آل اسلام لائبریری

34 - کتاب الصید والذبائح

1

ہمام بن حارث نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے عرض کی : اللہ کےرسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں سدھائے ہوئے کتوں کو چھوڑتا ہوں ۔ وہ میرے لئے شکار کو قابو کرلیتے ہیں ۔ اور میں اس پر اللہ کا نام بھی لیتا ہوں ۔ ( بسم اللہ پڑھتا ہوں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جب تم اپنا سدھایا ہوا کتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو پھر اس کو کھالو ۔ " میں نے کہا : خواہ وہ کتے شکار کو مار ڈالیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : خواہ وہ شکار کو مارڈالیں ، جب تک کوئی اور کتا ، جو ان کے ساتھ نہیں ( بھیجا گیا ) ، اُن کے ساتھ شریک نہ ہوجائے ۔ " میں نے عرض کی : میں شکار کو موٹی لکڑی کے نوکدار بغیر پروں کے تیر کا نشان بناتا ہوں اور اسے مار لیتا ہوں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم بغیر پروں والا تیر مارو اور وہ اس کے جسم کو چھید دے ( خون نکل جائے ) تو اس کو کھالو اور اگر وہ اسے چوڑائی کی طرف سے نشانہ بنائے اور مارڈ الے تو مت کھاؤ ۔

2

بیا ن نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ ہم لوگ ان کتوں سے شکار کرتے ہیں؟آپ نے فرمایا : " جب تم اپنے سدھائے ہوئے کتے چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھ لو تو جو ( شکار ) وہ تمھارے لئے پکڑیں چاہے وہ اسے ماردیں ، تم اسے کھالو ، الا یہ کہ کتا ( اس میں سے ) کچھ خود کھالے ۔ اگر وہ کھا لے تو تم نہ کھاؤ ۔ کیونکہ مجھے خدشہ ہے کہ اس نے اپنے لئے ( شکار ) پکڑا ہوگا ۔ اگر دوسرے کتے ان کے ساتھ شامل ہوگئے ہیں تو مت کھاؤ ۔

3

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ ابی سفر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوال کیا ۔ آپ نےفرمایا : " جب اس نے اپنے ( چھیدنے والے ) تیز حصے کے ذریعے سے نشانہ بنایا ہوتو کھا لو اور اگر اپنی چوڑائی سے نشانہ بنا کر ماردیا ہو ۔ تووہ چوٹ لگنے سے مرا ہوا ( شکار ) ہے ، اسے نہ کھاؤ ۔ " اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے ( شکار پر ) اپناکتا چھوڑ دو اور اس پر بسم اللہ پڑھو تو اس کو کھا لو ، اگر کتے نے اس ( شکار ) میں سے کچھ کھا لیا ہے تو اس کو مت کھاؤ ، کیونکہ کتے نے اس ( شکار ) کو اپنے لئے پکڑا ہے ۔ " میں نے کہا اگر میں اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو بھی دیکھوں اور مجھے پتہ نہ چلے کہ دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے؟آپ نے فرمایا : " پھر تم نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نے صرف اپنے کتے پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے کتے پر بسم اللہ نہیں پڑھی ۔

4

ابن علیہ نے کہا : مجھے شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سےخبر دی ، انھوں نے کہا : میں نے شعبی کو کہتے ہوئے سنا ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سناکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کے متعلق سوا ل کیا ، پھر اسی کے مانند بیان کیا ۔

5

غندر نے کہا : ہمیں شعبہ نے عبداللہ بن ابی سفر سے ، انھوں نے اور کچھ دیگر لوگوں نے جن کا شعبہ نے ذکر کیا ، شعبی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر پر والے تیر کےمتعلق سوا ل کیا ، اسی کے مانند ۔

6

۔ عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں زکریا نے عامر ( شعبی ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے معراض کے شکار کے بارے میں پوچھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب لاٹھی کی لوہے والی طرف لگے تو کھا لے اور جب لکڑی والی طرف لگے اور مر جائے ، تو وہ وقیذ ہے ( یعنی موقوذہ ہے جو پتھر یا لکڑی سے مارا جائے اور وہ قرآن پاک میں حرام ہے ) اس کو مت کھا اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کتے کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب تو اللہ تعالیٰ کا نام لے کر اپنا کتا چھوڑے ، تو کھا لے لیکن اگر کتا شکار میں سے کھا لے تو مت کھا کیونکہ اس نے اپنے لئے شکار کیا ۔ میں نے کہا کہ اگر میں اپنے کتے کے ساتھ دوسرے کتے کو پاؤں اور یہ معلوم نہ ہو کہ کس کتے نے پکڑا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کو مت کھا کیونکہ تو نے اپنے کتے پر بسم اللہ کہی تھی اور دوسرے کتے پر نہیں پڑھی ۔

7

عیسیٰ بن یونس نے کہا : ہمیں زکریا بن ابی زائدہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ۔

8

سعید بن مسروق نے کہا : شعبی نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا وہ نہرین ( کے قصبے ) میں ہمارے ہمسائے اور ہمارے پاس آنے جانے و الے قریبی ساتھی تھے ۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال کیا کہ میں شکار پر اپنا کتا چھوڑتا ہوں ۔ پھر اپنے کتے کے ساتھ ایک اورکتا بھی دیکھتاہوں کہ اس نے اس کو شکار کرلیا ہے ۔ اور مجھے یہ نہیں پتہ کہ ( اصل میں ) ان دونوں میں سے کس نے شکار کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا؛ " پھر تم ( اس کو ) مت کھاؤ ، کیونکہ تم نے اپنے کت پر بسم اللہ پڑھی ہے ، دوسرے پر نہیں پڑھی ۔

9

حکم نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی ۔

10

علی بن مسہرنے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : " جب تم اپناکتا ( شکار پر ) چھوڑ وتو بسم اللہ پڑھو ، اور اگر وہ تمہارے لئے شکار کو جکڑ لے اور تم اس ( شکار ) کو زندہ پاؤ تو اس کو ذبح کردو ، اور اگر تم شکار کو اس حالت میں پاؤ کہ کتے نے اسے مار ڈالا ہو اور اس میں سے کچھ کھایا نہ ہو ۔ تواس کو بھی کھالو ، اور اگر تم اپنے کتے کے ساتھ ایک اور کتے کو پاؤ اور اس نے شکار کو مار ڈالا ہو ، تو اس کو نہ کھاؤ ، کیونکہ تم نہیں جانتے کہ اسے ان دونوں میں سے کس کتے نے مارا ہے اور اگر تم تیر مارو تو بسم اللہ پڑھو ، پھر اگرف ایک دن تک وہ ( شکار ) تمھیں نہ ملے ( بعد میں ملے ) اور تمھیں اس میں ا پنے تیر کے علاوہ کسی اور چیز کا نشان نہ ملے تو تم چاہو تو اس کو کھالو ، اور اگر وہ تمھیں پانی میں ڈوبا ہوا ملے تو مت کھاؤ ۔

11

عبداللہ بن مبارک نے کہا : ہمیں عاصم نے شعبی سے خگر دی ، انھوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تو اپنا ( شکاری ) کتا چھوڑے ، تو اللہ کا نام لے ( کر چھوڑ ) پھر اگر وہ تیرے شکار کو روک لے اور تو اس کو زندہ پائے ، تو اس کو ذبح کر اور اگر مار ڈالے اور کھائے نہیں ، تو تو اس کو کھا لے اور اگر تیرے کتے کے ساتھ دوسرا کتا ملے اور جانور مارا جا چکا ہو ، تو اس کو مت کھا کیونکہ معلوم نہیں کس نے اس کو مارا ۔ اور جو تو اللہ کا نام لے کر تیر مارے پھر اگر تیرا شکار ( تیر کھا کر ) ایک دن تک غائب رہے ، اس کے بعد تو اس میں اپنے تیر کے سوا اور کسی مار کا نشان نہ پائے ، تو اگر تیرا جی چاہے تو اسے کھا لے اور اگر تو اس کو پانی میں ڈوبا ہوا پائے تو مت کھا ۔ کیونکہ تمھیں معلوم نہیں کہ وہ پانی سےمرا ہے یا تمھارے تیر سے ۔

12

ابن مبارک نے حیوہ بن شریح سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے ربیعہ بن یزید دمشقی کو کہتے ہوئے سنا : مجھے ابو ادریس عائذ اللہ نے خبر دی ، کہا : میں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ! ہم اہل کتاب ( یعنی یہود یا نصاریٰ ) کے ملک میں رہتے ہیں ، ان کے برتنوں میں کھانا کھاتے ہیں اور ہمارا ملک شکار کا ملک ہے ، تو میں اپنی کمان سے ، سکھائے ہوئے کتے اور اس کتے سے شکار کرتا ہوں جو سکھایا نہیں گیا ، تو مجھ سے وہ طریقہ بیان کیجئے جو کہ حلال ہو ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تو نے جو کہا کہ اہل کتاب کے ملک میں ہیں اور ان کے برتنوں میں کھاتے ہیں تو اگر تم کو اور برتن مل سکیں ، تو ان کے برتنوں میں مت کھاؤ اور اگر اور برتن نہ ملیں تو ان کو دھو لو اور پھر ان میں کھاؤ ۔ اور جو تو نے ذکر کیا ہے کہ تم شکار کی زمین میں رہتے ہو پس جس کو تیر پہنچے اور تو اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑے ، تو اسے کھا لے اور اگر تو اپنے شکاری کتے سے شکار کرے اور اس پر اللہ کا نام لے کر چھوڑا ہو تو کھا لے اور اگر ایسے کتے کا شکار ہو جو شکاری نہ ہو اور تو اسے زندہ پالے تو ذبح کر کے کھا لے ۔

13

زہیر بن وہب اور مقری دونوں نے حیوہ سے اسی سند کے ساتھ ابن مبارک کی حدیث کی طرح روایت کی ، البتہ ابن وہب نے اپنی روایت میں کمان کے شکار کاذکر نہیں کیا ۔

14

ابو عبداللہ حماد بن خالد خیاط نے معاویہ بن صالح سے ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر سے ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی : " جب تم ( شکارپر ) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ تم سے غائب ہوجائے ، پھر تم کو مل جائے تو کھالو جب تک بدبودار نہ ہو ۔

15

معن بن عیسیٰ نے کہا : مجھے معاویہ نے عبدالرحمان بن جبیربن نفیر سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے ، انھوں نے ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس شخص کے بارے میں ، جسے تین دن کے بعد اپنا شکار ملے ، روایت کی ۔ ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ) " جب تک بدبودار نہ ہو اسے کھا سکتے ہو ۔ " ( سخت ٹھنڈے علاقوں میں دیر تک صحیح سلامت رہے گا ۔)

16

محمد بن حاتم نے کہا : ہمیں عبدالرحمان بن مہدی نے معاویہ بن صالح سے حدیث بیان کی ، انہوں نے علاء سے ، انہوں نے مکحول سے ، انہوں نے ابو ثعلبہ بن خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شکار کے بارے میں اپنی حدیث بیان کی ، پھر ابن حاتم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : ہمیں ابن مہدی نے معاویہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے عبدالرحمان بن جبیر اورابو زاہریہ سے ، انہوں نے جبیر بن نفیر سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے علاء کی حدیث کے مانند روایت کی ، اور اس کی بدبو کا ذکر نہیں کیا اورکتے ( کے شکار ) کے بارے میں فرمایا : " تین دن کے بعد بھی اس کو کھا سکتے ہو ، لیکن اگر اس سے بد بوآئے تو اس کو چھوڑ دو ۔

17

ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر نے کہا : ہمیں سفیان بن عینیہ نے زہری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو ادریس سے ، انھوں نے ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچلیوں ( نوک دار دانت ) والے ہر درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ، اسحاق اور ابن ابی عمر نے ا پنی روایت میں یہ اضافہ کیا ۔ زہری نے کہا : شام میں آنے تک ہم نے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔

18

یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابو ادریس خولانی سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ہے ۔ ابن شہاب زہری نے کہا : ہم نے حجاز میں اپنے علماء سے یہ حدیث نہیں سنی تھی ۔ یہاں تک کہ ابو ادریس نے ، جو شام کے فقہاء میں سے ہیں ، مجھے یہ حدیث بیان کی ۔

19

عمرو بن حارث نے کہا کہ ابن شہاب نے انھیں اب ادریس خولانی سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے درندے کو کھانے سے منع فرمایا ۔

20

امام مالک رحمۃ اللہ علیہ بن انس ، ابن ابی ذئب ، عمرو بن حارث ، یونس بن یزید وغیرہ نے اور معمر ، یوسف بن ماجثون اور صالح سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یونس اور عمرو کی حدیث کی مانند روایت کی ۔ سب نے کھانے کا ذکر کیاہے ۔ سوائے صالح اور یوسف کے ۔ ان دونوں کی حدیث یہ ہے : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلی والے در ندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔

21

عبدالرحمان بن مہدی نے مالک سے ، انھوں نے اسماعیل بن ابی حکیم سے ، انھوں نے عبیدہ بن سفیان سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا؛ " ہر کچلیوں والا درندہ اس کو کھانا حرام ہے ۔

22

ابن وہب نے کہا : مجھے امام مالک بن انس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

23

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حکم سے ، انھوں نے میمون بن مہران سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور ناخنوں والے پرندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔

24

سہل بن حماد نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

25

ابو عوانہ نے کہا : ہمیں حکیم اور ابو بشر نے میمون بن مہران سے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر کچلیوں والے درندے اور پنچوں سے شکار کرنے والے پرندے ( کو کھانے ) سے منع فرمایا ۔

26

ہشیم اور ابوعوانہ نے ابو بشر سے ، انہوں نے میمون بن مہران سے روایت کی ، انھوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ، حکم سے شعبہ کی روایت کردہ حدیث کے مانند ۔

27

ابو زبیر نے حضرت جابر سے روایت کی ، کہا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کی امارت میں قریش کے ایک قافلے کو ملنے ( یعنی ان کے پیچھے ) اور ہمارے سفر خرچ کے لئے کھجور کا ایک تھیلہ دیا اور کچھ آپ کو نہ ملا کہ ہمیں دیتے ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ ہمیں ایک ایک کھجور ( ہر روز ) دیا کرتے تھے ۔ ابوالزبیر نے کہا کہ میں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ تم ایک کھجور میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ اس کو بچے کی طرح چوس لیا کرتے تھے ، پھر اس پر تھوڑا پانی پی لیتے تھے ، وہ ہمیں سارا دن اور رات کو کافی ہو جاتا اور ہم اپنی لکڑیوں سے پتے جھاڑتے ، پھر ان کو پانی میں تر کرتے اور کھاتے تھے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم سمندر کے کنارے پہنچے تو وہاں ایک لمبی اور موٹی سی چیز نمودار ہوئی ۔ ہم اس کے پاس گئے تو دیکھا کہ وہ ایک جانور ہے جس کو عنبر کہتے ہیں ۔ سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ مردار ہے ( یعنی حرام ہے ) ۔ پھر کہنے لگے کہ نہیں ہم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بھیجے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ میں نکلے ہیں اور تم ( بھوک کی وجہ سے ) مجبور ہو چکے ہو تو اس کو کھاؤ ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا ہم وہاں ایک مہینہ رہے اور ہم تین سو آدمی تھے ۔ اس کا گوشت کھاتے رہے ، یہاں تک کہ ہم موٹے ہو گئے ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا میں دیکھ رہا ہوں کہ ہم اس کی آنکھ کے حلقہ میں سے چربی کے گھڑے کے گھڑے بھرتے تھے اور اس میں سے بیل کے برابر گوشت کے ٹکڑے کاٹتے تھے ۔ آخر سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے ہم میں سے تیرہ آدمیوں کو لیا ، وہ سب اس کی آنکھ کے حلقے کے اندر بیٹھ گئے ۔ اور اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی اٹھا کر کھڑی کی ، پھر جو اونٹ ہمارے ساتھ تھے ، ان میں سے سب سے بڑے اونٹ پر پالان باندھی تو وہ اس کے نیچے سے نکل گیا اور ہم نے اس کے گوشت میں سے زادراہ کے لئے وشائق بنا لئے ( وشائق ابال کر خشک کئے ہوئے گوشت کو کہتے ہیں ، جو سفر کے لئے رکھتے ہیں ) ۔ جب ہم مدینہ میں آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور یہ قصہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا رزق تھا جو اس نے تمہارے لئے نکالا تھا ۔ اب تمہارے پاس اس گوشت کا کچھ حصہ ہے تو ہمیں بھی کھلاؤ ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہم نے اس کا گوشت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھایا ۔

28

عمرو نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو سواروں کے ساتھ ہمیں مہم پرروانہ فرمایا ، ہمارے امیر حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ، ہمیں قریش کے قافلے کی گھات لگانا تھی ، ہم ( تقریباً ) آدھا مہینہ ساحل سمندر پر ٹھہرے رہے ، ہمیں شدید بھوک کا سامنا تھا ، حتیٰ کہ ہم نے درختوں سےجھاڑے ہوئے پتے کھائے اور اس لشکر کا نام " جھڑے ہوئے پتوں کا لشکر " پڑ گیا ، تو سمندر نے ہمارے لئے ایک جانور نکال کر پھینکا جس کو عنبرکہا جاتاہے ۔ ہم نصف ماہ تک اس کو کھاتے اور اس کی چربی کو تیل کے طور پر استعمال کیا ، یہاں تک کہ ہمارے بدن اصل حالت میں لوٹ آئے ۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی ایک پسلی ( پیٹھ کا کانٹا ) لے کر اسے نصب کرایا ، پھر لشکر میں سب سے لمبا آدمی اور سب سے اونچا اونٹ ڈھونڈا اور اس آدمی کو اس پر سوار کیا ، تو وہ اس کے نیچے سے گزر گیا ۔ اور اس ( عنبر ) کی آنکھ کے حلقے میں ایک جماعت بیٹھ گئی ۔ کہا : ہم نے اس کی آنکھ کےڈھیلے سے اتنے اتنے مٹکے چربی نکالی ۔ ( سفر کے آغاذ میں ) ہمارے ساتھ ایک بورا ( برابر ) کھجوریں تھیں ۔ ( پہلے ) ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہمیں ایک ایک مٹھی کھجور دیتے تھے ، پھر ایک ایک کھجور دینے لگے ۔ جب ( یہ بھی ملنا ) بند ہوگئیں تو ہم نے سمجھ لیا کہ وہ ختم ہوگئی ہیں ۔

29

عمر و نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو پتوں و الے لشکر کے بارے میں بیان کرتے ہوئے سناکہ ( جب زادراہ ختم ہوگیا تو ابتدا میں ) ایک دن ایک شخص نے تین اونٹ ذبح کیے ، پھر تین ذبح کیے ، پھر تین ذبح کیے ، اس کے بعد حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کو منع کردیا ( کہ سواری کے جانور ختم ہونے لگےتھے)

30

ہشام بن عروہ نے وہب بن کیسان سے ، انھوں نے جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( ایک مہم میں ) روانہ کیا ۔ اس وقت ہم تین سو تھے ، ہم نے اپنا اپنا زادراہ اپنے کندھوں پر اٹھایا ہواتھا ۔ ( اور آخر میں سب کازاد راہ ملا کر ایک بورے کے برابر ہوا ۔)

31

امام مالک بن انس نے ابو نعیم وہب بن کیسان سے روایت کی کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین سو ایک لشکر بھیجا اور اور حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کا امیر بنایا ، ان کا زاد راہ ختم ہونے کو آیا توحضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سب کے زادراہ کو زادراہ والے ایک تھیلے میں جمع کیا اور ہم کو زندہ رہنے کی خوراک دیتے تھے ، یہاں تک کہ آخر میں روزانہ ایک کھجور ملتی تھی ۔

32

ولید بن کثیر نے کہا : میں نے وہب بن کیسان کو کہتے ہوئے سنا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سناکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ساحل سمندر کی جانب ایک لشکر روانہ فرمایا ، میں بھی اس لشکر میں تھا ۔ جس طرح عمرو بن دینار اور ابو زبیر کی حدیث ہے ، البتہ وہب بن کیسان کی روایت میں ہے کہ لشکر نے اٹھارہ دن تک اس ( بڑی مچھلی ) کا گوشت کھایا ۔

33

عبیداللہ بن مقسم نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارض جہینہ کی طرف ایک لشکر روانہ فرمایا اور ایک شخص کو اس کا امیر بنایا ، اور ( اس کے بعد ) ان سب کی حدیث کی طرح بیان کیا ۔

34

امام مالک بن انس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے محمد بن علی ( ابن حنفیہ ) کے دو بیٹوں عبداللہ اورحسن سے ، ان دونوں نے اپنے والدسے ، انھوں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن عورتوں کے ساتھ متعہ کرنے اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع فرمادیا ۔

35

سفیان ، عبیداللہ ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور یونس کی حدیث میں ہے : اور پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے ( منع فرمادیا)

36

حضرت ابو ثعلبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت حرام کردیا ۔

37

عبیداللہ نے کہا : مجھے نافع اور سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو گدھوں کا گوشت کھانےسے منع فرمادیا ۔

38

ابن جریج اور امام مالک نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کےدن پالتو گدھے کاگوشت کھانے سے منع فرمادیا ، حالانکہ لوگوں کو ( بھوک کے سبب ) اس کی ( سخت ) ضرورت تھی ۔

39

علی بن مسہر نے شیبانی سے روایت کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پالتو گدھوں کے گوشت کے متعلق دریافت کیا ، انھوں نے کہا : خیبر کے دن ہم بھوک کا شکار تھے ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے ، ہمیں ان لوگوں ( یہودیوں ) کے گدھے شہر سے باہر نکلتے ہوئے مل گئے ۔ ہم نے ان کو ذبح کرلیا ، ہماری ہانڈیاں ( ان کے پکتے ہوئے گوشت سے ) ابل رہی تھیں کہ اچانک ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کیا : ہانڈیاں الٹ دو اور گدھوں کے گوشت میں سے کوئی چیز نہ کھاؤ ۔ میں نے پوچھا : آپ نے ان کو کیسا حرام کیا تھا ( قطعی یاغیرقطعی؟ ) انھوں نے کہا : ( اس حوالے ) سے ہماری آپس میں بات چیت ہوتی تھی تو ہ ہم ( باہم یہی کہتے کہ آپ نے ان کو قطعی طور پر حرام کیا اور اس وجہ سے ( انھیں ہمیشہ کے لئے ) حرام کیاتھا کہ ان کے پانچ حصے نہیں کیے گئے تھے ( خمس الگ نہیں کیا گیا تھا)

40

عبدالواحد بن زیاد نے کہا : ہمیں سلیمانی شیبانی نے حدیث بیا ن کی ، انھوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : جنگ خیبر کی راتوں میں ہم بھوک کاشکار ہوگئے ۔ جب خیبر کی جنگ کا دن آیا تو ہم پالتو گدھوں پر ٹوٹ پڑے جب ہماری ہانڈیاں ان کے گوشت ابلنے لگیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلان کردیا کہ ہانڈیاں الٹ دو ، پالتو گدھوں کے گوشت میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ ۔ اس وقت بعض لوگوں ( صحابہ ) نے کہا کہ ان سے اس لیے منع فرمایا ہے کہ ان کا خمس نہیں نکالا گیا اور بعض نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے قطعی طور پر منع کیا ہے ۔

41

عدی بن ثابت نے کہا : میں نے حضرت براء اورحضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، دونوں کہتے تھے کہ ہم نے گدھے پکڑے ۔ ان کو پکانے لگے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ( ان ) ہانڈیوں کو الٹ دو ۔

42

ابو اسحاق نے کہا : حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیا کہ خیبر کے دن ہم نے گدھے پکڑ لیے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کردیا کہ ہانڈیوں کو الٹ دو ۔

43

ثابت بن عبید نے کہا : میں نے حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ کویہ کہتے ہوئے سنا کہ ہمیں پالتو گدھوں کے گوشت ( کھانے ) سے منع کردیا گیا ۔

44

جریر نے عاصم سے ، انھوں نے شعبی سے ، انھوں نے براء بن عاذب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پالتو گدھوں کا گوشت پھینک دیں ، کچا ہو یا پکا ہوا ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ہمیں ان کو کھانے کی اجازت نہیں دی ۔

45

حفص بن غیاث نے عاصم سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

46

حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت ہے ، کہا : مجھے پتہ نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان ( پالتو گدھوں کا گوشت کھانے ) سے اس بناء پر منع فرمایا تھا کہ وہ لوگوں کے بوجھ اٹھانے والے ہیں اور آپ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بوجھ اٹھانے کا ذریعہ ختم ہوجائے یا آپ نے ( ویسے ہی ) جنگ خیبر کے دن پالتو گدھوں کے گوشت کوحرام قرار دیا ۔ ( یعنی ایسی کسی خاص مناسبت کے بغیر ، جب دیکھا کہ لوگ اسے کھانا چاہتے ہیں تو اس کی حرمت کا اعلان کرادیا ۔)

47

حاتم بن اسماعیل نے یزید بن ابی عبید سے ، انھوں نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خیبر کے دن نکلے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے خیبر فتح کردیا ۔ جس دن فتح ہوئی اس کی شام کو لوگوں نے بہت آگ جلائی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " یہ کیسی آگ ( جل رہی ) ہے؟تم کس چیز پر ( کیا پکانے کے لیے ) آگ جلارہے ہو؟ " لوگوں نے کہا : گوشت پر ۔ آپ نے پوچھا؛ " کون سے گوشت پر؟ " لوگوں نے کہا : پالتو گدھوں کے گوشت پر ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہانڈیاں الٹ دو اور ان کو توڑ دو ۔ " ایک شخص نے عرض کی : ( آپ اجازت دیں تو ) ہم ہانڈیاں انڈیل دیں اور انھیں دھولیں؟ آپ نے فرمایا : " یا اس طرح کرلو ۔

48

حماد بن مسعدہ ، صفوان بن عیسیٰ اور ابو عاصم نبیل سب نے یزید بن ابی عبید سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔

49

ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے ، انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبیر فتح کر لیا تو ہم نے بستی سے باہر نکلنے والے گدھے پکڑ لیے اور ان کا گو شت پکا نے لگے ، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے یہ اعلا ن کر دیا : سنو!اللہ اور اس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم کو ان ( گدھوں کا گوشت پکا نے ، کھانے ) سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ یہ نجس ہے اور شیطان کا عمل ہے ۔ پھر ہانڈیوں کو گوشت سمیت الٹ دیا گیا جبکہ وہ اس کے ساتھ ابل رہی تھیں ۔

50

۔ ہشا م بن حسان نے محمد بن سیرین سے انھوں نے حضرت انس بن ما لک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : جس دن خیبر کی جنگ ہو ئی ایک آنے والا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !گدھے کھا لیے گئے ، پھر ایک دوسرا شخص آیا اور کہا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! گدھے ختم کر دیے گئے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حکم دیا اور انھوں نے اعلان کیا کہ اللہ اور اس کا رسول تم کو پالتو گدھوں کا گو شت کھا نے سے منع کرتے ہیں ۔ کیونکہ وہ پلید ہیں یا ( فرما یا ) ناپاک ہیں ۔ کہا : پھر ہانڈیاں اس سب کچھ سمیت جو ان میں تھا الٹ دی گئیں ۔

51

محمد بن علی نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ جنگ خیبر کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتوگدھوں کا گوشت کھا نے سے منع فر ما یا اور گھوڑوں کا گوشت کھانے کی اجازت عطاکی ۔

52

محمد بن بکر نے کہا : ہمیں ابن جریج نے خبردی ، کہا : مجھے ابو زبیر نے بتا یا کہ انھوں نے حضرت جا بر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، خیبر کے زمانے میں ہم نے جنگلی گدھوں ( گورخر زبیرا ) اور گھوڑوں کا گو شت کھا یا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم کو پالتو گدھے کے گو شت سے منع فر ما دیا ۔

53

ابن وہب اور ابو عاصم نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔

54

عبد اللہ بن نمیر ، حفص بن غیاث اور وکیع نے ہشام سے ، انھوں نے ( اپنی اہلیہ ) فاطمہ سے ، انھوں نے ( اپنی دادی ) حضرت اسماء رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم نے ایک گھوڑا ذبح کیا اور اسے ( پکا کر ) کھا یا ۔

55

ابو معاویہ اور ابو اسامہ دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ۔

56

عبد اللہ بن دینار سے روایت ہے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو نہ حرام کرتا ہوں ۔

57

لیث نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے متعلق سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " نہ میں اس کو کھاتا ہوں ، نہ حرا م کرتا ہوں ۔

58

عبد اللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں عبید اللہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈا کھا نے کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرما یا : " میں اس کو کھاتا ہو ں نہ حرا م کرتاہوں ۔

59

یحییٰ نے عبید اللہ سے اسی سند سے اسی کے مانند روایت کی ۔

60

ایوب ، مالک بن مغول ، ابن جریج ، موسیٰ بن عقبہ اور اسامہ سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سانڈے کے بارے میں نافع سے روایت کردہ لیث کی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی ، البتہ ایوب کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈا ( پکا کر ) لایا گیا تو آپ نے اسے کھا یا نہ حرام قرار دیا ۔ اسامہ کی حدیث میں کہا : ایک آدمی مسجد میں کھڑا ہوا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر تھے ۔

61

عبید اللہ کے والد معاذ نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے شعبی سے سنا ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کے کچھ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین تھے ۔ ان میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی تھے ۔ اتنے میں سانڈے کا گو شت لا یا گیا : اس وقت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی زوجہ نے یہ آواز دی کہ یہ سانڈے کا گوشت ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا : " کھاؤ ، بلا شبہ حلال ہے لیکن یہ میرے کھانے میں ( شامل ) نہیں ۔

62

محمدبن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے تو بہ عنبری سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : شعبی نے مجھ سے کہا : تم حسن ( بصری ) کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کردہ ( مرسل ) حدیث دیکھی ( سنی اور لکھی ہو ئی دیکھی ، اور اس کے مرسل ہونے پر غور کیا؟ ) میں تو حضرت ابن معر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ڈیڑھ یا دوسال تک ( اٹھتا ) بیٹھتا رہا لیکن میں نے انھیں اس حدیث کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کو ئی اور حدیث روایت کرتے ہو ئے نہیں سنا ۔ انھوں نے ( اس طرح ) کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے بہت سے لو گ ( مو جودتھے ) ان میں سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل تھے ۔ معاذ کی حدیث کے مانند ۔

63

امام مالک نے ابن شہاب سے انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ میں اور حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر گئے ، اتنے میں ایک بھنا ہوا سانڈا لا یا گیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف ہاتھ بڑھانے کا قصد کیا ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر جو عورتیں تھیں ۔ ان میں سے کسی نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو چیز کھانے لگے ہیں وہ آپ کو بتا دو ، ( یہ سنتے ہی ) آپ نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا ۔ میں نے پوچھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا یہ حرا م ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ ( جا نور ) میری قوم کی سر زمین میں نہیں ہو تا ، اس لیے میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پاتا ہوں ۔ "" حضرت خالد ( بن ولید ) رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے ۔

64

یو نس نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف انصاری سے روایت کی کہ حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں بتا یا کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جنھیں سیف اللہ کہا جا تا ہے ، انھیں خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں گئے وہ ان ( حضرت خالد ) اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خالہ تھیں ۔ ان کے ہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بھنا ہوا سانڈا دیکھا جو ان کی بہن حفیدہ بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ۔ انھوں نے وہ سانڈا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، ایسا کم ہو تا کہ آپ کسی کھانے کی طرف ہاتھ بڑھا تے یہاں تک کہ آپ کو اس کے بارے میں بتا یا جا تا اور آپ کے سامنے اس کا نام لیا جا تا ۔ ( اس روز ) آپ نے سانڈے کی طرف ہاتھ بڑھانا چا ہا تو وہاں مو جود خواتین میں سے ایک خاتون نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتاؤ کہ آپ لوگوں نے انھیں کیا پیش کیا ہے ۔ تو انھوں نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ سانڈا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہا تھ اوپر کر لیا تو حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پو چھا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا سانڈا حرام ہے؟ آپ نے فر ما یا : "" نہیں لیکن یہ میری قوم کے علاقے میں نہیں ہو تا ، میں خود کو اس سے کرا ہت کرتے ہو ئے پا تا ہوں ۔ حضرت خالد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : پھر میں نے اس کو ( اپنی طرف ) کھینچا اور کھا لیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ رہے تھے لیکن آپ نے مجھے منع نہیں فر ما یا ۔

65

صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے ان سے بیان کیا کہ انھیں خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خبر دی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرا ہ حضرت میمونہ بنت حا رث رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہا ں گئے ، وہ ان کی خالہ تھیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سانڈے کا گو شت پیش کیا گیا ، اسے ام حفید بنت حارث رضی اللہ تعالیٰ عنہا نجد سے لا ئی تھیں ، یہ نبو جعفر کے ایک شخص کے نکاح میں تھیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک کو ئی چیز تناول نہ فر ما تے تھے ۔ جب تک کہ آپ کو معلوم نہ ہو جائے کہ وہ کیا ہے ۔ پھر انھوں نے یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا اور حدیث کے آخر میں اضا فہ کیا اور انھیں ( یزید ) ابن اصم نے ( بھی ) حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ( یہی ) حدیث سنائی ، انھوں نے ان ( میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ) کے ہاں پرورش پا ئی ۔ ( ان کی والدہ برزہ بنت حارث ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہن تھیں ۔)

66

معمر نے زہری سے ، انھوں نے ابو امامہ بن سہل بن حنیف سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دوبھنے ہو ئے سانڈے پیش کیے گئے جبکہ ہم سب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں مو جو دتھے ان سب کی حدیث کے مانند انھوں نے ( معمر ) نے حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کردہ یزید بن اصم کی حدیث کا ذکر نہیں کیا ۔

67

ابن منکدر سے روایت ہے کہ ابو امامہ بن سہل نے انھیں بتا یا کہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے کا گوشت لا یا گیا ، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تشریف فر ما تے اور ان کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مو جود تھے پھر زہری کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔

68

سعید بن جبیر نے کہا : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تناول فر ما یا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہو ئے چھوڑدیا ۔ یہ ( سانڈ ا ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھا یا گیا ۔ اگر یہ حرام ہو تا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھا یا جا تا ۔

69

شیبانی نے یزید بن اصم سے روایت کی ، کہا : مدینہ منورہ میں ایک دلھا نے ہماری دعوت کی اور ہمیں تیرہ عدد ( بھنے ہو ئے ) سانڈے پیش کیے ۔ کو ئی ( اس کو ) کھا نے والا تھا کو ئی نہ کھا نے والا ۔ دوسرے دن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو یہ بات بتا ئی ۔ ان کے اردگرد مو جود لوگوں نے بہت سی باتیں کیں حتی کہ کسی نے یہ بھی کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فر ما یا تھا : " میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ روکتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں ۔ " اس پر حضرت ابن عباس نے کہا : تم لو گوں نے جو کہا ناروا ہے ۔ اللہ تعا لیٰ نے جو نبی بھیجا وہ حلال کرنے والا اور حرام کرنے والا تھا ( حلت و حرمت کے حکم کو واضح کرنے والا تھا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم سمجھ رہے ہو ۔ غیر واضح بات نہیں کرتے تھے ۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ کے قریب فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے ۔ ایک اور خاتون بھی مو جود تھی تو ان کے سامنے دسترخوان لا یا گیا جس پر گوشت تھا ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کی : یہ سانڈے کا گو شت ہے آپ نے ہاتھ روک لیا اور فر ما یا : " یہ ایسا گو شت ہے جو میں نے کبھی نہیں کھا یا ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فر ما یا : " کھاؤ ۔ سو اس گوشت میں سے فضل خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اس خاتون نے کھا یا ۔ حضرت میمونہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا : میں تو صرف اس کھا نے میں سے کھا ؤں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھا ئیں گے ۔

70

ابو زبیر نے حضرت جا بت بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہو ئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈ الا یا گیا ۔ آپ نے اسے کھا نے سے انکا ر کیا اور فرما یا : " میں نہیں جا نتا کہ شاید یہ ( سانڈا بھی ) ان قوموں میں سے ہو جن میں مسخ ہوا تھا ۔

71

ابو زبیر نے کہا : میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سانڈے کے متعلق سوال کیا ، انھوں نے کہا : اسے مت کھاؤ ۔ اور اس سے اظہار کراہت کیا اور بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں کیا ۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے ( بھی ) کو نفع پہنچاتا ہے ، یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مزید کہا : ) اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھا لیتا ۔

72

داود نے ابو نضرہ سے ، انھوں نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ایک شخص نے عرض کی : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم !ہم سانڈوں سے بھری ہوئی سرزمین میں رہتے ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟یا کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ مجھے بتایاگیا کہ بنو اسرائیل کی ایک امت ( بڑی جماعت ) مسخ کر ( کے رینگنے والے جانوروں میں تبدیل کر ) دی گئی تھی ۔ "" ( اس کے بعد ) آپ نے نہ اجازت دی اور نہ منع فرمایا ۔ حضرت ابوسعید ( خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا : پھر بعد کا عہد آیا توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ عزوجل اس کے ذریعے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے ۔ یہ عام چرواہوں کی غذا ہے ، اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھاتا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نامرغوب محسوس کیا تھا ۔ ( اسے حرام قرار نہیں دیا تھا ۔)

73

ابوعقیل دورقی نے کہا : ہمیں ابو نضرہ نے حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ میں سانڈوں سے بھرے ہوئے ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور میرے گھر والوں کی عام غذا یہی ہے ۔ آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا ، ہم نے اس سے کہا : دوبارہ عرض کرو ، اس نے دوبارہ عرض کی ، مگر آپ نے تین بار ( دہرانے پر بھی ) کوئی جواب نہ دیا ، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا : " اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو زمین پر چلنے والے جانوروں کی شکل میں مسخ کردیا ۔ مجھے علم نہیں ، شاید یہ انھی جانوروں میں سے ہو ، ( جن کی شکل میں ان لوگوں کو مسخ کیا گیا تھا ) اس لیے نہ اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں ۔

74

ابو عوانہ نے ابو یعفور سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن اوفیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شامل ہوئے ( جن کے دوران میں ) ہم ٹڈیاں کھاتے رہے ۔

75

ابو بکر بن ابی شیبہ ، اسحاق بن ابراہیم اور ابن ابی عمر سب نے ابن عینیہ سے ، انھوں نے ابو یعفور سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیا ن کی ۔ ابو بکر نے اپنی روایت میں "" سات جنگیں "" کہا ، اسحاق نے "" چھ "" اور ابن ابی عمر نے "" چھ یا سات "" کہا ۔

76

شعبہ نے ابو یعفور سے یہ حدیث اسی سند سے روایت کی اور انھوں نے " سات غزوات " کہا ۔

77

محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے ہشام بن زید سے حدیث بیان کی ، انھوں نےحضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم جا رہے تھے کہ ( مقام ) مرالظہران میں ایک خرگوش دیکھا تو اس کا پیچھا کیا ۔ پہلے لوگ اس پر دوڑے لیکن تھک گئے پھر میں دوڑا تو میں نے پکڑ لیا اور سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس لایا ۔ انہوں نے اس کو ذبح کیا اور اس کا پٹھ اور دونوں رانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجیں ۔ میں لے کر آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو لے لیا ۔

78

یحییٰ بن یحییٰ اور خالد بن حارث دونوں نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، یحییٰ کی حدیث میں : " اس کا پچھلا حصہ یا اس کی دونوں رانوں " کے الفاظ ہیں ۔

79

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں کہمس نے ابن بریدہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کنکر سے ( کسی چیز کو ) نشانہ بناتے ہوئے دیکھا تو کہا : کنکر سے نشانہ مت بناؤ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے ۔ یا کہا ۔ کنکر مارنے سے منع فرماتے تھے ، کیونکہ اس کے ذریعے سے نہ کوئی شکار مارا جاسکتا ہے ۔ نہ دشمن کو ( پیچھے ) دھکیلا جاسکتاہےیہ ( صرف ) دانت توڑتاہے یا آنکھ پھوڑتا ہے ۔ اس کے بعد انھوں نے اس شخص کو پھر کنکر مارتے دیکھا تو اس سے کہا : میں تمھیں بتاتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسے ناپسند فرماتے تھے یا ( کہا : ) آپ اس سے منع فرماتے تھے ، پھر میں تمھیں دیکھتا ہوں کہ تم کنکر مار رہے ہو!میں اتنا اتنا ( عرصہ ) تم سے ایک جملہ تک نہ کہوں گا ( بات تک نہ کروں گا)

80

عثمان بن عمر نے کہا : ہمیں کہمس نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی ۔

81

محمد بن جعفر اورعبدالرحمان بن مہدی نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے انھوں نے عقبہ بن صہیان سے ، انھوں نے حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ۔ ابن جعفر نے اپنی روایت میں یہ بیا ن کیا کہ آپ نے فرمایا؛ " یہ نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، نہ شکار مارتا ہے ، بس دانت توڑتا ہے اورآنکھ پھوڑتاہے ۔ " اور ابن مہدی نے ( اپنی روایت میں ) کہا؛ " یہ ( کنکر ، روڑا ) دشمن کو ہلاک نہیں کرتا " ( انھو ں نے ) آنکھ پھوڑنے کا ذکر نہیں کیا ۔

82

اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی کہ حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کسی قریبی شخص نے کنکر سے نشانہ لگایا ۔ انھوں نے اس کو منع کیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر کے ساتھ نشانہ بنانے سے منع فرمایا ہے ۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہ نہ کسی جانور کو شکارکرتاہے ، نہ دشمن کو ہلاک کرتاہے ، البتہ یہ دانت توڑتاہے ۔ اور آنکھ پھوڑتا ہے ۔ " ( سعیدنے ) کہا : اس شخص نے دوبارہ یہی کیا تو حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : میں نے تم کو حدیث سنائی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر کنکر ماررہے ہو!میں تم سے کبھی بات نہیں کروں گا ۔

83

ثقفی نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

84

اسماعیل بن علیہ نے خالد حذا ء سے ، انھوں نے ابوقلابہ سے ، انھوں نے ابو اشعث سے اور انھوں نے حضرت شداد بن اوس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : دو باتیں ہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یاد رکھی ہیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے ساتھ سب سے اچھا طریقہ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اس لئے جب تم ( قصاص یاحد میں کسی کو ) قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو ، اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو ، تم میں سے ایک شخص ( جو ذبح کرنا چاہتا ہے ) وہ اپنی ( چھری کی ) دھار کو تیز کرلے اور ذبح کیے جانے والے جانور کو اذیت سے بچائے ۔

85

ہشیم ، عبدالوہاب ثقفی ، شعبہ ، سفیان اور منصور ، سب نے خالد حذا ء سے ابن علیہ کی سند سے اور اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی ۔

86

محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے ہشام بن زید بن انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، انھوں نے کہا : میں اپنے دادا انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ حکم بن ایوب کے ہاں آیا ، وہاں کچھ لوگ تھے ، انھوں نے ایک مرغی کو باندھ کر حدف بنایا ہوا تھا ( اور ) اس پر تیر اندازی کی مشق کررہے تھے ، کہا : حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ جانوروں کو باندھ کر مارا جائے ۔

87

یحییٰ بن سعید ، عبدالرحمان بن مہدی ، خالد بن حارث اورابو اسامہ ، سب نے شعبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث روایت کی ۔

88

عبیداللہ کے والد معاذ ( عنبری ) نے کہا : ہمیں شعبہ نے عدی ( بن ثابت انصاری ) سے حدیث بیان کی ، انھوں نے سعید بن جبیر سے ، انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی روح والی چیز کو ( نشانہ بازی کا ) ہد ف مت بناؤ ۔

89

محمد بن جعفر اور عبدالرحمان بن مہدی نے شعبہ سے اسی سندکے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیا ن کی ۔

90

ابو عوانہ نے ابو بشر سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : ایک مرتبہ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا چند لوگوں کے قریب سے گزرا سے گزرا ہوا جو ایک مرغی کو سامنے باندھ کر اس پر تیر اندازی کررہے تھے ، جب انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو اسے چھوڑ کرمنتشر ہوگئے ، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : یہ کام کس کا ہے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص پر لعنت کی ہے جو ایسا کام کرے ۔

91

ہشیم نے کہا : ہمیں ابو بشر نے سعید بن جبیر سے روایت کی ، کہا : ( ایک بار ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ قریش کے چند جوان کے قریب سے گزرے جو ایک پرندے کو باندھ کر اس پرتیرا اندازی کی مشق کررہے تھے اور انھوں نے پرندے والے سے ہر چوکنے والے نشانے کے عوض کچھ دینے کا طے کیا ہواتھا ۔ جب انھوں نےحضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دیکھا تو منتشر ہوگئے ۔ حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : یہ کام کس کاہے؟جو شخص اس طرح کرے اللہ کی اس پر لعنت ہو ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص پرلعنت کی ہے جو کسی ذی روح کو تختہء مشق بنائے ۔

92

یحییٰ بن سعید ، محمد بن بکیر اور حجاج بن محمد نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا ، انھوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں میں سے کسی بھی چیز کو باندھ کر قتل کرنے سے منع فرمایا ہے ۔