24 - کتاب الہبات
عبداللہ بن مسلمہ بن قعنب نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں مالک بن انس نے زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اللہ کی راہ میں ( جہاد کرنے کے لیے کسی کو ) ایک عمدہ گھوڑے پر سوار کیا ( اسے دے دیا ) تو اس کے ( نئے ) مالک نے اسے ضائع کر دیا ( اس کی ٹھیک طرح سے خبر گیری نہ کی ) ، میں نے خیال کیا کہ وہ اسے کم قیمت پر فروخت کر دے گا ، چنانچہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اسے مت خریدو اور نہ اپنا ( دیا ہوا ) صدقہ واپس لو کیونکہ صدقہ واپس لینے والا ایسے کتے کی طرح ہے جو قے ( چاٹنے کے لیے ) اس کی طرف لوٹتا ہے
عبدالرحمان بن مہدی نے ہمیں مالک بن انس سے اسی سند کے ساتھ ( یہ ) حدیث بیان کی اور اضافہ کیا : اسے مت خریدو ، چاہے وہ اسے تم کو ایک درہم میں دے
روح بن قاسم نے ہمیں زید بن اسلم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد سے اور انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، تو انہوں نے اسے اس کے مالک کے ہاں اس حال میں پایا کہ اس نے اسے ضائع کر دیا تھا اور وہ تنگ دست تھا ، چنانچہ انہوں ( حضرت عمر رضی اللہ عنہ ) نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو آپ نے فرمایا : " اسے مت خریدو ، چاہے وہ تمہیں ایک درہم میں دیا جائے ، صدقہ واپس لینے والے کی مثال اس کتے کے جیسی ہے جو اپنی قے میں لوٹ جاتا ہے ( چاٹتا ہے)
فیان نے زید بن اسلم سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) حدیث بیان کی ، البتہ مالک اور روح کی حدیث زیادہ مکمل اور زیادہ ( مفصل ) ہے
امام مالک نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا سواری کے طور پر دیا ، پھر انہوں نے اسے اس حالت میں پایا کہ اس کو فروخت کیا جا رہا تھا ، انہوں نے اسے خریدنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے مت خریدو اور ( کبھی ) اپنا صدقہ واپس نہ لو
لیث بن سعد اور عبیداللہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مالک کی حدیث کی طرح روایت کی
سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں سواری کے لیے ایک گھوڑا دیا ، پھر انہوں نے اسے دیکھا کہ فروخت کیا جا رہا ہے ۔ تو انہوں نے اس کو خریدنے کا ارادہ کر لیا ، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اے عمر! اپنا صدقہ واپس مت لو
عیسیٰ بن یونس نے ہمیں خبر دی : ہمیں اوزاعی نے ابوجعفر محمد بن علی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن مسیب سے ، انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اس شخص کی مثال جو صدقہ واپس لیتا ہے اس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے ، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے اور کھاتا ہے
ابن مبارک نے ہمیں اوزاعی سے خبر دی ، انہوں نے کہا : میں نے ( ابوجعفر ) محمد بن ( زین العابدین ) علی بن حسین رحمہم اللہ سے سنا ، وہ اسی سند سے اسی طرح بیان کر رہے تھے
یحییٰ بن ابی کثیر نے ہمیں حدیث بیان کی : مجھے عبدالرحمان بن عمرو نے حدیث بیان کی کہ انہیں فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرزند ( پڑپوتے ) ، محمد ( الباقر ) نے یہ حدیث اسی سند کے ساتھ انہی کی حدیث کی طرح بیان کی
بکیر سے روایت ہے کہ انہوں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اس شخص کی مثال جو صدقہ کرتا ہے ، پھر اپنے صدقے کو واپس لے لیتا ہےاس کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے پھر اپنی قے کھاتا ہے
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ سعید بن مسیب سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : اپنے ہبہ کو واپس لینے والا اپنی قے کی طرف لوٹنے والے کی طرح ہے
سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " اپنا ہبہ واپس لینے والا کتے کی طرح ہے جو قے کرتا ہے ، پھر اپنی قے کی طرف لوٹتا ہے
امام مالک نے ابن شہاب سے اور انہوں نے حمید بن عبدالرحمان اور محمد بن نعمان بن بشیر سے روایت کی ، وہ دونوں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے کہا : ان کے والد انہیں لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو غلام تحفے میں دیا ہے جو میرا تھا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بچوں کو اس جیسا تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے کہا : نہیں ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے واپس لو
ابراہیم بن سعد نے ہمیں ابن شہاب سے خبر دی ، انہوں نے حمید بن عبدالرحمٰن اور محمد بن نعمان سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام تحفے میں دیا ہے ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو ( ایسا ) تحفہ دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
ابن عیینہ ، لیث بن سعد ، یونس اور معمر سب نے زہری سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ یونس اور معمر کی حدیث میں " تمام بیٹوں کو " کے الفاظ ہیں اور لیث اور ابن عیینہ کی حدیث میں " تمام اولاد کو " ہے اور محمد بن نعمان اور حمید بن عبدالرحمان سے روایت کردہ لیث کی روایت ( یوں ) ہے کہ حضرت بشیر رضی اللہ عنہ ( اپنے بیٹے ) نعمان رضی اللہ عنہ کو لے کر آئے
عروہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : ہمیں حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ان کے والد نے انہیں ایک غلام دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " یہ کیسا غلام ہے؟ " انہوں نے کہا : یہ میرے والد نے مجھے دیا ہے ۔ ( پھر ) آپ نے ( نعمان رضی اللہ عنہ کے والد سے ) پوچھا : " تم نے اس کے تمام بھائیوں کو بھی اسی طرح عطیہ دیا ہے جیسے اس کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اسے واپس لو
حصین نے شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے اپنے مال میں سے مجھے ہبہ کیا ( یہاں صدقہ ہبہ کے معنی میں ہے ) تو میری والدہ عمرہ بنت رواحہ نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ میرے والد مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو مجھ پر کیے گئے صدقہ ( ہبہ ) پر گواہ بنائیں ۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا : " کیا تم نے یہ ( سلوک ) اپنے تمام بچوں کے ساتھ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تم سب اللہ سے ڈرو اور اپنے بچوں کے مابین عدل کرو ۔ " چنانچہ میرے والد واپس آئے اور وہ صدقہ ( ہبہ ) واپس لے لیا
ابوحیان تیمی نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی : مجھے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی کہ ان کی والدہ ، ( عمرہ ) بنت رواحہ نے ان کے والد سے ، ان کے مال میں سے ، اپنے بیٹے کے لیے ( باغ ، زمین وغیرہ ) کچھ ہبہ کیے جانے کا مطالبہ کیا ، انہوں نے اسے ایک سال تک التوا میں رکھا ، پھر انہیں ( اس کا ) خیال آیا تو انہوں ( والدہ ) نے کہا : میں راضی نہیں ہوں گی یہاں تک کہ تم اس پر ، جو تم نے میرے بیٹے کے لیے ہبہ کیا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بنا لو ۔ اس پر میرے والد نے میرا ہاتھ تھاما ، میں ان دنوں بچہ تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! اس کی والدہ بنت رواحہ کو یہ پسند ہے کہ میں آپ کو اس چیز پر گواہ بناؤں جو میں نے اس کے بیٹے کو دی ہے ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : بشیر! کیا اس کے سوا بھی تمہارے بچے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں! آپ نے پوچھا : کیا ان سب میں سے ہر ایک کو تم نے اسی طرح ہبہ کیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیںآپ نے فرمایا : پھر مجھے گواہ نہ بناؤ ، میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا
اسماعیل نے ہمیں شعبی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا اس کے سوا بھی تمہارے بیٹے ہیں؟ " انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " کیا ان سب کو بھی تم نے اس جیسا عطیہ دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " تو میں ظلم پر گواہ نہیں بنتا
عاصم احول نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے والد سے فرمایا : " مجھے ظلم پر گواہ مت بناؤ
داود بن ابی ہند نے شعبی سے اور انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے والد مجھے اٹھائے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : اے اللہ کے رسول! گواہ رہیں کہ میں نے نعمان کو اپنے مال میں سے اتنا اتنا دیا ہے ۔ آپ نے فرمایا : " کیا تم نے اپنے سب بیٹوں کو اسی جیسا عطیہ دیا ہے جیسا تم نے نعمان کو دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " اس پر میرے سوا کسی اور کو گواہ بناؤ ۔ " پھر فرمایا : " کیا تمہیں یہ بات اچھی لگتی ہے کہ وہ سب تمہارے ساتھ نیکی ( حسنِ سلوک ) کرنے میں برابر ہوں؟ " انہوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ نے فرمایا : " تو پھر ( تم بھی ایسا ) نہ کرو
ابن عون نے ہمیں شعبی سے ، انہوں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میرے والد نے مجھے ایک تحفہ دیا ، پھر مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تاکہ آپ کو گواہ بنائیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم نے اپنے سب بچوں کو یہ ( اسی طرح کا ) تحفہ دیا ہے؟ "" انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے پوچھا : "" کیا تم ان سب سے اسی طرح کا نیک سلوک نہیں چاہتے جس طرح اس ( بیٹے ) سے چاہتے ہو؟ "" انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" تو میں ( ظلم پر ) گواہ نہیں بنتا ۔ "" ( کیونکہ اس عمل کی بنا پر پہلے تمہاری طرف سے اور پھر جوابا ان کی طرف سے ظلم کا ارتکاب ہو گا ۔ "" ابن عون نے کہا : میں نے یہ حدیث محمد ( بن سیرین ) کو سنائی تو انہوں نے کہا : مجھے بیان کیا گیا ہے کہ آپ نے فرمایا : اپنے بیٹوں کے درمیان یکسانیت روا رکھو ( لفظی معنی ہیں : تقریبا ایک جیسا سلوک "" یعنی ان کو اس بات کا عادی بناؤ)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی بیوی نے کہا : میرے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دو اور میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا : فلاں کی بیٹی نے مجھ سے مطالبہ کیا ہے کہ میں اس کے بیٹے کو اپنا غلام ہبہ کر دوں اور اس نے کہا ہے : میرے لیے ( اس پر ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گواہ بناؤ ۔ تو آپ نے پوچھا : " کیا اس کے اور بھائی ہیں؟ " انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ۔ آپ نے پوچھا : " کیا ان سب کو بھی تم نے اسی طرح عطیہ دیا ہے جس طرح اسے دیا ہے؟ " انہوں نے جواب دیا : نہیں ۔ آپ نے فرمایا : " یہ درست نہیں اور میں صرف حق پر گواہ بنتا ہوں
امام مالک نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس آدمی کو عمر بھر کے لیے دی جانے والی چیز اس کے اور اس کی اولاد کے لیے دی گئی تو وہ اسی کی ہے جسے دی گئی ، وہ اس شخص کو واپس نہیں ملے گی جس نے دی تھی ، کیونکہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت جاری ہو گئی ہے
لیث نے ہمیں ابن شہاب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : "" جس نے کسی شخص کو عمر بھر کے لیے عطیہ دیا کہ وہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے تو اس کی اس بات نے ، اس چیز میں ، اس کے حق کو ختم کر دیا اور وہ اسی کی ہے جسے عمر بھر کے لیے دی گئی اور اس کی اولاد کی ۔ "" مگر یحییٰ نے ، اپنی حدیث کے آغاز ہی میں کہا : "" جس شخص کے عمر بھر کے لیے عطیہ دیا گیا تو وہ اسی کا اور اس کی اولاد کا ہے
ابن جریج نے ہمیں خبر دی : مجھے ابن شہاب نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان کی حدیث کی رو سے عمریٰ اور اس کے طریقے کے بارے میں بتایا کہ انہیں حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس آدمی نے کسی دوسرے شخص کو عمر بھر کے لیے تحفہ دیا کہ وہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے اور کہا : میں نے تمہیں اور تمہاری اولاد کو دیا جب تک تم میں سے کوئی زندہ ہے ، تو وہ اسی کا ہے جسے دیا گیا ہے اور وہ اس کے ( پہلے ) مالک کو واپس نہیں ہو گا کیونکہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت جاری ہو گئی ہے
معمر نے ہمیں زہری رحمۃ اللہ علیہ سے خبر دی ، انہوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : وہ عمریٰ جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نافذ کیا یہ ہے کہ آدمی کہے : یہ تمہارے لیے اور تمہاری اولاد کے لیے ہے ، البتہ جب وہ کہے : یہ تمہارے لیے ہے جب تک تم زندہ ہو ، تو وہ اسکے مالک کو واپس مل جائے گا ۔ معمر نے کہا : امام زہری رحمۃ اللہ علیہ اسی کے مطابق فتویٰ دیتے تھے
ابن ابی ذئب نے ابن شہاب سے ، انہوں نے ابوسلمہ بن عبدالرحمان سے اور انہوں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فیصلہ کیا جسے عمر بھر کے لیے ( یہ کہہ کر ) عطیہ دیا گیا کہ وہ اس کا اور اس کی اولاد کا ہے تو وہ حتمی طور پر اسی کا ہو گا ، اس ( صورت ) میں دینے والے کے لیے کوئی شرط لگانا اور استثناء کرنا جائز نہیں ۔ ابوسلمہ نے کہا : کیونکہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں وراثت جاری ہو چکی ہے تو وراثت نے اس کی شرط کو ختم کر دیا
خالد بن حارث نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں ہشام نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی : ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " عمریٰ اسی کا ہے جسے ہبہ کیا گیا ہے
معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی : مجھے میرے والد نے یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی : ہمیں ابوسلمہ بن عبدالرحمان نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ اسی کی مانند
احمد بن یونس نے ہمیں حدیث بیان کی : ہمیں زہیر نے حدیث بیان کی : ہمیں ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے حدیث سنائی ، وہ اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر رہے تھے
نیز یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ انہی کے ہیں ۔ ۔ ہمیں ابوخثیمہ نے ابوزبیر سے خبر دی ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے اموال اپنے پاس روکے رکھو اور انہیں خراب نہ کرو ، کیونکہ جس نے بطور عمریٰ کوئی چیز دی تو وہ اسی کی ہے جسے دی گئی ہے ، وہ زندہ ہو یا مروہ ، اور اس کے وارثوں کی ہے ۔ " ( یعنی جب اس کو اور اس کے وارثوں کو دی گئی یا غیر مؤقت دی گئی)
حجاج بن ابوعثمان ، سفیان اور ایوب سب نے ابوزبیر سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ۔ ۔ آگے ابوخثیمہ کی حدیث کے ہم معنی ہے ۔ ایوب کی حدیث میں کچھ اضافہ ہے ، انہوں نے کہا : انصار نے مہاجرین کو عمر بھر کے لیے دینا شروع کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اپنے اموال اپنے پاس رکھو
ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، مجھے ابوزبیر نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے خبر دی ، انہوں نے کہا : مدینہ میں ایک عورت نے اپنے بیٹے کو اپنا باغ بطور عمریٰ دیا ، پھر وہ فوت ہو گیا اور اس کے بعد وہ بھی فوت ہو گئی ، اس ( لڑکے ) نے اولاد چھوڑی اور اس کے بھائی بھی تھے جو بطور عمریٰ دینے والی عورت کے بیٹے تھے ، تو بطور عمریٰ دینے والی عورت کی اولاد نے کہا : باغ ہمیں واپس مل گیا ۔ اور جسے بطور عمریٰ ہبہ کیا گیا تھا اس کے بیٹوں نے کہا : زندگی اور موت دونوں صورتوں میں وہ ہمارے باپ ہی کا ہے ۔ چنانچہ وہ حضرت عثمان کے آزاد کردہ غلام طارق کے پاس ( جو عبدالملک بن مروان کی طرف سے مدینے کا گورنر تھا ) جھگڑا لے کر گئے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ کو بلایا تو انہوں نے عمریٰ کی بابت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کے فرمان ) پر گواہی دی کہ وہ اس کے ( موجودہ ) مالک کا ہے ۔ طارق نے اسی کے مطابق فیصلہ کیا ، پھر انہوں نے عبدالملک کی طرف لکھا اور انہیں اس واقعے کی اطلاع دی اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی گواہی کے بارے میں بھی بتایا تو عبدالملک نے کہا : حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے سچ کہا ، تو طارق نے اس ( حکم ) کو نافذ کر دیا ، چنانچہ وہ باغ آج تک اسی کے بیٹوں کے پاس ہے جسےبطور عمریٰ دیا گیا تھا
سلیمان بن یسار سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کردہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے قول کی بنا پر طارق نے عمریٰ کا فیصلہ وارث کے حق میں کیا تھا
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : میں نے قتادہ سے سنا ، وہ عطاء کے واسطے سے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " عمریٰ جائز ہے ۔ " ( یہ عطیہ درست ہے اور آگے چلتا ہے)
سعید نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عطاء سے ، انہوں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " عمریٰ اس کے خاندان ( میں سے وراثت کے حقداروں ) کی میراث ہے
شعبہ نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، انہوں نے نضر بن انس سے ، انہوں نے بشیر بن نہیک سے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ، آپ نے فرمایا : " عمریٰ درست ہے
سعید نے ہمیں قتادہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی ، البتہ انہوں ( قتادہ ) نے کہا : " اس کے خاندان کی وراثت " کہا یا " جائز " کہا