18 - کتاب الطلاق
امام مالک بن انس نے نافع سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی ، طلاق دے دی ، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : " اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے ، پھر اسے رہنے دے حتی کہ وہ پاک ہو جائے ( طہر شروع ہو جائے ) ، پھر اسے حیض آ جائے ، پھر وہ پاک ہو جائے ۔ پھر اگر وہ چاہے تو اس کے بعد اسے اپنے پاس رکھے اور اگر چاہے تو اس سے مجامعت کرنے سے پہلے طلاق دے دے ۔ یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے
یحییٰ بن یحییٰ ، قتیبہ بن سعید اور ابن رمح نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ الفاظ یحییٰ کے ہیں ۔ ۔ قتیبہ نے کہا : ہمیں لیث نے حدیث سنائی اور دوسرے دونوں نے کہا : ہمیں لیث بن سعد نے نافع سے خبر دی ، انہوں نے کہا : حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو جب وہ حیض کی حالت میں تھی ایک طلاق دی ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کریں ، پھر اسے ( اپنے پاس ) روکیں حتی کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر ان کے ہاں اسے دوبارہ حیض آئے ، پھر اسے مہلت دیں حتی کہ وہ ( پھر سے ) اپنے حیض سے پاک ہو جائے ۔ اس کے بعد اگر اسے طلاق دینا چاہیں تو طہر کے زمانے میں ، اس کے ساتھ مجامعت کرنے سے پہلے اسے طلاق دیں ، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ نے حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے ۔ ابن رمح نے اپنی روایت میں یہ اضافہ کیا : حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ سے جب اس ( مسئلہ ) کے بارے میں سوال کیا جاتا تو وہ ان میں سے کسی سے کہتے : اگر تم نے اپنی بیوی کو ایک یا دو مرتبہ طلاق دی ہے ( تو رجوع کرو ) کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کا حکم دیا تھا ۔ اور اگر تم اسے تین طلاقیں دے چکے ہو تو وہ تم پر حرام ہو گئی ہے یہاں تک کہ وہ تمہارے سواکسی اور شوہر سے نکاح کرے ۔ تم نے اس حکم میں ، جو اس نے تمہاری بیوی کی طلاق کے بارے میں تمہیں دیا ہے ، اللہ کی نافرمانی کی ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : لیث نے اپنے ( روایت کردہ ) قول "" ایک طلاق "" ( کو محفوظ رکھنے اور بیان کرنے کے معاملے ) میں بہت اچھا کام کیا ہے
عبداللہ بن نمیر نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں عبیداللہ نے نافع سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اپنی بیوی کو جب وہ حیض کی حالت میں تھی ، طلاق دے دی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو آپ نے فرمایا : "" اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے پھر اسے ( اپنے پاس رکھ ) چھوڑے حتی کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر اسے دوسرا حیض آئے ، اس کے بعد جب وہ پاک ہو جائے تو مباشرت کرنے سے پہلے اسے طلاق دے یا اسے اپنے پاس رکھے ۔ بلاشبہ یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے ۔ "" عبیداللہ نے کہا : میں نے نافع سے پوچھا : طلاق کا کیا کیا گیا؟ انہوں نے جواب دیا : وہ ایک تھی ، اس کو شمار کیا گیا
ابوبکر بن ابی شیبہ اور ابن مثنیٰ نے بھی ہمیں یہی حدیث سنائی ، ان دونوں نے کہا : ہمیں عبداللہ بن ادریس نے عبیداللہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ، تاہم انہوں نے نافع سے عبیداللہ کے سوال کا تذکرہ نہیں کیا ۔ ابن مثنیٰ نے اپنی روایت میں فليرجعها ( اسے لوٹا لے ) کہا ۔ اور ابوبکر نے : فليراجعها ( اس سے رجوع کرے ) کہا
ایوب نے نافع سے روایت کی کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( اس کے بارے میں ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا ، تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) اس عورت سے رجوع کرے ، پھر اسے مہلت دے حتی کہ اسے دوسرا حیض آئے ، پھر اسے مہلت دے حتی کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر اسے چھونے ( مجامعت کرنے ) سے پہلے طلاق دے ، یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کے مطابق عورتوں کو طلاق دی جائے ۔ ( نافع نے ) کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے جب اس آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جو اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دیتا ہے تو وہ کہتے : اگر تم نے ایک یا دو طلاقیں دی ہیں ( تو رجوع کر سکتے ہو کیو کہ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا کہ اس سے رجوع کریں ، پھر اسے مہلت دیں حتی کہ اسے دوسرا حیض آئے ، ( فرمایا : ) پھر اسے مہلت دیں حتی کہ وہ پاک ہو جائے ، پھر اس سے مجامعت کرنے سے پہلے اسے طلاق دیں ۔ اور اگر تم نے تین طلاقیں دی ہیں تو تم نے اپنے رب کے حکم میں جو اس نے تمہاری بیوی کی طلاق کے حوالے سے تمہیں دیا ہے ، اس کی نافرمانی کی ہے اور ( اب ) وہ تم سے ( مستقل طور پر ) جدا ہو گئی ہے
امام زہری کے بھتیجے محمد نے ہمیں اپنے چچا زہری سے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سالم بن عبداللہ نے خبر دی کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے اپنی بیوی کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ حائضہ تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سخت غصے میں آئے ، پھر فرمایا : " اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے تا آنکہ اسے اس حیض کے سوا جس میں اس نے اسے طلاق دی ہے دوسرا حیض شروع ہو جائے ۔ اس کے بعد اگر وہ اسے طلاق دینا چاہے تو اسے ( دوسرے حیض کے بعد ) پاک ہونے کی حالت میں ، مباشرت کرنے سے پہلے طلاق دے ، یہی عدت کے مطابق طلاق ہے جس طرح اللہ نے حکم دیا ہے ۔ " اور حضرت عبداللہ ( بن عمر رضی اللہ عنہ ) نے اسے ایک طلاق دی تھی اور اس کی وہ طلاق شمار کی گئی اور عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ، جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تھا ، اس سے رجوع کیا
زبیدی نے زہری سے اسی سند کے ساتھ یہ حدیث بیان کی ، لیکن انہوں نے کہا : حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس سے رجوع کر لیا اور اس کی وہ طلاق شمار کر لی گئی جو میں نے اسے دی تھی
ابوطلحہ کے آزاد کردہ غلام محمد بن عبدالرحمٰن نے سالم سے ، انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی ، طلاق دے دی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی تو آپ نے فرمایا : " اسے حکم دو کہ وہ اس ( مطلقہ بیوی ) سے رجوع کرے ، پھر اسے حالت طہر میں یا حالت حمل میں طلاق دے ۔ " ( حمل میں طلاق دی جائے گی تو وضع حمل تک آسانی سے عدت کا شمار ہو سکے گا)
عبداللہ بن دینار نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی طلاق دی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : " اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے یہاں تک کہ وہ ( حیض سے ) پاک ہو جائے ، پھر اسے دوبارہ حیض آ جائے ، پھر پاک ہو جائے ، پھر اس کے بعد اسے طلاق دے یا ( اپنے پاس ) روک لے
اسماعیل بن ابراہیم نے ہمیں ایوب سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابن سیرین سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے بیس سال توقف کیا ، مجھے ایسے لوگ جنہیں میں مہتم نہیں سمجھتا تھا حدیث بیان کرتے رہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو جبکہ وہ حائضہ تھی تین طلاقیں دیں تو انہیں اس سے رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ۔ میں نے یہ کیا کہ میں انہیں مہتم نہیں کرتا تھا لیکن حدیث ( کی حقیقت ) کو بھی نہیں جانتا تھا ، یہاں تک کہ میری ملاقات ابوغلاب یونس بن جبیر باہلی سے ہوئی ۔ وہ بہت ضبط والے تھے ۔ ( حدیث کو بہت اچھی طرح یاد رکھنے والے تھے ) انہوں نے مجھے حدیث بیان کی کہ انہوں نے خود ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا تھا ، انہوں نے ان کو حدیث بیان کی کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دی تھی تو انہیں کم دیا گیا کہ وہ اس سے رجوع کریں ۔ کہا : میں نے عرض کی : کیا اسے طلاق شمار کیا گیا؟ انہوں نے جواب دیا : کیوں نہیں! اگر کوئی ( آدمی ) خود ہی ( صحیح طریقے پر طلاق دینے سے ) عاجز آ گیا ہو اور ( حالت حیض میں طلاق دے کر ) حماقت سے کام لیا ہو ( تو کیا طلاق نہ ہو گی)
حماد نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی ، البتہ انہوں نے کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ نے انہیں حکم دیا ( کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ یہ کریں)
عبدالوارث بن عبدالصمد کے دادا عبدالوارث بن سعید نے ایوب سے اسی سند کے ساتھ ( یہی ) روایت بیان کی اور ( اپنی ) حدیث میں کہا : حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) اس سے رجوع کرے حتی کہ اسے حالت طہر میں مجامعت کیے بغیر طلاق دے ، اور کہا : " وہ اسے عدت کے آغاز میں طلاق دے ۔ " ( یعنی اس طہر کے آغاز میں جس سے عدت شمار ہونی ہے)
یونس نے محمد بن سیرین سے ، انہوں نے یونس بن جبیر سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی : ایک آدمی نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ہے؟ تو انہوں نے کہا : کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ اس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ سے دریافت کیا تو آپ نے اسے ( ابن عمر کو ) حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرے ، پھر وہ ( عورت اگر اسے دوسرے طہر میں مجامعت کیے بغیر طلاق دی جائے تو وہاں سے ) آگے عدت شمار کرے ۔ کہا : میں نے ان ( ابن عمر رضی اللہ عنہ ) سے پوچھا : اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے تو کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ کہا : انہوں نے کہا : تو ( اور ) کیا؟ اگر وہ خود ہی ( صحیح طریقہ اختیار کرنے سے ) عاجز رہا اور اس نے حماقت سے کام لیا ( تو کیا طلاق شمار نہ ہو گی)
قتادہ سے روایت ہے انہوں نے کہا : میں نے یونس بن جبیر سے سنا انہوں نے کہا میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا : میں نے اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو یہ بات بتائی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اس سے رجوع کرے ، اس کے بعد جب وہ پاک ہو جائے تو اگر وہ چاہے اسے طلاق دے دے ۔ ( یونس نے ) کہا : میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ اس طلاق کو شمار کریں گے؟ انہوں نے کہا : اس سے کیا چیز مانع ہے تمہاری کیا رائے ہے اگر وہ خود ( صحیح طریقہ اختیار کرنے سے ) عاجز رہا اور نادانی والا کام کیا ( تو طلاق کیوں شمار نہ ہو گی)
عبدالملک نے انس بن سیرین سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی اس بیوی کے بارے میں سوال کیا جسے انہوں نے طلاق دی تھی ۔ انہوں نے کہا : میں نے اسے حالت حیض میں طلاق دی تھی ۔ میں نے یہ بات حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے یہی بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتائی ۔ اس پر آپ نے فرمایا : " اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے اور جب وہ پاک ہو جائے تو اسے اس کے طہر میں طلاق دے ۔ " کہا : میں نے اس ( بیوی ) سے رجوع کیا ، پھر اس کے طہر میں اسے طلاق دی ۔ میں نے پوچھا : آپ نے وہ طلاق شمار کی جو اسے حالت حیض میں دی تھی؟ انہوں نے جواب دیا : میں اسے کیوں شمار نہ کرتا؟ اگر میں خود ہی ( صحیح طریقہ اپنانے سے ) عاجز رہا تھا اور حماقت سے کام لیا تھا ( تو کیا طلاق شمار نہ ہو گی)
محمد بن جعفر نے ہمیں حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے انس بن سیرین سے حدیث بیان کی کہ انہوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، انہوں نے کہا : میں نے اپنی بیوی کو اس حالت میں طلاق دی کہ وہ حائضہ تھی ، اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو بتایا تو آپ نے فرمایا : " اسے حکم دو کہ اس سے رجوع کرے ، پھر جب وہ پاک ہو جائے تو تب اسے طلاق دے ۔ " میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ نے اس طلاق کو شمار کیا تھا؟ انہوں نے کہا : تو ( اور ) کیا
خالد بن حارث اور بہز دونوں نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند سے حدیث بیان کی ، لیکن ان دونوں کی حدیث میں ( فليراجعها ، یعنی اس سے رجوع کرنے کی بجائے ) فليرجعها ( وہ اس کو لوٹا لے ) ہے ۔ اور ان دونوں کی حدیث میں یہ بھی ہے ، کہا : میں نے ان سے پوچھا : کیا آپ اس طلاق کو شمار کریں گے؟ انہوں نے جواب دیا : تو ( اور ) کیا
(عبداللہ ) ابن طاوس نے اپنے والد سے روایت کی کہ انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سنا ، ان سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی ۔ انہوں نے کہا : کیا تم عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کو جانتے ہو؟ اس نے کہا : ہاں ، انہوں نے کہا : انہوں نے اپنی بیوی کو حیض میں طلاق دے دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور آپ کو اس خبر سے آگاہ کیا ۔ آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرے ۔ ( ابن طاقس نے ) کہا : میں نے اپنے والد کو اس سے زیادہ بیان کرتے ہوئے نہیں سنا
حجاج بن محمد نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ابن جریج نے کہا : مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عَزہ کے مولیٰ عبدالرحمٰن بن ایمن سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے اور ابوزبیر بھی یہ بات سن رہے تھے کہ آپ کی اس آدمی کے بارے میں کیا رائے ہے جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی؟ انہوں نے جواب دیا : ابن عمر رضی اللہ عنہ نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور بتایا : عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : "" وہ اس سے رجوع کرے ۔ "" چنانچہ انہوں نے اس سے رجوع کر لیا ، اور آپ نے فرمایا : "" جب وہ پاک ہو جائے تو اسے طلاق دے یا ( اپنے ہاں بسائے ) رکھے ۔ "" حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) تلاوت فرمائی : "" اے نبی! جب آپ لوگ عورتوں کو طلاق دیں تو انہیں ان کی عدت ( شروع کرنے ) کے وقت طلاق دے
ابوعاصم نے ابن جریج سے ، انہوں نے ابوزبیر سے اور انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے اسی واقعے کے مطابق روایت کی
عبدالرزاق نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابن جریج نے خبر دی ، ( کہا : ) مجھے ابوزبیر نے خبر دی کہ انہوں نے عروہ کے مولیٰ عبدالرحمٰن بن ایمن سے سنا ، وہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے پوچھ رہے تھے ، اور ابوزبیر بھی سن رہے تھے ۔ ۔ ۔ جس طرح حجاج کی حدیث ہے اور اس ( حدیث ) میں کچھ اضافہ بھی ہے ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے کہا : انہوں نے جو "" مولیٰ عروہ "" کہاہے ، اس میں غلطی کی ، وہ مولیٰ عزہ تھے
معمر نے ہمیں ابن طاوس سے خبر دی ، انہوں نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اور عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ( ابتدائی ) دو سالوں تک ( اکٹھی ) تین طلاقیں ایک شمار ہوتی تھی ، پھر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے کہا : لوگوں نے ایسے کام میں جلد بازی شروع کر دی ہے جس میں ان کے لیے تحمل اور سوچ بچار ( ضروری ) تھا ۔ اگر ہم اس ( عجلت ) کو ان پر نافذ کر دیں ( تو شاید وہ تحمل سے کام لینا شروع کر دیں ) اس کے بعد انہوں نے اسے ان پر نافذ کر دیا ۔ ( اکٹھی تین طلاقوں کو تین شمار کرنے لگے)
ابن جریج نے ہمیں خبر دی ، کہا : مجھے ابن طاوس نے اپنے والد ( طاوس بن کیسان ) سے خبر دی کہ ابوصبہاء نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھا : کیا آپ جانتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں ، اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ( ابتدائی ) تین سالوں تک تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا ہے؟ تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : ہاں
ابراہیم بن میسرہ نے طاوس سے روایت کی کہ ابوصبہاء نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عرض کی : آپ اپنے نوادر ( جن سے اکثر لوگ بے خبر ہیں ) فتووں میں سے کوئی چیز عنایت کریں ۔ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد میں تین طلاقیں ایک نہیں تھیں؟ انہوں نے جواب دیا : یقینا ایسے ہی تھا ، اس کے بعد جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ آیا تو لوگوں نے پے در پے ( غلط طریقے سے ایک ساتھ تین ) طلاقیں دینا شروع کر دیں ۔ تو انہوں نے اس بات کو ان پر لاگو کر دیا
ہشام ، یعنی دستوائی ( کپڑے والے ) سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : مجھے یحییٰ بن کثیر نے یعلیٰ بن حکیم سے حدیث بیان کرتے ہوئے لکھ بھیجا ، انہوں نے سعید بن جبیر سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، وہ ( بیوی کو اپنے اوپر ) حرام کرنے کے بارے میں کہا کرتے تھے : یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا ۔ اور حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : "" یقینا تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی زندگی ) میں بہترین نمونہ ہے
معاویہ بن سلام نے ہمیں یحییٰ بن ابی کثیر سے حدیث بیان کی کہ یعلیٰ بن حکیم نے انہیں خبر دی ، انہیں سعید بن جبیر نے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا : انہوں نے کہا : جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام ٹھہرا لے تو یہ قسم ہے جس کا وہ کفارہ دے گا ، اور کہا : " بلاشبہ تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کی زندگی ) میں بہترین نمونہ ہے
عبید بن عمیر نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ بتا رہی تھیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم زینب بنت حجش رضی اللہ عنہا کے ہاں ٹھہرتے اور ان کے پاس سے شہد نوش فرماتے تھے : کہا : میں اور حفصہ رضی اللہ عنہا نے اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( پہلے ) تشریف لائیں ، وہ کہے : مجھے آپ سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے ۔ کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟آپ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کے سامنے یہی بات کی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلکہ میں نے زینب بنت حجش کے ہاں سے شہد پیا ہے ۔ اور آئندہ ہرگز نہیں پیوں گا ۔ " اس پر ( قرآن ) نازل ہوا : " آپ کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے " اس فرمان تک : " اگر تم دونوں توبہ کرو ۔ " ۔ ۔ یہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنہا کے لیے کہا گیا ۔ ۔ " اور جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کسی بیوی سے راز کی بات کہی " اس سے مراد ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ) ہے : " بلکہ میں نے شہد پیا ہے <انڈر لائن > </انڈر لائن >
ابواسامہ نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( عروہ ) سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میٹھی چیز اور شہد کو پسند فرماتے تھے ، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز پڑھتے تو اپنی تمام ازواج کے ہاں چکر لگاتے اور ان کے قریب ہوتے ، ( ایسا ہوا کہ ) آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے تو ان کے ہاں آپ اس سے زیادہ ( دیر کے لیے ) رکے جتنا آپ ( کسی بیوی کے پاس ) رکا کرتے تھے ۔ ان ( حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ) کو ان کے خاندان کی کسی عورت نے شہد کا ( بھرا ہوا ) ایک برتن ہدیہ کیا تھا تو انہوں نے اس میں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو شہد پلایا ۔ میں نے ( دل میں ) کہا : اللہ کی قسم! ہم آپ ( کو زیادہ دیر قیام سے روکنے ) کے لیے ضرور کوئی حیلہ کریں گی ، چنانچہ میں نے اس بات کا ذکر حضرت سودہ رضی اللہ عنہا سے کیا ، اور کہا : جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے ہاں تشریف لائیں گے تو تمہارے قریب ہوں گے ، ( اس وقت ) تم ان سے کہنا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ وہ تمہیں جواب دیں گے ، نہیں! تو تم ان سے کہنا : یہ بو کیسی ہے؟ ۔ ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ بات انتیائی گراں گزرتی تھی کہ آپ سے بو محسوس کی جائے ۔ ۔ اس پر وہ تمہیں جواب دیں گے : مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا ، تو تم ان سے کہنا ( پھر ) اس کی مکھی نے عرفط ( بوٹی ) کا رس چوسا ہو گا ۔ میں بھی آپ سے یہی بات کہوں گی اور صفیہ تم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہی کہنا! جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سودہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے ، ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : سودہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں : اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں! آپ ابھی دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہاری ملامت کے ر سے آپ کو بلند آواز سے وہبات کہنے ہی لگی تھی جو تم نے مجھ سے کہی تھی ، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قریب ہوئے تو حضرت سودہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھائی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ۔ "" انہوں نے کہا : تو یہ بو کیسی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" مجھے حفصہ نے شہد پلایا تھا ۔ "" انہوں نے کہا : پھر اس کی مکھی نے عرفط کا رس چوسا ہو گا ۔ اس کے بعد جب آپ میرے ہاں تشریف لائے ، تو میں نے بھی آپ سے یہی بات کہی ، پھر آپ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گئے ، تو انہوں نے بھی یہی بات کہی ، اس کے بعد آپ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں ( دوبارہ ) تشریف لائے تو انہوں نے عرض کی : کیا آپ کو شہد پیش نہ کروں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" نہیں ، مجھے اس کی ضرورت نہیں ۔ "" ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : سودہ رضی اللہ عنہا کہنے لگیں ، سبحان اللہ! اللہ کی قسم! ہم نے آپ کو اس سے محروم کر دیا ہے ۔ تو میں نے ان سے کہا : خاموش رہیں ۔ ابواسحاق ابراہیم نے کہا : ہمیں حسن بن بشر بن قاسم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ابواسامہ نے بالکل اسی طرح حدیث بیان کی
علی بن مسہر نے ہشام بن عروہ سے اسی سند کے ساتھ اسی کے ہم معنی حدیث بیان کی
ابن شہاب سے روایت ہے ، کہا : مجھے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے خبر دی کہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا گیا کہ وہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں تو آپ نے ( اس کی ) ابتدا مجھ سے کی ، اور فرمایا : " میں تم سے ایک بات کرنے لگا ہوں ۔ تمہارے لیے اس بات میں کوئی حرج نہیں کہ تم اپنے والدین سے مشورہ کرنے تک ( جواب دینے میں ) عجلت سے کام نہ لو ۔ " انہوں نے کہا : آپ کو بخوبی علم تھا کہ میرے والدین مجھے کبھی آپ سے جدا ہونے کا مشورہ نہیں دیں گے ۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : " اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ میں تمہیں ( دنیا کا ) ساز و سامان دوں اور تمہیں اچھائی کے ساتھ رخصت کر دوں ۔ اور اگر تم اللہ اور اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہو تو اللہ نے تم میں سے نیک کام کرنے والیوں کے لیے اجر عظیم تیار کر رکھا ہے ۔ " ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : میں نے عرض کی : ان میں سے کس بات میں اپنے والدین سے مشورہ کروں؟ میں تو اللہ ، اس کا رسول اور آخرت کا گھر چاہتی ہوں ۔ کہا : پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام ازواج نے وہی کیا جو میں نے کیا تھا
عباد بن عباد نے ہمیں عاصم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے معاذ عدویہ سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب ہم میں سے کسی بیوی کی باری کا دن ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ( کسی اور بیوی کے ہاں جانے کے لیے ) ہم سے اجازت لیتے تھے ، حالانکہ یہ آیت نازل ہو چکی تھی : " آپ ان میں سے جسے چاہیں ( خود سے ) الگ رکھیں اور جسے چاہیں اپنے پاس جگہ دیں ۔ " تو معاذہ نے ان سے پوچھا : جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ سے اجازت لیتے تو آپ ان سے کیا کہتی تھیں؟ انہوں نے جواب دیا : میں کہتی تھی : اگر یہ ( اختیار ) میرے سپرد ہے تو میں اپنے آپ پر کسی کو ترجیح نہیں دیتی
(عبداللہ ) بن مبارک نے کہا : ہمیں عاصم نے اسی سند سے اسی کے ہم معنی خبر دی
عبثر نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے خبر دی ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے مسروق سے روایت کی ، کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا : ( جب ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ( علیحدہ ہو جانے کا ) اختیار دیا تھا ، تو ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا
علی بن مسہر نے اسی سند کے ساتھ مسروق سے روایت کی ، انہوں نے کہا : جب میری اہلیہ نے مجھے پسند کر لیا تو اس کے بعد مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ میں اسے ایک بار ، سو بار یا ایک ہزار بااختیار دوں ۔ بلاشبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تھا تو انہوں نے جواب دیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تھا تو کیا وہ طلاق تھی! ( نہیں تھی)
شعبہ نے ہمیں عاصم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے مسروق سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج کو ( ساتھ رہنے یا علیحدہ ہو جانے کا ) اختیار دیا تھا اور وہ طلاق نہیں تھی
سفیان نے عاصم احول اور اسماعیل بن ابی خالد سے ، انہوں نے شعبی سے ، انہوں نے مسروق سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ کو اختیار کیا ( چن لیا ) اور آپ نے اسے طلاق شمار نہیں کیا
ابومعاویہ نے اعمش سے ، انہوں نے مسلم سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اختیار دیا تو ہم نے آپ کو اختیار کر لیا اور آپ نے اسے ہم پر ( طلاق وغیرہ ) کچھ شمار نہیں کیا
اسماعیل بن زکریا نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں اعمش نے ابراہیم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اسود سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، ( نیز اسماعیل نے ) اعمش سے ، انہوں نے مسلم ( ابن صبیح ) سے ، انہوں نے مسروق سے اور انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے اسی کے مانند روایت کی
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے ، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت مانگ رہے تھے ۔ انہوں نے لوگوں کو آپ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے پایا ۔ ان میں سے کسی کو اجازت نہیں ملی تھی ۔ کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اجازت ملی تو وہ اندر داخل ہو گئے ، پھر عمر رضی اللہ عنہ آئے ، انہوں نے اجازت مانگی ، انہیں بھی اجازت مل گئی ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غمگین اور خاموش بیٹھے ہوئے پایا ، آپ کی بیویاں آپ کے ارد گرد تھیں ۔ کہا : تو انہوں ( ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں ضرور کوئی ایسی بات کروں گا جس سے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنساؤں گا ۔ انہوں نے کہا : اللہ کے رسول! کاش کہ آپ بنت خارجہ کو دیکھتے جب اس نے مجھ سے نفقہ کا سوال کیا تو میں اس کی جانب بڑھا اور اس کی گردن دبا دی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ۔ اور فرمایا : "" یہ بھی میرے اردگرد بیٹھی ہیں ، جیسے تم دیکھ رہے ہو ، اور مجھ سے نفقہ مانگ رہی ہیں ۔ "" ابوبکر رضی اللہ عنہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی جانب اٹھے اور ان کی گردن پر ضرب لگانا چاہتے تھے اور عمر رضی اللہ عنہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی جانب بڑھے اور وہ ان کی گردن پر مارنا چاہتے تھے ، ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو اس سے روک دیا ۔ مسند احمد : 3/328 ) اور دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چیز کا سوال کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں ہے ۔ وہ کہنے لگیں : اللہ کی قسم! آج کے بعد ہم کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کریں گی جو آپ کے پاس نہ ہو گی ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ یا انتیس دن تک کے لیے ان سے علیحدگی اختیار کر لی ۔ پھر آپ پر یہ آیت نازل ہوئی : "" اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! آپ اپنی بیویوں سے کہہ دو ۔ "" حتی کہ یہاں پہنچ گئے : "" تم میں سے نیکی کرنے والیوں کے لیے بڑا اجر ہے ۔ "" ( جابر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : آپ نے ابتدا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کی اور فرمایا : "" اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک معاملہ پیش کر رہا ہوں اور پسند کرتا ہوں کہ تم ، اپنے والدین سے مشورہ کر لینے تک اس میں جلدی نہ کرنا ۔ "" انہوں نے کہا : کیا میں آپ کے بارے میں ، اللہ کے رسول! اپنے والدین سے مشورہ کروں گی! بلکہ میں تو اللہ ، اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو چنتی ہوں ، اور آپ سے یہ درخواست کرتی ہو کہ جو میں نے کہا ہے ، آپ اپنی بیویوں میں سے کسی کو اس کی خبر نہ دیں ۔ آپ نے فرمایا : "" مجھ سے جو بھی پوچھے گی میں اسے بتا دوں گا ، اللہ تعالیٰ نے مجھے سختی کرنے والا اور لوگوں کے لیے مشکلات ڈھونڈنے والا بنا کر نہیں بھیجا ، بلکہ اللہ نے مجھے تعلیم دینے والا اور آسانی کرنے والا بنا کر بھیجا ہے
سماک ابوزمیل سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) مجھے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج سے علیحدگی اختیار فرمائی ، کہا : میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگوں کو دیکھا وہ ( پریشانی اور تفکر میں ) کنکریاں زمین پر مار رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ، یہ واقعہ انہیں پردے کا حکم دیے جانے سے پہلے کا ہے ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے ( دل میں ) کہا : آج میں اس معاملے کو جان کر رہوں گا ۔ انہوں نے کہا : میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ، اور کہا : ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیٹی! تم اس حد تک پہنچ چکی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دو؟ انہوں نے جواب دیا : خطاب کے بیٹے! آپ کا مجھ سے کیا واسطہ؟ آپ اپنی گھٹڑی ( یا تھیلا وغیرہ جس میں قیمتی ساز و سامان سنبھال کر رکھا جاتا ہے یعنی اپنی بیٹی حفصہ رضی اللہ عنہا ) کی فکر کریں ۔ انہوں نے کہا : پھر میں ( اپنی بیٹی ) حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے پاس آیا اور کہا : حفصہ! کیا تم اس حد تک پہنچ گئی ہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دو؟ اللہ کی قسم! تمہیں خوب معلوم ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم سے محبت نہیں رکھتے ۔ اگر میں نہ ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں طلاق دے دیتے ۔ ( میری یہ بات سن کر ) وہ بری طرح سے رونے لگیں ۔ میں نے ان سے پوچھا : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کہاں ہیں؟ انہوں نے جواب دیا : وہ اپنے بالا خانے پر سامان رکھنے والی جگہ میں ہیں ۔ میں وہاں گیا تو دیکھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام رَباح چوبارے کی چوکھٹ کے نیچے والی لکڑی پر بیٹھا ہے ۔ اس نے اپنے دونوں پاؤں لکڑی کی سوراخ دار سیڑھی پر لٹکا رکھے ہیں ۔ وہ کھجور کا ایک تنا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر ( قدم رکھ کر ) چڑھتے اور اترتے تھے ۔ میں نے آواز دی ، رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ۔ رباح رضی اللہ عنہ نے بالا خانے کی طرف نظر کی ، پھر مجھے دیکھا اور کچھ نہ کہا ۔ میں نے پھر کہا : رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ، رباح رضی اللہ عنہ نے ( دوبارہ ) بالا خانے کی طرف نگاہ اٹھائی ، پھر مجھے دیکھا ، اور کچھ نہ کہا ، پھر میں نے اپنی آواز کو بلند کی اور کہا : اے رباح! مجھے اپنے پاس ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ، حاضر ہونے کی اجازت لے دو ، میرا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمجھا ہے کہ میں حفصہ رضی اللہ عنہا کی ( سفارش کرنے کی ) خاطر آیا ہوں ، اللہ کی قسم! اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی گردن اڑانے کا حکم دیں تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا ، اور میں نے اپنی آواز کو ( خوب ) بلند کیا ، تو اس نے مجھے اشارہ کیا کہ اوپر چڑھ آؤ ۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے ، میں بیٹھ گیا ، آپ نے اپنا ازار درست کیا اور آپ ( کے جسم ) پر اس کے علاوہ اور کچھ نہ تھا اور چٹائی نے آپ کے جسم پر نشان ڈال دیے تھے ۔ میں نے اپنی آنکھوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کے کمرے میں دیکھا تو صرف مٹھی بھر جو ایک صاع کے برابر ہوں گے ، جَو اور کمرے کے ایک کونے میں اتنی ہی کیکر کی چھال دیکھی ۔ اس کے علاوہ ایک غیر دباغت شدہ چمڑا لٹکا ہوا تھا ۔ کہا : تو میری آنکھیں بہ پڑیں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : " ابن خطاب! تمہیں رُلا کیا چیز رہی ہے؟ " میں نے عرض کی : اللہ کے نبی! میں کیوں نہ روؤں؟ اس چٹائی نے آپ کے جسم اطہر پر نشان ڈال دیے ہیں ، اور یہ آپ کا سامان رکھنے کا کمرہ ہے ، اس میں وہی کچھ ہے جو مجھے نظر آرہا ہے ، اور قیصر و کسری نہروں اور پھلوں کے درمیان ( شاندار زندگی بسر کر رہے ) ہیں ، جبکہ آپ تو اللہ کے رسول اور اس کی چنی ہوئی ہستی ہیں ، اور یہ آپ کا سارا سامان ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابن خطاب! کیا تمہیں پسند نہیں کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو؟ " میں نے عرض کی : کیوں نہیں! کہا : جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو آپکے چہرے پر غصہ دیکھ رہا تھا ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ کو ( اپنی ) بیویوں کی حالت کی بنا پر کیا دشواری ہے؟ اگر آپ نے انہیں طلاق دے دی ہے تو اللہ آپ کے ساتھ ہے ، اس کے فرشتے ، جبرئیل ، میکائیل ، میں ، ابوبکر اور تمام مومن آپ کے ساتھ ہیں ۔ اور میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ میں نے کم ہی کوئی بات کہی ، مگر میں نے امید کی کہ اللہ میری اس بات کی تصدیق فرما دے گا جو میں کہہ رہا ہوں ۔ ( چنانچہ ایسے ہی ہوا ) اور یہ تخییر کی آیت نازل ہو گئی : " اگر وہ ( نبی ) تم سب ( بیویوں ) کو طلاق دے دیں تو قریب ہے کہ ان کا رب ، انہیں تم سے بہتر بیویاں بدلے میں دے ۔ " اور " اگر تم دونوں ان کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرو گی ، تو اللہ خود ان کا نگہبان ہے ، اور جبریل اور صالح مومن اور اس کے بعد تمام فرشتے ( ان کے ) مددگار ہیں ۔ " عائشہ بنت ابی بکر اور حفصہ رضی اللہ عنہن دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام بیویوں کے مقابلے میں ایک دوسرے کا ساتھ دیتی تھیں ۔ میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے فرمایا : " نہیں ۔ " میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! میں مسجد میں داخل ہوا تھا تو لوگ کنکریاں زمین پر مار رہے تھے ، اور کہہ رہے تھے : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو چلاق دے دی ہے ۔ کیا میں اتر کر انہیں بتا دوں کہ آپ نے ان ( بیویوں ) کو طلاق نہیں دی؟ آپ نے فرمایا : " ہاں ، اگر چاہو ۔ " میں مسلسل آپ سے گفتگو کرتا رہا یہاں تک کہ آپ کے چہرے سے غصہ دور ہو گیا ، اور یہاں تک کہ آپ کے لب وار ہوئے اور آپ ہنسے ۔ آپ کے سامنے والے دندانِ مبارک سب انسانوں سے زیادہ خوبصورت تھے ۔ پھر اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ( بالا خانے سے نیچے ) اترے ۔ میں تنے کو تھامتے ہوئے اترا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے اترے جیسے زمین پر چل رہے ہوں ، آپ نے تنے کو ہاتھ تک نہ لگایا ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! آپ بالا خانے میں 29 دن رہے ہیں ۔ آپ نے فرمایا : " مہینہ 29 دن کا ہوتا ہے ۔ " چنانچہ میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا ، اور بلند آواز سے پکار کر کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی ، اور ( پھر ) یہ آیت نازل ہوئی : " اور جب ان کے پاس امن یا خوف کی کوئی خبر آتی ہے تو اسے مشہور کر دیتے ہیں ، اور اگر وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اپنے معاملات سنبھالنے والوں کی طرف لوٹا دیتے ، تو وہ لوگ جو ان میں اس سے اصل مطلب اخذ کرتے ہیں اسے ضرور جان لیتے ۔ " تو میں ہی تھا جس نے اس معاملے کی اصل حقیقت کو اخذ کیا ، اور اللہ تعالیٰ نے تخییر کی آیت نازل فرمائی
سلیمان بن بلال نے کہا : مجھے یحییٰ نے عبید بن حنین سے خبر دی کہ انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا وہ حدیث بیان کر رہے تھے ، انہوں نے کہا : میں نے سال بھر کے انتظار کیا ، میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ایک آیت کے بارے میں دریافت کرنا چاہتا تھا مگر ان کی ہیبت کی وجہ سے ان سے سوال کرنے کی ہمت نہ پاتا تھا ، حتی کہ وہ حج کرنے کے لیے روانہ ہوئے ، میں بھی ان کے ساتھ نکلا ، جب لوٹے تو ہم راستے میں کسی جگہ تھے کہ وہ قضائے حاجت کے لیے پیلو کے درخت کی طرف چلے گئے ، میں ان کے انتظار میں ٹھہر گیا ، حتی کہ وہ فارغ ہو گئے ، پھر میں ان کے ساتھ چل پڑا ، میں نے عرض کی : امیر المومنین! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے وہ کون سی دو خواتین تھیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایکا کر لیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنہن تھیں ۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم! میں ایک سال سے اس کے بارے میں آپ سے پوچھنا چاہتا تھا مگر آپ کے رعب کی وجہ سے ہمت نہ پاتا تھا ۔ انہوں نے کہا : ایسا نہیں کرنا ، جو بات بھی تم سمجھو کہ مجھے علم ہے ، اس کے بارے میں مجھ سے پوچھ لیا کرو ، اگر میں جانتا ہوا تو تمہیں بتا دوں گا ۔ کہا : اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم! جب ہم جاہلیت کے زمانے میں تھے تو عورتوں کو کسی شمار میں نہ رکھتے تھے ، حتی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں جو نازل کیا ، سو نازل کیا ، اور جو ( مرتبہ ) انہیں دینا تھا سو دیا ۔ انہوں نے کہا : ایک مرتبہ میں کسی معاملے میں لگا ہوا تھا ، اس کے متعلق سوچ بچار کر رہا تھا کہ مجھے میری بیوی نے کہا : اگر آپ ایسا ایسا کر لیں ( تو بہتر ہو گا ۔ ) میں نے اسے جواب دیا : تمہیں اس سے کیا سروکار؟ اور یہاں ( اس معاملے میں ) تمہیں کیا دلچسپی ہے؟ اور ایک کام جو میں کرنا چاہتا ہوں اس میں تمہارا تکلف ( زبردستی ٹانگ اڑانا ) کیسا؟اس نے مجھے جواب دیا : ابن خطاب! آپ پر تعجب ہے! آپ یہ نہیں چاہتے کہ آپ کے بارے آگے بات کی جائے ، جبکہ آپ کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے پلٹ کر جواب دیتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن بھر اس سے ناراض رہتے ہیں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں ( اسی وقت ) اپنی چادر پکڑتا ہوں اور اپنی جگہ سے نکل کھڑا ہوتا ہوں ، یہاں تک کہ حفصہ کے پاس پہنچتا ہوں ۔ جا کر میں نے اس سے کہا : بٹیا! تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے جواب دیتی ہو کہ وہ سارا دن ناراض رہتے ہیں ۔ حفصہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا : اللہ کی قسم! ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے لیتی ہیں ۔ میں نے کہا : جان لو میں تمہیں اللہ کی سزا اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی سے ڈرا رہا ہوں ، میری بیٹی! تمہیں وہ ( عائشہ رضی اللہ عنہا اپنے رویے کی بنا پر ) دھوکے میں نہ ڈال دے جسے اپنے حسن اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے سے محبت پر ناز ہے ۔ پھر میں نکلا حتی کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے ہاں آیا ، کیونکہ میری ان سے قرابت داری تھی ۔ میں نے ان سے بات کی تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے مجھے جواب دیا : ابن خطاب تم پر تعجب ہے! تم ہر کام میں دخل اندازی کرتے ہو حتی کہ تم چاہتے ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی ازواج کے مابین بھی دخل دو؟ انہوں نے مجھے اس طرح آڑے ہاتھوں لیا کہ جو ( عزم ) میں ( دل میں ) پا رہا تھا ( کہ میں ازواجِ مطہرات کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے جواب دینے سے روک لوں گا ) مجھے توڑ کر اس سے الگ کر دیا ۔ چنانچہ میں ان کے ہاں سے نکل آیا ۔ میرا ایک انصاری ساتھی تھا ، جب میں ( آپ کی مجلس سے ) غیر حاضر ہوتا تو وہ میرے پاس ( وہاں کی ) خبر لاتا اور جب وہ غیر حاضر ہوتا تو میں اس کے پاس خبر لے آتا ۔ ہم اس زمانے میں غسان کے بادشاہوں میں سے ایک بادشاہ سے ڈر رہے تھے ۔ ہمیں بتایا گیا تھا کہ وہ ہم پر چڑھائی کرنا چاہتے ہے ۔ اس ( کی وجہ ) سے ہمارے سینے ( اندیشوں سے ) بھرے ہوئے تھے ۔ ( اچانک ایک دن ) میرا انصاری دوست آ کر دروازہ کھٹکھٹانے لگا اور کہنے لگا : کھولو ، کھولو! میں نے پوچھا : غسانی آ گیا ہے؟ اس نے کہا : اس سے بھی زیادہ سنگین معاملہ ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کر لی ہے ۔ میں نے کہا : حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن کی ناک خاک آلود ہو! پھر میں اپنے کپرے لے کر نکل کھڑا ہوا ، حتی کہ ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ) حاضر ہوا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بالا خانے میں تھے جس پر سیڑھی کے ذریعے چڑھ کر جانا ہوتا تھا ، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سیاہ فام غلام سیڑھی کے سرے پر بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے کہا : یہ عمر ہے ( خدمت میں حاضری کی اجازت چاہتا ہے ) ، تو مجھے اجازت عطا ہوئی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ساری بات بیان کی ، جب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی بات پر پہنچا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے ۔ آپ ایک چٹائی پر ( لیٹے ہوئے ) تھے ، آپ کے ( جسم مبارک ) اور اس ( چٹائی ) کے درمیان کچھ نہ تھا ۔ آپ کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی تھی ۔ آپ کے پاؤں کے قریب کیکر کی چھال کا چھوٹا سا گٹھا پڑا تھا اور آپ کے سر کے قریب کچھ کچے چمڑے لٹکے ہوئے تھے ۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو پر چٹائی کے نشان دیکھے تو رو پڑا ۔ آپ نے پوچھا : " تمہیں کیا رلا رہا ہے؟ " عرض کی : اے اللہ کے رسول! کسریٰ اور قیصر دونوں ( کفر کے باوجود ) اُس ناز و نعمت میں ہیں جس میں ہیں اور آپ تو اللہ کے رسول ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تمہیں پسند نہیں کہ ان کے لیے ( صرف ) دنیا ہو اور تمہارے لیے آخرت ہو
حماد بن سلمہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید بن حنین سے خبر دی ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ( حج سے ) واپس آیا حتی کہ جب ہم مرالظہران میں تھے ۔ ۔ ۔ آگے سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند پوری لمبی حدیث بیان کی ، مگر انہوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے کہا : میں نے عرض کی : دو عورتوں کا معاملہ کیا تھا؟ انہوں نے جواب دیا : ( وہ ) حفصہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنھن ( تھیں ۔ ) اور اس میں یہ اضافہ کیا : میں ( ازواج مطہرات کے ) حجروں کے پاس آیا تو ہر گھر میں رونے کی آواز تھی ، اور یہ بھی اضافہ کیا : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ایک ماہ ایلاء کیا تھا ، جب 29 دن ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ( بالا خانے سے ) اتر کر ان کے پاس تشریف لے آئے
سفیان بن عیینہ نے ہمیں یحییٰ بن سعید سے حدیث بیان کی ، انہوں نے عبید بن حنین سے سنا ، وہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام تھے ۔ انہوں نے کہا : میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سنا ، وہ کہہ رہے تھے : میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ان دو عورتوں کے بارے میں پوچھنا چاہتا تھا جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایکا کیا تھا ، میں سال بھر منتظر رہا ، مجھے کوئی مناسب موقع نہ مل رہا تھا ، حتی کہ میں مکہ کے سفر میں ان کے ساتھ گیا ، جب ہم مر الظہران پہنچے تو وہ قضائے حاجت کے لیے گئے اور کہا : میرے پاس پانی کا ایک لوٹا لے آنا ، میں نے انہیں لا دیا ۔ جب وہ اپنی حاجت سے فارغ ہو کر لوٹے ، میں جا کر ان ( کے ہاتھوں ) پر پانی ڈالنے لگا ، تو مجھے ( سوال ) یاد آ گیا ، میں نے ان سے پوچھا : اے امیر المومنین! وہ کون سی دو عورتیں تھیں؟ میں نے ابھی اپنی بات ختم نہ کی تھی کہ انہوں نے جواب دیا : وہ عائشہ اور حفصہ رضی اللہ عنھن تھیں
معمر نے زہری سے ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن ابی ثور سے ، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں شدت سے خواہش مند رہا تھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ان دو کے بارے میں سوال کروں جن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا : "" اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو تو یقینا تمہارے دل آگے جھک گئے ہیں "" حتی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حج ( کا سفر ) کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ، ( واپسی پر ) ہم راستے کے ایک حصے میں تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ ( اپنی ضرورت کے لیے راستے سے ) ایک طرف ہٹ گئے اور میں بھی پانی کا برتن لیے ان کے ساتھ ہٹ گیا ، وہ صحرا میں چلے گئے ، پھر میرے پاس آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی انڈیلا ، انہوں نے وضو کیا تو میں نے کہا : اے امیر المومنین! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں میں سے وہ دو کون سی تھیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : "" اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو تو یقینا تمہارے دل جھک گئے ہیں؟ "" عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ابن عباس! تم پر تعجب ہے! ۔ ۔ ۔ زہری نے کہا : اللہ کی قسم! انہوں ( ابن عباس رضی اللہ عنہ ) نے جو سوال ان سے کیا ، وہ انہیں برا لگا اور انہوں نے ( اس کا جواب ) چھپایا بھی نہیں ۔ ۔ انہوں نے کہا : وہ حفصہ اور عائشہ رضی اللہ عنھن تھیں ۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بات سنانے لگے اور کہا : ہم قریش کے لوگ ایسی قوم تھے جو اپنی عورتوں پر غالب تھے ، جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسے لوگ پائے جن پر ان کی عورتیں غالب تھیں ، چنانچہ ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں سے سیکھنا شروع کر دیا ۔ ( مردوں کو پلٹ کر جواب دینے لگیں ۔ ) عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میرا گھر بالائی علاقے بنی امیہ بن زید کے محلے میں تھا ، ایک دن میں اپنی بیوی پر ناراض ہوا ، تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی ، مجھے اس کا جواب دینا بڑا ناگوار گزرا تو اس نے کہا : تمہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ میں تمہیں جواب دوں؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دے دیتی ہیں ، اور ان میں سے کوئی ایک تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات تک پورا دن چھوڑ بھی دیتی ہے ( روٹھی رہتی ہے ۔ ) میں چلا ، حفصہ رضی اللہ عنہا کے ہاں گیا اور کہا : کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پلٹ کر جواب دے دیتی ہو؟ انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ میں نے ( پھر ) پوچھا : کیا تم میں سے کوئی انہیں رات تک دن بھر کے لیے چھوڑ بھی دیتی ہے؟ انہوں نے کہا : جی ہاں! میں نے کہا : تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑی ۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو جاتی ہے کہ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضی کی وجہ سے اللہ ( بھی ) اس پر ناراض ہو جائے گا تو وہ تباہ و برباد ہو جائے گی؟ ( آیندہ ) تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جواب دینا نہ ان سے کسی چیز کا مطالبہ کرنا ، تمہیں جو چاہئے مجھ سے مانگ لینا ۔ تمہیں یہ بات دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری ہمسائی ( سوکن ) تم سے زیادہ خوبصورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے ۔ ۔ ان کی مراد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے تھی ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : ۔ ۔ انصار میں سے میرا ایک پڑوسی تھا ۔ ۔ ہم باری باری ( بالائی علاقے سے ) اتر کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ۔ ایک دن وہ اترتا اور ایک دن میں اترتا ، وہ میرے پاس وحی وغیرہ کی خبریں لاتا اور میں بھی ( اپنی باری کے دن ) اس کے پاس اسی طرح کی خبریں لاتا ۔ اور ( ان دنوں ) ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے کہ غسانی ہمارے ساتھ لڑائی کرنے کے لیے گھوڑوں کو کھڑیاں لگا رہے تھے ، میرا ساتھی ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے عوالی سے ) اترا ، پھر عشاء کے وقت میرے پاس آیا ، میرا دروازہ کھٹکھٹایا ، پھر مجھے آواز دی ، میں باہر نکلا تو اس نے کہا : ایک بہت بڑا واقعہ رونما ہو گیا ہے ۔ میں نے پوچھا : کیا ہوا؟ کیا غسانی آ گئے؟ اس نے کہا : نہیں ، بلکہ وہ اس سے بھی بڑا اور لمبا چوڑا ( معاملہ ) ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے ۔ میں نے کہا : حفصہ تو ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑ گئی ۔ میں تو ( پہلے ہی ) سمجھتا تھا کہ ایسا ہونے والا ہے ۔ ( دوسرے دن ) جب میں صبح کی نماز پڑھ چکا تو اپنے کپڑے پہنے ، مدینہ میں آیا اور حفصہ کے پاس گیا ، وہ رو رہی تھی ۔ میں نے پوچھا : کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سب کو طلاق دے دی ہے؟ اس نے کہا : میں نہیں جانتی ، البتہ آپ الگ تھلگ اس بالاخانے میں ہیں ۔ میں آپ کے سیاہ فام غلام کے پاس آیا ، اور اسے کہا ، عمر کے لیے اجازت مانگو ۔ وہ گیا ، پھر میری طرف باہر آیا اور کہا : میں نے آُ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا ذکر کیا مگر آپ خاموش رہے ۔ میں چلا آیا حتی کہ منبر کے پاس آ کر بیٹھ گیا ، تو وہاں بہت سے لوگ بیٹھے تھے ، ان میں سے بعض رو رہے تھے ، میں تھوڑی دیر بیٹھا ، پھر جو کیفیت مجھ پر طاری تھی وہ مجھ پر غالب آ گئی ۔ میں پھر غلام کے پاس آیا اور کہا : عمر کے لیے اجازت مانگو ، وہ اندر داخل ہوا ، پھر میری طرف باہر آیا اور کہا : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تمہارا ذکر کیا ، مگر آپ خاموش رہے ۔ میں پیٹھ پھیر کر مڑا تو اچانک غلام مجھے بلانے لگا ، اور کہا : اندر چلے جاؤ ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں اجازت دے دی ہے ۔ میں اندر داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام عرض کیا تو دیکھا کہ آپ بنتی کی ایک چٹائی پر سہارا لے کر بیٹھے تھے ، جس نے آپ کے پہلو پر نشان ڈال دیے تھے ، میں نے عرض کی : کیا آپ نے اللہ کے رسول! اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ آپ نے میری طرف ( دیکھتے ہوئے ) اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : "" نہیں ۔ "" میں نے کہا : اللہ اکبر ۔ اللہ کے رسول! اگر آپ ہمیں دیکھتے تو ہم قریش ایسی قوم تھے جو اپنی بیویوں پر غالب رہتے تھے ۔ جب ہم مدینہ آئے تو ہم نے ایسی قوم کو پایا جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں ، تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں ( کی عادت ) سے سیکھنا شروع کر دیا ، چنانچہ ایک دن میں اپنی بیوی پر برہم ہوا تو وہ مجھے پلٹ کر جواب دینے لگی ۔ مجھے اس کا جواب دینا انتہائی ناگوار گزرا ، اس نے کہا : تمہیں یہ ناگوار گزرتا ہے کہ میں تمہیں جواب دیتی ہوں؟ اللہ کی قسم! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی آپ کو جواب دے دیتی ہیں ، اور ان میں سے کوئی تو آپ کو رات تک چھوڑ بھی دیتی ( روٹھ بھی جاتی ) ہے ۔ تو میں نے کہا : ان میں سے جس نے ایسا کیا وہ ناکام ہوئی اور خسارے میں پڑی ۔ کیا ( یہ کام کر کے ) ان میں سے کوئی اس بات سے بے خوف ہو سکتی ہے کہ اپنے رسول کی ناراضی کی وجہ سے اللہ اس پر ناراض ہو جائے ( اگر ایسا ہوا ) تو وہ تباہ ہو گئی ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے تو میں نے کہا : اللہ کے رسول! میں حفصہ کے پاس گیا اور اس نے کہا : تمہیں یہ بات کسی دھوکے میں نہ ڈال دے کہ تمہاری ہمسائی ( سوکن ) تم سے زیادہ خوبصورت اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو تم سے زیادہ محبوب ہے ۔ اس پر آپ دوبارہ مسکرائے تو میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! ( کچھ دیر بیٹھ کر ) بات چیت کروں ، آپ نے فرمایا : "" ہاں ۔ "" چنانچہ میں بیٹھ گیا اور میں نے سر اوپر کر کے گھر میں نگاہ دوڑائی تو اللہ کی قسم! اس میں تین چمڑوں کے سوا کچھ نہ تھا جس پر نظر پڑتی ، میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! دعا فرمائیے کہ اللہ آپ کی امت پر فراخی فرمائے ۔ فارسیوں اور رومیوں پر وسعت کی گئی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں کرتے ۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے ، پھر فرمایا : "" ابن خطاب! کیا تم کسی شک میں مبتلا ہو؟ یہ ایسے لوگ ہیں جنہیں ان ( کے حصے ) کی اچھی چیزیں جلد ہی دنیا میں دے دی گئی ہیں ۔ "" میں نے عرض کی : اللہ کے رسول! میرے لیے بخشش طلب کیجیے ۔ اور آپ نے ان ( ازواج ) پر سخت غصے کی وجہ سے قسم کھا لی تھی کہ ایک مہینہ ان کے پاس نہیں جائیں گے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر عتاب فرمایا ۔ ( کہ بیویوں کی بات پر آپ کیوں غمزدہ ہوتے اور حلال چیزوں سے دور رہنے کی قسم کھاتے ہیں)
اسود بن سفیان کے مولیٰ عبداللہ بن یزید نے ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ ابو عمرو بن حفص رضی اللہ عنہ نے انہیں طلاق بتہ ( حتمی ، تیسری طلاق ) دے دی ، اور وہ خود غیر حاضر تھے ، ان کے وکیل نے ان کی طرف سے کچھ جَو ( وغیرہ ) بھیجے ، تو وہ اس پر ناراض ہوئیں ، اس ( وکیل ) نے کہا : اللہ کی قسم! تمہارا ہم پر کوئی حق نہیں ۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں ، اور یہ بات آپ کو بتائی ۔ آپ نے فرمایا : " اب تمہارا خرچ اس کے ذمے نہیں ۔ " اور آپ نے انہیں حکم دیا کہ وہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے گھر میں عدت گزاریں ، پھر فرمایا : " اس عورت کے پاس میرے صحابہ آتے جاتے ہیں ، تم ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں عدت گزر لو ، وہ نابینا آدمی ہیں ، تم اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے بھی اتار سکتی ہو ۔ تم جب ( عدت کی بندش سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے بتانا ۔ " جب میں ( عدت سے ) فارغ ہوئی ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بتایا کہ معاویہ بن ابی سفیان اور ابوجہم رضی اللہ عنہم دونوں نے مجھے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ابوجہم تو اپنے کندھے سے لاٹھی نہیں اتارتا ، اور رہا معاویہ تو وہ انتہائی فقیر ہے ، اس کے پاس کوئی مال نہیں ، تم اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے نکاح کر لو ۔ " میں نے اسے ناپسند کیا ، آپ نے پھر فرمایا : " اسامہ سے نکاح کر لو ۔ " تو میں نے ان سے نکاح کر لیا ، اللہ نے اس میں خیر ڈال دی اور اس کی وجہ سے مجھ پر رشک کیا جانے لگا
ابوحازم نے ابوسلمہ سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں ان کے شوہر نے انہیں طلاق دے دی ، اور اس نے انہیں بہت حقیر سا خرچ دیا ، جب انہوں نے اسے دیکھا تو کہا : اللہ کی قسم! میں ( اس بات سے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گی ، اگر میرے لیے خرچ ہے تو اتنا لوں گی جو میری گزران درست کر دے ، اگر میرے لیے خرچ نہیں ہے تو میں اس سے کچھ بھی نہیں لوں گی ۔ انہوں نے کہا : میں نے اس بات کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ نے فرمایا : " تمہارے لیے نہ خرچ ہے اور نہ رہائش ۔
عمران بن ابی انس نے ابوسلمہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ ان کے مخزومی شوہرنے انہیں طلاق دے دی اور ان پر خرچ کرنے سے بھی انکار کر دیا ، تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو اس بات کی خبر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے لیے خرچ نہیں ہے ۔ ( وہاں سے ) منتقل ہو کر ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے ہاں چلی جاؤ اور وہیں رہو ، وہ نابینا آدمی ہیں ، تم وہاں اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے بھی اتار سکو گی
یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے ، ( کہا : ) مجھے ابوسلمہ نے خبر دی کہ ضحاک بن قیس رضی اللہ عنہ کی ہمشیرہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ ابوحفص بن مغیرہ مخزومی نے اسے تین طلاقیں دے دیں ، پھر یمن کی طرف طلا گیا ، تو اس کے عزیز و اقارب نے اسے کہا : تمہارا خرچ ہمارے ذمے نہیں ہے ۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ چند ساتھیوں کے ہمراہ آئے ، حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : ابوحفص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دی ہیں ، کیا اس ( کی سابقہ بیوی ) کے لیے خرچہ ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس کے لیے خرچہ نہیں ہے جبکہ اس کے لیے عدت ( گزارنا ) ضروری ہے ۔ " اور آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا : " اپنے بارے میں مجھ سے ( مشورہ کرنے سے پہلے ) سبقت نہ کرنا ۔ " اور اسے حکم دیا کہ ام شریک رضی اللہ عنہا کے ہاں منتقل ہو جائے ، پھر اسے پیغام بھیجا : " ام شریک کے ہاں اولین مہاجرین آتے ہیں ، تم ابن مکتوم اعمیٰ کے ہاں چلی جاؤ ، جب ( کبھی ) تم اپنی اوڑھنی اتارو گی تو وہ تمہیں نہیں دیکھ سکیں گے ۔ " وہ ان کے ہاں چلی گئیں ، جب ان کی عدت پوری ہو گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید بن حارثہ رضی اللہ عنہا سے کر دیا
یحییٰ بن ایوب ، قتیبہ بن سعید اور ابن حجر نے ہمیں حدیث سنائی ، انہوں نے کہا : ہمیں اسماعیل ، یعنی ابن جعفر نے محمد بن عمرو سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ہمیں ابوسلمہ سے ، انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کی ۔ اسی طرح ہمیں ابوبکر بن ابی شیبہ نے حدیث بیان کی ۔ ( کہا : ) ہم سے محمد بن بشر نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہم سے محمد بن عمرو نے باقی ماندہ سابقہ سند کے ساتھ حدیث بیان کی : ( ابوسلمہ نے ) کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے منہ سے سن کر یہ حدیث لکھی ، انہوں نے کہا : میں بنو مخزوم کے ایک آدمی کے ہاں تھی ۔ اس نے مجھے تین طلاقیں دے دیں تو میں نے اس کے گھر والوں کے ہاں پیغام بھیجا ، میں خرچ کا مطالبہ کر رہی تھی ۔ ۔ ۔ آگے ان سب نے ابوسلمہ سے یحییٰ بن کثیر کی حدیث کے مانند بیان کیا ، البتہ محمد بن عمرو کی حدیث میں ہے : " اپنے ( نکاح کے ) معاملے میں ( ہمارے ساتھ مشورہ کیے بغیر ) ہمیں پیچھے نہ چھوڑ دینا
صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن بن عوف نے انہیں خبر دی کہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا نے انہیں بتایا کہ وہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں ، انہوں نے اسے تینوں طلاقوں میں سے آخری طلاق بھی دے دی ، ان کا خیال تھا کہ وہ اپنے گھر سے باہر نکلنے کے بارے میں فتویٰ پوچھنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ نابینا ( صحابی ) ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر منتقل ہو جائیں ۔ مروان نے ( جب وہ مدینے کا عامل تھا ) اس بات سے انکار کر دیا کہ وہ مطلقہ عورت کے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں ان کی ( بات کی ) تصدیق کرے ۔ اور عروہ نے کہا : حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا
عقیل نے ابن شہاب سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ، ساتھ عروہ کا قول بھی ذکر کیا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے سامنے اس بات کو ناقابل قبول قرار دیا
معمر نے ہمیں زہری سے خبر دی ، انہوں نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے روایت کی کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن کی جانب گئے اور اپنی بیوی فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کو اس کی ( تین ) طلاقوں میں سے جو طلاق باقی تھی بھیج دی ، اور انہوں نے ان کے بارے میں ( اپنے عزیزوں ) حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ سے کہا کہ وہ انہیں خرچ دیں ، تو ان دونوں نے ان ( فاطمہ ) سے کہا : اللہ کی قسم! تمہارے لیے کوئی خرچ نہیں الا یہ کہ تم حاملہ ہوتی ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ کو ان دونوں کی بات بتائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہارے لیے خرچ نہیں ( بنتا ۔ ) " انہوں نے آپ سے نقل مکانی کی اجازت چاہی تو آپ نے انہیں اجازت دے دی ۔ انہوں نے پوچھا : اللہ کے رسول! کہاں؟ فرمایا : " ابن ام مکتوم کے ہاں ۔ " وہ نابینا تھے ، وہ ان کے سامنے اپنے ( اوڑھنے کے ) کپڑے اتارتیں تو وہ انہیں دیکھ نہیں سکتے تھے ۔ جب ان کی عدت پوری ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نکاح اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے کر دیا ۔ اس کے بعد مروان نے اس حدیث کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے قبیصہ بن ذؤیب کو ان کے پاس بھیجا تو انہوں نے اسے یہ حدیث بیان کی ، اس پر مروان نے کہا : ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت سے سنی ہے ، ہم تو اسی مقبول طریقے کو تھامے رکھیں گے جس پر ہم نے تمام لوگوں کو پایا ہے ۔ جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو مروان کی یہ بات پہنچی تو انہوں نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان قرآن فیصل ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : " تم انہیں ان کے گھروں سے مت نکالو ۔ " آیت مکمل کی ۔ انہوں نے کہا : یہ آیت تو ( جس طرح اس کے الفاظ ( لَعَلَّ ٱللَّـهَ يُحْدِثُ بَعْدَ ذَٰلِكَ أَمْرًا ) ( الطلاق 1 : 65 ) سے ظاہر ہے ) اس ( شوہر ) کے لیے ہوئی جسے رجوع کا حق حاصل ہے ، اور تیسری طلاق کے بعد از سر نو کون سی بات پیدا ہو سکتی ہے؟ اور تم یہ بات کیسے کہتے ہو کہ اگر وہ حاملہ نہیں ہے تو اس کے لیے خرچ نہیں ہے؟ پھر تم اسے روکتے کس بنا پر ہو
زہیر بن حرب نے مجھے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں ہشیم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سیار ، حصین ، مغیرہ ، اشعث ، مجالد ، اسماعیل بن ابی خالد اور داود سب نے شعبی سے خبر دی ۔ ۔ البتہ داود نے کہا : ہمیں حدیث بیان کی ۔ ۔ انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور ان سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کے متعلق دریافت کیا جو ان کے بارے میں تھا ۔ انہوں نے کہا : ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دے دیں ، کہا : تو میں رہائش اور خرچ کے لیے اس کے ساتھ اپنا جھگڑا لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی ۔ کہا : تو آپ نے مجھے رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہ دیا ، اور مجھے حکم دیا کہ میں اپنی عدت ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کے گھر گزاروں
یحییٰ بن یحییٰ نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں ہشیم نے حصین ، داود ، مغیرہ ، اسماعیل اور اشعث سے ، انہوں نے شعبی سے خبر دی کہ انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گیا ۔ ۔ ۔ ( آگے ) ہشیم سے زہیر کی روایت کردہ حدیث کے مانند ہے
قرہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں سیار ابوالحکم نے حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبی نے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : ہم فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، انہوں نے ابن طاب کی تازہ کھجوروں سے ہماری ضیافت کی ، اور ہمیں عمدہ جَو کے ستو پلائے ، اس کے بعد میں نے ان سے ایسی عورت کے بارے میں پوچھا جسے تین طلاقیں دی گئی ہوں کہ وہ عدت کہاں گزارے گی؟ انہوں نے جواب دیا : مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دیں تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اجازت دی کہ میں اپنے گھرانے میں عدت گزاروں ۔ ( ابن مکتوم ان کے عزیز تھے)
سلمہ بن کہیل نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے ایسی عورت کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی جسے تین طلاقیں دے دی گئی ہوں ، آپ نے فرمایا : " اس کے لیے نہ رہائش ہے اور نہ خرچ
یحییٰ بن آدم نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رُزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے شعبی سے اور انہوں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو میں نے ( وہاں سے ) نقل مکانی کا ارادہ کیا ۔ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی ، تو آپ نے فرمایا : " تم اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر منتقل ہو جاؤ ، اور ان کے ہاں عدت گزارو
ابواحمد نے ہمیں خبر دی ، ( کہا : ) عمار بن رزیق نے ہمیں ابواسحاق سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اسود بن یزید ( نخعی ) کے ساتھ ( کوفہ کی ) بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا ، شعبی بھی ہمارے ساتھ تھے ، تو شعبی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش اور خرچ ( کا حق ) نہیں دیا ۔ پھر اسود نے مٹھی بھر کنکریاں لیں اور انہیں دے ماریں اور کہا : تم پر افسوس! تم اس طرح کی حدیث بیان کر رہے ہو؟ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا تھا : ہم ایک عورت کے قول کی وجہ سے اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کو نہیں چھوڑ سکتے ، ہم نہیں جانتے کہ اس نے ( اس مسئلے کو ) یاد رکھا ہے یا بھول گئی ، اس کے لیے رہائش اور خرچ ہے ۔ ( اور یہ آیت تلاوت کی ) اللہ عزوجل نے فرمایا : " تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو ، اور نہ وہ خود نکلیں ، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی بے حیائی کریں
سلیمان بن معاذ نے ابواسحاق سے اسی سند کے ساتھ عمار بن رزیق سے روایت کردہ ابواحمد کی حدیث کے ہم معنی حدیث مکمل قصے سمیت بیان کی
وکیع نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں سفیان نے ابوبکر بن ابوجہم بن سخیر عدوی سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رہائش دی نہ خرچ ۔ کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا : " جب ( عدت سے ) آزاد ہو جاؤ تو مجھے اطلاع دینا " سو میں نے آپ کو اطلاع دی ۔ معاویہ ، ابوجہم اور اسامہ بن زید رضی اللہ عنہم نے ان کی طرف پیغام بھیجا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " معاویہ تو فقیر ہے اس کے پاس مال نہیں ہے ، اور رہا ابوجہم تو وہ عورتوں کو بہت مارنے والا ہے ، البتہ اسامہ بن زید ہے ۔ " انہوں نے ( ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے ) ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا : اسامہ! اسامہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا : " اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت تمہارے لیے بہتر ہے ۔ " کہا : تو میں نے ان سے شادی کر لی ، اس کے بعد مجھ پر رشک کیا جانے لگا
عبدالرحمٰن نے ہمیں سفیان سے حدیث بیان کی ، انہوں نے ابوبکر بن ابی جہم سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میں نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے سنا وہ کہہ رہی تھیں : میرے شوہر ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ نے عیاش بن ابی ربیعہ کو میری طلاق کا پیغام دے کر بھیجا اور اس کے ساتھ پانچ صاع کھجوریں اور پانچ صاع جَو بھی بھیجے ۔ میں نے کہا : کیا میرے لیے صرف یہی خرچ ہے؟ کیا میں تم لوگوں کے گھر میں عدت نہیں گزاروں گی؟ اس نے جواب دیا : نہیں ۔ انہوں نے کہا : میں نے اپنے کپڑے سمیٹے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی تو آپ نے پوچھا : " وہ تمہیں کتنی طلاقیں دے چکے ہیں؟ " میں نے جواب دیا : تین ۔ آپ نے فرمایا : " اس نے سچ کہا ، تمہارے لیے خرچ نہیں ہے ۔ اپنے چچا زاد عمرو بن ام مکتوم کے گھر عدت گزارو ، وہ نابینا ہیں تم ان کے ہاں اپنا اوڑھنے کا کپڑا اتار سکو گی ۔ جب تمہاری عدت ختم ہو جائے تو مجھے اطلاع دینا ۔ " انہوں نے ( آکر ) کہا : مجھے کئی لوگوں نے نکاح کا پیغام بھیجا ہے ، ان میں معاویہ اور ابوجہم بھی ہیں ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " معاویہ تو فقیر اور مفلوک الحال ہے ، اور رہے ابوجہم تو وہ عورتوں پر بہت سختی کرتے ہیں ۔ ۔ یا وہ عورتوں کو مارتے ہیں ، یا اس طرح کی کوئی اور بات کہی ۔ ۔ البتہ تم اسامہ بن زید کو قبول کر لو
ابو عاصم نے ہمیں خبر دی ( کہا : ) ہمیں سفیان ثوری نے ابوبکر بن ابی جہم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے ہاں حاضر ہوئے ، ہم نے ان سے سوال کیا ، تو انہوں نے کہا : میں ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ رضی اللہ عنہ کی بییو تھی ، وہ نجران کی لڑائی میں نکلے ، آگے انہوں نے ابن مہدی کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور یہ اضافہ کیا : ( فاطمہ نے ) کہا : تو میں نے ان ( اسامہ ) سے شادی کر لی ، اللہ نے ابوزید ( اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ ) کی وجہ سے مجھے شرف بخشا ، اللہ نے ابوزید کی وجہ سے مجھے عزت دی
شعبہ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ابوبکر ( بن ابی جہم ) نے مجھے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں اور ابوسلمہ ، ابن زبیر کے زمانہ خلافت میں ، فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے پاس گئے تو انہوں نے ہمیں حدیث بیان کی کہ ان کے شوہر نے انہیں تین طلاقیں دیں ، آگے سفیان کی حدیث کی طرح ہے
(عبداللہ بن یسار ) بہی نے فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے رہائش اور خرچ نہیں رکھا
عروہ بن زبیر نے کہا : یحییٰ بن سعید بن عاص نے عبدالرحمٰن بن حکم کی بیٹی سے شادی کی ، بعد میں اسے طلاق دے دی اور اسے اپنے ہاں سے بھی نکال دیا ۔ عروہ نے اس بات کی وجہ سے ان پر سخت اعتراض کیا ، تو انہوں نے کہا : فاطمہ ( بھی اپنے خاوند کے گھر سے ) چلی گئی تھی ۔ عروہ نے کہا : اس پر میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بات بتائی تو انہوں نے کہا : فاطمہ بنت قیس کے لیے اس حدیث کو بیان کرنے میں کوئی خیر نہیں ہے
فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے عرض کی : اے اللہ کے رسول! مجھے میرے شوہر نے تین طلاقیں دے دی ہیں ، اور میں ڈرتی ہوں کہ کوئی گھس کر مجھ پر حملہ کر دے گا ، کہا : اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا تو انہوں نے جگہ بدل لی
شعبہ نے ہمیں عبدالرحمٰن بن قاسم سے حدیث بیان کی ، انہوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے ، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ انہوں نے کہا : اس بات کو بیان کرنے میں فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے کہ " نہ رہائش ہے نہ خرچ
سفیان نے عبدالرحمٰن بن قاسم سے اور انہوں نے اپنے والد ( قاسم ) سے روایت کی ، انہوں نے کہا : عروہ بن زبیر نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا : کیا آپ نے فلانہ بنت حکم کو نہیں دیکھا؟ اس کے شوہر نے اسے تین طلاقیں دیں تو وہ ( اس کے گھر سے ) چلی گئی ۔ ( عائشہ رضی اللہ عنہا نے ) کہا : اس نے برا کیا ۔ عروہ نے پوچھا : کیا آپ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کا قول نہیں سنا؟ تو انہوں نے جواب دیا : دیکھو! اس کو بیان کرنے میں اس کے لیے کوئی بھلائی نہیں ہے
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میری خالہ کو طلاق ہو گئی ، انہوں نے ( دورانِ عدت ) اپنی کھجوروں کا پھل توڑنے کا ارادہ کیا ، تو ایک آدمی نے انہیں ( گھر سے ) باہر نکلنے پر ڈانٹا ۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں ، تو آپ نے فرمایا : " کیوں نہیں ، اپنی کھجوروں کا پھل توڑو ، ممکن ہے کہ تم ( اس سے ) صدقہ کرو یا کوئی اور اچھا کام کرو
ابن شہاب سے روایت ہے ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود نے حدیث بیان کی کہ ان کے والد نے عمر بن عبداللہ بن ارقم زہری کو حکم دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ بنت حارث اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے پاس جائیں ، اور ان سے ان کے واقعے کے بارے میں اور ان کے فتویٰ پوچھنے پر جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تھا اس کے بارے میں پوچھیں ۔ چنانچہ عمر بن عبداللہ نے عبداللہ بن عتبہ کو خبر دیتے ہوئے لکھا کہ سبیعہ نے انہیں بتایا ہے کہ وہ سعد بن خولہ کی بیوی تھیں ، وہ بنی عامر بن لؤی میں سے تھے اور وہ بدر میں شریک ہونے والوں میں سے تھے ۔ وہ حجۃ الوداع کے موقع پر ، فوت ہو گئے تھے جبکہ وہ حاملہ تھیں ۔ ان کی وفات کے بعد زیادہ وقت نہ گزرا تھا کہ انہوں نے بچے کو جنم دیا ۔ جب وی اپنے نفاس سے پاک ہوئیں تو انہوں نے نکاح کا پیغام دینے والوں کے لیے ( کہ انہیں ان کی عدت سے فراغت کا پتہ چل جائے کچھ ) بناؤ سنگھار کیا ۔ بنو عبدالدار کا ایک آدمی ۔ ۔ ابوالسنابل بن بعکک ۔ ۔ ان کے ہاں آیا تو ان سے کہا : کیا بات ہے میں آپ کو بنی سنوری دیکھ رہا ہوں؟ شاید آپ کو نکاح کی امید ہے؟ اللہ کی قسم! آپ نکاح نہیں کر سکتیں حتی کہ آپ پر چار مہینے دس دن گزر جائیں ۔ سبیعہ رضی اللہ عنہا نے کہا : جب اس نے مجھے یہ بات کہی تو شام کے وقت میں نے اپنے کپڑے سمیٹے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ سے اس کے بارے میں دریافت کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فتویٰ دیا کہ میں اسی وقت حلال ہو چکی ہوں جب میں نے بچہ جنا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ، اگر میں مناسب سمجھوں تو مجھے شادی کرنے کا حکم دیا ۔ ابن شہاب نے کہا : میں کوئی حرج نہیں سمجھتا کہ وضع حمل کے ساتھ ہی ، چاہے وہ اپنے ( نفاس کے ) خون میں ہو ، عورت نکاح کر لے ، البتہ اس کا شوہر اس کے پاک ہونے تک اس کے قریب نہ جائے
عبدالوہاب نے کہا : میں نے یحییٰ بن سعید سے سنا ، ( انہوں نے کہا : ) مجھے سلیمان بن یسار نے خبر دی کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن اور ابن عباس رضی اللہ عنہم دونوں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے ہاں اکٹھے ہوئے اور وہ دونوں اس عورت کا ذکر کرنے لگے جس کا اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد نفاس شروع ہو جائے ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا : اس کی عدت دو وقتوں میں سے آخر والا ہے ۔ ابوسلمہ نے کہا : وہ حلال ہو چکی ہے ۔ وہ دونوں اس معاملے میں بحث کرنے لگے ، تو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : میں اپنے بھتیجے ۔ ۔ یعنی ابوسلمہ ۔ ۔ کے ساتھ ہوں ۔ اس کے بعد انہوں نے اس مسئلے کے بارے میں دریافت کرنے کے لیے ابن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام کریب کو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا ۔ وہ ( واپس ) ان کے پاس آیا تو انہیں بتایا کہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کہا ہے : سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا نے اپنے شوہر کی وفات سے چند راتوں کے بعد بچہ جنا تھا ، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ نے انہیں نکاح کرنے کا حکم دیا تھا
لیث اور یزید بن ہارون دونوں نے اسی سند کے ساتھ یحییٰ بن سعید سے روایت کی ، البتہ لیث نے اپنی حدیث میں کہا : انہوں نے ( کسی کو ) ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی طرف بھیجا ۔ انہوں نے کریب کا نام نہیں لیا
حمید بن نافع نے زینب بنت ابی سلمہ سے روایت کی کہ انہوں نے اِن ( حمید ) کو یہ تین حدیثیں بیان کیں ، کہا : زینب رضی اللہ عنہا نے کہا : جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے والد ابوسفیان رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں ان کے ہاں گئی ، ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے زرد رنگ ملی مخلوط یا کوئی اور خوشبو منگوائی ، اس میں سے ( پہلے ) ایک بچی کو لگائی ( تاکہ ) ہاتھ پر اس کی مقدار بہت کم ہو جائے ) پھر اپنے رخساروں پر ہاتھ مل لیا ، پھر کہا : اللہ کی قسم! مجھے خوشبو کی ضرورت نہ تھی مگر ( بات یہ ہے کہ ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ منبر پر ارشاد فرما رہے تھے : " کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ، حلال نہیں کہ وہ کسی بھی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے مگر خاوند پر ، چار ماہ دس دن ( سوگ منائے)
حمید بن نافع سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : میں نے زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، انہوں نے کہا : ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا کوئی انتہائی قریبی عزیز فوت ہو گیا ۔ انہوں نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے ہلکا سا اپنے ( رخسار اور ) بازوؤں پر لگایا ، اور کہا : میں اس لیے ایسا کر رہی ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ فرما رہے تھے : " کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ، حلال نہیں کہ وہ ( کسی مرنے والے پر ) تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، مگر خاوند پر چار مہینے دس دن ( سوگ منائے)
زینب نے انہیں ( حمید کو ) اپنی والدہ ( حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا ) سے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت زینب رضی اللہ عنہا سے یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے کسی سے یہی حدیث بیان کی
معاذ بن معاذ نے ہمیں حدیث بیان کی ، ( کہا : ) ہمیں شعبہ نے حمید بن نافع سے اکٹھی دو حدیثیں بیان کیں ، سرمہ لگانے کے بارے میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا کی حدیث اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج میں سے ایک اور بیوی کی حدیث ، البتہ انہوں نے ان کا نام ، زینب نہیں لیا ۔ ۔ ۔ ( باقی حدیث ) محمد بن جعفر کی ( سابقہ ) حدیث کی طرح ( بیان کی)
حمید بن نافع سے روایت ہے کہ انہوں نے زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ رضی اللہ عنہا سے حدیث بیان کر رہی تھیں ، وہ دونوں یہ بتا رہی تھیں کہ ایک عورت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوئی اور عرض کی کہ اس کی ایک بیٹی کا شوہر فوت ہو گیا ہے ، اس کی آنکھ میں تکلیف ہو گئی ہے وہ چاہتی ہے کہ اس میں سرمہ لگائے ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " بلاشبہ تم میں سے کوئی عورت ( پورا ) سال گزرنے پر لید پھینکا کرتی تھی ، اور یہ تو صرف چار مہینے دس دن ہیں
ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔
زینب بنت ابی سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ، انہوں نے کہا : جب ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس ( ان کے والد ) ابوسفیان رضی اللہ عنہ کی موت کی خبر آئی تو انہوں نے تیسرے دن زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اور اسے اپنے بازوؤں اور رخساروں پر ہلکا سا لگایا اور کہا : مجھے اس کی ضرورت نہ تھی ، ( مگر ) میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا : " کسی عورت کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو ، حلال نہیں کہ وہ ( کسی مرنے والے پر ) تین دن سے زیادہ سوگ منائے ، سوائے شوہر کے ، وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے
لیث بن سعد نے نافع سے روایت کی کہ صفیہ بنت ابی عبید نے انہیں حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے یا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یا ان دونوں سے حدیث بیان کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کسی عورت کے لیے ، جو اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ۔ ۔ یا فرمایا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان رکھتی ہے ۔ ۔ حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی بھی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے
عبداللہ بن دینار نے نافع سے لیث کی حدیث کی سند کے ساتھ اسی کی مانند روایت بیان کی
یحییٰ بن سعید کہتے ہیں : میں نے نافع سے سنا ، وہ صفیہ بنت ابوعبید سے حدیث بیان کر رہے تھے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا سے سنا ، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کر رہی تھیں ۔ ۔ ۔ جس طرح لیث اور ابن دینار کی حدیث ہے ۔ اور یہ اضافہ کیا : " وہ اس پر چار مہینے دس دن سوگ منائے گی
ایوب اور عبیداللہ دونوں نے نافع سے ، انہوں نے صفیہ بنت ابی عبید سے ، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی اور اہلیہ سے اور انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ان ( لیث بن سعد ، عبداللہ بن دینار اور یحییٰ بن سعید ) کی حدیث کے ہم معنی حدیث روایت کی
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " کسی عورت کے لیے ، جو اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتی ہے ، حلال نہیں کہ وہ اپنے شوہر کے سوا کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائے
ابن ادریس نے ہمیں ہشام سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا سے اور انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کوئی عورت کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ نہ منائے ، مگر خاوند پر ، ( اس پر ) چار مہینے دس دن ( سوگ منائے ) نہ وہ عَصب کے خانہ دار کپڑے کے سوا کوئی رنگا ہوا کپڑا پہنے ، نہ سرمہ لگائے ، مگر ( اس دوران میں ) جب ( حیض سے ) پاک ہو تو معمولی سی قُسط یا اظفار ( جیسی کوئی چیز ) استعمال کر لے ۔ " ( یہ دونوں خوشبوئیں نہیں ، صرف بدبو کو زائل کرنے والے بخور ہیں)
عبداللہ بن نمیر اور یزید بن ہارون ، دونوں نے ہشام سے اسی سند کے ساتھ روایت کی ، اور دونوں نے کہا : " طہر کے آغاز میں تھوڑی سی قسط اور اظفار لگا لے
ایوب نے حفصہ سے ، انہوں نے ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ، انہوں نے کہا : ہمیں منع کیا جاتا تھا کہ ہم کسی مرنے والے پر تین دن سے زیادہ سوگ منائیں ۔ مگر خاوند پر ، ( اس پر ) چار مہینے دس دن ( سوگ ہے ۔ ) نہ سرمہ لگائیں ، نہ خوشبو استعمال کریں اور نہ رنگا ہوا کپڑا پہنیں ، اور عورت کو اس کے طہر میں ، جب ہم میں سے کوئی اپنے حیض سے غسل کر لے ، اجازت دی گئی کہ وہ تھوڑی سی قسط اور اظفار استعمال کر لے