہیں سنی؟
اعمش نے ابراہیم سے انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے بنے ہوئے اورروغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا ۔
منصور ، سلیمان اور حماد نے ابراہیم سے ، انھوں نے اسود سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔
ثمامہ بن حزن قشیری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خدمت میں حاضری دی تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے مجھے حدیث سنائی کہ ( بنو ) عبدالقیس کا وفد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کدوکے ( بنے ہوئے ) برتن ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں اور سبز گھڑوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
ابن علیہ نے کہا : ہمیں اسحاق بن سوید نے معاذہ سےحدیث بیان کی ، انھوں نےحضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن ، سبز گھڑوں ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں کے استعمال سے منع فرمایا ۔
عبدالوہاب ثقفی نے کہا : ہمیں اسحاق بن سوید نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی مگر انھوں نے روغن زفت ملے ہوئے برتن کی بجائےمقير ( روغن قار ملا برتن ) بتایا ۔ ( دونوں سے ایک ہی چیز ، نباتاتی تیل مراد ہے ۔)
عباد بن عباد اورحماد بن زید نے ابو حمزہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عبدالقیس کا وفدحاضر ہواتو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ "" میں تم کو کدوکے ( بنے ہوئے ) برتنوں ، سبز گھڑوں ، کھوکھلی لکڑی کے برتنوں اور روغن قار ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے اور پینے ) سے منع کرتاہوں ۔ حماد نے اپنی حدیث میں مقیر کے بجائے مزفت کالفظ بیان کیا ۔
حبیب بن ابی ثابت نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے برتنوں اور کھوکھلی لکڑی ( کے برتنوں ) سے منع فرمایا ۔
حبیب بن ابی عمرہ نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے ہوئے برتنوں ( میں نبیذ بنانے ) سے اور کچی اور نیم پ پختہ کھجوروں کو ( مشروب بناتے ہوئے باہم ) ملانے سے منع فرمایا ۔
یحییٰ بن ابی عمر نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے ( بنے ہوئے ) برتنوں ، کھوکھلی لکڑی اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا ۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔
سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے ، انھوں نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھوکھلے کدو ، سبزگھڑوں ، کھوکھلی لکڑی اور روغن زفت ملے ہوئے برتنوں سے منع فرمایا ۔
ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( ان برتنوں میں ) نبیذ بنانے سے منع فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی ( سابقہ روایت ) کے مانند بیان کیا ۔
ابو متوکل نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑے ، کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن اور کھوکھلی لکڑی کے برتن میں ( نبیذ بنا کر ) پینے سے منع فرمایا ۔
منصور بن حیان نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق شہادت دیتا ہوں کہ ان دونوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق شہادت دی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدوکے ( بنے ہوئے ) برتنوں ، سبز گھڑوں ، روغن زفت ملے برتنوں اور کھوکھلی لکڑی ( کے برتنوں ) سے منع فرمایا ۔
یعلیٰ بن حکیم نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے گھڑوں کی نبیذ کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کوحرام قرار دیا ہے ۔ میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا اور کہا : کہا آپ نے نہیں سنا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کیا فرماتے ہیں؟انھوں نےکہا : وہ کیا کہتے ہیں؟میں نے کہا : وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں نبیذ بنانے کو حرام کر دیا ہے ۔ تو انھوں ( ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سچ کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں میں بنائی ہوئی نبیذ کو حرام کردیا ہے ۔ میں نے پوچھا : گھڑوں کی نبیذسے کیا مراد ہے؟انھوں نے کہا : ہر وہ برتن جو مٹی سے بنایا جائے ۔ ( اس میں بنائی گئی نبیذ)
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غزوے کے دوران میں لوگوں کو خطبہ دیا ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ا رشادسننے کے لئے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بڑھا ، لیکن آپ میرے پہنچنے سے پہلے ( وہاں سے ) تشریف لے گئے ۔ میں نے پوچھا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا؟لوگوں نے مجھے بتایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کے برتن اور روغن زفت لگے ہوئے برتنوں میں نبیذ بنانے سےمنع فرمایا ۔
لیث بن سعد ، ایوب ، عبیداللہ ، یحییٰ بن سعید ، ضحاک بن عثمان اور اسامہ ان سب نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مالک کی حدیث کے مانند روایت کی ، مالک اور اسامہ کے سوا ان میں سے کسی نے " ایک غزوے کے دوران میں " کے الفاظ نہیں کہے ۔
ثابت سے روایت ہے ، کہا : میں نےحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں کی نبیذ سے منع فرمایا تھا؟حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لوگوں نے یہی کہا ہے ، میں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ( قسم کے گھڑوں کی نبیذ ) سے منع فرمایاتھا؟حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : لوگوں نے یہی کہا ہے ۔
سلیمان تیمی نے طاوس سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں کی نبیذ سے منع فرمایاتھا؟انھوں نے کہا : ہاں ۔ پھر طاوس نےکہا : اللہ کی قسم! میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس طرح سناہے ۔
ابن جریج نے کہا : مجھے ابن طاوس نے اپنے والد سے خبر دی ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں اور کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایاتھا؟انھوں نے کہاہاں ۔
وہیب نے عبداللہ بن طاوس سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی کے گھڑوں اور کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایاتھا ۔
ابراہیم بن میسرہ سے روایت ہے کہ انھوں نے طاوس کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک شخص نے آکر ان سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھڑوں ، کدو کے برتن اور زفت ملے ہوئے برتن میں بنی ہوئی نبیذ سے منع فرمایاتھا؟انھوں نے فرمایا : ہاں ۔
شعبہ نے محارب بن دثار سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سبز گھڑوں اور کدو کے ( بنے ہوئے ) برتن اور روغن زفت ملے ہوئے برتن میں نبیذ بنانے سے منع فرمایاتھا ۔ اور ( محارب بن دثار نے ) کہا : میں نے یہ ( حدیث ) ان سے ایک سے زیادہ بار سنی ۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ابو سنان ضرار بن مرہ نے محارب بن دثار سے ، انھوں نے عبداللہ بن بریدہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے ( پہلے ) تم کو قبروں کی زیارت سے منع کیاتھا ، ( اب ) تم زیارت کرلیا کرو اور میں نے ( پہلے ) تم کو تین دن سے زیادہ قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا ، ( اب ) تمہارا جب تک کے لئے جی چاہے قربانی کاگوشت رکھو ۔ اور میں نے تم کو مشک کے علاوہ ( ہر قسم کے برتن میں ) نبیذ پینے سے منع یا تھا ، اب تم ہر طرح کے برتنوں میں پیو اور نشہ آور چیز نہ پیو ۔
علقمہ بن مرثد نے ابن بریدہ سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے پہلے تمھیں منع کیا تھا ۔ " پھر ابن سنان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔
امام مالک نے ابن شہاب ( زہری ) سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہو ئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا آپ نے فرمایا : " ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے ۔
یو نس نے ابن شہا ب سے انھوں نے ابو سلمہ بن عبد الرحمٰن سے روایت کی ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو کہتے ہو ئے سنا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے شہد کی بنی ہو ئی شراب کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فر ما یا : " ہر مشروب جو نشہ آور ہو وہ حرام ہے ۔
۔ ( سفیان ) ابن عیینہ صالح اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی سفیان اور صالح کی حدیث میں یہ ( الفاظ ) نہیں کہ " آپ سے شہد کی بنی ہو ئی شراب کے بارے میں پو چھا گیا " یہ الفا ظ معمر کی حدیث میں ہیں ۔ صالح کی حدیث میں ہے انھوں نے ( حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا : " ہر نشہ آور مشروب حرام ہے ۔)
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
عمرو نے سعد بن ابی بردہ سے سنا انھوں نے اپنے والد ( ابو بردہ عامر بن ابی موسیٰ ) کے واسطے سے اپنے دادا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن بھیجا اور فرما یا : " تم دونوں لوگوں کو ( اچھے اعمال کے انعام کی ) خوش خبری سنانا اور ( معاملا ت کو ) آسان بنا نا ( دین ) سیکھانا اور متنفر نہ کرنا " میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ بھی روایت کیا آپ نے فرما یا : " دونوں ایک دوسرے سے موافقت سے رہنا ۔ " جب ( اجازت لے کر ) ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیچھے کی طرف مڑے تو کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !ان کا شہد سے بنا یا ہو ایک مشروب ہے جسے پکا یا جا تا ہے یہاں تک کہ وہ گا ڑھا ہو جا تا ہے اور ( ایک مشروب ) مزرہے جسے جوسے تیار کیا جا تا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہر وہ چیز جو نماز سے مد ہوش کردے وہ حرام ہے ۔
زید بن ابی انیسہ نے سعید بن ابی بردہ سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت ابو بردہ نے اپنے والد سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور حضرت معاذ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یمن کی جانب بھیجا آپ نے فرما یا : " لوگوں کو ( اسلام کی ) دعوت دینا ان کو خوشخبری دینا اور متنفر نہ کرنا ۔ معاملا ت کو آسان بنا نا اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالنا ۔ انھوں نے کہا : میں نے عرض کی : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم کو دومشروبوں کے بارے میں شریعت کا حکم بتا ئیے جنھیں ہم یمن میں تیار کرتے تھے ۔ ایک بتع ہے جو شہد سے تیار کیا جا تا ہے ۔ اسے برتنوں میں ڈالا جا تا ہے حتی کی وہ گاڑھا ہو جا تا ہے اور ایک مزرہے وہ مکئی اور جو سے تیار کیا جا تا ہےاسے برتنوں میں ڈالا جا تا ہے حتی کہ اس میں شدت پیدا ہو جا تی ہے ۔ انھوں نے کہا : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بات کے خبصورت خاتمے سمیت جامع کلمات عطا کیے گئے تھے ۔ آپ نے فرما یا : " میں ہر اس نشہ آور چیز سے منع کرتا ہوں جو نماز سے مدہوش کردے ۔ ( جس کی زیادہ مقدار مدہوش کردے اس کی قلیل ترین مقدار بھی حرام ہے ۔)
ابو زبیر نے حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص جیشان سے آیا جیشان یمن میں ہے اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی سر زمین کے ایک مشروب کے متعلق سوال کیا جس کو مکئی سے بنا یا جا تا تھا اس کا نام مزر تھا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پو چھا : کیا وہ نشہ آور ہے؟ اس نے کہا : جی ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہرنشہ آور چیز حرام ہے بلا شبہ اللہ عزوجل کا ( اپنے اوپر یہ ) عہد ہے کہ جو شخص نشہ آور مشروب پیے گا وہ اس کو طینۃ الخبال کیا ہے؟ آپ نے فرما یا : " جہنمیوں کا پسینہ یا ( فرمایا : ) جہنمیوں کا نچوڑ ۔
ایوب نے نافع سے اور انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہر نشہ آور چیز خمرہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس حالت میں مر گیا کہ وہ شراب کا عادی ہو گیا تھا اور اس نے تو بہ نہیں کی تھی تو وہ آخرت میں اسے نہیں پیے گا ۔
ابن جریج نے کہا : مجھے مو سیٰ بن عقبہ نے نافع سے خبردی انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور نشہ آور چیز حرا م ہے ۔
۔ عبد العزیز بن مطلب نے مو سیٰ بن عقبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
عبید اللہ نے کہا : ہمیں نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی کہا : اس بات کا علم مجھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی طرف سے ہے کہ آپ نے فرما یا : " ہر نشہ آور چیز خمر ہے اور ہر خمر حرام ہے ۔
۔ یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی کہ نافع سے روایت ہے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس شخص نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں اس سے محروم رہے گا ۔
عبد اللہ بن مسلمہ بن قعنب نے کہا : ہمیں مالک نے نافع سے حدیث بیان کی ، ( انھوں نے ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : " جس شخص نے دنیا میں شراب پی اور اس سے تو بہ نہیں کیا اسے آخرت میں اس سے محروم کردیا جائے گا وہ اسے نہیں پلا ئی جا ئے گی ۔ " امام مالک سے پوچھا گیا : کیا انھوں نے ( حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا ؟ انھوں نے کہا : ہاں ۔
عبید اللہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " جس شخص نے دنیا میں شراب پی وہ آخرت میں نہیں پیے گا ۔ الا یہ کہ وہ توبہ کرلے ۔
موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عبید اللہ کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے یحییٰ بن عبید ابو عمر بہرا نی سے روایت بیان کی کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہو ئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کے ابتدا ئی حصے میں ( کھجوریں ) پانی میں ڈال دی جا تی تھیں جب آپ صبح کرتے تو اسے ( پیتے ) اور جو رات آتی ( اس میں ) پیتے اور صبح کو اور اگلی رات کو اس کے بعد کا دن عصر تک اگر کچھ بچ جا تا تو خادم کو پلا دیتے ( تا کہ ختم ہو جا ئے ) یا ( اگر کو ئی پینے والا نہ ہو تا یا بچ جا تی تو ) اس کو گرا دینے کا حکم دیتے ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یحییٰ بہرا نی سے حدیث بیان کی ، کہا : لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے نبیذ کا ذکر کیا تو انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیر کی رات کو مشکیزے میں ( پانی کے ساتھ کھجور ڈال کر ) نبیذ بنا لی جا تی تھی تو آپ اسے پیر کو اور منگل کو عصر تک پیتے اگر اس میں سے کچھ بچ جاتا تو خادم کو پلا دیتے یا گرادیتے ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے انھوں نے ابو عمر سے ، انھوں نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کشمش کو پانی میں ڈال دیا جا تا آپ اس نبیذ کو اس دن اور اس سے اگلے دن اور اس کے بعد والے تیسرے دن کی شام تک نوش فرما تے ، پھر آپ حکم دیتے تو وہ دوسروں کو پلا دی جا تی تھی یا گرا دی جا تی تھی ۔
۔ جریر نے اعمش سے انھوں نے یحییٰ ابو عمر سے ، انھوں نے حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مشک میں کشمش ڈال دی جا تی تھی آپ اس کو اس دن پیتے اور اس کے اگلے دن اور اس کے بعد والے دن تک پیتے اور جب تیسرے دن کی شام ہو تی تو آپ اس کو خود پیتے کسی اور کو پلا تے پھر اگر بچ جا تا تو اس کو بہا دیتے ۔
زید نے ابو عمر یحییٰ نخعی سے روایت کی کہا : کچھ لوگوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے شراب بیچنے خریدنے اور اس کی تجارت کے متعلق سوال کیا ۔ تو انھوں نے پو چھا : کیا تم لو گ مسلمان ہو؟ انھوں نے کہا : ہاں ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرما یا : شراب کا بیچنا خریدنا اور اس کی تجارت کرنا جا ئز نہیں ہے ۔ پھر انھوں نے نبیذ کے متعلق سوال کیا ۔ حضرت ابن عباس نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر پر تشریف لے گئے پھر آپ کی واپسی ہوئی ۔ آپ کے ساتھیوں نےسبز گھڑوں ، کریدی ہوئی لکڑی اور کدو کے برتنوں میں نبیذ بنا ئی ہو ئی تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے گرادینےکا حکم دیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشکیزہ لا نے کا حکم دیا اس میں کشمش اور پانی ڈال دیے گئےیہ ( نبیذ ) رات کو بنا ئی گئی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح کی تو اس دن اس کو پیا اگلی رات کو پیا پھر اگلے دن شام تک پیا ، پیا اور پلا یا جب اگلی صبح ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو بچ گیا تھا اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے گرا دیا گیا ۔
ہمیں ثمامہ یعنی ابن حزن قشیری نے حدیث بیان کی ، کہا : میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ملنے گیا تو میں نے ان سے نبیذ کے متعلق سوال کیا ، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ایک حبشی کنیز کو آواز دی اور فرما یا : اس سے پوچھو یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نبیذ بنا یا کرتی تھی ۔ اس حبشی لڑکی نے کہا : میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے رات کو ایک مشک میں ( پھل ) ڈال دیتی تھی اور اس مشک کا منہ باندھ کر اس کو لٹکا دیتی تھی جب صبح ہو تی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے نوش فرما تے تھے ۔
حسن کی والدہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ایک مشک میں نبیذ بنا تے اس کا اوپر کا حصہ باندھ دیا جا تا تھا اس میں نچلی طرف کا سوراخ بھی تھا ۔ ہم صبح کو ( کھجور یا کشمش ) ڈالتے تو آپ اسے رات کو نوش فرما تے اور رات کے وقت ڈالتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کو نو ش فرما تے ۔
عبد العزیز بن ابی حازم نے ابو حازم سے انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی شادی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اس دن ان کی بیوی خدمت بجا لا رہی تھیں ، حالا نکہ وہ دلہن تھیں ۔ سہل نے کہا : کیا تم جا نتے ہو کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا پلا یا تھا ؟ اس نے را ت کو پتھر کے ایک بڑے برتن میں پانی کے اندر کچھ کھجوریں ڈال دی تھیں جب آپ کھا نے سے فارغ ہو ئے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ ( مشروب ) پلا یا ۔
یعقوب بن عبد الرحمٰن نے ابو حازم سے روایت کی ، کہا : میں نےحضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے حضرت ابو اسید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں نے یہ نہیں کہا ۔ جب آپ نے کھا نا تناول فرما لیا اس نے وہ ( مشروب ) کو پلا یا ۔
محمد ابو غسان نے کہا : مجھے ابو حازم نے حجرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث روایت کی اور کہا : ( اس نے ) پتھر کے ایک بڑے پیا لے میں ( نبیذ بنائی ) پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا نے سے فارغ ہو ئے تو اس ( ابو اسید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی دلہن ) نے اس ( پھل کو جوپانی کے ساتھ برتن میں ڈالا ہوا تھا ) پا نی میں گھلایا اور آپ کو پلا یا آپ کو خصوصی طور پر ( پلایا)
محمد بن سہل تیمی اور ابو بکر بن اسحٰق نے کہا : ہمیں ابن ابی مریم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابو غسان محمد بن مطرف نے بتا یا کہ مجھے ابو حازم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت بیان کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے عرب کی ایک عورت کا ذکر کیا گیا ۔ ( اس کے والد نعمان بن ابی الجون کندی نے پیش کش کی ) آپ نے ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہا : کہ اس ( عورت کولا نے کے لیے اس ) کی طرف سواری وغیرہ بھیجیں ۔ تو انھوں ( حضرت ابو اسید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے بھیج دی وہ عورت آئی بنو ساعدہ کے قلعہ نما مکانات میں ٹھہری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے روانہ ہو کر اس کے پاس تشریف لے گئے جب آپ اس کے پاس گئے تو وہ عورت سر جھکا ئے ہو ئے تھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب اس سے بات کی تو وہ کہنے لگی : میں آپ سے اللہ کی پناہ میں آتی ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " میں نے تمھیں خود سے پناہ دے دی ۔ " لوگوں نے اس سے کہا : کیا تم جا نتی ہو یہ کو ن ہیں ؟ اس نے کہا : نہیں انھوں نے کہا : یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور تمھیں نکا ح کا پیغا م دینے تمھا رے پاس آئے تھے ۔ اس نے کہا : میں اس سے کم تر نصیب والی تھی ۔ سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا ئے آپ خود اور آپ کے ساتھ بنو ساعدہ کے چھت والے چبوترے پر تشریف فرما ہو ئے پھر سہل پانی پلا ؤ " کہا : میں نے ان کے لیے وہی پیا لہ ( نما برتن ) نکا لا اور اس میں آپ کو پلا یا ۔ ابو حازم نے کہا : سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمارے لیے بھی وہی پیالہ نکالا اور ہم نے بھی اس میں سے پیا ، پھر عمر بن عبد العزیز نے حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے وہ پیا لہ بطور ہبہ مانگ لیا ۔ حضرت سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ پیا لہ ان کو ہبہ کر دیا ۔ ابو بکر بن اسحاق کی روایت میں ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " سہل!ہمیں ( کچھ ) پلا ؤ ۔
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے اس پیالے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر قسم کا مشروب پلا یا ہے ۔ شہد نبیذ پانی اور دودھ ۔
معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے ابو اسحاق ( ہمدانی ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جب ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مکہ سے مدینہ کی طرف روانہ ہوئے تو ہم ایک چرواہے کے پاس سے گزرے ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی ہوئی تھی ، انھوں ( حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کچھ دودھ دوہا ، پھر میں آپ کے پاس وہ دودھ لایا ، آپ نے اسے نوش فرمایا ، یہاں تک کہ میں راضی ہوگیا ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ابو اسحاق ہمدانی سے سنا ، کہہ رہے تھے : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئےسنا : کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے مدینہ کو آئے تو سراقہ بن مالک نے ( مشرکوں کی طرف سے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لئے بددعا کی تو اس کا گھوڑا ( زمین میں ) دھنس گیا ( یعنی زمین نے اس کو پکڑ لیا ) ۔ وہ بولا کہ آپ میرے لئے دعا کیجئے میں آپ کو نقصان نہیں پہنچاؤں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے دعا کی ( تو اس کو نجات ملی ) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیاس لگی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم بکریوں کے چرواہے کے قریب سے گزرے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں نے پیالہ لیا اور تھوڑا سا دودھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے دوہا اور لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ رضی اللہ عنہ نے پیا ، یہاں تک کہ میں خوش ہو گیا ۔
یونس نے زہری سے روایت کی ، کہا : ابن مسیب نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جس رات بیت المقدس کی سیر کرائی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو پیالے لائے گئے ۔ ایک میں شراب تھی اور ایک میں دودھ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کو دیکھا اور دودھ کا پیالہ لے لیا ۔ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے کہا کہ شکر ہے اس اللہ کا جس نے آپ کو فطرت کی ہدایت کی ( یعنی اسلام کی اور استقامت کی ) ۔ اگر آپ شراب کو لیتے تو آپ کی امت گمراہ ہو جاتی ۔
معقل نے زہری سے ، انھوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( دو پیالے ) لائے گئے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ انھوں ( معقل ) نے " ایلیاء " کا ذکر نہیں کیا ۔
ابو عاصم ضحاک نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھ سے ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ دودھ کا ( مقام ) نقیع سے لایا ، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کو ڈھانپا کیوں نہیں؟ ( اگر ڈھانپنے کو کچھ نہ تھا تو ) ایک آڑی لکڑی ہی اس پر رکھ لیتا ۔ ابوحمید ( راوی حدیث ) کہتے ہیں کہ ہمیں رات کے وقت مشکیزوں کو باندھنے اور دروازے بند کرنے کا حکم فرمایا ۔
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج اور زکریا بن اسحاق نے حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : مجھے حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بتایا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دودھ کا ایک پیالہ لائے ، اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند ۔ زکریا نے ( اپنی روایت کردہ حدیث میں ) حضرت ابو حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول : " رات کے وقت " بیان نہیں کیا ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے پانی مانگا ، ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نبیذ نہ پلائیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیوں نہیں! " پھر وہ شخص دوڑتا ہوا گیا اور ایک پیالے میں نبیذ لے کر آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " تم نے اسے ڈھانک کر کیوں نہیں دیا؟چاہے تم اس کے اوپر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی ( ہی ) رکھ دیتے ۔ " ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوش فرمایا ۔
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے سفیان ابو صالح سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص جو ابو حمید کہلاتاتھا ، نقیع ( مقام سے ) سے دودھ کا ایک پیالہ لایا ، جو ڈھانپا ہوا نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے اس کو ڈھانپا کیوں نہیں؟ ( اگر ڈھانپنے کو کچھ نہ تھا تو ) چاہے تم اس کے اوپر چوڑائی کے رخ ایک لکڑی ( ہی ) رکھ دیتے ۔
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو زبیرسے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : برتنوں کو ڈھانک دو ، مشکوں کا منہ بند کردو ، دروازہ بند کردو ، اورچراغ بجھادو ، کیونکہ شیطان مشکیزے کامنہ نہیں کھولتا ، وہ دروازہ ( بھی ) نہیں کھولتا ، کسی برتن کو بھی نہیں کھولتاہے ۔ اگر تم میں سے کسی کو اسکے سوا اور چیز نہ ملے کہ وہ اپنے برتن پر چوڑائی کے بل لکڑی ہی رکھ دے ، یا اس پر اللہ کا نام ( بسم اللہ ) پڑ ھ دے تو ( یہی ) کرلے کیونکہ چوہیا گھروالوں کے اوپر ( یعنی جب وہ اس کی چھت تلے سوئے ہوتے ہیں ) ان کا گھر جلادیتی ہے ۔ " قتیبہ نے اپنی حدیث میں : " اور دروازہ بند کردو " کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث روایت کی ، مگر انھوں نے ( یوں ) کہا : " برتن الٹ کر رکھ دو یا انھیں ڈھانک دو ۔ " اور برتن پر چوڑائی کے رُخ لکڑی رکھنے کا ذکر نہیں کیا ۔
زہیر نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رویت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دروازہ بند کردو " پھر لیث کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ انھوں نے کہا؛ " اور برتنوں کو ڈھانک دو " اور ی کہا : " وہ ( چوہیا ) گھر والوں پر ان کے کیڑے جلا دیتی ہے ۔
سفیان نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کی حدیث کے مانند روایت کی اور فرمایا؛ " چوہیا گھر والوں کے اوپر گھر کو جلا دیتی ہے ۔
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عطاء نے بتایا کہ انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : جب رات ہو جائے یا فرمایا کہ تم شام کرو تو اپنے بچوں کو ( گھروں میں ) روک لو کیونکہ اس وقت شیطان پھیل جاتے ہیں ۔ پھر جب کچھ رات گذر جائے تو بچوں کو چھوڑ دو اور اللہ کا نام لے دروازے بند کر دو کیونکہ شیطان بند دروازے نہیں کھولتا ۔ اور اللہ کا نام لے کر اپنے مشکیزوں کا بندھن باندھ دو اور اپنے برتنوں کو ڈھانک لو اللہ کا نام لے کر ۔ ( اگر برتن ڈھانکنے کے لئے اور کچھ نہ ملے سوا اس کہ ) ان برتنوں کے اوپر کوئی چیز چوڑائی میں رکھو ( تو وہی رکھ دو ) اور اپنے چراغوں کو بجھا دو ۔
اسحاق بن منصور نے کہا : ہمیں روح بن عبادہ نے خبر دی ، کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا مجھے عمرو بن دینار نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےسنا ، وہ اس طرح کہہ رہے تھے جس طرح عطاء نے بتایا ، البتہ انھوں نے یہ نہیں کہا؛ " اللہ عزوجل کا نام لو ۔
ابو عاصم نے کہا : ہمیں ابن جریج نے یہی حدیث عطاء اور عمرو بن دینار دے روح کی روایت کے مانند بیا ن کی ۔
ابو خثیمہ ( زہیر ) نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " سورج غروب ہونے لگے تو اپنے پھیل جانے والے جانوروں اور بچوں کو باہرنہ بھیجو یہاں تک کہ عشاء کی تک کی آمد جھٹپٹا رخصت ہوجائے ، کیونکہ سورج غروب ہونے کے بعد عشاء کی آمد کا جھٹپٹا ختم ہونے تک شیطانوں کو چھوڑا جاتا ہے ۔
سفیان بن ابو زبیر سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زہیر کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔
ہاشم بن قاسم نے کہا : " ہمیں لیث بن سعد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے یزید بن عبداللہ بن اسامہ بن ہاد لیثی نے یحییٰ بن سعید سے ، انھوں نے جعفر بن عبداللہ بن حکم سے ، انھوں نے قعقاع بن حکیم سے ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " برتن ڈھانک دو ، مشکیزے کامنہ باندھ دو ، کیونکہ سال میں ایک رات ایسی ہوتی ہے جس میں وبا نازل ہوتی ہے ۔ پھر جس بھی ان ڈھکے برتن اور منہ کھلے مشکیزے کے پاس سے گزرتی ہے ۔ تو اس وبا میں سے ( کچھ حصہ ) اس میں اُتر جاتا ہے ۔
علی جہضمی نے کہا : ہمیں لیث بن سعد نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر انھوں نے اس ( حدیث ) میں یہ کہا؛ " سال میں ایک ایسا دن ہے جس میں وبانازل ہوتی ہے ۔ " ( علی نے ) حدیث کے آخر میں یہ اضافہ کیا : لیث نے کہا : ہمارے ہاں کے عجمی لوگ کانون اول ( یعنی دسمبر ) میں اس وبا سے بچتے ہیں ( بچنے کے حیلے کرتے ہیں ۔)
سالم نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی ، کہا : " جب تم سونے لگو تواپنے گھروں میں ( جلتی ہوئی ) آگ نہ چھوڑا کرو ( اسے پوری طرح بجھا دیا کرو ۔)
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : مدینہ میں ایک گھر اپنے رہنے والوں کے اوپر جل گرا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کا حال سنایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " یہ آگ جو ہے یہ تمہاری دشمن ہے ۔ جب تم سونے لگو تو اس کو خود سے ( ہٹانے کے لیے ) بجھا ہٹا دیاکرو ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے خیثمہ سے ، انھوں ن ابوحذیفہ سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانا کھاتے تو اپنے ہاتھ نہ ڈالتے جب تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم شروع نہ کرتے اور ہاتھ نہ ڈالتے ۔ ایک دفعہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے پر موجود تھے اور ایک لڑکی دوڑتی ہوئی آئی جیسے کوئی اس کو ہانک رہا ہے اور اس نے اپنا ہاتھ کھانے میں ڈالنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ پھر ایک دیہاتی دوڑتا ہوا آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔ پھر فرمایا کہ شیطان اس کھانے پر قدرت پا لیتا ہے جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے اور وہ ایک لڑکی کو اس کھانے پر قدرت حاصل کرنے کو لایا تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ، پھر اس دیہاتی کو اسی غرض سے لایا تو میں نے اس کا بھی ہاتھ پکڑ لیا ، قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اس ( شیطان ) کا ہاتھ اس لڑکی کے ہاتھ کے ساتھ میرے ہاتھ میں ہے ۔
عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں اعمش نے خیثمہ بن عبدالرحمان سے خبر دی ، انھوں نے ابو حذیفہ ارحبی سے ، انھوں نے حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے کہا : جب ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھانے کی دعوت دی جاتی ، پھر ابومعاویہ کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، اورکہا : جیسے اس ( بدو ) کو پیچھے سے زور سے دھکیلا جارہا ہو ۔ اورلڑکی کے بارے میں کہا : جیسے اسے پیچھے سے زور دے دھکیلا جارہا ہو ، انھوں نے ا پنی حدیث میں بدو کے آنے کا ذکرپہلے کیا اور لڑکی کے آنے کا بعد میں اور حدیث کے آخر میں اضافہ کیا : " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بسم اللہ پڑھی اور تناول فرمایا ۔
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور لڑکی کا آنا ، اعرابی کے آنے سے پہلے بیان کیا ۔
ابو عاصم نے ابن جریج سے روایت کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے رسول ا للہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " کہ جب آدمی اپنے گھر میں جاتا ہے ، اور گھر میں داخل ہوتے وقت اور کھانا کھاتے وقت اللہ جل جلالہ کا نام لیتا ہے ، تو شیطان ( اپنے رفیقوں اور تابعداروں سے ) کہتا ہے کہ نہ تمہارے یہاں رہنے کا ٹھکانہ ہے ، نہ کھانا ہے اور جب گھر میں داخل ہوتے وقت اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہیں رہنے کا ٹھکانہ تو مل گیا اور جب کھاتے وقت بھی اللہ تعالیٰ کا نام نہیں لیتا تو شیطان کہتا ہے کہ تمہارے رہنے کا ٹھکانہ بھی ہوا اور کھانا بھی ملا ۔
روح بن عبادہ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئےسنا ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئےسنا ۔ ابوعاصم کی حدیث کے مانند ، البتہ انھوں نے یہ کہا : " اور اگر اس نے اپنے کھانے کے وقت اللہ کا نام نہ لیا اور اگر اس نے داخل ہوتے وقت اللہ کا نام نہ لیا ۔
حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بائیں ہاتھ سے نہ کھاؤ کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے ۔
سفیان نے زہری سے ، انھوں نے ابو بکر بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر سے ، انھوں نے اپنے دادا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تواپنے دائیں ہاتھ سے کھائے اور جب تم میں سے کوئی شخص پیےتواپنے دائیں ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے اوربائیں ہاتھ سے پیتا ہے ۔
عبیداللہ نے زہری سے سفیان کی سند کے ساتھ ( حدیث بیان کی ۔)
ابوطاہر اورحرملہ نے کہا : ہمیں عبداللہ بن وہب نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے عمر بن محمد نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے قاسم بن عبیداللہ بن عبداللہ بن عمر نے حدیث بیان کی ، انھوں نے سالم سے ، انھوں نے اپنے والد ( حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا؛ "" تم میں سے کوئی شخص نہ بائیں ہاتھ سے کھائے نہ اس ہاتھ سے پیے کیونکہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتاہے ۔ اور اسی سے پیتا ہے ۔ نافع اس روایت میں یہ اضافہ کرتے ہیں ؛ "" نہ اس ( بائیں ہاتھ ) سے لے اور نہ اس کے ذریعے سےدے ۔ "" اورابوطاہر کی روایت میں ہے : "" تم میں سےکوئی شخص ( بائیں ہاتھ سے ) ہر گز نہ کھائے ۔
۔ سیدنا ایاس بن سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ اپنے والد رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے بائیں ہاتھ سے کھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دائیں ہاتھ سے کھا ۔ وہ بولا کہ میرے سے نہیں ہو سکتا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کرے تجھ سے نہ ہو سکے ۔ اس نے ایسا غرور کی راہ سے کیا تھا ۔ راوی کہتا ہے کہ وہ ساری زندگی اس ہاتھ کو منہ تک نہ اٹھا سکا ۔
ولید بن کثیر نے وہب بن کیسان سے روایت کی ، انھوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں تھا ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر میں پرورش پارہا تھا ) اور میرا ہاتھ پیالے میں سب طرف گھوم رہا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لڑکے : بسم اللہ پڑھ کر داہنے ہاتھ سے کھا اور جو پاس ہو ادھر سے کھا ۔
محمد بن عمرو بن حلحلہ نے وہب بن کیسان سے ، انھوں نے حضرت عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ انھوں نےکہا : ایک دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھاناکھایااورمیں نے پیالے کی ہر جانب سے گوشت لیناشروع کیا تورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے آگے سے کھاؤ ۔
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے عبیداللہ سے ، انھوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ( منہ لگا کر پینے کے لیے ) مشکوں کو الٹانے سے منع فرمایا ۔
یونس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکوں کوالٹنے سے ( یعنی براہ راست ) ان کے منہ سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے ۔
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، البتہ انھوں نے کہا : ان ( مشکوں ) کا اختناث یہ ہے کہ مشک کا منہ الٹ کر اس میں سے ( براہ راست ) پانی پیا جائے ۔
ہمام نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکرپانی پینے سے ڈانٹ کر منع فرمایا ۔
سعید نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا ۔ قتادہ نے کہا : ہم نے پوچھا اور ( کھڑے ہوکر ) کھانا؟تو ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : یہ زیادہ برا اورگندا ( طریقہ ) ہے ۔
ہشام نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی اور قتادہ کاقول ذکر نہیں کیا ۔
ہمام نے کہا : قتادہ نے ہمیں ابو عیسیٰ اُسواری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے ڈانٹ کرروکا ۔
شعبہ نے کہا : ہمیں قتادہ نے ابو عیسیٰ اسواری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہوکر پانی پینے سے منع فرمایا ۔
ابوغطفان مری سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے کوئی شخص کھڑے ہوکر ہر گز نہ پیے اور جس نے بھول کرکھڑے ہوکر پی لیا ، وہ قے کردے ۔
ابوعوانہ نے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زم زم کا پانی پلایا تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ۔
سفیان نے عاصم سے ، انھوں نے شعبہ سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی ، اس کے ایک ڈول سےکھڑے کھڑے پیا ۔
ہشیم نےکہا : ہمیں عاصم احول اور مغیرہ نے شعبی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زمزم کا پانی پیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے تھے ۔
معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے عاصم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی کو سنا ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زمزم پلایا تو آپ نے کھڑے کھڑے پیا ، آپ نے ( اس وقت ) پانی مانگا تھا ( جب ) آپ بیت اللہ کے پاس تھے ۔
محمد بن جعفر اور وہب بن جریر دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔ دونوں کی حدیث میں ہے : میں ڈول لے کر آپ کے پاس آیا ۔
عبداللہ بن ابی قتادہ نے اپنے والد سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات سے منع فرمایا ہے ۔ کہ برتن کے اندر سانس لیا جائے ۔
ثمامہ بن عبداللہ بن انس نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم برتن میں ( سے پانی پیتے ہوئے اس سے منہ ہٹا کر ) تین مرتبہ سانس لیتے تھے ۔
عبدالوارث نے ابو عصام سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پینے کی چیز میں تین مرتبہ سانس لیتے تھے اور فرماتے تھے : "" یہ ( طریقہ ) زیادہ سیر کرنے والا ، زیادہ محفوظ اور زیادہ مزیدار ہے ۔ "" حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ( بھی ) پینے کی چیز میں تین مرتبہ سانس لیتا ہوں ۔
ہشام دستوائی نے ابو عصام سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " برتن میں ( سے پیتے ہوئے)
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا جس میں ( ٹھنڈا کرنے کے لئے ) پانی ملایا گیاتھا ۔ آپ کی دائیں طرف ایک اعرابی بیٹھا ہوا تھا اور بائیں طرف حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دودھ پیا ، پھر اعرابی کو دیا اور فرمایا : " دایاں ، اس کے بعد پھر دایاں ( مقدم ہوگا)
سفیان بن عینیہ نے زہری سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لائے تو میں دس برس کا تھا ۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو میں بیس سال کا تھا ۔ میری مائیں ( والدہ ، خالائیں ، پھوپھیاں ) مسلسل مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت کرنے کا شوق دلایاکرتی تھیں ۔ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائے ، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے پالتو بکری کا دودھ دوہا اور اس میں گھر کے کنوئے کا پانی ملایاگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نوش فرمایا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی ۔ اور اس وقت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بائیں جانب تھے ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ابو بکر کو عنایت فرمادیجئے ، لیکن آپ نے وہ ( دودھ کا برتن ) اپنی دائیں جانب ( بیٹھے ہوئے ) بدو کو تھمادیا اور فرمایا؛ " دایاں ، پھر ( اس کےبعد والا ) دایاں ۔
ابو طوالہ عبداللہ بن عبدالرحمان انصاری سے روایت ہے ، انھوں نےحضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر میں آئے اور پانی مانگا ۔ ہم نے بکری کا دودھ دوہا ، پھر اس میں اپنے اس کنوئیں سے پانی ملایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف بیٹھے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سامنے اور دائیں طرف ایک اعرابی تھا ۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیر ہو کر پی لیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ یا رسول اللہ! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( باقی ) اعرابی کو دیا اور سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں دیا اور فرمایا کہ دائیں طرف والے مقدم ہیں دائیں طرف والے ، پھر دائیں طرف والے ۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ سنت ہے ، یہ سنت ہے ، یہ سنت ہے ۔
امام مالک بن انس نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت سہل بن ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پینے کی کوئی چیز آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دائیں طرف ایک لڑکا تھا اور بائیں طرف بڑے لوگ تھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لڑکے سے فرمایا کہ تو مجھ کو بڑے لوگوں کو پہلے دینے کی اجازت دیتا ہے؟ وہ بولا کہ نہیں اللہ کی قسم میں اپنا حصہ کسی دوسرے کو نہیں دینا چاہتا ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکے کے ہاتھ میں دے دیا ۔
عبدالعزیز بن ابی حازم اور یعقوب بن عبدالرحمان القاری ، دونوں نے ابو حازم سے ، انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، ان دونوں نے یہ نہیں کہا : آپ نے وہ ( پیالہ اس کے ہاتھ پر ) رکھ دیا ، البتہ یعقوب کی روایت میں اس طرح ہے ۔ کہ آپ نے وہ ( پیالہ ) اسے عطا فرمادیا ۔
عمرو نے عطاء سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس وقت تک اپنا ہاتھ صاف نہ کرے جب تک اسے ( اپنی انگلیوں کو ) خود نہ چاٹ لے یا کسی اور کو نہ چٹوالے ۔ " ( جسےمحبت ہو وہ چاٹ سکتا ہے ۔)
ابن جریج نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : میں نے عطاء سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تو وہ اس وقت تک اپنا ہاتھ صاف نہ کرے ، جب تک اسے خود نہ چاٹ لے یا کسی اور کو نہ چٹوالے ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں ابن مہدی نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعد بن ابراہیم سے ، انھوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : میں نے د یکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے بعد اپنی تین انگلیاں چاٹ رہ تھے ۔ ابن حاتم نےتین کا ذکر نہیں کیا ، اور ابن ابی شیبہ کی روایت میں ( ابن کعب بن مالک کے بجائے ) عبدالرحمان بن کعب سے روایت ہے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کے الفاظ ہیں ۔
ابو معاویہ نے ہشام بن عروہ سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن سعد سے ، انھوں نے حضرت کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بیٹے سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین ا نگلیوں سے کھاتے تھے اور صاف کرنے سے پہلے اپنا ہاتھ ( تین انگلیاں ) چاٹ لیتے تھے ۔
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے عبدالرحمان بن سعد سے حدیث بیا ن کی کہ عبدالرحمان بن کعب ۔ یا عبداللہ بن کعب ۔ نے اپنے والد کعب ( بن مالک ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ انھوں نے ان کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین انگلیوں سےکھاتے تھے اور جب کھانے سے فارغ ہوتے توان کو چاٹ لیتے تھے ۔
۔ ( عبداللہ ) ابن نمیر نے کہا : ہمیں ہشام نے عبدالرحمان بن سعد سے حدیث بیان کی کہ عبدالرحمان بن کعب بن مالک اورعبداللہ بن کعب دونوں نے ۔ ۔ ۔ یا ان میں سے ایک نے ۔ ۔ ۔ اپنے والد کعب بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کےمانند روایت کی ۔
سفیان بن عینیہ نے ابو زبیر سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انگلیاں اور پیالہ چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا : " تم نہیں جانتے اس کے کس حصےمیں برکت ہے ۔
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سفیان ( ثوری ) نے ابو زبیر سے حدیث بیان کی ، انھو ں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی شخص کالقمہ گر جائے تو وہ اسے ا ٹھا لےاور اس پر جو ناپسندیدہ چیز ( تنکا ، مٹی ) لگی ہے اس کو اچھی طرح صاف کرلے اور اسے کھالے ، اس لقمے کو شیطان کےلیے نہ چھوڑے ، اور جب تک اپنی انگلیوں کو چاٹ نہ لے ۔ اس وقت تک اپنے ہاتھ کو رومال سے صاف نہ کرے ، کیونکہ اسے معلوم نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
ابو داود حفری اورعبدالرزاق دونوں نےسفیان ( ثوری ) سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔ ان دونوں کی حدیث میں ہے : "" اوراپنا ہاتھ رومال سے نہ پونچھے حتیٰ کہ اسے چاٹ لے یا چٹوالے "" اور اس کے بعدوالے الفاظ بھی ہیں ۔
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : شیطان تم میں سے ہر ایک کی ہر حالت میں اس کے پاس حاضر ہوتاہے حتیٰ کہ کھانے کے وقت بھی ، جب تم میں سے کسی سے لقمہ گرجائے تو جو کچھ اسے لگ گیا ہے ۔ اسے صاف کرکے کھالے اور اسے شیطان کے لئے نہ چھوڑے اور جب ( کھانے سے ) فارغ ہوتوا پنی انگلیاں چاٹ لے کیونکہ اسے پتہ نہیں کہ اس کے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سندکے ساتھ روایت کی : " جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے " آخرتک اور حدیث کاابتدائی حصہ؛ " شیطان تمہارے پا س حاضر ہوتا ہے " ذکر نہیں کیا ۔
محمد بن فضیل نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح اور ابوسفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ( انگلیاں ) چاٹنے کے بارے میں روایت بیان کی اور ابو سفیان سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، اور لقمے کا ذکر کیا ، ان دونوں ( جریر اورابومعاویہ ) کی حدیث کی طرح ۔
بہز نے کہا : ہمیں حماد بن سلمہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت کھاناکھاتے تو ( آخر میں ) اپنی تین انگلیوں کو چاٹتے اور کہا : آپ نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کا لقمہ گر جائے تو وہ اس سے ناپسندیدہ چیز کو دور کرلے اور کھالے اور اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے ۔ " اورآپ نے ہمیں پیالہ صاف کرنے کا حکم دیا اور فرمایا : " تم نہیں جانتے کہ تمھارے کھانے کے کس حصے میں برکت ہے ۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص کھاناکھائے تو اپنی انگلیوں کو چاٹ لے ، کیونکہ وہ نہیں جانتا کہ ان میں سے کس میں برکت ہے ۔
عبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں حماد نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنائی ، مگرانھوں نےکہا : " تم میں سے ہر ایک پیالہ صاف کرے ۔ " اور فرمایا : " تمھارے کس کھانے ( کے کس حصے ) میں برکت ہے ، یا ( فرمایا : ) کس کھانے میں تمھارے لئے برکت ڈالی جاتی ہے ۔
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ انصار میں ایک آدمی جس کا نام ابوشعیب تھا ، جس کا ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا ۔ اس انصاری نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر بھوک معلوم ہوئی تو اپنے غلام سے کہا کہ ہم پانچ آدمیوں کے لئے کھانا تیار کر کیونکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کرنا چاہتا ہوں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ آدمیوں میں پانچویں ہوں گے ۔ راوی کہتا ہے کہ اس نے کھانا تیار کیا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر دعوت دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ میں پانچویں تھے ۔ ان کے ساتھ ایک آدمی ہو گیا تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دروازے پر پہنچے تو ( صاحب خانہ سے ) فرمایا کہ یہ شخص ہمارے ساتھ چلا آیا ہے ، اگر تو چاہے تو اس کو اجازت دے ، ورنہ یہ لوٹ جائے گا ۔ اس نے کہا کہ نہیں یا رسول اللہ! بلکہ میں اس کو اجازت دیتا ہوں ۔
ابو بکر بن ابی شیبہ اور اسحاق بن ابراہیم نے ہمیں یہی حدیث ابو معاویہ سے بیان کی ، نیز یہ حدیث ہمیں نصر بن علی جہضمی اور ابو سعید اشج نے بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، عبیداللہ بن معاذ نے کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، نیز ہمیں عبداللہ بن عبدالرحمان دارمی نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں محمد بن یوسف نے سفیان سے حدیث بیان کی ، ان سب ( ابو معاویہ ، شعبہ اورسفیان ) نے اعمش سے روایت کی ، انھوں نے ابو وائل سے ، انھوں نے ابو مسعود سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث اسی طرح بیان کی جس طرح جریر کی حدیث ہے ۔ نصر بن علی نے اس حدیث کی اپنی روایت میں کہا : ہمیں ابو اسامہ نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش سے شقیق بن سلمہ سے ، انھوں نے ابو مسعود انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، پھر پوری حدیث بیان کی ۔
عمار بن رزیق نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، نیز زہیر نے کہا : ہمیں اعمش نے شقیق سے ، انھوں نے ابو مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، نیز ( زہیر نے ) اعمش سے ، انھوں نے سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہی حدیث بیان کی ۔
ثابت نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک فارس سے تعلق رکھنے والا پڑوسی شوربا اچھا بناتا تھا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے شوربا تیار کیا ، پھرآکر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی طرف اشارہ کرکے فرمایا : " ان کو بھی دعوت ہے؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " نہیں ( مجھے بھی تمہاری دعوت قبول نہیں ) وہ دوبارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے آیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان کو بھی؟ " اس نے کہا : نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تو نہیں ۔ " وہ پھر دعوت دینے کے لئے آیا ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان کو بھی؟ " توتیسری بار اس نے کہا : ہاں ۔ پھر آپ دونوں ایک دوسرے کے پیچھے چل پڑے یہاں تک کہ اس کے گھر آگئے ۔
خلف بن خلیفہ نے یزید بن کیسان سے ، انھوں نے ابوحازم سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دفعہ رات یا دن کو باہر نکلے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا تو پوچھا کہ تمہیں اس وقت کون سی چیز گھر سے نکال لائی ہے؟ انہوں نے کہا کہ یا رسول اللہ! بھوک کے مارے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، میں بھی اسی وجہ سے نکلا ہوں ، چلو ۔ پھر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انصاری کے دروازے پر آئے ، وہ اپنے گھر میں نہیں تھا ۔ اس کی عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو اس نے خوش آمدید کہا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فلاں شخص ( اس کے خاوند کے متعلق فرمایا ) کہاں گیا ہے؟ وہ بولی کہ ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گیا ہے ( اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عذر سے اجنبی عورت سے بات کرنا اور اس کو جواب دینا درست ہے ، اسی طرح عورت اس مرد کو گھر بلا سکتی ہے جس کے آنے سے خاوند راضی ہو ) اتنے میں وہ انصاری مرد آ گیا تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ساتھیوں کو دیکھا تو کہا کہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ آج کے دن کسی کے پاس ایسے مہمان نہیں ہیں جیسے میرے پاس ہیں ۔ پھر گیا اور کھجور کا ایک خوشہ لے کر آیا جس میں گدر ، سوکھی اور تازہ کھجوریں تھیں اور کہنے لگا کہ اس میں سے کھائیے پھر اس نے چھری لی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دودھ والی بکری مت کاٹنا ۔ اس نے ایک بکری کاٹی اور سب نے اس کا گوشت کھایا اور کھجور بھی کھائی اور پانی پیا ۔ جب کھانے پینے سے سیر ہوئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا کہ قسم اس کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ، قیامت کے دن تم سے اس نعمت کے بارے میں سوال ہو گا کہ تم اپنے گھروں سے بھوک کے مارے نکلے اور نہیں لوٹے یہاں تک کہ تمہیں یہ نعمت ملی ۔ ( اس فضل پر سوال ضرور ہوگا)
عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں یزید نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابوحازم نے حدیث سنائی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : ایک روزحضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیٹھے ہوئے تھے ، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ان کے ساتھ تھے ۔ اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لے آئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم دونوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے؟ " دونوں نے کہا : قسم اس ذات کی جس نے آپ کو حق کےساتھ بھیجا ہے! ہمیں بھوک نے ا پنے گھروں سےنکالا ہے ۔ پھر خلف بن خلیفہ کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔
حجاج بن شاعر نے کہا : ضحاک بن مخلد نے مجھے ایک رقعے سے حدیث بیان کی ، اسے میرے سامنے رکھا پھر اسے پڑھا ، کہا : مجھے حنظلہ بن عثمان نے اس کے بارے میں بتایا ، کہا : ہمیں سعید بن میناء نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : کہ جب ( مدینہ کے گرد ) خندق کھودی گئی تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوکا پایا ۔ میں اپنی بیوی کے پاس لوٹا اور کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت بھوکا پایا ہے ۔ اس نے ایک تھیلا نکالا جس میں ایک صاع جو تھے اور ہمارے پاس بکری کا پلا ہوا بچہ تھا ، میں نے اس کو ذبح کیا اور میری عورت نے آٹا پیسا ۔ وہ بھی میرے ساتھ ہی فارغ ہوئی میں نے اس کا گوشت کاٹ کر ہانڈی میں ڈالا ۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پلٹنے لگا تو عورت بولی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کے سامنے رسوا نہ کرنا ( کیونکہ کھانا تھوڑا ہے کہیں بہت سے آدمیوں کی دعوت نہ کر دینا ) ۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور چپکے سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے ایک بکری کا بچہ ذبح کیا ہے اور ایک صاع جو کا آٹا جو ہمارے پاس تھا ، تیار کیا ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم چند لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر تشریف لائیے ۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پکارا اور فرمایا کہ اے خندق والو! جابر نے تمہاری دعوت کی ہے تو چلو ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی ہانڈی کو مت اتارنا اور آٹے کی روٹی مت پکانا ، جب تک میں نہ آ جاؤں ۔ پھر میں گھر میں آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی تشریف لائے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم آگے آگے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے ۔ میں اپنی عورت کے پاس آیا ، وہ بولی کہ تو ہی پریشان ہو گا اور لوگ تجھے ہی برا کہیں گے ۔ میں نے کہا کہ میں نے تو وہی کیا جو تو نے کہا تھا ( لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کر دیا اور سب کو دعوت سنا دی ) میں نے وہ آٹا نکالا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا لب مبارک اس میں ڈالا اور برکت کی دعا کی ، پھر ہماری ہانڈی کی طرف چلے اور اس میں بھی تھوکا اور برکت کی دعا کی ۔ اس کے بعد ( میری عورت سے ) فرمایا کہ ایک روٹی پکانے والی اور بلا لے جو تیرے ساتھ مل کر پکائے اور ہانڈی میں سے ڈوئی نکال کر نکالتی جا ، اس کو اتارنا مت ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک ہزار آدمی تھے ، پس میں قسم کھاتا ہوں کہ سب نے کھایا ، یہاں تک کہ چھوڑ دیا اور لوٹ گئے اور ہانڈی کا وہی حال تھا ، ابل رہی تھی اور آٹا بھی ویسا ہی تھا ، اس کی روٹیاں بن رہی تھیں ۔
اسحاق بن عبداللہ بن ابی طلحہ نے کہا کہ انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سنی ہے کمزورتھی ۔ مجھے محسوس ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھوک لگی ہے ۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز ہے؟انھوں نے کہا : ہاں ، پھر انھوں نے جو کی کچھ روٹیاں نکالیں ، پھر اپنی اوڑھنی لی اس کے ایک حصے میں روٹیاں لپیٹیں ، پھر ان کو میرے کپڑوں کےنیچے چھپاد یا اور اس ( اوڑھنی ) کا بقیہ حصہ چادر کی طرح میرے اوپر ڈال دیا ، پھر مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیج دیا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں ان روٹیوں کو لے کر گیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں بیٹھے پایا اور آپ کےساتھ دوسرے لوگ موجود تھے ، میں ان کے پا کھڑا ہوگیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تمھیں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھیجا ہے؟ "" میں نے عرض کی : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا کھانے کے لئے؟ "" میں نے کہا : جی ہاں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا پنے ساتھیوں سے کہا "" چلو "" حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا حضور صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے اور میں ا ن کے آگے آگے چل پڑا ، یہاں تک کہ میں حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور ان کو بتایا ۔ حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہنے لگے : ام سلیم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( باقی ) لوگوں سمیت آگئے ہیں ، اور ہمارے پاس اتنا ( کھانا ) نہیں ہے کہ ان کو کھلا سکیں ۔ انھوں نے کہا : اللہ اور اسکا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر حضرت ابو طلحۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور ( جاکر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کےساتھ آئے اور وہ دونوں گھر میں داخل ہوگئے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ام سلیم!جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ لے آؤ ۔ "" وہ یہی روٹیاں لے آئیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں حکم دیا ، ان ( روٹیوں ) کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردیئے گئے ۔ ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے ا پنا گھی کا کپہ ( چمڑے کا گول برتن ) ان ( روٹیوں ) پر نچوڑ کر سالن شامل کردیا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں جو کچھ اللہ نے چاہا پڑھا ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" دس آدمیوں کو آنے کی اجازت دو ۔ "" انھوں ( ابوطلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے دس آدمیوں کو اجازت دی ، انھوں نے کھانا کھایا حتیٰ کہ سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : "" دس آدمیوں کو اجازت دو ۔ "" انھوں نے اجازت دی ، ان سب نے کھایا سیر ہوگئے اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا : "" دس آدمیوں کو اجازت دو "" یہاں تک کہ سب لوگوں نے کھا لیا اورسیر ہوگئے ۔ وہ ستر یا اسی لوگ تھے ۔
عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلانے کے لئے آپ کے پاس بھیجا ، انھوں نے کھانا تیار کیاتھا ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نےکہا : میں آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ۔ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف دیکھا تو مجھے شرم آئی ، میں نے کہا : " حضرت ابو طلحۃ کی دعوت قبول فرمائیے ۔ " اس پر آپ نے لوگوں سےکہا؛ " اٹھو ۔ " حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے تو آپ کے لئے ( کھانے کی ) کچھ تھوڑی سی چیز تیار کی ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کھانے کو چھوا اور اس میں برکت کی دعا کی ، پھرفرمایا : " میرے ساتھیوں میں سے دس کو اندرلاؤ " اور ( ان سے ) فرمایا : " کھاؤ " اور آپ نے ان کے لئے اپنی انگلیوں کے درمیان سے کچھ نکالا تھا ( برکت شامل کی تھی ) ، سو انھوں نے کھایا ، سیر ہوگئے ، اور باہر چلے گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دس آدمیوں کو اندر لاؤ ۔ " پھر انھوں نے کھایا ، سیر ہوگئے اور چلے گئے ، وہ دس دس کو اندر لاتے اور دس دس کو باہر بھیجتے رہے ، یہاں تک کہ ان میں سےکوئی باقی نہ بچا مگر سب نے کھا لیا اور سیر ہوگئے ، پھر اس کو سمیٹا تو وہ اتنا ہی تھا جتنا ان کے کھانے ( کے آغاز ) کے وقت تھا ۔
یحییٰ بن سعید اموی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث سنا ئی کہا : ہمیں سعد بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : مجھے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا پھر ابن نمیر کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ، مگر انھوں نے اس کے آخر میں یوں کہا : جو بچا تھا آپ نے اسے لے کر اکٹھا کیا پھر اس میں بر کت کی دعا کی کہا : تو وہ ( پھر سے ) اتنا ہی ہو گیا : جتنا تھا پھر فرما یا : " تمھارے لیے ہے ۔ " ( آپ نے کھا نے کے آغاز میں بھی برکت کی دعا کی اور آخر میں بھی ۔)
عبد الرحمٰن بن ابی لیلیٰ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے کہا کہ وہ خا ص طور پر صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھا نا تیار کردے پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجا گیا اس کے بعد حدیث بیان کی اور اس میں یہ ( بھی ) کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( کھانے پر ) اپنا ہاتھ رکھا اور اس پر بسم اللہ پڑھی پھر فرما یا : " دس آدمیوں کو اندر آنے کی ) اجازت دو " انھوں نے دس آدمیوں کو اجازت دی وہ اندر آئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا " بسم اللہ پڑھو اور کھا ؤ " تو ان لو گوں نے کھا یا حتی کہ اسی آدمیوں کے ساتھ ایسا ہی کیا ( دس دس کواندر بلا یا بسم اللہ پڑھ کر کھا نے کو کہا ۔ ) اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور گھر والوں نے کھا یا اور ( پھر بھی ) انھوں نے کھا نا بچا دیا ۔
یحییٰ ( مازنی ) نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھا نے کا یہی قصہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالےسے بیان کیا اور اس میں کہا : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ دروازے پر کھڑے ہو گئے ۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لا ئے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم !صرف تھوڑا ساکھانا تھا آپ نے فرما یا : " لے آؤ اللہ تعا لیٰ عنقریب اس میں برکت ڈال دے گا ۔
عبد اللہ بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث روایت کی اور اس میں کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تنا ول فرما یا اور گھر والوں نے کھا یا اور اتنا بچا دیا جو انھوں نے پڑوسیوں کو ( بھی ) بھجوادیا ۔
عمرو بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہو ئے دیکھا آپ پیٹھ اور پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے ۔ پھر وہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس آئے اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد میں لیٹے ہو ئے دیکھا ہے آپ پیٹھ سے پیٹ کے بل کروٹیں لے رہے تھے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھوکے ہیں اور ( ساری ) حدیث بیان کی اور اس میں یہ کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو طلحہ حضرت ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کھا نا کھا یا اور کچھ کھا نا بچ گیا جو ہم نے اپنے پڑوسیوں کو ہدیہ کردیا ۔
اسامہ نے بتا یا کہ یعقوب بن عبد اللہ بن ابی طلحہ نے انھیں حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے ۔ ایک دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجدمیں اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیٹھے ہو ئے ان سے باتیں کرتے ہو ئے پایا ۔ آپ نے بطن مبا رک پر ایک پتھر کو ایک چوڑی سی پٹی سے باندھ رکھا تھا ۔ ۔ ۔ اسامہ نے کہا : مجھے شک ہے ( کہ یعقوب نے " پتھر " کا لفظ بولا یا نہیں ) ۔ ۔ ۔ میں نے آپ کے ایک ساتھی سے پو چھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بطن کو کیوں باندھ رکھاہے؟ لوگوں نے بتا یا : بھوک کی بنا پر ۔ پھر میں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس گیا وہ ( میری والدہ ) حضرت ام سلیم بنت ملحان رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے خاوندتھے میں نے ان سے کہا : اباجا ن !میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے پیٹ پر پٹی باندھ رکھی ہے میں نے آپ کے بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین سے پو چھا : اس کا کیا سبب ہے؟ انھوں نے کہا بھوک ۔ پھر حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ میری ماں کے پاس گئےاور پوچھا : کہ کو ئی چیز ہے؟ انھوں نے کہا : ہاں میرے پاس روٹی کے ٹکڑے اور کچھ کھجوریں ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہمارے پاس تشریف لے آئیں تو ہم آپ کو سیر کر کے کھلا دیں گے ۔ اور اگر کو ئی اور بھی آپ کے ساتھ آیا تو یہ کھانا کم ہو گا پھر باقی ساری حدیث بیان کی ۔
نضر بن انس نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کھا نے کے بارے میں ان سب کی حدیث کے مطا بق روایت کیا ۔
اسحٰق بن عبد اللہ بن ابی طلحہ سے روایت ہے کہ انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہہ رہے تھے : ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے تیار کیے ہوئے کھانے کی دعوت دی ، حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس کھانے پر گیا ، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جوکی روٹی اور شوربہ رکھا ، اس میں کدو اور چھوٹے ٹکڑوں کی صورت میں محفوظ کیا ہوا گوشت تھا حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پیا لے کی چاروں طرف سے کدو تلا ش کررہےتھے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : میں اسی دن سے کدو کو پسند کرتا ہوں ۔
سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کھا نے کی دعوت دی میں بھی آپ کے ساتھ گیا ۔ آپ کے لیے شوربہ لا یا گیا اس میں کدو ( بھی ) تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کدو کھا نے لگے وہ آُ کو اچھا لگ رہا تھا ۔ جب میں نے یہ بات دیکھی تو میں کدو ( کے ٹکڑے ) آپ کے سامنے کرنے لگا اور خود نہ کھا ئے ۔ حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس دن کے بعد سے مجھے کدو بہت اچھا لگتا ہے ۔
معمر نے ثابت بنا نی اور عاصم احول سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک شخص نے جو درزی تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت دی اور یہ اضافہ کیا کہ ثابت نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : اس کے بعد جب بھی میرے لیے کھانا بنتا ہے اور میں ایسا کرسکتا ہوں کہ اس میں کدو ڈالا جا ئے تو ڈالا جا تا ہے ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے یزید بن خمیر سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے والد کے ہاں مہمان ہو ئے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجور پنیر اور گھی سے تیار کیا ہوا حلوہ پیش کیا ، آپ نے اس میں سے تناول فرما یا ، پھر آپ کے سامنے کھجور یں پیش کی گئیں تو آپ کھجوریں کھا رہے تھے ۔ اور گٹھلیاں اپنی دو انگلیوں کے درمیان ڈالتے جا رہے تھے ۔ ( کھا نے کے لیے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہادت کی اور درمیانی انگلی اکٹھی کی ہوئی تھیں ۔ شعبہ نے کہا : میر اگمان ( غالب ) ہے اور ان شاء اللہ یہ بات یعنی گٹھلیوں کو دوانگلیوں کے درمیان ڈالنا اس ( حدیث ) میں ہے ۔ پھر ( آپ کےسامنے ) مشروب لا یا گیا ۔ آپ نے اسے پیا ، پھر اپنی دائیں جا نب والے کو دے دیا ۔ ( عبد اللہ بن بسر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو میرے والد نے جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری کی لگا م پکڑی ہو ئی تھی عرض کی : ہمارے لیے اللہ سے دعا فرما ئیے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( دعا کرتے ہو ئے ) فرما یا " اے اللہ !تونے انھیں جو رزق دیا ہے اس میں ان کے لیے برکت ڈال دے اور ان کے گناہ بخش دے اور ان پر رحم فرما ۔
ابن ابی عدی اور یحییٰ بن حماد دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ گٹھلیوں کو دو انگلیوں کے درمیان ڈالنے کے بارے میں شک ( کا اظہار ) نہیں کیا ۔
حضرت عبد اللہ بن جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تازہ کھجور کے ساتھ ککڑی کھا تے ہو ئے دیکھا ۔
حفص بن غیاث نے مصعب بن سلیم سے روایت کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دونوں گھٹنے کھڑےکر کے تھوڑے سے زمین پر لگ کر بیٹھے تھے ۔ کھجوریں کھا رہے تھے ۔
زہیر بن حرب اور ابن ابی عمر نے سفیان بن عیینہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مصعب بن سلیم سے انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی : کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں پیش کی گئیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح بیٹھےہو ئے ان کو تقسیم فرما نے لگے جیسے آپ ابھی اٹھنےلگے ہوں ( بیٹھنےکی وہی کیفیت جو پچھلی حدیث میں بیان ہو ئی دوسرے لفظوں میں بتا ئی گئی ہے ) اور آپ اس میں سے جلدی جلدی چند دانے کھارہے تھے ۔ زہیر کی ۔ روایت میں ذَريعاً کے بجائے حَثِيثًا کا لفظ ہے یعنی بغیر کسی اہتمام کے جلدی جلدی ۔
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی کہا : میں نے جبلہ بن سحیم سے سنا کہ عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں کھجوروں کا راشن دیتے تھے ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے ۔ اور ہم ( کھجوریں ) کھاتے تھے ۔ ہم کھا رہے ہو تے تو حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمارے قریب سے گزرتے اور فرما تے : اکٹھی دودوکھجوریں مت کھاؤ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکٹھی دودو کھجوریں کھانے سے منع فرما یا ہے ، سوائے اس کے کہ آدمی اپنے ( ساتھ کھانے والے ) بھا ئی سے اجازت لے ۔ شعبہ نے کہا : میرا یہی خیال ہے کہ یہ جملہ یعنی اجازت لینا حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اپنا قول ہے ۔ ( انھوں نے اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت نہیں کیا ۔)
عبید اللہ کے والد معاذ اور عبدالرحمٰن بن مہدی دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔ ان دونوں کی روایت میں شعبہ کا اور ان ( جبلہ بن سحیم ) کا یہ قول موجود نہیں ، ِ " ان دنوں لوگ قحط سالی کا شکار تھے ۔
سفیان نے جبلہ بن سحیم سے روایت کی کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ کو ئی شخص ساتھیوں سے اجازت لیے بغیر اکٹھی دودوکھجوریں کھائے ۔
عروہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایسے گھر کے لوگ بھوکے نہیں رہتے جن کے پاس کھجوریں ہوں ۔
ابوالرجال محمد بن عبد الرحمٰن نے اپنی والدہ ( عمرہ منت عبد الرحمان انصاریہ ) سے انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : " عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں عائشہ! جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں ۔ جس گھر میں کھجوریں نہ ہو ں اس میں رہنے والے بھوکے ہیں ۔ یا فرما یا ) اس گھر کے لو گ بھوکے رہ جا تے ہیں ۔ آپ نے یہ کلمات دویا تین بار فرما ئے ۔
عبد اللہ بن عبد الرحمٰن نے عامر سعد بن ابی وقاص سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرما یا : جس شخص نے صبح کے وقت مدینہ کے دوپتھریلے میدانوں کے درمیان کی ساتھ کھجوریں کھا لیں ، اس کو شام تک کو ئی زہر نقصان نہیں پہنچا ئے گا ۔
ابو اسامہ نے ہا شم بن ہاشم سے روایت کی ، کہا : میں نے عامر بن سعد بن ابی وقاص سے سنا ، کہہ رہے تھے میں نے ( اپنے والد ) حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہو ئے سنا ، " جس نے صبح کو سات عجوہ کھجوریں کھالیں اس دن اسے زہر نقصان پہنچا سکے گا نہ جا دو ۔
مروان بن معاویہ فرازی اور ابو بدر شجاع بن ولید دونوں نے ہاشم بن ہاشم سے ، اسی سند کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔ وہ دونوں یہ نہیں کہتے : میں نے نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ۔
عبد اللہ بن ابی عتیق نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ( مدینہ کے ) بالائی حصے کی عجوہ کھجوروں میں شفاہے یا ( فرما یا : ) صبح کے اول وقت میں ان کا استعمال تریا ق ہے ۔
جریر اور عمر بن عبید نے عبدالملک بن عمیر سے انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرما تے ہو ئے سنا " کھمبی من ( وہ کھانا جو سلویٰ کے ساتھ بنی اسرا ئیل کے لیے آسمان کی جانب سے اتراتھا ) کی ایک قسم ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
شعبہ نے عبدالملک بن عمیر سے روایت کی کہا : عمرو بن حریث سےسنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ فرما رہے تھے " کھمبی من کی ایک قسم ہے اور اس کا پا نی آنکھوں کے لیے شفاہے ۔
شعبہ نے کہا : مجھے بن عتیبہ نے حسن عرنی سے خبر دی انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ شعبہ نے کہا : جب مجھ سے حکم نے یہ روایت کی تو میں نے عبد الملک کی روایت کی وجہ سے اس کو منکر قرارنہ دیا ۔
عبثر نے مطرف سے ، انھوں نے حسن سے ، انھوں نے عمرو بن حریث سے انھوں نے سعید بن زید بن عمرو بن نفیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعا لیٰ نے بنی اسرا ئیل کے لیے نازل کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
جریر نے مطرف سے انھوں نے حکم بن عتیبہ سے انھوں نے حسن عرنی سے انھوں نے عمرو بن حریث سے ، انھوں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، کہ آپ نے فر ما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ تعا لیٰ نے حضرت مو سیٰ علیہ السلام کو ( آسمان سے ) اتار کر عطا کیا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
سفیا ن نے عبد الملک بن عمیر سے روایت کی ، کہا : میں نے عمرو بن حریث سے سنا ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا تھا کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " کھمبی اس من میں سے ہے جسے اللہ عزوجل نے بنی اسرئیل پر ( آسمان سے ) اتارا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفاہے ۔
شہر بن حوشب نے کہا : میں نے عبد الملک بن عمیر سےسنا ، انھوں نے کہا : میں عبد الملک سے ملا تو انھوں نے مجھے عمرو بن حریث سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : "" کھمبی اس من میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کے لیے شفا ہے ۔
ابو سلمہ عبد الرحمٰن نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم مرالظہرا ن ( کے مقام ) پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور ہم پیلو چن رہے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ان میں سے سیاہ پیلو چنو ۔ " ہم نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یوں لگتا ہے جیسے آپ نے بکریاں چرا ئی ہو ں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " ہاں کو ئی نبی نہیں جس نے بکریاں نہ چرا ئی ہوں ۔ " یا اسی طرح کی بات ارشاد فرما ئی ۔
یحییٰ بن حسان نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " سالنوں میں سے عمدہ یا ( فرمایا ) عمدہ سالن سرکہ ہے ۔
یحییٰ بن صالح وحاظی نے کہا کہ ہمیں سلیمان بن بلال نے اسی سند کے ساتھ حدیث سنا ئی اور کہا : " سالنوں میں سے عمدہ " اور شک نہیں کیا ۔
ابو بشر نے ابو سفیان ( طلحہ بن نافع ) سے انھوں نے حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے سالن کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے کہا : ہمارے پاس تو صرف سرکہ ہے آپ نے سرکہ منگایا اور اسی کے ساتھ روٹی کھا نا شروع کردی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے ۔ " سرکہ عمدہ سالن ہے سرکہ عمدہ سالن ہے ۔
اسماعیل بن علیہ نے مثنیٰ بن سعید سے حدیث بیان کی کہا : مجھے طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی کہ انھوں نے حضرت جا بربن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے ۔ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے تو خادم آپ کے لیے روٹی کے کچھ ٹکڑے نکال کر لا یا آپ نے پو چھا : " کو ئی سالن نہیں ہے؟ " اس نے کہا : تھوڑا سا سرکہ ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " بلا شبہ سرکہ عمدہ سالن ہے ۔ " حضرت جا بر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : جب سے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سنا ہے میں سرکہ پسند کرتا ہوں اور طلحہ ( راوی ) نے کہا : جب سے میں نے جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ حدیث سنی ہے میں بھی سرکے کو پسند کرتا ہوں ۔
نصر کے والد علی جہضمی نے کہا : ہمیں مثنیٰ بن سعید نے طلحہ بن نافع سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے گھر لے گئے انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول : " سرکہ عمدہ سالن ہے " تک ابن علیہ کی حدیث کے مانند بیان کی اور بعد کا حصہ بیان نہیں کیا ۔
حجاج بن ابی زینب نے کہا : مجھے ابو سفیان طلحہ بن نافع نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں کسی گھر میں بیٹھا ہوا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر میرے پاس سے ہوا ، آپ نے میری طرف اشارہ کیا میں اٹھ کر آپ کے پاس آیا آپ نے میرا ہا تھ پکڑا اور چل پرے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حجروں میں سے کسی کےحجرے پر آئے اور اندر داخل ہو گئےپھر مجھے بھی آنے کی اجازت دی میں ( حجرہ انورمیں ) ان کے حجاب کے عالم میں داخل ہوا آپ نے فرما یا : " کچھ کھا نے کو ہے؟ " گھر والوں نے کہا : ہے اور تین روٹیاں لا ئی گئیں اور ان کو ایک اونی رومال ( دستراخوان ) پر رکھ دیا گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک روٹی اپنے سامنے رکھی اور ایک روٹی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے تیسری کے دوٹکڑے کیے ، آدھی اپنے سامنے رکھی اور آدھی میرے سامنے رکھی پھر آپ نے پو چھا : " کو ئی سالن بھی ہے؟ " گھر والوں نے کہا : تھوڑا سا سرکہ ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " لے آؤ سرکہ کیا خوب سالن ہے
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انھوں نے جا بر بن سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کو ئی کھا نا لا یا جا تا تو آپ اس میں سے تناول فرماتے اور جو بچ جا تا اسے میرے پاس بھیج دیتے ایک دن آپ نے میرے پاس بچا ہوا کھا نا بھیجا جس میں سے آپ نے خود کچھ نہیں کھا یا تھا کیونکہ اس میں ( کچا ) لہسن تھا میں نے آپ سے پو چھا : کیا یہ حرام ہے ؟ آپ نے فرما یا : " نہیں لیکن میں اس کی بد بو کی وجہ سے اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ " میں نے عرض کی : جو آپ کو ناپسند ہے وہ مجھے بھی ناپسند ہے ۔
یحییٰ بن سعید نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔
حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام افلح نے حضرت ایوب انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں مہمان ٹھرے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نیچے کے مکان میں رہے اور سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ اوپر کے درجہ میں تھے ۔ ایک دفعہ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رات کو جاگے اور کہا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سر کے اوپر چلا کرتے ہیں ، پھر ہٹ کر رات کو ایک کونے میں ہو گئے ۔ پھر اس کے بعد سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر جانے کے لئے کہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نیچے کا مکان آرام کا ہے ( رہنے والوں کے لئے اور آنے والوں کے لئے اور اسی لئے رسول اللہ نیچے کے مکان میں رہتے تھے ) ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا میں اس چھت پر نہیں رہ سکتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہوں ۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اوپر کے درجہ میں تشریف لے گئے اور ابوایوب رضی اللہ عنہ نیچے کے درجے میں آ گئے ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کرتے تھے ، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھانا آتا ( اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں سے کھاتے اور اس کے بعد بچا ہوا کھانا واپس جاتا ) تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ ( آدمی سے ) پوچھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کھانے کی کس جگہ پر لگی ہیں اور وہ وہیں سے ( برکت کے لئے ) کھاتے ۔ ایک دن سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کھانا پکایا ، جس میں لہسن تھا ۔ جب کھانا واپس گیا تو سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی انگلیاں کہاں لگی تھیں؟ انہیں بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا نہیں کھایا ۔ یہ سن کر سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ گھبرا گئے اور اوپر گئے اور پوچھا کہ کیا لہسن حرام ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں ، لیکن میں اسے ناپسند کرتا ہوں ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا جو چیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ناپسند ہے ، مجھے بھی ناپسند ہے ۔ سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( فرشتے ) آتے تھے ( اور فرشتوں کو لہسن کی بو سے تکلیف ہوتی اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نہ کھاتے ) ۔
جریر بن عبدالحمید نےفضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابو حازم اشجعی سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا کہ مجھے ( کھانے پینے کی ) بڑی تکلیف ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی زوجہ مطہرہ کے پاس کہلا بھیجا ، وہ بولیں کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچائی کے ساتھ بھیجا ہے کہ میرے پاس تو پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسری زوجہ کے پاس بھیجا تو انہوں نے بھی ایسا ہی کہا ، یہاں تک کہ سب ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن سے یہی جواب آیا کہ ہمارے پاس پانی کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج کی رات کون اس کی مہمانی کرتا ہے؟ اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے ، تب ایک انصاری اٹھا اور کہنے لگا کہ یا رسول اللہ! میں کرتا ہوں ۔ پھر وہ اس کو اپنے ٹھکانے پر لے گیا اور اپنی بیوی سے کہا کہ تیرے پاس کچھ ہے؟ وہ بولی کہ کچھ نہیں البتہ میرے بچوں کا کھانا ہے ۔ انصاری نے کہا کہ بچوں سے کچھ بہانہ کر دے اور جب ہمارا مہمان اندر آئے اور دیکھنا جب ہم کھانے لگیں تو چراغ بجھا دینا ۔ پس جب وہ کھانے لگا تو وہ اٹھی اور چراغ بجھا دیا ( راوی ) کہتا ہے وہ بیٹھے اور مہمان کھاتا رہا ۔ اس نے ایسا ہی کیا اور میاں بیوی بھوکے بیٹھے رہے اور مہمان نے کھانا کھایا ۔ جب صبح ہوئی تو وہ انصاری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے تعجب کیا جو تم نے رات کو اپنے مہمان کے ساتھ کیا ( یعنی خوش ہوا ) ۔
وکیع نے فضیل بن غزوان سے ، انھوں نے ابوحازم سے ، انھوں نےابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی کے پاس ایک مہمان نے رات گزاری ، ان کے پاس صرف اپنا اور بچوں کا کھاناتھا ، اس نے اپنی بیوی سے کہا ، بچوں کو سلا دو اور چراغ بھجادو اورجو کھانا تمہارے پاس ہے وہ مہمان کے قریب کردو ، تب یہ آیت نازل ہوئی : وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ " وہ ( دوسروں کو ) خود پرترجیح دیتے ہیں چاہے انھیں سخت احتیاج لاحق ہو ۔
ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابو حازم سے انھوں نے ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے مہمان بنالیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس کی میزبانی کےلئے کچھ بھی نہ تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی ایسا شخص ہے جواس کو مہمان بنائے؟اللہ تعالیٰ اس پر رحم فرمائے! " انصار میں سے ایک شخص کھڑے ہوگئے ، انھیں ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاجاتا تھا ، وہ اس ( مہمان ) کواپنے گھر لے گئے ، اس کے بعد جریر کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ، انھوں نے بھی وکیع کی طرح آیت نازل ہونے کا ذکر کیا ۔
شبانہ بن سوار نے کہا : ہمیں سلیمان بن مغیرہ نے ثابت سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن ابی لیلیٰ سے ، انھوں نے حضرت مقدار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور میرے دونوں ساتھی آئے اور ( فاقہ وغیرہ کی ) تکلیف سے ہماری آنکھوں اور کانوں کی قوت جاتی رہی تھی ۔ ہم اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر پیش کرتے تھے لیکن کوئی ہمیں قبول نہ کرتا تھا ۔ آخر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اپنے گھر لے گئے ۔ وہاں تین بکریاں تھیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ان کا دودھ دوہو ، ہم تم سب پئیں گے پھر ہم ان کا دودھ دوہا کرتے اور ہم میں سے ہر ایک اپنا حصہ پی لیتا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ رکھ چھوڑتے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے اور ایسی آواز سے سلام کرتے جس سے سونے والا نہ جاگے اور جاگنے والا سن لے ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں آتے ، نماز پڑھتے ، پھر اپنے دودھ کے پاس آتے اور اس کو پیتے ۔ ایک رات جب میں اپنا حصہ پی چکا تھا کہ شیطان نے مجھے بھڑکایا ۔ شیطان نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو انصار کے پاس جاتے ہیں ، وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تحفے دیتے ہیں اور جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرورت ہے ، مل جاتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ایک گھونٹ دودھ کی کیا ضرورت ہو گی؟ آخر میں آیا اور وہ دودھ پی گیا ۔ جب دودھ پیٹ میں سما گیا اور مجھے یقین ہو گیا کہ اب وہ دودھ نہیں ملنے کا تو اس وقت شیطان نے مجھے ندامت کی اور کہنے لگا کہ تیری خرابی ہو تو نے کیا کام کیا؟ تو نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حصہ پی لیا ، اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم آئیں گے اور دودھ کو نہ پائیں گے تو تجھ پر بددعا کریں گے اور تیری دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوں گی ۔ میں ایک چادر اوڑھے ہوئے تھا جب اس کو پاؤں پر ڈالتا تو سر کھل جاتا اور جب سر ڈھانپتا تو پاؤں کھل جاتے تھے اور مجھے نیند بھی نہ آ رہی تھی جبکہ میرے ساتھی سو گئے اور انہوں نے یہ کام نہیں کیا تھا جو میں نے کیا تھا ۔ آخر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور معمول کے موافق سلام کیا ، پھر مسجد میں آئے اور نماز پڑھی ، اس کے بعد دودھ کے پاس آئے ، برتن کھولا تو اس میں کچھ نہ تھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا میں سمجھا کہ اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بددعا کرتے ہیں اور میں تباہ ہوا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے اللہ! کھلا اس کو جو مجھے کھلائے اور پلا اس کو جو مجھے پلائے ۔ یہ سن کر میں نے اپنی چادر کو مضبوط باندھا ، چھری لی اور بکریوں کی طرف چلا کہ جو ان میں سے موٹی ہو اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ذبح کروں ۔ دیکھا تو اس کے تھن میں دودھ بھرا ہوا ہے ۔ پھر دیکھا تو اور بکریوں کے تھنوں میں بھی دودھ بھرا ہوا ہے ۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں کا ایک برتن لیا جس میں وہ دودھ نہ دوہتے تھے ( یعنی اس میں دوہنے کی خواہش نہیں کرتے تھے ) ۔ اس میں میں نے دودھ دوہا ، یہاں تک کہ اوپر جھاگ آ گیا ( اتنا بہت دودھ نکلا ) اور میں اس کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے اپنے حصے کا دودھ رات کو پیا یا نہیں؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! آپ دودھ پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پی کر مجھے دیا تو میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اور پیجئے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور پیا ۔ پھر مجھے دیا ، جب مجھے معلوم ہو گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیر ہو گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا میں نے لے لی ہے ، تب میں ہنسا ، یہاں تک کہ خوشی کے مارے زمین پر گر گیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے مقداد! تو نے کوئی بری بات کی؟ وہ کیا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میرا حال ایسا ہوا اور میں نے ایسا قصور کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس وقت کا دودھ ( جو خلاف معمول اترا ) اللہ کی رحمت تھی ۔ تو نے مجھ سے پہلے ہی کیوں نہ کہا ہم اپنے دونوں ساتھیوں کو بھی جگا دیتے کہ وہ بھی یہ دودھ پیتے؟ میں نے عرض کیا کہ قسم اس کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سچا کلام دے کر بھیجا ہے کہ اب مجھے کوئی پرواہ نہیں جب آپ نے اللہ کی رحمت حاصل کر لی اور میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حاصل کی تو کوئی بھی اس کو حاصل کرے ۔
۔ نضر بن شمیل نے سلیمان بن مغیرہ سے اسی سند کےساتھ روایت کی ۔
ابو عثمان نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سو تیس آدمی تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کیا کسی پاس کھانا ہے؟ ایک شخص کے پاس ایک صاع اناج نکلا یا تھوڑا کم یا زیادہ ۔ پھر وہ سب گوندھا گیا ۔ پھر ایک مشرک آیا ، جس کے بال بکھرے ہوئے تھے لمبا بکریاں لے کر ہانکتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو ( بکری ) بیچتا ہے یا ہدیہ دیتا ہے؟ اس نے کہا کہ نہیں بیچتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی تو اس کا گوشت تیار کیا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلیجی ، گردے ، ۔ دل وغیرہ کو بھوننے کا حکم دیا ، ( حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : اللہ کی قسم!رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سوتیس آدمیوں میں سے ہر ایک شخص کو اس کی کلیجی وغیرہ کا ایک ٹکڑا دیا ، جو شخص موجودتھا اس کو دے دیا اور جو موجود نہیں تھا اسکے لئے رکھ لیا ۔ ( عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : آپ نے ( کھانے کے لئے ) دو بڑے پیالے بنائے اور ہم سب نے ان دو پیالوں میں سے کھایا اور سیر ہوگئے ، دونوں پیالوں میں کھانا پھر بھی بچ گیا تو میں نے اس کو اونٹ پر لاد لیا یاجس طرح انھوں نےکہا ۔
معمبر بن سلیمان کے والد نے کہا : ہمیں ابو عثمان نے حدیث بیان کی کہ انھیں حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اصحاب صفہ محتاج لوگ تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار فرمایا کہ جس کے پاس دو آدمیوں کا کھانا ہو وہ تین ( تیسرے : صحیح بخاری : 602 ) کولے جائے ۔ اور جس کے پاس چار کا ہو وہ پانچویں یا چھٹے کو بھی لے جائے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ تین آدمیوں کو لے آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس آدمیوں کو لے گئے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل و عیال بھی دس کے قریب تھے تو گویا آدھا کھانا مہمانوں کے لئے ہوا ) ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمارے گھر میں کوئی نہیں تھا سوائے میرے باپ اور میری ماں کے ۔ راوی نے کہا کہ شاید اپنی بیوی کا بھی کہا اور ایک خادم جو میرے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر میں تھا ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رات کا کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کھایا ، پھر وہیں ٹھہرے رہے یہاں تک کہ عشاء کی نماز پڑھی گئی ۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لوٹ گئے اور وہیں رہے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے ۔ غرض بڑی رات گزرنے کے بعد جتنی اللہ تعالیٰ کو منظور تھی سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ گھر آئے اور ان کی بیوی نے کہا کہ تم اپنے مہمانوں کو چھوڑ کر کہاں رہ گئے تھے؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم نے ان کو کھانا نہیں کھلایا؟ انہوں نے کہا کہ مہمانوں نے تمہارے آنے تک نہیں کھایا اور انہوں نے مہمانوں کے سامنے کھانا پیش کیا تھا لیکن مہمان ان پر نہ کھانے میں غالب ہوئے ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں تو ( سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی ناراضگی کے ڈر سے ) چھپ گیا تو انہوں نے مجھے پکارا کہ اے سست مجہول یا احمق! تیری ناک کٹے اور مجھے برا کہا اور مہمانوں سے کہا کہ کھاؤ اگرچہ یہ کھانا خوشگوار نہیں ہے ( کیونکہ بے وقت ہے ) ۔ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ میں اللہ کی قسم میں اس کو کبھی بھی نہ کھاؤں گا ۔ سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اللہ کی قسم ہم جو لقمہ اٹھاتے نیچے وہ کھانا اتنا ہی بڑھ جاتا ، یہاں تک کہ ہم سیر ہو گئے اور کھانا جتنا پہلے تھا اس سے بھی زیادہ ہو گیا ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس کھانے کو دیکھا کہ وہ اتنا ہی ہے یا زیادہ ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنی عورت سے کہا کہ اے بنی فراس کی بہن یہ کیا ہے؟ وہ بولی کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک کی قسم ( یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ) کہ یہ تو پہلے سے بھی زیادہ ( ہوگیا ) ہے تین حصے زیادہ ہے ۔ پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں سے کھایا اور کہا کہ میں نے جو قسم کھائی تھی وہ ( غصے میں ) شیطان کی طرف سے تھی ۔ پھر ایک لقمہ اس میں سے کھایا ، اس کے بعد وہ کھانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئے ۔ میں بھی صبح کو وہیں تھا اور ہمارے اور ایک قوم کے درمیان عقد تھا ( یعنی صلح کا اقرار تھا ) ، پس اقرار کی مدت گزر گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارہ آدمی ہمارے افسر کئے اور ہر ایک کے ساتھ لوگ تھے اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ ہر ایک کے ساتھ کتنے لوگ تھے ۔ پھر وہ کھانا ان کے ساتھ کر دیا اور سب لوگوں نے اس میں سے کھایا ۔ یا جس طرح انہوں نے بیان کیا ۔
جریری نے ابو عثمان سے ، انھوں نے حضرت عبدالرحمان بن ابی بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہمارے ہاں ہمارے کچھ مہمان آئے ، میرے والد رات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر گفتگو کیا کرتے تھے ، وہ چلے گئے اور مجھ سے فرمایا : عبدالرحمان! تم اپنے مہمانوں کی سب خدمت بجا لانا ۔ جب شام ہوئی تو ہم نے ( ان کے سامنے ) کھانا پیش کیا ، کہا : توانھوں نے انکار کردیا اور کہا : جب گھر کے مالک ( بچوں کے والد ) آئیں گے اور ہمارے ساتھ کھانا کھائیں گے ( ہم اس وقت کھانا کھائیں گے ۔ ) کہا : میں نے ان کو بتایا کہ وہ ( میرے والد ) تیز مزاج آدمی ہیں ، اگرتم نے کھانا نہ کھایا تو مجھے خدشہ ہے کہ مجھے ان کی طرف سے سزا ملے گی ۔ کہا : لیکن وہ نہیں مانے ، جب حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو ان ( کے متعلق پوچھنے ) سے پہلے انھوں نے کوئی ( اور ) بات شروع نہ کی ۔ انھوں نے کہا : مہمانوں ( کی میزبانی ) سے فارغ ہوگئے ہو؟گھر والوں نے کہا : واللہ! ابھی ہم فارغ نہیں ہوئے ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا میں نے عبدالرحمان کو کہا نہیں تھا؟ ( حضرت عبدالرحمان نے ) کہا : میں ایک طرف ہٹ گیا انھوں نے آواز دی : عبدالرحمان! میں کھسک گیا ۔ پھر انہوں نے کہا : اے احمق!میں تجھے قسم دیتا ہوں کہ اگر تو میری آوازسن رہا ہے تو آجا ۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں آگیا اور میں نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا کوئی قصور نہیں ہے ۔ یہ ہیں آپ کے مہمان ان سے پوچھ لیجئے ، میں ان کاکھانا ان کے پاس لایاتھا ، انہوں نے آپ کے آنے تک کھانے سے انکاور کردیا ، ( عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہاتو انھوں ( حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے ( ان سے ) کہا : کیا بات ہے؟تم نے ہمارا پیش کیا ہواکھانا کیوں قبول نہیں کیا؟ ( عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : تو حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم!میں آج رات یہ کھانا نہیں کھاؤں گا ۔ مہمانوں نے کہا اللہ کی قسم!ہم بھی اس وقت تک کھانا نہیں کھائیں گے جب تک آپ نہیں کھاتے ۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس شر جیسا ( شر ) ، اس رات جیسی ( رات ) میں نے کبھی نہیں دیکھی ، تم لوگوں پر افسوس!تمھیں کیا ہے؟تم لوگوں نے ہماری دعوت قبول کیوں نہیں کی؟پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ( میری ) پہلی بات ( نہ کھانے کی قسم ) شیطان کی طرف سے ( ابھارنے پر ) تھی ۔ چلو ، اپنا میزبانی کا کھانا لاؤ ۔ حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر کھانالایا گیا ، حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بسم اللہ پڑھ کر کھانا کھایا اور مہمانوں نے بھی کھایا صبح ہوئی تو ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ان لوگوں نے قسم پوری کرلی اور میں نے توڑدی ( کہا ) پھر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ سنایا ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : نہیں ، تم ان سے بڑھ کر قسم پوری کرنے والے ہو ، ان سے بہتر ہو ، " ( حضرت عبدالرحمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : مجھ تک کفارہ دینے کی بات نہیں پہنچی ( مجھے معلوم نہیں کہ میرے والد نے کفارہ دیا یا کب دیا ۔)
اعرج نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دو آدمیوں کا کھانا تین کے لئے کفایت کرنے والا ہوتاہے اور تین کا کھانا چار کو کافی ہوتا ہے ۔
اسحاق بن ابراہیم اور یحییٰ بن حبیب نے روح بن عبادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ابن جریج نےبتایا ، کہا : مجھے ابو زبیر نے خبر دی کہ انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ فرمارہے تھے : "" ایک آدمی کا کھانا دو کےلیے کافی ہوجاتا ہے ۔ اور دو کا کھانا چار کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔ اور چار کا کھانا آٹھ کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔ "" اور اسحاق کی روایت میں ہے : ( حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایا : "" میں نے سنا "" کے الفاظ ذکر نہیں کیے ۔
ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن جریج کی حدیث کے مانند روایت کی ۔
ابو معاویہ نے ہمیں اعمش سے خبر دی ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لیے کافی ہوجاتا ہے اور دو کا کھانا چار کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔
جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے ، انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک آدمی کا کھانا دو آدمیوں کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔ اور دو آدمیوں کا کھانا چا ر کے لئے کافی ہوجاتا ہے ۔ اور چار کا کھانا آٹھ کے لیے کافی ہوجاتا ہے ۔
یحییٰ قطان نے عبید اللہ سے روایت کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کا فر سات آنتوں میں کھا تا ہے جبکہ مومن ایک آنت میں کھا تا ہے ۔
ابو اسامہ اور ابن نمیر نے عبید اللہ سے معمر نے ایوب سے ( عبید اللہ اور ایوب ) دونوں نے نافع سے انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔
واقد بن محمد بن زید سے روایت ہے کہ انھوں نے نافع سے سنا ، انھوں نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک مسکین کو دیکھا وہ اس کے سامنے کھا نا رکھتے رہے رکھتے رہے کہا : وہ شخص بہت زیادہ کھا نا کھا تا رہا انھوں ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : آیندہ یہ شخص میرے ہاں نہ آئے کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرما تے ہوئے سنا ، بلا شبہ کا فر سات آنتوں میں کھا تا ہے ۔
عبد الرحمٰن نے سفیان سے ، انھوں نے ابو زبیر سے انھوں نے حضرت جا بر اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " مومن ایک آنت سے کھا تا ہے جبکہ کافرسات آنتوں میں کھا تا ہے ۔
ابن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں میرے والد نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے ابو زبیر سےحدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت جابر سے انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ، انھوں ( ابن نمیر ) نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر نہیں کیا ۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرما یا : " مومن ایک آنت میں کھا تا ہے جبکہ کا فر سات آنتوں میں کھا تا ہے ۔
عبد العز یز بن محمد نے ابو علاء سے انھوں نے اپنے والد سےانھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان سب کی حدیث کے مانند روایت کی ،
سہیل بن ابو صالح نے اپنے والد سے انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک مہمان آیا وہ شخص کا فر تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے اس کو بھی پی لیا ، پھر ایک اور ( بکری کا دودھ دوہنے ) کا حکم دیا اس نے اس کا بھی پی لیا ، حتی کہ اس نے اسی طرح سات بکریوں کا دودھ پی لیا پھر اس نے صبح کی توسلام لے آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا اس نے وہ دودھ پی لیا پھر دوسری بکری کا دودھ دوہنے کا حکم دیا ، وہ اس کا سارا دودھ نہ پی سکا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا : " مسلمان ایک آنت میں پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے ۔
جریر نے اعمش سےانھوں نے ابو حازم سے انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے میں عیب نہیں نکا لا اگرکو ئی چیز آپ کو پسند آتی تو آپ اس کو کھا لیتے اور اگر ناپسند ہو تی تو اسے چھوڑ دیتے ۔
زہیر نے ہمیں سلیمان اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔
آل جعدہ کے آزاد کردہ غلام ابو یحییٰ نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کبھی کسی کھا نے میں عیب نکا لا ہو ۔ اگر آپ کو کوئی کھا نا مرغوب ہوتا ( اچھالگتا ) تو اسے کھا لیتے اور اچھا نہ لگتا تو خاموش رہتے ۔