آل اسلام لائبریری

27 - کتاب الایمان

1

یونس نے ابن شہاب سے ، انہوں نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بلاشبہ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آباء و اجداد کی قسم کھانے سے منع کرتا ہے ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! جب سے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے اس سے منع فرمایا ہے ، میں نے نہ ( اپنی طرف سے ) نہ ( کسی کی ) پیروی کرتے ہوئے کبھی ان ( آباء و اجداد کی ) قسم کھائی ۔ ( آباء و اجداد کی قسم کے الفاظ ہی زبان سے ادا نہیں کیے)

2

عقیل بن خالد اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ عقیل کی حدیث میں ہے : میں نے جب سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے منع کرتے ہوئے سنا ، نہ ان کی قسم کھائی اور نہ ایسی قسم کے الفاظ بولے ۔ انہوں نے " نہ اپنی طرف سے نہ کسی کی پیروی کرتے ہوئے " کے الفاظ نہیں کہے

3

سفیان بن عیینہ نے زہری سے ، انہوں نے سالم سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی ، انہوں نے کہا : نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو سنا ، وہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے ۔ ۔ ( آگے ) یونس اور معمر کی روایت کے مانند ہے ۔

4

لیث نے نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو ایک قافلے میں پایا اور عمر رضی اللہ عنہ اپنے والد کی قسم کھا رہے تھے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پکار کر فرمایا : " سن رکھو! بلاشبہ اللہ تمہیں منع کرتا ہے کہ تم اپنے آباء و اجداد کی قسم کھاؤ ، جس نے قسم کھانی ہے وہ اللہ کی قسم کھائے یا خاموش رہے

5

عبداللہ بن نمیر ، عبیداللہ ، ایوب ، ولید بن کثیر ، اسماعیل بن امیہ ، ضحاک ، ابن ابی ذئب اور عبدالکریم ، ان سب کے شاگردوں نے ان سے اور انہوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی قصے کے مانند بیان کیا

6

عبداللہ بن دینار سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے قسم کھانی ہے وہ اللہ کے سوا کسی کی قسم نہ کھائے ۔ " اور قریش اپنے آباء و اجداد کی قسم کھاتے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے آباء و اجداد کی قسم نہ کھاؤ

7

یونس نے ابن شہاب سے روایت کی ، کہا : مجھے حمید بن عبدالرحمان بن عوف نے بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم میں سے جس نے حلف اٹھایا اور اپنے حلف میں کہا : لات کی قسم! تو وہ لا اله الا الله کہے اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا : آؤ ، جوا کھیلیں تو وہ صدقہ کرے

8

اوزاعی اور معمر دونوں نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور معمر کی حدیث یونس کی حدیث کے مانند ہے ، البتہ انہوں نے کہا : "" تو وہ کچھ صدقہ کرے ۔ "" اور اوزاعی کی حدیث میں ہے : "" جس نے لات اور عزیٰ کی قسم کھائی ۔ "" ابوحسین مسلم ( مؤلف کتاب ) نے کہا : یہ کلمہ ، آپ کے فرمان : "" ( جو کہے ) آؤ ، میں تمہارے ساتھ جوا کھیلوں تو وہ صدقہ کرے ۔ "" اسے امام زہری کے علاوہ اور کوئی روایت نہیں کرتا ۔ انہوں نے کہا : اور زہری رحمۃ اللہ علیہ کے تقریبا نوے کلمات ( جملے ) ہیں جو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جید سندوں کے ساتھ روایت کرتے ہیں ، جن ( کے بیان کرنے ) میں اور کوئی ان کا شریک نہیں ہے

9

حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم بتوں کی قسم نہ کھاؤ ، نہ ہی اپنے آباء و اجداد کی

10

غیلان بن جریر نے ابو بردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں اشعریوں کی ایک جماعت کے ساتھ تھا ۔ ہم آپ سے سواری کے طلبگار تھے ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس ( کوئی سواری ) ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں ۔ " کہا : جتنی دیر اللہ نے چاہا ہم ٹھہرے ، پھر ( آپ کے پاس ) اونٹ لائے گئے تو آپ نے ہمیں سفید کوہان والے تین ( جوڑے ) اونٹ دینے کا حکم دیا ، جب ہم چلے ، ہم نے کہا : یا ہم نے ایک دوسرے سے کہا ۔ ۔ اللہ ہمیں برکت نہیں دے گا ، ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواری حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تھے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی ، پھر آپ نے ہمیں سواری دے دی ، چنانچہ وہ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات عرض کی تو آپ نے فرمایا : " میں نے تمہیں سوار نہیں کیا ، بلکہ اللہ نے تمہیں سواری مہیا کی ہے اور اللہ کی قسم! اگر اللہ چاہے ، میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا اور پھر ( کسی دوسرے کام کو ) اس سے بہتر خیال کرتا ہوں ، تو میں اپنی قسم کا کفارہ دیتا ہوں اور وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے

11

بُرید نے ابوبردہ سے اور انہوں نے حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے ساتھیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ سے ان کے لیے سواریاں مانگوں ، ( یہ اس موقع کی بات ہے ) جب وہ آپ کے ساتھ جیش العسرۃ میں تھے ۔ ۔ اور اس سے مراد غزوہ تبوک ہے ۔ ۔ تو میں نے عرض کی : اللہ کے نبی! میرے ساتھیوں نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ انہیں سواریاں دیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ کی قسم! میں تمہیں کسی چیز پر سوار نہیں کروں گا ۔ "" اور میں ایسے وقت آپ کے پاس گیا تھا کہ آپ غصے میں تھے اور مجھے معلوم نہ تھا ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی وجہ سے اور اس ڈر سے کہ آپ اپنے دل میں مجھ سے ناراض ہو گئے ہیں ، غمگین واپس ہوا ۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آیا اور جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ، انہیں بتایا ۔ میں نے ایک چھوٹی سی گھڑی ہی گزاری ہو گی کہ اچانک میں نے بلال رضی اللہ عنہ کو سنا ، وہ پکار رہے تھے : اے عبداللہ بن قیس! میں نے انہیں جواب دیا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جاؤ ، وہ تمہیں بلا رہے ہیں ۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ دو اکٹھے بندھے ہوئے اونٹ لے لو ، یہ جوڑا اور یہ جوڑا بھی لے لو ۔ ۔ چھ اونٹوں کی طرف اشارہ کیا جو آپ نے اسی وقت حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے خریدے تھے ۔ ۔ اور انہیں اپنے ساتھیوں کے پاس لے جاؤ اور کہو : اللہ تعالیٰ ۔ ۔ یا فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔ ۔ تمہیں یہ سواریاں مہیا کر رہے ہیں ، ان پر سواری کرو ۔ "" حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں انہیں لے کر اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں ان پر سوار کر رہے ہیں لیکن اللہ کی قسم! میں اس وقت تک تمہیں نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ تم میں سے کوئی میرے ساتھ اس آدمی کے پاس جائے جس نے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات سنی تھی جب میں نے آپ سے تمہارے لیے سوال کیا تھا ، اور پہلی مرتبہ آپ کے منع کرنے اور اس کے بعد مجھے عطا کرنے کی بات بھی سنی تھی ، مبادا تم سمجھو کہ میں نے تمہیں ایسی بات بتائی ہے جو آپ نے نہیں فرمائی ۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا : اللہ کی قسم! آپ ہمارے نزدیک سچے ہیں اور جو آپ کو پسند ہے وہ بھی ہم ضرور کریں گے ، چنانچہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ ان میں سے چند لوگوں کو ساتھ لے کر چل پڑے یہاں تک کہ ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بات اور آپ کے انکار کرنے کے بعد عطا کرنے کے بارے میں خود سنا تھا ۔ انہوں نے بالکل وہی بات کی جو حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے ( اپنے ) لوگوں کو بتائی تھی ۔ فائدہ : اس حدیث میں واقعے کے پہلے حصے کی زیادہ تفصیل بیان کی گئی ہے جبکہ آخری حصے کی تفصیل پچھلی حدیث میں ہے ۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کو ساتھیوں نے بھیجا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جواب دیا ، پھر بلا کر اونٹ عطا فرمائے ، پھر یہ لوگ ان لوگوں کے پاس گئے جو سارے واقعے کے دوران میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے موجود تھے ، پھر یہ حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قسم والی بات بتائی ۔ اس پر آپ نے وہی جواب دیا جو پہلی حدیث میں مذکور ہے

12

حماد بن زید نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم بن عاصم سے اور انہوں نے زَہدم جرمی سے روایت کی ۔ ۔ ایوب نے کہا : ابوقلابہ کی حدیث کی نسبت مجھے قاسم کی حدیث زیادہ یاد ہے ۔ ۔ انہوں ( زہدم ) نے کہا : ہم حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، انہوں نے اپنا دسترخوان منگوایا جس پر مرغی کا گوشت تھا ، اتنے میں بنو تیمِ اللہ میں سے ایک آدمی اندر داخل ہوا ، وہ سرخ رنگ کا موالی جیسا شخص تھا ، تو انہوں نے اس سے کہا : آؤ ۔ وہ ہچکچایا تو انہوں نے کہا : آؤ ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ( مرغی کے گوشت ) میں سے کھاتے ہوئے دیکھا ہے ۔ اس آدمی نے کہا : میں نے اسے کوئی ایسی چیز کھاتے ہوئے دیکھا تھا جس سے مجھے اس سے گھن آئی تو میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اس ( کے گوشت ) کو کبھی نہیں کھاؤں گا ۔ اس پر انہوں نے کہا : آؤ ، میں تمہیں اس کے بارے میں حدیث سناتا ہوں ، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں اشعریوں کے ایک گروہ کے ساتھ تھا ، ہم آپ سے سواریوں کے طلبگار تھے ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری مہیا نہیں کروں گا اور نہ میرے پاس کوئی ایسی چیز ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں ۔ " جتنا اللہ نے چاہا ہم رکے ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ( کافروں سے ) چھینے ہوئے اونٹ ( جو آپ نے سعد رضی اللہ عنہ سے خرید لیے تھے ) لائے گئے تو آپ نے ہمیں بلوایا ، آپ نے ہمیں سفید کوہان والے پانچ ( یا چھ ، حدیث : 4264 ) اونٹ دینے کا حکم دیا ۔ کہا : جب ہم چلے ، تو ہم میں سے کچھ لوگوں نے دوسروں سے کہا : ( غالبا ) ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی قسم سے غافل کر دیا ، ہمیں برکت نہ دی جائے گی ، چنانچہ ہم واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! ہم آپ کی خدمت میں سواریاں لینے کے لیے حاضر ہوئے تھے اور آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی ، پھر آپ نے ہمیں سواریاں دے دی ہیں تو اللہ کے رسول! کیا آپ بھول گئے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! اللہ کی مشیت سے میں جب بھی کسی چیز پر قسم کھاتا ہوں ، پھر اس کے علاوہ کسی اور کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کام کرتا ہوں جو بہتر ہے اور ( قسم کا کفارہ ادا کر کے ) اس کا بندھن کھول دیتا ہوں ۔ تم جاؤ ، تمہیں اللہ عزوجل نے سوار کیا ہے

13

عبدالوہاب ثقفی نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم تمیمی سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جَرم کے قبیلے اور اشعریوں کے درمیان محبت و اخوت کا رشتہ تھا ، ہم حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ، انہیں کھانا پیش کیا گیا جس میں مرغی کا گوشت تھا ۔ ۔ آگے اسی کے ہم معنی بیان کیا

14

اسماعیل بن علیہ ، سفیان اور وہیب ، سب نے ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوقلابہ اور قاسم سے اور انہوں نے زہدم جرمی سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس تھے ۔ ۔ ان سب نے حماد بن زید کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی

15

مطروراق نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں زہدم جرمی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا ، وہ مرغی کا گوشت کھا رہے تھے ۔ ۔ انہوں نے ان سب کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی اور اس میں یہ اضافہ کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! میں اس ( اپنی قسم ) کو نہیں بھولا

16

جریر نے ہمیں سلیمان تیمی سے خبر دی ، انہوں نے ضرب بن نقیر قیسی سے ، انہوں نے زہدم سے اور انہوں نے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جس پر میں تمہیں سوار کروں ، اللہ کی قسم! میں تمہیں سوار نہیں کروں گا ۔ " پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف سفید کوہان والے تین ( جوڑے ) اونٹ بھیجے تو ہم نے کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ سے سواریاں حاصل کرنے کے لیے حاضر ہوئے تو آپ نے ہمیں سواری نہ دینے کی قسم کھائی تھی ، چنانچہ ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو ( آپ کی قسم ) کے بارے میں ) خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں کسی چیز پر قسم نہیں کھاتا ، پھر اس کے علاوہ کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کرتا ہوں تو وہی کرتا ہوں جو بہتر ہو

17

معتمر نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ہمیں ابو سلیل ( ضریب ) نے زہدم سے حدیث بیان کی ، وہ حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : ہم پیدل تھے تو ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، ہم آپ سے سواریاں حاصل کرنا چاہتے تھے ، ( آگے اسی طرح ہے ) جس طرح جریر کی حدیث ہے

18

ابو حازم نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک آدمی رات کی تاریکی گہری ہونے تک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہا ، پھر اپنے گھر لوٹا تو اس نے بچوں کو سویا ہوا پایا ، اس کی بیوی اس کے پاس کھانا لائی تو اس نے قسم کھائی کہ وہ بچوں ( کے سو جانے ) کی وجہ سے کھانا نہیں کھائے گا ، پھر اسے ( دوسرا ) خیال آیا تو اس نے کھانا کھا لیا ، اس کے بعد وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے اس بات کا تذکرہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر اس نے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو وہ وہی کام کر لے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دے

19

امام مالک نے سہیل بن ابی صالح سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر اس کے بجائے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کیا تو وہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کر لے

20

عبدالعزیز بن مطلب نے سہیل بن ابی صالح سے روایت کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر اس کے بجائے دوسرے کام کو اس سے بہتر خیال کیا تو وہ وہی کام کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کرے

21

سلیمان بن بلال نے مجھے سہیل سے اسی سند کے ساتھ امام مالک کی حدیث کے ہم معنی حدیث ( ان الفاظ میں ) بیان کی : " اسے چاہئے کہ اپنی قسم کا کفارہ دے اور وہ کام کرے جو بہتر ہے

22

جریر نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کے پاس ایک سائل آیا اور ان سے غلام کی قیمت یا غلام کی قیمت کا کچھ حصہ ( ادا کرنے کے لیے ) خرچے کا سوال کیا ، تو انہوں نے کہا ، میرے پاس تو تمہیں دینے کے لیے میری زرہ اور ( سر کے ) خَود کے سوا کچھ نہیں ، اس لیے میں اپنے گھر والوں کو لکھ دیتا ہوں کہ وہ یہ خرچہ تمہیں دے دیں ۔ کہا : وہ ( اس پر ) راضی نہ ہوا تو حضرت عدی رضی اللہ عنہ ناراض ہو گئے اور کہا : اللہ کی قسم! میں تمہیں کچھ نہیں دوں گا ، پھر وہ آدمی ( اسی بات پر ) راضی ہو گیا تو انہوں نے کہا : اللہ کی قسم! اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر کسی اور کام کو اللہ عزوجل کے تقوے کے زیادہ قریب دیکھا تو وہ تقوے والا کام کرے ۔ " تو میں اپنی قسم نہ توڑتا

23

شعبہ نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے تمیم بن طرفہ سے اور انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر سمجھا تو وہ وہی کام کرے جو بہتر ہے اور اپنی قسم کو ترک کر دے ۔ ( اور کفارہ ادا کر دے)

24

اعمش نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے تمیم طائی سے اور انہوں نے حضرت عدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی کسی کام کی قسم کھائے ، پھر اس سے بہتر ( کام ) دیکھے تو وہ اس ( قسم ) کا کفارہ ادا کر دے اور وہی کرے جو بہتر ہے

25

شیبانی نے عبدالعزیز بن رفیع سے ، انہوں نے تمیم طائی سے اور انہوں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ یہی فرما رہے تھے

26

محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی اور انہوں نے تمیم بن طرفہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان کے پاس ایک آدمی ایک سو درہم مانگنے کے لیے آیا تھا ، ( غلام کی قیمت میں سے سو درہم کم تھے ) انہوں نے کہا : تو مجھ سے ( سرف ) سو درہم مانگ رہا جبکہ میں حاتم طائی کا بیٹا ہوں؟ اللہ کی قسم! میں تمہیں ( کچھ ) نہیں دوں گا ، پھر انہوں نے کہا : اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہوتا : " جس نے کوئی قسم کھائی ، پھر اس سے بہتر کام دیکھا تو وہ وہی کرے جو بہتر ہے ۔ " ( تو میں تمہیں کچھ نہ دیتا)

27

بہز نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی اور کہا : ہمیں سماک بن حرب نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے تمیم بن طرفہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے سوال کیا ۔ ۔ آگے اسی ( سابقہ حدیث ) کے مانند بیان کیا اور یہ اضافہ کیا : میرے وظیفے میں سے چار سو ( درہم ) تمہارے

28

شیبان بن فروخ نے کہا : ہمیں جریر بن حازم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں حسن نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : "" عبدالرحمان بن سمرہ! تم ( خود ) امارت کی درخواست مت کرو ، ( کیونکہ ) اگر وہ تمہیں مانگنے پر دی گئی تو تم اس کے حوالے کر دیے جاؤ گے اور اگر تمہیں بن مانگے ملے گی تو ( اللہ کی طرف سے ) تمہاری مدد کی جائے گی اور جب تم کسی کام پر قسم کھاؤ ، پھر اس کے بجائے کسی دوسرے کام کو اس سے بہتر دیکھو تو اپنی قسم کا کفارہ دو اور وہی اختیار کرو جو بہتر ہے ۔ "" ( امام مسلم کے شاگرد ) ابو احمد جلودی نے کہا : ہمیں ابو عباس ماسرجسی نے حدیث سنائی ، ( کہا : ) ہمیں شیبان بن فروخ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں جریر بن حازم نے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی

29

یونس ، منصور ، حمید ، سماک بن عطیہ ، ہشام بن حسان ، معتمر کے والد ( سلیمان طرخان ) اور قتادہ ، ان سب نے حسن سے ، انہوں نے حضرت عبدالرحمان بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی اور معتمر کی اپنے والد ( سلیمان طرخان ) سے روایت کردہ حدیث میں امارت ( والی بات ) کا ذکر نہیں

30

یحییٰ بن یحییٰ اور عمرو الناقد نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ یحییٰ نے کہا : ہمیں ہشیم بن بشیر نے عبداللہ بن ابی صالح سے خبر دی اور عمرو نے کہا : ہمیں ہشیم بن بشیر نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں عبداللہ بن ابی صالح نے خبر دی ۔ ۔ انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہاری قسم اسی بات پر ہو گی جس پر تمہارا ساتھی ( قسم لینے والا ) تمہاری تصدیق کرے گا ۔ " اور عمرو نے کہا : " جس کی تصدیق تمہارا ساتھی کرے گا

31

یزید بن ہارون نے ہشیم سے ، انہوں نے عباد بن ابی صالح سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قسم ، حلف لینے والے کی نیت کے مطابق ہو گی

32

محمد ( بن سیرین ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت سلیمان علیہ السلام کی ساٹھ بیویاں تھیں ، انہوں نے کہا : ( واللہ ) آج رات میں ان سب کے پاس جاؤں گا تو ان میں سے ہر بیوی حاملہ ہو گی اور ہر بیوی ( ایک شہسوار ) بچے کو جنم دے گی ، جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ایک کے سوا ان میں سے کوئی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی ادھورے ( ناقص الخلقت ) بچے کو جنم دیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر وہ ان شاءاللہ کہتے تو ان میں سے ہر بیوی شہسوار بچے کو جنم دیتی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرتا

33

ہشام بن حجیر نے طاوس سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اللہ کے نبی سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا : ( واللہ ) آج رات میں ستر عورتوں کے پاس جاؤں گا ، وہ سب ایک ایک بچے کو جنم دیں گی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ان سے ان کے کسی ساتھی یا فرشتے نے کہا : ان شاءاللہ کہیں ۔ انہوں نے نہ کہا ، انہیں بھلا دیا گیا ، ان کی عورتوں میں سے ایک عورت کے سوا کسی نے بچے کو جنم نہ دیا ، اس نے بھی ادھورے بچے کو جنم دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر وہ ان شاءاللہ کہتے تو قسم تشنہ تکمیل نہ رہتی اور یہ ( قسم ) ان کی ضرورت ( اپنی اولاد کے ذریعے سے جہاد فی سبیل اللہ ) کی تکمیل کا سبب بھی بن جاتی

34

سفیان نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند یا اسی کے ہم معنی روایت بیان کی

35

طاوس کے بیٹے نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا : آج رات میں ستر عورتوں کے پاس چکر لگاؤں گا ، ان میں سے ہر عورت ( بیوی یا کنیز ) ایک بچے کو جنم دے گی جو اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ان سے کہا گیا : ان شاءاللہ کہئے ۔ انہوں نے نہ کہا ( انہیں بھلا دیا گیا ) ۔ وہ ان کے پاس گئے تو ان میں سے صرف ایک عورت نے ادھے انسان کو جنم دیا ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر وہ ان شاءاللہ کہہ لیتے تو قسم تشنہ تکمیل نہ رہتی اور یہ ( قسم ) ان کے دل کی حاجت پوری ہونے کا ذریعہ بھی بن جاتی

36

ورقاء نے ابوزناد سے ، انہوں نے اعرج سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " حضرت سلیمان بن داود علیہ السلام نے کہا : آج رات میں نوے عورتوں کے پاس جاؤں گا ان میں سے ہر عورت ایک شہسوار بچے کو جنم دے گی جو ( بڑا ہو کر ) اللہ کی راہ میں لڑائی کرے گا ۔ تو ان کے ساتھی نے ان سے کہا : ان شاءاللہ کہیں ۔ انہوں نے ان شاءاللہ نہ کہا ۔ وہ ان سب کے پاس گئے تو ان میں سے ایک عورت کے سوا کوئی حاملہ نہ ہوئی اور اس نے بھی آدھے بچے کو جنم دیا ۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر وہ ان شاءاللہ کہہ دیتے تو وہ سب گھوڑوں پر سوار ہو کر اللہ کی راہ میں جہاد کرتے

37

موسیٰ بن عقبہ نے ابوزناد سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : " ان میں سے ہر ایک کے حمل میں ایسا بچہ ہوتا جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرتا

38

ہمام بن منبہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : یہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، پھر انہوں نے چند احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ تھی : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! تم میں سے کسی کا اپنے گھر والوں کے بارے میں اپنی قسم پر اصرار کرنا اس کے لیے اللہ کے ہاں اس سے زیادہ گناہ کا باعث ہے کہ وہ اس قسم کے لیے اللہ کا مقرر کردہ کفارہ دے ۔ " ( اور اسے توڑ کر درست کام کرے اور گھر والوں کو آرام پہنچائے)

39

یحییٰ بن سعید قطان نے ہمیں عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے خبر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک رات مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنی نذر پوری کرو

40

ابواسامہ ، عبدالوہاب ثقفی ، حفص بن غیاث اور شعبہ ، ان سب نے عبیداللہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، ان میں سے حفص نے کہا : ( یہ حدیث ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ، ابواسامہ اور ثقفی کی حدیث میں ایک رات اعتکاف کرنے کا تذکرہ ہے اور شعبہ کی حدیث میں ہے کہ انہوں نے کہا : دن کے اعتکاف کی نذر مانی ۔ حفص کی حدیث میں دن یا رات کا ذکر نہیں ہے

41

جریر بن حازم نے ہمیں حدیث سنائی کہ ایوب نے انہیں حدیث بیان کی ، انہیں نافع نے حدیث سنائی ، انہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، آپ اس وقت طائف سے لوٹنے کے بعد جعرنہ میں ( ٹھہرے ہوئے ) تھے ، انہوں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں نے جاہلیت میں نذر مانی تھی کہ میں ایک دن مسجد حرام میں اعتکاف کروں گا ، آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جاؤ اور ایک دن کا اعتکاف کرو ۔ "" کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خُمس سے ایک لونڈی عطا فرمائی تھی ، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کیا ، تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی آوازیں سنیں ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں آزاد کر دیا ہے ۔ تو انہوں نے پوچھا : کیا ماجرا ہے؟ لوگوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے قیدیوں کو آزاد کر دیا ہے ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اپنے بیٹے سے ) کہا : عبداللہ! اس لونڈی کے پاس جاؤ اور اسے آزاد کر دو ۔ ( یہ حنین کا موقع تھا)

42

معمر نے ہمیں ایوب سے خبر دی ، انہوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم حنین سے واپس ہوئے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک دن کے اعتکاف کی نذر کے متعلق پوچھا جو انہوں نے جاہلیت میں مانی تھی ۔ ۔ پھر جریر بن حازم کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا

43

حماد بن زید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ایوب نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس جعرانہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمرے کا تذکرہ کیا گیا تو انہوں نے کہا : آپ نے وہاں سے عمرہ نہیں کیا ۔ کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جاہلیت میں ایک رات کے اعتکاف کی نذر مانی تھی ۔ ۔ پھر انہوں نے ایوب سے جریر بن حازم اور معمر کی روایت کردہ حدیث کے ہم معنیٰ بیان کیا

44

ایوب اور محمد بن اسحاق دونوں نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے نذر کے بارے میں یہی حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ایک دن کے اعتکاف کا ذکر ہے

45

ابوعوانہ نے فراس سے ، انہوں نے ابوصالح ذکوان سے اور انہوں نے ابو عمر زاذان سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کے ہاں آیا جبکہ انہوں نے ایک غلام کو آزاد کیا تھا ۔ کہا : انہوں نے زمین سے لکڑی یا کوئی چیز پکڑی اور کہا : اس میں اتنا بھی اجر نہیں جو اس کے برابر ہو اس کے سوا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " جس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا یا اسے زد و کوب کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے " ( اس حکم کو ماننے کا اجر ہو سکتا ہے)

46

شعبہ نے ہمیں فراس سے باقی ماندہ سابقہ سند سے حدیث بیان کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے غلام کو بلایا اور اس کی پشت پر ( ضرب کا ) نشان دیکھا تو اس سے کہا : میں نے تمہیں دکھ دیا ہے؟ اس نے کہا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : تم آزاد ہو ۔ کہا : پھر انہوں نے زمین سے کوئی چیز پکڑی اور کہا : میرے لیے اس میں اتنا بھی اجر نہیں ہے جو اس کے برابر ہو ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا ، آپ فرما رہے تھے : "" جس نے اپنے غلام کو حد لگانے کے لیے ( ایسے کام پر ) مارا جو اس نے نہیں کیا یا اسے طمانچہ مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے

47

وکیع اور عبدالرحمان ( بن مہدی ) دونوں نے سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے فراس سے شعبہ اور ابو عوانہ کی سند کے ساتھ روایت کی ، ابن مہدی نے اپنی حدیث میں حد کا ذکر کیا ہے اور وکیع کی حدیث میں ہے : " جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا ۔ " انہوں نے حد کا ذکر نہیں کیا

48

معاویہ بن سوید ( بن مُقرن ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا اور بھاگ گیا ، پھر میں ظہر سے تھوڑی دیر پہلے آیا اور اپنے والد کے پیچھے نماز پڑھی ، انہوں نے اسے اور مجھے بلایا ، پھر ( غلام سے ) کہا : اس سے پورا بدلہ لے لو تو اس نے معاف کر دیا ۔ پھر انہوں ( میرے والد ) نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ہم بنی مقرن کے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مار دیا ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : اسے آزاد کر دو ۔ لوگوں نے کہا : ان کے پاس اس کے علاوہ اور خادم نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ ( فی الحال ) اس سے خدمت لیں ، جب اس سے بے نیاز ہو جائیں ( دوسرا انتظام ہو جائے ) تو اس کا راستہ چھوڑ دیں ( اسے آزاد کر دیں)

49

ابن ادریس نے ہمیں حصین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ہلال بن یساف سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ایک بوڑھے نے جلدی کی اور اپنے خادم کو طمانچہ دے مارا ، تو حضرت سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تمہیں اس کے شریف چہرے کے سوا اور کوئی جگہ نہ ملی؟ میں نے اپنے آپ کو مقرن کے بیٹوں میں سے ساتواں بیٹا پایا ، ہمارے پاس صرف ایک خادمہ تھی ، ہم میں سے سب سے چھوٹے نے اسے طمانچہ مارا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کو آزاد کر دینے کا حکم دیا

50

ہلال ‌بن ‌یساف ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌سے ‌روایت ‌ہے ‌ہم ‌كپڑا ‌بیچتے ‌تھے ‌سوید ‌بن ‌مقرن ‌كے ‌گھر ‌میں ‌جو ‌نعمان ‌بن ‌مقرن ‌كے ‌بھائی ‌تھے ، ‌ایك ‌لونڈی ‌وہا ں ‌نكلی ‌اور ‌اس ‌نے ‌ہم ‌میں ‌سے ‌كسی ‌كو ‌كوئی ‌بات ‌كہی ‌تو ‌اس ‌نے ‌لونڈی ‌كو ‌طمانچہ ‌مارا ۔ ‌سوید ‌ناراض ‌ہوئے ‌پھر ‌بیان ‌كیا ‌اسی ‌طرح ‌جیسے ‌اوپر ‌گذرا ۔

51

عبدالصمد نے ہمیں حدیث سنائی ، کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث سنائی ، کہا : مجھ سے محمد بن منکدر نے کہا : تمہارا نام کیا ہے؟ میں نے کہا : شعبہ ۔ تو محمد نے کہا : مجھے ابو شعبہ عراقی ( مولیٰ سوید بن مقرن ) نے سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ان کی لونڈی کو کسی انسان نے تھپڑ مارا تو سوید رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : کیا تمہیں معلوم نہیں کہ چہرہ حرمت والا ( ہوتا ) ہے اور کہا : میں نے خود کو ، اور میں اپنے بھائیوں میں ساتواں تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں دیکھا اور ہمارے پاس سوائے ایک کے کوئی اور خادم نہ تھا ۔ ہم میں سے کسی نے عمدا اسے طمانچہ مار دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دی

52

وہب بن جریر نے کہا : ہمیں شعبہ نے خبر دی کہ محمد بن منکدر نے مجھ سے پوچھا : تمہارا نام کیا ہے؟ آگے عبدالصمد کی حدیث کے مانند بیان کیا

53

عبدالواحد بن زیاد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث سنائی ، انہوں نے اپنے والد ( یزید بن شریک تیمی ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : حضرت ابو مسعود بدری رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنے ایک غلام کو کوڑے سے مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابو مسعود! جان لو ۔ " میں غصے کی وجہ سے آواز نہ پہچان سکا ، کہا : جب وہ ( کہنے والے ) میرے قریب پہنچے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، آپ فرما رہے تھے : " ابو مسعود! جان لو ، ابو مسعود! جان لو ۔ " کہا : میں نے اپنے ہاتھ سے کوڑا پھینک دیا ، تو آپ نے فرمایا : " ابو مسعود! جان لو ۔ اس غلام پر تمہیں جتنا اختیار ہے اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " کہا : تو میں نے کہا : اس کے بعد میں کسی غلام کو کبھی نہیں ماروں گا

54

جریر ، سفیان اور ابوعوانہ سب نے اعمش سے عبدالواحد کی ( سابقہ ) سند کے ساتھ اس کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ، مگر جریر کی حدیث میں ہے : آپ کی ہیبت کی وجہ سے میرے ہاتھ سے کوڑا گر گیا

55

ابومعاویہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم تیمی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں اپنے غلام کو مار رہا تھا تو میں نے اپنے پیچھے سے آواز سنی : " ابومسعود! جان لو ، اس پر تمہارا جتنا اختیار ہے ، اس کی نسبت اللہ تم پر زیادہ اختیار رکھتا ہے ۔ " میں مڑا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! وہ اللہ کی رضا کے لیے آزاد ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دیکھو! اگر تم ایسا نہ کرتے تو تمہیں آگ جھلساتی یا تمہیں آگ چھوتی

56

ابن ابی عدی نے شعبہ سے ، انہوں نے سلیمان سے ، انہوں نے ابراہیم تیمی سے ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت ابو مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ وہ اپنے غلام کو مار رہے تھے تو اس نے اعوذباللہ ( میں تمہاری مار سے اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ) کہنا شروع کر دیا ۔ کہا : تو ( وہ اس کی بات کی طرف متوجہ نہ ہو پائے اور ) اسے مارتے رہے ۔ پھر اس نے کہا : میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں تو ( انہیں اندازہ ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ہیں ) انہوں نے اسے چھوڑ دیا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ کی قسم! اللہ تم پر اس سے زیادہ اختیار رکھتا ہے جتنا تم اس پر رکھتے ہو ۔ " کہا : تو انہوں نے اسےآزاد کر دیا ۔

57

محمد بن جعفر نے ہمیں شعبہ سے ، اسی سند کے ساتھ خبر دی اور انہوں نے یہ الفاظ بیان نہیں کیے : " میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں " ( اور ) " اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پناہ میں آتا ہوں

58

عبداللہ بن نمیر نے کہا : ہمیں فضیل بن غزوان نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے عبدالرحمان بن ابی نعم سے سنا ( کہا : ) مجھے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اپنے غلام پر زنا کی تہمت لگائی اسے قیامت کے دن حد لگائی جائے گی ، الا یہ کہ وہ ( غلام ) ویسا ہو جیسا اس نے کہا ہے

59

وکیع اور اسحاق بن یوسف ازرق دونوں نے فضیل بن غزوان سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور ان دونوں کی حدیث میں ہے : میں نے ابوالقاسم نبی التوبہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا

60

وکیع نے کہا : ہمیں اعمش نے معرور بن سوید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم زَبذہ ( کے مقام ) میں حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کے ہاں سے گزرے ، ان ( کے جسم ) پر ایک چادر تھی اور ان کے غلام ( کے جسم ) پر بھی ویسی ہی چادر تھی ۔ تو ہم نے کہا : ابوذر! اگر آپ ان دونوں ( چادروں ) کو اکٹھا کر لیتے تو یہ ایک حلہ بن جاتا ۔ انہوں نے کہا : میرے اور میرے کسی ( مسلمان ) بھائی کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ، اس کی ماں عجمی تھی ، میں نے اسے اس کی ماں کے حوالے سے عار دلائی تو اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میری شکایت کر دی ، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا تو آپ نے فرمایا : " ابوذر! تم ایسے آدمی ہو کہ تم میں جاہلیت ( کی عادت موجود ) ہے ۔ " میں نے کہا : اللہ کے رسول! جو دوسروں کو برا بھلا کہتا ہے وہ اس کے ماں اور باپ کو برا بھلا کہتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " ابوذر! تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے ، وہ ( چاہے کنیز زادے ہوں یا غلام یا غلام زادے ) تمہارے بھائی ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے ، تم انہیں وہی کھلاؤ جو خود کھاتے ہو اور وہی پہناؤ جو خود پہنتے ہو اور ان پر ایسے کام کی ذمہ داری نہ ڈالو جو ان کے بس سے باہر ہو ، اگر ان پر ( مشکل کام کی ) ذمہ داری ڈالو تو ان کی اعانت کرو

61

زہیر ، ابومعاویہ اور عیسیٰ بن یونس سب نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، زہیر اور ابو معاویہ کی حدیث میں آپ کے فرمان : " تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ہے " کے بعد یہ اضافہ ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی ( جاہلیت کی عادت باقی ہے؟ ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہاں ۔ " ابو معاویہ کی روایت میں ہے : " ہاں ، تمہارے بڑھاپے کی اس گھڑی کے باوجود بھی " عیسیٰ کی حدیث میں ہے : " اگر وہ اس پر ایسی ذمہ داری ڈال دے جو اس کی طاقت سے باہر ہے تو ( بہتر ہے ) اسے بیچ دے ۔ " ( غلام پر ظلم کے گناہ سے بچ جائے ۔ ) زہیر کی حدیث میں ہے : " تو وہ اس ( کام ) میں اس کی اعانت کرے ۔ " ابو معاویہ کی حدیث میں وہ اسے بیچ دے اور وہ اس کی اعانت کرے کے الفاظ نہیں ہیں اور ان کی حدیث آپ کے فرمان : اس پر ایسی ذمہ داری نہ ڈالے جو اس کے بس سے باہر ہوپر ختم ہو گئی

62

واصل احدب نے معرور بن سوید سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں دیکھا کہ ان ( کے جسم ) پر ( آدھا ) حلہ تھا اور ان کے غلام پر بھی اسی طرح کا ( آدھا ) حلہ تھا ، میں نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ، کہا : تو انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں انہوں نے ایک آدمی کو برا بھلا کہا اور اسے اس کی ماں ( کے عجمی ہونے ) کی ( بنا پر ) عار دلائی ، کہا : تو وہ آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو یہ بات بتائی ، اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم ایسے آدمی ہو جس میں جاہلیت ( کی خو ) ہے ، وہ تمہارے بھائی اور خدمت گزار ہیں ، اللہ نے انہیں تمہارے ماتحت کیا ہے ، تو جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو وہ اسے اسی کھانے میں سے کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی لباس پہنائے جو خود پہنتا ہے اور ان کے ذمے ایسا کام نہ لگاؤ جو ان کے بس سے باہر ہو اور اگر تم ان کے ذمے لگاؤ تو اس پر ان کی اعانت کرو

63

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : طعام اور لباس غلام کا حق ہے اور اس پر کام کی اتنی ذمہ داری نہ ڈالی جائے جو اس کے بس میں نہ ہو ۔

64

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کسی کا خادم اس کے لیے کھانا تیار کرے ، پھر اس کے سامنے پیش کرے اور اسی نے ( آگ کی ) تپش اور دھواں برداشت کیا ہے تو وہ اسے اپنے ساتھ بٹھائے اور وہ ( غلام بھی اس کے ساتھ ) کھائے اور اگر کھانا بہت سے لوگوں نے کھانا لیا ہو ، ( یعنی ) کم ہو تو اس کے ہاتھ میں ایک یا دو لقمے ( ضرور ) دے

65

امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " غلام جب اپنے آقا کی خیرخواہی کرے اور اچھی طرح اللہ کی بندگی کرے تو اس کے لیے دوہرا اجر ہے

66

عبیداللہ اور اسامہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے امام مالک کی حدیث کے مانند حدیث بیان کی

67

ابوطاہر اور حرملہ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن وہب نے خبر دی ، کہا : مجھے یونس نے ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے ، حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والے کسی کے مملوک ( غلام ) کے لیے دو اجر ہیں ۔ "" اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں ابوہریرہ کی جان ہے! اگر اللہ کی راہ میں جہاد ، حج اور اپنی والدہ کی خدمت ( جیسے کام ) نہ ہوتے تو میں پسند کرتا کہ میں مروں تو غلام ہوں ۔ ( سعید بن مسیب نے ) کہا : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنی والدہ کی وفات تک ان کے ساتھ رہنے ( اور خدمت کرنے ) کی بنا پر حج نہیں کرتے تھے ۔ ابوطاہر نے اپنی حدیث میں "" اچھی طرح ذمہ داریاں نبھانے والا "" عَبد "" ( غلام ) کہا ، "" مملوک "" نہیں کہا

68

ابوصفوان اموی نے ہمیں حدیث بیان کی ( کہا : ) مجھے یونس نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ خبر دی ، انہوں نے " ہمیں یہ بات پہنچی " اور اس کے بعد والا حصہ بیان نہیں کیا

69

ابو معاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے ابوصالح سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب غلام اللہ کا حق اور اپنے آقاؤں کا حق ادا کرے تو اس کے لیے دو اجر ہیں ۔ " کہا : میں نے یہ حدیث کعب کو سنائی تو کعب نے کہا : نہ اس ( غلام ) کا حساب ہو گا نہ ہی کم مال والے مومن کا حساب ہو گا

70

جریر نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی

71

ہمام بن منبہ نے کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انہوں نے کئی احادیث بیان کیں ، ان میں سے یہ بھی تھی : اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کسی غلام کا اس حال میں فوت ہو جانا کیا خوب ہے کہ وہ اللہ کی بندگی اور اپنے آقا کی خدمت اچھے طریقے سے کر رہا تھا! اس کے لیے کیا خوب ہے یہ ( زندگی)

72

امام مالک نے نافع سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کسی ( مشترکہ ) غلام ( کی ملکیت میں ) سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہے جو غلام کی قیمت کو پہنچتا ہے تو اس کی مصفانہ قیمت لگائی جائے گی اور اس کے شریکوں کو ان کے حصے دیے جائیں گے اور غلام اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا ورنہ وہ اتنا ہی آزاد رہے گا جتنا پہلے ہو گیا ہے

73

عبیداللہ نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کسی غلام ( کی ملکیت میں ) سے اپنا حصہ آزاد کیا ، اگر اس کے پاس اتنا مال ہے جو اس کی قیمت کو پہنچتا ہے تو اس کی پوری آزادی اس پر ( لازم ) ہے ۔ اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو وہ جتنا آزاد ہو چکا تھا اتنا ہی آزاد رہے گا

74

جریر بن حازم نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے مولیٰ نافع سے ، انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے کسی ( مشترکہ ) غلام ( کی ملکیت میں ) سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنی مقدار میں مال ہے جو اس کی قیمت کو پہنچتا ہے ، تو اس کی منصفانہ قیمت لگائی جائے گی ( اور شریک کو اس کا حصہ ادا کر کے غلام اس کی طرف سے آزاد کیا جائے گا ۔ ) ورنہ وہ جتنا آزاد ہو چکا تھا اتنا ہی آزاد رہے گا

75

لیث بن سعد ، یحییٰ بن سعید ، ایوب ، اسماعیل بن امیہ ، ابن ابی ذئب اور اسامہ بن زید سب نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی حدیث بیان کی ، ایوب اور یحییٰ بن سعید کی حدیث کے سوا ان میں سے کسی کی حدیث میں یہ الفاظ نہیں ہیں : " اور اگر اس کے پال مال نہیں تو وہ جتنا آزاد ہو چکا تھا اتنا ہی آزاد رہے گا ۔ " اور انہی دونوں نے یہ جملہ کہا اور ان دونوں ( ایوب اور یحییٰ ) نے یہ بھی کہا : ہمیں معلوم نہیں ہے کہ یہ حدیث کا حصہ ہے یا نافع نے اپنی طرف سے کہا ہے ۔ اور لیث بن سعد کی حدیث کے سوا ان میں سے کسی کی روایت میں سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم ( میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سےسنا ) کے الفاظ نہیں ہیں ۔

76

عمرو نے سالم بن عبداللہ سے اور انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس نے اپنے اور کسی دوسرے کے درمیان مشترک غلام کو آزاد کیا تو کمی بیشی کے بغیر اس کے مال میں سے ( غلام کی ) منصفانہ قیمت لگائی جائے گی ، پھر اگر وہ خوش حال ہوا تو وہ اس کے مال سے اس کی طرف سے آزاد ہو جائے گا

77

زہری نے سالم سے اور انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جس نے کسی غلام ( کی ملکیت میں ) سے اپنا حصہ آزاد کیا تو اس کا باقی حصہ بھی اس کے مال سے آزاد ہو گا ، بشرطیکہ اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی قیمت کو پہنچ جائے

78

محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے دو آدمیوں کے مشترکہ غلام کے بارے میں جن میں سے ایک ( اپنا حصہ ) آزاد کر دیتا ہے ، فرمایا : " وہ ( دوسرے کا ) ضامن ہے ۔ ( کہ اس کے حصے کی قیمت اسے مل جائے گی)

79

عبیداللہ کے والد معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، آپ نے فرمایا : " جس نے غلام ( کی ملکیت ) میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو وہ اسی کے مال سے ( پورا ) آزاد ہو جائے گا

80

اسماعیل بن ابراہیم نے ابن ابی عروبہ سے ، انہوں نے قتادہ سے ، انہوں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " جس نے غلام ( کی ملکیت ) میں سے اپنا حصہ آزاد کیا ، اگر اس کے پاس مال ہے تو اس کی ( پوری ) آزادی اسی کے مال کے ذریعے سے ہو گی اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو کسی جبری مشقت میں ڈالے بغیر اس غلام سے ( بقیہ قیمت کی ادائیگی کے لیے ) کام کروایا جائے گا

81

علی بن مسہر ، محمد بن بشر اور عیسیٰ بن یونس سب نے ابن ابی عروبہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور عیسیٰ کی حدیث میں ہے : " اسے کسی مشقت میں ڈالے بغیر ، اس شخص کے حصے ( کی ادائیگی ) کے لیے کام لیا جائے گا جس نے آزاد نہیں کیا

82

اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے ، انہوں نے ابوقلابہ سے ، انہوں نے ابومہلب سے اور انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت اپنے چھ غلام آزاد کیے اور اس کے پاس ان کے سوا اور کوئی مال نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور تین گروپوں میں تقسیم کیا ، پھر ان کے درمیان قرعہ ڈالا ، اس کے بعد دو کو آزاد کر دیا اور چار کو غلام ہی برقرار رکھا اور آپ نے اسے سرزنش کی

83

حماد اور ( عبدالوہاب ) ثقفی دونوں نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، حماد کی حدیث ابن عُلیہ کی حدیث کی طرح ہے اور ثقفی کی حدیث میں ہے : انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلام آزاد کر دیے

84

یزید بن زریع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشام بن حسان نے محمد بن سیرین سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ابن علیہ اور حماد کی حدیث کے مانند روایت کی

85

حماد بن زید نے عمرو بن دینار سے ، انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کو آزاد قرار دیا ، اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی مال نہ تھا ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات پہنچی تو آپ نے فرمایا : "" اس ( غلام ) کو مجھ سے کون خریدے گا؟ "" اسے نعیم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے آٹھ سو درہم میں خرید لیا تو آپ نے وہ ( رقم ) اس آدمی کے حوالے کر دی ۔ عمرو نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : وہ قبطی غلام تھا ( ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے ) پہلے سال فوت ہوا ۔ ( اپنی فوت کے بعد غلام کو آزاد کرنے والے کو ایک تہائی سے زیادہ ترکے میں وصیت کا اختیار ہی نہ تھا)

86

سفیان بن عیینہ نے کہا : عمرو ( بن دینار ) نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : انصار کے ایک آدمی نے اپنی موت کے بعد اپنے غلام کے آزاد ہونے کی وصیت کی ، کہا : اس کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہ تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فروخت کر دیا ‘ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے کہا : اسے ابن نحام نے خریدا ، وہ قبطی غلام تھا ، حضرت ابن زبیر رضی اللہ عنہ کی امارت کے پہلے سال فوت ہوا

87

لیث بن سعد نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مدبر ( مالک کی موت کے بعد آزاد ہونے والے غلام ) کے بارے میں عمرو بن دینار سے روایت کردہ حماد کی حدیث کے ہم معنی روایت کی

88

عبدالمجید بن سہیل اور حسین بن ذکوان معلم نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، اسی طرح مطر بن طہمان الوراق نے عطاء بن ابی رباح ، ابوزبیر اور عمرو بن دینار سے روایت کی کہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے انہیں مدبر کی بیع کے بارے میں حدیث بیان کی ، ان سب ( عطاء ، ابوزبیر اور عمرو ) نے کہا : انہوں ( جابر رضی اللہ عنہ ) نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس حدیث کے ہم معنی روایت کی جو حماد اور ابن عیینہ نے عمرو سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے بیان کی