آل اسلام لائبریری

53 - کتاب الجنۃ

1

حضر ت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت گراں امور میں گھری ہوئی ہے اور دوزخ خواہشات نفسانی میں گھری ہوئی ہے ۔

2

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند روایت کی ۔

3

سفیان نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل نے ارشادفرمایا : میں نے اپنے نیک بندوں کےلیے وہ کچھ تیار کررکھا ہے جسے ن کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال تک گزرا ہے ۔ "" کتاب اللہ میں اس کا مصداق ( یہ آیت ) ہے : "" کسی کومعلوم نہیں کہ جو نیک کام کرتے رہے ان کی جزا کے طور پر ان کی آنکھوں کو ٹھنڈا کرنے کےلیے کیا جو چھپا کررکھا گیا ہے ۔

4

مالک نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ کچھ تیار کرکے جمع کررکھا ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان ( کے تصور ) کا گزر ہوا ۔ ( یہ ) ان ( نعمتوں کے ) علاوہ ہے جن کے ) علاوہ ہے ۔ جن کے بارے میں تمھیں اللہ تعالیٰ نے مطلع کردیاہے ۔

5

ابو صالح نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ عزوجل ارشاد فرماتاہے : میں نے اپنے نیک بندوں کے لئے وہ نعمتیں تیارکرکے جمع کی ہیں جن کو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا اور نہ ان کا کسی بشر کے دل میں خیال گزرا ، ان نعمتوں کے علاوہ جن پر اللہ تعالیٰ نے تمھیں مطلع کردیا ہے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی : "" کسی کو معلوم نہیں کہ ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا کچھ چھپا کررکھاگیاہے ۔

6

ابوحازم نے کہا : میں نے حضر ت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بیان کرتے ہوئے سنا : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک مجلس میں حاضر ہوا جس میں آپ نے جنت کی صفت بیان کی حتیٰ کہ آ پ نے بات ختم کی ۔ پھر اپنی بات کے آخر میں فرمایا : " اس ( جنت ) میں وہ کچھ ہے جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا نہ کسی کان نے سنا نہ کسی انسان کے دل میں اس کا خیال گزرا ۔ " پھر آپ نے یہ آیت پڑھی : " ان کے پہلو بستروں سے دور رہتے ہیں وہ خوف کے عالم میں اور پوری امید کے ساتھ اپنے رب کو پکارتے ہیں اور ہم نے جو رزق ان کو دیا ہے اس میں سے ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کر تے ہیں ۔ پس کوئی ذی حیات ( انسان ) نہیں جانتا کہ جو وہ کرتے ہیں اس کے صلے میں ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک کےلیے کیا ( کچھ ) چھپا کررکھا گیاہے ۔

7

ابو سعید مقبری نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جنت میں ایک درخت ہے جس کے سائے میں ایک اونٹ سوار سوسال تک چلتا رہے گا ۔

8

اعرج نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل روایت کی اور مزید کہا : " وہ اس ( کے سائے ) کو طے نہیں کرسکے گا ۔

9

ابوحازم نے حضر ت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ر وایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جنت میں ایک درخت ہے ، ایک سوار اس کے سائے میں سوسال تک چلتا رہے تو بھی اس کو طے نہ کرسکے ۔

10

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل اہل جنت سے فرمائے گا : اے اہل جنت! وہ کہیں گے : لبیک ، اے ہمارے رب!زہے نصیب کہ تیرے سامنےحاضر ہیں اور بھلائی تیرے ہاتھوں میں ہے چنانچہ وہ فرمائے گا : کیا تم راضی ہوگئے ہو؟وہ سب کہیں گے : ہم راضی کیوں نہ ہوں؟اے ہمارے رب! جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا کردیا ہے جو تونے اپنی ساری مخلوق میں سے کسی کو عطا نہیں فرمایا ۔ وہ فرمائے گا : کیا میں تمھیں اس سے بھی بہتر عطا نہ کروں؟تو وہ کہیں گے : اے رب! ( جوتو نے عطا کردیا ہے ) اس سے افضل کیا ہے؟وہ فرمائے گا : میں تم پر اپنی رضا نازل کرتا ہوں ، اس کے بعد میں تم سے کبھی ناراض نہ ہوں گا ۔

11

یعقوب بن عبدالرحمان القاری نے ہمیں ابوحازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " جنت والے جنت کے بالا خانے کو اس طرح دیکھیں گے جس طرح تم لوگ آسمان میں ستارے کو دیکھتے ہو ۔

12

ترجمہ دستیاب نہیں ہے۔

13

وہیب نے ابو حازم سے گزشتہ دونوں سندوں کے ساتھ یعقوب کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔

14

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میری امت میں میرے ساتھ سب سے زیادہ محبت کرنے والوں میں وہ لوگ ( بھی ) ہیں جو میرے بعد ہوں گے ، ان میں سے ( ہر ) ایک نہ چاہتا ہوگا کہ کاش! اپنے اہل وعیال اور مال کی قربانی دے کرمجھے دیکھ لے ۔

15

حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں ایک بازار ہے جس میں وہ ( اہل جنت ) ہر جمعہ کو آیا کریں گے تو ( اس روز ) شمال کی ایسی ہوا چلے گی جو ان سے چہروں پر اور ان کے کپڑوں پر پھیل جائےگی ، وہ حسن اورزینت میں اوربڑھ جائیں گے ، وہ اپنے گھروالوں کے پاس واپس آئیں گے تو وہ ( بھی ) حسن وجمال میں اور بڑھ گئے ہوں گے ، ان کےگھر والے ان سے کہیں گے : اللہ کی قسم! ہمارے ( ہاں سے جانے کے ) بعد تمہارا حسن وجمال اور بڑھ گیا ہے ۔ وہ کہیں گے اور تم بھی ، اللہ کی قسم! ہمارے پیچھے تم لوگ بھی اور زیادہ خوبصورت حسین ہوگئے ہو ۔

16

اسماعیل بن علیہ نے کہا : ہمیں ایوب نے محمد ( بن سیرین ) سے خبر دی کہ ( حصول علم کے لیے جمع ہونے والے مردوں اور عورتوں نے ) باہمی اظہار ، تفاخر یا علمی مذاکرہ کرتے ہوئے ( اس موضوع پر ) بات کی کہ جنت میں مرد زیادہ ہوں گے یا عورتیں؟تو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : کیا ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہ تھا : " پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند جیسی ہوں گی اور جو ان کے بعد جائے گی وہ آسمان میں سب سےزیادہ چمکتے ہوئے ستارے کی طرح ہوگی ۔ ان میں سے ہر آدمی کی دو دو بیویاں ہوں گی ( ایسے شفاف اور منور جسم والیں کہ ) ان کی پنڈلیوں کا گوداگوشت کے پیچھے سے نظر آئے گا ۔ ( پوری ) جنت میں بیوی سے محروم کوئی شخص بھی نہ ہوگا ۔

17

سفیان نے ایوب سے اور انھوں نے ( محمد ) ابن سیرین سے روایت کی ، کہا : مردوں اور عورتوں میں بحث ہوگئی کہ ان میں سے جنت میں زیادہ کون ہوگا؟پھر انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے کہا : ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، ( آگے ) ابن علیہ کی حدیث کے مانند ۔

18

قتیبہ سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا ہمیں عبدالواحد بن زیاد نے عمارہ بن قعقاع سے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا ۔ " اسی طرح ہمیں قتیبہ بن سعید اور زہیر بن حرب نے حدیث بیان کی ۔ الفاظ قتیبہ کے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں جریر نے عمارہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پہلی جماعت جو جنت میں داخل ہوگی وہ چودھویں کے چاند کی شکل میں ہوں گے ۔ جو ان کے ( فوراً ) بعد جائیں گے وہ آسمان میں سب سے زیادہ روشن چمکتے ہوئے ستارے کی شکل میں ہوں گے ، انھیں پیشاب کی حاجت ہوگی نہ پاخانے کی ، نہ تھوکیں گے ، نہ ناک سنکیں گے ، ان کی کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، پسینہ کستوری کا ہوگا ، ان کی انگیختوں میں معطر عود ( سلگتا ) ہوگا ، ان کی بیویاں غزال چشم حوریں ہوں گی ، ان سب کے اخلاق وعادات ایک ہی آدمی کے خلق کے مطابق ہوں گے ۔ اپنے والد آدم علیہ السلام کی شکل پر ، ( اقامت میں ) آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ساٹھ ہاتھ کے برابر ۔

19

ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے ، انھوں نے ابو صالح سے اورانھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میری امت میں سے پہلا گروہ جو جنت میں داخل ہوگا وہ چودھویں رات کے چاند کی صورت پر ہوگا ، جو ان کے بعد ہوں گے وہ آسمان میں انتہائی چمکدار ستارے کی طرح ہوں گے ، پھر وہ تدریجاً اپنے اپنے مرتبے کے مطابق ہوں گے ، وہ پاخانہ کریں گے نہ پیشاب ، ناک سنکیں گے نہ تھوکیں گے ، ان کی کنگھیاں سونے کی ، انگیٹھیاں معطر عود کی اور پسینہ کستوری کا ہوگا ۔ ان سب کے اخلاق ایک ہی انسان کے ( خوبصورت ) اخلاق پر ( گئے ) ہوں گے ، اپنے والد حضرت آدم علیہ السلام کی قامت پر ساٹھ ہاتھ ( لمبے ) ہوں گے ۔ "" ابن ابی شیبہ نے کہا : ایک ہی آدمی کے اخلاق پر ، اور ابو کریب نے کہا : ایک ہی آدمی کی خلقت ( شکل وصورت قدوقامت ) پر ہوں گے ۔ اور ابن ابی شیبہ نے کہا : اپنے والد ( حضرت آدم علیہ السلام ) کی شکل پر ہوں گے ۔

20

معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ایک یہ ہے ۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " پہلا گروہ جوجنت کے اندر جائے گا ، ان کی صورتیں چودھویں رات کے چاند کی صورت پرہوں گی ۔ وہ اس ( جنت ) میں نہ تھوکیں گے ، نہ ناک سنکیں گے ، نہ پیشاب پاخانہ کریں گے ۔ ان کے برتن اور ان کی کنگھیاں سونے اور چاندی کی ہوں گی ، ان کی انگیٹھیوں میں عود معطر سلگےگا ، ان کا پسینہ کستوری کا ہوگا ۔ ان میں سے ہر ایک دو ، دوبیویاں ہوں گی ، فرط حسن سے ان کی پنڈلیوں کا گوداگوشت سے پیچھے سے دکھائی دے گا ۔ ان کے درمیان نہ کسی قسم کا کوئی اختلاف ہو گا ۔ نہ باہمی بغض ہوگا ۔ ان سب کے دل ایک دل ( کی طرح ) ہوں گے ۔ وہ صبح و شام اپنے اللہ کی تسبیح کرتے ہوں گے ۔

21

جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ، " اہل جنت وہاں کھائیں گے پئیں گے ۔ لیکن نہ اس میں تھوکیں گے نہ پیشاب کریں گے ، نہ رفع حاجت کریں گے اور نہ ناک سنکیں گے ۔ " انھوں ( صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے پوچھا : پھر ان کے کھانے کا کیا بنے گا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک ذکاء ( آئےگی ) اور کستوری کے پسینے کی طرح پسینہ آئے گا ۔ ان کو تسبیح اور حمد ( کے نغمے ) اسی طرح ( فطرت کے اندر ) الہام کردیے جائیں گے ۔ جس طرح سانس کو الہام ( کر کے ان کی فطرت میں شامل ) کردیا جاتاہے ۔

22

ابو معاویہ نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان : " کستوری کے پسینے کی طرح " تک روایت کی ۔

23

حسن بن علی حلوانی اور حجاج بن شاعر دونوں نے مجھے ابو عاصم سے روایت کی ۔ حسن نے کہا : ہمیں ابو عاصم نے حدیث بیان کی کہا : ابن جریج سے روایت ہے انھوں نے کہا : مجھے ابو زبیر نے بتایا کہ انھوں نے حضرت جابرعبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ، " اہل جنت اس میں کھائیں اور پئیں گے ۔ ( لیکن ) وہ اس میں رفع حاجت کریں گے ۔ نہ ناک سنکیں گے ۔ نہ پیشاب کریں گے البتہ ان کا کھانا ذکاء ( کی شکل میں تحلیل ) ہوجائے گا ۔ جو مشک کی طرح خوشبودارہو گی ۔ انھیں ( خود بخود ) اللہ کی پاکیزگی اور اس کی حمد کرنا الہام کیا جا ئے گا جس طرح انھیں ( خود بخود ) سانس لینا الہام کیا گیا ہے ۔

24

یحییٰ نے کہا : ہمیں ابن جریج نے حدیث بیان کی کہا : مجھے ابو زبیر نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبردی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( حدیث ) روایت کی مگر انھوں نےکہا : " اور انھیں تسبیح و تکبیر اسی طرح الہام کی جائےگی جس طرح سانس لینا الہام کیا جاتا ہے ۔

25

ابو رافع نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جو شخص جنت میں داخل ہو گا وہ ناز و نعم میں ہو گا کبھی تنگ حال نہ ہو گا ۔ اس کا لباس پرانا ہو گا نہ اس کی جوانی ڈھلے گی ۔

26

ثوری نے کہا : مجھے ابو اسحٰق نے حدیث بیان کی ، ( ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام ) اغر ( ابن عبد اللہ ) نے انھیں حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ایک اعلان کرنے والااعلان کرے گا ۔ یقیناًتمھارے لیے یہ ( انعام بھی ) ہے کہ تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ۔ کبھی بیمار نہ پڑوگے ، اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ زندہ رہوگے ۔ کبھی موت کا شکار نہیں ہو گے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ جوان رہو گے ۔ کبھی بوڑھے نہ ہوگے ۔ اور یہ بھی تمھارے لیے ہے کہ ہمیشہ ناز و نعم میں رہوگے ۔ کبھی زحمت نہ دیکھو گے ۔ " یہی اللہ عزوجل کا فرمان ( واضح کرتا ) ہے : " اور انھیں ندادے کرکہاجائے گاکہ یہی تمھاری جنت ہے جس کے تم ان اعمال کی وجہ سے سے جو تم کرتے رہے وارث بنا دیے گئے ہو ۔

27

ابو قدامہ حارث بن عبید نے ابو عمران جونی سے ، انھوں نے ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس سے ، انھوں نے اپنے والد ( ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " مومن کے لیے جنت میں ایک خیمہ ہو گا ۔ جو ایک پولے چمکتے سفید موتی کا بناہوا ہوگا ۔ اس کی لمبائی ستر میل ہو گی ۔ اس ( خیمے ) میں مومن کے بہت سے گھروالے ہوں گے ۔ وہ ( باری باری ) ان کے ہاں چکرلگائےگا ۔ ( لیکن ) وہ ( اس قدر فاصلے پہ ہوں گےکہ ) ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے ہوں گے ۔ ( کسی کا بھی دل پریشانی یاحسد کا شکار نہ ہو گا ۔)

28

ابو عبد الصمد نے کہا : ہمیں ابو عمران جونی نے ابو بکر بن عبد اللہ بن قیس سے اور انھوں نے اپنے والد سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں تھوتھے چمکدار سفید موتی کا خیمہ ہو گا ۔ اس کی چوڑائی ساٹھ میل ہو گی ۔ اس کے ہر کونے میں گھر والے ہوں گےوہ ایک دوسرے کو نہیں دیکھتے ہوں گے ۔ مومن ان کے ہاں چکرلگایا کرے گا ۔

29

ہمام نے ابو عمران جونی سے خبر دی انھوں نے ابو بکر بن ابوموسیٰ بن قیس سے انھوں نے اپنے والد ( ابو موسیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " خیمہ ایک موتی ( کا ) ہوگا اوپر کی طرف اس کی لمبائی ( بلندی ) ساٹھ میل ہوگی ۔ اس کے ہر کونے میں مومن کے گھروالے ہوں گے ، وہ دوسروں کو نہیں دیکھیں گے ۔

30

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " سیحان ، جیحان ، فرات اور نیل سب جنت کی ( طرف سے آنے والی ) نہریں ہیں ۔

31

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " جنت میں ایسی قومیں ( امتیں جماعتیں ) داخل ہوں کی جن کے دل پرندوں کے دلوں کی طرح ہوں گے ۔

32

ہمام بن منبہ سے روایت ہے انھوں نے کہا : یہ وہ احادیث ہیں جو ہمیں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ان میں سے ( ایک ) یہ ہے کہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ عزوجل نے حضرت آدم علیہ السلام کو اپنی ( پسندیدہ ) صورت پر پیدا فرمایا ، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا جب ان کو تخلیق فرمالیا تو فرمایا : جائیں اور اس ( سامنے والی ) جماعت کو سلام کہیں ۔ اور وہ فرشتوں کی جماعت ہے جو بیٹھے ہوئے ہیں اور جس طرح وہ آپ کو سلام کہیں اسے غور سے سنیں ، وہی آپ کا اور آپ کی اولاد کا سلام ہو گا ۔ فرمایا وہ گئے اور کہا : السلام عليك انھوں نے ( جواب میں ) کہا : السلام عليك ورحمة الله فرمایا : انھوں نےان ( آدم علیہ السلام ) کے لیے ورحمة الله کا اضافہ کیا ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہر وہ شخص جو جنت میں داخل ہو گا آدم علیہ السلام کی ( اسی ) صورت پر ہوگا اور ان کی قامت ( جنت میں ) ساٹھ ہاتھ تھی پھر ان کے بعد آج تک ( ان کی اولاد کی ) خلقت چھوٹی ہوتی رہی ہے ۔

33

حضرت عبداللہ ( بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اس ( قیامت کے ) روز جہنم کو لایا جائے گا ، اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی ، ہر کام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے جو اسے کھینچ رہے ہوں گے ۔

34

ابو زناد نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " تمہاری یہ آگ ۔ جس کو ابن آدم روشن کرتاہے ۔ جہنم کی گرمی کے سترحصوں میں سے ایک حصے ( کی حرارت ) کے برابر ہے ۔ " انھوں ( صحابہ ) نے عرض کی : یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم!یہ لوگ بھی تو کافی تھی ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اسے انہتر حصے زیادہ رکھا گیا ہے ، ہرحصہ اس ( دنیا کی آگ ) کے مانند گرم ہے ۔

35

معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے ، انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ابوزناد کی حدیث کے مانند روایت کی ، مگر انھوں ( معمر ) نے کہا : " وہ سب ک سب اس جیسی حرارت رکھتے ہیں ۔

36

خلف بن خلیفہ نے کہا : ہمیں یزید بن کیسان نے ابو حازم سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے کہ آپ نے کسی بہت وزنی چیز کے کرنے کی آواز سنی ۔ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم جانتے ہو یہ کیسی آواز تھی؟ " کہا : ہم نے عرض کی : اللہ اور اس کا رسول صلی اللہ علیہ وسلم زیادہ جاننے والے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " یہ ایک پتھر تھا جس کو ستر سال پہلے جہنم میں پھینکا کیا تھا ، یہ اب اس میں گر اہے ، یہاں تک کہ اس کی گہرائی تک پہنچ گیا ہے ۔

37

مروان نے ہمیں یزید بن کیسان سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابوحازم سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور کہا : " یہ ( اب ) اس کے نچلے حصے میں گرا ہے اور تم نے اس کے گرنے کی آوازسنی ہے ۔

38

شیبان بن عبدالرحمان نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : قتادہ نے کہا : میں نے ابونضرہ کو حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کرتے ہوئے سنا ، انھوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : " ان ( جہنمیوں ) میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی قمر تک لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی گردن تک لپٹی ہوگی ۔

39

عبدالوہاب بن عطاء نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، کہا : میں نے ابو نضرہ کو سنا ، وہ حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کر تے تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جس کے دونوں ٹخنوں تک آگ لپٹی ہوگی ان میں سے کوئی ایسا ہوگا جن کے دونوں گھٹنوں تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی کمر تک آگ لپٹی ہوگی اور کوئی ایسا ہوگا جس کی ہنسلی کی ہڈی تک آگ پکڑے گی ۔

40

روح نے کہا : ہمیں سعید نے اسی سند کے سا تھ حدیث بیان کی اور انھوں نے ( کمر پر ازار باندھنے کی جگہ کے لیے ) " حجرة " کے بجائے ۔ " حقوية " کا لفظ استعمال کیا ۔

41

سفیان نے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دوزخ اور جنت میں مباحثہ ہوا تو اس ( دوزخ ) نے کہا : میرے اندر جبار اور متکبر داخل ہوں گے ۔ اور اس ( جنت ) نے کہا : میرے اندر ( اسباب دنیا ک اعتبار سے ) ضعیف اور مسکین لوگ داخل ہوں گے ۔ اللہ عزوجل نے اس ( دوزخ ) سے کہا : تم میرا عذاب ہو ، تمہارے ذریعے سے میں جنھیں چاہوں گا عذاب دوں گا ۔ یا شاید فرمایا : جنھیں چاہوں گا مبتلا کروں گا ۔ اور اس ( جنت ) سے کہا : تو میری رحمت ہے اور تمہارے ذریعے سے جس پرچاہوں گا رحم کروں گا اور تم دونوں کے لئے وہ مقدار ہوگی جو اس کو بھر دے گی ۔

42

ورقاء نے مجھے ابو زناد سے ، انھوں نے اعرج سے ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " دوزخ اور جنت نے باہم ( اپنی اپنی برتری کے ) دلائل دیے دوزخ نے کہا : مجھے جبر وتکبر کرنے و الوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : مجھے کیا ہواہے کہ میرے اندر کمزور ، خاک نشین ، اورعاجز ولاچار لوگ ہی داخل ہوں گے؟ اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو میری رحمت ہے میں اپنے بندوں میں سے جن پر چاہوں گا تیسرے ذریعے سے رحمت کروں گا اور دوزخ سے کہا : تو میرا عذاب ہے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گاتمہارے ذریعے دے عذاب دوں گااور تم دونوں کے لئے اتنی ( مخلوق ) ہے جس سے تم بھر جاؤ ۔ رہی آگ تو وہ پوری طرح سے نہیں بھرے گی چنانچہ وہ ( اللہ ) اس کے اوپر اپناقدم رکھے گا تو وہ کہے گی!بس بس! اس وقت وہ بھر جائے گی اور باہم سمٹ جائے گی ۔

43

ایوب نے ابن سیرین سے اور انھوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جنت اور دوزخ نے ( اپنی اپنی برتری کے ) دلائل دیئے ۔ " پھر ابو زناد کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی ۔

44

معمر نے ہمیں ہمام بن منبہ سے حدیث بیان کی ، کہا : یہ احادیث ہیں جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیں ، انھوں نے بہت سی احادیث بیان کیں ، ان میں سے ( ایک ) یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اوردوزخ نے ( اپنے اپنے بارے میں ) ایک دوسرے کو دلائل دیئے ۔ دوزخ نے کہا : مجھے تکبر اور جبر کرنے والوں ( کا ٹھکانہ ہونے ) کی بناء پر ترجیح حاصل ہے ۔ جنت نے کہا : میرا کیا حال ہے کہ میرے اندر لوگوں میں سے کمزور خاک نشین اور سیدھے سادے لوگ داخل ہوں گے؟تو اللہ عزوجل نے جنت سے فرمایا : تو سراسر میری رحمت ہے ، تیرے ذریعے سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا رحمت سے نوازوں گا اور دوزخ سے کہا : تو صرف اور صرف میرا عذاب ہے ، تیرے ذریعے میں سے میں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہوں گا عذاب میں ڈالوں گا اور تم دونوں میں سے ہر ایک کے لئے اتنے بندے ہیں جن سے وہ بھر جائے ، جہاں تک آگ کا تعلق ہے تو وہ نہیں بھرے گی یہاں تک کہ اللہ تبارک وتعالیٰ ۔ اپنا قدم ( اس پر ) رکھ دے گا تو وہ کہے گی ۔ بس ۔ بس ۔ بس اس وقت وہ بھر جائے گی ، اس کے بعض حصے بعض کے ساتھ سمٹ جائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی پر ظلم نہیں کرے گا اور جہاں تک جنت کا تعلق ہے تو اللہ ( اس کے لیے ) ایک مخلوق تیار کردے گا ۔

45

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت اور دوزخ نے ایک دوسرے کے سامنے دلائل دیے ۔ " پھرانہوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث کی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان : " تم دونوں کو بھرنا میری ذمہ داری ہے " تک بیان کیا اور اس کے بعدکے مزید الفاظ ذکر نہیں کیے ۔

46

شیبان نے ہمیں قتادہ سے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہ اللہ کے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " دوزخ مسلسل یہی کہتی رہے گی : کیا اور زیادہ ہے؟یہاں تک کہ رب العزت تبارک وتعالیٰ اس میں اپنا قدم ٹکائے گا تو وہ کہے گی بس بس تیری عزت کی قسم! ( میرامطالبہ ختم ہوگیا ۔ ) اور اس کاایک حصہ دوسرے حصے سے سمٹ جائے گا ۔

47

ابان بن یزید عطار نے ہمیں حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں قتادہ نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ، انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے شیبان کی حدیث کے ہم معنی روایت کی ۔

48

عبدالوہاب بن عطا نے ہمیں اس ( اللہ ) عزوجل کے اس فرمان؛ " جس دن ہم جہنم سے کہیں کے کیا تو بھر گئی اور وہ کہے گی : کیا اور زیادہ ہے؟ " کے بارے میں حدیث بیان کی ، انھوں نے ہمیں سعید سے خبر دی ، انھوں نے قتادہ سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " جہنم میں مسلسل ( لوگوں کو ) ڈالا جاتا رہے گا اور ہو کہتی رہے گی : کیا اور ہے؟یہاں تک کہ رب العزت اس میں اپنا پاؤں رکھ دے گا ، تو اس کا بعض بعض کی طرف سمٹ جائے گا اور وہ کہے گی : تیری عزت اور تیرے کرم کی قسم! بس بس اور جنت میں مسلسل گنجائش رہے گی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک خلقت پیدا کردے گا اور انھیں جنت کی بچی ہوئی جگہ میں بسا دے گا ۔

49

ثابت نے کہا : میں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جنت میں سے جس حصے کے بارے میں اللہ تعالیٰ چاہے گا کہ باقی بچ جائے وہ باقی بچ جائے گا ، پھر اللہ تعالیٰ اس کے لیے ، جہاں سے چاہے گا ، مخلوق پیدا کردے گا ۔

50

ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ دونوں کے الفاظ ملتے جلتے ہیں ۔ دونوں نے کہا : ہمیں ابو معاویہ نے اعمش سے حدیث بیان کی ۔ انھوں نے ابوصالح سے اور انھوں نے حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن موت کو اس طرح لایاجائے گا جیسے وہ سیاہ وسفید مینڈھا ہو ۔ ابو کریب نے مزید یہ کہا ۔ چنانچہ اسے جنت اور جہنم کے درمیان میں کھڑا کردیا جائے گا ۔ باقی ماندہ حدیث ( کے الفاظ ) میں دونوں متفق ہیں ۔ تو ( اعلان کرنے والا پکار کر ) کہے گا : اے جنت والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے : ہاں ۔ یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر کہا جائے گا : اے جہنم والو! کیا اسے پہچانتے ہو؟تو وہ جھانکیں گے ، دیکھیں گے اور کہیں گے ، ہاں ، یہ موت ہے ۔ فرمایا : پھر اس کے بارے میں حکم دیا جائے گا اور اسے ذبح کردیا جائے گا ۔ فرمایا : پھر کہاجائے گا : اے جنت والو! ( اب ) دوام ہی دوام ہے موت نہیں ہےاور اے جہنم والو! ( اب ) دوام ہی دوام ہے ، موت نہیں ہے ۔ " کہا : پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی : " ان کو حسرت کے دن سے ڈرائیے جب معاملہ نپٹا دیا جائے گا اور وہ سراسر غفلت میں ہیں اور وہ ایمان نہیں لاتے ۔ " اور آپ نے اپنے ہاتھ سے دنیا کی طرف اشارہ فرمایا ۔

51

ہمیں جریر نے اعمش سے حدیث بیان کی ، انھوں نے ابو صالح سے ، اور انھوں نے ابو سعیدخدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں داخل کردیے جائیں گے ۔ تو کہا جائے گا اے اہل جنت! " اس کے بعد ابو معاویہ کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا ، مگر انھوں نے کہا : " یہی ( اسی کے مطابق ) ہے اس ( اللہ ) عزوجل کا فرمان ۔ " اورانھوں نے نہیں کہا ، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( یہ آیت ) پڑھی اور ( اسی طرح ) انھوں نے یہ بھی ذکر نہیں کیا کہ آپ کے اپنے ہاتھ سے د نیا کی طرف اشارہ فرمایا ۔

52

نافع نے ہمیں حدیث بیان کی کہ حضرت عبداللہ ( ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت میں داخل کرے گا اور اہل جہنم کو جہنم میں داخل کرے گا ۔ پھر ان کےدرمیان ایک اعلان کرنے والا کھڑا ہوکر اعلان کرے گا : اے اہل جنت!اب موت نہیں ہے ، اور اے اہل دوزخ !اب موت نہیں ہے ہر شخص جہاں ہے وہیں ہمیشہ رہنے والا ہے ۔

53

ابن وہب نے کہا : مجھے عمر بن محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب نےحدیث بیان کی کہ انھیں ان کے والد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ر وایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب جنت والے جنت میں اور جہنم والے جہنم میں چلے جائیں گے تو موت کو ذبح کیا جائے گا اور اس کو جنت اوردوزخ کے درمیان کھڑا کیاجائے گا پھر اسے ذبح کردیا جائے گا ، پھر اعلان کرنے والا اعلان کرے گا : اے جنت والو! ( اب ) موت نہیں ہے ( اور ) اے جہنم والو! ( اب ) موت نہیں ہے ۔ اہل جنت کو اپنی خوشی پر مزید خوشی حاصل ہوجائے گی اور جہنم و الوں کو اپنے غم پر مزید غم لاحق ہوگا ۔

54

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کافر کی داڑھ یا ( فرمایا : ) کافر کا کچلی دانت اُحد پہاڑ جتنا ہوجائے گا اور اس کی کھال کی موٹائی تین دن چلنے کی مسافت کے برابر ہوگی ۔

55

ابو کریب اور احمد بن عمر وکیعی نےہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن فضیل نے اپنے والد سے ، انھوں نے ابوحازم سے اور انھوں نےحضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نے اسے مرفوع بیان کرتے ہوئے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جہنم میں کافر کے دو کندھوں کے درمیان تیز رفتار سوار کی تین دن کی مسافت کےبرابر فاصلہ ہوگا ۔ "" وکیعی نے "" جہنم میں "" کے الفاظ بیان نہیں کیے ۔

56

معاذ عنبری نے کہا : ہمیں شعبہ نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : مجھے معبد بن خالد نے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت حارثہ بن وہب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کے بارے میں خبر نہ دوں؟انھوں ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) نے عرض کی : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " ہر کمزور جسے کمزور سمجھا جاتاہے ۔ ( مگر ایسا کہ ) اگر ( کسی معاملے میں ) اللہ پر قسم کھا لے تو وہ اس کی قسم پوری کردے ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! " کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ " لوگوں نے کہا : کیوں نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " ہراجذ ، مال اکھٹا کرنے والا اسے خرچ نہ کرنے والا اور تکبر اختیار کرنے والا ۔

57

محمد بن جعفر نے کہا : ہمیں شعبہ نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی مگر اس میں کہا : " کیا میں تمہاری رہنمائی نہ کروں؟

58

سفیان نے ہمیں معبد بن خالد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت حارثہ بن وہب خزاعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا میں تمھیں اہل جنت کی خبر نہ دوں؟ہر کمزور جسے کمزور اور لاچار سمجھا جاتا ہے ۔ ( لیکن ایساکہ ) اگر اللہ پر ( اعتماد کرتے ہوئے ) قسم کھالے تو وہ اسے پوری کردے ۔ کیا میں تمھیں اہل جہنم کے بارے میں خبر نہ دوں؟ہر مال سمیٹنے والا اور اسے خرچ نہ کرنے والا ، بد اصل ، متکبر ۔

59

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " بسا اوقات پراگندہ بالوں والا جسےدروازے پر سے لوٹا دیا جاتاہے ۔ ( ایسا ہوتا ہے ) کہ اللہ پر ( اعتماد کرتے ہوئے ) قسم کھالے تو وہ ( اللہ ) اسے پوری کردیتا ہے ۔

60

ابو بکر بن ابی شیبہ اور ابو کریب نے ہمیں حدیث بیان کی ، دونوں نے کہا : ہمیں ابن نمیر کےنے ہشام بن عروہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے اپنے والد سے اورانھوں نے حضرت عبداللہ بن زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ ارشاد فرمایا تو ( حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کا اور اس کی کونچیں کاٹنے والے شخص کا ذکر فرمایا ، پھر آپ نے پڑھا : " جب اس ( قبیلے ) کابدبخت ترین شخص اٹھا " ( آپ نے فرمایا : قبیلہ ثمود کا ) سب سے طاقتور ، شر پھیلانے والا ، جس کو ا پنی قوم کا پورا تحفظ حاصل تھا ، جس طرح ابوزمعہ ( اسود بن مطلب ) ہے ، ( کونچیں کاٹنے کے لئے ) اٹھا ۔ " پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سلسلے میں عورتوں کا بھی ذکر کیا ، ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کو ) ان کے بارے میں وعظ ونصیحت فرمائی ، پھر فرمایا؛ " کیا وجہ ہے کہ تم میں سے کوئی اپنی بیوی کو ( اس طرح ) کوڑے سے مارتا ہے " ابو بکر کی روایت میں ہے : " جس طرح لونڈی کو مارتا ہے " اور ابو کریب کی روایت میں ہے؛ " جس طرح غلام کو مارتا ہے ۔ پھر شاید دن کے آخر میں اسی کےساتھ ہم بستری کرے گا ۔ " پھران ( صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین ) کو گوز پر ہنسنے کے بارے میں نصیحت فرمائی : " تم میں سے کوئی کب تک اس کام پر ہنستا رہے گا جسے وہ خود کرتا ہے ۔

61

سہیل کے والد ( ابوصالح ) نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میں نے عروہ بن لحی بن قمعہ بن خندف ، ان بنو کعب والوں کے جذ اعلیٰ کو دیکھا ، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا ۔

62

ابن شہاب نے کہا : میں نے سعید بن مسیب سےسنا ، وہ کہتے ہیں : بحیرہ وہ جانور ہے جس کا دودھ جھوٹے خداؤں ( بتوں ) کے چڑھاوے کے لیے دوہنا بند کردیا جاتا ہے ، اس لئے کوئی شخص ان کو نہیں دوہتا تھا ، اورسائبہ وہ جانور ہے جسے جھوٹے خداؤں ( کی سواری کے لئے ) کھلا چھوڑ دیاجاتا ہے ۔ اس پر کوئی چیز تک نہیں لادی جاتی ۔ اور ابن مسیب نے کہا : حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کیاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں نے عمرو بن عامر خزاعی کو دیکھا ، وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا ، وہ پہلا شخص تھا جس نے سب سےپہلے ( بتوں کے نام پر ) کھلاچھوڑا جانے والا جانور چھوڑاتھا ۔

63

سہیل کے والد ( ابو صالح ) نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اہل جہنم کے دو قسمیں ایسی ہیں جن کو ( دنیوی زندگی میں ) میں نے ( خود ) نہیں دیکھا ۔ ایک گروہ وہ ہے جس کے پاس گایوں کی دموں کی طرح سے کوڑے ہوں گے جن سے وہ لوگوں کوماریں گے اور ( دوسرے گروہ میں ) وہ عورتیں ہیں جو لباس پہنے ہوئے ( بھی ) ننگی ہوں گی ، دوسروں کو ( گناہ پر ) مائل کرنے والی ، خود مائل ہونے والی ہوں گی ان کے سر ( علاقہ ) بخت کی اونٹنیوں کے ایک طرف جھکے ہوئے کوہانوں جیسے ہوں گے ۔ یہ عورتیں جنت میں داخل ہوں گی نہ اسکی خوشبو سونگھیں گی ۔ حالانکہ اس کی خوشبو اتنے اتنے ( لمبے ) فاصلے سےمحسوس ہوتی ہوگی ۔

64

زید بن حباب نے کہا : ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : ہمیں حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کےآزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا؛ " قریب ہے کہااگر تمھیں لمبی مدت مل گئی تو تم ایسے لوگوں کودیکھو گے جن کے ہاتھ میں گایوں کی دموں جیسے ( کوڑے ) ہوں گے ، وہ اللہ کےغضب میں صبح گزاریں گے اور اللہ کی سخت ناراضگی میں شام بسر کریں گے ۔

65

ابو عامر عقدی نے کہا : ہمیں افلح بن سعید نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آزاد کردہ غلام عبداللہ بن رافع نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا ، وہ کہتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " اگر تمھیں طویل مدت مل گئی تو قریب ہے کہ تم ایسے لوگوں کو دیکھو گے جن کی صبح اللہ کی سخت ناراضی میں اور جن کی شام اللہ کی لعنت کے سائے میں ہوگی ۔ ان کے ہاتھوں میں گایوں کی دموں کی مانند ( کوڑے ) ہوں گے ۔

66

عبد اللہ بن ادریس محمد بن نمیر محمد بن بشیر موسیٰ بن اعین اور ابواسامہ اور یحییٰ بن سعید سب نے ہمیں اسماعیل بن ابی خالد سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں قیس نے حدیث سنائی : انھوں نے کہا : میں نے حضرت مستورد ( بن شدادقرشی ) فہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سنا : وہ کہتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اللہ کی قسم!آخرت ( کے مقابلے ) میں دنیا کی حیثیت اس سے زیادہ نہیں جس طرح تم میں سے کوئی شخص اپنی ایک انگلی سمندر میں ڈالے ۔ یحییٰ نے اپنی انگشت شہادت کی طرف اشارہ کیا ۔ پھر دیکھے وہ ( انگلی ) اس میں سے کیا ( نکال کر ) لاتی ہے ۔ "" یحییٰ ( بن سعید قطان کی روایت ) کے علاوہ باقی سب کی حدیث میں ( صراحت سے ) یہ الفاظ ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ۔ اور حضرت مستورد بن شدادفہری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ابو اسامہ کی حدیث میں بھی ( یہی الفاظ ہیں ) اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ ( ابو اسامہ نے ) اور اسماعیل ( بن ابی خالد ) نے انگوٹھے کے ساتھ اشارہ کیا ۔

67

و حَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ النِّسَاءُ وَالرِّجَالُ جَمِيعًا يَنْظُرُ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا عَائِشَةُ الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ و حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ غُرْلًا

68

ابو خالد احمرنے ہمیں حاتم بن ابی صغیرہ سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی اور انھوں نے اپنی روایت میں " بے ختنہ " ذکرنہیں کیا ۔

69

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ وَابْنُ أَبِي عُمَرَ قَالَ إِسْحَقُ أَخْبَرَنَا و قَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ وَهُوَ يَقُولُ إِنَّكُمْ مُلَاقُو اللَّهِ مُشَاةً حُفَاةً عُرَاةً غُرْلًا وَلَمْ يَذْكُرْ زُهَيْرٌ فِي حَدِيثِهِ يَخْطُبُ

70

وکیع اور معاذ دونوں نے ہمیں شعبہ سے حدیث بیان کی ، نیز محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار نے ۔ الفاظ ابن مثنیٰ کے ہیں ۔ کہا : ہمیں محمد بن جعفرنے شعبہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے مغیرہ بن نعمان سے ، انھوں نے سعید بن جبیر سے اور انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان نصیحت آموز خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اے لوگو! تم کو اللہ کے سامنے ننگے پاؤں بے لباس بے ختنہ اکٹھا کیا جا ئے گا ۔ ( قرآن مجید میں ہے ) : " جس طرح ہم نے پہلی پیدائش کا آغاز کیا تھا اسی کو دوبارہ لو ٹائیں گے ۔ یہ ہم پر ( پختہ ) وعدہ ہے ہم یہی کرنے والے ہیں ۔ " یاد رکھو!مخلوقات میں سے سب سے پہلے جنھیں لباس پہنایا جا ئے گا وہ ابراہیم علیہ السلام ہوں گے ۔ اور یاد رکھو!میری امت میں سے کچھ لوگ لائے جائیں گے ، پھر انھیں پکڑکر بائیں ( جہنم کی ) طرف لے جایا جائے گا ۔ میں کہوں گا ۔ میرے رب! میرے ساتھی ہیں ۔ تو کہا جا ئےگا ۔ آپ کو معلوم نہیں انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیانئی باتیں نکالی تھیں ۔ تو وہی کچھ کہوں گا جو نیک بندے ( عیسیٰ علیہ السلام ) کہیں گے : " میں ان پر گواہ تھا جب تک میں ان کے درمیان رہا جب تونے مجھے اٹھالیا تو ان پر تو نگہبان تھا ۔ اگر تو انھیں عذاب دے تو بے شک یہ تیرے بندے ہیں اور اگر توانھیں بخش دے تو یقیناً تو ہی بڑا غالب اور بڑا دانا ہے ۔ " فرمایا : " تومجھ سے کہا جا ئے گا جب سے آپ ان سے جدا ہوئے تھے ۔ یہ مسلسل اپنی ایڑیوں پر لوٹتے چلے گئے ۔ اور وکیع اور معاذ کی حدیث میں ہے : " تو کہا جائے گا ۔ آپ نہیں جا نتے کہ انھوں نے آپ کے بعد ( دین میں ) کیا نئی باتیں نکالی تھیں ۔

71

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا : " ( قیامت کے دن ) لوگوں کو تین طریقوں سے ( اللہ کے سامنے ) اکٹھا کیا جائے گا ۔ ( کچھ لوگ ) خوف ورجا کے عالم میں ہوں گے اور ( وہ لوگ جنھیں حاضری کے وقت بھی عزت نصیب ہوگی ۔ حسب مراتب ) وہ ( افراد ) ایک اونٹ پر ( سوار ) ہوں گے اور تین ایک اونٹ پر اور چار ایک اونٹ پر اور دس ایک اونٹ پر ( سوارہوکر میدان حشر میں آئیں گے ) اور باقی سب لوگوں کو آگ ( اپنے گھیرے میں ) اکٹھا کر کے لائے گی ۔ جہاں ان پر رات آئے گی ، وہ ( آگ ) رات کو بھی ان کے ساتھ ہو گی ، جہاں انھیں دوپہر ہوگی وہ دوپہر کو بھی ان کو ساتھ رکے گی ، وہ جہاں صبح کریں گےوہ صبح کے وقت بھی ان کے ساتھ ہوگی ۔ اور جہاں وہ لوگ شام کریں گے وہ شام کو بھی ان کے ساتھ ہوگی ۔

72

زہیر بن حرب محمد بن مثنیٰ اور عبید اللہ بن سعید نے ہمیں حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں یحییٰ بن سعید نے عبید اللہ سے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے خبر دی ، انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ( اس آیت کی تفسیر ) روایت کی : " اس دن لوگ رب العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے " آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " یہاں تک کہ ان میں سے کوئی اس طرح کھڑا ہو گا کہ اس کا پسینہ اس کے کانوں کے درمیان تک ہو گا ۔ " اور ابن مثنیٰ کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ( " ان میں سے کوئی " کے بجائے ) فرمایا : " لوگ کھڑے ہوں گے ۔ انھوں نے ( ابن مثنیٰ ) نے ( آیت میں ) يوم ( اس دن ) کا ذکرنہیں کیا ۔

73

موسیٰ بن عقبہ ابن عون امام مالک ایوب اور صالح سب نے نافع سے ، انھوں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی حدیث کے ہم معنی روایت بیان کی جو عبید اللہ نے نافع سے بیان کی ہے البتہ موسیٰ بن عقبہ اور صالح کی روایت ہے : " یہاں تک کہ ان میں سے کوئی شخص آدھے کانوں تک اپنے پسینے میں ڈوبا ہو گا ۔

74

عبد العزیز بن محمد نے ثور سے انھوں نے ابو الغیث سے اور انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقیناًپسینہ ۔ قیامت کے دن زمین میں دونوں ہاتھوں کے پھیلاؤکے ستر گنا فاصلے تک چلا جائے گا اور لوگوں کے منہ یا ان کے کانوں تک پہنچاہو گا ۔ "" ثور کو شک ہے کہ انھوں ( ابو الغیث ) نے دونوں میں سے کون سے الفاظ کہے ۔

75

عبد الرحمٰن بن جابر سے روایت ہے کہا مجھے نیلم بن عامر نے حدیث بیان کی ، کہا : مجھے حضرت مقدادبن اسود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : "" قیامت کے دن سورج مخلوقات کے بہت نزدیک آجائے گا حتی کہ ان سے ایک میل کے فاصلے پر ہو گا ۔ نیلم بن عامر نے کہا : اللہ کی قسم!مجھے معلوم نہیں کہ میل سے ان ( مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کی مراد مسافت ہے یا وہ سلائی جس سے آنکھ میں سرمہ ڈالاجاتا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" لوگ اپنے اعمال کے مطابق پسینے میں ( ڈوبے ) ہوں گےان میں سے کوئی اپنے دونوں ٹخنوں تک کو ئی اپنے دونوں گھٹنوں تک کوئی اپنے دونوں کولہوں تک اور کوئی ایسا ہو گا جسے پسینے نے لگام ڈال رکی ہو گی ۔ "" ( مقداد رضی اللہ تعالیٰ عنہ ) کہا : اور ( ایسا فرماتےہوئے ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنے دہن مبارک کی طرف اشارہ فرمایا ۔

76

ابو غسان مسمعی محمد بن مثنیٰ اور محمد بن بشار بن عثمان نے ہمیں حدیث بیان کی ۔ الفاظ ابو غسان اور ابن مثنیٰ کے ہیں دونوں نے کہا : معاذ بن ہشام نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : مجھے میرے والد نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیرسے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حمادمجاشعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا : " سنو!میرے رب نے مجھے یہ حکم دیا ہے کہ میں تمھیں ان باتوں کی تعلیم دوں جو تمھیں معلوم نہیں اور اللہ تعالیٰ نے آج مجھے ان کا علم عطا کیا ہے ( اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ) ہر مال جو میں نے کسی بندے کو عطا کیا ( اس کی قسمت میں لکھا ) حلال ہے اور میں نے اپنے تمام بندوں کو ( حق کے لیے ) یکسو پیدا کیا پھر شیاطین ان کے پاس آئے اور انھیں ان کے دین سے دور کھینچ لیا اور جو میں نے ان کے لیے حلال کیا تھا انھوں نے اسے ان کے لیے حرام کر دیا اور ان ( بندوں ) کو حکم دیا کہ وہ میرے ساتھ شرک کریں جس کے لیے میں نے کوئی دلیل نازل نہیں کی تھی ۔ اور اللہ نے زمین والوں کی طرف نظر فرمائی تو اہل کتاب کے ( کچھ ) بچے کھچے لوگوں کے سوا باقی عرب اور عجم سب پر سخت ناراض ہوا اور ( مجھ سے ) فرمایا : میں نے آپ کو اس لیے مبعوث کیا کہ میں آپ کی اور آپ کے ذریعے سے دوسروں کی آزمائش کروں اور میں نے آپ پر ایک ایسی کتاب نازل کی ہے جسے پانی دھو ( کر مٹا ) نہیں سکتا ، آپ سوتے ہوئے بھی اس کی تلاوت کریں گے اور جاگتے ہوئے بھی اور اللہ نے مجھے حکم دیا کہ میں قریش کو ( ان کے معبودوں اور ان آباء واجداد کے شرک اور گناہوں پر عار دلاتے ہوئے انھیں ) جلاؤں میں نے کہا : میرے رب وہ میرے سر کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے روٹی کی طرح کر دیں گے ۔ تو ( اللہ نے ) فرمایا : آپ انھیں باہر نکالیں جس طرح انھوں نے آپ کو باہر نکالا اور ان سے لڑائی کریں ہم آپ کو لڑوائیں گےاور ( اللہ کی راہ میں ) خرچ کریں آپ پر خرچ کیا جائے گا اور آپ لشکر بھیجیں ہم اس جیسے پانچ لشکربھیجیں گے اور جو لوگ آپ کے فرماں بردار ہیں ان کے ذریعے سے نافرمانوں کے خلاف جنگ کریں ۔ ( پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ) فرمایا : اہل جنت تین ( طرح کے لوگ ) ہیں ایسا سلطنت والا جو عادل ہے صدقہ کرنے والا ہے اسے اچھائی کی توفیق دی گئی ہے ۔ اور ایسا مہربان شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لیے نرم دل ہے اور وہ عفت شعار ( برائیوں سے بچ کر چلنے والا ) جو عیال دارہے ، ( پھر بھی ) سوال سے بچتاہے ۔ فرمایا : " اور اہل جہنم پانچ ( طرح کے لوگ ) ہیں وہ کمزور جس کے پاس ( برائی سے ) روکنے والی ( عقل عفت ، حیا ، غیرت ) کوئی چیز نہیں جوتم میں سے ( برے کاموں میں دوسروں کے ) پیچھے لگنے والے لوگ ہیں ( حتیٰ کہ ) گھر والوں اور مال کے پیچھے بھی نہیں جاتے ( ان کی بھی پروا نہیں کرتے ) اور ایسا خائن جس کا کو ئی بھی مفاد چاہے بہت معمولی ہو ۔ ( دوسروں کی نظروں سے ) اوجھل ہوتا ہےتووہ اس میں ( ضرور ) خیانت کرتاہے ۔ اور ایسا شخص جو صبح شام تمھارے اہل وعیال اور مال کے بارے میں تمھیں دھوکادیتا ہے ۔ " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بخل یا جھوٹ کا بھی ذکر فرمایا ۔ " اور بدطینت بد خلق ۔ " اور ابو غسان نے اپنی حدیث میں یہ ذکر نہیں کیا : " آپ خرچ کریں تو عنقریب آپ پر خرچ کیا جا ئے گا ۔

77

سعید نے قتادہ سے اسی سند کے ساتھ روایت کی اور اپنی حدیث میں یہ بیان نہیں کیا : " ہر مال جو میں نے بندے کو دیا ، حلال ہے ۔

78

ہمیں یحییٰ بن سعید نے دستوائی ( کپڑے بیچنے ) والے ہشام سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں قتادہ نے مطرف سے اور انھوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیا پھر حدیث بیان کی اور اس کے آخر میں کہا : یحییٰ نے کہا : شعبہ نے قتادہ سے روایت کرتے ہوئے کہا : انھوں ( قتادہ ) نے کہا : میں نے اس حدیث میں ( جو بیان ہوا وہ خود ) مطرف سے سنا ۔

79

مطر نے کہا : مجھے قتادہ نے مطرف بن عبد اللہ بن شخیر سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عیاض بن حماد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جو قبیلہ مجاشع سے تھے ، روایت کی ، کہا : ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دینے کے لیے ہمارے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا : " اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے ۔ اس کے بعد قتادہ سے ہشام کی حدیث کے مطابق حدیث بیان کی اور اس میں مزید یہ کہا : اللہ تعالیٰ نے مجھ پر وحی کی ہے کہ تم سب تواضع اختیار کرو حتی کہ کو ئی شخص دوسرے پر فخر نہ کرے اور کوئی شخص دوسرے پر زیادتی نہ کرے ۔ " انھوں نے اس حدیث میں کہا : وہ تم میں ( برائی کے کاموں میں دوسروں کے ) پیچھے لگنے والے ہیں والوں اور مال کے بھی متلاشی نہیں ( کہ کما کر دوسروں سے مستغنیٰ ہو جا ئیں ۔ ) تو میں ( قتادہ ) نے ( مطرف سے ) کہا : ابو عبد اللہ تو ( اب ) یہی ہوا کرے گا؟ انھوں نے کہا : ہاں ، اللہ !میں نے جاہلیت کے زمانے میں انھیں دیکھا ( ایسا ہوتا تھا ) کہ ایک شخص پورے قبیلے کی بکریاں چراتا تھا ۔ اسے ان کی ایک کنیز کے سوا کچھ نہیں ملتا تھا جس سے مجامعت کرتا تھا ۔

80

نافع نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب تم میں سے کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو ہر صبح و شام اس کا اصل ٹھکانا اس کے سامنے لایا جاتاہے ۔ اگر وہ جنت والوں میں سے ہے تو اہل جنت سے اور اگر وہ دوزخ والوں میں سے ہے تو دوزخ میں سے ( اس کا ٹھکانا اسے دکھایاجاتاہےاور اس سے ) کہاجاتاہے ۔ تمھاراٹھکانا ہے ۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تجھے زندہ کر کے اس ( ٹھکانے ) تک لے جائے ۔

81

سالم نے حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب کوئی شخص فوت ہوتا ہے تو صبح و شام اس کے سامنے اس کا ٹھکاناپیش کیا جاتا ہے ۔ اگر وہ اہل جنت میں سے ہوتوجنت اور اگر اہل دوزخ میں سے ہوتو دوزخ ( اس کے سامنے پیش کی جاتی ہے ) " کہا : پھر کہا جاتا ہے یہ تمھارا وہی ٹھکانا ہے جس کی طرف قیامت کے دن تجھے دوبارہ اٹھاکر لے جایا جائے گا ۔

82

ابن علیہ نے کہا : ہمیں سعید جریری نے ابو نضرہ سے روایت کی ، انھوں نے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، ( ابو نضرہ نے ) کہا : حضرت ابو سعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روبرو حاضر ہوکر نہیں سنی ، بلکہ مجھےحضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بیان کی ، انھوں نے کہا : ایک دفعہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم بنونجار کے ایک باغ میں اپنے خچر پر سوار تھے ، ہم آپ کے ساتھ تھے کہ اچانک وہ بدک گیا وہ آپ کو گرانے لگا تھا ( دیکھا تو ) وہاں چھ یا پانچ یا چار قبریں تھیں ( ابن علیہ نے ) کہا : جریری اسی طرح کہا کرتے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" ان قبروں والوں کو کو ن جانتاہے؟ "" ایک آدمی نے کہا : میں ، آپ نے فرمایا : "" یہ لو گ کب مرے تھے؟اس نے کہا : شرک ( کے عالم ) میں مرے تھے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" یہ لو گ اپنی قبروں میں مبتلائے عذاب ہیں اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( اپنے مردوں کو ) دفن نہ کرو گےتو میں اللہ سے دعا کرتا کہ قبر کے جس عذاب ( کی آوازوں ) کومیں سن رہا ہوں وہ تمھیں بھی سنادے ۔ "" پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ انور پھیرا اور فرمایا : "" آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا ہم آگ کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم قبر کے عذاب سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "" ( تمام ) فتنوں سے جوان میں سے ظاہر ہیں اور جو پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم فتنوں سے جو ظاہر ہیں اور پوشیدہ ہیں اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ مانگو ۔ "" سب نے کہا : ہم دجال کے فتنے سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں ۔

83

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اگر یہ خدشہ نہ ہوتا کہ تم ( مردوں کو ) دفن نہ کرو گے تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا کہ وہ تم کو عذاب قبر ( کی آوازیں ) سنوائے ۔

84

حضرت براء رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سےروایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج غروب ہونے کے بعد باہر تشریف لے گئے آپ نے ایک آواز سنی تو فرمایا : " یہودہیں انھیں قبر میں عذاب دیا جارہاہے ۔

85

شیبان بن عبد الرحمٰن نے قتادہ سے روایت کی کہا : ہمیں حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیث بیان کی کہا : اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" بندے کو جب اس کی قبر میں رکھا جاتا ہے اوراس کے ساتھی اسے چھوڑکرواپس جاتے ہیں تو وہ ( بندہ ) ان کے جوتوں کی آہٹ سنتاہے ۔ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" اس کے پاس دوفرشتے آتے ہیں اس کو بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتےہیں ۔ تم اس آدمی کے متعلق ( دنیامیں ) کیاکہاکرتے تھے؟ "" آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" جہاں تک مومن ہے تووہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ۔ "" فرمایا : "" تو اس سے کہاجائے گا ۔ تم دوزخ میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو اللہ تعالیٰ نے اس کے بدلے تمھیں جنت میں ایک ٹھکانا دے دیا ہے ۔ "" اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" وہ اپنے دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھے گا ۔ قتادہ نے کہا : اور ہم سے یہ بیان کیا گیا ہے کہ اس کی قبر میں ستر ہاتھ وسعت کردی جاتی ہے اور قیامت تک اس کی قبر میں ترو تازہ نعمتیں بھردی جاتی ہیں ۔

86

یزید بن زریع نے کہا : ہمیں سعید بن ابی عروبہ نے قتادہ سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " میت کو جب قبر میں رکھا جاتا ہے تو لوگوں کے واپس جاتے وقت وہ ان کے جوتوں کی آواز سنتا ہے ۔

87

عبدالوہاب بن عطاء نے سعید ( بن ابی عروبہ ) سے ، انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جب بندے کو قبر میں رکھا جا تا ہے اور اس کے ساتھی رخ موڑ کر چل پڑتے ہیں ۔ " اس کے بعد قتادہ سے شیبان کی بیان کردہ روایت کے مانند بیان کیا ۔

88

سعد بن عبیدہ نے حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو پختہ قول ( کلمہ طیبہ کی حقیقی شہادت ) کے ذریعے سے ( حق پر ) ثابت قدم رہتا ہے ۔ " فرمایا : " یہ آیت عذاب قبر کے بارے میں نازل ہوئی اس ( مرنے والے ) سے کہا جا تاہے ۔ تمھارا رب کون ہے؟وہ ( مومن ) کہتا ہے ۔ میرا رب اللہ ہے اور میرے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں یہی قول عزوجل ( يُثَبِّتُ اللَّـهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ ۖ ) ( سے مراد ) ہے ۔

89

خیثمہ نے حضرت براءبن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( اس آیت کے بارے میں ) روایت کی : " اللہ تعالیٰ ایمان لانے والوں کو دنیا کی زندگی اور آخرت اور آخرت میں پختہ قول پر ثابت قدم رکھتا ہے ۔ " کہا : یہ آیت عذاب قبر کے متعلق نازل ہوئی ہے ۔

90

مجھے عبید اللہ بن عمر قواریری نے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حماد بن زید نے حدیث بیان کی انھوں نے کہا : ہمیں بدیل نے عبد اللہ بن شقیق سے حدیث بیان کی ، انھوں نے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : "" جب مومن کی روح نکل جاتی ہے تو وہ فرشتے اس ( روح ) کو لیتے ہیں اور اسے اوپر کی طرف لے جاتے ہیں ۔ "" حماد نے کہا : انھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر کیا اور کستوری کی بات کی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" آسمان والے کہتے ہیں ۔ یہ ایک پاکیزہ روح ہے زمین والوں کی طرف سے آئی ہے ( اے روح مومن! ) تجھ پر اور اس جسم پر جسے تونے آباد کیے رکھا اللہ کی رحمت ہو ۔ چنانچہ اسے اس کے رب عزوجل کے پاس لے جایا جاتا ہے پھر وہ فرماتا ہے ۔ اسے مقررشدہ آخری مدت تک کے لیے ( عالی شان ٹھکانے پر ) لے جاؤ ۔ "" فرمایا : "" اور کافرجب اس کی روح نکلتی ہے ۔ حماد نے کہا : اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بدبو اور ( اس پر کی جانے والی ) لعنتوں کا ذکر کیا ۔ اور آسمان والے کہتے ہیں ۔ گندی روح ہے زمین کی طرف سے آئی ہے فرمایا : تو کہاجاتا ہے اسے مقرر شدہ آخری مدت تک کے لیے ( برےٹھکانے ) پر لے جاؤ ۔ "" حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر جو آپ کے جسم مبارک پر تھی اس طرح موڑ کر اپنی ناک پر رکھی ۔

91

سلیمان بن مغیرہ نے کہا : ہمیں ثابت نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے حدیث بیان کی ، انھوں نے کہا : ہم حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہمراہ مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے تو ہم نے پہلی کا چاند دیکھنے کی کوشش کی ، میں تیز نظر انسان تھا میں نے چاند کو دیکھ لیا ۔ میرے علاوہ اور کوئی نہیں تھا جس کا خیال ہو کہ اس نے اسے دیکھ لیا ہے ۔ ( حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہنے لگا : کیا آپ دیکھ نہیں رہے؟چنانچہ انھوں نے اسے دیکھنا چھوڑ دیا کہا : حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہہ رہے تھے عنقریب میں اپنے بستر پر لیٹا ہوں گا تو اسے دیکھ لوں گا ، پھر انھوں نے ہم سے اہل بدرکا واقعہ بیان کرنا شروع کر دیا ۔ انھو ں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن پہلے ہمیں بدر ( میں قتل ہونے ) والوں کے گرنے کی جگہیں دکھا رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے ۔ "" ان شاء اللہ!کل فلاں کے قتل ہونے کی جگہ یہ ہوگی ۔ "" کہا : توحضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ بھیجا !وہ لوگ ان جگہوں کے کناروں سے ذرا بھی ادھر اُدھر ( قتل ) نہیں ہوئے تھے جن کی نشاندہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی تھی ۔ ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ) کہا : پھر ان ( کی لاشوں ) کو ایک دوسرے کے اوپر کنویں میں ڈال دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل کر ان کے پاس پہنچے اور فرمایا : "" اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں فلاں بن فلاں !کیا تم نے اللہ اور اس کے رسول سے کیے ہوئے وعدےکو سچا پایا؟بلاشبہ میں نے اس وعدے کو بالکل سچا پایا ہے جو اللہ نے میرے ساتھ کیا تھا ۔ "" حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !آپ ان جسموں سے کیسے بات کر رہے ہیں جن میں روحیں ہیں ۔ ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "" میں جو کچھ کہہ رہا ہوں تم لوگ اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔ مگر وہ میری بات کا کو ئی جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔

92

حماد بن سلمہ نے ثابت بنانی سے اور انھوں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تک بدر کے مقتولین کو پڑا رہنے دیا ۔ پھر آپ گئے اور ان کے پاس کھڑے ہو کر ان کو پکارکر فرمایا : اے ابوجہل بن ہشام !اے امیہ بن خلف !اے عتبہ بن ربیعہ !اےشیبہ بن ربیعہ !کیاتم نے وہ وعدہ سچانہیں پایا جو تمھارے رب نے تم سے کیا تھا؟میں نے تو اپنے رب نے کے وعدے کو سچا پایاہے ۔ جو اس نے میرے ساتھ کیاتھا! " حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کایہ ارشاد سنا تو عرض کی ۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !یہ لوگ کیسے سنیں گے اور کہاں سے جواب دیں گے ۔ جبکہ وہ تولاشیں بن چکے ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!تم اس بات کو جو میں ان سے کہہ رہا ہوں ان کی نسبت زیادہ سننے والے نہیں ہو ۔ لیکن وہ جواب دینے کی طاقت نہیں رکھتے ۔ " پھر آپ نے ان کے بارے میں حکم دیا تو انھیں گھسیٹا گیا اور بدر کے کنویں میں ڈال دیا گیا ۔

93

عبد الاعلی اور روح بن عبادہ نے سعید بن ابی عروبہ سے انھوں نے قتادہ سے روایت کی ، انھوں نے کہا : ہمیں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت ابو طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ( سن کر ) بیان کیا ، انھوں نے کہا : جب بدر کا دن تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر فتح حاصل فرمائی تو آپ نے قریش کے بڑے سرداروں میں سے بیس افراد کے بارے میں حکم دیا ۔ اور روح ( بن عبادہ ) کی حدیث میں ہے کہ چوبیس افراد کے بارے میں ( حکم دیا ) تو انھیں بدر کے پتھروں سے بنے ہوئے کنوؤں میں سے ایک کنویں میں ڈال دیا گیا پھر انھوں نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت کی روایت کردہ حدیث کے مطابق حدیث بیان کی ۔

94

اسماعیل بن علیہ نے ایوب سے انھوں نے عبد اللہ بن ابی ملیکہ سے اور انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کی کہ انھوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " قیامت کے دن جس سے حساب لیا گیا وہ عذاب میں مبتلا! ہو گیا ۔ میں نے عرض کی ۔ کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا : " عنقریب اس سے آسان حساب لیا جا ئے گا ؟تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ حساب نہیں وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے جس سے قیامت کے دن حساب کی پوچھ گچھ ہوئی اسے عذاب ( میں ڈال ) دیا جائے گا ۔

95

حماد بن زید نے کہا : ہمیں ایوب نے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند حدیث بیان کی ۔

96

ابو یونس قشیری نے ہمیں حدیث بیان کی کہا : ہمیں ابن ابی ملیکہ نے قاسم سے حدیث بیان کی انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس کا بھی حساب کتاب شروع ہو گیا وہ ہلاک ہو گیا ۔ " میں نے عرض کی ، اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا : " آسان حساب ہوگا : ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " وہ تو حساب کے لیے پیش ہونا ہے لیکن جس سے محاسبے میں پوچھ گچھ شروع ہو گئی وہ ہلاک ہو جا ئے گا ۔

97

عثمان بن اسود نے ابن ابی ملیکہ سے ، انھوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " جس سے حساب میں پوچھ گچھ شروع ہوگئی وہ بلاک ہوجائے گا ۔ " پھر ابو یونس کی حدیث کے مانند بیان کیا ۔

98

یحییٰ بن زکریا نے اعمش سے ، انھوں نےابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، انھوں نےکہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے ہر شخص کو اسی حالت میں موت آئے کہ وہ اللہ کے متعلق حسن ظن رکھتا ہو ۔

99

جریر ، ابو معاویہ اورعیسیٰ بن یونس نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ اسی کے مانند روایت کی ۔

100

ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آپ کی وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا : " تم میں سے کسی پر بھی موت نہ آئے مگر اس حالت میں کہ وہ اللہ عزوجل کے متعلق اچھا گمان رکھتا ہو ۔

101

جریر نے اعمش سے ، انھوں نے ابو سفیان سے اور انھوں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہا : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : " ہر شخص کو ( ایمان اور امید کی ) اسی کیفیت میں اٹھایا جائے گا جس پر اس کو موت آئی تھی ۔

102

سفیان نے اعمش سے اسی سند کے ساتھ ، اسی کے مانند روایت کی اور کہا : " نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ہے " اوریہ نہیں کہا : میں نے ( آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ) سنا ۔

103

حمزہ بن عبداللہ بن عمر نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئےسنا؛ " جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو عذاب دینے کا ارادہ کرتاہے تو ہر شخص پر جو ان میں تھا ، عذاب آتا ہے ، اس کے بعد وہ اپنے اپنے اعمال کے مطابق اٹھائے جائیں گے ۔