29 - کتاب الحدود
سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( سونے کے ) دینار کے چوتھے حصے یا اس سے زیادہ ( کی مالیت ) میں چور کا ہاتھ کاٹتے تھے
، سلیمان بن کثیر اور ابراہیم بن سعد سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
ابن شہاب نے عروہ اور عمرہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( سونے کے ) دینار کے چوتھے حصے یا اس سے زیادہ ( کی چوری ) کے سوا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
سلیمان بن یسار نے عمرہ سے روایت کی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ بیان کر رہی تھیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
عبدالعزیز بن محمد نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے ، انہوں نے ابوبکر بن محمد سے ، انہوں نے عمرہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کے سوا چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے عبداللہ بن جعفر نے یزید بن عبداللہ بن ہاد سے ( باقی ماندہ ) اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
محمد بن عبداللہ بن نمیر نے کہا : حمید بن عبدالرحمان رؤاسی نے ہمیں ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں چور کا ہاتھ ڈھال سے کم مالیت میں نہیں کاٹا گیا ، وہ چمڑے کی ڈھال ہو یا لوہے کی ، یہ دونوں اچھی خاصی قیمت والی تھیں ۔ ( معمولی چیز میں نہیں کاٹا)
عبدہ بن سلیمان ، حمید بن عبدالرحمٰن ، عبدالرحیم بن سلیمان اور ابواسامہ سب نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ ابن نمیر کی حمید سے بیان کردہ روایت کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور عبدالرحیم اور ابواسامہ کی حدیث میں ہے : ان دنوں وہ ( ڈھال ) قیمتی چیز تھی
یحییٰ بن یحییٰ نے کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چور کا ہاتھ ایک ڈھال ( کی چوری ) میں کاٹا جس کی قیمت تین درہم تھی
لیث بن سعد ، عبیداللہ ( بن عمر بن حفص العمری ) ، ایوب سختیانی ، ایوب بن موسیٰ ، اسماعیل بن امیہ ، موسیٰ بن عقبہ ، حنظلہ بن ابی سفیان جمحی ، عبیداللہ بن عمر ( عمری ) مالک بن انس اور اسامہ بن زید لیثی تک ان کے شاگردوں کی مختلف سندیں ہیں ۔ ان کے بعد ان سب نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ، امام مالک سے یحییٰ کی حدیث کے مانند روایت کی ، البتہ ان میں سے بعض نے اس کی قیمت کہا اور بعض نے تین درہم کا ثمن ( معنی وہی ہے)
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ چور پر لعنت کرے ، وہ انڈہ چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کٹتا ہے اور رسی چراتا ہے تو اس کا ہاتھ کٹتا ہے
عیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ وہ کہتے ہیں : " وہ خواہ رسی چرائے ، خواہ انڈہ چرائے
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے کہا : ہمیں لیث نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ قریش کو ایک مخزومی عورت ، جس نے چوری کی تھی ، کے معاملے نے فکر مند کر دیا ، انہوں نے کہا : اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ کہنے لگے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیارے حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ ہی اس کی جراءت کر سکتے ہیں؟ چنانچہ حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے آپ سے گفتگو کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" کیا تم حدود اللہ میں سے ایک حد ( کو ساقط کرنے ) کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، خطبہ دیا اور فرمایا : "" اے لوگو! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے تباہ کر ڈالا کہ جب ان کا کوئی معزز آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے اور جب ان میں سے کوئی کمزور آدمی چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کرتے ۔ اللہ کی قسم! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیتا ۔ "" ابن رمح کی حدیث میں : "" تم سے پہلے لوگ تباہ ہو گئے "" کے الفاظ ہیں
یونس بن یزید نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عروہ بن زبیر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے خبر دی کہ قریش کو اس عورت کے معاملے نے فکر مند کیا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ، غزوہ فتح مکہ ( کے دنوں ) میں چوری کی تھی ۔ انہوں نے کہا : اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کون بات کرے گا؟ ( کچھ ) لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہیتے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ہی اس کی جراءت کر سکتے ہیں ۔ وہ عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کی گئی تو حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں بات کی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ بدل گیا اور فرمایا : "" کیا تم اللہ کی حدود میں سے ایک حد کے بارے میں سفارش کر رہے ہو؟ "" تو حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے لئے مغفرت طلب کیجیے ۔ جب شام کا وقت ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھے ، خطبہ دیا ، اللہ کے شایانِ شان اس کی ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : "" امام بعد! تم سے پہلے لوگوں کو اسی چیز نے ہلاک کر ڈالا کہ جب ان میں سے کوئی معزز انسان چوری کرتا تو وہ اسے چھوڑ دیتے اور جب کمزور چوری کرتا تو اس پر حد نافذ کر دیتے اور میں ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر فاطمہ بنت محمد بھی چوری کرتی تو اس کا ( بھی ) ہاتھ کاٹ دیتا ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے بارے میں حکم دیا جس نے چوری کی تھی تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ۔ یونس نے کہا : ابن شہاب نے کہا : عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اس کے بعد اس کی توبہ ( اللہ کی طرف توجہ بہت ) اچھی ( ہو گئی ) اور اس نے شادی کر لی اور اس کے بعد وہ میرے پاس آتی تھی تو میں اس کی ضرورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کرتی تھی ۔
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عروہ سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : بنو مخزوم کی ایک عورت عاریتا سامان لیتی تھی اور پھر اس کا انکار کر دیا کرتی تھی ، ( پھر اس نے چوری کر ڈالی ) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ۔ اس پر اس کے گھر والے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے بات کی تو انہوں نے اس سلسلے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی ، پھر لیث اور یونس کی حدیث کی طرح بیان کیا
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کی ، اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی پناہ لی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر فاطمہ ( بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی ) ہوتی تو میں اس کا ہاتھ کاٹ دیتا ۔ " چنانچہ اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا گیا
یحییٰ بن یحییٰ تمیمی نے کہا : ہشیم نے ہمیں منصور سے خبر دی ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حطان بن عبداللہ رقاشی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ، مجھ سے سیکھ لو ( جس طرح اللہ نے فرمایا تھا : " یا اللہ ان کے لیے کوئی راہ نکالے ۔ " ( النساء : 15 : 4 ) اللہ نے ان کے لیے راہ نکالی ہے ، کنوارا ، کنواری سے ( زنا کرے ) تو ( ہر ایک کے لیے ) سو کوڑے اور ایک سال کی جلا وطنی ہے اور شادی شدہ سے زنا کرے تو ( ہر ایک کے لیے ) سو کوڑے اور رجم ہے
عمرو الناقد نے کہا : ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں منصور نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند خبر دی
سعید نے قتادہ سے ، انہوں نے حسن سے ، انہوں نے حِطان بن عبداللہ رقاشی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جب وحی نازل کی جاتی تو آپ پر اس کی وجہ سے تکلیف ( کی کیفیت ) طاری ہو جاتی تھی اور آپ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہو جاتا تھا ، کہا : ایک دن آپ پر وحی نازل کی گئی تو آپ اسی کیفیت سے دوچار ہوئے ، جب آپ سے یہ کیفیت دور ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھ سے سیکھ لو ، اللہ نے ان ( عورتوں ) کے لیے راہ نکال دی ہے ، شادی شدہ ، شادی شدہ سے ( زنا کرے ) اور کنوارا ، کنواری سے ( یا کنوارا شادی شدہ سے تو ) شادی شدہ کے لیے ( سزا ) سو کوڑے ، پھر پتھروں سے رجم کرنا ہے اور کنوارے کے لیے سو کوڑے پھر ایک سال کی جلا وطنی ہے
شعبہ اور ہشام نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ ان دونوں کی حدیث میں ہے : " کنوارے کو کوڑے لگائے جائیں گے اور جلا وطن کیا جائے گا اور شادی شدہ کو کوڑے لگائے جائیں گے اور رجم کیا جائے گا ۔ " ان دونوں نے ( جلا وطنی کے لیے ) ایک سال اور ( کوڑوں کے لیے ) ایک سو کا تذکرہ نہیں کیا
یونس نے مجھے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر تشریف فرما تھے : بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث کیا اور آپ پر کتاب نازل فرمائی ، اللہ نے آپ پر جو نازل کیا اس میں رجم کی آیت بھی تھی ، ہم نے اسے پڑھا ، یاد کیا اور سمجھا ، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی رجم کی سزا دی اور آپ نے بعد ہم نے بھی رجم کی سزا دی ، مجھے ڈر ہے کہ لوگوں پر ایک لمبا زمانہ گزر جائے گا تو کوئی کہنے والا کہے گا : ہم اللہ کی کتاب میں رجم ( کا حکم ) نہیں پاتے ، تو وہ لوگ ایسے فرض کو چھوڑنے سے گمراہ ہو جائیں گے جسے اللہ نے نازل کیا ہے اور بلاشبہ اللہ کی کتاب میں رجم ( کا حکم ) عورتوں اور مردوں میں سے ہر ایک پرجس نے زنا کیا ، جب وہ شادی شدہ ہو ، برحق ہے ۔ ( یہ سزا اس وقت دی جائے گی ، ) جب شہادت قائم ہو جائے یا حمل ٹھہر جائے یا ( زانی کی طرف سے ) اعتراف ہو
سفیان نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی
عقیل ( بن خالد اموی ) نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان بن عوف اور سعید بن مسیب سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : مسلمانوں میں سے ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ، آپ مسجد میں تشریف فرما تھے ، اس نے آپ کو آواز دی اور کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف سے منہ پھیر لیا ، وہ گھوم کر ایک طرف سے آپ کے سامنے آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ۔ آپ نے ( پھر ) اس سے منہ پھر لیا حتی کہ اس نے آپ کے سامنے یہی کلمات چار مرتبہ دہرائے ۔ جب اس نے اپنے خلاف چار گواہیاں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بلایا اور پوچھا : "" کیا تمہیں جنون ہے؟ "" اس نے کہا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم نے شادی کی ہے؟ "" اس نے کہا : جی ہاں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اسے لے جاؤ اور رجم کرو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : مجھے اس آدمی نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے یہ حدیث سنی تھی ، وہ کہہ رہے تھے : میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے اسے رجم کیا ، ہم نے اسے جنازہ گاہ میں رجم کیا تھا ، جب پتھروں نے اس کی برداشت ختم کر دی تو وہ بھاگ نکلا ، ہم نے اسے سیاہ پتھروں والی زمین میں جا لیا اور رجم کر دیا
عبدالرحمان بن خالد بن مسافر نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
شعیب نے بھی شہری سے اسی سند کے ساتھ خبر دی اور ان دونوں ( عبدالرحمان بن خالد بن مسافر اور شعیب ) کی حدیث میں ہے : ابن شہاب نے کہا : مجھے اس شخص نے بتایا جس نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ۔ اسی طرح جیسے عقیل نے حدیث بیان کی
یونس ، معمر اور ابن جریج سب نے زہری سے ، انہوں نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی طرح روایت بیان کی جس طرح عقیل نے زہری سے ، انہوں نے سعید ( بن مسیب ) اور ابوسلمہ ( بن عبدالرحمان بن عوف ) سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی
ابو عوانہ نے سماک بن حرب سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ماعز بن مالک کو ، جب وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیے گئے ، دیکھا ، وہ چھوٹے قد کے مضبوط پٹھوں والے آدمی تھے ، ان پر کوئی چادر نہیں تھی ۔ انہوں نے اپنے خلاف چار مرتبہ گواہی دی کہ انہوں نے زنا کیا ہے ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " شاید تم نے ( کچھ اور مثلا : بوس و کنار کیا ہو گا؟ ) " انہوں نے کہا : نہیں ، اللہ کی قسم! اِس بدبخت نے زنا ( ہی ) کیا ہے ۔ کہا : آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دیا ، پھر خطبہ دیا اور فرمایا : " سنو ، جب ہم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو ان لوگوں میں سے کوئی پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور ( عورتوں کو آمادہ کرنے کے لیے ) معمولی چیز پیش کرتا ہے ۔ سنو! اللہ کی قسم! اگر اُس نے مجھے ان میں سے کسی ایک کو ( ثبوت سمیت ) میرے قابو میں دیا تو میں اس کو عبرتناک سزا دوں گا
محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چھوٹے قد ، پراگندہ بالوں اور مضبوط پٹھوں والا ایک شخص لایا گیا ، اس ( کے جسم ) پر ایک تہبند تھا اور اس نے زنا کا ارتکاب کیا تھا ، آپ نے اسے دوبارہ لوٹایا ، پھر اسے ( رجم کرنے کا ) حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ، اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبہ دیتے ہوئے ) فرمایا : "" ہم جب بھی اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتے ہیں تو تم لوگوں میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح جوش سے آوازیں نکالتا ہے اور عورتوں میں سے کسی کو ( آمادہ کرنے کے لیے ) معمولی سی چیز پیش کرتا ہے ۔ بلاشبہ اللہ جب بھی مجھے ان میں سے کسی ایک پر قابو دے گا تو میں لازما اسے ( لوگوں کے لیے ) عبرت بنا دوں گا ، یا عبرتناک سزا دوں گا کہا : میں نے یہ حدیث سعید بن جبیر کو بیان کی تو انہوں نے کہا : آپ نے اسے چار بار واپس کیا تھا
شبابہ اور ابوعامر عقدی دونوں نے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے سماک سے ، انہوں نے حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن جعفر کی حدیث کی طرح روایت کی اور شبابہ نے اس بات میں ان کی موافقت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دوبار لوٹایا ۔ اور ابوعامر کی حدیث میں ہے : آپ نے اسے دو یا تین بار واپس کیا
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( چار بار واپس کرنے اور اس کے اصرار کے بعد ) ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا : " کیا وہ بات سچ ہے جو مجھے تمہارے بارے میں پہنچی ہے؟ " انہوں نے کہا : میرے بارے میں آپ کو کیا بات پہنچی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ تم نے فلاں خاندان کی لونڈی سے زنا کیا ہے ۔ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ کہا : تو انہوں نے ( اپنے خلاف ) چار گواہیاں دیں ، پھر آپ نے ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا
عبدالاعلیٰ نے کہا : ہمیں داود نے ابونضرہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ اسلم قبیلے کا ایک آدمی ، جسے ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا : مجھ سے بدکاری ہو گئی ہے ، مجھ پر اس کی حد نافذ کیجئے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کئی بار واپس کیا ۔ کہا : پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی قوم سے پوچھا تو انہوں نے کہا : ہم ان کی کسی برائی کو نہیں جانتے ، مگر ان سے کوئی بات سرزد ضرور ہوئی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ انہیں اس کیفیت سے ، اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں نکال سکتی کہ ان پر حد قائم کر دی جائے ۔ کہا : اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پھر واپس آئے تو آپ نے ہمیں حکم دیا کہ انہیں رجم کر دیں ۔ کہا : ہم انہیں بقیع الغرقد کی طرف لے کر گئے ۔ کہا : نہ ہم نے انہیں باندھا ، نہ ان کے لیے گڑھا کھودا ۔ کہا : ہم نے انہیں ہڈیوں ، مٹی کے ڈھیلوں اور ٹھیکروں سے مارا ۔ کہا : وہ بھاگ نکلے تو ہم بھی ان کے پیچھے بھاگے حتی کہ وہ حرہ ( سیاہ پتھروں والی زمین ) کے ایک کنارے پر آئے اور ہمارے سامنے جم کر کھڑے ہو گئے ، پھر ہم نے انہیں حرہ کی چٹانوں کے ٹکڑوں ، یعنی ( بڑے بڑے ) پتھروں سے مارا حتی کہ وہ بے جان ہو گئے ، کہا : پھر شام کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : " جب بھی ہم اللہ کی راہ میں جہاد کرنے کے لیے نکلتے ہیں کوئی آدمی پیچھے ہمارے اہل و عیال کے درمیان رہ جاتا ہے اور بکرے کی طرح جوش میں آوازیں نکالتا ہے ، مجھ پر لازم ہے کہ میرے پاس کوئی ایسا آدمی نہیں لایا جائے گا جس نے ایسا کیو ہو گا مگر میں اسے عبرتناک سزا دوں گا ۔ " کہا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( خطبے کے دوران میں ) نہ ان کے لیے استغفار کیا ، نہ انہیں برا بھلا کہا
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں داود نے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی اور انہوں نے حدیث میں کہا : شام کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے ، اللہ کی حمد اور ثنا بیان کی ، پھر فرمایا : " اما بعد! لوگوں کا کیا حال ہے؟ جب ہم جہاد کے لیے جاتے ہیں تو ان میں سے کوئی شخص پیچھے رہ جاتا ہے ، وہ نسل کشی کے بکرے کی طرح آوازیں نکالتا ہے ۔ ۔ " انہوں ( یزید بن زریع ) نے " ہمارے اہل و عیال میں " کے الفاظ نہیں کہے
یحییٰ بن زکریا بن ابی زائدہ اور سفیان دونوں نے داود سے اسی سند کے ساتھ اس حدیث کا کچھ حصہ بیان کیا ، البتہ سفیان کی حدیث میں ہے : اس نے تین بار زنا کا اعتراف کیا ۔ ( چوتھی بار کے اعتراف پر اسے سزا سنائی گئی)
سلیمان بن بریدہ نے اپنے والد ( بریدہ بن حصیب اسلمی رضی اللہ عنہ ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ماعز بن مالک ( اسلمی ) رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر افسوس! جاؤ ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی بارگاہ میں توبہ کرو ۔ "" کہا : وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے ، پھر واپس آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تم پر افسوس! جاؤ ، اللہ سے استغفار کرو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ "" کہا : وہ لوٹ کر تھوڑی دور تک گئے ، پھر آئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( پھر ) اسی طرح فرمایا حتی کہ جب چوتھی بارر ( یہی بات ) ہوئی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پوچھا : "" میں تمہیں کس چیز سے پاک کروں؟ "" انہوں نے کہا : زنا سے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کیا اسے جنون ہے؟ "" تو آپ کو بتایا گیا کہ یہ مجنون نہیں ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : "" کیا اس نے شراب پی ہے؟ "" اس پر ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس کا منہ سونگھا تو اسے اس سے شراب کی بو نہ آئی ۔ کہا : تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : "" کیا تم نے زنا کیا ہے؟ "" انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ( یہیں آپ نے اس سے اس واقعے کی تصدیق چاہی جو آپ تک پہنچا تھا ) پھر آپ نے ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا ، چنانچہ انہیں رجم کر دیا گیا ۔ بعد ازاں ان کے حوالے سے لوگوں کے دو گروہ بن گئے ، کچھ کہنے والے یہ کہتے : وہ تباہ و برباد ہو گیا ، اس کے گناہ نے اسے گھیر لیا ۔ اور کچھ کہنے والے یہ کہتے : ماعز کی توبہ سے افضل کوئی توبہ نہیں ( ہو سکتی ) کہ وہ ( خود ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دیا ، پھر کہا : مجھے پتھروں سے مار ڈالیے ۔ کہا : دو یا تین دن وہ ( اختلاف کی ) اسی کیفیت میں رہے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، وہ سب بیٹحے ہوئے تھے ، آپ نے سلام کہا ، پھر بیٹھ گئے اور فرمایا : "" ماعز بن مالک کے لیے بخشش مانگو ۔ "" کہا : تو لوگوں نے کہا : اللہ ماعز بن مالک کو معاف فرمائے! تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ انہوں نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر وہ ایک امت میں بانٹ دی جائے تو ان سب کو کافی ہو جائے ۔ "" کہا : پھر آپ کے پاس ازد قبیلے کی شاخ غامد کی ایک عورت آئی اور کہنے لگی : اللہ کے رسول! مجھے پاک کیجیے ۔ تو آپ نے فرمایا : "" تم پر افسوس! لوٹ جاؤ ، اللہ سے بخشش مانگو اور اس کی طرف رجوع کرو ۔ "" اس نے کہا : میرا خیال ہے آپ مجھے بھی بار بار لوٹانا چاہتے ہیں جیسے ماعز بن مالک کو لوٹایا تھا ۔ آپ نے پوچھا : "" وہ کیا بات ہے ( جس میں تم تطہیر چاہتی ہو؟ ) "" اس نے کہا : وہ زنا کی وجہ سے حاملہ ہے ۔ تو آپ نے ( تاکیدا ) پوچھا : کیا تم خود؟ "" اس نے جواب دیا : جی ہاں ، تو آپ نے اسے فرمایا : "" ( جاؤ ) یہاں تک کہ جو تمہارے پیٹ میں ہے اسے جنم دے دو ۔ "" کہا : تو انصار کے ایک آدمی نے اس کی کفالت کی حتی کہ اس نے بچے کو جنم دیا ۔ کہا : تو وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ور کہنے لگا : غامدی عورت نے بچے کو جنم دے دیا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تب ہم ( ابھی ) اسے رجم نہیں کریں گے اور اس کے بچے کو کم سنی میں ( اس طرح ) نہیں چھوڑیں گے کہ کوئی اسے دودھ پلانے والا نہ ہو ۔ "" پھر انصار کا ایک آدمی کھڑا ہوا ور کہا : اے اللہ کے نبی! اس کی رضاعت میرے ذمے ہے ۔ کہا : تو آپ نے اسے رجم کرنے کا حکم دے دیا
بُشیر بن مہاجر نے حدیث بیان کی ، کہا : عبداللہ بن بریدہ نے ہمیں اپنے والد سے حدیث بیان کی کہ ماعز بن مالک اسلمی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ہے ، میں نے زنا کا ارتکاب کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھے ( گناہ کی آلودگی سے ) پاک کر دیں ۔ آپ نے انہیں واپس بھیج دیا ، جب اگلا دن ہوا ، وہ آپ کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ۔ تو آپ نے دوسری بار انہیں واپس بھیج دیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی قوم کی طرف پیغام بھیجا اور پوچھا : "" کیا تم جانتے ہو کہ ان کی عقل میں کوئی خرابی ہے ، ( ان کے عمل میں ) تمہیں کوئی چیز غلط لگتی ہے؟ "" تو انہوں نے جواب دیا : ہمارے علم میں تو یہ پوری عقل والے ہیں ، جہاں تک ہمارا خیال ہے ۔ یہ ہمارے صالح افراد میں سے ہیں ۔ وہ آپ کے پاس تیسری بات آئے تو آپ نے پھر ان کی طرف ( اسی طرح ) پیغام بھیجا اور ان کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ ان میں اور ان کی عقل میں کوئی خرابی نہیں ہے ، جب چوتھی بار ایسا ہوا تو آپ نے ان کے لیے ایک گڑھا کھدوایا ، پھر ان ( کو رجم کرنے ) کے بارے میں حکم دیا تو انہیں رجم کر دیا گیا ۔ کہا : اس کے بعد غامد قبیلے کی عورت آئی اور کہنے لگی : اے اللہ کے رسول! میں نے زنا کیا ہے ، مجھے پاک کیجئے ۔ آپ نے اسے واپس بھیج دیا ، جب اگلا دن ہوا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول! آپ مجھے واپس کیوں بھیجتے ہیں؟ شاید آپ مجھے بھی اسی طرح واپس بھیجنا چاہتے ہیں جیسے ماعز کو بھیجا تھا ، اللہ کی قسم! میں حمل سے ہوں ۔ آپ نے فرمایا : "" اگر نہیں ( مانتی ہو ) تو جاؤ حتی کہ تم بچے کو جنم دے دو ۔ "" کہا : جب اس نے اسے جنم دیا تو بچے کو ایک بوسیدہ کپڑے کے ٹکڑے میں لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہا : یہ ہے ، میں نے اس کو جنم دے دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" جاؤ ، اسے دودھ پلاؤ حتی کہ تم اس کا دودھ چھڑا دو ۔ "" جب اس نے اس کا دودھ چھڑا دیا تو بچے کو لے کر آپ کے پاس حاضر ہوئی ، اس کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے نبی! میں نے اس کا دودھ چھڑا دیا ہے اور اس نے کھانا بھی کھا لیا ہے ۔ ( ابھی اس کی مدت رضاعت باقی تھی ۔ ایک انصاری نے اس کی ذمہ داری اٹھا لی ) تو آپ نے بچہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی ( اس انصاری ) کے حوالے کیا ، پھر اس کے لیے ( گڑھا کھودنے کا ) حکم دیا تو سینے تک اس کے لیے گڑھا کھودا گیا اور آپ نے لوگوں کو حکم دیا تو انہوں نے اسے رجم کر دیا ۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آگے بڑھے اور اس کے سر پر مارا ، خون کا فوارہ پھوٹ کر حضرت خالد رضی اللہ عنہ کے چہرے پر پڑا تو انہوں نے اسے برا بھلا کہا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے برا بھلا کہنے کو سن لیا تو آپ نے فرمایا : "" خالد! ٹھہر جاؤ ، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ناجائز محصول لینے والا ( جو ظلما لاتعداد انسانوں کا حق کھاتا ہے ) ایسی توبہ کرے تو اسے بھی معاف کر دیا جائے ۔ "" پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا اور اس کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور اسے دفن کر دیا گیا
ہشام نے مجھے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے ابوقلابہ نے حدیث بیان کی کہ انہیں ابومہلب نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ قبیلہ جہینہ کی ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، وہ زنا سے حاملہ تھی ، اس نے کہا : اللہ کے رسول! میں ( شرعی ) حد کی مستحق ہو گئی ہوں ، آپ وہ حد مجھ پر نافذ فرمائیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ولی کو بلوایا اور فرمایا : " اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو ، جب یہ بچے کو جنم دے تو اسے میرے پاس لے آنا ۔ " اس نے ایسا ہی کیا ۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کے کپڑے اس پر کس کر باندھ دیے گئے ، پھر آپ نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ، پھر آپ نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی : اللہ کے نبی! آپ اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے حالانکہ اس نے زنا کیا ہے؟ آپ نے فرمایا : " اس نے یقینا ایسی توبہ کی ہے کہ اگر اہل مدینہ کے ستر گھروں کے درمیان تقسیم کر دی جائے تو ان کے لیے بھی کافی ہو جائے گی ۔ اور کیا تم نے اس سے بہتر ( کوئی ) توبہ دیکھی ہے کہ اس نے اللہ ( کو راضی کرنے ) کے لیے اپنی جان قربان کر دی ہے
ابان عطار نے یحییٰ بن ابی کثیر سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
عبیداللہ نے ہمیں نافع سے خبر دی ، کہا : حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک یہودی مرد اور ایک یہودی عورت کو لایا گیا جنہوں نے زنا کیا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل پڑے حتی کہ یہود کے پاس آئے اور پوچھا : "" تم تو رات میں اس آدمی کے بارے میں کیا سزا پاتے ہو جس نے زنا کیا ہو؟ "" انہوں نے کہا : ہم ان دونوں کا منہ کالا کرتے ہیں ، انہیں ( گدھے پر ) سوار کرتے ہیں ، ان دونوں کے چہرے مخالف سمت میں کر دیتے ہیں اور انہیں ( گلیوں بازاروں میں ) پھرایا جاتا ہے ۔ آپ نے فرمایا : "" اگر تم سچے ہو ، تو رات لے آؤ ۔ "" وہ اسے لائے اور پڑھنے لگے حتی کہ جب رجم کی آیت کے نزدیک پہنچے تو اس نوجوان نے ، جو پڑھ رہا تھا ، اپنا ہاتھ رجم کی آیت پر رکھا اور وہ حصہ پڑھ دیا جو آگے تھا اور جو پیچھے تھا ۔ اس پر حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے آپ سے عرض کی ، اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ موجود تھے ، آپ اسے حکم دیجیے کہ اپنا ہاتھ اٹھائے ۔ اس نے ہاتھ اٹھایا تو اس نے نیچے رجم کی آیت ( موجود ) تھی ، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں ( کو رجم کرنے ) کا حکم صادر فرمایا تو انہیں رجم کر دیا گیا ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں بھی ان لوگوں میں تھا جنہوں نے انہیں رجم کیا ، میں نے اس آدمی کو دیکھا وہ اپنے ( جسم کے ) ذریعے سے اس عورت کو بچا رہا تھا
ابن علیہ نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، نیز عبداللہ بن وہب نے کہا : مجھے اہل علم میں سے بہت سے آدمیوں نے جن میں امام مالک بن انس رحمۃ اللہ علیہ بھی شامل ہیں ، خبر دی کہ انہیں نافع نے بتایا ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زنا ( کی حد ) میں دو یہودیوں ، ایک مرد اور ایک عورت کو ، جنہوں نے زنا کیا تھا ، رجم کرایا ۔ یہود انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ۔ ۔ آگے اسی ( سابقہ حدیث کی ) طرح حدیث بیان کی
موسیٰ بن عقبہ نے ہمیں نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ یہود اپنے ایک مرد اور ایک عورت کو ، جنہوں نے زنا کیا تھا ، لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ۔ آگے نافع سے عبیداللہ کی روایت کردہ حدیث کی طرح بیان کیا
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے عبداللہ بن مرہ سے اور انہوں نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک یہودی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب سے گزارا گیا جس کا منہ کالا کیا ہوا تھا اسے کوڑے لگائے گئے تھے ، آپ نے انہیں ( ان کے عالموں کو ) بلایا اور پوچھا : " کیا تم اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ ( بعد ازاں آپ کے حکم سے تورات منگوائی گئی ۔ انہوں نے آیت رجم چھپا لی ، وہ ظاہر ہو گئی ۔ اس کے بعد ) آپ نے ان کے علماء میں سے ایک آدمی کو بلایا اور فرمایا : " میں تمہیں اس اللہ کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ علیہ السلام پر تورات نازل کی! کیا تم لوگ اپنی کتاب میں زانی کی حد اسی طرح پاتے ہو؟ " اس نے جواب دیا : نہیں ، اور اگر آپ مجھے یہ قسم نہ دیتے تو میں آپ کو نہ بتاتا ۔ ( ہم کتاب مین ) رجم ( کی سزا لکھی ہوئی ) پاتے ہیں ۔ لیکن ہمارے اشراف میں زنا بہت بڑھ گیا ۔ ( اس وجہ سے ) ہم جب کسی معزز کو پکڑتے تھے تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کسی کمزور کو پکڑتے تو اس پر حد نافذ کر دیتے تھے ۔ ہم نے ( آپس میں ) کہا : آؤ! کسی ایسی چیز ( سزا ) پر جمع ہو جائیں جسے ہم معزز اور معمولی آدمی ( دونوں ) پر لاگو کر سکیں ، تو ہم نے رجم کے بجائے منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے ( کی سزا ) بنا لی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے اللہ! میں وہ پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جبکہ انہوں نے اسے مردہ کر دیا تھا ۔ " پھر آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ اس پر اللہ عزوجل نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اے رسول! آپ ان لوگوں کے پیچھے نہ کڑھیے جو تیزی سے کفر میں داخل ہوتے ہیں ۔ ۔ " اس فرمان تک : " اگر تمہیں یہی حکم دیا جائے تو قبول کر لینا ۔ " ( النائدہ : 41 : 5 ) ( ان کو مشورہ دینے والا ) کہتا تھا : محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ ، اگر وہ تمہیں ( یہی ) منہ کالا کرنے اور کوڑے لگانے کا حکم دیں تو قبول کر لینا اور اگر رجم کا فتویٰ دیں تو احتراز کرنا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ( یہ آیت ) نازل فرمائی : " اور جو لوگ اس ( حکم ) کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ کافر ہیں ۔ " ( المائدہ : 44 : 5 ) " اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے نازل کیا ہے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ " ( المائدۃ؛ 45 : 5 ) " اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کریں جو اللہ نے اتارا ہے تو وہی لوگ فاسق ہیں ۔ " ( المائدہ : 47 : 5 ) یہ ساری آیات کفار کے بارے میں ہیں
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے اسی سند کے ساتھ اس قول تک ، اسی طرح حدیث بیان کی : " نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا تو اسے رجم کر دیا گیا ۔ " انہوں نے اس کے بعد کا ، آیات کے نازل ہونے والا حصہ بیان نہیں کیا
حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہون نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک مرد اور یہود کے ایک مرد اور اس کی ( آشنا ) عورت کو رجم کروایا
رَوح بن عبادہ نے ابن جریج سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے ( اور اس کی عورت کے بجائے صرف " اور عورت " کہا)
ابواسحاق شیبانی سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عبداللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجم کیا؟ انہوں نے کہا : ہاں ۔ کہا : میں نے پوچھا : سورہ نور نازل کیے جانے کے بعد یا اس سے پہلے؟ انہوں نے کہا : میں نہیں جانتا
لیث نے سعید بن ابی سعید سے ، انہوں نے اپنے والد سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے ( ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ) یہ کہتے ہوئے سنا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے اور اس کا زنا ( کسی دلیل سے ) واضح ( ثابت ) ہو جائے تو وہ ( مالک ) اس پر حد لگائے اور اسے ملامت نہ کرتا رہے ، پھر اگر وہ زنا کرے تو اس کو حد لگائے اور اسے ملامت نہ کرتا رہے ، پھر اگر وہ تیسری بار زنا کرے اور اس کا زنا واضھ ہو جائے تو اسے فروخت کر دے ، چاہے بالوں کی ایک رسی ہی کے عوض کیوں نہ بِکے
ایوب بن موسیٰ ، عبیداللہ بن عمر ، اسامہ بن زید اور محمد بن اسحاق سب نے سعید مقبری سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، البتہ ابن اسحاق نے اپنی حدیث میں کہا : سعید نے اپنے والد سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کو ، جب وہ تین بار زنا کرے ، کوڑے لگانے کی بات روایت کی ، ( آگے فرمایا ) " پھر چوتھی بار اسے فروخت کر دے
عبداللہ بن مسلمہ قعنبی نے کہا : ہمیں مالک نے حدیث سنائی ، اور یحییٰ بن یحییٰ نے ۔ ۔ حدیث کے الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ کہا : میں نے امام مالک کے سامنے قراءت کی ، انہوں نے ابن شہاب سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا ، جب وہ زنا کرے اور شادی شدہ نہ ہو ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اگر وہ زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اگر زنا کرے تو اسے کوڑے لگاؤ ، پھر اسے فروخت کر دو ، چاہے ایک گندھی ہوئی رسی کے عوض کیوں نہ ہو ۔ "" ابن شہاب نے کہا : میں نہیں جانتا یہ ( بیچتے کا حکم ) تیسری بار کے بعد ہے یا چوتھی بار کے بعد ۔ قعنبی نے اپنی روایت میں کہا : ابن شہاب نے کہا : اور ضفیر سے مراد رسی ہے
ابن وہب نے کہا : میں نے امام مالک سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : مجھے ابن شہاب نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لونڈی کے بارے میں پوچھا گیا ۔ ۔ جس طرح ان دونوں کی حدیث ہے ۔ ۔ اور انہوں نے ابن شہاب کے قول : " ضفیر سے مراد رسی ہے " کا تذکرہ نہیں کیا
صالح اور معمر دونوں ن زہری سے ، انہوں نے عبیداللہ سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ اور حضرت خالد بن جہنی رضی اللہ عنہما سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، جس طرح امام مالک کی حدیث ہے ۔ اور اس کی بیع تیسری بار ہے یا چوتھی بار ، اس میں شک دونوں کی حدیث میں ہے
زائدہ نے سُدی سے ، انہوں نے سعد بن عبیدہ سے اور انہوں نے ابوعبدالرحمان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے خطبہ دیا اور کہا : اے لوگو! اپنے غلاموں پر حد نافذ کرو ، جو ان میں سے شادی شدہ ہوں اور جو شادی شدہ نہ ہوں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے خاندان ) کی ایک لونڈی نے زنا کیا تو آپ نے مجھے حکم دیا کہ اسے کوڑے لگاؤں ، تو اچانک پتہ چلا کہ اسے نفاس ( بچے کی ولادت سے خون آنے ) کی حالت میں تھوڑا ہی عرصہ گزرا تھا ۔ مجھے ڈر محسوس ہوا کہ اگر میں نے اسے کوڑے مارے تو میں اسے مار ڈالوں گا ، چنانچہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی ، تو آپ نے فرمایا : " تم نے اچھا کیا
اسرائیل نے سُدی سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انہوں نے یہ بیان کیا : " جو ان میں سے شادی شدہ ہوں اور جو شادی شدہ نہ ہوں ۔ " اور انہوں نے حدیث میں یہ اضافہ کیا : " اس ( کنیز ) کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ صحت مند ہو جائے
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے شراب پی تھی ، تو آپ نے اسے کھجور کی دو ٹہنیوں سے تقریبا چالیس ضربیں لگائیں ۔ کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا ہی کیا ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا ، انہوں نے لوگوں سے مشورہ لیا تو حضرت عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے کہا : حدود میں سب سے ہلکی حد اسی کوڑے ہے ، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کا حکم صادر کر دیا
خالد بن حارث نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی لایا گیا ۔ ۔ ۔ پھر اسی طرح بیان کیا
معاذ بن ہشام نے کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے شراب میں کھجور کی ٹہنی اور جوتوں سے مارا ۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس ( کوڑے ) مارے ، جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور لوگ سرسبز و شاداب مقامات اور بستیوں کے قریب جا بسے تو انہوں نے ( مشورہ کرتے ہوئے ) پوچھا : شراب کی سزا کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ تو حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا : میری رائے ہے کہ آپ اسے سب سے ہلکی حد کے برابر مقرر کر دیں ۔ کہا : اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسی کوڑے مارے
یحییٰ بن سعید نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شراب میں چالیس مار مارتے تھے ٹہنیوں سے اور جوتوں سے اخیر تك
ابوبکر بن ابی شیبہ ، زہیر بن حرب اور علی بن حجر سب نے کہا : ہمیں اسماعیل بن علیہ نے ابن ابی عروبہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبداللہ داناج ( فارسی کے لفظ دانا کو عرب اسی طرح پڑھتے تھے ) سے روایت کی ، نیز اسحاق بن ابراہیم حنظلی نے ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ کہا : ہمیں یحییٰ بن حماد نے خبر دی ، کہا : ہمیں عبدالعزیز بن مختار نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ان عامر داناج کے مولیٰ عبداللہ بن فیروز نے حدیث بیان کی : ہمیں ابو ساسان حُضین بن منذر نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا ، ان کے پاس ولید ( بن عقبہ بن ابی معیط ) کو لایا گیا ، اس نے صبح کی دو رکعتیں پڑھائیں ، پھر کہا : کیا تمہیں اور ( نماز ) پڑھاؤں؟ تو دو آدمیوں نے اس کے خلاف گواہی دی ۔ ان میں سے ایک حمران تھا ( اس نے کہا ) کہ اس نے شراب پی ہے اور دوسرے نے گواہی دی کہ اس نے اسے ( شراب کی ) قے کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا : اس نے شراب پی ہے تو ( اس کی ) قے کی ہے ۔ اور کہا : علی! اٹھو اور اسے کوڑے مارو ۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا : حسن! اٹھیں اور اسے کوڑے ماریں ۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ نے کہا : اس ( خلافت ) کی ناگوار باتیں بھی انہی کے سپرد کیجیے جن کے سپرد اس کی خوش گوار ہیں ۔ تو ایسے لگا کہ انہیں ناگوار محسوس ہوا ہے ، تب انہوں نے کہا : عبداللہ بن جعفر! اٹھو اور اسے کوڑے مارو ۔ تو انہوں نے اسے کوڑے لگائے اور حضرت علی رضی اللہ عنہ شمار کرتے رہے حتی کہ وہ چالیس تک پہنچے تو کہا : رک جاؤ ۔ پھر کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس کوڑے لگوائے ، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے چالیس لگوائے اور عمر رضی اللہ عنہ نے اسی ( کوڑے ) لگوائے ، یہ سب سنت ہیں اور یہ ( چالیس کوڑے لگانا ) مجھے زیادہ پسند ہے ۔ علی بن حجر نے اپنی روایت میں اضافہ کیا : اسماعیل نے کہا : میں نے داناج کی حدیث ان سے سنی تھی لیکن اسے یاد نہ رکھ سکا
یزید بن زریع نے کہا : ہمیں سفیان ثوری نے ابوحصین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عمیر بن سعد سے اور انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں کسی شخص پر حد نہیں لگاتا کہ وہ اس میں مر جائے تو میں اس سے اپنے دل میں کوئی ملال محسوس کروں ، سوائے شراب پینے والے کے ، وہ اگر مر جائے تو میں اس کی دیت ادا کروں گا کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طریقے ( اسی کوڑوں کی سزا ) کو جاری نہیں کیا
عبدالرحمان نے سفیان سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
حضرت ابوبردہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " حدوداللہ میں سے کسی حد کے علاوہ کسی کو دس سے زیادہ کوڑے نہ مارے جائیں
عبادہ بن صامتؓ سے روایت ہے رسول اﷲ ﷺ کے ساتھ بیٹھے تھے آپ نے فرمایا بیعت کرو مجھ سے اس اقرار پر کہ اﷲ تعالیٰ کا شریک کسی کو نہیں کرنے کے اور زنا اور چوری اور ناحق خون جس کو اﷲ تعالیٰ نے حرام کیا نہیں کریں گے ۔ پھر جو کوئی اپنے اقرار کو پورا کرے گااس کا ثواب اﷲ تعالیٰ پر ہوگااور جو کوئی کام ان میں سے کر بیٹھے گا پھر اس کو دنیا میں اس کی سزا ملے گی ( یعنی حد لگے گی ) تو وہی اس کیگ ناہ کا کفارہ ہے اور جو دنیا میں اﷲ تعالیٰ اس کے کام کو چھپالے تو ( عاقبت میں ) اﷲ تعالیٰ کو اختیار ہے چاہے اس کو معاف کردے چاہے عذاب کرلے ۔
معمر نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ اضافہ کیا : اس کے بعد آپ نے ہمارے سامنے عورتوں ( کے احکام ) والی ( سورۃ الممتحنہ کی ) یہ آیت تلاوت کی : " کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں
ابو اشعث صنعانی نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ( اسی طرح ) عہد لیا جس طرح آپ نے عورتوں سے عہد لیا تھا : ہم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ، چوری نہ کریں گے ، زنا نہ کریں گے ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گے اور ایک دوسرے پر تہمت نہ لگائیں گے : " تم میں سے جس نے ایفا کیا اس کا اجر اللہ پر ہے اور جس نے ایسا کام کیا جس پر حد ہے اور اس کو حد لگا دی گئی تو وہ اس کا کفارہ ہو گی ، اور جس کا اللہ نے پردہ رکھا اس کا معاملہ اللہ کے سپرد ہے ، اگر چاہے تو اسے عذاب دے اور چاہے تو معاف کر دے
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے ، انہوں نے یزید بن ابی حبیب سے ، انہوں نے ابوالخیر سے ، انہوں نے ( عبدالرحمان ) صنابحی سے اور انہوں نے حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں ان نقیبوں میں سے ہوں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی ۔ اور کہا : ہم نے اس بات پر آپ کے ساتھ بیعت کی کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں گے ، زنا نہ کریں گے ، چوری نہ کریں گے ، کسی زندہ ( انسان ) کو ناحق قتل نہ کریں گے جسے اللہ نے حرمت عطا کی ہے ، ڈاکے نہ ڈالیں گے اور نافرمانی نہ کریں گے ۔ اگر ہم نے اس پر عمل کیا تو جنت ہے اور اگر ہم نے ان میں سے کسی چیز کا ارتکاب کیا تو اس کا فیصلہ اللہ کے سپرد ہو گا ۔ ابن رمح نے اس کا فیصلہ کے بجائے " اس شخص کا فیصلہ اللہ عزوجل کے سپرد ہو گا " کہا
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جانور كا زخمی كرنا لغو ہے ( یعنی اس كا تاوان كسی پر نہ ہوگا ) اور كنواں لغو ہے . اور ركاز میں پانچواں حصہ ہے .
ابن عیینہ اور امام مالک دونوں نے زہری سے لیث کی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی
یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابن مسیب اور عبیداللہ بن عبداللہ سے ، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی
اسود بن علاء نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " کنویں کے زخم پر تاوان نہیں ، ( دھات وغیرہ کی ) کان کے زخم پر تاوان نہیں ، چوپائے کے زخم ( یا نقصان ) پا تاوان نہیں اور دفینے میں پانچواں حصہ ہے
محمد بن زیاد نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی